استقبالِ رمضان

Home – Single Post

Ramadan Blessing

الحمد لله ربّ العالمين، والصّلاةُ وَالسّلامُ عَلى خاتم الأنبياءِ وَالمرسَلين, وعَلى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجمَعِيْن، وَمَن تَبِعَهُم بِإحْسَانٍ إِلى يَوْمِ الدِّين، أَمّا بَعد: فَأَعُوذُ بِالله مِنَ الشّيطانِ الرَّجِيْم، بِسْمِ الله الرَّحْمنِ الرَّحِيْم.

حضور پُرنور، شافعِ یومِ نُشور ﷺ کی بارگاہ میں ادب واحترام سے دُرود وسلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اللَّهُمَّ صلِّ وسلِّمْ وبارِكْ علَى سيِّدِنَا ومولانا وحبيبِنا مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِهِ وصَحبِهِ أجمعين.

ميرے  بزرگو ودوستو! جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، کہ عنقریب ‌دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے، رَحمتوں والے مہینے رمضان شریف کی آمد آمد ہے، رمضان المبارک میں‌ قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے، سمجھنے، اس پر عمل کرنے، اور اس کی تعلیمات وبرکات دوسروں تک پہنچانے کے بےشمار مَواقع میسر آتے ہیں۔ روزہ، نماز، قرآنِ پاک، نوافل اور دیگر اَذکار واَوراد، انسان کے اندر تقویٰ اور خوفِ الٰہی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ آئیے ہم سب مل كر رمضان المبارک کا استقبال کریں،‌اور اس کے مبارک لمحات بہترین انداز سے گزارنے کا عہد کریں!۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :فضائلِ عشرۂ ذی الحجّہ

روزے کی فرضیت وتعریف

روزوں کی فرضیت کا بیان کرتے ہوئے، خالقِ کائنات ﷻ ارشاد فرماتا ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾([1]) “اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہيں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے”۔ اس آیتِ مبارکہ میں روزے کی فرضیت کا بیان ہے، روزہ شریعتِ اسلامیہ میں اس بات کا نام ہے، کہ مسلمان چاہے مرد ہو یا عورت، صبحِ صادق سے غروبِ آفتاب تک، بہ نیّتِ عبادت، کھانا پینا اور مُجامَعت ترک کر دے۔ اس آیتِ مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا، کہ روزہ عبادتِ قدیمہ ہے، زمانۂ سیِّدنا آدم C سے تمام شریعتوں میں فرض ہوتا چلا آيا ہے، اگرچہ ایّام واَحکام مختلف تھے، مگر اصلاً روزے سب امّتوں پر لازم رہے([2])۔

میرے محترم بھائیو! روزہ ہجرتِ نبوی کے دوسرے سال فرض ہوا، روزہ تقوی وپرہیزگاری کا ایک اَہم ذریعہ ہے؛ کیونکہ گناہوں کا ایک سبب نفس ِ امّارہ ہے، اور روزہ رکھنے سے نفسِ امّارہ کمزور پڑ جاتا ہے، لہذا فرضيتِ صَوم كى اس پیاری حکمت کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ﴾([3]) “تاکہ تم متقی وپرہیز گار بن جاؤ!”۔ مفسّرینِ کرام فرماتے ہیں کہ “روزے کا مقصدِ اعلیٰ، اور اس سخت رِیاضت کا پھل یہ ہے، کہ تم متقی اور پاکباز بن جاؤ، روزے کا مقصد یہ نہیں کہ صرف کھانے پینے اور جِماع سے پرہیز کرو، بلکہ تمام برے اَخلاق اور اعمالِ بَد  سے انسان مکمل طَور پر کنارہ کشی اختیار کرے۔ تم پیاس سے تڑپ رہے ہو، تم بھوک سے بےتاب ہو رہے ہو، تمہیں کوئی دیکھ بھی نہیں رہا، ٹھنڈا پانی اور لذیذ کھانا پاس رکھا ہے، لیکن تم ہاتھ تو کُجا، آنکھ اُٹھا کر اُدهر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے، اس کی وجہ صرف یہی ہے نا، کہ تمہارے رب کا یہ حکم ہے! اب جب حلال چیزیں اپنے رب کے حکم سے تم نے ترک کر دیں، تو وہ چیزیں جن کو تمہارےرب تعالى نے ہمیشہ ہمیشہ کے ليے حرام کر دیا ہے، مثلاً چوری، رشوت، بددیانتی وغیرہ حرام کاریاں، اگر یہ خیال پختہ ہو جائے، تو  کیا تم ان کا اِرتکاب کر سکتے ہو؟ ہر گز نہیں!۔

