اسلام کا تصوّرِ جہاد

Home – Single Post

Concept of Jihad

قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ﴾([1]) “یقیناً وہی ایمان والے ہیں جو اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر اس میں کوئی شک نہیں کیا، اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ  اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہی لوگ سچے ہیں”۔

میرے محترم بھائیو! اسلام کی ہمہ جہت آفاقی تعلیمات  کا دائرۂ کار، ہر شعبۂ حیات کو محیط ہے، اسلام نے قیامِ امن، نفاذِ عدل، حقوقِ انسانی  کی بحالی، اور ظلم وستم کے خاتمے  کے لیےجہاد کا حکم دیا ہے۔ دراصل انفرادی طرزِ زندگی سے لے کر  قومی، ملّی، اور بینَ الاقوامی طرزِ زندگی  تک کی اِصلاح کے لیے عمل، اور جہدِ مسلسل کا نام جہاد ہے۔

جہاد کی اَہمیت

حضراتِ گرامی قدر! مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی سیرتِ طیّبہ کا ہر پہلو اگرچہ انتہائی اَہم اور ہدایت بخش ہے، لیکن کلمۂ حق کو بلند کرنے کے لیے سروَرِ عالَم ﷺ کی جدوجہد جسے جہاد یا غزوات سے تعبیر کیا جاتا ہے، اُمّتِ مسلمہ کے سیاسی استحکام اور ترقی کے لحاظ سے اَزحد اَہمیت کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیرُ القرون کے اکابرِ اُمّت نے  اس پر (جہاد) بڑی توجہ دی، وہ حضرات اپنی اولاد کو سرفروشی اور قربانی کے محیّر العقول واقعات سنا کر ازبر کرایا کرتے؛ تاکہ اللہ تعالی کے نام کو بلند کرنے کے لیے، اگر اپنے زمانہ کی طاغوتی قوّتوں سے انہیں ٹکرانا پڑے،  تو انہیں ذرّا برابر جھجک محسوس نہ ہو۔ جب اس راہ میں سروں کا نذرانہ پیش کرنے کی ضرورت پڑے،  تو اپنے اَسلاف کی طرح وہ بصد ذَوق وشَوق یہ سعادت حاصل کے لیے تڑپ اٹھیں؛ کیونکہ اسی میں ان کی دنیاوی زندگی کی کامرانی، اور اُخروی حیات کی سُرخروئی  کا راز پنہاں ہے([2])۔

جہاد کے لُغوی و اصطلاحی معنی

برادران ِ اسلام! امام راغب اصفہانی جہاد کی لُغوی تعریف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ “دشمن کے مقابلہ ومدافعت میں فوراً اپنی پوری قوّت وطاقت صرف کرنا جہاد کہلاتا ہے”([3])۔ جبکہ اصطلاحِ شرع میں اس کا معنی یہ ہے کہ “مسلمان شخص کا خالص اللہ تعالی کے لیے کافر حربی (جو مسلمان کی جان کے درپے ہو) کے خلاف جنگ کرنا جہاد ہے([4])۔

جہاد کا حکم شرعی

ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ وَعَسٰى اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْـًٔا وَّهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسٰى اَنْ تُحِبُّوْا شَيْـًٔا وَّهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾([5]) “تم پر اللہ کی راہ میں لڑنا فرض ہوا، اور وہ تمہیں ناگوار ہے، اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بُری لگے  اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو، اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے، اور وہ  تمہارے حق میں بُری ہو، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے!”۔

صدر الاَفاضل علّامہ مفتی سیِّد نعیم الدین مرادآبادی ﷓ اس آیت کے تحت جہاد کا حکمِ شرعی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “جہاد فرض ہے جب اس کی شرائط پائی جائیں، اگر کافر مسلمانوں کے ملک پر چڑھائی  کریں، تو جہاد فرضِ عین ہو جاتاہے، ورنہ فرضِ کفایہ”([6])۔

شرعی جہاد کی شرائط

“جہاد ابتداءً فرضِ کفایہ ہے، کہ ایک جماعت نے کرلیا تو سب بری الذمّہ ہیں، اور سب نے چھوڑ دیا تو سب گنہگار ہیں۔، اور اگر کفّار کسی شہر پر ہجوم (اچانك حملہ) کر دیں، تو وہاں والے مقابلہ کریں، اور اُن میں اتنی طاقت نہ ہو تو وہاں سے قریب والے مسلمان ان کی مدد کریں، اور ان کی طاقت سے بھی باہر ہو تو جو اُن سے قریب ہیں وہ بھی شریک ہوجائیں …وعلیٰ ہذا القیاس!۔

