
Table of contents
اجتہاد واستنباط پر مبنی فقہی ذخیرہ کی اَہمیت
برادرانِ اسلام! اسلام ایک کامل دین ہے، یہ دین تاقیامت ساری انسانیت کی رَہنمائی ورَہبری کا فریضہ سر انجام دینے کے لیے آیا ہے، یہ اس قدر جامع اور مکمل دین ہے کہ اس کی تعلیمات میں کسی قسم کا نقص یا کمی نہیں، اس دین کے دستورِ الٰہی ہونے کی واضح دلیل یہ ہے، کہ اس کی تعلیمات میں ہر زمانے کے تغیّرات کو قبول کرنے، اور ہر قسم کے دینی، مُعاشی، مُعاشرتی، سماجی مسائل وحوادث اور اُلجھنوں سے نمٹنے کی بدرجۂ اتم صلاحیّت موجود ہے، گردشِ دَوراں اور اکیسویں صدی عیسوی کے جدید سائنسی دَور میں نِت نئے مسائل کا جنم لینا، دینِ اسلام کی اَہمیت، ہمہ جہتی اور ہمہ گیری پر ہرگز اثر انداز نہیں ہو سکتا؛ کیونکہ اس دین کا اصل منبع وسرچشمہ قرآن وحدیث ہیں، اور یہ دونوں وحئ الٰہی ہیں۔ شریعت کاکوئی حکم ایسا نہیں ہے جس کی دلیل کسی نہ کسی درجہ میں، قرآن وحدیث کے اندر موجود نہ ہو۔ اسی طرح فقہائے کرام کے تمام اصول ِ تخریج اور قواعدوضوابط کااستنباط واستخراج بھی دراصل قرآن وحدیث ہی سے ماخوذ ہے، یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام کے تمام اجتہادات واستنباطات پر مبنی، ان کا کامل فقہی ذخیرہ بھی، دراصل شریعت مطہَّرہ ہی کا قیمتی سرمایہ، اور دین اسلام کے ایک جزء کا درجہ رکھتا ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :استاد کا مقام، مرتبہ اور ذِمّہ داری
فقہاءِ کرام کے مابین نقطۂ نظر کا اختلاف
عزیزانِ گرامی قدر! یہ بات پیشِ نظر رہے کہ شریعتِ اسلامیّہ کی اصولی اور بنیادی تعلیمات بالکل واضح اور دوٹوک ہیں، ان میں کسی قسم کی پیچیدگی یا جھول نہیں، یہ منصوص اَحکام کہلاتے ہیں، ان سے بال برابر انحراف، بسااوقات انسان کو دائرۂ اسلام سے خارج کر سکتا ہے۔ البتہ غیرمنصوص اَحکام جو شریعت کی جزوی تفصیلات اور فقہائے کرام کے اجتہادسے تعلق رکھتے ہیں، ان میں نقطۂ نظر کااختلاف، نہ صرف ممکن اور جائز ہے، بلکہ محمود، مطلوب اور اکثر اوقات رحمت کا باعث بھی ہے۔ جیسا کہ حضرت سیِّدنا مالک بن انس رحمہُ اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا کہ “إِنَّ اخْتِلَافَ الْعلمَاءِ رَحْمَةٌ عَن اللهِ على هَذِه الْأمّةِ”([1]) “علماء کاباہمی اختلاف اس اُمّت پر اللہ A کی طرف سے رحمت ہے”۔
علمائے مجتہدین کی اسی خوبی (اجتہاد) کی بناء پر، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے انہیں اپنا وارث وجانشین قرار دیا، چنانچہ ارشاد فرمایا: «إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ»([2]) “علماء، انبیائے کرام علیہمُ السَّلام کے وارث ہیں”۔
ایک اَور مقا م پر ارشاد فرمایا: «مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْراً، يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»([3]) “اللہ تعالی جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ بُوجھ (تفقُّہ) عطا فرما دیتا ہے”۔
اختلافِ فقہی (فُروعی) کے اسباب
میرے عزیز! فقہائے کرام کے مابین جزوی مسائل میں اختلاف، عام طور پر اس لیے واقع ہوا، کہ شریعتِ مطہَّرہ نے ہر چھوٹے بڑے مسئلے کا تفصیلی حکم بیان کرنے کے بجائے، محض اصولی واِجمالی ہدایات بیان فرمائیں؛ تاکہ ہر زمانے کے حالات وواقعات، عُرف، رَواج اور ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے، عمل کی مختلف صورتیں وجود میں آسکیں، اور اُمّتِ مسلمہ بوقتِ ضرورت، حالات کے تقاضوں کے پیش نظر، عمل کی جس شکل کو چاہے اختیار کرسکے۔
فقہائے کرام کے باہمی نقطۂ نظر میں اختلاف کا ایک سبب یہ بھی ہے، کہ شریعتِ مطہَّرہ نے کبھی کسی حکم کو بیان کرنے کے لیے، ایسے لفظ کا استعمال فرمایا، جو مختلف مَعانی کا متحمل ہو، اور اس سے کئی مَطالب ومَعانی نکل سکیں، جب ہر مجتہدنے اپنی فہم وفراست سے، کسی ایک معنی کومتعین کر لیا، تو اس طرح عمل کی کئی صورتیں وجود میں آگئیں، اسی کو فقہائے کرام کے نقطۂ نظر کا اختلاف کہا جاتا ہے۔ چونکہ یہ اختلاف واجتہاد تلاشِ حق کی جستجو، خالصۃً منشائے خداوندی کو سمجھنے، اور مرادِ نبوی کی حقیقت کو جاننے کے لیے ہوتا ہے، اس لیے اس اختلاف کو ہرگز مذموم اور بُرا نہ سمجھا جائے، اور نہ ہی اسے بنیاد بنا کر اسلام اور علمائے ربّانیین پر تنقیدکے نشتر چلائے جاسکتے ہیں!۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : بڑوں کاادب واحترام اور تربیتِ اولاد
صحابۂ کرام کے مابین علمی اجتہادی اختلاف
عزیزانِ محترم! حق بات کی تلاش اور غور وفکر کے نتیجے میں، جو اجتہادی اور فقہی اختلاف رُونما ہوتاہے، وہ ہرگز قابل مذمّت نہیں، خود سروَرِ کونین، تاجدارِ رسالت ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کے مابین اختلافی نقطۂ نظر کی گنجائش موجود تھی، فریقین میں سے ہر ایک نے، اپنی اپنی فہم وفراست کی بنیاد پر، مسئلہ کے ایک پہلو کو متعین کرکے اس پر عمل کیا، جبکہ سروَرِ کائنات ﷺ نے بھی ان میں سے کسی فریق کے عمل کو رَد نہیں فرمایا۔
“صحیح بخاری” میں حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبئ كريم ﷺ نے غزوۂ اَحزاب سے واپسی پر ہم سے فرمایا: «لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ العَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ!» “تم میں سے کوئی بھی بنی قُریظہ پہنچنے سے پہلے نمازِ عصر ہرگز نہ پڑھے!” راستے میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عصر کا وقت ہو چکا، تو ان میں (نقطۂ نظر میں اختلاف کے سبب) دو2 جماعتیں ہوگئیں: ایک جماعت نے حضور کے ظاہری الفاظ پر عمل کرتے ہوئے، راستے میں نماز پڑھنے سے انکار کر دیا، اور وہیں بنو قریظہ پہنچ کر نمازِ عصر ادا کی، جبکہ دوسری جماعت نے یہ سمجھتے ہوئے کہ حضور ﷺ کے قول کا مطلب یہ ہے، کہ جہاں تک ہو سکے عجلت سے چلو؛ کہ نمازِ عصر ادا کرنے کی نَوبت منزلِ مقصود پر پہنچ کر ہی آئے، یہ مقصد ہرگز نہیں کہ ہر صورت میں نماز وہیں پہنچ کر پڑھو۔ اس دوسری جماعت نے اجتہاد کیا اور راستے میں ہی نماز ادا کر لی، بعد میں حضورِ اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں، جب یہ واقعہ بیان کیاگیا، تو حضور اکرم ﷺ نے دونوں میں سے کسی (جماعت) پر ملامت نہ فرمائی”([4])۔
اَسلاف کامزاج اور وسعتِ قلبی
حضراتِ محترم! فُروعی مسائل میں مجتہدین وائمۂ کرام کے مابین اختلاف کی نَوعیت عموماً اَولی وغیرِ اَولی، اور راجح ومرجوح کی ہے، لیکن انہوں نے ان فُروعی اختلافات کو حق وباطل کامسئلہ بنا کر، اُمّتِ مسلمہ میں انتشار وافتراق ہرگز نہیں پھیلایا، اور نہ ہی ان مسائلِ فرعیّہ کو بنیاد بنا کر جھگڑے اور فساد کیے، وہ واجب الاحترام ہستیاں ایک دوسرے کی آراء اور نقطۂ نظر کا حد درجہ، نہ صرف احترام کرتیں، بلکہ باہمی ملاقات میں بھی ان معمولی اختلافات کو نظرانداز کرکے، نہایت خوش روی اور خندہ پیشانی سے پیش آیا کرتے، وہ عظیم لوگ اس قدر فراخ دل اور وسیع النظر واقع ہوئے تھے، کہ اختلافی نقطۂ نظر کے باوجود، ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے؛ کیونکہ ان کا اختلاف مسائل میں تھا، اصولی عقائد میں سب متحد تھے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی، فقہائے کرام رحمہُ اللہ علیہ کے باہم فقہی اختلافات کی حقیقت، اور اس کی نَوعیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “فقہاء کے مابین اختلاف کی بیشتر صورتیں، بالخصوص وہ مسائل جن میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کے اقوال دونوں جانب ہیں، جیسے تکبیراتِ تشریق، تکبیراتِ عیدین، اور حالتِ احرام میں نکاح، حضراتِ سیِّدنا ابنِ عباس وسیِّدنا ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کا تشہد، آہستہ آواز کے ساتھ “بسم اللہ” پڑھنا، آمین کہنا، اِقامت کو جُفت اور طاق کہنا، اور اسی کی مانند دیگر مسائل میں یہ اختلاف، دو2 باتوں میں سے بہتر بات میں تھا، نفسِ مشروعیت میں ان کے مابین بالکل اختلاف نہیں تھا”([5])۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدّثِ دہلوی رحمہُ اللہ علیہ صحابہ وتابعین اور ان کے بعد کے لوگوں سے، متعدد فقہی اختلافات شمار کرنے کے بعد مزید فرماتے ہیں کہ “اس کے باوجود وہ لوگ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھا کرتے، چاہے وہ امام مالکی ہو، یا اس کے علاوہ ہو، حالانکہ مالکیہ نماز میں “بسم اللہ” نہیں پڑھتے۔ اسی طرح ہارون رشید نے حِجامہ کروایا، پھر نیا وضو کیے بغیر نماز پڑھائی؛ کیونکہ امام مالک رحمہُ اللہ علیہ نے انہیں فتویٰ دیا تھا کہ حِجامہ سے وضو نہیں ٹوٹتا، اور ان کے پیچھے حنفیوں کے امام ابو یوسف نے نماز پڑھی، اور اِعادہ بھی نہیں کیا، حالانکہ ان کے نزدیک بدن سے خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
اسی طرح امام احمد بن حنبل رحمہُ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے، کہ نکسیر آنے اور حِجامہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، مگر جب اُن سے مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص کے بدن سے خون نکلا، اور اس نے وضو کیے بغیر نماز پڑھائی، تو کیا آپ اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے؟ امام احمد رحمہُ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ “میں امام مالک اور حضرت سعید بن مسیّب رحمہُ اللہ علیہ کے پیچھے نماز کیسے نہیں پڑھوں گا؟!”([6])۔
امام شافعی رحمہُ اللہ علیہ نے ایک بار امام ابو حنیفہ رحمہُ اللہ علیہ کی قبرِ انور کے قریب فجر کی نماز ادا کی، تو قنوتِ نازلہ نہیں پڑھی، وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ “صاحبِ قبر (امام ابو حنیفہ رحمہُ اللہ علیہ) کے حضور، ادب کا مُعاملہ کرتے ہوئے میں نے ایسا کیا”([7])۔
عزیزانِ گرامی! ہمارے اَسلاف اختلافِ فقہی کو اُمّتِ مسلمہ کے حق میں رحمت وبرکت قرار دیتے ہیں، اور اسے توسیع اور فراخی کا باعث گردانتے تھے۔
حضرت سفیان ثَوری رحمہُ اللہ علیہ ایسے اختلافی مسائل کے بارے میں فرمایا کرتے کہ “یہ نہ کہو کہ علمائے کرام نے مسائل میں اختلاف کیا، بلکہ یوں کہو کہ انہوں نے اُمّت کے لیے توسیع اور فراخی پیدا کی ہے([8])۔
حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے کہ “اگر اصحابِ محمد ﷺ میں فقہی واجتہادی مسائل میں اختلاف نہ ہوتا، تو یہ کوئی خوش آئند بات نہیں تھی؛ اس لیے کہ اگر ان حضرات کے مابین اس طرح کا اختلاف نہ ہوتا، تو آج ہمیں شرعی رخصتیں نہ ملتیں”([9])۔
مگر نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے، کہ جس اختلافِ فقہی واجتہادی وفروعی کو ہمارے اَسلاف رحمت، وسعت اور فراخی کا سبب جانا کرتے تھے، اسے لے کر آج ہم اس قدر متشدّد کیوں ہوئے جا رہے ہیں؟! مذہبی انتہاء پسندی ہماری رگ رگ میں کیوں رچتی بستی جا رہی ہے؟! منصبِ علمی اور بزرگی کالحاظ کیے بغیر، آج ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہا جارہاہے! فروعی اختلاف کے سبب گمراہی وکفر کے فتووں کی بھرمار ہے! مسندِ دعوت وارشاد پر بیٹھنے والے بعض ناخلف ونااہل لوگ، اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے باہم دست وگریبانی کا سبب بن رہے ہیں، ان نافہموں کے سبب باہمی رواداری اور وسعتِ قلبی کا خاتمہ ہو رہا ہے، لوگ دین سے متنفّر اور علمائے اسلام کے کردار سے مایوس ہو رہے ہیں!!۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : مسلم دنیا اور سائنسی افکار
گمراہی وکفر کے فتووں کی بھرمار
حضراتِ گرامی قدر! مذہبی طبقے میں بعض شدّت پسند عناصر خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں، وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں، لوگوں کو صراطِ مستقیم سے ہٹانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں، مسلمانوں پر ناحق کفر وشرک کے فتویٰ لگاتے ہیں، جو کہ سراسر جہالت اور بے علمی کا کام ہے؛ کیونکہ حکمِ شریعت کے مطابق کسی مسلمان کو کافر کہنا شرعاً ممنوع وحرام ہے۔ علمائے ذی وقار فرماتے ہیں کہ “بغیر قطعی ثبوت کے بلاوجہ مسلمان کو کافر کہنا، (یا اہلِ سنّت سے خارج قرار دینا) سخت عظیم گناہ ہے، بلکہ کافر کہنا، خود اسی کہنے والے پر پلٹ آتا ہے”([10])۔
حضرت سیِّدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَيُّمَا امْرِئٍ قَالَ لِأَخِيْهِ: يَا كَافِرُ! فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا، إِنْ كَانَ كَمَا قَالَ، وَإِلَّا رَجَعَتْ عَلَيْهِ»([11]) “جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو کہے: “اے کافر!” تو یہ قول دونوں میں سے کسی ایک پر ضرور صادق آئےگا، اگر وہ ایسا ہی ہے جسے کافر کہا گیا تو ٹھیک، ورنہ یہ قول خود کہنے والے پر لَوٹ آئے گا”۔ یعنی جسے کافر کہا گیا، اگر واقعی وہ کافر ہے تب تو اسے کافر کہنا درست ہے، اور اگر وہ کافر نہیں تو کہنے والا خود کافر ہو جائے گا۔
محترم بھائیو! کسی بھی غلطی یا گناہ پر، بلا تحقیق کسی پر کفر کا فتویٰ لگانا، یا کسی کو کافر کہہ دینا، دین میں غُلو (حد سے تجاوُز) ہے، یہ کفر کا فتویٰ مسلمان کےجان ومال کی حلّت کا سبب بنتا ہے، اسے دینِ اسلام سے خارج کرتا ہے، اور یہ اُس مسلمان پر ظلم ہے؛ کہ کسی کو کافر قرار دینے کے سبب اس کی بیوی اس سے جُدا ہو گی، وہ وراثت سے محروم ہو گا، مرنے کے بعد غسل وکفن، نماز ِ جنازہ اور دعا سے محروم ہو گا، نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفنایا جائے گا۔ جبکہ ان تمام اُمور واَحکام کا ذمّہ دار وہ ہے جس نے اسےکافر کہا۔ مسلمان کو کافر کہنا سخت حرام، اور گویا اسے قتل کیے جانے کے مترادِف ہے۔ حضرت سیِّدنا عمران بن حُصین رضی اللہ عنہ سے نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيْهِ: “يَا كَافِرُ” فَهُوَ كَقَتْلِه، وَلَعْنُ الْمؤْمِنِ كَقَتْلِه»([12]) “آدمی اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہہ کر پکارے، تو یہ اسے قتل کرنے کے مترادِف ہے، اور مؤمن پر لعنت کرنا بھی ایسا ہی ہے”۔
مسلمان کو مسلمان اور کافر کو کافر جاننا ضروری ہے، علمائے کرام فرماتے ہیں کہ “إنْ كَانَ أَرَادَ الشَّتْمَ وَلَا يَعْتَقِدُهُ كَافِراً لَا يَكْفُرُ، وَإِنْ كَانَ يَعْتَقِدُهُ كَافِراً فَخَاطَبَهُ بِهَذَا بِنَاءً عَلَى اعْتِقَادِهِ أَنَّهُ كَافِرٌ يَكْفُرُ”([13]) “کسی کو بطورِ گالی کافر کہا تو وہ کافر نہ ہو گا، اور اگر کافر جان کر کہا، تو کہنے والا خود کافر ہو گیا”۔
مسلمان کو کافر کہنے کی ممانعت
عزیز دوستو! جو شخص ایمان واسلام کے دعوے کے باجود کلماتِ کفر بولے یا کفریہ فعل کرے، تو اُسے کافر ہی کہا جائے گا، لیکن کسی مسلمان کو کافر کہنا ممنوع ہے، اگرچہ وہ کتنا ہی گنہگار ہو۔ حضرت سیِّدنا اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک لشکر کے ساتھ روانہ کیا، ہم علی الصبح قبیلہ جُہینہ کی بستیوں میں پہنچ گئے، میں نے ایک شخص پر حملہ کیا، تو اس نے کہا: لَا إِلٰه إِلَّا الله، میں نے پھر بھی اسے قتل کر دیا، لیکن مجھے اس فعل پر تردّد تھا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ واقعہ بیان کیا، حضور ﷺ نے فرمایا: «أَ قَالَ: لَا إلٰهَ إِلَّا اللهُ، ثُمَّ قَتَلْتَهٗ؟» “کیا اس کے کلمہ پڑھنے کے باوجود تم نے اسے قتل کر دیا؟” میں نے کہا: یا رسولَ اللہ! اس نے اپنی جان کے خوف سے کلمہ پڑھا تھا، حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: «أَ فَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِه حَتّٰى تَعْلَمَ: أَقَالَهَا أَمْ لَا؟» “کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا، کہ تمہیں پتا چلے کہ اس نے دل سے کلمہ پڑھا تھا یا نہیں؟” رسول اللہ ﷺ بار بار یہی کلمہ دھراتے رہے، حتیٰ کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں اِسی وقت اسلام لایا ہوتا (تاکہ مجھ سے اس کلمہ گو کے قتل کی خطا نہ ہوئی ہوتی)([14])۔
علمائے اُمّت کی ذمّہ داری
عزیزانِ مَن! تضلیل وتکفیر کی اس چکی میں، انبیاء کے حقیقی وارث، علمائے ربّانیّین کا کردار اور خدمات مسخ ہو کر رہ گئی ہیں، پوری دنیا میں مذہبِ اسلام کی زبوں حالی اس نہج پر پہنچ چکی، کہ اس کے تصوّر ہی سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اس کے باوجود مذہب کا لبادہ اوڑھے بعض ناعاقبت اندیش، اپنے ذاتی مفادات کی خاطر، اسلام کی کشتی میں باربار سوراخ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں ؏
آہ! اسلام تیرے چاہنے والے نہ رہے جن کا تو چاند تھا، افسوس وہ ہالے نہ رہے
برادرانِ ملّتِ اسلامیہ! اس وقت امّتِ مسلمہ کو باہم اتحاد کی جس قدر شدید ضرورت ہے، شاید اس سے پہلے کبھی کسی دَور میں نہ رہی ہو! ایسے وقت میں انتشار وافتراق کا ماحول پیدا کرنا، ایک دوسرے پر گمراہی وکفر کےفتوے لگانا، گویا اُمّتِ مسلمہ کی صفوں میں پُھوٹ ڈالنے کے مترادِف ہے۔ لہذا جس شخص یا مفتی کے پاس علم ومعرفت اور بصیرت ودانائی نہ ہو، شریعتِ مطہَّرہ اسے ہر گز اجازت نہیں دیتی، کہ وہ مسئلۂ تکفیر پر بحث ومُباحثہ کرے یا فتویٰ دے۔ بلا تحقیقِ بالغ کسی پر کفر کا فتویٰ لگانا، یا اسے اہلِ سنّت سے خارج بتانا، ظلم اور شریعت پر افتراء ہے، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا﴾([15]) “اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں، یقیناً کان، آنکھ اور دل سب سے سوال ہونا ہے”۔ لہٰذا کسی سے متعلق فتویٰ دینے سے پہلے، اس کی مکمل تحقیق شرعی اَشدّ ضروری ہے۔
علاوہ ازیں ہمیں چاہیے کہ فقہی مسائل میں نقطۂ نظر، اور افضل وغیر افضل یا راجح ومرجوح کے معمولی اختلاف کو، حق وباطل کی جنگ نہ بنائیں، اپنے اَسلاف کی طرح رواداری، برداشت اور وسعتِ قلبی کا مُظاہرہ کریں، عدمِ تضلیل وتکفیر کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں، ماحول کو ساز گار بنائیں، ایسی باتوں اور اشتعال انگیز تقریروں یاتحریروں سے گریز کریں، جن سے بداَمنی اور تفرقہ بازی کااندیشہ ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اَغیار اور اسلام مخالف قوّتیں، ہمارے باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، انہیں ہوا دینے کی کوشش کریں ، اور ہم لاعلمی میں باطل کے خلاف صف آراء ہونے کے بجائے، ایک دوسرے کے ہی گلے کاٹتے رہیں۔
ضرورت اس اَمر کی ہے، کہ ہم باہم اُلجھنے کے بجائے، اپنی توانائیاں ٹھوس اور تعمیری کاموں میں صرف کریں، اسلام کاصحیح اور مثبت چہرہ لوگوں کے سامنے پیش کریں، کفّار کو اپنے مذہب پرمنفی تنقید اور رائے زنی کاموقع ہرگز نہ دیں، ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کا احترام کریں، اور اسے سمجھنے کی کوشش کریں، اپنے عقائد واعمال کی اصلاح پر کاربند رہیں، اور صحیح معنی میں ایک باعمل مسلمان بن کر دکھائیں۔
دعا
اے اللہ! ہمیں باہمی محبت واُلفت، اتفاق واتحاد اور ذہنی کشادگی نصیب فرما، مسلمان کو کافر کہنے، بے علم فتوی دینے، اور حق کی مخالفت وبغاوت سے محفوظ فرما، بہترین انداز میں دعوتِ اسلام کی سعادت عطا فرما، ہمارے علماء ومفتیانِ کرام کے علم وعمل میں برکتیں نصیب فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما، ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!
اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔
الٰہی! تمام مسلمانوں کی جان، مال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، جن مصائب وآلام کا انہیں سامنا ہے، ان سے نَجات عطا فرما۔ ہمارے وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین ووطنِ عزیز کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، اُن کے درجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے ہمیں وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّةِ أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “الخصائص الكبرى” دعا ردّ البصر للأعمي، 2/370.
([2]) “سنن أبي داود” كتاب العلم، باب في فضل العلم، ر: 3641، صـ523.
([3]) “صحيح البخاري” كتاب العلم، ر: 71، صـ17.
([4]) “صحيح البخاري” أبواب صلاة الخوف، ر: 946، صـ152 بتصرّف.
([5]) “حجة الله البالغة” فصل، 1/269.
([6]) “حجة الله البالغة” فصل، 1/270 بتصرّف.
([7]) “حجة الله البالغة” فصل، 1/270 بتصرّف.
([8]) “الميزان الشعرانية” مقدّمة المؤلف، الجزء 1، صـ24.
([9]) “المدخل إلى علم السنن” باب اختلاف …إلخ، ر: 976 2/456.
([11]) “صَحيح مُسلم” كتابُ الْإيمان، بابُ بيان حال …إلخ، ر: 216، صـ47.
([12]) “المعجم الكبير” أَبُو قِلَابَةَ عَنْ عَمِّهِ …إلخ، ر: 464، 18/194.
([13]) “الهندية” كتاب السير، الباب التاسع في أحكام المرتدّين، 2/278.