مہینہ بھر کی اِس مشقّت کا مقصد یہی ہے، کہ تم سال کے باقی  گیارہ11 ماہ بھی اللہ تعالی سے ڈرتے ہوئے  حرام سے اجتناب کرو۔ لہذا جو لوگ روزہ تو رکھ لیتے ہیں، لیکن جھوٹ، غیبت، بدنظری، فحش کلامی اور گالی گلوچ وغيره برائیوں سے باز نہیں آتے، ان سے متعلق سرکارِ اَبَد قرار ﷺ نے واضح الفاظ میں فرما دیا: «مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ!»([4]) “(جس نے روزہ رکھنے کے باوجود) جھوٹ اور اُس پر عمل نہیں چھوڑا، رب تعالی کو اُس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں”([5])۔

میرے بزرگو ودوستو! روزے میں جہاں مسلمان کھانے پینے، اور نفسانی خواہشات سے اپنے آپ کو روكے رکھتا ہے، وہیں اسے چاہیے کہ جھوٹ، غیبت وغیرہ گناہوں سے بھی باز رہے؛ تاکہ تقویٰ وپرہیزگاری حاصل ہو، اور یہی روزے کا مقصد ہے۔ حضرت سیِّدنا علی المرتضیٰ ﷛ سے روایت ہے: «إِنَّ الصِّيَامَ لَيْسَ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ، وَلكِنْ مِنَ الْكَذِبِ وَالْبَاطِلِ وَاللَّغْوِ»([6]) “روزہ صرف کھانے پینے سے باز رہنے کا نام نہیں، بلکہ روزہ جھوٹ، گناہوں، اور بےكار چيزوں سے بھی بچنے کا نام ہے”۔

لہذا چاہیے کہ ہم ابھی سے رمضان شریف کی تیاری شروع کر دیں، نمازوں کی پابندی، اپنی زبان کی حفاظت كريں، غيبت وچغلى، گالی گلوچ، سخت کلامی اور بدنگاہی سے اجتناب کریں۔ حضرت سیِّدنا جابر بن عبد اللہ ﷛ سے روایت ہے: «إِذَا صُمْتَ فَلْيَصُمْ سَمْعُكَ وبَصَرُكَ وَلِسَانُكَ عَنِ الْكَذِبِ وَالْمحَارِمِ، ودَعْ أذَى الخادمِ، وَلْيَكُنْ عَلَيْكَ وَقَارٌ وَسَكِينَةٌ يَوْمَ صِيَامِكَ، وَلَا تَجْعَلْ يَوْمَ فِطْرِكَ وَصَوْمِكَ سَوَاءً!»([7]) “جب تم روزہ رکھو تو اپنے کان، آنکھ، اور زبان کو جھوٹ اور ديگر تمام گناہوں سے روكے رکھو! اور اپنے خادم وملازِم کو اَذیّت دینے سے باز رہو! روزے میں وقار واطمینان سے رہو! رمضان اور غير رمضان میں ایک جیسے مت رہو!”۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ روزہ رکھ کر انسان دوسروں کے ليے اَذیّت کا باعث، یا دوسروں پر بوجھ  بن جائے!۔

ناصرف دن میں ٹائم پاس کرنے کے لیے، موبائل فونز وغیرہ کے ذریعے، فضولیات وبےحیائی کے ذرائع، فحش ومنکَرات پر مبنی لٹریچر، آڈیو یا وڈیو کلپس وغیرہ سننے اور دیکھنے سے اجتناب کرنا ہے، بلکہ رمضان المبارک کی راتوں میں بھی ایسے کاموں سے بچنا ہے، جو لوگوں یا خود اپنی آخرت کے لیے نقصان اور اَذیّت کا باعث ہوں۔ جیسا کہ بعض شہری علاقوں میں باقاعدہ کرکٹ، فٹ بال وغیرہ کے میچز کی زینت بننا، خود کھیلنا یا تماشائی بن کر کھیلنے والوں کی حوصلہ افزائی   کرنا، شور شرابا کرکے کسی کے آرام، یا کسی کی عبادت میں خلل انداز ہونا قابلِ مذمّت ہے، یہ وہ کام ہیں جن کے باعث روزہ کی برکات زائل ہو جاتی ہیں، بلکہ روزے کا زندگی پر یہ اثر ہو، کہ نرمی وآسانی، عفو ودرگزر کا مُظاہرہ كرے؛ تاکہ اللہ ورسول کی نافرمانی سے ہمیشہ کے لیے نَجات مل جائے!۔

حضراتِ محترم! خالقِ کائنات ﷻ ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ﴾([8]) “گنتی کے دن ہیں”۔ یعنی انتیس29، یا تیس30 دن (تقریباً ایک ماہ فقط) اس ليے گھبرانا مت، جس رب تعالى نے تمہیں گیارہ11 ماہ کھلایا پلایا، اگر ایک ماہ، وہ بھی صرف دن کے وقت، کھانے پینے سے منع فرما دے، تو ضرور اُس کی اطاعت کرو، اور اس میں بھی تمہارا ہی فائدہ ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :زکات ایک بنیادی فریضہ ہے

محترم بھائیو! بعض لوگ رمضان المبارک کے  روزے رکھنے میں بھی حیلے بہانوں سے کام لیتے ہیں کہ “ہم سے نہیں رکھے جاتے، ہماری ڈیوٹی سخت ہے، روزہ رکھنا  بہت مشکل کام ہے، ہم روزہ رکھتے ہیں تو بیمار پڑ جاتے ہیں” وغیرہ وغیرہ۔ اِسی طرح کے اَور بھی بہت سے حیلے بہانے کر کے، رَحمتِ الہی سے خود ہی محروم رہتے ہیں۔ جبکہ حضرت سيِّدنا ابو ہریرہ ﷛ سے روایت ہے، مصطفیٰ جانِ رَحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «صُومُوا تَصَحُّوا!»([9]) “روزہ رکھو، صحت مند ہو جاؤ  گے!”۔

اس سے معلوم ہوا کہ خرابئ صحت کے اندیشے سے، روزہ نہ رکھنے کی سوچ غلط اور خام خيالى ہے، اس طرح بندہ خالقِ کائنا ت ﷻ کی رَحمت  سے دُور ہو جاتا ہے۔ لہذا فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے، کہ بدبختی ومحرومی کو گلے لگائیں، یا پھر ربِ ذو الجلال کےحکم، اور حضور نبئ کریم ﷺ کے فرمان ِصحت نشان پر عمل کرتے ہوئے، روزے کی برکتیں رَحمتیں حاصل کر کے، نیک بختی وسعادت مندی، کامیابی وکامرانی اور صحت کو اپنے  دامن میں سمیٹ کر، اُن کے پیارے بن جائيں۔

عزیز دوستو! جو شخص ایسا بیمار ہو کہ روزہ نہ رکھ سکتا ہو، اس کے لیے دینِ اسلام میں رخصت ہے، ارشادِ خداوندی ہے: ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ﴾([10]) “تو تم میں سے جو کوئی بیمار، یا سفر میں ہو، تو اتنے روزے اَور دنوں میں پورے کرے”۔ یعنی ایسا بیمار ہو کہ روزہ اُسے شديد نقصان دے، تو اسے صحتیابی تک روزہ مؤخَّر کرنے کی اجازت ہے، لیکن جس بیمار کو روزہ شديد نقصان نہ دے، اسے روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں۔

