نعت خوانی کے آداب واَحکام اور دَورِ حاضر کی خُرافات

Home – Single Post

The Etiquettes and Rulings of Naat Recitation & The Superstitions of the Modern Era

برادران اسلام! حضور نبئ کریم ﷺ کی مدحت، تعریف وتوصیف، شمائل وخصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو، نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی  کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ: مدح وثناء اور اِنشاد بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نعتیں لکھیں اور پڑھیں، اوران کی سنّت پر عمل کرتے ہوئے، یہ سلسلہ آج تک جاری وساری ہے اور -ان شاء اللہ- ہمیشہ جاری رہے گا۔

عاشقانِ رسول  نے ہر دَور میں اپنے کریم آقا ﷺ کی مدحت کے لیے مختلف انداز اپنائے،کسی نے نظم کا انتخاب کیا، تو کسی نے نثر کا سہارا لیا، انداز چاہے کوئی بھی ہو، مطلوب ومقصود نبئ كريم ﷺ کی تعریف وتوصیف  ہے، جو شریعتِ مطہَّرہ کی قائم  کردہ حُدود میں رہتے ہوئے جتنی بھی  کی جائے کم ہے۔ کتب احادیث اور تاریخ اسلام کے اَوراق اس بات پر شاہد ہیں، کہ جب جب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حضور رحمتِ عالمیان ﷺ کی مدح وثناء  کرتے اور نعتیہ اَشعار پڑھتے، حضور سیِّد عالَم ﷺ نہ صرف ان سے خوش ہوتے، بلکہ انہیں دعاؤں سےبھی نوازتے! تو معلوم ہوا کہ اب بھی اگر کہیں نعت خوانی ہوگی، تو آپ D اس سے خوش ہوں گے۔ چونکہ مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی خوشی ورِضا شرعاً مطلوب ہے، لہذا نعت خوانی حکمِ شریعت کے عین مطابق ہے!۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : میلادِ مصطفیﷺ کے مقاصد

عزيز دوستو! اگر نعتیہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتاہے کہ اصحابِ رسول ﷺ میں سے حضرت سیِّدنا حسّان بن ثابت رضی اللہ عنہ وہ صحابی ہیں جو نعت گو شاعر بھی ہیں، اسی بنا پر انہیں شاعرِ دربارِ رسالت ﷺ بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کے نعتیہ كلام میں یہ اَشعار تو بہت مشہور ومعروف اور عشق ومستی سے لبریز ہیں: ؏

وأحْسنُ منكَ لم ترَ قطُّ عَيني

 وأجمَلُ منكَ لم تَلِدِ النِّساءُ

خُلقتَ مُبَرّأً من كلِّ عيب

 كأنّك قد خُلقتَ كما تشاءُ([1])

“(يا رسول اللہ!) آپ سے زیادہ حَسین میری آنکھ نے دیکھا ہی نہیں

آپ سے زیادہ جمیل کسی ماں نے جنا ہی نہیں

آپ ہر عیب سے پاک  پیدا کیے گئے

گویا کہ جیسا آپ چاہتے تھے ویسے ہی پیدا کیے گئے ہیں”

چنانچہ جب مشرکین نے رسولِ کریم ﷺ کی شان میں نازیبا اَشعار کہے،

تب حضرت سیِّدنا حسّان  بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نبئ كريم ﷺ نے فرمایا: «يَا حَسَّانُ أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللهِ g! اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ القُدُسِ!»([2]) “اے حسّان اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے جواب دو! اے اللہ رُوح القدس (جبریلِ امین C) کے ذریعے حسّان کی مدد فرما!”۔

جانِ برادر! دَورِ صحابہ سے لے کر آج تک، جہاں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے حضورِ پاک ﷺ کی نعتوں کی روایت کو فَروغ دیا، وہیں علماء واولیاء اللہ نے بھی اسلام کی ترویج واِشاعت کے ساتھ ساتھ حضور رحمتِ عالم ﷺ کی سچی محبت کو ایمان کی تکمیل کے لیے ناگزیر قرار دیا، نیز عشقِ رسول ﷺ کے حصول اور اس میں مزید اضافہ کے لیے نعت خوانی کو بہتر ذریعہ سمجھا۔ تمام تر سلاسلِ تصوُف میں محافلِ نعت کو خصوصی مقام حاصل ہے، لہذا یہاں ایسی ہی چند برگزیدہ ہستیوں کے نام درج کیے جاتے ہیں، جنہوں نے ناصرف نعت خوانی  کو فروغ دیا، بلکہ خود بھی نعت گوئی کی:

(١) امام ِ اعظم ابو حنیفہ، (2) شیخ عبد القادر جیلانی،(3) امام شرف الدين بُوصیری،(4) خواجہ عثمان ہروَنی،  (5) مولانا  جلال الدين رُومی،(6) مولانا عبد الرحمن جامی،(7) شیخ سعدی شیرازی، (8) بابا فرید الدین گنج شکر، (9) سلطان باہُو، (10) بابا بلھے شاہ،  (11) خواجہ نظام الدین اولیاء، (12) امیر خُسرو، (13) مخدوم صابر کلیری، (14) علّامہ سیّد کفایت علی کافی، (15) امام اہل سنّت امام احمد رضا، (16) پیر مہر علی شاہ، (17) استاذِ زَمن حسن رضا خان،(18) صدر الاَفاضل نعیم الدین مرادآبادی، (19) حجۃ الاسلام حامد رضا خان، (20) مفتئ اعظم مصطفی رضا خان، (21) برہانِ ملّت برہان الحق جبلپوری،(22) حکیم الاُمت مفتی احمد یار خان نعیمی، (23) مفتی محمد  خلیل  خان برکاتی، (24) رئیس التحریر علّامہ ارشد القادری، (25) صدر العلما تحسین رضا خان، (26) تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان، (27) ریحانِ ملّت ریحان رضا خان ، (28) مفتی احمد میاں برکاتی، (29) سلمان رضا فریدی مصباحی۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : حضورِ اکرم ﷺ کا حُسن وجمال

حضراتِ گرامی قدر! نعت شریف لكھنا کوئی معمولی کام نہیں، اس بارے میں کمال احتیاط وادب دامن گیر ہونا چاہیے؛ کہ اَدنی سی توہین یا کسی غیرمناسب لفظ کا استعمال، عذابِ الیم کا باعث ہوسکتا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا١ؕ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ﴾([3]) “اے ایمان والو راعنا نہ کہو! اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں! اور پہلے ہی سے بغور سنو! اور کافروں کے ليے دردناک عذاب ہے”۔

“جب کبھی حضورِ اقدس ﷺ  صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو کچھ تعلیم وتلقین فرماتے، تو وہ حضرات کبھی کبھی درمیان میں عرض کیا کرتے: “رَاعِنَا یا رسولَ الله” اس کے یہ معنی تھے کہ “یا رسول اللہ ہمارے حال کی رعایت فرمائیے!” یعنی کلامِ اقدس کو اچھی طرح سمجھ لینے کا موقع دیجیے، یہوديوں کی لغت (زبان) میں یہ کلمہ سُوء ِادب کے معنی رکھتا تھا، انہوں نے اس نیّت سے کہنا شروع کر دیا، حضرت سيِّدنا سعد بن مُعاذ یہوديوں کی اصطلاح سے واقف تھے، آپ نے ایک روز یہ کلمہ ان کی زبان سے سن کر فرمایا: اے دشمنانِ خدا تم پر اللہ کی لعنت ہو! اگر میں نے اب کسی کی زبان سے یہ کلمہ سنا تو اس کی گردن مار دُوں گا! یہودیوں نے کہا: ہم پر تو آپ برہم ہوتے ہیں! مسلمان بھی تو یہی لفظ کہتے ہیں! اس پر آپ رنجیدہ ہو کر خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے ہی تھے کہ یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی جس میں ﴿رَاعِنَا﴾ کہنے کی ممانعت فرما دی گئی، اور اس معنی کا دوسرا لفظ: ﴿انْظُرْنَا﴾ کہنے کا حکم ہوا۔

اس حکم الٰہی  سےیہ مسئلہ معلوم ہوا کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی تعظیم وتوقیر، اور ان کی جناب میں کلماتِ ادب عرض کرنا فرض ہے، اور جس کلمہ میں ترکِ ادب کا شائبہ بھی ہو، وہ زبان پر لانا ممنوع ہے۔ نیز انبیائے کرام علیہم السلام کی بےادبی کفر ہے”([4])۔

امام اہل سنّت امام احمدرضاخان علیہ الرحمۃ نعتِ رسول سننے اور کہنے میں احتیاط کا دامن کس حدتک پیش نظر رکھا کرتے تھے،اس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے، کہ ایک بار امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان کی بارگاہ میں کسی نے نعت شریف سنانے کی خواہش کا اظہار کیا،  آپ علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ “سِوا دو2 کے کلام کے کسی کاکلام میں قصداً نہیں سنتا: مولانا کافی اور حَسن میاں مرحوم (حضرت مولانا حسن رضا خان) کا کلام، اوّل سے آخر تک شریعت کے دائر ہ میں ہے، حَسن میاں مرحوم کو میں نے نعت گوئی کے اُصول بتا دیے تھے، اُن کی طبیعت میں ان کا ایسا رنگ رَچا کہ ہمیشہ کلام اسی معیارِ اِعتدال پر صادِر ہوتا، جہاں شُبہ ہوتا مجھ سے دریافت کر لیتے، حَسن میاں مرحوم نے ایک مقطع میں اس کی طرف اشارہ کیا کہ ؏

بھلا ہے حَسنؔ کا جنابِ رضا سے

 بھلا ہو الٰہی جنابِ رضا کا!([5])

غرض ہند ی نعت گویوں میں اِن دو2 کا کلام ایسا ہے، باقی اکثر دیکھا گیا کہ قدم ڈگمگا جاتا ہے، اور حقیقتاً نعت شریف لکھنا نہایت مشکل ہے جس کو لوگ آسان سمجھتے ہیں، اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے، اگر بڑھتا ہے تو اُلُوہیت (خدائی) میں پہنچا جاتا ہے، اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے”([6])۔

پھر فرمایا کہ “وہ الفاظ جو معشوق مَجازی کے لیے آتے ہیں، جیسے رَعنا، دِل رُبا، نعت شریف میں ممنوع ہیں، نہ تشبیہاتِ تانیثی جیسے لیلیٰ کا استعمال”([7])۔

میرے محترم بھائیو!  بحیثیت مسلمان ہم سب کی یہ ذمّہ داری ہے، کہ حضور نبئ رحمت ﷺ کی وہ تعریف ومدح جو قرآن وحدیث اور مستند کتبِ سیر میں منقول ہے، وہ خود بھی پڑھیں اور حسبِ مناسبت دوسروں تک بھی اچھے طریقہ سے پہنچائیں، لیکن  اس ذمّہ داری کو بجا لانے سے قبل اس کے متعلقہ آداب سے آگاہی، اور انہیں ملحوظ خاطر رکھنا ازحد ضروری ہے، جو بھی شخص نبئ کریم رؤف ورحیم ﷺ کی مدح سرائی کے لیے قلم اٹھائے، یا اپنے لبوں کو جنبش دے ،اس پر لازم ہے کہ محبوبِ خدا A کے مقام ومرتبہ کوپیش نظر رکھے، اور ہرگز ایسا کوئی لفظ یاشعر نہ کہے جس سے اللہ کے محبوب کی توہین یاتنقیص کاکوئی ادنیٰ سا بھی پہلو نکلتاہو! یا اس کاکوئی شائبہ بھی ہو!۔

اپنے کلام یا اَشعار میں ان کی عظمت کوخوب بیان کرے، حتَی الاِمکان اسم شریف کے ساتھ ندا کرنے کے بجائے، حضور کے شایانِ شان اَلقابات کا استعمال کرے، نعت کہتے یا سنتے ہوئے ہمہ تن گوش ہو کر، مؤدَّبانہ طریقے سے سماعت کرے، اورتصوُر ہی تصوُر میں خودکو دربارِ رسالت ﷺ میں حاضر جانے، اور اللہ B کے اس فرمان کو پیش نظر رکھے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ﴾([8]) “اے ایمان والو! اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اپنی آوازیں اونچی مت کرو! اور ان کے حضور چلّا کر بات نہ کہو! جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو؛ کہ کہیں تمہارے عمل برباد نہ ہو جائیں اور  تمہیں خبر تک نہ ہو!”۔

صدر الاَفاضل علّامہ سیِّد نعيم الدين مرادآبادى علیہ الرحمہ لكھتے ہیں کہ “اس آیتِ مبارکہ میں حضور نبئ كريم ﷺ کا اِجلال واِکرام اور ادب واحترام تعلیم فرمایا گیا ہے، اور حکم دیا گیا ہے کہ ندا کرنے میں ادب کا پور ا لحاظ رکھیں! جیسے آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہیں اس طرح نہ پکاریں! بلکہ کلماتِ ادب وتعظیم وتوصیف وتکریم، اور اَلقاباتِ عظمت کے ساتھ جو عرض کرنا ہو عرض کرو!؛ کہ ترکِ ادب سے نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے”([9])۔ لہذا نعت شریف بھی ان اَحکام کے پیشِ نظر انتہائی ادب واحترام کے ساتھ لکھی اور پڑھی جانی چاہیے!!۔

حضراتِ گرامی قدر! ہم جب دَورِ حاضر کے شعراء کے کلام اور انہیں پڑھنے والے نعت خواں حضرات کا حال دیکھتے ہیں، تو اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعر یا نعت خواں نے کسی نہ کسی فلمی گانے کو معیار بنا کر، یا سامنے رکھ کر کلام لکھا ہے، اور یہی حال نعت خواں حضرات کا ہے کہ بسااوقات مکمل کسی گانے کی طرز پر نعتیہ اَشعار پیش کرتے ہیں، جس سے نعت شریف کے اصل مقصد عشقِ رسول ﷺ کے حصول  اور اس میں اضافہ کے بجائے، سننے والے کا ذہن فوراً اس گانے کے فسقیہ اَشعار  اور بیہودہ کلام کی طرف مبذول ہو جاتا ہے، جبکہ مقصدِ اصلی فَوت ہو کر رہ جاتا ہے۔

