"یہ ایک اردو بلاگ ہے جہاں لوگ اسلامی مضامین پڑھ سکتے ہیں۔ یہ مضامین علماء کی طرف سے لکھے گئے ہیں، جو آپ کی علمی حد تک بڑھائیں گے
مہمان نوازی کی اہمیت وفضیلت
برادرانِ اسلام! مہمان نوازی انبیائے کرام کی سنّت اور علامتِ اِیمان ہے، اللہ رب العالمین نے قرآنِ حکیم میں حضرت سیِّدنا ابراہیم کی مہمان نوازی کا باقاعدہ ذکر فرمایا، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ﴾([1]) “اور یقیناً ہمارے فرشتے (انسانی شکل میں) ابراہیم کے پاس مژدہ (خوشخبری) لے کر آئے، بولے: سلام، کہا: سلام، پھر (حضرت ابراہیم نے) کچھ دیر نہ کی کہ ایک بچھڑا بُھنا (ہوا) لے آئے”۔
“تفسیرِ قُرطُبی” میں ہے کہ “حضرت سیِّدنا ابراہیم پہلے وہ انسان ہیں
جنہوں نے دنیا میں مہمان نوازی کا طریقہ رائج فرمایا”(Read More)
اولاد کے حقوق
عزیزانِ محترم! بچے کسی بھی معاشرے کی امیدوں، آرزوؤں اور تمناؤں کا مرکز ہوتے ہیں؛ اس لیے کہ مستقبل کی تعمیر کا اِنحصار انہی پر ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بچے دوسرے تمام طبقات کی بہ نسبت زیادہ توجہ، شفقت اور بہت محبت کے حقدار ہیں۔ معاشرتی حوالے سے بھی بچوں کی اَہمیت مسلَّم ہے، اسی بنا پر اسلامی تعلیمات میں جہاں والدین کی اِطاعت اور ان کے ساتھ حسنِ سُلوک کی اَہمیت بیان کی گئی ہے، وہیں بچوں کے حقوق بھی واضح کیے گئے ہیں۔ اسلام کی معاشرتی زندگی یک رُخی نہیں، ہمہ گیر ہے۔ والدین اگر اسلامی معاشرے میں بنیادی اِکائی کی حیثیت رکھتے ہیں، تو بچے اس اِکائی کا نتیجہ اور ثمرہ ہیں، یہ دونوں مل کر مُعاشرے کو سجاتے ہیں، بچے تو اور بھی زیادہ اَہمیت رکھتے ہیں؛ کیونکہ وہ نہ صرف والدین کی شخصی پہچان ہیں، بلکہ معاشرے کی ترقی اور اس کی متحرک زندگی کا عکس ہیں۔ آج کی اولاد کل کے والدین، اور آج کے بچے کل کے جَوان اور بزرگ ہیں۔ اس بنا پر اسلام نے بچوں کے بارے میں خصوصی ہدایات عطا فرمائی ہیں(Read More)
حقوق العباد
حضراتِ ذی وقار! حقوق العباد کا لفظی معنی ہے بندوں کے حقوق۔ ان میں والدین، اولاد، زوجہ، رشتہ دار، یتیم، مسکین، مسافر، اہلِ حاجت، ہمسایہ، سائل، قیدی وغيره کے حقوق، اور اجتماعی و معاشرتی حقوق کا وسیع تصور ہے۔ حقوق العباد ادا کرنا اہلِ ایمان جنتیوں کی صفت ہے۔ بروزِ قیامت نہ صرف اللہ تعالى کے حقوق: نماز، روزہ، زکات، حج وغیرہ کا حساب ہوگا، بلکہ بندوں کے حقوق کا بھی حساب ليا جائے گا(Read More)
حقوقِ زوجین ووفاداری
عزیزانِ محترم! اللہ ربُّ العالمین نے ایما ن والوں کے لیے مابین زوجین شادی ووفاشعاری کو نعمت بنایا، میاں بیوی کے درمیان اُلفت ومحبت اور وفاداری قائم فرمائی، رشتۂ ازدواج دلوں کی پاکیزگی، تقوی وپرہیزگاری کا سبب، بد نگاہی، بے حیائی، فحاشی، عُریانیت،گناہوں کے دَلدَل، گندگی اور آلودگی سے پاک صاف رہنے کا نہایت ہی عمدہ ذریعہ ہے،(Read More)
واقعۂ معراج اور دیدارِ الٰہی
شبِ معراج اللہ تعالی نے مصطفی جانِ رحمت ﷺ کو اپنے پاس بلا کر، جو خصوصیت،شرَف، قُرب اور اپنا دیدار بخشا، خوش بختی کی ایسی معراج وسعادت کبھی کسی اَور نبی ورسول کے حصے میں نہیں آئی، ارشادِ باری تعالی ہے(Read More)
رشتہ داروں کے حقوق
برادرانِ اسلام! “صلۂ رحم کے معنی رشتہ کو جوڑنا ہے، یعنی رشتہ داروں کے ساتھ نیکی اور حُسنِ سُلوک کرنا۔ ساری اُمت کا اس پر اتفاق ہے کہ صلہ رحمی واجب ہے، اور قطع رحمی (یعنی رشتہ کاٹنا توڑنا) حرام ہے”(Read More)
استقبالِ رمضان
رمضان المبارک میں قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے، سمجھنے، اس پر عمل کرنے، اور اس کی تعلیمات وبرکات دوسروں تک پہنچانے کے بےشمار مَواقع میسر آتے ہیں۔ روزہ، نماز، قرآنِ پاک، نوافل اور دیگر اَذکار واَوراد، انسان کے اندر تقویٰ اور خوفِ الٰہی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ آئیے ہم سب مل كر رمضان المبارک کا استقبال کریں(Read More)
زکات ایک بنیادی فریضہ ہے
زکات ایک اہم دینی اسلامى فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ، مُعاشى واقتصادى مشکلات کے حل کا ایک بہترین ومؤثِر ذریعہ بهى ہے۔ زکات کا لُغوی معنی ہے پاک کرنا، درست کرنا، بڑھنا، جبکہ شریعتِ اسلامیہ ميں زکات کا معنی “مال کا ایک مخصوص حصّہ، جو شریعتِ مطہَّره نے مقرّر کیا ہے، اللہ تعالی کی رِضا کے حصول کے لیے، کسی مسلمان شرعی فقیر کو اُس كا مالک بنا دینا ہے(Read More)
غزوۂ بدر معرکۂ حق وباطل
حق وباطل کی جنگ روزِ اوّل سے جاری ہے، جس کی مختلف صورتیں ہر دَور میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں، انہی میں سے ایک اسلام کی سب سے پہلی جنگ غزوۂ بدر بھی ہے، کہ مشرکینِ مکّہ اور مسلمانوں کے درمیان ہجرت کے دوسرے سال ماہِ رمضان المبارک کی 17 تاریخ کو جمعۃ المبارک کے دن جب یہ عظیم معرکہ ہوا، تو صبر واستقلال اورتوکُّل کے اعلیٰ پیکر اہلِ ایمان، تائید الہی کی بدَولت کامیابی وکامرانی سے ہمکنار ہوئے،(Read More)