اور وہ سفر جس پر شرعی اَحکام مرتَّب ہوں، یعنی ۹۲ کلو میٹر مَسافت طَے کرنے کی، اور وہاں جاکر پندره15 دن سے کم ٹھہرنے کی نیّت سے چلا ہو، يا اس  کے علاوہ اگر كوئى اَور شرعی عذر ہے، یا حاملہ، یا دودھ پلانے والی خاتون، تو اِن تمام خواتین وحضرات کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، ان کے جتنے روزے چُھوٹیں، وہ رمضان کے بعد  اُن کی قضا کر لیں، لیکن پھر بھی رمضان شریف میں روزہ رکھنا ہی ان کے حق میں بہتر ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾([11]) “اگر تم جانو تو روزہ رکھنا تمہارے ليے زیادہ بھلا ہے!”۔ تو معلوم ہوا کہ مسافر کو اگرچہ روزہ قضا کرنے کی اجازت ہے، مگر روزہ رکھ لینا اس کے لیے زیادہ بہتر ہے([12])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حقوق العباد

عزیز دوستو! ہمارے گھر، خاندان اور مُعاشرے میں‌کئی اَفراد ایسے تھے، جو پچھلے رمضان المبارك میں‌ہمارے ساتھ تھے، لیکن آج وہ ہمارے درمیان‌نہیں رہے،‌وہ حضرات اپنی منزل کو پہنچ چکے ہیں، یقیناً ہم سب کو بھی ایک دن اِس دارِ فانی سے دارِ آخرت کی طرف کُوچ کرنا ہے، لہذا جسے یہ مبارک مہینہ نصیب ہو،‌وہ بڑا ہی خوش بخت اور سعادتمند ہے۔ حضرت سيِّدنا ابو ہریرہ ﷛ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ»([13]) “جب رمضان کا مہینہ آتا ہے،تو جنّت کے دروازےکھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین  کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے”۔

اللہ تعالی نے اس ماہِ مبارک کو بہت سے فضائل وخصوصیات کے ساتھ، دیگر مہینوں سے ممتاز مقام ومرتبہ عطا فرمایا ہے، اس مبارک ماہ میں قرآن مجید کا نُزول ہوا، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ﴾([14]) “رمضان وہ مبارک مہینہ ہے، جس میں قرآن پاک اُتارا گیا”۔

اس ماہِ مبارک کے استقبال کی ایک صورت یہ بھی ہے، کہ ہم اس کی آمد سے پہلے ہی روزے سے متعلّق مسائل واَحکام سیکھ لیں۔ چنانچہ حضرت سيِّدنا ابو ہریرہ ﷛ سے روایت ہے، حضور نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «إِذَا نَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ، فَلْيُتِمّ صَوْمَهُ؛ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللهُ وَسَقَاهُ»([15]) “جب کوئی روزہ دار بُھول کر کھا پی لے، تو وہ اپنا روزہ پورا کرے؛ کیونکہ اُسے اللہ تعالی نے کھلایا  اور پلایا”۔

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ “یہی حکم ہر اُس چیز کا ہے، جو دوا یا غذا نہ ہو، اور بلا قصد واختیار حَلق میں اُتر جائے، جیسے دھواں اور غُبار وغیرہ۔ البتہ قصداً دھواں وغیرہ نگلنے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے، جیسے حقّہ، سگریٹ، بیڑی، بخور، اگربتی وغیرہ کا دھواں، اس میں قضا بھی ہے اور کفّارہ بھی”([16])۔ یعنی رمضان شریف کے بعد اس روزہ کی قضا کے طور پر ایک روزہ، اور کفّارہ کے ساٹھ60 روزے مسلسل رکھنے ہوں گے۔

عزیزانِ محترم! روزہ دار کے لیے خوشخبری ہے، حضرت سيِّدنا  سہل بن سعد ﷛ سے روایت ہے، حضور نبئ اکرم ﷺ نے فرمایا: «فِي الْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ، فِيهَا بَابٌ يُسَمَّى الرَّيَّانَ، لَا يَدْخُلُهُ إِلَّا الصَّائِمُوْنَ»([17]) “جنّت کے آٹھ8 دروازے ہیں، ان میں سے ایک کا نام ریّان ہے، اس دروازے سے صرف روزہ دار ہی داخل ہو ں گے”۔

حضرت سيِّدنا ابو ہریرہ ﷛ سے روایت ہے، حضور نبئ رَحمت ﷺ نے فرمایا: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَاناً وَاحْتِسَاباً، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»([18]) “جو ایمان کے ساتھ، ثواب کی خاطر رمضان کے روزے رکھے، اس کےگزشتہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں”۔

رفیقانِ گرامی قدر! ان شاء اللہ العزیز ہم سب مسلمان عنقریب رمضان المبارک کے استقبال کی سعادت حاصل کریں گے، یہ ایسا مبارک مہینہ ہے جس میں برکات عام ہوتی ہیں، رَحمتیں نازل ہوتی ہیں، نیکیوں کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، لغزشیں مُعاف کی جاتی ہیں، دعائیں قبول کی جاتی ہیں، جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنّم کے دروازے بند کر دیے جاتےہیں۔ لہذا آپ سب کو یہ عظیم مہینہ مبارک ہو! اور آپ تمام مسلمانوں کے لیے خوشخبری ہو، جو اللہ رب العزّت نے آپ حضرات کے اِعزاز میں دی ہے، جس کی بِشارت ہمارے پیارے آقا ومَولا ﷺ نے اپنے اصحابِ کرام ﷡ کو دی۔

مصطفی جانِ رحمت ﷺ فرماتے ہیں: «أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ، فَرَضَ اللهُ b عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلُّ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ، لِلهِ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ»([19]) “تمہارے پاس رمضان کا مبارک مہینہ آیا، اللہ ﷻ نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں، اس مہینے میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنّم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شریر جن وشیاطین قید کر دیے جاتے ہیں، اس ماہ مبارک میں اللہ تعالی کی طرف سے ایک ایسی بابرکت رات ہے، جو ہزار مہینوں سے افضل وبہتر ہے یعنی شبِ قدر، تو جو اِس کے ثواب سے محروم رہا وہ حقیقۃً محروم ہے”۔

حضراتِ محترم! بلا شبہ ماہِ رمضان کا تشریف لانا، رب تعالی کی ایک عظیم نعمت ہے، لہذا ہم سب پر لازم ہے کہ اس سے وہ فوائد حاصل کریں، جو ہمارے لیے دنیا وآخرت میں بھلائی کا باعث ہوں۔ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «قَالَ اللهُ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلّا الصِّيَامَ؛ فَإِنَّهُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، لِلصَّائِمِ فَرحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: (1) إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، (2) وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ»([20]).

“اللہ تعالی فرماتا ہے، کہ آدمی کا ہر عمل اُس کی اپنی ذات کے لیے ہے سوائے روزے کے؛ کہ وہ میرے لیے ہے، اور اُس کا بدلہ میں خود دُوں گا۔ روزہ عذاب سے بچانے والی ڈھال ہے، اور جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو، تو نہ فحش بات کرے، اور نہ کسی سے جھگڑے، اگر اُسے کوئی گالی دے یا جھگڑے، تو اُس سےکہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بُو، اللہ تعالی کو مُشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسند ہے، روزہ دار کے لیے دو2 خوشیاں ہیں جن سے اُسے فرحت ہوتی ہے: (1) ایک اِفطار کی خوشی، (2) اور دوسری اپنے رب تعالى سے ملاقات کی خوشی”۔

عزیزانِ گرامی قدر! ہم سب مسلمان اس عظیم موسمِ عبادات وبرکات کے اشتیاق میں ہیں؛ تاکہ  بھلائی کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اجر ِعظیم پائیں۔ تو کون ہے جو اپنے رب تعالی کی جنّت کا  امیدوار ہے؟! اور کوشش کرتا ہے کہ اُسے جہنّم سے آزاد کردہ لوگوں میں شمار کر لیا جائے؟! سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: «إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّيرانِ، فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَيُنَادِي مُنَادٍ: يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ! وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ! وَلِلهِ عُتَقَاءُ مِن النَّارِ، وَذَلكَ كُلَّ لَيْلَةٍ»([21]) “جب ماہِ رمضان کی پہلی رات آتی ہے، تو شیاطین اور سرکش جنّات کو بیڑیاں ڈال دی جاتی ہیں، جہنّم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، کہ اُن میں سے کوئی بھی دروازہ نہیں کھولا جاتا، جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اُن میں سے کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، اور ایک مُنادی پکارتا ہے، کہ اے طالبِ خیر آگے بڑھو! اور اے شرّ کے متلاشی باز آجاؤ! اور اللہ تعالی کئی لوگوں کو جہنّم سے آزاد فرماتا  ہے، اور اسی طرح کا مُعاملہ رمضان کی ہر رات میں رہتا ہے”۔

عزیز دوستو! جب ہم اس مبارک ماہ کو پائیں، اور اس مہینے کا چاند دیکھیں، تو اس وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے، ہمارے آقا رحمتِ عالمیان ﷺ دعا کرتے: «اللَّهُمَّ أَهْلِلْهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالإِيمَانِ، وَالسَّلاَمَةِ وَالإِسْلاَمِ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ!»([22]) “الہی! اس نئے چاند کا طلوع ہونا ہمارے لیے امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کا ذریعہ بنا، اے چاند! میرا اور تیرا رب اللہ ہے!”۔

لہذا ہمیں رمضان کا بہترین استقبال کرنا ہے، اس میں خوب عبادات واعمالِ صالحہ کرنے ہیں، اللہ ورسول کو خوب راضی کرنا ہے، اور اس ماہِ مبارک کی آمد سے پہلے ہی نیک کاموں کی طرف رجوع وسبقت کرنی ہے، ان شاء اللہ!

اے اللہ! شعبان کے ان بقیہ لمحات میں ہمارے لیے برکت دے، اور ہمیں بخیر وعافیت رمضان تک پہنچا دے، روزوں اور نمازِ تراویح میں ہماری مدد فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت والفت کو اَور زیادہ فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!

اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔

الٰہی! تمام مسلمانوں کی جان، مال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، جن مصائب وآلام کا انہیں سامنا ہے، ان سے نَجات عطا فرما۔ ہمارے وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین ووطنِ عزیز  کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، اُن کے درجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق  عطا فرما۔

اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام ﷡ کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے ہمیں وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّةِ أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) پ2، البقرة: 183.

([2]) “تفسیر خزائن العرفان” پ2، البقرة، زيرِ آيت: 183، ص49 ملتقطاً۔

([3]) پ2، البقرة: 183.

([4]) “صحيح البخاري” كتاب الصّوم، ر: ١٩٠٣، صـ٣٠٦.

([5]) “تفسير ضياء القرآن” البقرة، زیرِ آيت: ١٨٣، ١/١٢٣، ١٢٤ بتصرّف۔

([6]) “السنن الكبرى” للبَيهقي، كتاب الصيام، 4/209.

([7]) “شعب الإيمان” باب في الصوم، ر: 3649،  3/1344.

([8]) پ2، البقرة: 184.

([9]) “المعجم الأوسط” باب الميم، بقية اسمه ميم، ر: ٨٣١٢، ٦/١٤٧.

([10]) پ2، البقرة: 184.

([11]) پ2، البقرة: 184.

([12]) “تفسیر نور العرفان” البقرة، زیرِ آیت: ١٨٤، ص٤٢۔

([13]) “صحيح البخاري” باب صفة إبليس وجنوده، ر: ٣٢٧٧، صـ٥٤٦.

([14]) پ٢، البقرة: ١٨٥.

([15]) “صحيح البخاري” كتاب الصّوم، ر: ١٩٣٣، صـ٣١٠.

([16]) “نزہۃ القاری” باب الصائم إذا أكل أو شرب ناسياً، تحت ر: ٣٤٣، ٥/٥٤۔ و”بہارِ شریعت” کن چیزوں سے روزہ نہیں جاتا، حصہ 5، ۱/۹۸۲۔

([17]) “صحيح البخاري” باب صفة أبواب الجنّة، ر: ٣٢٥٧، صـ٥٤٣.

([18]) “صحيح البخاري” كتاب الصّوم، ر: ١٩٠١، صـ٣٠٦.

([19]) “سنن النَّسائي” كتاب الصيام، ر: 2١0٢، الجزء 4، صـ١٣١، ١٣٢.

([20]) “صحيح البخاري” كتاب الصّوم، ر: 1٩٠٤، صـ٣٠٦.

([21]) “سنن الترمذي” باب ما جاء في فضل شهر رمضان، ر: 682، صـ١٧٤.

([22]) “سنن الترمذي” باب ما يقول عند رؤية الهلال، ر: 3451، صـ٧٨٨.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *