
Table of contents
محترم بھائیو! زکات ایک اہم دینی اسلامى فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ، مُعاشى واقتصادى مشکلات کے حل کا ایک بہترین ومؤثِر ذریعہ بهى ہے۔ زکات کا لُغوی معنی ہے پاک کرنا، درست کرنا، بڑھنا، جبکہ شریعتِ اسلامیہ ميں زکات کا معنی “مال کا ایک مخصوص حصّہ، جو شریعتِ مطہَّره نے مقرّر کیا ہے، اللہ تعالی کی رِضا کے حصول کے لیے، کسی مسلمان شرعی فقیر کو اُس كا مالک بنا دینا ہے”([1])۔
زکات فرض ہے، اس کی فرضیت قرآن وسنّت اور اِجماعِ امّت سے ثابت ہے، جو اِس کى فرضيت كا انکار كرے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ جو زكات كو فرض جاننے اور ماننے كے باوجود ادا نہ كرے، وه مستحقِ عذاب ہے۔ اورجو اس كى ادائيگى میں تاخیر کرے وه گنہگار ہے، اُس پر توبہ لازم ہے۔ زکات نہ دینے والے سے حاكمِ اسلام زبر دستی بهى وصول كر سکتا ہے، زکات اسلام کا تیسرا رُکن ہے، جو ہجرت کے دوسرے سال فرض كيا گيا۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : حقوق العباد
زکات کس پر فرض ہے؟
زکات ہر اُس عاقل وبالغ مسلمان مرد وعورت پر فرض ہے، جو صاحبِ نصاب ہو، یعنی جس كے پاس ضروریاتِ زندگی وحاجاتِ اصليہ سے زائد، كم از كم ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باوَن تولہ چاندی، یا اس کے برابر نقدى (فى الحال تقريباً پينتالیس ہزار چوہتر 45۰74 روپے پاکستانی) يا مالِ تجارت ہو۔ اور جب اس نصاب پر مكمل ايك قمرى، یعنی چاند کے اعتبار سے سال گزر جائے، تب اُس مال پر ڈهائى فيصد، یعنی چالیسواں حصّہ زكات لازم ہوتى ہے۔
زكات کی ادائیگی كا حكم
اللہ تعالی نے مسلمانوں کو زكات کی ادائیگی کا حکم نماز سے متصل فرمایا: ﴿وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ﴾([2]) “نماز قائم رکھو، زکات ادا
كرو، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو! (یعنی نماز باجماعت ادا کیا کرو!)”۔
زکات امن وامان، مسکینوں، محتاجوں کی مدد وتعاوُن، اور غمزدوں کی دِل جُوئی، شہروں، وطنوں، عزّتوں کی حفاظت، اور اللہ ورسول کی رِضا کے حصول کا ايك اَہم ذریعہ ہے۔
رفيقانِ گرامى قدر! زکات کا اسلام میں بہت اعلیٰ اور عظیم مرتبہ ومقام ہے، اللہ تعالی اور اس کے حبيبِ كريم ﷺ نے کئی مقامات پر زکات کا ذکر نماز کے ساتھ فرمایا۔ مصطفى جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «اتَّقُوْا اللهَ رَبَّكُمْ، وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ، وَصُومُوا شَهْرَكُمْ، وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ، وَأَطِيعُوْا ذَا أَمْرِكُمْ، تَدْخُلُوْا جَنَّةَ رَبِّكُمْ!»([3]) “اپنے رب تعالی سے ڈرتے رہو! پنج وقتہ نماز قائم رکھو! رمضان کے روزے رکھو! اپنے مال کی زکات ادا کرو! اور حاکمِ اسلام وعالمِ دين كی اِطاعت کرو! تو اپنے رب تعالی کی جنّت میں داخل ہو جاؤ گے!”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :مزدوروں کے حقوق
زکات ادا کرنے کا فائده
رفيقانِ ملّتِ اسلاميہ! ديگر فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ، زکات دینے والے نیک مسلمانوں کو آخرت ميں نہ کچھ خوف ہوگا، اور نہ ہی کچھ رنج وغم، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ﴾([4]) “یقیناً وہ جو ایمان لائے اور اچّھے کام کيے، نماز قائم کی اور زکات ادا کى، اُن کا انعام اُن کے رب تعالی کے پاس ہے، نہ انہیں کچھ خوف ہوگا اور نہ کوئی غم!”۔
ایک اَور مقام پر زکات دینے والے مؤمن مسلمان کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے: ﴿وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ﴾([5]) “میری رحمت ہر چیز کا اِحاطہ کیے ہوئے ہے، تو عنقریب میں اپنی رحمت اُن کے لیے لکھ دوں گا، جو مجھ سے ڈرتے اور زکات دیتے ہیں، اور وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں!”۔
حضراتِ گرامى! صدقہ وزکات دینے سے مال میں اضافہ وبرکت ہوتی ہے، بلکہ یہ کام مال کے ضائع ہونے اور نقصان سے حفاظت وامان کا ذریعہ بنتا ہے، اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ﴿وَمَاۤ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ﴾([6]) “اللہ کی رضا چاہتے ہوئے جو تم خیرات دو، تو ايسے ہى لوگوں کے لیے دُگنا ہے”۔
میرے بھائیو! زکات ایک اہم دینی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ، دینِ اسلام کے ماننے والوں کی اجتماعی مشکلات کے حل کے لیے، ایک بہترین ومؤثِر کوشش بھی ہے، اور یہ پیاری کوشش محتاجوں کی مدد وتعاوُن کا ایک آسان طریقہ، اور اللہ B کی رضا کے حصول کا ایک آسان ذریعہ بھی ہے، ارشادِ خداوندی ہے: ﴿وَمَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ وَيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ﴾([7]) “ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ خالص اللہ ہی پر عقیدہ رکھتے ہوئے، ایک طرف کے ہو کر، اللہ تعالى کی بندگی کریں، نماز قائم کریں اور زکات ادا کریں، اور یہ سیدھا دِین ہے”۔
ایک مقام پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ اللهَ لَمْ يَفْرِضِ الزَّكَاةَ، إِلّا لِيُطَيِّبَ مَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ»([8]) “اللہ تعالی نے زکات کو اس لیے فرض فرمایا، کہ وہ تمہارے باقی مال کو پاک کر دے”۔
ہمارے آقا ومولا ﷺ مزید فرماتے ہیں: «مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ، فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ شَرُّهُ»([9]) “جس نے اپنے مال کی زکات ادا کر دی، اُس سے اُس مال
کا شر دُور ہو جاتا ہے”۔
امّ المؤمنین حضرت سيِّده عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہره سے روایت ہے، سرکارِ ابَدِ قرار ﷺ نے ارشاد فرمایا: «حَصِّنُوا أَمْوَالَكُمْ بِالزَّكَاةِ! وَدَاوُوا مَرْضَاكُمْ بِالصَّدَقَةِ!»([10]) “زکات ادا کرکے اپنے اموال محفوظ کر لو! اور صدَقات دے کر اپنے بیماروں کا علاج کیا کرو!”۔ یعنی صدقات وخیرات وزکات دینے سے مال میں کمی نہیں ہوتی، بلکہ اس كى حفاظت ہوتى ہے، نقصان سے بچ جاتا ہے، بلكہ اس میں مزید بركت واضافہ ہوتا ہے، اور مصیبت، بیماری، دُکھ، درد وتكلیف دُور ہوتے ہیں۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :رشتہ داروں کے حقوق
زکات ادا نہ كرنے کا وَبال
حضراتِ محترم! جو لوگ اپنے مال کی زکات ادا نہیں کرتے، ایسوں سے متعلق اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمايا: ﴿وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍۙ۰۰۳۴ يَّوْمَ يُحْمٰى عَلَيْهَا فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوْبُهُمْ وَظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ﴾([11]) “وہ لوگ جو سونا چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں، اور اُسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری سناؤ! جس دن وہ جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اُس سے اُن کی پیشانیاں اور کروَٹیں اورپیٹھیں داغیں گے، (اور کہیں گے:) یہ ہے وہ جو تم نے اپنے ليے جمع کر رکھا تھا، اب اس جمع كرنے کا مزا چکھو!”۔
عزیزانِ محترم! زکات ادا نہ كرنے والے کا مال، آخرت ميں بھیانک سانپ کی شکل اختیار کر کے اُسے ڈستا رہے گا۔ حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے، آقائے دوجہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ آتَاهُ اللهُ مَالاً فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعاً أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ، يُطَوِّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ! أَنَا كَنْزُكَ!» “جسے اللہ تعالی نے مال دیا اور اُس نے زکات ادا نہیں كی، اُس کا وہ مال قیامت کے دن گنجا سانپ بنا دیا جائے گا، جس کے سر پر دو کالے نشان ہوں گے، وہ سانپ اُس کے گلے میں طَوق بناکر ڈال دیا جائے گا، پھر وہ اُس کے دونوں جبڑے پکڑ کر کہے گا: میں تیرا مال ہوں! میں تیرا خزانہ ہوں!”۔
اس کے بعد رَحمتِ عالميان ﷺ نے سورۂ آل عمران کی آیت نمبر180 تلاوت فرمائی: ﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَيْرًا
لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَيُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ﴾([12]) “جو اُس چیز میں بخل کرتے ہیں، جو اللہ تعالی نے اُنہیں اپنے فضل سے عطا فرمائی، وه ہرگز اُسے اپنے ليے اچھا نہ سمجھیں، بلکہ وہ اُن کے لیے بُرا ہے، عنقریب جس میں بخل کیا، وه بروزِ قیامت اُن کے گلے کا طَوق ہوگا!”۔
عزیزانِ محترم! زکات کی ادائیگی نہ کرنا، دیگر خرابیوں کے ساتھ ساتھ، لوگوں کو بارش کی نعمت سے بھی محروم کرتا ہے۔ اس بارے میں اللہ کے حبیب جنابِ احمدِ مجتبىٰ ﷺ نے فرمایا: «وَلَمْ يَمْنَعُوا زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ، إِلَّا مُنِعُوا الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ»([13]) “جب لوگ زکات کی ادائیگی نہیں کرتے، تو اللہ تعالی بارش روک لیتا ہے”۔
رفیقانِ گرامی قدر! جو لوگ اپنے مال کی زکات ادا نہیں کرتے، وہ خود اپنا ہى نقصان کرتے ہیں، بروزِ قیامت اُن کو سخت نَدامت کا سامنا ہوگا، وہ لوگ عذابِ الہی میں گرفتار ہوں گے۔ حضرت سیِّدنا فاروقِ اعظم سے روایت ہے، مصطفى کریم ﷺ نے فرمایا: «ما تلفَ مالٌ في برٍّ ولا بحرٍ، إلّا بحبسِ الزّكاةِ»([14]) “بحر وبَر میں جو بهى مال ہلاك وبرباد ہوتا ہے، وہ زکات نہ دینے ہی کی وجہ سے ہوتا ہے”۔
زكات کی ادائیگی بھی جنّت میں جانے کا باعث ہے
حضراتِ گرامی قدر! ایک شخص نے نبئ کریم ﷺ کی باگاہِ بےکس پناہ میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسولَ اللہ! مجھے ایسا عمل بتائيے جو مجھے جنّت سے قریب، اور دوزخ سے دُور کر دے! نبئ اکرم ﷺ نے فرمایا: «تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِه شَيْئاً، وَتُقِيْمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ ذَا رَحِمِكَ»([15]) “صرف اللہ تعالی کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکات ادا کرو اور رشتہ داروں سے صِلہ رحمی کرو”۔ اس سے معلوم ہوا کہ زکات کی ادائیگی بھی جنّت میں جانے کا ذریعہ ہے، اور اس کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کا م لینا،یا بالکل نہ دینا، عذابِ الہی کا سبب ہے!۔
زکات کا حقدار کون ہے؟
عزیزانِ محترم! زکات کے مَصارف کو واضح فرماتے ہوئے، اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ﴿اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ١ؕ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ﴾([16]) “زکات تو انہی لوگوں کے ليے ہے، جو (1) محتاج (2) اور بالكل نادار ہوں، (3) اور وه جو اُسے لوگوں سے وصول کرکے لائیں، (4) اور وه غيرمسلم جن کے دل اسلام كى طرف مائل ہوں، (5) اور غلام آزاد کرانے میں، (6) اور قرضداروں کو، (7) اور اللہ کی راہ میں، (8) اور مسافر کو۔ یہ وه ہے جو اللہ تعالى نے مقرّر كيا ہے، اور اللہ علم وحکمت والا ہے!”۔
مفسّرینِ کِرام فرماتے ہیں کہ “نبئ کریم رؤف ورحیم ﷺ جب صدَقات تقسیم فرماتے، تو منافقین طرح طرح کے اعتراضات کرتے، اللہ تعالی نے صدَقات کے مستحقین کا ذکر فرما کر، معترضین کو ہمیشہ کے ليے خاموش فرما دیا، نیز ان مَصارف کو تفصیل سے بیان کر دینے میں ایک حکمت یہ بھی ہے، کہ شاید کسی وقت کوئی حاکم زکات کی آ مدنی كو بےجا صرف کرنے لگے، نیز زکات چونکہ شریعتِ اسلامیہ کا ایک اہم ترین رُکن ہے، اس ليے بھی اس کو وضاحت سے بیان کرنا ضروری تھا”([17])۔
اب زکات کے مَصارف سات7 ہیں
(۱) فقير: وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ ہو، مگر نہ اتنا کہ نصاب کو پہنچ جائے، یا نصاب کی قدر ہو تو اُس کی حاجتِ اصلیہ میں مستغرق (ڈوبا ہوا) ہو۔
(۲) مسکین: وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو، یہاں تک کہ کھانے اور بدن چھپانے کے لیے اِس کا محتاج ہے، کہ لوگوں سے سوال کرے (مانگے)، اور اسے سوال حلال ہے۔
(۳) عاملِ زكات: یہ وہ ہے جسے بادشاہِ اسلام نے زکات اور عُشر وصول کرنے کے لیے مقرّر کیا، اسے کام کے لحاظ سے اتنا دیا جائے کہ اسے اور اس کے مددگاروں کو متوسط طور پر کافی ہو۔
(۴) رقاب سے مراد مُکاتَب غلام (وہ جسے آقا ومالک نے لکھ دیا ہو، کہ اتنی رقم کی ادائیگی کے بعد تم آزاد ہو) کو دینا کہ اس مالِ زکات سے بدلِ کتابت ادا کرے، اور غلامی سے رہا ہو جائے۔
(۵) غارم سے مُراد مقروض ومديون ہے، یعنی جس پر اتنا قرض ہو کہ اُسے نکالنے کے بعد نصاب باقی نہ رہے، اگرچہ اس کا اَوروں پر باقی ہو، مگر لینے پر قادر نہ ہو۔
(۶) فی سبیل اﷲ: یعنی راہِ خدا میں خرچ کرنا۔ اس کی چند صورتیں ہیں، مثلاً کوئی شخص محتاج ہے کہ جہاد میں جانا چاہتا ہے، سواری اور زادِ راہ اُس کے پاس نہیں، تو اُسے مالِ زکات دے سکتے ہیں؛ کہ یہ راہِ خدا میں دینا ہے، اگرچہ وہ کمانے پر قادر ہو۔
یا کوئی حج کو جانا چاہتا ہے، اور اُس کے پاس مال نہیں، اُس کو زکات دے سکتے ہیں، مگر خود اسے حج کے لیے مانگنا جائز نہیں۔
یا طالبِ علم جو علمِ دین پڑھتا یا پڑھنا چاہتا ہے، اسے دے سکتے ہیں؛ کہ یہ بھی راہِ خدا میں دینا ہے، بلکہ طالبِ علم مانگ کر بھی مالِ زکات لے سکتا ہے، جبکہ اُس نے اپنے آپ کو اسی کام کے لیے فارغ کر رکھا ہو، اگرچہ کمانے پر قدرت ركھتا ہو۔
اسى طرح ہر نیک كام میں زکات صَرف کرنا فی سبیل اﷲ ہے، جبکہ بطور تملیک (یعنی مستحق کو مالک بنانا) ہو؛ کہ بغیر تملیک زکات ادا نہیں ہوسکتی۔
بہت سے لوگ مالِ زکات دینی مدارس میں دیتے ہیں، انہیں چاہیے کہ متولّئ مدرسہ کو اطلاع کریں کہ یہ مالِ زکات ہے؛ تاکہ متولّی اس مال کو جُدا رکھے، دیگر مال میں نہ ملائے، اور اس مال كو صرف غریب طلبہ پر صَرف کرے، کسی کام کی اُجرت میں نہ دے، ورنہ زکات ادا نہیں ہوگی۔
(۷) ابنِ سبیل، یعنی مسافر جس کے پاس مال نہ رہا، زکات لے سکتا ہے، اگرچہ اُس کے گھر مال موجود ہو، مگر اُسی قدر لے جس سے حاجت پوری ہو جائے، زیادہ کی اجازت نہیں([18])۔
چند مسائل واَحکامِ زكات
(1) زکات دینے والے کو یہ بھی جائز ہے، کہ وہ ان تمام اَقسام کے لوگوں کو زکات دے جنہیں دینا رَوا ہے، اور یہ بھی جائز ہے کہ ان میں سے کسی ایک ہی قسم کے لوگوں کو دے۔
(2) زکات انہی لوگوں کے ساتھ خاص کی گئی جن کا ابھی ذکر ہوا، لہذا ان کے علاوہ دیگر مَصارف میں زکات کا مال خرچ نہیں کیا جاسكتا، نہ كسى مسجد کی تعمیر میں، نہ مُردے کے کفن دفن میں، نہ اُس ميّت کے قرض کی ا دائیگی میں؛ کہ اب وہ اس مال کا مالک نہیں کیا جاسکتا، جبکہ زكات كی ادائیگی کے لیے مستحق کو مالک بنانا ضروری ہے۔
(٣) زکات بنی ہاشم (حضرت سیِّدنا علی وجعفر وعقیل اور حضرت سیِّدنا عبّاس وحارث بن عبد المطلب کی اولاد) اور غنی (مالدار) کو نہیں دی جائے گی، اور نہ ہی آدمی اپنی بیوی، اولاد اور ماں باپ کو زکات دے گا([19])۔
لہذا زکات کی فرضیت کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے، مذکورہ بالا مسائل پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ انتہائی سخت حاجت واجازتِ شرعیہ کے بغیر مالِ زکات کا حیلہ کرکے، کسی مسجد ومدرسہ کی تعمیر، یا اس کے متعلقین کی تنخواہوں، اور دیگر فلاحی، تنظیمی وذاتی کاموں میں صرف کرنا بالکل جائز نہیں؛ کہ اسلام کا عظیم فلاحی مقصد انہی مَصارف میں (جن کا بیان قرآن واحادیث اور اقوالِ فقہاء کے حوالے سے گزرا) خرچ کرکے، مُعاشرے سے غربت واِفلاس کو ختم کرنا، یا کم از کم اس میں کمی لانے کی بھرپور کوشش کرنا ہے، اور یہ بات صرف شریعتِ مطہَّرہ کے بیان کردہ، اصول وضوابط پر عمل ہی سے ممکن ہے۔ مزید معلومات اور پیش آمدہ مسائلِ زکات کے لیے، علمائے کرام سے رابطے میں رہنا، دین ودنیا کی عظیم بھلائی كا باعث ہے۔
([1]) “الدرّ المختار” كتاب الزكاة، 5/414-419.
([3]) “سنن الترمذي” أبواب الجمعة، باب منه، ر: ٦١٦، صـ١٥٨.
([8]) “سُنَن أبي داود” كتابُ الزكاة، بابُ في حقوق المال، ر: 1664، صـ٢٤٧.
([9]) “المعجم الأوسط” باب الألف، من اسمه أحمد، ر: ١٥٧٩، ١/٤٣1.
([10]) “المعجم الأوسط” باب الألف، من اسمه أحمد، ر: ١٩٦٣، ١/٥٣٢.
([12]) “صحيح البخاري” كتاب الزكاة، باب إثم مانع الزكاة، ر: ١٤٠٣، صـ٢٢٦.
([13]) “سنن ابن ماجه” كتاب الفتن، باب العقوبات، ر: 4019، صـ٦٨٢، ٦٨٣.
([14]) “مجمع الزوائد” كتاب الزكاة، باب فرض الزكاة، ر: ٤٣٣٥، ٣/١٥٠.
([15]) “صحيح مسلم” کتاب الإیمان، ر: ١٠٦، صـ٢٨.
([17]) “تفسير ضیاء القرآن” پ10، التوبۃ: 60، ٢/٢٢٢۔
([18]) “بہارِ شریعت” مالِ زكات كن لوگوں پر صرف کیا جائے، حصّہ5، 1/923-926 بتصرّف۔
([19]) “مدارك التنزيل” پ10، التوبة، تحت الآية: 60، 1/503، 504 ملتقطاً. و”التفسيرات الأحمديّة” صـ466-468 ملتقطاً بتصرف.