اسی طرح دَوران محفل ہونے والی حرکات وسکنات محفلِ نعت کے تقدُس کو پامال کر رہی ہیں، نعت خواں حضرات اپنے مخصوص رقص نما انداز میں خوب ہل جل کر، اور عوام کو بھی ان حرکات پر اکسا کر، پڑھے جانے والے کلام کی رُوح کو بھی زائل کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان نعتوں کو پڑھنے والے اور سننے والے بھی اسی طرح ہاتھ لہراتے ہوئے جھومتے ہیں، جس طرح کسی میوزیکل پروگرام (Musical Program) کے شرکاء کرتے ہیں؛ کیونکہ ان کے جذبات پر اس لَے اور لحن کا ایک خاص اثر طاری ہوتا ہے، جو کسی گانے کی طرز سے یہ حضرات لیتے ہیں، اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بمشکل اپنے آپ کو رقص کرنے سے روک رہے ہیں۔ پھر اس دَوران محفل، رَقّاصاؤں پر لُٹائے جانے والی رقم کی مانند، نعت خوانوں پر پیسے لُٹانے والے، ان محافل کے مزید ادب واحترام کو تار تار کر دیتے ہیں، جو کہ کسی صورت قابلِ ستائش نہیں، بلکہ انتہائی قابلِ مذمّت عمل ہے۔

پھر ان حلقوں میں وعظ وتقریر کی جگہ نعتوں کو فَوقیت واہمیت دی جاتی ہے، اور علمائے کرام کی جگہ ثنا خوانوں کو پذیرائی ملتی ہے، اس افسوس ناک صورت حال نے اس حلقے میں علماء کو صفِ دُوم اور مُغنّیوں اور گلوکاروں کو صفِ اوّل میں کھڑا کرکے بچی کُچی علمی روایت کو بھی فنا کرنے کا عملی سامان مہیا کر دیا ہے، جو کہ ہمارے دَور کاایک بہت بڑا المیہ ہے، حالانکہ علماء وارثِ انبیاء ہیں!۔

حضراتِ ذی وقار! مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے علم وعلماء کے فضائلِ عالیہ ارشاد فرمائے، ايك حدیث پاک میں فرمایا: «إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَاراً وَلَا دِرْهَماً، وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ»([10]) “علماء انبیاء کے وارث ہیں، انبیاء نے اپنے ترکہ میں درہم ودینار نہیں چھوڑے، بلکہ انہوں نے اپنا ورَثہ علم کی صورت میں چھوڑا، تو جس نے علم حاصل کیا، اس نے ان کی وراثتِ علم سے بڑا حصہ پا لیا!”۔

ایک اَور حدیث پاک میں ہے: «إِنَّ مَثَلَ الْعُلَمَاءِ فِي الْأَرْضِ، كَمَثَلِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ، يُهْتَدَى بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، فَإِذَا انْطَمَسَتِ النُّجُومُ، أَوْشَكَ أَنْ تَضِلَّ الْهُدَاةُ»([11]) “علماء کی مثال ایسى ہے جیسے آسمان میں ستارے، جن سے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کیا جاتا ہے، اور اگر یہ ستارے مٹ جائیں تو راستہ چلنے والے بھٹک جائیں گے!”۔

علّامہ علی قاری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: “خلاصہ” میں ہے: جو شخص دف اور ڈانڈیوں پر قرآن پڑھے گا اس کی تکفیر کی جائے گی۔ میں (ملّا علی قاری) کہتا ہوں: اللہ تعالی کا ذکر اور نعتِ مصطفی ﷺ دف اور ڈانڈیوں کے ساتھ پڑھنے  کا حکم بھی اس (یعنی کفر) کے قریب تر ہے، اور اسی طرح ذکرِ الہی پر تالیاں بجانے کا حکم ہے”([12])۔

سرکار مفتئ اعظم مصطفی رضا خان علیہ الرحمہ سے مسئلہ پوچھا گیا کہ “دف بجا کر قصائد، نعت اور حالتِ قیامِ میلاد شریف میں صلاۃ وسلام پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟ (دف مع جھانج ہوتو  کیا حکم، اور بلا جھانج ہو تو  کیا حکم)؟

