استاد کا مقام، مرتبہ اور ذِمّہ داری

Home – Single Post

The Status, Rank, and Responsibility of a Teacher

عزیزانِ محترم! اسلام میں مُعلِّم واستاد  کی بڑی قدر ومنزلت ہے، لوگوں کو علم سکھانا اور اُن کی تربیت کرنا انبیائے کرام علیہم السلام کا منصب ہے، اسلام میں استاد کا کیا مقام ومرتبہ ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ رب العالمین نے اپنےحبیب کریم، تمام انبیاء علیہم السلام کے سردار ﷺ کو اس جہاں میں معلِّم کائنات بنا کر بھیجا؛ تاکہ وہ ہمیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیں، ہمیں اُن اَسرار ورُموز سے آگاہ فرمائیں جس کا ہمیں علم نہیں، اور ہمیں پاک صاف کر دیں، ارشاد باری تعالی ہے: ﴿مَاۤ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ﴾([1]) “جیسے ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں سے؛ کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے، اور تمہیں پاک کرتا، اور کتاب اور پختہ علم سکھاتاہے، اور تمہیں وہ تعلیم فرماتاہے، جس کا تمہیں علم نہیں تھا”۔

خالقِ کائنات نے حضور نبئ کریم ﷺ کا بطَور معلِّم واستاد ذکر کرتے ہوئے ایک اَور مقام پر فرمایا: ﴿هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ١ۗ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ﴾([2]) “وہی رب ہے جس نے اَن پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا، کہ ان پر رب تعالى کی آیتیں پڑھتے ہیں، اور انہیں پاک کرتے ہیں، اور انہیں کتاب وحکمت کا علم عطا فرماتے ہیں، اور یقیناً وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے!”۔

برادرانِ اسلام! تاجدارِ رسالت ﷺ بطَور معلِّم واستاد اس دنیا میں مبعوث فرمائے گئے، حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عَمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سروَرِ کونین ﷺ نے اِرشاد فرمایا: «إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّماً»([3]) “مجھے مُعلّم واُستاد بنا کر بھیجا گیا ہے”۔

حضرت سیِّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ اللهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتاً، وَلَا مُتَعَنِّتاً، وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّماً مُيَسِّراً»([4]) “اللہ تعالی نے مجھے مشکلات میں ڈالنے والا، اور سختی کرنے والا بناکر نہیں بھیجا، بلکہ مجھے معلِّم (علم سکھانے والا) اور آسانی کرنے والا بناکر بھیجا ہے”۔

حضراتِ گرامی قدر! استاد رُوحانی باپ ہے، وہ ہمیں تعلیم وتربیت دیتا ہے، اور مُعاشرے میں رہنے کا ڈھنگ سکھاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ حدیثِ پاک میں اس کا درجہ  باپ کی مثل قرار دیا گیا ہے، حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ بِمَنْزِلَةِ الْوَالِدِ، أُعَلِّمُكُمْ»([5]) “میں تمہارے لیے باپ کی حیثیت رکھتا ہوں، کہ تمہیں علم و حکمت سِکھاتا ہوں”  یعنی جس طرح حقیقی والد اپنے بچے کو اچھے بُرے کی تمیز سکھاتا ہے، اور اسے مُعاشرے کا ایک کارآمد فرد بنانے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح استاد بھی اپنے شاگردوں کے لیے ویسے ہی جذبات رکھتا ہے، اور ایک اچھا انسان بننے میں اُن کی مدد کرتا ہے! ؏

رَہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے

استاد یہ قَوموں کے ہیں معمار ہمارے

عزیزانِ مَن! استاد پہلے خود علم حاصل کرتا ہے، پھر اسے پھیلانے کی سعادت حاصل کرتا ہے، ایسے شخص کو حدیثِ پاک میں سب سے بڑا  سخی قرار دیا گیا ہے، حضرت سیِّدنا انَس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سروَرِ کونین ﷺ نے فرمایا: «وَأَجْوَدُهُمْ مَنْ بَعْدِي رَجُلٌ عَلِمَ عِلْماً فَنَشَرَهُ»([6]) “میرے بعد سب سے بڑا سخی وہ ہے، جس نے علم حاصل کیا اور پھر اُسے پھیلایا!”۔

جانِ برادر! شعبۂ تدریس میں سب سے بہترین کام قرآنِ کریم اور دینی عُلوم کا سیکھنا سکھانا ہے، امیر المؤمنین سیّدنا عثمان بن عفّان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سروَرِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَه»([7]) “تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے!”۔

حضراتِ ذی وقار! علمِ دین سیکھنے سکھانے والا (یعنی عالمِ دین اُستاد اور دینی طالبِ علم) رحمتِ الہی کے سائے میں ہے، حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ، مَلْعُونٌ مَا فِيهَا، إِلَّا ذِكْرُ الله وَمَا وَالَاهُ، وَعَالِمٌ  أَوْ مُتَعَلِّمٌ»([8]) “خبردار! دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، سوائے اللہ کی یاد اور  اس سے تعلق رکھنے والی اشیاء کے، اور سوائے عالمِ دین اور طالبِ علم کے، سب کچھ ملعون ہے!”۔

میرے محترم بھائیو! استاد کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے، لہذا شاگرد کو چاہیے کہ * اپنے اُستاد کا احترام کرے * اس کے ساتھ حُسنِ سُلوک سے پیش آئے * اس کی اَدنیٰ بےادبی سے بھی بچے * اس کے سامنے ادب اور شائستگی سے بیٹھے *  اُس سے گفتگو کرتے وقت اپنی آواز بلند نہ کرے * دَورانِ کلاس (درس) استاد کے سامنے، طلبہ آپس میں بات چیت سے اجتناب کریں * اگر کوئی استاد کی بُرائی کرے، تو شاگرد اپنے استاد کا دِفاع کرے * استاد  کی موجودگی میں اگر کوئی شخص سوال کرے، تو استاد سے پہلے شاگرد جواب دینے کی کوشش نہ کرے * استاد کی اجازت کے بغیر اس کی کلاس سے باہر نہ جائیں * اور اس کے ساتھ بحث وتکرار سے پرہیز کرے! ؏

شیخِ مکتب ہے اِک عمارت گَر

 
جس کی صنعت ہے رُوحِ انسانی

 
 نکتۂ دلپذیر تیرے لیے

 کہہ گیا ہے حکیم قاآنی([9])

“پیش خورشید بَرمکش دیوار

 
خواہی ار صحن ِ خانۂ نورانی”([10])

 

“استاد کی مثال ایک معمار (Builder) کی   سی ہے، دونوں میں باہم فرق صرف یہ ہے کہ معمار عمارتیں بناتا ہے، جبکہ استاد انسان کی شخصیت کو سنوارتا، نکھارتا اور اُس کی رُوحانی تربیت کرتا ہے (اور  کسی انسان کی کردار سازی اور رُوحانی تربیت، عمارتیں بنانے سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے) حکیم قاآنی نے اس مناسبت سے بڑا پیارا نکتہ بیان کیا کہ “اگر تم اپنے گھر کو روشن رکھنا چاہتے ہو تو دھوپ کے سامنے کبھی دیوار مت بنانا” یعنی اگر تم اپنی شخصی تعمیر اور کردار سازی چاہتے ہو، تو استاد کی تربیت سے رُوگردانی نہ کرنا، بلکہ استاد سے زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کی کوشش کرو!”

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! اساتذۂ کرام کے ادب واحترام کے حوالے سے ہمارے اَسلاف اور بزرگانِ دین کا کیا طرزِ عمل تھا؟ اس بارے میں چند اقوال وفرامین حسبِ ذیل ہیں:

(١) حضرت سیِّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «أنا عبدُ مَن علَّمني حَرفاً واحداً، إن شاء باعَ، وإن شاء أعتقَ، وإن شاء استرقَّ»([11]) “جس نے مجھے ایک حرف سکھایا  میں اُس کا غلام ہوں، اب چاہے وہ مجھے بیچ دے، چاہے آزاد کر دے، یا پھر چاہے تو غلام بنا کر رکھے!”۔

(٢) حضرت سیِّدنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ “میں اپنے استادِ محترم اور والد ین کے لیے ایک ساتھ دعائے مغفرت کرتا ہوں([12])۔ اور میں نے کبھی بھی اپنے استاد محترم کے گھر کی طرف پیر نہیں پھیلائے، باوُجودیکہ میرے گھر اور استادِ محترم کے گھر کے درمیان سات7 گلیاں واقع ہیں، اور میں ہر اُس شخص کے لیے استغفار کرتا ہوں جس سے میں نے کچھ سیکھا ہے، یا جس نے مجھے پڑھایا ہے”([13])۔

(٣) حضرت سیِّدنا امام شُعبہ بن حجّاج رحمہُ اللہ فرماتے ہیں کہ ” جس سے میں نے ایک حدیث پڑھی ہے، میں اس کا غلام ہوں”([14])۔

(٤) فقہِ حنفی کی مشہور کتاب “ہدایہ” کے مصنّف، شیخ الاسلام برہان الدین مرغینانی رحمہُ اللہ فرماتے ہیں کہ “ائمۂ بُخارا میں سے ایک امام دَوران درس بار بار کھڑے ہو جاتے، شاگردوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ “میرے استاد کا لڑکا گلی میں بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے، جب مسجد کے دروازے کے سامنے آتا ہے، تو میں اپنے استاد سے تعلق کی وجہ سے تعظیماً  کھڑا ہو جاتا ہوں”([15])۔

(٥) امام فخرالدین ارسابندی مَرْو شہر میں “رئیس الائمہ” کے مقام پر فائز تھے، اور سلطانِ وقت آپ کا بےحد ادب واحترام کرتاتھا، آپ فرمایا کرتے، کہ مجھے یہ احترام ومنصب اپنے استاد کی خدمت وادب کی برکت سے ملا ہے”([16])۔

عزیزانِ محترم! استاد علم کا سر چشمہ ہوتا ہے، مُعاشرے کی تعمیر وترقی اور نسلِ نَو کی تعلیم وتربیت میں اساتذۂ کرام کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے، لہذا اساتذۂ کرام کو چاہیے کہ تعمیرِ انسانیت کے لیے طلبہ کی کردار سازی اور تربیت میں کسی قسم کی کوتاہی نہ بَرتیں، اور حسبِ ذیل چند اُمور کا خاص خیال رکھیں:

 مُعلّمِ کائنات ﷺ نے مسلمانوں کی اعلیٰ اَخلاقی تعلیم وتربیت، اور ان کے علم وعمل میں وَحدت پیدا کرنے کے لیے، مختلف انداز واُسلوب اختیار فرمائے، آسان سے آسان پیرائے اور مفہوم میں، توحید ورِسالت کا آفاقی پیغام پہنچایا، اور کسی بھی چیز کا حکم دینے سے پہلے، خود اس کا عملی نمونہ پیش کیا، لہٰذا اساتذۂ کرام کو چاہیے کہ تعلیم وتعلًّم کا مُعاملہ ہو یا کوئی اَور مُعاملہ، ہمیشہ سرکارِ دوجہاں ﷺ کی پَیروی کریں؛ کہ اللہ ربّ العالمین نے اُمّتِ مسلمہ کو نبئ کریم ﷺ کی پَیروی کا حکم دیا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾([17]) “یقیناً تمہیں رسول اللہ کی پَیروی بہتر ہے!”۔

حضراتِ گرامی قدر! مصطفی جانِ رحمت ﷺ کائنات کے سب سے بہترین مُعلّم ہیں، اور آپ کا طریقۂ تعلیم بہت شاندار اور منفرِد ہے، اس بارے میں حضرت سیِّدنا مُعاویہ بن حَکم سُلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي! مَا رَأَيْتُ مُعَلِّماً قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ، أَحْسَنَ تَعْلِيماً مِنْهُ»([18]) “میرے ماں باپ حضور پر قربان! مجھے آپ ﷺ سے پہلے اور آپ کے بعد  بھی، آپ سے بہتر کوئی مُعلّم نہیں ملا!”۔ لہذا اساتذۂ کرام کو چاہیے کہ اَحسن اور عام فہم  انداز میں درس وتدریس کا فریضہ انجام دیں؛ تاکہ طلبہ کو سمجھنے میں آسانی ہو، انہیں کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے، اور آپ کی بتائی ہوئی باتیں انہیں ذہن نشین ہو جائیں!۔

عزیزانِ محترم! تعلیم کا مقصد صرف جدید علوم سے آگاہی، اور اچھی نوکری کا حُصول نہیں ہونا چاہیے، لہذا استاد کو چاہیے کہ اپنے طلبہ کو مُعاشرے کا کارآمد فرد بنائے،  اُن کی اچھی تعلیم وتربیت کرے، اور ایک اچھا استاد ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین مُربّی وسرپرست ہونے کا بھی حق ادا کرے!۔

حضراتِ ذی وقار! ایک اچھا استاد صرف درسی کتب (Text Books)  پڑھانے کا ذمّہ دار نہیں ہوتا، بلکہ اس پر یہ بھی لازم ہے کہ اپنے طلبہ کی اَخلاقی تربیت کرے، غلطیوں پر انہیں ٹوکے اور وقتِ ضرورت ان کی سرزَنَشْ (Reprimand) کرے، البتہ زیادہ سختی اور مار پیٹ سے گریز کیا جائے، اور  نرمی اور شفَقت کا مظاہرہ کیا جائے۔ حضرت سیِّدنا ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ، وَتَعَلَّمُوا لَهُ السَّكِينَةَ وَالْوَقَارَ، وَتَوَاضَعُوا لِمَنْ تَتَعَلَّمُونَ مِنْهُ وَلِمَنْ تُعَلِّمُونَهُ، وَلَا تَكُونُوا جَبَابِرَةَ الْعُلَمَاءِ»([19]) “علم حاصل کرو، اور اس کے لیے طبیعت میں ٹھہراؤ اور وقار بھی پیدا کرو، اور جن سے علم سیکھتے ہو اور جنہیں سکھاتے ہو، اُن کے لیے نرمی وعاجزی کا مُظاہرہ کرو، اور سختی وجبر کرنے والے اساتذہ وعلماء نہ بنو!”۔

حضراتِ گرامی قدر! موجودہ دَور میں طلبہ میں کیرئیر سازی (Career Building) کا رجحان بڑی تیزی سے بڑھتا جارہا ہے، اور وہ حُصولِ علم کے بنیادی مقصد، یعنی خوفِ خدا، اتّباعِ سنّت، تقویٰ وپرہیز گاری، امانت ودِیانت، حشر ونشر اور حساب وکتاب وغیرہ جیسی اسلامی تعلیمات سے دُور ہوتے جا رہے ہیں، ان حالات میں اساتذۂ کرام کی ذمّہ داری مزید بڑھ جاتی ہے، لہذا انہیں چاہیے کہ اپنے شاگردوں کی کردار سازی کے لیے ہمہ وقت فکر مند رہیں، انہیں مادّہ پرستی (Materialism) سے اجتناب کی تلقین کرتے رہیں، انہیں ڈاکٹر (Doctor)، انجینئر  (Engineer)، سائنسدان (Scientist)، سیاستدان (Politician)، پروفیسر (Professor)، ٹیچر (Teacher) اور فلاسفر  (Philosopher) بنانے کے ساتھ ساتھ، ایک اچھا انسان بننے کی تعلیم بھی بھرپور انداز میں فرض سمجھ کر دیں، انہیں امانت ودِیانت، تقویٰ وپرہیز گاری، اور نماز روزہ سمیت دیگر  فرائض وواجبات کی پابندی کی بھی خوب تلقین کرتے رہا کریں!۔

عزیزانِ محترم! موجودہ دَور انٹرنیٹ (Internet) اور سوشل میڈیا (Social Media) کا دَور ہے، ہماری نوجوان نسل کا زیادہ تر وقت فیس بک (Facebook) اور یوٹیوب (YouTube) وغیرہ پر فحاشی وبےحیاء فلمیں ڈرامے دیکھنے، اور گانےباجے سننے میں گزرتا ہے، لہذا نوجوان نسل میں پائی جانے والی تمام اَخلاقی بُرائیوں اور کوتاہیوں کا   سارا اِلزام، یقیناً اساتذۂ کرام پر نہیں ڈالا جا سکتا، لیکن اس سب کے باوُجود درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ اَحباب پر بہت بڑی ذمّہ داری عائد ہوتی ہے، لہذا انہیں چاہیے کہ اپنے منصب کے تقاضوں کو سمجھیں، اپنی ذمّہ داری کا خوب اِحساس کرتے ہوئے  کوتاہیوں کا جائزہ لیں، اور مسلم مُعاشرے کی تعمیر وترقی اور نوجوان نسل کی اَخلاقی تربیت میں اپنا کردار خوب ادا کریں، انہیں دینی تعلیمات سے رُوشناس کرائیں، والدین کے ادب واحترام کی تلقین کریں، حلال وحرام کا فرق سمجھائیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی اہمیت سے آگاہ کریں، نوجوانوں کو مُعاشرے کا ایک کارآمد فرد بنائیں، انہیں دینی غیرت وحمیت کا درس دیں، جہاد کی اہمیت، فرضیت اور فوائد سے آگاہ کریں،   فلسطین وکشمیر سمیت دنیا بھر میں اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی مدد کرنے کی سوچ دیں، رسول اللہ ﷺ کی عزّت وناموس پر پہرہ داری کی تلقین کریں، اورحضور نبئ کریم ﷺ کی ناموس کی حفاظت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ پیدا کریں!۔

علاوہ ازیں “ہمارے اسکولز (Schools)، کالجز (Colleges)، یونیورسٹیز (Universities) اور دینی مدارس کے اساتذہ (Teachers)، پروفیسرز (Professors) اور لیکچرار صاحبان (Lecturers) کو چاہیے، کہ اپنے طریقۂ تدریس میں حضور نبئ کریم ﷺ کے منفرِد اُسلوب تعلیم وتعلّم کو اپنائیں، طلبہ کو صرف نصابی کتب کا متن (Text) سنانے پر اِکتفاء نہ کریں، پوری ایمانداری کے ساتھ اپنے اس پیغمبرانہ فریضہ کے ساتھ انصاف کریں، اس ذمّہ داری کے تقاضوں کو پورا کریں، طلبہ میں حُصولِ علم اور بالخصوص دینی تعلیم کا جذبہ وشَوق پیدا کریں، انہیں مختلف سرگرمیوں اور مثالوں كے ذریعے سبق سمجھانے کی کوشش کریں، سوال جواب اور منطقی استِدلال (Logical Reasoning) کے ذریعے ان کی ذہنی اِستعداد اور صلاحیت کو جانچنے اور بڑھانے کی کوشش کریں، اگر کوئی طالبِ علم سوال کرے تو اُسے ڈانٹ ڈپٹ کر، یا وقت کی کمی کا بہانہ بنا کر خاموش نہ کروائیں، بلکہ اُسے نرمی، شفَقت اور محبت سے دوبارہ سمجھانے کی کوشش کریں، لیکچر (Lecture) میں جو بات زیادہ اہم ہو اُسے تین3 بار دُہرائیں؛ تاکہ طلبہ کو موقع پر ہی ذہن نشین ہو جائے، اور اُسے بعد میں رَٹنے کی ضرورت پیش نہ آئے!”([20])۔

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! معلِّم واستاد نسلِ نَو کی تعلیم وتربیت کا فریضہ انجام دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ قوم ومذہب میں استاد کو بڑی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور اس کا ادب واحترام کیا جاتا ہے، لیکن نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج یہ منصب فریضے کے بجائے صرف ایک معمولی پیشہ اور مال کمانے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے، اچھی تعلیم کے نام پر جا بجا بڑے بڑے اسکولز تو قائم ہو چکے، لیکن وہاں تعلیم کے نام پر مغربی کلچر (Western Culture) اور اَفکار کو پروان چڑھایا جا رہا ہے، ہولی اور دیوالی کے تہوار منائے جا رہے ہیں، کرسمس (Christmas) اور ہولوین (Halloween) کی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ہماری نسلِ نَو اسلامی تعلیمات سے دُور اور نا آشنا ہوتی جا رہی ہے!۔

اس خرابی کی سب سے بڑی وجہ وہ روایتی استاد ہیں، جنہیں بچوں کی تعلیم وتربیت اور کردارسازی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، وہ اس منصب کو صرف ملازمت (Job) سمجھ کر کرتے ہیں، انہیں مہینے بعد اپنی تنخواہ سے غرض ہوتی ہے، بچے اپنی تعلیم پر توجہ دے رہے ہیں یا نہیں، اپنا سبق یاد کر رہے ہیں یا نہیں، وہ کس قسم کی منفی سرگرمیوں میں ملوّث ہیں، ان روایتی اساتذہ کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی، جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق استاد ایک مُربّی وسرپرست اور پُشت پناہ ہوتا ہے، اور اس  کا منصب بہت بلند اور ذمّہ داری بڑی اہم ہے!۔

یاد رکھیے! اسلام میں استاد کی ذمّہ داری صرف سبق یاد کرانے تک محدود نہیں، بلکہ اس پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو اسلامی تعلیمات سے رُوشناس کرائے، انہیں فرائض وواجبات کی تلقین کرے، اور خود بھی ان چیزوں کا پابند ہو، ان کے ساتھ مل کر نماز کی ادائیگی کرے، روزے رکھے، اور اپنے آپ کو رول ماڈل (Role Model) کے طَور پر پیش کرے؛ تاکہ استاد کو دیکھ کر طلبہ میں بھی عمل کا جذبہ پیدا ہو، اور وہ بھی اچھے مسلمان بن کر اُبھریں!۔

علاوہ اَزیں استاد پر یہ بھی لازم ہے کہ طلبہ کو جھوٹ،  چُغلی، غیبت، حسد، وعدہ خلافی، ناپ تول میں کمی، رشوت ستانی، سُود خوری،  شراب نوشی، اور بدکاری جیسی اَخلاقی بُرائیوں اور کبیرہ گناہوں سے نفرت دلائے، ان برائیوں کے دُنیوی اور اُخروی نقصانات سے آگاہ کرے، ان گناہوں پر قرآن وحدیث میں بیان کی گئی وعیدیں سنائے، انہیں اللہ ورسول کی اِطاعت وفرمانبرداری کی تلقین کرے، ان کے دِلوں میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا جذبہ پیدا کرے، اور اس کے دُنیوی فوائد اور آخرت میں ملنے والے اجر وثواب، اور جنّت میں ملنے والی نعمتوں سے آگاہ کرے!۔

عزیزانِ مَن! مُربّی استاد قوم کا رَہبر ورَہنما ہوتا ہے، وہ  نسلِ نَو کی تربیت کرتا ہے، اور انہیں اسلامی نظریۂ حیات سے وابستہ رکھتا ہے؛ کیونکہ نظریۂ حیات کے بغیر کوئی بھی قوم قوم نہیں رہتی، بلکہ  حمیت وغیرت سے عاری اور بےترتیب اَفراد کا جتّھا بن جاتی ہے، لہذا تمام اساتذہ کو چاہیے کہ اپنے طلبہ کو نیکی کی دعوت دیں، بُرے کاموں سے روکیں، اور اپنی اچھی اور نرم باتوں کے ذریعے طلبہ کو دین کے قریب کرنے کی کوشش کریں، کہ اللہ تعالی نے قرآنِ پاک میں نرمی اور حکمت کے ساتھ تبلیغ کا حکم دیا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾([21]) “اپنے رب کی طرف بلاؤ، پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے!”۔

ایک اچھے مُربّی استاد کی یہی وہ امتیازی صفات ہیں، جن سے نُفوس جِلا پاتے ہیں، اور طلبہ کی اصلاح ہوتی ہے، نیز اللہ تعالی کی رضا وخوشنودی حاصل ہوتی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ﴾([22]) “اس سے زیادہ کس کی بات اچھی؟ جو الله کی طرف بلائے اور نیکی کرے، اور کہے کہ میں مسلمان ہوں!”۔

میرے محترم بھائیو! جو روایتی اساتذہ اپنے منصب کا حق ادا نہیں کرتے، اور اس میں سُستی وکوتاہی بَرتتے ہیں، انہیں یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ ان کا مقام ومنصب ایک حکمران جیسا ہے، اور طلبہ ان کی رِعایا وعوام ہیں، لہذا ان کے حق کی پامالی سخت باز پُرس اور وعید کا باعث ہے، حضرت سیِّدنا مَعقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «لَا يَسْتَرْعِي اللهُ عَبْداً رَعِيَّةً، يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهَا، إِلَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ»([23]) “اللہ تعالی جب کسی بندے كو رِعایا کا نگران بناتا ہے، اور وہ اس حال میں مرے کہ اپنی رِعایا کے حقوق پامال کرتا ہو، تو اللہ تعالى اُس پر جنّت حرام کر دیتا ہے”۔

ایک اَور مقام پر حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ: فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ، فَهُوَ رَاعٍ عَلَيْهِمْ، وَهُوَ مَسْؤُوْلٌ عَنْهُمْ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَهُوَ مَسْؤُوْلٌ عَنْهُمْ، وَالمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ، وَهِيَ مَسْؤُوْلَةٌ عَنْهُمْ، وَالعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ، وَهُوَ مَسْؤُوْلٌ عَنْهُ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ!»([24]).

“تم میں سے ہر ایک (بشُمول استاد) حاکم ہے، اور اس سے اس کی رِعایا کے بارے میں باز پُرس ہوگی، تو لوگوں کا حقیقی امیر (١) ایک حاکم ہے، اور اس سے اُس کی رِعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا، (٢) ہر آدمی اپنے گھر والوں پر حاکم ونگہبان ہے، اور اس سے اس کے اہل وعِیال کے بارے میں پوچھا جائے گا، (٣) عورت اپنے شَوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر نگہبان ہے، اس سے اس بارے میں پوچھا جائے گا، (٤) غلام وملازم اپنے آقا ومالک کے مال کا نگہبان ہے، اور اس سے بھی اس بارے میں پوچھا جائے گا، لہذا جان لو کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ونگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں قیامت کے دن بازپُرس ہوگی!”۔

لہذا اساتذۂ کرام کو چاہیے کہ اپنی اس ذمّہ داری کی اہمیت ونزاکت کو سمجھیں، اپنے منصب کا صحیح حق ادا کریں، اس منصب کو نوکری کے بجائے دینی وملّی فریضہ سمجھیں، اور نسلِ نَو کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت بھی کریں، ان کی کردارسازی پر خوب توجہ دیں، اور انہیں ایک اچھا مسلمان بنانے کے ساتھ ساتھ مُعاشرے کا کار آمد فرد بنائیں!!

اے اللہ! ہمیں دعوت وتبلیغ اور درس وتدریس میں، حضور نبئ اکرم ﷺ کا اُسلوب  اپنانے کی توفیق عطا فرما، ہمیں فریضۂ تدریس کی اہمیت اور تقاضوں  کو سمجھنے والی سوچ اور عقل  عطا  فرما، اپنے تعلیمی نصاب کو قرآن وسنّت کے مطابق بنانے کی توفیق عطا فرما، ہماری نسلِ نَو کو یورپی اَفکار ونظریات سے بچا، اِسلامی کلچر کے خلاف تخریب کاری کرنے والے اسکولوں اور اداروں سے محفوظ فرما، اور اپنے بچوں کو دینی تعلیم وتربیت دینے کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے وسیلۂ جلیلہ سے ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت سے محبت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سُستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں مُلک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی اور چھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!۔

اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی اور کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان، مال، عزّت، آبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) پ 2، البقرة: 151.

([2]) پ ٢٨، الجمعة: ٢.

([3]) “سُنن ابن ماجه” باب فضل العلماء والحثّ …إلخ، ر: ٢٢٩، صـ48.

([4]) “صحيح مسلم” كتاب الطلاق، ر: 3690، صـ633، 634.

([5]) “سنن أبي داود” كتاب الطهارة، باب كراهية استقبال القبلة …إلخ، ر: 8، صـ13، 14.

([6]) “شعب الإيمان” 18- نشر العلم …إلخ، ر: 1767، 2/755.

([7]) “صحيح البخاري” كتاب فضائل القرآن، ر: 5027، صـ901.

([8]) “سنن الترمذي” أبواب الزُهد [باب منه حديث: «إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ» ر: 2322، صـ532. و”سنن ابن ماجه” كتاب الزُهد، باب مثل الدنيا، ر: 4112، صـ704.

([9]) حکیم قاآنی، ایران کے ایک مشہور قصیدہ گو شاعر تھے۔

([10]) “کلیاتِ اقبال” بال جبریلِ، حصّہ دُوم 2، شیخِ مکتب سے، ؃ 494۔

([11]) “تعليم المتعلّم فى طريق التعلّم” للزرنوجي، فصل في تعظيم العلم وأهله، صـ24.

([12]) “الخيرات الحِسان في مناقب الإمام الأعظم” الفصل 13- في ثناء الأئمة عليه، صـ35.

([13]) المرجع نفسه، الفصل 24- في حلمه ونحوه، صـ62.

([14]) “جامع بيان العلم وفضله” لابن عبد البرّ، باب جامع في آداب العالم والمتعلّم، ر: 828، 1/512.

([15]) “تعليم المتعلّم فى طريق التعلّم” فصل في تعظيم العلم وأهله، صـ25.

([16]) المرجع نفسه، صـ26.

([17]) پ ٢١، الأحزاب: ٢١.

([18]) “صحيح مسلم” كتاب المساجد ومواضع الصلاة، ر: ١١٩٩، صـ٢١٨.

([19]) “جامع بيان العلم وفضله” باب جامع في آداب العالم والمتعلم، ر: 803، 1/501.

([20]) “تحسینِ خطابت 2022ء” مارچ، رسول اللہ ﷺ کا اُسلوب تعلیم وتربیت، 1/239، 240۔

([21]) پ14، النحل: 125.

([22]) پ٢٤، حٰمٓ السَّجدة: ٣٣.

([23]) “صحيح مسلم” كتاب الإيمان، باب استحقاق الوالي الغاش …إلخ، ر: 364، صـ73.

([24]) “صحيح البخاري” كتاب العتق، ر: 2554، صـ4١2.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *