
Table of contents
- طاقتور مؤمن کی شان
- کھیل کود سے متعلق اسلامی تعلیمات
- تیر اندازی (Archery)
- گھوڑے پالنا (Horse Breeding)
- دَوڑ لگانا (Running)
- نیزہ بازی (Tent Pegging)
- تیراکی (Swimming)
- بے مقصد کھیل کود اور لہو ولعب
- بندۂ مؤمن کی پہچان
- اسپورٹس کلچر کے نقصانات
- فرائض وواجبات میں سُستی وکوتاہی
- ملکی سرمائے کی مغربی ممالک کی طرف منتقلی
- نوجوان نسل میں غور وفکر کا فُقدان
- غیر یقینی مستقبل اور وقت کا زِیاں
- خلاصۂ کلام
- دعا
الحمد لله ربّ العالمين، والصّلاةُ والسّلامُ على خاتمِ الأنبياءِ والمرسَلين، وعلى آلهِ وصحبهِ أجمعين، أمّا بعد: فأعوذُ باللهِ مِن الشّيطانِ الرّجيم، بسمِ الله الرّحمنِ الرّحيم.
حضور پُرنور، شافعِ یومِ نشور ﷺ کی بارگاہ میں ادب واحترام سے دُرود وسلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اللّهمّ صلِّ وسلِّم وبارِك على سيِّدِنا ومولانا وحبيبِنا محمّدٍ وعلى آلهِ وصَحبهِ أجمعين.
طاقتور مؤمن کی شان
برادرانِ اسلام! عبادتِ الٰہی کو اسلام میں ایک خاص مقام حاصل ہے، اس کی کما حقّہ ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ انسان تندرست وتوانا ہو، چاہے نماز ہو، روزہ ہو، یا حج، ہر ایک کی ادائیگی کے لیے چاق و چوبند اور صحت مند ہونا ضروری ہے۔ صحت وتندرستی کا شمار چونکہ اللہ کی بڑی نعمتوں میں ہوتا ہے، شاید اسی لیے اللہ تعالی کو جسمانی لحاظ سے کمزور مؤمن کے بجائے طاقتور مؤمن زیادہ پسند ہے۔ حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «المُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ، مِنَ المُؤْمِنِ الضَّعِيفِ»([1]) “اللہ تعالی کے نزدیک کمزور مؤمن کے مقابل، طاقتور مؤمن بہتر اور زیادہ محبوب ہے”([2])۔
جبکہ طاقتور اور چاک وچوبند رہنے کے لیے جسمانی ورزش انتہائی ضروری ہے ، لہذا وہ کھیل جو انسانی جسم میں پُھرتی اور طاقت کا ذریعہ بنتے ہیں، جسمانی ورزش کی نیّت سے انہیں کھیلنے میں حرج نہیں، اور جن کھیلوں میں ورزش کا پہلو نہ ہو، یا دنیا وآخرت کے اعتبار سے ان کا کوئی فائدہ نہ ہو، ان کا کھیلنا جائز نہیں۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حقوق العباد اور ہیومن رائٹس میں فرق
کھیل کود سے متعلق اسلامی تعلیمات
حضراتِ گرامی قدر! ایسا ہرگز نہیں کہ اسلام ایک تنگ نظر مذہب ہے، اور اس میں کھیلوں کی بالکل گنجائش نہیں، احادیثِ مبارکہ میں ایسے متعدد کھیلوں کا ذکر ملتا ہے، جن کا کھیلنا نہ صرف جائز ہے بلکہ اُن کے سیکھنے کی ترغیب دی گئی ہے، اور اُن کی فضیلت بھی بیان کی گئی ہے، اُصولِ شریعت پر پورا اُترنے والے اُن کھیلوں میں سے چند حسبِ ذیل ہیں:
تیر اندازی(Archery)
تیزاندازی اسلام کے پسندیدہ کھیلوں میں سے ایک ہے؛ کہ اس میں اعصاب کی مضبوطی اور جسمانی ورزش کے ساتھ ساتھ جہاد کی تربیت ومَشق بھی ہے، حضرت سیِّدنا عُقبہ بن عامر رضي الله عنه سے روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «كُلُّ مَا يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ المُسْلِمُ بَاطِلٌ إِلاَّ (1) رَمْيَهُ بِقَوْسِهِ، (2) وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، (3) وَمُلاَعَبَتَهُ أَهْلَهُ؛ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الحَقِّ»([3]) “(۱) تیراندازی، (۲) گھوڑے کو سَدھانا(Grooming a Horse)، (۳) اور اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی کرنا؛ کہ یہ (تینوں) حق (جائز ودُرست) ہیں، ان کے سِوا مسلمان کا ہر (خلافِ شریعت) کھیل باطل وبےکار ہے”۔