آپ علیہ الرحمہ نے جواباًارشادفرمایا کہ ہرگز نہ چاہیے! ظاہر ہے کہ یہ سخت سُوءِ ادب ہے، اور اگر جھانج بھی ہوں یا اس طرح بجایا جائے کہ فنِ (موسیقی) کے قواعد پر گت (طرز وسُر) پیدا ہو، جب تو حرام اشدّ حرام ہے، حرام در حرام ہے!([13])۔

میرے محترم بھائیو! اہلِ سنّت کے مرکزی دار الاِفتاء بریلی شریف انڈیا سے نعت خوانی  کی اس جدید لہر کی حرمت وممانعت پر (جس میں دف یا ذکر کو اس انداز سے دَورانِ کلام پیش کیا جاتا ہے، جس سے ساز کی سی صورت پیدا ہوتی ہے) حضور تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خاں ازہری علیہ الرحمہ اور دیگر اکابر  کا فتویٰ شائع ہو چکا ہے، کہ ایسی نعت خوانی جس میں آلاتِ لہو ولعب کی صدائیں پیدا ہوتی ہوں، اَشدّ ناجائز اور طریقۂ فُسّاق ہے([14])۔

تو پھر گانوں کی طرز پر اور رقص نما مختلف عجیب وغریب حرکات وسکنات کا ارتکاب کر کے نعت شریف پڑھنا بھی رَوا نہیں! لہذا ایسی حرکات سے اجتناب بہت ضروری ہے! لیکن بدقسمتی سے جہالت اور ہَوسِ زر میں مبتلا بعض لوگ بےادبی سے کلام پڑھ کر اُمّت ميں ایک نیا بیج بو رہے ہیں، جو کہ اب  ناسُور بنتا جا رہا ہے، لہذا نعت خواں حضرات کو چاہیے کہ درج ذیل آداب کا لحاظ ضرور رکھیں:

عزیزانِ محترم! نعت خوانی کے آداب میں درج ذیل باتیں خصوصی اہمیت کی حامل ہیں:

(1) ہو سکے تو نعت خواں با وُضو ہو كر نہایت ادب واحترام اور عقيدت کے ساتھ، عشق رسول اللہ ﷺ کو دل میں جاگزیں کر کے، خُلوص ومحبت سے سرشار ہو کر، سر جھکائے نعت رسول مقبول ﷺ پڑھے۔

(2) نعت پڑھنے والے کے دل میں اللہ کے حبیب ﷺ کی محبت جلوہ گر ہوتی ہے، اس ليے وہ جتنی دیر نعت خوانی میں مصروف رہے، خود کو عبادتِ الٰہی میں مصروف ومگن تصوُر کرے، اور نعت پڑھنے کا حق ادا کرتے ہوئے خوش گلوئی اپنائے، اپنی آواز کو بے ہنگم زیر وبم سے بچائے! نیز گلوکارانہ راگ، حرکات اور لچکہ بازی سے پرہیز کرے!۔

(3) فنِ تجوید وقراءت کی طرح نعت خوانی بھی فی زمانہ ایک پاکیزہ فن کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے، مگر نعت خوانی کو کاروبار یا دھندہ بنا لینا، اس فن کے تقدُس کو پامال کرنے کے مترادِف ہے، چہ جائے کہ نعت خوانی  کو روزگار بنا لیا جائے، اور اس ضمن میں ہر جائز ونا جائز طریقہ اپنا کر، اس سے مال کمانے کے حَربے استعمال کيے جائیں۔

اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ نہ نعت خوانی سے مخلص تصوُر کیا جاتا ہے، اور نہ ہی اللہ ورسول کی سچی محبت وعقیدت سے سرشار گردانا جائے گا، ایسے نعت خواں کے ليے لازم ہے کہ وہ تقدُسِ شانِ رسول ﷺ کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے، اس کے مَحاسن کو پہچانے! جس طرح نعت گوئی میں امام اہل سنّت امام احمد رضا خانعلیہ الرحمہ نے حقِ شانِ محمد ﷺ ادا کرتے ہوئے نعتیں تحریر فرمائی ہیں، اسی طرح نعت خواں حضرات کو بھی ادب واحترام سے نعت خوانی کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں، لہذا نعت گو شعراء حضرات میں سے ایسے صاحبانِ علم کی لکھی نعتیں پڑھیں جن کے کلام میں ادب واحترام اور شرعی تقاضے بھی پورے کيے گئے ہوں!۔

(4) ہمارے اس زمانے میں اکثر مُشاہدہ میں آیا ہے، کہ کچھ لوگ بدبودار مکروہ اشياء سے لُطف اندوز ہوتے پنڈال میں پھرتے رہتے ہیں، اور جیسے ہی اسٹیج سے اس کا نام پکارا جاتا ہے، پُھدک کر پہنچ گئے اور نعت پڑھنا شروع کر دی! یہ انداز کسی طرح درست نہیں! اللہ B کے حبیبِ کریم D کی شان بیان کرنے والے کو تو کبھی بدبودار چیز کا استعمال کرنا ہی نہیں چاہيے، ادب واحترام کے تقاضے پورے کرتے ہوئے جو کوئی نعت خواں نعت پڑھے گا، یقین جانیے کہ اس کی آواز میں اللہ تعالی لحنِ داؤدی والا اثر ڈال دے گا، اس کی نعت گوئی سننے والوں کے دِلوں پر اثر کرے گی! اور جو شخص احترام وآدابِِ نعت خوانی برُوئے کار نہیں لا سکتا، اس کی دنیا وآخرت کے ليے بہتر یہ ہے کہ وہ نعت گوئی یا نعت خوانی جیسے مقدّس عمل سے دُور ہی رہے!۔

(5) کاش کہ اہلِ ذَوق اور عاشقانِ رسول کے تقویٰ کو  مشعلِ راہ بنا کر نعت گوئی یا نعت خوانی  کی جائے تو سبحان اللہ! جو مَراتب میسر آئیں گے وہ رُوحانیت کی معراج ہو گی! فارسی كا یہ شعر ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ شاعر نے کس ادب وتقوی کا اظہار کیا ہے! فرماتے ہیں: ؏

ہزار بار بشویم دہن ز مشک و گلاب ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است!([15])

“عطر وگلاب سے اگر ہزار بار بھی اپنا منہ دھوؤں

پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ اس منہ سے سرکار کا نام لینا كمال بے ادبی ہے!”

تو جن لوگوں نے كمال ادب واحترام کا خیال رکھا، انہیں زندگانی ہی میں سرکارِ دوعالم ﷺ نے اپنے دیدار سے نوازا، امام شرف الدّین بُوصیری علیہ الرحمہ، مولانا جامی علیہ الرحمہ اور دیگر بےشمار مثالیں ہمارے سمجھنے کے ليے بہت ہیں، یقیناً ان حضرات کو یہ مَراتب نبئ پاک ﷺ کی ادب و احترام کے ساتھ، تعریف وتوصيف کے صلے میں ملے ہیں۔

عزيز دوستو! ایک زمانہ وہ تھا کہ جب نعت خواں حضرات نعت شریف پڑھتے تو محفل پر سکتہ طاری ہو جایا کرتا، فراقِ مدینہ اور یادِ حبیبِ كريم ﷺ میں ہر آنکھ اشکبار ہوا کرتی! اور ایک زمانہ آج کا ہے کہ نِت نئی خُرافات اور غیرشرعی اُمور شامل کر کے نعت خوانی جیسے مقدّس کام کی اصل کو مجروح ومطعون ومشکوک بنایا جارہا ہے!۔

میرے محترم بھائیو! امامِ اہلِ سنّت علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ داڑھی منڈا، یا کترنے والا، یا داڑھی چڑھانے والا، میلاد شریف پڑھ سکتا ہے یانہیں؟ آپ علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا کہ “ان لوگوں سے میلاد شریف نہ پڑھوایا جائے، “تبیین الحقائق” میں ہے: “لأنّ في تقدیمِه تعظیمَه، وقد وجبَ علیهم إهانتُه شرعاً”([16]) “اس ليے کہ اس کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے، حالانکہ لوگوں پر شرعی طَور پر فاسِق کی توہین ضروری ہے”([17])۔

داڑھی حدِ شرعی سے کم کرنے والا اور منڈانے والا، دونوں فاسق مُعلِن ہیں، کھلم کھلا گناہ کا اِرتکاب کرنے والاہے، اور وہ نعت خواں جو داڑھی منڈاتے اور حدِشرعی سے کم کرنےوالے ہیں، وہ فاسق معلِن ہیں، اور ایسے نعت خواں کو اسٹیج  یا منبر پر بیٹھا کر نعت سننا، یہ فاسق کی تعظیم ہے، اور فاسق کی تعظیم شرعاًممنوع ہے، لہذا فاسق مُعلِن سے نعت خوانی  کروانا بھی ممنوع ہے([18])۔

حضراتِ محترم! ایسا نہیں کہ دَورِ حاضر میں اب کوئی نعت خواں باادب ومخلص نہ رہا، بلکہ ایسے نعت خواں حضرات بھی موجود ہیں جو حافظ قرآن ہیں (ہر سال تراویح پڑھاتے ہیں) قاری، عالم، خطیب وواعظ، مسائلِ شرعيہ پر کافی دسترس اور وسیع معلومات ركھنے والے، متقی پرہیزگار، باادب وسنجیدہ نعت گو شاعر ونعت خواں، علمائے کرام کے نہایت مؤدّب اور صحبت یافتہ، اپنا ذاتی کاروبار یا ملازمت اختیار كرتے ہوئے، نعت خوانی کو ذریعۂ مُعاش نہ بنانے والے، قوم کی جیبوں پر نظر نہ رکھنے والے، سنّى صحیح العقیدہ، غیر شرعی کلام سے اجتناب کرنے والے، علمائے اہلِ سنّت، بالخصوص امامِ اہلِ سنّت، عاشقِ ماہِ رسالت، امام  احمد رضا خان علیہ الرحمہ کا نعتیہ کلام، انتہائی خوبصورت انداز سے پڑھنے والے، مخلص اور شیریں نعت خواں، لحن ولگن میں سوزِ حسّان، جذبۂ بلالی، عشقِ اُویسی اور فیضانِ جامی رکھنے والے حضرات اب بھی موجود ہیں۔

ایسے پڑھے لکھے مخلص باعمل نعت خواں حضرات، جو علماء کے صحبت یافتہ بھی ہیں، اور علمائے کرام کی تعلیمات کو اپنے آپ پر نافِذ بھی کرتے ہیں،آج اگر ہماری محافل نعت میں انہیں ترجیح دی جائے، تو مُعاشرہ کا رنگ بدل سکتا ہے، دلوں میں عشق مصطفی ﷺ کا چراغ رَوشن ہوسکتا ہے، پھر سے ہمارا کردار اور عمل سیرتِ مصطفی ﷺ کی عکّاسی کرسکتا ہے!۔

لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج نعت خوانی جیسی عبادت کو، جاہل قسم کے چند لوگوں نے کمائى کا ذریعہ بنا لیا ہے، بے عمل، بلکہ بد عمل، بداَخلاق، بد زبان، لالچ اور گانے کى طرز ولحن پر نعت شریف کو کھیل تماشا اور مذاق بنایا جارہا ہے، اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان جاہلانہ حرکات کا جواب پھر علمائے اہل سنّت کو دینا پڑتا ہے، عوام بےچارے سمجھتے ہیں کہ اسی طرح کی حرکات کا نام سُنیت ہے، نیز ایسے لوگوں کو عوام اہل سنّت کا ترجمان ومبلغ  سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ ایسی غیراَخلاقی وغیرشرعی حرکتوں کا اہلِ سنّت سے کوئی تعلق ہی نہیں، نہ ہرگز ایسے لوگ اہلِ سنّت کے نمائدے یا ترجمان ہو سکتے ہیں!!۔

دوسری طرف ہمارے عوام بھی اتنے سادہ ہیں کہ لاکھوں روپیہ ان جاہلوں پر تو نذر کر دیں گے، لیکن جو عالمِ دین وعظ ونصیحت کرے، حق بات کہے، دینی مسائل سیکھائے، اس کی بےقدری کریں گے!! لہذا گلشن حسّان كے مزیّن چند پھولوں کا ذکر کر دیا ہے؛ تاکہ عوام بھائی پھولوں اور کانٹوں میں فرق کر سکیں! اب آگے آپ کی مرضی ہے کہ عالمِ باعمل اور مخلص نعت خواں سے خوشبوئے محبت لیں! یا کاروباری، بدعمل، نوٹ خواں سے دنیوی شہرت اور اُخروی رُسوائی و ذلّت اٹھائیں، ؏

اب آپ سنبھالیں تو کام اپنے سنبھل جائیں

ہم نے تو کمائی سب کھیلوں میں گنوائی ہے!([19])

عزيزانِ گرامی قدر! نعت خوانی کی اُجرت کے بارے میں امامِ اہلِ سنّت سے سوال ہوا کہ …بعض(نعت خواں) صرف حمد ونعت پڑھتے ہیں، اور سامعین ان کی خدمت گزاری نقد وجنس سے کرتے ہیں، یہ امر مساجد وغیر مساجد میں مُباح ودرست ہے یا نہیں؟ اور یہ آمدنی ان کے واسطے درجۂ جواز میں ہے یا عدمِ جواز میں؟ یہ لوگ ماتحت آیۂ مبارکہ: ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا بِالْاٰخِرَةِ﴾([20]) “یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی” کے داخل ہیں یا خارج؟

امام اہلِ سنّت علیہ الرحمہ نے جواباً ارشادفرمایاکہ “اگر وعظ کہنے اور حمد ونعت پڑھنے سے مقصود یہی ہے کہ لوگوں سے کچھ مال حاصل کریں، تو بےشک اس آیۂ مبارکہ کے تحت میں داخل ہیں، اور حکم: ﴿لَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَمَنًا قَلِيْلًا﴾([21]) “میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو” کے مخالف ہیں، وہ آمدنی ان کے حق میں خبیث ہے، خصوصاً جبکہ ایسے حاجتمند نہ ہوں جن کو سوال (مانگنے) کی اجازت ہے؛ کہ اب تو بےضرورت سوال دوسرا حرام ہوگا، اور وہ آمدنی خبیث تر وحرام مثلِ غصب ہے۔ “عالمگیریّہ” میں ہے: “ما جمع السّائلُ من المال فهو خبیثٌ”([22]) “سائل (مانگنے والے) نے جو کچھ مال جمع کیا وہ (خبیث) ناپاک ہے”۔ دوسرے یہ کہ وعظ وحمد ونعت سے ان کا مقصود محض اللہ ہے، اور مسلمان بطور خود ان کی خدمت کریں، تو یہ جائز ہے اور وہ مال حلال ہے([23])۔

میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! اس فتوی سے واضح ہوا کہ جس طرح آج کل وعظ اور حمد ونعت کہنے سے پہلے جو مال کا مطالبہ وتقاضا کیا جاتا ہے ناجائز ہے،  اور وہ رقم لینا بھی حرام ہے، لہذا اس طرح کے غیرشرعی اُمور سے اجتناب کرنا بہت ضروری ہے!۔

اے اللہ!  ہمیں اسلامی تعلیمات کے مطابق نعت لکھنے، پڑھنے اور سننے کی توفیق عطا فرما، فاسق وفاجر نعت خوانوں کو اپنی محافل سے دُور رکھنے کی سوچ عطا فرما، اپنے علماء کا ادب واحترام کرنے کا جذبہ عنایت فرما، اور شریعتِ مطہَّرہ کے اَحکام پر عمل پیرا ہونے  کی توفیق عطا فرما،  آمین یا ربّ العالمین!۔


([1]) “دیوان حسّان بن ثابت” قافیة الألف، خُلقتَ کما تشاء، صـ21.

([2]) “صحيح البخاري” كتاب الصّلاة، باب الشِعر في المسجد، ر: 453، صـ78.

([3]) پ1، البقرة: 104.

([4]) “تفسیر خزائن العرفان” پ1، البقرة، زيرِ آيت: 104،؃ 34۔

([5]) “ذَوقِ نعت” یہ اِکرام ہے مصطفی پر خدا کا،؃ 16۔

([6]) “الملفوظ” لفظ رَعنا کا نعت شریف میں اِطلاق جائز نہیں، حصّہ دُوم،؃39-41، ملتقطاً۔

([7]) “حياتِ اعلى حضرت” نعت لکھنا تلوار کی دھار پر چلنا ہے، 1/349، 350 ۔

([8]) پ26، الحُجرات: 2.

([9]) “تفسیر خزائن العرفان” پ26، الحجرات، زيرِ آيت: 2،؃ 922۔

([10]) “سنن أبي داود” کتاب العلم، باب في فضل العلم، ر: ٣٦٤١، صـ٥٢٣.

([11]) “مسند الإمام أحمد” مسند أنس بن مالك …إلخ، ر: ١٢٦٠٠، ٤/٣14.

([12]) “مِنح الروض الأزهر” فصل في القراءة والصّلاة، صـ456.

([13]) “فتاوى مفتئ اعظم” كتاب الحظر والاِباحۃ، نعت اور ميلاد …الخ، ۵/21۶، 217، ملتقطاً ۔

([14]) ديكھیے: ماہنامہ “ساحل” کراچی، دسمبر ۲۰۰۵ء، اُویس قادرى: مولانا …الخ،؃ 44- 46۔

([15]) “اردو ریسرچ جنرل” آن لائن اکتوبر 2017ء، نعت گوئی کی روایت اور نعت گو شعراء، کلام ہمام الدین علاء التبریزی۔

([16]) “تبیین الحقائق” باب الإمامة والحدث في الصّلاة، الجزء 1، صـ134، ملتقطاً.

([17]) “فتاوی رضویہ” کتاب الحظر والاِباحۃ، داڑھی منڈے یا کترنے …الخ، ۱6/436، ملتقطاً۔

([18]) “دَورِ حاضر کی محفلِ نعت شریعت کے آئینے میں” داڑھی کٹے اور منڈے …الخ،؃  10۔

([19]) “حدائقِ بخشش” سنتے ہیں کہ محشر میں صرف ان کی رَسائی ہے، حصّہ اوّل، ؃ 193۔

([20]) پ١، البقرة: ٨٦.

([21]) پ١، البقرة: 41.

([22]) “الهندیّة” کتاب الکراهیة، الباب ١٥ في الكسب، ٥/٣٤٩.

([23]) “فتاوی رضویہ” کتاب الحظر والاِباحۃ، خطبہ کے وقت چندہ مانگنا …الخ، 16/79، 80،  ملتقطاً۔

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *