
Table of contents
- سائنس (Science) کیا ہے؟
- سائنسی نظریات سے متعلق طبقاتی تقسیم
- قرآنِ حکیم سائنس کی کتاب نہیں
- کائنات کے اَسرار ورُموز سے آگاہی
- تخلیقِ انسانی کا مرحلہ وار بیان
- چاند سورج کی اپنے اپنے مدار میں گردش
- زمین کے نہ ہلنے کی وجہ
- خَلا میں تیرتے سیاروں کے باہَم نہ ٹکرانے کی وجہ
- بادَل بننے، بارش برسنے اور اَولے پڑنے کی قرآنی توجیہ
- دنیا وآخرت میں کامیابی کی بنیادی کلید
- عجائباتِ دنیا میں غور وفکر کا حکم
- چند مسلم سائنسدان اور ان کی اِیجادات
- مسلم مُعاشرے میں علمی اِنحطاط … آخر کیوں؟
- ہمارے علمی وفکری اور سائنسی جُمود کے اَسباب
- خلاصۂ کلام
- دعا
سائنس (Science) کیا ہے؟
برادرانِ اسلام! سائنس (Science) لاطینی زبان کے لفظ (Scientia) سے مشتَق ہے، اس کا معنی ومفہوم غیر جانبداری سے حقائق کا اُن کی اصلی شکل میں باقاعدہ مطالعہ کرنا، اور اپنی عقل، مُشاہَدات اور تجربات کی روشنی میں کسی چیز کو جاننے کا طریقہ ہے([1])۔ اس کے نتائج کبھی بھی حتمی اور قطعی نہیں ہوتے، بلکہ یہ صرف اُس وقت تک کے حقائق ہوتے ہیں جب تک کوئی نئی دریافت (Discovery) نہ آ جائے۔ سائنسدان بھی اپنے علم کی یہی تعریف کرتے ہیں، اور اسے کبھی بھی حتمی اور قطعی قرار نہیں دیتے۔ لہذا بحیثیت مسلمان سب سے پہلے اس بات کو ذہن نشین کرنا، اور اُسے ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا نہایت ضروری ہے، کہ سائنس انسانی تجربات ومُشاہَدات کا نتیجہ ہے جو کہ محدود اور غیر قطعی ہوتاہے، اور اس ( سائنس) میں ہر لمحہ خطا اور تبدیلی کے ساتھ ساتھ ترقی کا اِمکان بھی باقی رہتا ہے، جبکہ قرآن پاک اللہ کا کلام ہے جو قطعی ہے، اس میں کوئی شک اور کسی تبدیلی کا اِمکان نہیں، البتہ ہمارے سمجھنے اور تاویل میں غلطی کا اِمکان ضرور رہتا ہے، لہذا سائنس اور قرآن کاکوئی تقابُل یا مُوازنہ ہو ہی نہیں سکتا، اور ایسا کرنا یقیناً بڑی خطا اور گمراہی کا سبب بنتا ہے!۔

اسلام میں سائنس کا تصوّر اور مسلم اِیجادات
:یہ بھی ضرور پڑھی
سائنسی نظریات سے متعلق طبقاتی تقسیم
عزیزانِ محترم! ہمارا مُعاشرہ سائنس (Science) سے متعلق تین3 مختلف طرح کے طبقات میں بٹا ہوا ہے: ایک طبقہ وہ ہے جو یکسر سائنس (Science) کو تسلیم نہیں کرتا، اور اسلام اور سائنسی نظریات کو باہم متصادِم جانتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو سائنس (Science) سے اس قدر مرعوب ہے، کہ تمام اسلامی تعلیمات کو کھینچ تان کر سائنس (Science) سےثابت کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ جبکہ تیسرا طبقہ وہ ہے جو سائنس (Science) کی صرف اُن توجہیات کو قبول کرتا ہے جو اسلام کے قطعی عقائد اور اَحکام سے متصادِم نہ ہوں، نیز سائنس کی وہ توجہیات جو اسلام کے قطعی عقائد و اَحکام سے متصادِم ہوں انہیں یکسر مسترد کر دیتا ہے۔ اوّلُ الذِکر دونوں طبقات اِفراط وتفریط کا شکار ہیں، جبکہ تیسرا طبقہ انتہائی معتدِل سوچ کا حامل ہے، اور ایک حقیقی مسلمان کی سوچ ایسی ہی ہونی چاہیے([2])۔
قرآنِ حکیم سائنس کی کتاب نہیں
حضراتِ گرامی قدر ! قرآنِ حکیم اور کسی سائنسی تحقیق میں باہم مُماثلت محض ایک اتفاق ہے، لہذا قرآنِ حکیم اور سائنس (Science) کا باہم مُوازنہ کرنے والوں کو یہ بات ہر گز نہیں بھولنی چاہیے، کہ قرآنِ پاک کوئی سائنسى کتاب (Scientific Book) نہیں، بلکہ وہ اللہ رب العالمین کی کتاب ہے۔ نیز قرآنِ پاک کی تعلیمات سے مُماثِل کوئی سائنسی نظریہ ممکن ہے چند سالوں بعد تبدیل ہو جائے، لیکن قرآنِ حکیم کی تعلیمات اور اس میں بیان کردہ عقائد ونظریات حتمی ہیں، اُن میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں، لہذا مسلمان کے نزدیک سائنس کے صرف انہی نظریات کو قبول کیا جائے گا جو دینِ اسلام کے مطابق ہوں، بصورتِ دیگر انہیں رَد کر دیا جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ فزکس (Physics) کے مشہور نوبل انعام یافتہ سائنسدان “البرٹ آئن سٹائن” (Albert Einstein) کا یہ مشہور قول کہ “سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے، اور مذہب سائنس کے بغیر اندھاہے”([3]) کُلّی طور پر ایک مسلمان کے لیے ہرگز قابلِ قبول نہیں؛ کیونکہ سائنس کی حُدود وقُیود متعین کرنے کے لیے مذہب کی ضرورت تو بہرصورت ہے، لیکن مذہب کو اپنی حقّانیت ثابت کرنے کے لیے سائنس کی ضرورت بھی نہیں”([4])۔
کائنات کے اَسرار ورُموز سے آگاہی
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! اللہ تعالی کی بنائی ہوئی یہ کائنات، بےشمار ولامحدود حقائق، مَعارِف اور عُلوم سے بھری ہوئی ہے، انسانی غور وفکر کے نتیجہ میں اس کے بعض رازوں سے پردہ اٹھ چکا ہے، اور بہتوں سے اٹھنا ابھی باقی ہے، اس بارے میں اللہ ربّ العالمین نے ارشاد فرمایا: ﴿سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ﴾([5]) “ابھی ہم انہیں دکھائیں گے اپنی نشانیاں دنیا بھر میں، اور خود ان کے آپے میں، یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ یقیناً وہ حق ہے، کیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں!”۔
تخلیقِ انسانی کا مرحلہ وار بیان
عزیزانِ مَن! قرآنِ حکیم میں انسانی تخلیق کو مرحلہ وار بیان کیا گیا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ١ؕ وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْـًٔا﴾([6]) “ہم نے تمہیں پیدا کیا مٹّی سے، پھر پانی کی بُوند سے، پھر خون کی پھٹک سے، پھر گوشت کی بوٹی سے، نقشہ بنی اور بے بنی؛ تاکہ ہم تمہارے لیے اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں، اور ہم ٹھہرائے رکھتے ہیں ماؤں کے پیٹ میں جسے چاہیں، ایک مقرّرہ میعاد تک، پھر تمہیں نکالتے ہیں ایک بچہ؛ پھر اس لیے کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو، اور تم میں سے کوئی پہلے ہی مر جاتا ہے، اور کوئی سب میں نکمّی عمر (بڑھاپے) تک ڈالا جاتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے” یعنی بڑھاپے کے باعث عقل وحواس جاتے رہتے ہیں۔
اس آیتِ مبارکہ میں تخلیقِ انسانی کو مرحلہ وار بیان کیا گیا ہے، جس کے بارے میں حضرت سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْماً، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسَلُ الْملَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكَتْبِ رِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ»([7]) “تم میں سے ہر شخص اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس40 دن رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن جمے ہوئے خون کی صورت میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں رہتا ہے، پھر فرشتے کو بھیجا جاتا ہے، وہ اس میں رُوح پُھونک دیتا ہے، پھر اسے چار4 کلمات لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے: (1) اس (شخص) کا رزق، (2) اس کی مدّتِ حیات، (3) اس کا عمل (4) اور اس کا بد بخت یا نیک بخت ہونا”۔
چاند سورج کی اپنے اپنے مدار میں گردش
حضراتِ گرامی قدر! سورج اور چاند اپنے اپنے مدار (Orbit) میں گردش کرتے ہیں، اللہ ربّ العالمین نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا: ﴿وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ﴾([8]) “وہی ہے جس نے رات دن بنائے اور سورج اور چاند، ہر ایک، ایک گھیرے (مَدار) میں پَیر (تیر) رہا ہے!”۔
گردشِ شمس وقمر کے بارے میں ایک اَور مقام پر مزید ارشاد فرمایا: ﴿وَسَخَّرَ لَكُمُ
الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآىِٕبَيْنِ١ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ﴾([9]) “تمہارے لیے سورج اور چاند مسخَّر کیے جو برابر چل رہے ہیں، اور تمہارے لیے رات اور دن کو مسخَّر کیا”۔
زمین کے نہ ہلنے کی وجہ
میرے محترم بھائیو! زمین ہمیں ہلتی ہوئی محسوس کیوں نہیں ہوتی؟ اور اس پر چلنے والا انسان گرتا کیوں نہیں؟ خالقِ کائنات A نے ارشاد فرمایا: ﴿وَجَعَلْنَا فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِهِمْ١۪ وَجَعَلْنَا فِيْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ﴾([10]) “زمین میں ہم نے لنگر ڈالے؛ تاکہ انہیں لے کر نہ کانپے، اور ہم نے اس میں کشادہ راہیں رکھیں؛ تاکہ کہیں وہ راہ پائیں!”۔
خَلا میں تیرتے سیاروں کے باہَم نہ ٹکرانے کی وجہ
حضراتِ ذی وقار! خَلا میں تیرتے ہوئے سیّارے اور چاند سورج باہَم ٹکراتے کیوں نہیں؟ اس کی توجیہ یہ ہے کہ سورج وچاند سمیت تمام سیارے اپنے اپنے مخصوص مَدار (Orbit) میں گردش کر رہے ہیں ، اور ایک سیّارہ اپنے مدار سے نکل کر دوسرے سیّارہ کے مدار میں داخل نہیں ہو سکتا، لہذا یہ سب آپس میں ٹکرانے سے محفوظ رہتے ہیں، اللہ تعالی نے سیّاروں کی اپنے اپنے مدار میں گردش کے بارے میں بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا: ﴿لَا الشَّمْسُ يَنْۢبَغِيْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَكُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ﴾([11]) “سورج کے لیے ممکن نہیں کہ چاند کو پکڑ لے، اور نہ ہی رات دن پر سبقت لے سکتی ہے، اور ہر ایک، ایک گھیرے (مدار) میں پَیر رہا ہے”۔
بادَل بننے، بارش برسنے اور اَولے پڑنے کی قرآنی توجیہ
جانِ برادر! بادَل کیسے بنتے ہیں؟ بارش کیسے برستی ہے؟اور اَولے کیسے پڑتے ہیں؟ اس بارے میں خالقِ کائنات A نے ارشاد فرمایا: ﴿اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُزْجِيْ سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهٗ ثُمَّ يَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِيْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَيُصِيْبُ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ وَيَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ يَّشَآءُ١ؕ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ يَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ۰۰۴۳ يُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِي الْاَبْصَارِ﴾([12]) “کیا تُو نے نہ دیکھا کہ اللہ نرم نرم چلاتا ہے بادَل کو، پھر انہیں آپس میں ملاتا ہے، پھر انہیں تہہ پر تہہ کر دیتا ہے، تو تُو دیکھے کہ اس کے بیچ میں سے بارش نکلتى ہے، اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو برف کے پہاڑ ہیں ان میں سے کچھ اَولے، پھر ڈالتا ہے انہیں جس پر چاہے، اور پھیر دیتا ہے انہیں جس سے چاہے، قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھ لے جائے! اللہ بدلی کرتا ہے رات اور دن کی، یقیناً اس میں نگاہ والوں (یعنی غور وفکر کرنے والوں) کو سمجھنے کا مقام ہے!”۔
میرے محترم بھائیو! مذکورہ بالا سطور میں کائنات سے متعلق اُن چند حقائق کو بیان کیا گیا جن کے متعلق سب سے پہلے قرآن ِ حکیم نے آگاہی وشُعور بخشا، اور بعد میں برسہا برس کی تحقیق اور ٹھوکریں کھانے کے بعدسائنس (Science) بھی اس کی تائید پر مجبور ہو گئی، لہذا اگر کبھی مستقبل میں کسی ایسی چیز سے متعلق سائنس کی تحقیق ایک بار پھر تبدیل ہو جائے جس کا حتمی اور یقینی بیان کلام اللہ شریف میں موجود ہے، اور وہ تحقیق قرآن وسنّت سے متصادِم ہو، تو ایسی سائنسی تحقیق کو کسی طَور پر قبول نہیں کیا جائے گا۔ البتہ جو سائنسی تحقیق اور کائنات میں غور وفکر، دائرہ شریعت میں رہتے ہوئے کیا جائے اُس کی مُمانعت ہر گز نہیں، بلکہ وہ مطلوب ومحمود ہے۔
دنیا وآخرت میں کامیابی کی بنیادی کلید
عزیزانِ محترم! دنیا وآخرت میں کامیابی کے لیے، کائنات میں غور وفکر، جُزوِ لازم اور بنیادی کلید (چابی) کی حیثیت رکھتا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّى﴾([13]) “کیا انہوں نے اپنے جی میں نہ سوچا، کہ اللہ تعالی نے پیدا نہ کیے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، مگر حق اور ایک مقرّرہ میعاد سے”۔
عجائباتِ دنیا میں غور وفکر کا حکم
حضراتِ گرامی قدر! اللہ تعالی نے اپنی قدرت کے نظارے دیکھنے، اور عجائباتِ دنیا میں غور وفکر کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ﴿قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ يُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ﴾([14]) “تم فرماؤ کہ زمین میں سفر کر کے دیکھو! اللہ کیسے پہلے بناتا ہے، پھر اللہ دوسری اٹھان اٹھاتا ہے (یعنی دوبارہ زندگی دیتا ہے)، یقیناً اللہ سب کچھ کر سکتا ہے!”۔
چند مسلم سائنسدان اور ان کی اِیجادات
عزیزانِ محترم! ایک وقت تھا جب مسلمان علمی وفکری میدان میں سب سے آگے تھے، مسلمانوں کو علوم وفنون اور سائنسی تجربات کا کس قدر شَوق تھا، اس کا اندازہ اس بات سے خوب لگایا جا سکتا ہے، کہ دنیاکی تاریخ میں سب سے پہلے قائم ہونے والی درسگاہیں مسلمانوں نے بنائیں، اسلام پھیل جانے کے بعد انہی جامعات سے مسلم علمائے کرام، ماہر وحاذِق اَطباء، مفکرین، اور ایسے سائنسدان نکلے جنہوں نے علمی وفکری میدان میں نہ صرف مسلمانوں کا لوہا منوایا، بلکہ اقوامِ عالَم کی سہولت، اور انسانیت کی خدمت کے پیشِ نظر بڑی اہم اِیجادات بھی کیں، اور علمی وتحقیقی مقالے (Theses) اور کتابیں بھی تحریر کیں!۔
(1) جابر بن حیّان
حضراتِ ذی وقار! عالَمی شہرت یافتہ سائنسدانوں میں جابر بن حیّان کے نام سے کون واقف نہیں! وہ ایک عظیم مسلم سائنسدان تھے، انہیں بابائے کیمسٹری (Father Of Chemistry) بھی کہا جاتا ہے، مشرِق سے مغرب تک ہر مسلم وغیرمسلم سائنسدان اُن کی خدمات کا اعتراف کرتا ہے، انہوں نے آکسیڈیشن (Oxidation)، بُخارات (Evaporation)، عملِ کشید (یعنی مائع کو بُخارات میں تبدیل کرنے، اور بُخارات کو مائع میں تبدیل کرنے) جیسے کیمیا (Alchemy) کے بنیادی عوامل سے متعلق تحقیق، اور گندھک کے تیزاب (Sulfuric Acid) جیسی اہم اِیجادات کیں([15])۔
(2) عبد المالک اصمعی
عزیزانِ مَن! عبد المالک اصمعی ایک ناموَر مسلم سائنسدان اور ادیب تھے، علمِ حیاتیات (Biology) اور علم ِحیوانات (Zoology) میں انہیں کمال مہارت تھی، انہوں نے علمِ حیوانات پر پانچ5 کتابیں تحریر کر کے سائنسی معلومات کے ذخیرہ میں گرانقدر اِضافہ کیا، ان کتابوں کے نام یہ ہیں: (1) کتاب الخیل (گھوڑا) (2) کتاب الاِبل (اونٹ) (3) کتاب الشاۃ (بھیڑ بکریاں) (4) کتا ب الوُحوش (جنگلی درندے) (5) اور خلق الانسان (تخلیقِ انسانی)۔ اہلِ مغرب عبد المالک اصمعی کی ان تصانیف کو زولوجیکل سائنس (Zoological Science) میں ایک اہم پیش رَفت تسلیم کرتے ہیں([16])۔
(3) ابو القاسم زَہراوی
حضراتِ ذی وقار! ابو القاسم زَہراوی اَندلُس (اسپین) سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور مسلم سائنسدان گزرے ہیں، انہوں نے دو سو200 سے زائد سرجری کے آلات (Surgical Instruments) اِیجاد کیے، یورپ سمیت دنیا بھر میں سرجری کے لیے جو آلات استعمال کیے جاتے ہیں، وہ کم وبیش آج بھی وہی ہیں، جو ابو القاسم زَہراوی کے اِیجاد کردہ ہیں([17])۔
(4) ابنِ سینا
میرے محترم بھائیو! ابنِ سینا (Ibn-e-Sina) فزکس (Physics) کا ماہر، وہ پہلا شخص تھا جس نے یہ کہا کہ روشنی کی رفتار لامحدود نہیں، بلکہ اس کی ایک معیّن رفتار ہے، اس نے زہرہ سیّارے (Venus Planets) کو بغیر کسی آلہ کے اپنی آنکھ سے دیکھا تھا، اس نے سب سے پہلے آنکھ کی فزیالوجی (Physiology) اور اناٹومی (Anatomy) بیان کی، اس نے آنکھ کے اندر موجود تمام رگوں اور پٹھوں کو تفصیل سے بیان کیا، اس نے یہ بھی بتایا کہ سمندر میں پتھر کیسے بنتے ہیں، اور سمندر کے مُردہ جانوروں کی ہڈیاں پتھروں کی شکل کیسے اختیار کر لیتی ہیں؟([18])۔
(5) عطارُد الکاتب
حضراتِ محترم! عطارُد الکاتب کا نام بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں، انہوں نے علمِ مَعدنیات (Metallurgy) کو اپنی تحقیقات کا مرکز بنایا، پتھروں کی ماہیت معلوم کی، ان کے اثرات اور خصوصیات کا پتہ لگایا، ان کی طاقت اور قوّت کی جانچ کی، اور ان کی شناخت کے طریقے بتائے([19])۔
(6) ابو بکر محمد بن زکریا رازی
عزیزانِ محترم! اپنے وقت کے عظیم طبیب (Doctor) اور سائنسدان ابوبکر محمد بن زکریا رازی نے، جراثیم (Germs) اور انفیکشن (Infection) کے مابین تعلق معلوم کیا، جو میڈیکل ہسٹری (Medical History) میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے علاوہ ایتھانول (Ethanol) اور الکوحل (Alcohol) جیسی اہم اِیجادات بھی انہی کی مرہونِ منت ہیں([20])۔
(7) ابن الہیثم
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! علمِ بصریات (Optics) میں دنیا کی سب سے اہم اور جامع تصنیف “کتاب المَناظر” مسلم سائنسدان ابن الہیثم (Ibn al-Haytham) نے تحریر کی، انہوں نے آتشی شیشے (Burning Glass) اور کُرَوی عَدَسے ((Spherical Lens بنائے، لینس (Lens) یا عَدَسوں کو بڑا کرنے کی صلاحیت کی تشریح کی، عَدَسوں سے متعلق آپ کی تحقیق کی بنیاد پر یورپ میں مائیکرو سکوپ (Micro Scope) اور ٹیلی سکوپ (Tele Scope) کی اِیجاد ممکن ہوئی([21])۔
دنیا کا سب سے پہلا پِن ہول کیمرہ (Pin Hole Camera) بھی انہی کی ایجاد ہے، اس سلسلے میں انہوں نے اپنی تحقیق پیش کرتے ہوئے کہا، کہ روشنی جس سوراخ سے تاریک کمرے میں داخل ہوتی ہے، وہ سوراخ جتنا چھوٹا ہوگا، تصویر (Picture) بھی اتنی ہی عمدہ بنے گی۔ اسی طرح دنیا کا سب سے پہلا کیمرہ آبسکیورہ (Camera Obscura) بھی مسلم سائنسدان ابن الہیثم ہی کی اِیجاد ہے([22])۔
(8) عباس ابنِ فرناس
حضراتِ گرامی قدر! عباس ابنِ فرناس اسپین کے ناموَر مسلم سائنسداں تھے، انہوں نے دنیا کا سب سے پہلا پلینی ٹیریم (Planetarium) قُرطبہ میں نویں صدی عیسوی میں بنایا، یہ شیشے کا تھا، انہوں نے اس میں آسمان کی پروجیکشن (Projection) اس طور سے کی کہ ستاروں، سیّاروں، کہکشاؤں کے علاوہ، بجلی اور بادَلوں کی کڑک بھی سنائی دیتی تھی([23])۔
(9) محمد بن موسیٰ خوارزمی
میرے عزیز دوستو! الجبرا (Algebra) پر دنیا کی پہلی کتاب “الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلۃ” مشہور عراقی سائنس داں محمد بن موسیٰ خوارزمی نے لکھی، انہوں نے اس کتاب میں 1 سے 9 اور صِفر کے اَعداد بھی پیش کیے، اس سے پہلے لوگ ہَندسوں کے بجائے حروف کا استعمال کرتے تھے([24])۔ مذکورہ بالا کتاب انگریزی میں”The Compendious Book on Calculation by Completion and Balancing” کے نام سے معروف ہے!۔
(10) ابو اِسحاق زرقالی
برادرانِ اسلام! ابو اِسحاق زرقالی اَندلُس کے مانے ہوئے اسٹرونامیکل آبزَروَر (Astronomical Observer) تھے، انہوں نے ایک خاص اُصطرلاب (Astrolabe) “الصفیحہ” کے نام سے بنایا، جس سے سورج کی حرکت کا مشاہَدہ کیا جا سکتا تھا، انہوں نے اس اُصطرلاب (Astrolabe) پر ایک آپر یٹنگ مینوئیل (Operating Manual) بھی تحریر کیا، جس میں اس سائنسی حقیقت کا انکشاف کیا، کہ آسمانی کُرے بَیضوی مدار (Elliptical Orbit) میں گردش کرتے ہیں، یہی اعتراف صدیوں بعد غیر مسلم سائنسدان کیپلر (Kepler) نے بھی کیا([25])۔
(11) الجرازی
جانِ برادر! مسلم انجینئر الجرازی کا شمار بھی مسلم سائنسدانوں میں ہوتا ہے، انہوں نے شافٹ (Shaft) نامی ایک ایسی ڈیوائس (Device) تیار کی، جسے جدید عہد کی مشینری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، یہ اِیجاد انسانی تاریخ کی اہم ترین مکینیکل اِیجادات (Mechanical Inventions) میں سے ایک ہے، اس کے ذریعے پانی کو کنویں کی تہہ سے اوپر لایا جاتا ہے، والوز (Valves) اور پسٹن (Pistons) بھی الجزاری ہی کی ایجاد ہیں، انہیں روبوٹکس کا بانی (Founder of Robotics) بھی قرار دیا جاتا ہے([26])۔
(12) حسن الرماہ
حضراتِ گرامی قدر! حسن الرماہ ملکِ شام کے ناموَر مسلم سائنسدان تھے، انہوں نے ملٹری ٹیکنالوجی (Military Technology) پر 1280ء میں ایک شاندار کتاب لکھی، اس کتاب میں انہوں نے راکٹ (Rocket) کا ڈائی گرام (Diagram) بھی پیش کیا، اس راکٹ کا ماڈل امریکہ کے نیشنل ائیر اینڈ سپیس میوزیم (National Air and Space Museum) واشنگٹن (Washington) میں موجود ہے، مزید برآں یہ کہ اس کتاب میں گن پاؤڈر (Gun Powder) بنانے کے اَجزائے ترکیبی بھی دیے گئے ہیں([27])۔
میرے محترم بھائیو! مسلم سائنسدانوں اور اُن کی سائنسی خدمات کی فہرست اس قدر طویل ہے، کہ اُن سب کا اِحاطہ اس مختصر سی تحریر میں ممکن نہیں، چند سائنسدانوں اور اُن کی اِیجادات بھی صرف اس نقطۂ نظر سے ذکر کی گئی ہیں، کہ ہم احساس کرتے ہوئے اپنے علمی وفکری جُمود کو ختم کریں، اور اس میدان میں دیگر اَقوام سے آگے بڑھ کر ملک، ملّت اور انسانیت کی بھرپور خدمت انجام دیں!۔
مسلم مُعاشرے میں علمی اِنحطاط …آخر کیوں؟
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! اگر اَقوامِ عالَم پر نظر ڈالیں تو آپ پر یہ افسوسناک حقیقت آشکار ہو گی، کہ مسلمان مسلسل علمی اِنحطاط کا شکار ہو رہے ہیں، تعلیمی حوالے سے عالمی رینکنگ (International Ranking) میں ہم روز بروز نیچے جا رہے ہیں، اور ستم بالائے ستم یہ کہ ہماری اکثریت نے کبھی یہ سوچنے کی بھی زحمت گوارہ نہیں کی، کہ آخر مسلم مُعاشرے پر ہی علمی وفکری جُمود کیوں طاری ہے؟ ہمارے مُعاملات ہی دن بدن کیوں اُلجھ رہے ہیں؟ اور اسلامی دنیا کا علمی اِنحطاط اور فکری جُمود آخر کب ختم ہوگا؟!