نبئ کریم ﷺ نے اپنے صحابۂ کرام -علیہم الرضوان- کو مختلف صورتوں میں ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی، جو کسی طور پر وَرزشی سرگرمیوں سے کم نہیں، ایک حدیث میں مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے تین۳ بار ارشاد فرمایا: «أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ»([4]) “سنو! طاقت تیر اندازی میں ہے”۔
ایک اَور روایت میں تیر اندازی سیکھنے کی ترغیب دی گئی ہے، حضرت سیِّدنا عُقبہ بن عامر رضي الله عنه سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ اللهَ لَيُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ: (1) صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، (2) وَالرَّامِي بِهِ، (3) وَالمُمِدُّ بِهِ -وقال-: ارْمُوا وَارْكَبُوا، وَأنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا!»([5]) “بےشک اللہ تعالی ایک تیر کے بدلے تین3 اَفراد کو جنّت میں داخل فرمائے گا: (١) ثواب کی نیّت سے تیر بنانے والے کو، (٢) تیر پھینکنے والے کو، (٣) تیر دینے والے کو۔ اورتیر اندازی سیکھو، اور گھڑ سواری کرو، اور تمہارا تیر اَندازی کرنا مجھے گھڑ سواری کی نسبت زیادہ پسند ہے!”۔
حکیم الاُمت مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں کہ “شارحین فرماتے ہیں کہ یہاں گھوڑا سواری سے مراد نیزہ بازی ہے؛ کہ اکثر گھوڑے پر سے دشمن کو نیزے مارے جاتے ہیں، تو مطلب یہ ہوا کہ نیز ہ بازی سے تیر اندازی اچھی ہے؛ کہ تیر اندازی جہاد میں زیادہ کام آتی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ گھوڑا سواری کی مَشق سے تیر اندازی کی مَشق مجھے زیادہ پیاری ہے؛ کیونکہ گھوڑا سواری کبھی فخر ورِیا بھی پیدا کر دیتی ہے”([6])۔
موجودہ دَور میں بنیّت جہاد کسی بھی ہتھیار، مثلاً بندوق (Gun)، راکٹ (Rocket) اور میزائل (Missile) وغیرہ کے ذریعے کسی چیز کو ٹارگٹ (Target) کرنا، اور ٹھیک نشانہ لگانا بھی تیراندازی کے حکم میں داخل ہے، جیسا کہ حکیم الاُمت مفتی احمد یار خان نعیمی نے فرمایا کہ “اب اس زمانہ میں بندوق چلانا، نیزہ بازی کرنا، ہوائی جہاز رانی کی مَشق،توپ سے گولہ اندازی سیکھنا، بنیّت جہاد اسی حکم میں ہے”([7])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : بڑوں کاادب واحترام اور تربیتِ اولاد
گھوڑے پالنا(Horse Breeding)
عزیزانِ مَن! جہاد کی غرض سے گھوڑے پالنا بھی بڑے اجر وثواب کا باعث ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ﴾([8]) “اُن کے لیے تیار رکھو جو قوّت تم سے بن پڑے اور جتنے گھوڑے باندھ سکو؛ کہ اس سے اُن کے دلوں میں دھاک بٹھاؤ جو اللہ کے دشمن اور تمہارے دشمن ہیں!”۔
حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے، سرکارِ دوجہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنِ احْتبَسَ فَرَساً فِي سَبِيلِ اللهِ إِيمَاناً بِالله وَتَصْدِيقاً بِوَعْدِهِ، فَإِنَّ شِبَعَهُ وَرِيَّهُ وَرَوْثَهُ وَبَوْلَهُ، فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ»([9]) “جس نے اللہ پر ایمان اور اس کے وعدے کی تصدیق کے ساتھ اللہ کی راہ میں گھوڑے کو تیار رکھا، اُس گھوڑے کا وہ چارہ جسے وہ پیٹ بھر کر کھائے، اور وہ پانی جسے وہ سَیر ہو کر پیے، اور اُس کا گوبر، اور اس کا پیشاب، قیامت کے دن اس کے میزان میں شمار کیا جائے گا” اور اس کے وزن کے برابر اُسے اجر وثواب عطا کیا جائے گا۔
دَوڑ لگانا(Running)
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! دَوڑ لگانا ایک بہترین جسمانی ورزش ہے، اور حضور نبئ کریم ﷺ نے بنفسِ نفیس حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیِّبہ طاہرہ رضي الله عنها کے ساتھ دَوڑ لگائی، حضرت سیِّدہ عائشہ رضي الله عنها فرماتی ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھی، میں نے حضور نبئ کریم ﷺ سے دَوڑ لگائی اور آگے نکل گئی، کچھ عرصہ بعد پھر ایک سفر میں میں نے رسول اللہ ﷺ سے دَوڑ لگائی، جبکہ میرا وزن کچھ بڑھ گیا تھا، تو رسولِ اکرم ﷺ مجھ سے آگے نکل گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: «هَذِهِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ!»([10]) ” یہ اس (پہلے والی جِیت) کا بدلہ ہوگیا!”۔
نیزہ بازی(Tent Pegging)
حضراتِ محترم! میدانِ جنگ میں کافروں سے مقابلہ کرنے کی غرض سے، نیزہ بازی کی مَشق کرنا، اور اسے سیکھنا سکھانا بھی سنّت ہے، حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضي الله عنها سے روایت ہے، سرکارِ دوجہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنِ اعْتَقَلَ رُمْحاً فِي سَبِيلِ اللهِ، عَقَلَهُ اللهُ مِنَ الذُّنُوبِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»([11]) ” جس نے راہِ خدا میں نیزہ بازی کی، اللہ تعالی بروزِ قیامت اس کے گناہ مُعاف فرما دے گا”۔
تیراکی (Swimming)
حضراتِ ذی وقار! تیراکی ایک بہترین کھیل اور مکمل جسمانی ورزش ہے، سمندری حادثات کے موقع پر ماہر تیراک ہی انسانیت کی خدمت کرتا، اور لوگوں کی جان بچاتا ہے، سمندری ناکہ بندی اور دفاعی نقطۂ نظر سے تیراکی کی اہمیت میں مزید اِضافہ ہو جاتا ہے، شاید اسی لیے مکّہ مکرّمہ، مدینہ منوّرہ اور ان کے قُرب و جوار میں، سمندر یا نہر نہ ہونے کے باوُجود، رسولِ اکرم ﷺ نے صحابۂ کرام -علیہم الرضوان- کو تیراکی (Swimming) کی ترغیب دی۔ حضرت سیِّدنا جابر بن عبد اللہ اور سیِّدنا جابر بن عبید اللہ انصاری رضي الله عنه سے روایت ہے، سروَرِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «كُلُّ شَيْءٍ لَيْسَ مِنْ ذِكْرِ اللهِ فَهُوَ لَهوٌ أَوْ سَهْوٌ، إِلّا أَرْبَع خِصَالٍ: (١) مَشْيُ الرَّجُلِ بَيْنَ الْغَرَضَيْنِ، (2) وَتَأْدِيبُهُ فَرَسَهُ، (3) ومُلاعَبَةُ أَهْلِهِ، (4) وَتَعَلُّمُ السِّبَاحَةِ»([12]) “سوائے چار4 چیزوں کے، اللہ تعالی کی یاد سے تعلق نہ رکھنے والی ہر چیز بےکار ہے: (۱) آدمی کا تیر اندازی کے لیے ان دو2 نشانوں کے درمیان دَوڑنا جہاں تیر پھینکا جائے، (۲) اپنے گھوڑے کو سَدھانا (Grooming a Horse)، (۳) اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، (4) اور تیراکی (Swimming) سیکھنا سکھانا”۔
امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عمر بن خطاب رضي الله عنه نے اَہلِ شام کوخط لکھا، اور اس میں تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: «وَعَلِّمُوا صُبْيَانَكُمُ الْكِتَابَةَ وَالسِّبَاحَةَ»([13]) ” اپنی اَولاد کو کتابت اور تیراکی سکھاؤ”۔
بے مقصد کھیل کود اور لہو ولعب
حضراتِ گرامی قدر! اسلام اپنے ماننے والوں کو جہاں ایک بامقصد زندگی گزارنے کی دعوت دیتا ہے، وہیں بےمقصد کھیل کود، غفلت اور لہو ولعب سے منع بھی فرماتا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴾([14]) “اور دنیا کی زندگی نہیں مگر کھیل کود! اور یقیناً پچھلا گھر بَھلا اُن کے لیے جو ڈرتے ہیں، تو کیا تمہیں سمجھ نہیں!”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :اسلام میں بچوں کے حقوق
بندۂ مؤمن کی پہچان
عزیزانِ مَن! بامقصد زندگی اور لَغو وفُضول باتوں سے اِعراض، بندۂ مؤمن کی پہچان اور بہترین صفت ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ﴾([15]) “اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف اِلتفات نہیں کرتے” اور ہر لہو وباطل سے اجتناب کرتے ہیں۔ لہذا ہر وہ کھیل جو محض وقت ضائع کرنے کا ذریعہ نہ ہو، جسمانی یا رُوحانی فوائد کا حامل ہو، اس میں دنیا وآخرت کا فائدہ یقینی ہو، اور شریعتِ مطہَّرہ میں اس کی مُمانعت نہ ہو، اُس کا کھیلنا جائز ہے۔
اسپورٹس کلچر کے نقصانات
میرے محترم بھائیو! دُنیوی واُخروی فوائد، اجر وثواب، جسمانی ورزش اور اعصاب کی مضبوطی کے حامل، اور اُصولِ شریعت پر پورا اُترنے والے مذکورہ بالا کھیلوں میں، آج ہماری دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ اس کے برعکس مغربی ممالک (Western Countries) میں کھیلے جانے والے کھیل، مغرب (West) کی نسبت آج ہم مسلمانوں میں زیادہ مشہور اور رائج ہیں، اور نہایت بد قسمتی سے کہنا پڑتا ہے، کہ کھیل کی آڑ میں متعدد خلافِ شریعت سرگرمیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں، جن کے باعث ہماری نوجوان نسل کی دنیا وآخرت اور مستقبل تباہ ہو رہا ہے، اور انہیں یہ اندازہ ہی نہیں کہ وہ اپنی زندگی کےکتنے قیمتی لمحوں کو نہایت بےدَردی سے اسپورٹس کلچر (Sports Culture) کی نذر کر رہے ہیں!۔
کھیلوں کی مروّجہ سرگرمیوں اور اسپورٹس کلچر (Sports Culture) کے متعدد نقصانات ہیں، جن میں سے چند حسبِ ذیل ہیں:
فرائض وواجبات میں سُستی وکوتاہی
حضراتِ گرامی قدر! ایک مسلمان کے لیے مروّجہ اسپورٹس کلچر (Sports Culture) کا سب سے بڑا نقصان نماز، روزہ سمیت دیگر فرائض وواجبات کی ادائیگی میں کوتاہی اور سُستی ہے! عام مُشاہدہ ہے کہ کئی کئی گھنٹے جاری رہنے والے ون ڈے کرکٹ میچز (ODI Cricket Matches) کھیلنے والی ٹیم (Team)، اور انہیں کھیلتا دیکھنے والوں کی اکثریت، فرض نماز کی ادائیگی سے محروم رہتی ہے۔ اسی طرح میچز (Matches) کا یہ سلسلہ رمضان المبارک میں بھی جاری رہتا ہے، اور کئی مسلمان کھلاڑی روزہ رکھنے کے بجائے گراؤنڈ (Ground) میں سرعام پانی پیتے، اور فرض نمازیں قضا کرتے نظر آتے ہیں، اس کے باعث لوگوں کی نظر میں ارکانِ اسلام کی اہمیت میں کمی واقع ہوتی ہے، اور ہماری نوجوان نسل میں فرائض وواجبات کی ادائیگی میں کوتاہی اور سُستی کا رُجحان فروغ پاتا ہے، اور یہ چیز بحیثیت مسلمان ہمارے لیے کسی طَور پر قابلِ قبول نہیں ہے!۔
ایسے ہی ہاکی (Hockey)، بیڈ منٹن (Badminton)، تیراکی (Swimming) اور دَوڑ (Running) وغیرہ کے مقابلوں میں بھی صورتحال بہت اَبتر ہے، مرد وخواتین کھلاڑی چھوٹی سی نیکر (Short knickers) اور تیراکی کا انتہائی مختصر لباس (Swimming Dress) پہن کر ان مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں، اور موقع پر موجود تماشائیوں کے ساتھ ساتھ لائیو نشریات (Live Broadcast) کے ذریعے دنیا بھر کے لوگ ان کے سترِ عورت (چُھپانے کی جگہ) اور برہنہ بدن کو دیکھتے ہیں۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا، لیکن اس کے باوُجود بد قسمتی سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مروّجہ اسپورٹس کلچر (Sports Culture) ہماری اسلامی تعلیمات اور اَحکام پر غالب آ رہا ہے، اور فرائض وواجبات سے دُوری کا باعث بن رہا ہے!۔
ملکی سرمائے کی مغربی ممالک کی طرف منتقلی
عزیزانِ مَن! ہمارے ہاں مروّجہ اسپورٹس کلچر (Sports Culture) مغربی سرمایہ داروں (Western Capitalists) کا متعارف کردہ ہے، جس کے ذریعے ہمارا سرمایہ مغربی ممالک (Western Countries) میں منتقل ہو رہا ہے، اس سے ہماری معیشت کمزور ہو رہی ہے، جبکہ اسی سرمائے کی بنیاد پر مغربی ممالک دولتمند ہوتے جا رہے ہیں۔ لہذا ہمیں مغربی سرمایہ داروں (Western Capitalists) کے ایسے ہتھکنڈوں کو سمجھنا ہوگا، اور اپنے ملک کا سرمایہ مغربی ممالک (Western Countries) کی طرف منتقل ہونے سے روکنا ہوگا؛ کیونکہ میچز (Matches) کے خریدے گئے ٹکٹ (Ticket)، اور چند گھنٹوں کی لائیو نشریات (Live Broadcast) کے حقوق حاصل کرنے کے لیے، ادا کیے جانے والے لاکھوں کروڑوں ڈالر (Millions of Dollars) مغربی سرمایہ داروں (Western Capitalists) کو منتقل ہو رہے ہیں، اور وہ ہمارا ہی سرمایہ آئی ایم ایف (IMF) اور ورلڈ بینک (World Bank) کے ذریعے بطَور قرض ہمیں دے کر ہم پر حکومت کر رہے ہیں، ہماری داخلہ اور خارجہ پالیسی (Internal And Foreign Policy) تشکیل دے رہے ہیں، اور آج ہماری نسلوں کو بھی اپنا مقروض (غلام) بنا رہے ہیں!۔
نوجوان نسل میں غور وفکر کا فُقدان
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! حرام وناجائز کھیل کُود میں حد سے زیادہ مصروفیت کے باعث، ہماری نوجوان نسل میں مطالعہ، تحقیق اور کائنات کے اَسرار ورُموز میں غور وفکر کرنے جیسی صلاحیتوں کا حد درجہ فُقدان ہے، یقیناً یہ بھی مروّجہ اسپورٹس کلچر (Sports Culture) کے بڑے نقصانات میں سے ایک ہے، آج ہمارے نوجوانوں کو کھیل کُود سے فرصت ہی نہیں کہ وہ مطالعۂ کتب (Book Reading) کریں، کائنات میں غَور وفکر کریں، اور اپنے اندر تحقیق وجستجو کا مادّہ پیدا کریں؛ تاکہ اپنے اَسلاف اور بزرگوں کی طرح وہ بھی انسانیت کی خدمت کر سکیں، اور کارہائے نمایاں اَنجام دے سکیں!۔
غیر یقینی مستقبل اور وقت کا زِیاں
جانِ برادر! ہماری نوجوان نسل کا غیریقینی مستقبل اور وقت کا زِیاں بھی اسپورٹس کلچر (Sports Culture) کے نقصانات میں سے ایک ہے۔ آج ہمارے نوجوان اپنا قیمتی وقت کھیل کود میں برباد کر رہے ہیں، اپنے مستقبل کو غیریقینی بنا رہے ہیں، اگر یہی صورتحال رہی تو اقبال کا شاہین اُڑان بھرنے سے قبل ہی پستی وزَوال کا شکار ہو جائے گا! لہذا ابھی وقت ہے سنبھل جائیں، اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کریں، دنیا وآخرت کی بہتری کو پیشِ نظر رکھیں، اعمالِ صالحہ انجام دیں، اور اپنے ملک وقوم، نیز اقوامِ عالَم کی فلاح وبہبود کے لیے کام کریں!۔
خلاصۂ کلام
میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! “وہ کھیل جس سے کوئی دینی یا دنیوی فائدہ مقصود نہ ہو وہ جائز نہیں، اور جس کھیل سے کوئی دینی یا دنیوی فائدہ مقصود ہو، اور وہ اَحکامِ شریعت کے مطابق ہو وہ جائز ہے؛ کیونکہ اسلام نہ تو تفریحِ طبع کے خلاف ہے، نہ ہی جسمانی ورزش سے روکتا ہے، نیز یہ تمام سرگرمیاں اگر اسلامی تعلیمات اور شریعت کی حُدود میں رہ کر کی جائیں، تو نہ صرف اس کی اجازت دیتا ہے، بلکہ حَوصلہ افزائی بھی فرماتا ہے۔ لہذا ضرورت اس اَمر کی ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر اسلامی تعلیمات اور شریعت کے بنیادی مقاصد کو پیش نظر رکھا جائے، اور کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جو بحیثیت مسلمان اسلامی تعلیمات کے مُنافی ہو!۔
دعا
اے اللہ! ہمارا ٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، اور سونا جاگنا اسلامی تعلیمات کے مطابق بنا دے، ہمیں اسلام کے پسندیدہ کھیلوں کو جہاد اور ورزش کی غرض سے سیکھنے سکھانے کی توفیق عطا فرما، اور خلافِ شریعت اور ناجائز وحرا م کھیلوں سے بچا!۔
اے اللہ! اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے وسیلۂ جلیلہ سے ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت سے محبت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سُستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی اور چھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!۔
([1]) “صحیح مسلم” کتاب القدر، ر: ٦٧٧٤، صـ١١٦١.
([2]) “تحسینِ خطابت ٢٠٢٠” دسمبر، صحت وتندرستی اور اس کی حفاظت، ٢/ ٣٥٥۔
([3]) “سنن الترمذي” أبواب السِير، باب ما جاء في فضل الرَمي في سبيل الله، ر: 1637، صـ395.
([4]) “صحیح مسلم” باب فضل الرمي والحثّ علیه، ر: ٤٩٤٦، صـ٨٥٧.
([5]) “مُصنَّف ابن أبي شَيبة” كتاب الجهاد، ر: 19898، 10/360.
([6]) “مرآۃ المناجیح” جہاد کا بیان، جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان، دوسری فصل، تحت ر: 3872، 5/536۔
([9]) “صحيح البخاري” كتاب الجهاد والسِير، ر: 2853، صـ472.
([10]) “سنن أبي داود” كتاب الجهاد، باب في السبق على الرجل، ر: 2578، صـ373.
([11]) “كنز العمّال” حرف الجيم، كتاب الجهاد، الباب1، ر: 10626، 4/131.
([12]) “المعجمُ الكبير” جابر بن عمير الأنصاري، ر: ١٧٨٥، ٢/١٩٣.
([13]) “مُصنَّف عبد الرزّاق” كتاب الولاء، باب ميراث ذي القرابة، ر: 16198، 9/19.