بچوں، خواتین اور غلاموں پر جہاد فرض نہیں، یوہیں بالغ شخص کے ماں باپ اگر اجازت نہ دیں تو وہ نہ جائے۔ یوہیں اندھے، اپاہج، لنگڑے اور جس کے ہاتھ کٹے ہوں، ان پر بھی جہاد فرض نہیں۔ شہر میں جو سب سے بڑا عالم ہو وہ بھی جہاد کو نہ جائے۔ یوہیں اگر اُس کے پاس لوگوں کی امانتیں ہیں، اور وہ لوگ موجود نہیں، تو کسی دوسرے شخص سے کہہ دے کہ “جن کی جن کی امانتیں ہیں انہیں دے دینا”، تو اب جاسکتا ہے۔

اگر کفّار ہجوم کر آئیں، تو اس وقت جہاد فرضِ عین ہے، یہاں تک کہ عورت پر بھی فرض ہے، اور اس کی کچھ ضرورت نہیں کہ عورت اپنے شوہر سے اجازت لے، بلکہ اجازت نہ دینے کی صورت میں بھی جائیں، اور شوہر پر منع کرنے کا گناہ ہوا۔ یوہیں ماں باپ سے بھی اجازت لینے کی، اور مدیون کو دائن سے اجازت کی حاجت نہیں۔

جہاد واجب ہونے کے لیے شرط یہ ہے، کہ اسلحہ اور لڑنے پر قدرت ہو، اور کھانے پینے کے سامان اور سواری کا مالک ہو، نیز اس کا غالب گمان ہو کہ اس جہاد سے مسلمانوں کی شَوکت بڑھے گی”([7])۔

جہاد کے فضائل

عزیزانِ محترم! قرآن واحادیث میں جہاد کے اس قدر فضائل بیان ہوئے، جن کی تفصیل میں دفتر کے دفتر لکھے اور بیان کیےجا سکتے ہیں، ہم یہاں چند فضائل اختصاراً  بیان کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں؛ کیونکہ مختصر اور محدود  وقت میں  یہاں  اُن سب کا اِحاطہ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

حضرت سیِّدنا ابو موسیٰ اَشعری ﷛ سے روایت ہے، کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی: یارسولَ اللہ! آدمی مالِ غنیمت وشہرت اور اپنا مرتبہ دکھانے  کو لڑتا ہے، تو اللہ تعالی کی راہ میں لڑنا کونسا لڑنا ہے؟  مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے ارشا د فرمایا: «مَنْ قَاتَلَ لِتكُونَ كَلِمَةُ اللهِ أَعْلَى، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ»([8]) “جو اللہ تعالی کا کلمہ بلند کرنے کے لیے لڑے، تو وہ اللہ کی راہ میں لڑتا (جہاد کرتا) ہے”۔

حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن حُبَشی خثعمی ﷛ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا، کہ  کونسا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ جَاهَدَ المشرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ»([9]) ” جس نے مشرکوں کے خلاف اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ جہاد کیا”۔

حضرت سیِّدنا ابوہریرہ ﷛ سے روایت ہے، کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ، مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ»([10]) “جو شخص بغیر جہاد کیے مر گیا، اور اس کے دل میں جہاد کی خواہش بھی نہ ہو، وہ منافَقت کی ایک درجہ پر مرا”۔