مزدوروں کے حقوق
یکم مئی مزدُوروں کے عالَمی دن کے طَور پر منایا جاتا ہے، اس دن پوری قوم چھٹی مناتی ہے، لیکن مزدُور اُس دن بھی دو2 وقت کی روٹی کے لیے محنت ومشقّت کرتا ہے، مزدُوروں کے عالَمی دن پر کچھ سیاسی سماجی تنظیمیں ریلیاں نکال کر، اور تقاریب کر کے خانہ پُری تو کر لیتی ہیں،(Read More)
عقیدۂ آخرت
عقیدۂ آخرت سے مراد: مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانے، نیک اور بَد اعمال کا حساب، اور جنّت یا دوزخ کی صورت میں ملنے والی اچھی یا بُری جَزا پر پختہ یقین وایمان ہے(Read More)
مکّہ مکرّمہ کی فضیلت
کّہ مکرّمہ وہ مقدّس شہر ہے جہاں رسولِ اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اور پروَرش ہوئی، یہیں سے دینِ اسلام کا سورج پوری آب وتاب سے چمکا، مصطفی جانِ رحمت ﷺ پر سب سے پہلی وحی بھی یہیں نازل ہوئی، اسی شہرِ مکّہ میں مسلمان حج وعمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر سے حاضر ہوتے ہیں(Read More)
مسلمان كا اپنے نبی ﷺ سے تعلق
عزيزانِ محترم! امت کا حضور نبئ اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ پختہ تعلق قائم رکھنا اور آپﷺکی تعلیمات کی پیروی اور اتباع کرنا تعلق بالرسول کہلاتا ہے (Read More)
فاتحِ قادیانیّت حضرت پیر مہر علی شاہ اور اُن کی دینی خدمات
جن حضراتِ اولیائے کرام اور علمائے دِین نے برصغیر پاک وہند میں دینِ اسلام کی شمع روشن کی، اپنی پوری زندگی تبلیغ واِشاعت اسلام کے لیے وقف کر دی، اللہ تعالی کی وَحدانیت کا پرچار کیا، پُر فتن دَور میں ختمِ نبوّت کا عَلم (جھنڈا) بلند کیا، اور قادیانیت کی بیخ کنی کی، اُن میں ایک نمایاں ترین نام فاتحِ قادیانیت، قبلۂ عالَم حضرت پیر سیّد مہر علی شاہ چشتی گولڑوی کا ہے (Read More)
وسیلہ ( توسل کا بیان)
وسیلہ کے معنی: ذریعہ، واسطہ، سبب، حمایت اور مدد کے ہیں۔ قرآن، حدیث اور اقوال علمائے کرام سے، توسّل ایک ثابت شدہ امر ہے، جس کے انکار کاتصوّر کوئی صحیح العقیدہ مسلمان نہیں کرسکتا۔ وسیلہ درحقیقت بندے کا اللہ تعالی کی بارگاہ میں، اپنی دعا کی قبولیت اور طلب حاجت کی خاطر، کسی مقبول عمل یا مقرّب بندے کا واسطہ پیش کرنا ہے؛ تاکہ بندۂ گنہگار کی دعا جلد قبول ہو، اور اللہ رب العزّت اپنے اس مقرّب بندے کی برکت سے،اس کی حاجت پوری فرما دے(Read More)
شادی بیاہ کو آسان بناؤ
سلامی نظامِ مُعاشرت میں نکاح (شادی) کو بڑی اہمیت حاصل ہے؛ کیونکہ یہ اِیمان، عفّت وعصمت کی حفاظت، اور نسلِ انسانی کی بقا کا ذریعہ ہے،یہی وجہ ہے کہ انسان کسی بھی مذہب یا قوم سے تعلق ركهتا ہو، وہ اپنے طَور پر شادی بیاہ کو ضروری قرار دیتا ہے، بغیر شادی کے اگر مَرد وعورت باہمی تعلق رکھیں، تو پوری دنیا کے باشُعور اور باحیاء لوگ اسے معیوب جانتے ہیں، شادی بیاہ گویا انسان کی فطری ضرورت ہے(Read More)
شانِ مولائے کائنات رضي الله عنه
حضرت سیِّدُنا علی المرتضی رضي الله عنه کی ولادتِ باسعادت، اعلانِ نبوّت سے دس 10 سال قبل ہوئی۔ آپ رضي الله عنه کی والدۂ ماجدہ حضرت سیِّدہ فاطمہ بنت اسد رضي الله عنه نے، اپنے والد کے نام پر آپ رضي الله عنه کا نام “حَیدر” رکھا، اپنے اس نام کے بارے میں سیِّدُنا علی المرتضی رضي الله عنه اپنے ایک رَجز میں خود فرماتے ہیں: «أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ»([2]) “میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا”۔ جبکہ آپ کے والد ابوطالب نے آپ رضي الله عنه کا نام “علی” رکھا، آپ رضي الله عنهنے سرور کونین ﷺ کی گود میں پروَرش پائی، آپ رسول اللہﷺ کے داماد، چچازاد بھائی اور مسلمانوں کے چوتھے خلیفۂ راشد ہیں(Read More)
معراج النبی ﷺ
معراجِ مصطفی ﷺ ایک عظیم الشان اور انسانى ذہن کو انتہائی حیران کرنے والا معجزہ، اور سرکارِ قرار ﷺ کے فضائل وکمالات میں سے ایک ہے، اللہ تعالی نے تما م انبیاء ومرسلین علیہ السلام
کے معجزات وکما لاتِ مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی ذاتِ بابرکات میں جمع فرما کر، آپ ﷺ کو تمام مخلوقات میں سب سے ممتاز فرما دیا ہے، فضیلتِ اسراء ومعراج سے اپنے پیارے حبیب نبئ آخر الزمان ﷺ کو وہ خصوصیت وشرَف عطا فرمایا، جو کسی اور نبی ورسول کو نہیں ملا
پاکستانی مُعاشرہ میں ٹی وی ڈراموں کے منفی اثرات
ہمارے دَور میں الیکٹرانک میڈیا (Electronic Media) ایک بہت بڑی طاقت بن چکا ہے، آج لوگوں کی مثبت یا منفی ذہن سازی میں میڈیا (Media) کا بڑا عمل دخل ہے، اس کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیے، کہ اسے اب ریاست کے چوتھے سُتون کے طور پر دیکھا جاتا ہے، یہ اپنی اس طاقت کے زعم میں کسی بد مست ہاتھی سے کم نہیں! حاکمِ وقت بھی ان کے شر سے پناہ مانگتا، اور ان سے بات بنائے رکھنے ہی میں اپنی عافیت محسوس کرتا ہے!
اسپورٹس کلچر کے نقصانات اور اسلامی تعلیمات
عبادتِ الٰہی کو اسلام میں ایک خاص مقام حاصل ہے، اس کی کما حقّہ ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ انسان تندرست وتوانا ہو، چاہے نماز ہو، روزہ ہو، یا حج، ہر ایک کی ادائیگی کے لیے چاق و چوبند اور صحت مند ہونا ضروری ہے۔ صحت وتندرستی کا شمار چونکہ اللہ کی بڑی نعمتوں میں ہوتا ہے، شاید اسی لیے اللہ تعالی کو جسمانی لحاظ سے کمزور مؤمن کے بجائے طاقتور مؤمن زیادہ پسند ہے۔ حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «المُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ، مِنَ المُؤْمِنِ الضَّعِيفِ»([1]) “اللہ تعالی کے نزدیک کمزور مؤمن کے مقابل، طاقتور مؤمن بہتر اور زیادہ محبوب ہے
اسلام کا تصوّرِ جہاد
قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ﴾([1]) “یقیناً وہی ایمان والے ہیں جو اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر اس میں کوئی شک نہیں کیا، اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہی لوگ سچے ہیں”۔
جہاد کی اہمیت اور شہید کا مقام ومرتبہ
برادرانِ اسلام! مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی سیرتِ طیّبہ کا ہر پہلو اگرچہ انتہائی اہم اور ہدایت بخش ہے، لیکن کلمۂ حق بلند کرنے کے لیے سروَرِ عالَم ﷺ کی جدوجہد جسے جہاد یا غزوات سے تعبیر کیا جاتا ہے، اُمّتِ مسلمہ کے سیاسی استحکام اور ترقی کے لحاظ سے اَزحد اَہمیت کا حامل ہے۔
فضائلِ عشرۂ ذی الحجّہ
خالقِ کائناتﷻ کا مخلوق پر بےانتہاء لُطف وکرم، مہربانی واحسان ہے، کہ اُس نے دنیاوی نعمتوں کے ساتھ ساتھ بھلائی کے لیے رہنمائی بھی فرمائی، اور کچھ ایسے اوقات مہیا کیے جن میں ہم اپنی آخرت کے لیے زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹ سکتے ہیں، انہی اوقات میں سے ایک ذوالحجہ کا مہینہ بھی ہے، جس میں بہت سی بھلائیاں جمع فرمادی ہیں، اور پھر ماہِ ذی الحجہ کے ابتدائی دس10 دن تو انتہائی افضل واعلیٰ ہیں، ان دِنوں کو رب تعالی نے بڑی برکتوں سے نوازا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَالْفَجْر* وَلَيالٍ عَشْر﴾([1]) "اِس صبح اور اِن دس10 راتوں کی قسم!" مفسّرینِ کرام ان آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ "فجر سے مُراد تو صبح کی نماز ہے؛ کیونکہ اس وقت رات ودن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں، یا صبح صادق کا وقت مُراد ہےکہ اس وقت تمام مخلوق اللہ کا ذکر کرتی ہے
فلسفۂ قربانی اور ہمارا مُعاشرہ
ایامِ نحر (قربانی کے دنوں) میں قُربِ الٰہی کے حصول کی نیّت سے، جو جانور ذبح کیا جاتا ہے، اصطلاحِ شریعت میں اُسے قربانی کہتے ہیں([1])۔ صدر الشریعہ علّامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ “مخصوص جانور کو، مخصوص دن میں، بہ نیّتِ تقرُب ذَبح کرنا قربانی ہے۔ کبھی اس جانور کو بھی اُضحِیہ اور قربانی کہتے ہیں جو ذَبح کیا جاتا ہے۔ قربانی حضرت سیِّدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنّت ہے، جو اس اُمّتِ (محمدیّہ) کے لیے باقی رکھی گئی
ماحولیات کی حفاظت
اللہ تعالی نے اسلام کو اِن قواعد ومَبادی کا مجموعہ بنایا ہے، جن سے انسان کی راہیں اُس کے اِرد گرد ماحول کے ساتھ باہمی مُعاملات میں مضبوط ہوں، نیز انسان کو اپنے ماحول کی نگہبانی اور حفاظت کا حکم بھی دیا، اللہ تعالی نے ہمیں اپنی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اِسراف وفضول خرچی سے بھی منع فرمایا ہے، اور ماحولیاتی وسائل میں اِسراف تو اُن وسائل کو تباہ وبرباد کرنے کے مترادِف ہے، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْاط إِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْـمُسْرِفِيْنَ﴾([1]) “کھاؤ اور پیو، اور فضول مت اڑاؤ! يقينًا فضول خرچ اللہ تعالی کو پسند نہیں”۔ سروَرِ عالَم ﷺ نے بھی فضول خرچی سے منع فرمایا ہے
خلیفۂ ثانی امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ
حضرت سيِّدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفۂ راشد ہیں، اللہ تعالی نے آپ کو شجاعت، بہادُری اور حق گوئی کا پیکر بنایا، اور آپ کو سر چشمۂ ہدایت بنا کر، آپ کے ذریعے اسلام کو عزّت بخشی۔ یقیناً آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ عظیم شخصیت ہیں، جن کی دینِ اسلام کے لیے عظیم الشان خدمات ہیں۔ عدل وانصاف پر مبنی آپ کے فیصلوں، کارناموں، فتوحات اورشاندار کردار سے اسلام کا چہرہ رَوشن ہے۔ آپ تاریخِ انسانی کی ایک ایسی معروف شخصیت کے مالک ہیں، جن کی عظمت کو صرف اپنے ہی نہیں، بلکہ بیگانے بھی تسلیم کرتے ہیں۔ بلا شبہ آپ ایک باعظمت، انصاف پسند، عادِل حاکم، شمعِ رسالت کے پروانے اور عظیم صحابئ رسول ہیں
میلادِ مصطفی ﷺ کے مقاصد
عزیزانِ مَن! اللہ تعالی نے قرآنِ کریم میں اپنی نعمتوں کا خُوب چرچا کرنے کا حکم دیا ہے، ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾([10]) "اپنے رب کی نعمت کا خُوب چرچا کرو"۔ اب آپ خود ہی بتائیے کہ رحمتِ عالَم ﷺ کی ذات ِ والا صفات سے بڑھ کر بھلا کونسی نعمت ہو سکتی ہے؟! لہذا معلوم ہوا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا ہر سال ماہِ ربیع الاوّل کی بارہ12 تاریخ کو جشنِ عیدِ میلاد النبی منانا، نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہننا، چراغاں کرنا، گھروں پر جھنڈے لگانا، لوگوں کو کھانا کھلانا، پانی کی سبیلیں لگانا، جلوس نکانا، اجتماعِ ذکر ونعت کا اہتمام کرنا، اور شرعی حُدود وقیود کی پاسداری کرتے ہوئے، شکرِ نعمتِ الہی کے طَور پر خوشی اور مسرّت کا اظہار کرنا، شرعاً دُرست، جائز اور حُصولِ اجر وثواب کا باعث ہے!۔ ؏
بابا فرید گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
حکیم الاُمّت مفتى احمد يار خان نعيمى رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اس حدیث پاک کی شرح میں لكھتے ہیں کہ “ان کے چہروں پر اَنوار وآثارِ عبادت ایسے ہوں، کہ انہیں دیکھتے ہی رب تعالی یاد آجائے”([3])۔ ان کے چہرے آئینۂ خدانما ہیں، یہ حضرات اِطاعتِ الٰہی پر ہمیشگی اختيار کرتے ہیں، اور دنیاوی لذّتوں میں مشغولیت سے دُور رہتے ہیں، انہیں مخلوق كى تربیت ورَہنمائی کا ذریعہ بنایا گیا ہے، اللہ تعالی کے ان بندوں کی صحبت سےانسان کے ظاہر وباطن کی اِصلاح ہوتی ہے، اپنے علم وعمل کے ذریعے مخلوق تک دینِ اسلام کا پیغام پہنچانے میں ان حضرات کا بڑا اہم کردار ہے، جسے اسلامی تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
(Read More)
حضورِ اکرم ﷺ کا حُسن وجمال
اللہ ربّ العالمین قرآنِ پاک میں حضورِ اكرم ﷺ کے حُسن وجمال کی قسم ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَالنَّجْمِ اِذَا هَوٰى ۙ۰۰۱ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰىۚ۰۰۲ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ؕ۰۰۳ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى﴾([1]) “اس پیارے چمکتے تارے (محمد) کی قسم! جب یہ (معراج سے) اُترے! تمہارے صاحب نہ بہکے، نہ بےراہ چلے، اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے، وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے!”۔
(Read More)
مصطفی جانِ رحمت…. انسانِ کامل
اس دنیا میں رسولِ اکرم ﷺ کی تشریف آوَری کا مقصد ہی عالَمِ انسانیت کی ہدایت، رَہنمائی اور اصلاح ہے، لہذا ان کے تمام فرامینِ مبارکہ اور سیرت ِطیّبہ میں کاملیت وجامعیت کی جھلک ہونا ایک فطری امر ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ١ۗ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ﴾([2]) “وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا، کہ اُن پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں، اور انہیں پاک کرتے ہیں، اور انہیں کتاب وحکمت کا علم عطا فرماتے ہیں، اور وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے”۔
(Read More)
نعت خوانی کے آداب واَحکام اور دَورِ حاضر کی خُرافات
حضور نبئ کریم ﷺ کی مدحت، تعریف وتوصیف، شمائل وخصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو، نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ: مدح وثناء اور اِنشاد بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نعتیں لکھیں اور پڑھیں، اوران کی سنّت پر عمل کرتے ہوئے، یہ سلسلہ آج تک جاری وساری ہے اور -ان شاء اللہ- ہمیشہ جاری رہے گا۔
(Read More)
گیارہویں شریف
سیِّدنا غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ماہِ رمضان المبارک میں ہوئی، اور پہلے ہی دن سے آپ رحمۃ اللہ علیہ نے روزہ بھی رکھ لیا، وقتِ سحری سے اِفطار تک آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنی والده محترمہ کا دودھ نہ پیتے
(Read More)
غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور ان كی تعليمات
حضراتِ گرامی! پیرانِ پیر حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی عبادت وریاضت اور معمولات کا یہ عالم تھا، کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ ساری ساری رات عبادتِ الٰہی میں مصروف رہ کر، قرآنِ پاک کی تلاوت اور نوافل ادا کرتے تھے، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے پندرہ15 سال تک ہر رات میں ایک قرآنِ پاک ختم کیا”([6])۔
(Read More)
تعلیماتِ غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی عصری جہات
آج ہماری اکثریت سیِّدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں “گیارہویں والے پیر” سے زیادہ کچھ نہیں جانتی، وہ ہر ماہ گیارہویں شریف کا ختم دلا کر یہ سمجھتے ہیں کہ حقِ عقیدت ادا ہو گیا
(Read More)
جعلی پیروں کا شر وفساد
جاہل، بے عمل، بلکہ بد عمل پیروں کی اصلاح بھی ضروری ہے، جو اَحکامِ شریعت پر عمل کیے بغیر جنّت میں جانا چاہتے ہیں۔ ان کی جہالت میں سے، ان کا یہ طرزِ عمل بھی ہے، کہ یہ لوگ خود کو شریعتِ مطہَّرہ کے اَحکام سے آزاد سمجھتے ہیں، اور لوگوں کے سامنے بھی اَحکامِ شریعت کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ جبکہ بعض جاہلوں نے محض دنیا کمانے کی خاطر پیری مریدی کا کاروبار شروع کر رکھا ہے
(Read More)
مزاراتِ اولیاء پر ہونے والی خُرافات کی روک تھام
بزرگانِ دین کے مزارات، خانقاہیں اور آستانے رُشد وہدایت کے مراکز، روحانی فُیوض وبركات کے سرچشمے اور شَعائر اللہ ہیں، ان کا ادب واحترام ہر مسلمان پر لازم ہے۔ قُرونِ ثلاثہ سے لے کر آج تک مسلمان، مزاراتِ اولیاء پر حاضر ہو کر فیض پاتے، اور روحانی تسکین حاصل کرتے چلے آ رہے ہیں
(Read More)
مذہبی سیاست کی اہمیت وضرورت
مذہبی سیاست کا بنیادی مقصد، اسلامی تعلیمات کی رَوشنی میں ایک ایسے صالح مُعاشرے کی تشکیل ہے، جہاں قرآن وسنّت کے اَحکام کی روشنی میں اسلامی نظام کا نفاذ کیا جا ئے، لوگوں کو بلاامتیاز عدل وانصاف فراہم کیا جائے، ظلم وستم کا خاتمہ کر کے امن وآشتی کی فضا قائم کی جائے، عوام النّاس کے جان ومال، عزّت وآبرو اور حقوق کے تحفُظ کو یقینی بنایا جائے، ان کے لیے رزقِ حلال اور مناسب روزگار کا انتظام کیا جائے
(Read More)
مسلم دنیا اور سائنسی افکار
سائنس (Science) لاطینی زبان کے لفظ (Scientia) سے مشتَق ہے، اس کا معنی ومفہوم غیر جانبداری سے حقائق کا اُن کی اصلی شکل میں باقاعدہ مطالعہ کرنا، اور اپنی عقل، مُشاہَدات اور تجربات کی روشنی میں کسی چیز کو جاننے کا طریقہ ہے([1])۔ اس کے نتائج کبھی بھی حتمی اور قطعی نہیں ہوتے، بلکہ یہ صرف اُس وقت تک کے حقائق ہوتے ہیں جب تک کوئی نئی دریافت (Discovery) نہ آ جائے۔ سائنسدان بھی اپنے علم کی یہی تعریف کرتے ہیں، اور اسے کبھی بھی حتمی اور قطعی قرار نہیں دیتے۔ لہذا بحیثیت مسلمان سب سے پہلے اس بات کو ذہن نشین کرنا، اور اُسے ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا نہایت ضروری ہے، کہ سائنس انسانی تجربات ومُشاہَدات کا نتیجہ ہے
(Read More)
اسلام میں سائنس کا تصوّر اور مسلم اِیجادات
موجودہ دَور سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کا دَور ہے، آئے دن مختلف اور حیران کُن اِیجادات (Inventions) ہو رہی ہیں، ان کی بدَولت فاصلے سمٹ رہے ہیں، دنیا ایک گلوبل ولیج (Global Village) بن چکی ہے، دنیا کے ایک سے دوسرے کونے میں رابطہ کرنا انتہائی آسان ہوگیا ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی (Science and Technology) کی بدَولت ذرائع اِبلاغ اس قدر ترقی کر چکے ہیں، کہ دنیا بھر میں رُونما ہونے والے اَہم واقعات اور ٹی وی سیٹ پر دیکھ سکتے ہیں خبریں آپ براہِ راست اپنے موبائل فون یا
(Read More)
اسلام میں بچوں کے حقوق
ہمارے مُعاشرے میں بچوں کو بھی وہی مقام دیا ہے، جو بنی نَوع انسان کے دیگر طبقات کو حاصل ہے، سروَرِ کونین ﷺ نے بچوں کے ساتھ جو شفقت ومحبت بھرا سُلوک اختیار فرمایا، وہ مُعاشرے میں بچوں کے مقام ومرتبہ کا عکّاس بھی ہے اور ہمارے لیے مشعلِ راہ بھی، بچوں کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اسلام نے بچوں کے حقوق کی پاسداری اُن کی پیدائش کے بھی پہلے سے کر رکھی ہے، لہذا ہمیں حکم دیا کہ ان بچوں کے لیے جس ماں کا انتخاب کیا جائے وہ نیک ہو، شریف گھرانے سے ہو، پاکدامن وعمدہ سیرت والی ہو
(Read More)
بڑوں کاادب واحترام اور تربیتِ اولاد
اسلام ایک پاکیزہ اور جامع دین ہے، یہ ہمیں اپنے بڑوں اور بزرگوں سے ادب واحترام سے پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے، ان کے کام آنا، ان کے مصائب وآلام کو دُور کرنا، ان کے دُکھ درد بانٹنا، ان کے ساتھ ہمدردی، غمخواری اور شفقت سے پیش آنا، بہت بڑی نیکی اور باعثِ اجر وثواب ہے۔ عمر رسيده لوگوں كا ادب واحترام، اور ان سے محبت، الله ورسول کی رِضا وخوشنودی کا بہترین ذریعہ ہے، اِن کی تعظیم، اللہ کی تعظیم ہے
(Read More)
افضلُ البشر بعد الانبیاء صدیقِ اکبر رضي الله عنه
حضرت سیِّدنا صدیقِ اكبر رضي الله عنه کا نام عبد اللہ، لقب صدیق اور عتیق ہے۔ آپ کے والد کا نام ابو قُحافہ عثمان، اور والدہ اُم الخیر سلمٰی ہیں۔ آپ رضي الله عنه کا سلسلۂ نسَب ساتویں پُشت میں رسول اللہ ﷺ کے نسَب شریف سے مل جاتا ہے۔ آپ رضي الله عنه نبئ کریم ﷺ سے تقریباً 2 سال چھوٹے ہیں۔ آپ نے مَردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا، آپرضي الله عنه زمانۂ جاہلیت میں بھی قوم کے معزَّز مکرّم تھے، آپ نے قبلِ اسلام بھی کبھی شراب نہیں پی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ تمام غزوات میں شریک رہے، آپ رضي الله عنه ہجرت کے موقع پر حضورِ اکرم ﷺ کے رفیقِ سفر اور یارِ غار بھی رہے
(Read More)
حقوق العباد اور ہیومن رائٹس میں فرق
آج کل ایک لفظ “ہیومن رائٹس” (Human Rights) بہت زیادہ استعمال کیا جارہا ہے، زیادہ تر مسلمان اس کا ترجمہ “انسانی حقوق” بلکہ “حقوق العباد” کر دیتے ہیں، یہ ایک بہت بڑی غلطی اور کنفیوژن (Confusion) ہے، اس کنفیوژن (Confusion) کی وجہ سے مسلم مُعاشرے کو شدید ایمانی اور تہذیبی خطرات درپیش ہیں، لہذا بحیثیت مسلمان ہمارے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ کیا واقعی “ہیومن رائٹس” (Human Rights) اور “حقوق العباد” سے ایک ہی چیز مراد ہے، یا دونوں میں باہم فرق ہے؟!
(Read More)
حضرت سیِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کا نظامِ خلافت
حضرت سیِّدنا صدیقِ اكبررضی اللہ عنہ کا نام عبد اللہ، لقب صدیق اور عتیق ہے۔ آپ کے والد کا نام ابو قُحافہ عثمان، اور والدہ ام الخیر سلمٰی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلۂ نسَب ساتویں پُشت میں رسول اللہ ﷺ کے نسَب شریف سے مل جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نبئ کریم ﷺ سے تقریباً 2 سال چھوٹے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مَردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ زمانۂ جاہلیت میں بھی قوم میں معزَّز مکرّم تھے۔ آپ نے قبلِ اسلام بھی کبھی شراب نہیں پی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ تمام غزوات میں شامل رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ ہجرت کے موقع پر حضورِ اکرم ﷺ کے رفیقِ سفر اور یارِ غار بھی رہے
(Read More)
صدیق دا پہلا نمبر
امیر المؤمنین سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اسمِ گرامی عبد اللہ اور لقب صدّیق وعتیق ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد گرامی کا نام ابو قُحافہ عثمانرضی اللہ عنہ، اور والدہ محترمہ کا نام امّ الخیر سلمٰی رضی اللہ عنہا ہے۔ سیِّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا سلسلۂ نسَب ساتویں پشت میں، رسول اللہ ﷺ کے نسَب شریف سے مل جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نبئ کریم ﷺ سے عمر میں، تقریباً 2 سال چھوٹے ہیں، آپ نے مَردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا
(Read More)
کرپشن کی روک تھام اور اسلامی تعلیمات
برادرانِ اسلام! بدعنوانی (Corruption) ایک ایسا عالَمی مسئلہ ہے جس سے دنیا کا تقریباً ہر ملک شدید متاثِر اور پریشان ہے، کرپشن کے باعث ملکی معیشت تباہ ہو کر رہ جاتی ہے، حکومتیں عدم استحکام کا شکار ہوتی ہیں، اور مضبوط ترین قومیں بھی زوال واِنحطاط پذیر ہو کر رہ جاتی ہیں، یہ ایک ایسی برائی ہے جو ایک صالح مُعاشرہ کو دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کر دیتی ہے، اس کے باعث مُعاشرے کی ترقی وکامیابی کا پہیہ رُک جاتا ہے، اور نتیجۃً ملک وقوم تباہی وبربادی کی عبرتناک داستان بن جاتی ہیں!۔
(Read More)
مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ اور اُن کا نظریۂ تصوّف
ساتویں صدی ہجری میں اُمّتِ مسلمہ ایک نہایت پُر آشوب اور ہولناک دَور سے گزر رہی تھی، مسلمان عیش وعشرت، فسق وفُجور اور اَخلاقی پَستیوں کے دَلدَل میں دھنسے جارہے تھے، کسی کى جان، مال اور عزّت محفوظ نہیں تھی، ہر طرف بےیقینی، بےچارگی، مایوسی اور خوف وہراس کا عالَم تھا، قتل وغارتگری عام تھی، باہمی جنگ وجدال اور تاتاری یلغار کے سبب اسلامی دنیا تباہی کے دہانے پر تھی، ثمرقند وبخارا، بلخ وہمَدان اور نیشاپور وبغداد جیسےعظیم اسلامی مراکز بھی، ہلاکو خاں کی وَحشی فوجوں کے ہاتھوں، تباہ وبرباد اور جل کر راکھ کا ڈھیر بن چکے تھے، اس ہولناک تباہی، بربادی اور بےتابی کے دَور میں، اسلام کے علمی وَقار کو اللہ تعالی نے جن برگزیدہ مَشاہیر کے ذریعے برقرار رکھا، اُن میں ایک بہت بڑا نام، حضرت شیخ جلال الدّین رُومی المعروف “مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ” کا بھی ہے۔
(Read More)
فضائلِ شعبان المعظم
ماہِ شعبان المعظّم میں مصطفیٰ جانِ رَحمت ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ، اعمالِ صالحہ اور روزوں کی کثرت کیا کرتے؛ کیونکہ دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ اس مہینے کے روزوں کی فضیلت بھی زیادہ ہے۔ حضرت سیِّدنا اُسامہ بن زَید رضی اللہ عنہما نے نبئ کریم ﷺ کی خدمتِ اقدَس میں عرض کی، یارسول اللہ! میں آپ کو سب مہینوں سے زیادہ شعبان المعظّم کے مہینے میں روزے رکھتے دیکھتا ہوں! رحمتِ عالمیان ﷺ نے ارشاد فرمایا: «ذٰلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبَ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيْهِ الْأَعْمَالُ إِلىٰ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِيْ وَأَنَا صَائِمٌ»([1]) “یہ رجب اور رمضان کے درمیان وہ مقدّس مہینہ ہے، جس سے لوگ غافل ہیں، یہ وہ مہینہ ہے جس میں لوگوں کے اعمال اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں، لہذا میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل رب تعالی کی بارگاہ میں پیش کیا جائے، تو میں حالتِ روزہ میں ہوں”
(Read More)
اسلام اور يورپ میں نظریۂ ذاتیات
دينِ اسلام کا نظریۂ ذاتیات یعنی ایک فرد کی نجی زندگی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ دین اسلام اپنے ماننے والوں کو، کسی کی پرسنل لائف (Personal Life) میں مداخلت کرنے، ٹوہ ميں میں رہنے، یا تجسس میں مبتلا ہو کر، اس پر نظر رکھنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ١ٞ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ۠١ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ﴾( ) “اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو! یقیناً کوئی گمان گناہ بھی ہوتے ہیں، اور عیب مت ڈھونڈو! اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو! کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا، کہ اپنے مرده بھائی کا گوشت کھائے، تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا، اور اللہ سے ڈرو، یقیناً اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے!”
(Read More)
سیرتِ سیِّدنا امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ
حضراتِ مقدّسہ میں ایک ممتاز ہستی سیِّدنا امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کی ذاتِ گرامی بھی ہے، سیِّدنا امیر مُعاویہ بن ابو سفیان اُمَوی قریشی رضی اللہُ عنہ بعثتِ نبوی سے پانچ5 برس پہلے پیدا ہوۓ۔ حضرت امام محمد بن عمر واقدی رحمہُ اللہ لکھتے ہیں کہ “مُعاویہ صلحِ حدَیبیہ کے بعد ہی مسلمان ہوگئے تھے، لیکن انہوں نے اپنا اسلام لوگوں سے مخفی رکھا، اور فتحِ مکّہ کے موقع پر اپنا مسلمان ہونا ظاہر کر دیا”
(Read More)
پندرہویں شعبان کے فضائل واَحکام
اللہ تعالی نے دن ورات کو پیدا فرما کر، ان میں سے بعض کو خاص امتیاز بخشا، انہیں میں ماہِ شعبان المعظم کی پندرہویں شب (جسے شبِ براءت یعنی نَجات والی رات کہا جاتا ہے) کو بھی خاص اَہمیت سے سرفراز فرمایا۔ یہ ایک ایسی مبارک رات ہے جس میں اللہ تعالی اپنے بندوں پر خاص نظرِ رحمت فرماتا ہے، اہلِ ایمان پر خصوصى کرم کرتے ہوئے ان کی بخشش ومغفرت فرماتا ہے۔ حضرت سیِّدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ اللهَ يَطْلُعُ عَلَى عِبَادِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ، وَيُمْلِي الْكَافِرِيْنَ، وَيَدَعُ أَهْلَ الْحِقْدِ بِحِقْدِهِمْ حَتَّى يَدَعُوْهُ»([1]) “یقیناً اللہ تعالى شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر خاص تجلّی فرماتا ہے، مؤمنوں کو بخش دیتا ہے، کافروں کو ڈِھیل دیتا ہے، اور آپس ميں کینہ وعداوت (دشمنی) ركهنے والوں کو چھوڑے رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے دل سے عداوَت نکال دیں”
(Read More)
مسئلۂ کشمیر اور عالَمِ اسلام کی ذمہ داری
کشمیر کا ڈوگرہ راجہ ہری سنگھ ابتدا میں چاہتا تھا، کہ کشمیر آزاد حیثیت میں رہے، مگر اکتوبر 1947ء میں پاکستان کے قبائلی جنگجوؤں سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنے کے عوض، ڈوگرہ راجہ نے انڈیا سے اِلحاق کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد جنگ شروع ہو گئی، اور انڈیا نے اقوامِ متحدہ سے اس مُعاملے پر مداخلت کرنے کی درخواست کی۔ اقوامِ متحدہ کی ایک قرارداد میں یہ تجویز دی گئی، کہ انڈیا یا پاکستان کے ساتھ اِلحاق کے سوال پر ریفرینڈم کروایا جائے۔
جولائی 1949ء میں انڈیا اور پاکستان نے ایک مُعاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت اقوامِ متحدہ کی جانب سے بنائی گئی جنگ بندی لائن، جسے لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے، اس کا اعلان کیا گیا۔
سن 1956ء میں انڈیا نے آرٹیکل 370 کو آئین کا حصہ بنایا، اس آرٹیکل کے تحت انڈیا کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کو خصوصی حقوق دیے گئے، مگر اب پانچ5 اگست 2019ء سے انڈین حكومت نے اس خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر دیا ہے
(Read More)
اختلافِ فقہی فُروعی میں برداشت اور وسعتِ قلبی
اسلام ایک کامل دین ہے، یہ دین تاقیامت ساری انسانیت کی رَہنمائی ورَہبری کا فریضہ سر انجام دینے کے لیے آیا ہے، یہ اس قدر جامع اور مکمل دین ہے کہ اس کی تعلیمات میں کسی قسم کا نقص یا کمی نہیں، اس دین کے دستورِ الٰہی ہونے کی واضح دلیل یہ ہے، کہ اس کی تعلیمات میں ہر زمانے کے تغیّرات کو قبول کرنے، اور ہر قسم کے دینی، مُعاشی، مُعاشرتی، سماجی مسائل وحوادث اور اُلجھنوں سے نمٹنے کی بدرجۂ اتم صلاحیّت موجود ہے، گردشِ دَوراں اور اکیسویں صدی عیسوی کے جدید سائنسی دَور میں نِت نئے مسائل کا جنم لینا، دینِ اسلام کی اَہمیت، ہمہ جہتی اور ہمہ گیری پر ہرگز اثر انداز نہیں ہو سکتا؛ کیونکہ اس دین کا اصل منبع وسرچشمہ قرآن وحدیث ہیں، اور یہ دونوں وحئ الٰہی ہیں۔ شریعت کاکوئی حکم ایسا نہیں ہے جس کی دلیل کسی نہ کسی درجہ میں، قرآن وحدیث کے اندر موجود نہ ہو۔ اسی طرح فقہائے کرام کے تمام اصول ِ تخریج اور قواعدوضوابط کااستنباط واستخراج بھی دراصل قرآن وحدیث ہی سے ماخوذ ہے، یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام کے تمام اجتہادات واستنباطات پر مبنی، ان کا کامل فقہی ذخیرہ بھی، دراصل شریعت مطہَّرہ ہی کا قیمتی سرمایہ، اور دین اسلام کے ایک جزء کا درجہ رکھتا ہے۔
(Read More)
عبادت وریاضت اور ماہِ رمضان
رمضان شریف اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں اور مبارک ساعتوں کے ساتھ جلوہ گر ہو چکا ہے، یہ مہینہ عبادت وریاضت اور کامیابیوں کے حصول کا مہینہ ہے، ہمیں چاہیے کہ اس مبارَک مہینے میں زیادہ سے زیادہ اعمالِ صالحہ بجالائیں، زُہد وتقوی اور پرہیزگاری اختیار کریں؛ کہ اسی میں ہماری عزّت اور دنیا وآخرت کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے، اللہ رب العالمین ارشاد فرماتا ہے: ﴿اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ﴾([1]) “یقیناً اللہ تعالی کے ہاں تم میں زیادہ عزّت والا وہ ہے، جو زیادہ پرہیزگار ہے”
(Read More)
زکاۃ ایک بنیادی فریضہ ہے
زکاۃ ایک اہم دینی اسلامى فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ، مُعاشى واقتصادى مشکلات کے حل کا ایک بہترین ومؤثِر ذریعہ بهى ہے۔ زکاۃ کا لُغوی معنی ہے پاک کرنا، درست کرنا، بڑھنا، جبکہ شریعتِ اسلامیہ ميں زکاۃ کا معنی “مال کا ایک مخصوص حصّہ، جو شریعتِ مطہَّره نے مقرّر کیا ہے، اللہ تعالی کی رِضا کی خاطر، کسی مسلمان شرعی فقیر کو اُس كا مالک بنا دینا ہے”([1])۔
زکاۃ فرض ہے، اور اس کی فرضیت قرآن، سنّت اور اِجماعِ امّت سے ثابت ہے، جو اِس کى فرضيت كا انکار كرے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ جو زکاۃ كو فرض جاننے اور ماننے كے باوُجود ادا نہ كرے، وه مستحقِ عذاب ہے۔ اورجو اس كى ادائيگى میں تاخیر کرے وه گنہگار ہے، اُس پر توبہ لازم ہے۔ زکاۃ نہ دینے والے سے حاكمِ اسلام زبر دستی بهى وصول كر سکتا ہے۔ زکاۃ اسلام کا تیسرا رُکن ہے، جو ہجرت کے دوسرے سال فرض كيا گيا۔
(Read More)
شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ عنہا
خاندانِ رسالت ﷺ کی ہر مہکتی کلی اپنی سیرت وکردار سے سارے جہاں کو مہکا رہی ہے، انہی میں مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی لختِ جگر، خاتونِ جنّت، سیِّدہ بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا ہیں۔ آپ کی ولادتِ با سعادت اُم المؤمنین حضرت سیِّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے گھر پر ہوئی، لہذا وہ گھر “مَولدِ فاطمہ” کے نام سے مشہور ہے([1])۔
(Read More)
امّ المؤمنین سیِّدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا
تاریخ کا رخ بدلنے میں جہاں مسلمان مَردوں نے جدوجہد کی، وہیں بعض خواتین نے بھی اہم کردار ادا كیا، ان میں سرفہرست اور سنہری حُروف سے لکھا گیا، ايك مقدّس اسمِ گرامی امّ المؤمنین سیِّدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کا بھی ہے۔ امّ المؤمنین سیِّدہ خدیجۃ عرب کی ايك معزّز ترین اور دَولتمند خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ، علم وفضل اور ایمان واِیقان میں بھی نمایاں مقام رکھتی ہیں!
(Read More)
مہنگائی کا طوفان…. اَسباب اور حل
گرانفروشی (مہنگائی) ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا یوں تو آج پوری دنیا کر رہی ہے،لیکن غریب اور ترقّی پذیر ممالک کے لیے کورونا وائرس (Corona Virus) کے بعد سے اس پر قابوپانا مزید مشکل ہوگیا ہے، اگر وطنِ عزیز پاکستان کی بات کی جائے تو مہنگائی کی حالیہ طوفانی لہر نےغریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، کھانے پکانے کاتیل، چینی، آٹا، دالیں، سبزیاں، انڈے، گوشت، بجلی وگیس کے بل، بچوں کی اسکول فیس، اور پیٹرول (Petrol) وغیرہ سمیت متعدِد اشیائے ضرورت، متوسّط طبقے کی پہنچ سے بھی دُور ہوتی جا رہی ہیں، جبکہ مزدور اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگ مہنگائی کی اس چکّی میں کس طرح پِس رہے ہیں، اور انہیں کیسے کیسے مسائل کا سامنا ہے، اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں
(Read More)
برکاتِ اعتکاف
یوں تو رمضان المبارك کا پورا مہینہ ہی رَحمتیں برکتیں سمیٹنے کا مہینہ ہے، مگر اس كے آخری دس10 دن پہلے بیس20 دنوں سے زیادہ اَہمیّت اور انفرادی شان رکھتے ہیں، ان میں شبِ قدر کو پانے کے لیےاہلِ ایمان اعتکاف بهى كرتے ہیں۔ اِعتکاف کے لُغوی معنی ہیں دَھرنا دینا، مطلب یہ کہ معتکِف اللہ تعالی کی بارگاہ میں، عبادت پر کمر بستہ ہو کر مسجد ميں بیٹھ جاتا ہے، ڈیرے ڈال دیتا ہے، اس کی يہی آرزُو ہوتی ہے کہ کسی طرح پروردگارِ عالَم مجھ سے راضی ہوجائے۔
رمضان المبارک کی بیس20 تاریخ کا سورج ڈوبتے ہی اِعتکاف کا وقت شروع ہو جائے گا، دنیا کے سارے کاروبار چھوڑ کر رمضان شریف کے آخری دنوں میں اللہ تعالی کے قُرب واطاعت کی غرض سے، مَرد حضرات کى مسجد اور خواتین کى اپنے گھروں میں گوشہ نشینى كا نام اِعتکاف ہے
(Read More)
یومِ پاکستان (حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں)
میرے محترم بهائيو! یومِ پاکستان، ہمارے وطنِ عزیز کی تاریخ کا اہم دن ہے۔ اس دن یعنی 23 مارچ 1940ء کو مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل، ایک آزاد ملک کےمطالبے کی قرارداد، لاہور کے منٹو پارک (اقبال پارک) میں پیش کی گئی تھی، جو بعد میں قراردادِ پاکستان کے نام سےموسوم ہوئی۔ جس دن قراردادِ پاکستان پیش کی گئی، اسی وقت متفقہ طور پر واضح الفاظ میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا، کہ اب بحیثیتِ مسلمان، ہندو تہذیب کے ساتھ ملاپ کسی صورت ممکن نہیں، مسلمان اپنا ایک علیحدہ اسلامی تشخص رکھتے ہیں، جس بناء پر اب ہندو ریاست میں مسلمانوں کا رہنا ناقابلِ برداشت ہے([1])۔ اسی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا گانہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی، اور سات7 سال کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ وہ ثمره جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ اس دن كی یادگار کے طور پر ہر سال 23مارچ پورے پاکستان میں عام تعطیل ہوتی ہے؛ تاکہ ہم ان مسلم قائدین کو خراجِ تحسین پیش کریں، جن کی سوچ، مطالبہ اور کاوشوں کے سبب ہمیں آزادی کی نعمت میسر آئی!۔
(Read More)
عید الفطر
رمضان کے روزوں، عبادات، تلاوتِ قرآن، تراویح، ترجمہ وتفسیر کی سماعت، لیلۃالقدر کی عبادت، گریہ وزاری، اور سچی تَوبہ کے بعد اللہ تعالى کی طرف سے اَہلِ ايمان کو بطورِ انعام عید الفطر کا دن عطا فرمایا گیا، یہ دن بھی ايك عظیم الشان نعمت ہے، ہمارے لیے اس میں خوشی ومسرّت کا اِظہارمشروع کیا گیا ہے؛ تا کہ دلی خوشی کے ساتھ ساتھ، نعمتِ الہی اور اس كے فضل وكرم پر اِظہارِ شکر بھی ہو جائے۔