ہمارے علمی وفکری اور سائنسی جُمود کے اَسباب
حضراتِ گرامی قدر! جب ہم اپنے علمی وفکری اور سائنسی جُمود پر غور کرتے ہیں، تو اس کے متعدِد اَسباب سامنے آتے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:
(1) ترکِ قرآن
برادرانِ اسلام! مسلمانوں پر علمی وفکری اور سائنسی جُمود طاری ہونے کی ایک بڑی وجہ، قرآنِ حکیم سے ہماری لاتعلقی ہے، قرآنِ کریم ہمیں کائنات کے اَسرار ورُموز سمجھنے، اور حقائق، مَعارِف اور عُلوم کو جاننے میں ہماری رَہنمائی فرماتا ہے؛ كيونکہ قرآن کریم میں ہر خشک وتر چیز کا بیان ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿ وَلَا رَطْبٍ وَّ لَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ﴾([28]) “ہر تَر اور خشک چیز کا بیان قرآنِ کریم میں موجود ہے!”۔
حضرت ابو بکر بن مُجاہد رحمۃُ اللہ علیہ نے ایک روز فرمایا، کہ دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جو کتابُ اللہ میں مذکور نہ ہو، اس پر کسی نے اُن سے کہا کہ مسافر خانوں کا کہاں ذکر ہے؟ آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس آیتِ مبارکہ میں: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْہَا مَتَاعٌ لَّکُمْ﴾([29]) “اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ اُن گھروں میں جاؤ جو خاص کسی کی سکونت کے لیے نہیں، اور ان کے برتنے کا تمہیں اختیار ہے!”([30])۔
حضراتِ محترم! قرآنِ کریم ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، مگر ہماری بد قسمتی یہ کہ ہم نے اسے رَہنمائی کا ذریعہ بنانے کے بجائے، صرف حُصولِ برکت کا ذریعہ سمجھ لیا ہے! اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قرآنِ مجید کو دیکھنا، چُھونا اور اس کی تلاوت کرنا خیر وبرکت کا مُوجِب ہے، لیکن اس آخری آسمانی کتاب کے نُزول کا صرف یہی ایک مقصود مراد نہیں! بلکہ ہمیں اس پاک کلام سے ہدایت ورَہنمائی حاصل کرنے، اور اس کی مدد سے کائنات میں غور وفکر کر کے، اپنی دنیا وآخرت کو بہتر بنانے کی ترغیب دی گئی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ﴾([31]) “لوگوں کے لیے ہدایت اور رَہنمائی اور فیصلے کی روشن باتیں ہیں!”۔
قرآنِ حکیم وہ کلامِ مقدّس ہے جو لوگوں کو سیدھی راہ دکھاتا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ هِيَ اَقْوَمُ﴾([32]) “یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی راه ہے!”۔
ایک اَور مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ﴾([33]) “یقیناً ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان فرمائی؛ تاکہ کسی طرح انہیں دھیان (توجّہ) ہو!”۔ ؏
| درسِ قرآں اگر ہم نے بُھلایا نہ ہوتا |
| یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا! |
(2) علم وتحقیق سے دُوری اور عدم دلچسپی
عزیزانِ مَن! مسلمانوں کے علمی، سائنسی اور فکری جُمود کا ایک بڑا سبب، ان کی علم وتحقیق سے دُوری اور عدم دلچسپی بھی ہے، ہماری نوجوان نسل آج علم وتحقیق اور مطالعۂ کتب کے ذَوق سے ناآشنا ہو چکی ہے، ان کا زیادہ تر وقت انٹرنیٹ (Internet) پر فلمیں ڈرامے دیکھنے، موبائل فون (Mobile Phone) پر سوشل میڈیا (Social Media) کے استعمال، گیمز (Games) اور یار دوستوں کے ساتھ طویل گپ شپ میں ضائع ہوتا ہے، غیر نصابی کتابیں پڑھنے میں ان کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے، تعلیمی اداروں کی لائبریریاں ویران نظر آتی ہیں، گرانقدر سائنسی اِیجادات کا سلسلہ ایک عرصہ سے دیکھنے کو نہیں ملا! ہماری یونیورسٹیوں (Universities) میں سائنسی ریسرچ پیپرز (Scientific Research Papers) تیار کرنے، اور انہیں شائع کرنے کا بھی کوئی اہتمام نظر نہیں آتا! عالَمِ اسلام کو عالمی سطح پر درپیش چیلنجز (Challenges) کے مقابلے کی تیاری، مسلم قوم کی مسلسل تنزّلی کے اسباب جاننے، اور نوجوان نسل کی ذہن سازی کے لیے کوئی ادارہ یا تھنک ٹینک (Think tank) بھی موجود نہیں، شاید یہی وہ عوامل ہیں جن کے باعث آج اُمّتِ مسلمہ کے نوجوانوں پر سائنسی وفکری جُمود طاری ہے۔
میرے محترم بھائیو! اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ کسی بھی قوم کے رُوحانی وفکری اِرتقاء میں، علم وتحقیق کا انتہائی عمل دخل ہوتا ہے، اورعلم وتحقیق کا سب سے اہم ذریعہ مطالعۂ کتب ہے؛ کہ وسیع ودقیق مطالعہ کے بغیر انسان کا ذہن اِدراک کی بلندیوں کو نہیں چُھو سکتا، اور حق بات کو پہچان نہیں سکتا، لہذا اپنے اندر ذَوقِ مُطالعہ، علم کی جستجو اور تحقیق کی لگن پیدا کریں، اورفکری جُمود کے اس خود ساختہ خول سے باہر تشریف لائیں!۔
ورنہ یاد رکھیے! جس مُعاشرہ سے علم وتحقیق کا ذَوق اور دلچسپی ختم ہو جائے، وہاں علم کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں، پھر مغلوبیت ان کا مقدَّر ٹھہرتی ہے، آج اُمّتِ مسلمہ کا زَوال اس کی واضح مثال ہے! چھ سو600 سال تک بغداد علم وادب کا گہوارہ رہا، لیکن سقوطِ بغداد کے وقت مسلمانوں کے عظیم کتب خانے دریائے فُرات میں بہا دیے گئے، پندرہویں صدی ہجری میں سقوطِ اَندلس کے بعد غَرناطہ کی سب سے بڑی لائبریری کو بھی نذرِ آتش کردیا گیا، یہ وہ دَور تھا جب مسلمان مطالعہ اور کتب جمع کرنے کا ذوق وشوق رکھتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ ہم علم وتحقیق کی چاشنی سے محروم ہوتے گئے، اور یوں ذِلّت ورُسوائی ہمارا مقدَّر بن گئی!۔؏
| کیا سناتا ہے مجھے تُرک وعرب کی داستاں |
| مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز وساز! |
| لے گئے تثلیث کے فرزند میراثِ خلیل |
| خشتِ بنیادِ کلیسا بن گئی خاکِ حجاز! |
| ہو گئی رُسوا زمانے میں کُلاہِ لالہ رنگ |
| جو سراپا ناز تھے، ہیں آج مجبورِ نیاز!([34]) |
(3) قیادت ورَہنمائی کا فقدان
حضراتِ گرامی قدر! سائنسی وفکری جُمود کا ایک سبب اُمتِ مسلمہ میں قیادت ورَہنمائی کا فقدان بھی ہے، نہایت افسو س سے کہنا پڑتا ہے کہ دَورِ صحابہ کے بعد اُمتِ مسلمہ قیادت کے اس تصوّر سے محروم ہو گئی، جو تصوّرِ قیادت کتاب وسنّت نے دیا تھا، اگرچہ تاریخ کے مختلف اَدوار میں مختلف علاقوں یا مسلم ممالک میں ناموَر قیادتیں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہیں، لیکن ان میں اکثریت کی اَساس (بنیاد) خاندانی اقتدار پر تھی، ایسی قیادتوں کا اَلَمیہ یہ رہاکہ کچھ قیادتیں اس خیال سے رِعایا کی فلاح کے کام کرتی رہیں کہ اگر رِعایا خوشحال ہوگی، تو ہماری خاندانی قیادت کے لیے کوئی چیلنج (Challenge) درپیش نہیں ہوگا، اور کچھ دوسری قیادتیں رِعایا کو علمی ومُعاشی طور پر نچلے درجے پر رکھنے کی پالیسی (Policy) پر گامزَن رہیں؛ تا کہ کسی میں اتنا حَوصلہ پیدا نہ ہو کہ ہماری قیادت کو چیلنج کر سکے، یہی وجہ ہے کہ مسلم دنیا نے جب تغیّرات اور عالمگیر تبدیلیوں سے بھرپور بیسویں صدی میں قدم رکھا، تو اُن کے پاس اپنے شاندار ماضی پر فخر کے سوا شاید کچھ بھی نہ تھا!”([35])۔ لہذا ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ہم اچھی طرح دیکھ بھال کر اپنے قائد، رَہنما اور حکمرانوں کا انتخاب کریں، اور کسی ایسے شخص کو اپنا قائد منتخب نہ کریں جو قیادت کے لیے نا مناسب ہو!۔
(4) غیر معیاری درسگاہیں اور نظامِ تعلیم
جانِ برادر! غیر معیاری درسگاہیں اور نظامِ تعلیم بھی مسلمانوں کے علمی وفکری اور سائنسی جُمود کا ایک بڑا اہم سبب ہے، بد قسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم کو ایک کاروباری ذریعہ بنا لیا گیا ہے! ہر نجی اسکول (Private School)، کالج (College) اور جامعہ (University) کا اپنا اپنا نصاب اور ترجیحات ہیں، تعلیم کے نام پر قائم ہونے والی ان درسگاہوں میں، ماسوائے تعلیم، ناچ گانے، اپنی تہذیب سے متنفر کرنے، اور مغربی ثقافت (Western Culture) کا دِلدادہ بنانے کے لیے قوم کے بچوں اور نوجوانوں کا برین واش (Brainwash) کیا جا رہا ہے!۔
ہمارے ہاں غیر معیاری درسگاہوں اور تعلیمی زَبوں حالی کا یہ عالَم ہے، کہ پورے عالمِ اسلام کے پاس عالمی معیار کی ایک بھی یو نیورسٹی (University) نہیں، جامعات تو کئی ہیں لیکن ان میں ہاروَرڈ (Harvard) آکسفورڈ (Oxford) اسٹینفورڈ (Stanford) یا اُس جیسی دوسری یونیورسٹیوں (Universities) کا مقابلہ تو درکنار، ان کے معیار پر پچاس50 فیصد پورا اُترنے کی بھی ہمارے پاس صلاحیت ہے نہ اہلیت! بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ سارے عالمِ اسلام میں ایک خوفناک
قسم کا علمی جُمود طاری ہو چکا ہے!([36])۔
خلاصۂ کلام
میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! اپنے اَسلاف کے شاند ار ماضی کو پیشِ نظر رکھیں، اپنے قلب وذہن پر طاری اس علمی وفکری جُمود کو ختم کریں، اپنے اندر علم کی جستجو اور تحقیق ومُطالعہ کی لگن پیدا کریں، جو نوجوان ابھی طالبِ علم ہیں وہ اپنے اپنے مضامین کو دلچسپی سے پڑھیں، ان میں غَور وفکر کر کے تحقیقی مقالے (Research Papers) تیار کریں، سائنس میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ دائرۂ شریعت میں رہتے ہوے تھیوری (Theory) کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل (Practical) پربھی خاص توجہ دیں، اور نت نئی اِیجادات کے ذریعے انسانیت کی خدمت کر کے عالَمِ اسلام کا نام روشن کریں! ؏
| ہزار چشمہ ترے سنگِ راہ سے پُھوٹے |
| خودی میں ڈوب کے ضربِ کلیم پیدا کر!([37]) |
البتہ سائنسی عُلوم حاصل کرتے وقت اتنا ضرور یاد رکھیں کہ بحیثیت مسلمان، سائنس کی صرف وہی توجہیات اور تھیوری (Theory) ہمارے لیے قابلِ قبول ہیں، جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ومُوافق ہوں، اور کسی صورت اسلام کے قطعی عقائد و اَحکام سے متصادِم نہ ہوں، اگر کوئی سائنسی تھیوری (Theory) یا تحقیق (Research) اسلامی تعلیمات سے مُطابقت نہ رکھتی ہو، تو اُسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا؛ کیونکہ اسلام ایک اِلہامی دِین ہے، اس کا دستور قرآنِ مجید کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے، یہ دستور اللہ خالق ومالک کی طرف سے ہمیں عطا کیا گیا ہے، لہذا اس میں کسی قسم کی غلطی کی گنجائش نہیں۔ جبکہ سائنسی تھیوری (Theory) انسانی سوچ اور فکر کا نتیجہ ہوتی ہے، اس میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں رُونما ہوتی رہتی ہیں، اور اس میں ہمیشہ غلطی کی گنجائش بدرجۂ اَتم موجود رہتی ہے، اور اس گنجائش کا ہونا ہی سائنس کی خوبی اور ترقی کے نئے سے نئے دروازے کھولتا ہے([38])۔
دعا
اےاللہ! ہمیں حصولِ علم کا جذبہ عطا فرما، پڑھ لکھ کر دينِ اسلام کی خدمت کی توفیق عطا فرما، سائنسی علوم سیکھ کر انسانیت کے لیے کچھ اچھا کرنے کی سوچ عطا فرما، قومِ مسلم کا سر فخر سے بلند کرنے والی لگن عطا فرما، اور سائنسی اِیجادات کے مُعاملے میں ہمیں اَغیار کی محتاجی سے بچا!۔
اےاللہ! اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے وسیلۂ جلیلہ سے ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سُستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی اور چھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!۔
اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی اور کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان، مال، عزّت، آبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “سائنس کیا ہے؟”سائنس، 7، ملخصاً۔
([2]) دیکھیے: “اسلام میں سائنس کا تصور اور مسلم اِیجادات”واعظ الجمعہ 10 ستمبر 2021ء۔
([3])دیکھیے: “قرآن اور جدید سائنس” آزاد دائرۃ المعارف وکیپیڈیا۔
([4]) دیکھیے: “اسلام میں سائنس کا تصوّر اور مسلم اِیجادات”واعظ الجمعہ 10 ستمبر 2021ء۔
([7]) “صحيح مسلم” كتاب القدر، ر: 6723، صـ1151.
([15]) “ناموَر مسلم سائنسدان” باب 2، جابر بن حیان، 74- 82، ملخصاً۔
([16]) “مسلمان سائنسدان اور ان کی خدمات” عبد المالک اصمعی، علمی خدمات اور کارنامے، 28۔
([17]) دیکھیے: “مسلمان سائنسدانوں کی اِیجادات” دنیا نیوز ڈیجیٹل ایڈیشن، 8 ستمبر 2018ء۔ و”ناموَر مسلم سائنسدان” باب 26، ابو القاسم زَہراوی، 223- 226، ملخصاً۔
([18]) دیکھیے: “مسلمان سائنسدانوں کی اِیجادات” دنیا نیوز ڈیجیٹل ایڈیشن، 8 ستمبر 2018ء۔
([19]) “مسلمان سائنسدان اور ان کی خدمات” عطارُد الکاتب، علمی خدمات اور کارنامے، 30۔
([20]) دیکھیے: “مسلمان سائنسدانوں کی اِیجادات” دنیا نیوز ڈیجیٹل ایڈیشن، 8 ستمبر 2018ء۔
([21]) دیکھیے: “مسلمان سائنسدانوں کی اِیجادات” دنیا نیوز ڈیجیٹل ایڈیشن، 8 ستمبر 2018ء، ملتقطاً۔ و”ناموَر مسلم سائنسدان” باب 28، ابن الہیثم،232- 239، ملتقطاً۔
([22]) “مسلمان سائنسدانوں کی چند اہم دریافتیں اور اِیجادات، ایک جائزہ” 12 اپریل 2019ء۔
([25]) “ناموَر مسلم سائنسدان” باب 25، الزرقالی،221، 222، ملخصاً۔
([26]) “مسلم سائنسدانوں کی رَوشن اِیجادات” ڈان نیوز ڈیجیٹل ایڈیشن۔
([27]) “مسلمان سائنسدانوں کی چند اہم دریافتیں اور اِیجادات، ایک جائزہ” 12 اپریل 2019ء۔
([30]) “الإتقان” النوع ٦٥ في العلوم المستنبطة من القرآن، 2/٢٤٥.
([34]) “کلیاتِ اقبال”بانگِ درا، دنیائے اسلام، حصّہ سوم، 290، 291۔
([35]) دیکھیے: “امتِ مسلمہ کا فکری جُمود، اَسباب واثرات” ڈیجیٹل ایڈیشن، مکالمہ اپریل 2018ء۔
([36]) دیکھیے: “مسلم دنیا کا جُمود” روز نامہ ڈان ڈیجیٹل ایڈیشن، 27 جون 2013ء۔
([37]) “کلیاتِ اقبال”ضربِ کلیم، 500۔
([38]) دیکھیے: “اسلام میں سائنس کا تصور اور مسلم اِیجادات”واعظ الجمعہ 10 ستمبر 2021ء۔