اذن ِجہاد کا پسِ منظر

برادرانِ ملّتِ اسلامیہ! دعوتِ توحید کے آغاز کے بعد سے تقریباً 13 سال تک کفّارِ مکّہ، مسلمانوں پر طرح طرح کے مَظالم ڈھاتے رہے۔ اُن کا جرم صرف یہ تھا  کہ انہوں نے پتھر سے گھڑے ہوئے اندھے،بہرے بتوں کو اپنا خدا ماننے سے انکار کر دیاتھا، اور ان کے بجائے وہ اللہ وحدَہ لاشریک کی اُلُوہیت (خدائی) پر صدقِ دل سے ایمان لاچکے تھے، جو حیّ و قیّوم، سمیع وبصیراور عزیز وحکیم ہے۔ ان کا دامن ہر قسم کے اَخلاقی عیوب سے مبرّا  اور منزَّہ تھا۔ اس جرم میں انہیں اتنا ستایا گیا کہ وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر مکّہ مکرّمہ سے 450 کلومیٹر دُور یثرب نامی بستی (مدینہ منوّرہ) میں غریبُ الوطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوگئے۔ لیکن کفّار نے انہیں وہاں بھی سُکھ کا سانس نہ لینے دیا، کبھی یہودی قبائل سے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے سازباز کرتے، کبھی مسلمانوں کو علی الاِعلان دھمکی دیتے،  کہ ہم طوفانِ برق وباد  بن کر آئیں گے! اور تمہاری امیدوں کے گلشن جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیں گے! لیکن جسے سارے عالمِ انسانیّت کی فلاح وبہبود کے لیے زندہ رہنا ہو، وہ ان مُہیب طوفانوں کے سامنے بےبس تماشائی کی طرح کھڑا نہیں رہ سکتا، کہ وہ آئیں اور خس وخاشاک کی طرح ان کی امیدوں کے نشیمن کو اُڑا لے جائیں، بلکہ اس کی زندگی کا اعلیٰ وارفع  مشن اس بات کا تقاضا کرتا ہے، کہ وہ ان طوفانوں کے سامنے  چٹان کی طرح سر اونچا کر کے،  سینہ تان کر کھڑا ہو جائے، یہاں تک کہ اس طوفان کی بے رحم موجیں اس چٹان سے ٹکڑا ٹکرا کر واپس ہونے پر مجبور ہو جائیں! وہ ان تقاضوں کو کمال شجاعت سے پورا کرتا ہے۔

اسلام کی شمعِ نور کا پاسبان کسی سے امن پسند ہونے کا تمغہ لینے کے لیے، کسی بزدلی اور نامردی کا مظاہرہ نہیں کر سکتا! وہ اپنی امیدوں کی کروڑوں شمعوں کو تو نثار کر سکتا ہے، لیکن جب تک اس کے جسم میں جان ہے، کوئی ظالم آگے بڑھ کر اس شمع کو گُل کر دے، یہ ناممکن اور قطعاً مُحال ہے۔

میرے بزرگو ودوستو! رحمتِ عالَمیان ﷺ اگر اس شَوق میں رہتے، کہ آنے والے مؤرِّخ آپ ﷺ کو امن پسند، اور امن دوست کے اَلقابات سے نوازیں  گے، اور بروقت مؤثِّر اِقدامات نہ کرتے، دشمن کی عددی کثرت، وسائل کی فراوانی، اسلحہ کے اَنبار سے سہم کر بیٹھ جاتے،تو صحابۂ کِرام ﷡ میں شیروں جیسی جرأت، چیتوں جیسی چستی وپھرتی، شاہین کی بلند پروازی، اور شجاعت وبہادری جیسی خوبیاں کیونکر نشوونما پاسکتیں تھیں؟! عزیمت واستقامت کے یہ پہاڑ مشرکینِ عرب کی فرعونیّت کی سرکش مَوجوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے نہ ہوتے، تو وہ اس دینِ فطرت کے نام ونشان کو بھی مٹا کر رکھ دیتیں([11])۔  

تصوّرجہاد قبلِ اسلام

حضرات گرامی قدر! اسلام کی آمد سے قبل بھی دیگر حضراتِ انبیائے کرام ﷩ اِعلائے کلمۃ الحق کی خاطر  کفّار ومشرکین کے خلاف جہاد کا عَلم بلند کرتے رہے۔ قرآنِ پاک کی سورۃ المائدہ میں بنی اسرائیل کے حوالے سے جہاد کے ایک حکم کا ذکر موجود ہے،  کہ حضرت سیِّدنا موسیٰ D فرعون کے چنگل سے بنی اسرائیل کو نکال کر صحرائے سینا میں خیمہ زن ہوئے،  تو بنی اسرائیل کو اللہ تعالی کی طرف سے یہ حکم ملا، کہ وہ بیت المقدس کو عمالقہ سے آزاد کروانے کے لیے جہاد کریں! اور آگے بڑھ کر حملہ آور ہوں! مگر غلامی کے دائرہ سے تازہ تازہ نکلنے والی مرعوب قوم کو اس بات کا حوصلہ نہ ہوسکا، اور پھر اس کے چالیس40 سال بعد بنی اسرائیل کی نئی نسل  نے حضرت سیِّدنا یُوشع بن نون D کی قیادت میں جہاد کرکے بیت المقدس کو آزاد کروایا۔

نظریۂ جہاد اور مہذَّب دنیا کی انسان دشمنی

عزیزانِ محترم! اسلام کے نظریۂ جہاد پر سیخ پا  ہونے  والے، اور رسول اللہ ﷺ پر خونریزی اور لُوٹ مار کی تہمتیں لگانے والے،  اگر حقائق کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرأت رکھتے ہیں، تو آئیں نتائج کی زبان سے حقائق کی داستان سنیں! وہ یقیناً تسلیم کریں گے کہ مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے جہاد کی صورت میں جو قدم اٹھایا، وہ  صرف عرب کے مکینوں یا اُمّتِ مسلمہ کے لیے نہیں تھا، بلکہ اس میں دنیا بھر کی بہتری اور فلاح و بہبود کا راز پوشیدہ تھا۔

میرے بھائیو! رسولِ اکرم ﷺ نے بعثت کے بعد مکّہ مکرّمہ میں تیرہ 13 سال گزارے، اور اس تمام عرصہ میں شرک و کفر کے علمبرداروں نے جو ظلم کیے ، نبئ کریم ﷺ اور آپ کے جانثار صحابہ نے محیّرالعقول حد تک صبر واستقامت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد تقریباً دس10 سال مدینہ طیّبہ میں بھی گزارے، اس تمام عرصہ میں کفّار کے حملوں سے دِفاع کے لیے جنگیں بھی ہوئیں، جانبَین کے آدمی قتل بھی ہوئے اور زخمی بھی، لیکن آپ یہ سن کر ششدر رہ جائیں گے، کہ دس10 سال کے عرصہ میں لڑی جانے والی تمام جنگوں میں، فریقَین کے مقتولین کی تعداد تقریباً گیارہ سو چالیس1140 بنتی ہے۔ اتنی قلیل جانی قربانیوں اور نقصانات سے بنی نَوع انسان کو جو فائدہ پہنچا، وہ بےمثال  وبےعدیل ہے! کوشش وبسیار کے باوجود بھی اقوام وممالک کی جنگوں کی تاریخ میں آپ کو ایسی مثال ہرگز نہیں مل سکے گی([12])۔

عزیزانِ محترم! اس کے مقابلے میں جدید تہذیب اور سائنسی ترقی  کی آغوش میں پروَرش پانے والے، یورپ کے دانشوروں اور حکمرانوں نے صرف اپنے اہلِ وطن ہی کو نہیں، بلکہ ساری انسانی برادری کو نصف صدی سے کم عرصہ میں، جن دو2 عالمگیر جنگوں کا تحفہ دیا، صرف ان کی تباہ کاریوں کا اندازہ لگانے سے انسانی عقل ودانش قاصر ہے۔ پُرامن شہری آبادیوں، ہسپتالوں، درسگاہوں، بلکہ مذہبی عبادت گاہوں کو بھی جس سنگدلی سے اپنی بہیمانہ بمباری کا نشانہ بنایا گیا، اور ان کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی، اس کے تصوّر ہی سے انسانیت اور شرافت کا سر بارِ ندامت سے خم ہے۔ دیگر ہر قسم کے نقصان کو لمحہ بھر کے لیے اگر نظرانداز بھی کردیں، تو فقط انسانی جانوں کے نقصانات کا سُن کر آپ پر لرزہ طاری ہوجائے گا! ناگاساکی اور ہیروشیما پر امریکہ کے ایٹم بم نے جو قیامت برپا کی، کیا اس  خون آلود داستان کو سننے کا آپ میں حَوصلہ ہے؟ علاوہ ازیں دوسری جنگِ عظیم میں اتحادی ممالک (برطانیہ، امریکہ وغیرہ) کا جانی نقصان تقریباً ایک کروڑ چھ لاکھ پچاس ہزار ہے۔ فریقَین کا مجموعی جانی نقصان ڈیڑھ دو کروڑ کے قریب ہے۔ صرف رُوس کے پچھتّر لاکھ فوجی مارے گئے، جاپان کے پندرہ لاکھ، پچاس ہزار جوانوں کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا، جرمنی کے اٹھائیس لاکھ پچاس ہزار فوجیوں نے اپنی قیمتی زندگیوں کو جنگ کی بھینٹ چڑھایا([13])۔

عزیزانِ مَن! انسانی جانوں کی اَن گنت قربانیوں ، بے انتہاء خون ریزیوں اور  تباہ کن بمباریوں   کے نتیجے میں، ہزاروں بارونق شہروں کو راکھ کا ڈھیر بنانے کے بعد، انسانیت کو  کئی رکاوٹوں، کمر توڑ مہنگائی، بےروزگاری اور بےحیائی  کا تحفہ ملا۔

اس کے بعد رُوس کی بے رحم آمریت کی ایڑیوں میں برِّ اعظم ایشیاء کے کئی ممالک  پچاس50 سال سے زائد عرصہ تک پستے رہے، اس سے جان چھوٹی تو امریکہ بہادر نے دبوچ لیا، افغانستان، عراق، لیبیا، بوسنیا میں لاکھوں بےگناہ مسلمانوں کا خون بہا کر انسانیت کا جنازہ نکالا گیا۔

اسی طرح ہندوستان، کشمیر، فلسطین، شام اور برما کے مسلمانوں کی کس طرح نسل کشی کی جارہی ہے، اس سے ساری دنیا واقف ہے! خود وطنِ عزیز پاکستان کو دہشتگردی کی پرائی جنگ میں دھکیلا جا چکا ہے۔ اب تک ہمارے ستّر ہزار سے زائد فوجی جوان اور عام شہری شہید ہوچکے ہیں، اربوں ڈالرز کا نقصان اور معیشت کا بیڑہ غرق  ہو چکا ہے، اس کے باوجود لوگ امن کی آشا اور انسانیت کے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہیں! غریب ممالک  اور غیر ترقی یافتہ اقوام کا بےرحمانہ مُعاشی استحصال، اور انسانیت کی قبائے کرامت کو کئی بار تارتار کرنے والے مہذَّب دنیا کے بدمُعاش،   اور دہشتگرد حکمرانوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا، کہ وہ نقطۂ جہاد کو بنیاد بنا کر ہمارے نبئ کریم، مصطفیٰ جان رحمت ﷺ پر اُنگشت نمائی یا بد گوئی  کریں!!۔

اسلامی جہاد کی امتیازی خصوصیات

برادرانِ اسلام! دوجہاں کے سردار، سروَرِ کائنات ﷺ نے جنگ وجہاد کو اس مقصد کے لیے جائز رکھا، کہ کوئی کسی پر ظلم وجبر نہ کرے! تشدّد سے کسی کو اپنا عقیدہ  یا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہ کیا جائے! اگر کوئی بلا جبر واِکراہ دائرۂ اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہے، تو کوئی اسے اسلام قبول کرنے سے جبراً  نہ روکے! آپ ﷺ نے اپنے ماننے والوں کو بےدریغ قتل وغارتگری، اور بےفائدہ لشکر کشی سے منع فرمایا! بحالتِ جنگ بھی شرفِ انسانیت کا خیال رکھنے کا حکم دیا! کسی مقتول کا مُثلہ کرنے یعنی ناک وہونٹ کاٹنے، آنکھیں نکالنے، پیٹ چِیرنے سے سخت ممانعت فرمائی! دَورانِ جنگ بچوں، بوڑھوں، عورتوں، معذروں، ان کے پُر امن (مقابلے میں نہ آنے والے) مذہبی رہنماؤں پر تلوار اٹھانے سے منع فرمایا، کھیتیاں درخت  وغیرہ، اور دشمن کے دینی مراکز پر حملہ کرنے کی بھی اجازت نہیں دی! اور مجاہدینِ اسلام کو جنگ سے متعلق قرآنِ پاک میں واضح ہدایات دیں، ارشاد فرمایا: ﴿وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ط اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ﴾([14]) “اللہ تعالی کی راہ میں اُن سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں!  اور حد سے نہ بڑھو! اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں رکھتا!”۔

انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار، اور  ترقی یافتہ وشائستہ کہلوانے والے، آج بھی  اپنے دشمن کے ساتھ ایسا رحیمانہ و کریمانہ سُلوک کرنے کے روا دار نہیں! یہ مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ ہی کی شان ہے، کہ آپ نے جنگ جیسی الم ناک چیز کو بھی رحم وکرم کا آئینہ دار بنا دیا!!۔