(Read More)
شب بیداری اور ہمارا طرزِ عمل
مخلوقِ الٰہی رات کی آغوش میں جب گہری نیند سو رہی ہو، اس وقت نیند قربان کرکےاللہ تعالی کی عبادت کرنا، نفل نماز ادا کرنا، ذکر واَذکار کرنا، تلاوتِ قرآن مجید کرنا، نعت شریف پڑھنا، اللہ ورسول کی یاد سے اپنا دل ودماغ معمور کرنا، خالقِ کائنات کے حضور گڑ گڑانا، آنسو بہانا ، اور اپنے گناہوں کی مُعافی چاہنا، ہمیشہ سےاولیائے کرام اور دیگر نیک بندوں کا طریقہ رہا ہے، اس عمل کو آسان اور مختصر لفظوں میں “شب بیداری” کہا جاتا ہے۔
(Read More)
اسلامی تاریخ میں خواتین کا کردار
بحیثیتِ ماں، بہن، بیوی اور بیٹی، عورت کا دینِ اسلام میں کردار بہت مثالی ہے، ہر رُوپ میں اُس کی زندگی پیار، محبت، شفقت، مہربانی اور اپنے پیاروں کے لیے قربانیوں سے عبارت ہے، اللہ رب العالمین نے اسے پہاڑوں سے بھی بلند صبر وہمت اور حَوصلہ وثابت قدمی سے نوازا ہے، اچھے حالات میں وہ اگر صنفِ نازُک ہے، تو بُرے وقت میں صنفِ آہن سے کم بھی نہیں، وہ بوقتِ ضرورت زمانے کی سرد وگرم ہواؤں اور حالات کا ڈَٹ کر دلیری سے مقابلہ کرتی ہے، اپنے باپ، بھائی، شَوہر اور بیٹے کا ساتھ دیتی ہے، ان کا دُکھ دَرد بانٹتی ہے، ان کی ہمت وحَوصلہ اَفزائی
(Read More)
امّ المؤمنین حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا
حبیب ﷺ سے تعلق رکھنے والی ہر شَے عظمت والی ہے، اسی طرح وہ پاک باز بیبیاں جو مصطفی جانِ رحمت ﷺ کے ساتھ رشتہ زَوجیت میں منسلک ہوئیں، سارے جہاں کی خواتین سے افضل واعلی اور اہلِ ایمان کی مائیں ہیں، اللہ نے ارشاد فرمایا: ﴿اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ﴾([1]) “یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے، اور اِس کی بیبیاں اُن کی مائیں ہیں”۔ “یعنی تعظیم وحرمت میں، اور ہمیشہ کے ليے ان سے نکاح حرام ہونے میں۔ اس کے علاوہ دیگر اَحکام میں، مثل وراثت اور پردہ وغیرہ میں ان کا وہی حکم ہے جو اجنبی عورتوں کا ہے([2])
(Read More)
مجاہدِ اسلام علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ
مجاہدِ اسلام حضرت علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ اہلِ سنّت وجماعت کے عظیم اور مشہور عالمِ دین تھے۔ آپ کا شمار اُن برگزیدہ اور دیدہ وَر ہستیوں میں ہوتا ہے جو صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں، آپ رحمہُ اللہ علیہ نے اُس دَور میں نعرۂ حق بلند کیا، جب اظہارِ حق کو ناقابلِ مُعافی جُرم گردانا جاتا تھا، اور ایسا کرنا گویا مَوت کو دعوت دینے کے مترادِف تھا۔ حضرت کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ نے اپنی تقریروں اور تحریروں سے اسلام کا دِفاع کیا، دشمنانِ اسلام کے خلاف علمی مُناظرے کیے، انہیں بارہا شکستِ فاش سے دوچار کیا، باطل عقائد ونظریات کی بیخ کنی فرمائی، اور انگریزوں کے خلاف عملی طَور پر جہاد میں حصّہ لیا!۔
(Read More)
خود کشی کا بڑھتا ہوا رُجحان اور اس کی وُجوہات
اپنے ہاتھوں سے خود کو مار ڈالنا خود کشی کہلاتا ہے، ایسا کرنا حرام، گناہِ کبیرہ اور عذابِ جہنّم کا باعث ہے، اللہ ربّ العالمین نے قرآنِ مجید میں خود کشی کی سختی سے مُمانعت ومذمّت فرمائی، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا۰۰۲۹ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًا١ؕ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرًا﴾([1]) “اپنی جانیں قتل نہ کرو، یقیناً اللہ تم پر مہربان ہے! اور جو ظلم وزیادتی سے ایسا کرے گا، تو عنقریب ہم اُسے آگ میں داخل کریں گے، اور یہ اللہ کو آسان ہے!”
(Read More)
یومِ شہادتِ مزاراتِ صحابہ واہلِ بیتِ کرام
يومِ انہدامِ جنّت البقیع، مدینۂ منوّرہ کے مشہور قبرستان، بقیع الغرقد میں موجود اہلِ بیتِ اطہار، حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ اور دیگر مبارک ہستیوں کے مزارات کو، مسمار وشہید کیے جانے والے دن کو کہا جاتا ہے۔
(Read More)
دَجّال اور قربِ قیامت
لغت کے اعتبار سے دَجَّال کا مادّہ دَجل ہے، جس کا معنی ہے: شیطانی چالوں سے دوسروں کو دھوکے میں ڈالنا، حقیقت کو چھپانا، جھوٹ بولنا اور غلط بیانی کرنا ہے۔ چونکہ دجَّال میں یہ سب عُیوب موجودہیں، لہٰذا اسے دَجَّال کہتے ہیں۔ اصطلاحِ شریعت میں دَجَّال سے مراد وہ جھوٹا مسیح([1]) ہے، جو قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، اور آخری زمانے میں ظاہر ہوگا، اور خدائی کا جھوٹا دعویٰ کرے گا۔
حضراتِ محترم! واضح رہے کہ دجّال کے نام کے ساتھ لفظِ “مسیح” بمعنی اسمِ مفعول ہے، یعنی ممسوح العین، “ایک آنکھ کا کانا”، جبکہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ روح اللہ رضی اللہ عنہ کا لقب مسیح بمعنی اسمِ فاعل ہے، یعنی برکت کے لیے چھُونے والے، اور چُھو کر مُردوں کو زندہ اور بیماروں کو اچھا کرنے والے، لہٰذا باہم کوئی تعارُض نہیں([2])۔
(Read More)
غزوۂ ہند کیا ہے؟
غزوۂ ہند کب ہوگا؟ اس بارے میں یقینی طَور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا، البتہ حضرت سیِّدنا ثَوبان رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث سے اتنا اشارہ ضرور ملتاہے، کہ یہ غزوہ نُزولِ سیِّدنا عیسی D کے زمانے کے قریب ہندوستان میں ہوگا، اور اس میں شریک اسلامی لشکر شاندار فتح اور کامرانی سے ہمکنار ہوگا، ان شاء اللہ!۔
(Read More)