
Table of contents
عزیزانِ گرامی قدر! اسلام نے ہمارے مُعاشرے میں بچوں کو بھی وہی مقام دیا ہے، جو بنی نَوع انسان کے دیگر طبقات کو حاصل ہے، سروَرِ کونین ﷺ نے بچوں کے ساتھ جو شفقت ومحبت بھرا سُلوک اختیار فرمایا، وہ مُعاشرے میں بچوں کے مقام ومرتبہ کا عکّاس بھی ہے اور ہمارے لیے مشعلِ راہ بھی، بچوں کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اسلام نے بچوں کے حقوق کی پاسداری اُن کی پیدائش کے بھی پہلے سے کر رکھی ہے، لہذا ہمیں حکم دیا کہ ان بچوں کے لیے جس ماں کا انتخاب کیا جائے وہ نیک ہو، شریف گھرانے سے ہو، پاکدامن وعمدہ سیرت والی ہو، مزید یہ کہ اسلام نے بچوں کے حقوق میں نفقہ، وصیّت، وراثت اور وقف کے اَحکام بھی شامل کیے، بچوں کے حقوق کا اتنا جامع اِحاطہ کہ ان کی پیدائش سے بھی پہلے اُن کے حقوق کی ضمانت فراہم کردی، اسلام کے سِوا دنیا کے کسی نظامِ قانون میں اس کی نظیر نہیں ملتی، اسلام نے دیگر افرادِ معاشرہ کی طرح بچوں کے حقوق کو بھی پوری تفصیل سے بیان کیا ہے، اسلام سے پہلے لوگ جب اپنی اولاد کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالتے تھے، تو دینِ اسلام ہی ہے جس نے اس قبیح رسم کا خاتمہ کرنے کی بنیاد ڈالی، ایسا کرنے والوں کو عبرتناک انجام کی وعید سنائی، ارشادِ ربِّ ذوالجلال ہے: ﴿قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّحَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ﴾([1]) “یقیناً وہ تباہ ہوئے جو اپنی اولاد کواَحمقانہ جہالت سے قتل کرتے ہیں، اور جو اللہ نے انہیں روزی دی، اللہ پر جھوٹ باندھنے کے لیے وہ حرام ٹھراتے ہیں، یقیناً وہ بہکے اور انہوں نے راہ نہ پائی”۔
بھوک وافلاس کے خدشہ سے بھی اولاد کے قتل کی ممانعت کرتے ہوئے قرآنِ حکیم فرماتا ہے: ﴿وَلَاتَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَاِيَّاهُمْ﴾([2]) “اپنی اولاد کو مفلسی کے باعث قتل نہ کرو!، ہم تمہیں اور انہیں رزق دیں گے”۔
اسلام سے قبل بیٹیوں کو نہایت ہی بُرا سمجھا جاتا تھا، انہیں بےگناہ زندہ ہی دفن کر دیا جاتا تھا، جو سراسر ظلم اور نِری جَہالت ہے، بروزِ قیامت اس بارے میں باز پُرس ہوگی، اور اِن ننھی بچیوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس جُرم میں تمہارے ماں باپ نے قتل کیا؟، تو وہ اپنے بےگناہ قتل ہونے کی گواہی دیں گی، جس کا ذکر خالقِ کائنات ﷻ نے ایک مقام پر اس طرح فرمایا: ﴿وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ۪ۙ* بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ﴾([3]) “جب زندہ دفن کی ہوئی سے پوچھا جائے: کس گناہ پر قتل کی گئی؟”، اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کو بے گناہ قتل کردینا حرام اور ظلم ہے، ظالم سے اس کا بدلہ لیا جائے گا۔
الحمد للہ! اسلام اللہ تعالی کا سچا دین ہے، اس نے جہاں انسانی ز ندگی کے مختلف شعبوں کی نگرانی کی، مختلف کاموں میں انسانیت کو سہارا دیا، وہیں اس نے بچوں کی پرورش، تعلیم وتربیت اور نشونما کا معاملہ بھی نظر انداز نہیں کیا، بلکہ اس کی اہمیت کو پیشِ نظر رکھا اور مکمل رہنمائی فرمائی، بچوں کو پیدائش سے لے کر جوانی تک جن جن منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے، فطرتِ انسانی کے تقاضوں کے مطابق جہاں جہاں انہیں رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے، دینِ اسلام نے ان تمام مقامات کی نشاندہی کی، بچوں کی بہتر تعلیم وتربیت، پرورش، خرد ونوش، لباس، حقوق کی ادائیگی، اُن سے حسنِ سلوک وغیرہ کا حکم دیا، جبکہ ان حقوق سے روگردانی وغفلت کرنے والوں کے لیے سخت وَعیدیں بیان کیں۔
ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے
میرے بزرگو ودوستو! انسان کے یہاں جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے، وہ فطری طور پر دینِ اسلام ہی پر ہوتا ہے، یعنی بچہ پیدائشی طور پر مسلمان ہی ہوتا ہے، بعد میں اُس کے والدین اُس کا مذہب ودین تبدیل کردیتے ہیں، جس بچے کو جیسا ماحول ملتا ہے اس پر ویسا ہی اثر ہوتا ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ»([4]) “ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، پھر اُس کے ماں باپ اُسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں”۔
بچے کی ولادت کے بعد کسی نیک ومتقی مسلمان سے اس کے سیدھے کان میں اذان اور بائیں کان میں اِقامت کہلوانا، اور اسے گھٹی دلوانا، اس کی صحت کا خیال رکھنا، اسے ہر قسم کی ممکنہ بیماریوں سے بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا، بچوں کو ان کی پیدائش ہی سے اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا اور انہیں اسلامی آداب سکھانا والدین کا انتہائی اہم فریضہ ہے، بچے کی پیدائش کے فوراً بعد کی ذمہ داری کا ذکر کرتے ہوئے سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: «مَنْ وُلِدَ لَهُ فَأَذَّنَ فِي أُذُنِهِ اليُمْنَى وَأَقَامَ فِي أُذُنِهِ اليُسْرَى لَمْ تَضُرَّهُ أُمُّ الصِّبْيَانِ»([5]) “جس کے ہاں بچہ کی ولادت ہو، وہ اُس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اِقامت کہے، اس کی برکت سے بچے کو مِرگی (اُمّ الصبیان) کا مرض نہیں ہوگا”، اس طرح ایک بچے کو پیدائش کے وقت سے ہی دینِ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کرادیا جاتا ہے، جس کی برکت سے آئندہ ہونے والی مِرگی جیسی بیماری سے بھی حفاظت مل جاتی ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھی: بڑوں کاادب واحترام اور تربیتِ اولاد
بچے کا اچھا نام رکھنا
عزیز دوستو! بچے کا ایک حق یہ بھی ہے کہ اُس کا پیارا سا بامعنی نام رکھا جائے، اسلام سے قبل لوگ اپنے بچوں کے نام عجیب وغریب رکھا کرتے تھے، حضور نبئ اکرم ﷺ نے ایسے ناموں کو ناپسند فرمایا، اور اچھے نام رکھنے کا حکم دیا، حضرت سیِّدنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ آقائے دو جہاں ﷺ فرماتے ہیں: «إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ، وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ، فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَكُمْ»([6]) “بروزِ قیامت تم اپنے اور اپنے باپ کے ناموں سے پکارے جاؤ گے، تو اپنے نام اچھے رکھا کرو!”، اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کے نام ہمیشہ اچھے، محترم اور بامعنیٰ رکھنے چاہیے، اور سب سے بہتر تو یہ ہے کہ انبیائے کرام عَلَیہِمُ الصَّلٰوۃ وَالسَّلَام، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، اولیائے عظام رَحِمَهُمُ اللّٰهُ تَعَالٰی اور بزرگانِ دین کے ناموں پر نام رکھیں جائیں؛ کہ نام بھی اچھے ہو جائیں اور بچوں کو بزرگوں کی برکت بھی مل جائے، مثلاً عبد اللہ، عبد الرحمن، عبد القادر، محمد، احمد اور حامد وغیرہ نام رکھیں جائیں۔
حقِ رِضاعت
محترم بھائیو! عورت کا بچے کو دودھ پلانا رِضاعت کہلاتا ہے، پیدائش کے بعد بچہ انتہائی ہی کمزور ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اُس کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنی زندگی کی حفاظت اور اَفزائش ماں کے دودھ کے علاوہ خود سے کسی اور غذا کے ذریعے کرسکے، اس لیے قدرتی طور پر بچے کی پیدائش کے بعد ماں کے دل میں بچے کی محبت وشفقت ڈال دی جاتی ہے، جو اسے بچے کو دودھ پلانے پر اُبھارتی ہے، اللہ تعالی نے والد پر مقرّر کیا ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلانے کا اہتمام کرے؛ کہ یہ بچے کا ایک بنیادی حق، اور اس کی صحت کے لیے بے حد مفید ہے، جدید میڈیکل ریسرچ سے بھی یہ ثابت ہوچکا ہے، کہ بچے کے جسمانی ونفسیاتی تقاضوں کے پیشِ نظر دو سال کی مدتِ رضاعت انتہائی ضروری ہے، اسی میں ماں اور بچے دونوں کی صحت کا راز ہے، یہ اسلام کی تعلیمات کا فیض ہے کہ اہلِ اسلام کو زندگی کے وہ رَہنما اُصول ابتدا ہی سے بتائے جن کی تائید، تصدیق وتحقیقات آج صدیوں بعد سائنس کر رہی ہے، بچے کے اس حق کے بارے میں اللہ ربُّ العالمین کا فرمانِ عالی شان ہے: ﴿وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَعَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا١ؕ وَاِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا۠ اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ﴾([7]) “مائیں اپنے بچوں کو پورے دو2 برس دودھ پلائیں، یہ اس کے لیے جو دودھ پلانے کی مدّت پوری کرنا چاہے، اور بچے کے والد پر حسبِ دستور عورتوں کا کھانا پہننا ہے، کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں رکھا جائے گا، ماں کو اس کے بچہ سے تکلیف نہ دی جائے اور نہ والد کو اس کی اولاد سے تکلیف دی جائے، یا ماں اپنے بچہ کو کسی طرح نقصان نہ پہنچائے، اور نہ باپ اپنی اولاد کو کسی طرح نقصان پہنچائے، اور جو باپ کا قائم مقام ہے اُس پر بھی ایسا ہی واجب ہے، پھر اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضا اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو اُن پر کوئی گناہ نہیں، اور اگر تم چاہو کہ دائیوں سے دودھ پلواؤ تب بھی تم پر کوئی حرج نہیں، جبکہ انہیں جو دینا مقرّر ہوا تھا بھلائی کے ساتھ ادا کردو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے”۔
حقِ پروَرش
محترم بھائیو! بچوں کی پرورش والدین کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ترین ذمہ داری ہے، انسان کوشش کرے کہ اپنے بچوں کو اچھا کھلائے اور پلائے، شریعت کے دائرہ میں رہ کر ان کی جائز ضروریات کو پورا کرے، انہیں گناہوں سے بچاتا رہے، نیکیوں کی طرف ان کی رہنمائی کرے، بُری صحبت سے بچا کر نیک لوگوں کی صحبت کے لیے رغبت دلاتا رہے، انہیں نیک لوگوں کے واقعات سنائے، انہی لوگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی تلقین کرے، اولاد کی پرورش اس طور پر کرے کہ وہ اَخلاقی خوبیوں سے مزیّن ہوجائیں، اور یہ بات واضح ہے کہ بچوں کی اچھی تربیت وپرورش بھی آخرت میں نجات اور جنت میں داخلے کا ایک اہم سبب ہے، حضرت سیِّدنا ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ سرورِ کونین ﷺ نے فرمایا: «مَا مِنْ رَجُلٍ تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ، فَيُحْسِنُ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ -أَوْ صَحِبَهُمَا- إِلَّا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ»([8]) “جس کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ اُن کی اچھی، نیک تربیت وپرورش کرے، تو وہ دونوں اُسے جنت میں لے جائیں گی”۔
حقِ تربیت
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! بچوں کے حقوق میں سے ایک اہم حق یہ بھی ہے کہ بچوں کی اچھی تعلیم وتربیت کی جائے، بچوں کی اچھی تربیت کر کے انہیں اچھا، ذمہ دار اور مثالی مسلمان بنایا جائے، یہ والدین کی اوّلین ذمہ داری ہے؛ کیونکہ اگر بچے کی صحیح دیکھ بھال کی جائے تو وہ بڑا ہو کر بے شمار قابلیتوں کے ساتھ دنیا میں بہتر کردار ادا کرتا ہے، خود اپنے آپ کو اور پورے معاشرے کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، بچوں کی تربیت کے ابتدائی مراحل کا ذکر کرتے ہوئے سرکارِ اَبَد قرار ﷺ نے فرمایا: «مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا، وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي المَضَاجِعِ»([9]) “اپنی اولاد کو جب وہ سات سال کی ہوجائے تو نماز کا حکم دو، اور جب وہ دس برس کے ہوں تو (نماز نہ پڑھنے پر) اُنہیں مارو، ان کے بستر الگ الگ کردو”۔

اولاد کے حقوق
:یہ بھی ضرور پڑھیں
حقِ شفقت وَرحمت
عزیزانِ محترم! والدین پر لازم ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ نرمی، شفقت، محبت وپیار سے پیش آئیں، بے جا سختی اور ڈانٹ ڈپٹ کا بچوں پر بُرا اثر پڑتا ہے، حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رحمتِ عالمیان ﷺ نے حضرت سیِّدنا حسن رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا کو چوما، ایک اعرابی رسولِ کریم ﷺ کے پاس بیٹھا تھا، اُس نے کہا کہ میرے دس بچے ہیں، میں نے تو کبھی کسی بچے کو نہیں چوما!، تاجدارِ کائنات ﷺ نے اُس کی طرف دیکھ کر فرمایا: «مَنْ لَّا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ»([10]) “جو رحم نہیں کرتا، اُس پر رحم نہیں کیا جاتا”۔
حقِ عدل وانصاف
برادرانِ اسلام! اولاد کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ انہیں کچھ دینے میں سب کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جائے، کسی کو زیادہ، کسی کو کم دینا نا انصافی وظلم ہے، حضرت سیِّدنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے روایت ہے، کہ اُن کے والد حضرت سیِّدنا بشیر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ انہیں لے کر، مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسولَ اللہ! میں نے اپنے اس بیٹے کو غلام تحفہ میں دیا ہے، سروَرِ کائنات ﷺ نے فرمایا: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ» “کیا تم ہر بچے کو ایسا ہی تحفہ دیا ہے؟”، حضرت سیِّدنا بشیر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے عرض کی: نہیں، آقائے دو جہاں ﷺ نے فرمایا: «فَارْجِعْهُ»([11]) “تو پھر اس سے بھی واپس لے لو”۔
یتیم بچوں کے حقوق
برارانِ ملّتِ اسلامیہ! اسلام نے جہاں ہمیں ہماری اپنے بچوں کے حقوق کی پاسداری میں رہنمائی فرمائی، وہیں یتیم بچوں کے حقوق کی بھی بہت تاکید کی ہے، قرآنِ حکیم میں کئی مقامات پر یتیموں کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت وشفقت سے پیش آنے کا حکم دیا ہے، یتیموں کے اَموال کی حفاظت اور اُن کے نگہداشت کی تلقین کی گئی ہے، اُن کے ساتھ زیادتی کرنے والے، ان کے حقوق پامال اور ان کا مال غصب کرنے والے کے لیے سخت وعید آئی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا﴾([12]) “وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نِری آگ بھرتے ہیں، اور وہ جلد ہی دہکتی آگ میں جا گِریں گے”۔
سامعینِ ذی وقار! جس گھر میں یتیم بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جا رہا ہو، وہ گھر بظاہر کتنا ہی خستہ حال ہو، یا مالی حالات کتنے ہی کمزور ہوں، لیکن اسلام کی نظر میں وہ عظیم وعالی شان گھرانہ ہے، اور جس گھر میں یتیم بچوں کے حقوق پامال ہوتے ہوں، ان سے نارَوا سُلوک کیا جاتا ہو، وہ گھر بظاہر کتنا ہی اچھا ہو، مالی طور پر کتنا ہی مستحکم ہو، لیکن وہ اسلام کی نظر میں سب سے بُرا گھرانہ ہے، حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب ﷺ نے فرمایا: «خَيْرُ بَيْتٍ فِي المُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ، وَشَرُّ بَيْتٍ فِي المُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُسَاءُ إِلَيْهِ»([13]) “مسلمانوں میں سب سے اچھا گھرانہ وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اُس کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے، اور بد ترین گھرانہ وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اُس کے ساتھ بُرا سلوک کیا جائے”۔
حاصلِ کلام
رفیقانِ گرامی قدر! ہر شخص جانتا ہے کہ قوموں کے عروج وزوال کا راز بڑی حد تک نئی نسل کی تعلیم وتربیت میں پوشیدہ ہے، اگر ان کی پرورش اچھے انداز میں ہو، ان میں عقائد کی پختگی، اَخلاق کی درستگی اور اعمال کی پاکیزگی آجائےتو پھر ان میں بلندئ کردار، وسعتِ فکر ونظر اور عزتِ نفس کا احساس پیدا ہوجاتا ہے، قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ جن لوگوں نے اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت پر پوری توجہ دی وہ ہر زمانہ میں کامیاب رہے، اور جن لوگوں نے اس بات کی اہمیت محسوس نہیں کی، اولاد کی صحیح تربیت وپرورش سے غافل رہے، معاشرے میں انہیں کوئی عزت نہ مل سکی، اسلام کی تعلیمات سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اسلام نے دیگر افرادِ معاشرہ کی طرح بچوں کو بھی زندگی، تعلیم وتربیت اور دیگر بنیادی حکومت کی ضمانت دیتے ہوئے ایک مثالی تہذیب کی بنیاد رکھی ہے، اسلام نے بچوں کے حقوق کی بنیاد ان کی پیدائش سے بھی پہلے قائم فرمائی، جس کا مقصد آئندہ نسلوں کی بہتر نشونما اور بچوں کو معاشرے کا ایک اچھا فرد بنانے پر زور دیا ہے۔
دعا
اے اللہ! ہمیں اپنے بچوں کا حق ادا کرنے، ان سے تکلیف دہ چیزیں دُور کرنے، انہیں نیکی کا حکم کرنے، بُرائی سے روکنے کی توفیق مرحمت فرما، یتیموں کی کَفالت اور ان سے نرمی کا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرما، ہمیں ان کی نیک واچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرما، دنیا بھر میں مسلمانوں پر جہاں جہاں ظلم وستم ہو رہا ہے، اُن کی مدد فرما، انہیں کفّار کے مظالم سے نَجات عطا فرما، ہمارے کشمیری وفلسطینی مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، اُن کے جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، مسئلہ کشمیر کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، وطنِ عزیز کی سرحدوں پر پہرہ دینے والوں کو اپنی حفظ وامان میں رکھ۔
ہمارے وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما، اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین و وطنِ عزیز کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، اُن کے درجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
(١) “صحیح البخاري” کتاب الجنائز، ر: ١٣٨٥، صـ٢٢٢.
(2) “مسند أبي يعلى” مسند الحسین بن علي …إلخ، ر: ٦٧٧٤، ٥/١٧٤.
(1) “سنن أبي داود” کتاب الأدب، ر: ٤٩٤٨، صـ٦٩٧.
(١) “سنن ابن ماجه” کتاب الأدب، ر: ٣٦٧٠، صـ٦٢٢.
(١) “سنن أبي داود” کتاب الأدب، ر: ٤٩٥، صـ٨٢.
(2) “صحیح البخاري”كتاب الهبة وفضلها …إلخ، ر: ٢٥٨٦، صـ٤١٨.