شرعی جہاد کا مقصد وہدف

میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! اسلام میں جہاد کا مقصد ہرگزیہ نہیں، کہ بلاوجہ غیر مسلموں کو قتل کیا جائے! بلکہ اس کا مقصد اللہ کے دین کی سربلندی، رُوئے زمین  پر دینِ اسلام کانفاذ، اور لوگوں کوشرک کے دَلدل سے نکال کر اللہ وحدَہ لاشریک کی عبادت کی طرف لے آنا ہے، اللہ A کا فرمانِ عالی شان ہے: ﴿وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ﴾([15]) “تم اُن سے اس وقت تک لڑائی  کرتے رہو جب تک کوئی فتنہ باقی نہ رہ جائے! اور سارے کا سارا دین اللہ تعالی کا ہی ہو جائے!”۔

برادرانِ ملّتِ اسلامیہ! اس آیتِ کریمہ میں جہاد کا مقصد واضح طور پر یہ بیان فرمایا گیا ہے، کہ اللہ کی راہ میں لڑنے کا مقصد غیر مسلموں کا خون بہانا ، یا ان کا مال حاصل کرنا نہیں، بلکہ اس کا عظیم مقصد تمام باطل اَدیان پر اللہ  وحدَہ لاشریک کے سچے دین کا غلبہ ہے۔ اور جب تک  یہ مقصد حاصل نہیں ہو جاتا، اس وقت تک  طاغوتی وباطل قوّتوں کے خلاف مذہبی، سیاسی، سفارتی اور عسکری، الغرض ہر محاذ پر مختلف صورتوں میں جہاد جاری رہے گا۔

عزیزانِ مَن! قرآنِ پاک میں بہت سے مقامات پر جہاد  بمعنی جنگ استعمال ہوا ہے، لیکن اسلام میں لفظ جہاد کا اِطلاق  تحفظِ دین کی دیگر مَساعی پر بھی جابجا کیا گیا ہے، جیسا کہ منافقین سے جہاد کی بیشتر صورتیں بنا تلوار کے ہیں۔ اسی طرح ہجرت سے قبل مکّی سورتوں میں  بھی جہاد کا ذکر ملتا ہے، جو قطعاً  جنگ کے معنی میں نہیں۔ لہذا جہاد کے مقصد کی تعبیر وتشریح، دینِ اسلام میں جہاد  کی ضرورت کی حد تک تو درست ہے؛ کہ اسلامی جہاد کا اصل مقصد وہدف ظالم وجابر کو ظلم وجبر سے روکنا، اور مظلوم کو اُس کا حق دلا کر، مُعاشرے میں امن وامان قائم کرنا  ہے!۔

لیکن اس سے اگر کوئی یہ نتیجہ اخذ کرے، کہ اسلام  فقط ایک عسکری دِین ہے، تو یہ تعبیر یقیناً غلط ہے؛ کیونکہ اسلام امن وسلامتی کا علمبردار اور مُعاشرے کی سلامتی کا ضامن دِین ہے، اسی لیے بلاضرورتِ شرعیہ اسلام کسی قسم کی مہم جُوئی، یا جنگ وجدال کی اجازت نہیں دیتا!!۔

عالمی طاقتوں کا دوہرا معیار

برادرانِ اسلام! آج امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے طرزِ عمل ہی کو دیکھ لیا جائے،  کہ افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک میں نفاذِ اسلام کی بات کرنے والوں کے خلاف  نیٹو کے ذریعے  جو وحشیانہ کاروائی جاری ہے، اس کے جواز میں ماسوائے اس کے کوئی دلیل نہیں دی جاسکتی، کہ ان مبیّنہ انتہاء پسندوں سے  عالمی تہذیب وثَقافت، اور بینَ الاقوامی نظام  کوخطرہ ہے، اس لیے ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ مذہب کے نام پر لڑنے کو دہشت گردی کہنے والے، خود مذہبِ اسلام اور اس کے ماننے والوں کے خلاف صف آرا ہیں!!۔

جنابِ والا! اگر نسلی برتری، طبقاتی بالادستی اور  تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے لیے ہتھیار اٹھانا، اور اسے اندھا دُھند استعمال کرکے لاکھوں انسانوں کو مَوت کے  گھاٹ اُتار دینا دہشتگردی نہیں ہے، تو آسمانی تعلیمات  کے فروغ اور وحئ الٰہی کی بالادستی کے لیے ہتھیار اٹھانے کو کونسے قاعدہ وقانون کے تحت دہشتگردی قرار دیا جارہا ہے؟

مغرب میں جہاد کی غلط تشریح

حضراتِ گرامی قدر! انتہائی افسوس کے ساتھ  کہنا پڑتا ہے، کہ دنیا بھر میں اسلام اور جہاد کے نام پر ہونے والی، انتہاء پسندی اور دہشتگردی کے سبب، آج دنیا بھر میں  بالخصوص، اور  اہلِ مغرب  میں بالعموم، تصوّرِ جہاد کو قصداً  غلط انداز میں سمجھا اور پیش کیا جارہا ہے! فی زمانہ جہاد کے نظریے  کو، نظریۂ امن اور نظریۂ عدم تشدّد  کا متضاد سمجھا جا رہا ہے، اور یہ چیز حقیقت کے بالکل برعکس ہے!!۔

جہاد کے نام پر ہونے والی دہشتگردی

عزیزانِ محترم! جس طرح اسلامی فلسفۂ جہاد کا مقصد مالِ غنیمت، کشوَر کشائی  اور  ہوَسِ ملک گیری  نہیں، بالکل اسی طرح جہاد کے نام پر ہونے والی دہشتگردی کا بھی جہاد سے کوئی تعلق نہیں ہے!!۔

افسوس! مغربی میڈیا  لفظِ جہاد کوفقط قتل وغارتگری اور دہشتگردی کے مترادِف کے طور پر استعمال کرتا ہے، حالانکہ اَساسی وبنیادی طور پر  جہاد ایک ایسی پُراَمن ،تعمیری، اَخلاقی اور روحانی  جدوجہد ہے، جو حق وصداقت  اور انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے عمل میں لائی جاتی ہے!!۔

آج ضرورت اس امر کی ہے، کہ  اسلام کے تصوّرِ جہاد کو حقیقی وصحیح معنی کے مطابق پیش کیا جائے؛ تاکہ جہاد کے بارے میں پھیلائی  گئی غلط فہمیوں کا   سدِّ باب کیا جا سکے!۔

دعا

اےاللہ! ہمیں بھی جہاد کی سعادت سے بہرہ مند فرما، جہادِ اصغر کے ساتھ ساتھ جہادِ اکبر کی بھی توفیق دے، اپنے دین اور ملک وقوم کے لیے بوقتِ ضرورت  اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت عطا فرما، ہمیں بھی ہمارے اکابر جیسا جذبہ مرحمت فرما، دینِ اسلام کے لیے اپنی جان، مال، عزّت، آبرو سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ اور توفیق عطا فرما، ہمارے کشمیری وفلسطینی مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، اُن کے جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، مسئلہ کشمیر کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، وطنِ عزیز کی سرحدوں  پر پہرہ دینے والوں کو اپنی حفظ وامان میں رکھ۔

وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین ووطنِ عزیز کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، ان کے درَجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق  عطا فرما۔

اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام ﷡ کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے ہمیں وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.

واپس بلاگ کی طرف جائیں


([1]) پ٢٦، الحجرات: ١٥.

([2]) “ضیاء النبی” غزواتِ رسالت مآب ﷺ، 3/259 ملتقطاً۔

([3]) “المفرَدات” الجيم، صـ99.

([4]) “النِّهایة  في غریب الحدیث” باب الجیم مع الهاء، ١/٣١٣ ملتقطاً.

([5])  پ2، البقرة: 216.

([6])  “تفسیر خزائن العرفان” پ2، البقرۃ، زیرِ آیت: 216،؃ 59۔

([7]) “بہارِ شریعت” کتاب السیر، مسائلِ فقہیہ، حصّہ نہم9،2/27، 28 ملتقطاً۔

([8]) “صحیح مسلم” کتاب الإمارة، ر: ٤٩١٩، صـ٨٥٢.

([9]) “سنن أبي داود” کتاب الصلاة، باب [طول القیام]، ر: ١٤٤٩، صـ٢١٦.

([10]) “صحیح مسلم” باب ذمّ من مات ولم یغز، ر: ٤٩٣١، صـ٨٥٤.

([11]) “ضیاء النبی” سلسلہ غزواتِ رسالت مآب علیہ الصلوات والتسلیمات، ۳/277، 278 ملتقطاً۔

([12]) “ضیاء النبی” 3/280-282ملخصاً  ۔

([13]) “ضیاء النبی” غزواتِ رسالت مآب علیہ الصلوات والتسلیمات، 3/282ملتقطاً ۔

([14]) پ٢، البقرة: ١٩٠.

([15]) پ٩، الأنفال: ٣٩.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *