فضائلِ عشرۂ ذی الحجّہ

Home – Single Post

Virtues of the First Ten Days of Zil-HIJJAH

الحمد لله ربّ العالمين، والصّلاةُ وَالسّلامُ عَلى سَيِّدِ الأَنبياءِ وَالمرسَلين, وعَلى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِيْن، وَمَن تَبِعَهُم بِإِحْسَانٍ إِلى يَوْمِ الدِّين، أَمّا بَعد: فَأَعُوْذُ بِالله مِنَ الشّيطانِ الرَّجِيْم، بِسْمِ الله الرَّحْمنِ الرَّحِيْم.

حضور پرنُور، شافعِ یومِ نُشور ﷺ کی بارگاہ میں ادب واحترام سے دُرود وسلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اللَّهُمَّ صلِّ وسلِّمْ وبارِكْ علَى سيّدِنَا ومولانا وحبيبِنا مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِهِ وصَحبِهِ أجمعين.

عزیزانِ محترم! خالقِ کائناتﷻ کا  مخلوق پر بےانتہاء لُطف وکرم، مہربانی واحسان  ہے، کہ اُس نے دنیاوی نعمتوں کے ساتھ ساتھ بھلائی کے لیے رہنمائی بھی فرمائی، اور کچھ ایسے اوقات مہیا کیے جن میں ہم اپنی آخرت کے لیے زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹ سکتے ہیں، انہی اوقات میں سے ایک ذوالحجہ کا مہینہ بھی ہے، جس میں بہت سی بھلائیاں جمع فرمادی ہیں، اور پھر ماہِ  ذی الحجہ کے ابتدائی دس10 دن تو انتہائی افضل واعلیٰ ہیں، ان دِنوں کو رب تعالی نے بڑی برکتوں سے نوازا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَالْفَجْر‏* وَلَيالٍ عَشْر﴾([1]) "اِس صبح اور اِن دس10 راتوں کی قسم!" مفسّرینِ کرام ان آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ "فجر سے مُراد تو صبح کی نماز ہے؛ کیونکہ اس وقت رات ودن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں، یا صبح صادق کا وقت مُراد ہےکہ اس وقت تمام مخلوق اللہ کا ذکر کرتی ہے، اور دس10 راتوں سے مُراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس10 دن اور راتیں ہیں؛ کہ ان میں حج کے اَرکان ادا کیے جاتے ہیں"([2])۔ لہٰذا یہ ایّام بہت ہی افضل و عظمت والے ہیں، ان مبارک ایّام میں اعمالِ صالحہ کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی ہے؛ تاکہ یہ مبارک گھڑیاں ہمارے لیے بخشش ومغفرت کا سبب بن جائیں۔ ذی الحجہ کا پہلے عشرہ، جس میں حج کیا جاتا ہے، اس کے فضائل بیان کرتے ہوئے  مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «أفضلُ أيّام الدُّنيا أيّامُ العَشر»([3]) "دنیا کے دنوں میں افضل ترین عشرۂ ذی الحجّہ کے دن ہیں"۔        

عزیز دوستو! عشرۂ ذی الحجّہ کے فضائل میں سے ایک یہ بھی ہے، کہ اس کا نواں دن یومِ عرفہ ہے، یہ وہی دن ہے جب اللہ تبارک وتعالی نے دینِ اسلام کی تکمیل فرمائی، اور اہلِ اسلام پر اپنی نعمت کو پورا فرمایا۔ یہی وہ عظیم دن ہے جس میں اللہ تعالی کثرت سے گنہگاروں کو جہنم کی آگ سے آزادی عطا فرماتا ہے، سرکارِ ابَدقرار ﷺ نے فرمایا: «مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللهُ فِيهِ عَبْداً مِنَ النَّارِ، مِنْ يَوْمِ عَرَفَة»([4]) “الله تعالی یوم عرفہ سے زیادہ کسی دن بندوں کو دوزخ سے آزاد نہیں فرماتا”۔  اس لیے ہر مسلمان کو عشرۂ ذی الحجہ کی قدر کرکے زیادہ سے زیادہ حصول ثواب کی فکر کرنی چاہیے۔

برادرانِ اسلام! انہی فضیلتوں میں سے ایک فضیلت عید کا دن بھی ہے، یہ دن بہت ہی سعادتمندی، مسرّت وخوشی اور اللہ ورسول کی فرمانبرداری کا دن ہے، اور بلا شبہ یہ عیدِ قربان کا مبارک دن ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم ترین دن ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللهِ يَوْمُ النَّحْرِ»([5]) “یقیناً اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم تر دن دسویں ذی الحجہ (قربانی) کا دن ہے”۔ مسلمان عیدوں میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے احسن انداز میں اس کی فرمانبرداری کے اعمال بجا لاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے جو اپنے مؤمن بندوں سے مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے، اس مغفرت  کو پا کر سعادتمند بن جاتے ہیں۔ قربانئ عید  اللہ تعالیٰ کی اسی نعمت کے شکرنہ کا ایک انداز ہے، ہم آج کے دن اللہ تعالیٰ کے اسی وعدہ وعزّت وتکریم کو پانے کے لیے حاضر ہیں، یقیناً یہ مغفرتِ کبریٰ  خصوصاً اس کے لیے ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے پاک گھر کی زیارت کا شرف حاصل کیا، یا  اس عشرۂ ذی الحجہ میں اللہ تعالیٰ کی خوب عبادت کی، بالخصوص نویں ذی الحجہ یومِ عرفہ کا روزہ رکھا، جس حاجی نے عرفات میں وقوف کرلیا وہ کامیاب ہو گیا، وہ سے اپنے گناہوں کی گندگیوں سے پاک وصاف ہو کر لوٹتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو حاصل کرتا ہے، منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے مشقتیں برداشت کرتا ہے، بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کی سعادت حاصل کرتا ہے، ایسے شخص کو رحمت کے فرشتے گھیرے رہتے ہیں، اس پر نُور اور برکتوں کی برسات ہوتی رہتی ہے۔

نیز وہ شخص بھی مبارکباد کا مستحق ہے جس نے حاجیوں کی طرح اس عشرۂ ذی الحجہ میں دن  کو روزہ رکھا، اور رات  عبادت ِ الہی میں بسر کی؛ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ذریعے اس کی رضا کا طلبگار ہے، اس کی طرف سے اپنی مغفرت کی امیدرکھتا ہے، اور ہدایت پر استقامت کی دعا کر رہا ہے۔

برادرانِ اسلام! ذی الحجہ کے ابتدائی دس10 دنوں میں اعمالِ صالحہ اللہ ورسول کو بہت پسندیدہ ہیں، ان کا ثواب بہت زیادہ ہے، رَحمتِ عالمیان ﷺ نے اِن ایّامِ مبارکہ کی اہمیت کے پیشِ نظر ہمیں اِن دنوں میں نیک اعمال کی خصوصیت کے ساتھ تاکید فرمائی ہے، حضرت سیّدنا ابنِ عبّاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ هَذِهِ الأَيَّامِ الْعَشْر»([6]) “اللہ تعالی کے ہاں ذو الحجۃ الحرام کے ابتدائی دس10 دنوں سے بڑھ کر کسی اَور دن کا عمل زیادہ پسندیدہ نہیں”۔

اس حدیثِ پاک میں موجود «العملُ الصّالحُ» ایسا لفظ ہے جو کسی مخصوص عبادت کے لیے نہیں، بلکہ ہر اُس عملِ نیک کو شامل ہے جو انسان کی استطاعت میں ہو، اور اسے اپنے رب سے قریب کر دے، اللہ A سے قُربت کا ذریعہ فرائض وواجبات کی پابندی، اور مستحبات و نوافل کی کثرت ہے، حدیث قدسی میں ارشاد ہوتا ہے: «وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّه»([7]) “ميرا بنده  ایسی چیز کے ذریعے میرا قُرب حاصل نہیں کرتا جو مجھے پسند ہیں اور میں نے اس پر فرض کر رکھی ہے، بلکہ میرا بندہ نوافل کی کثرت کے ذریعے میرا قُرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں”۔

 ایک اَور حدیث مبارک میں مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا:  «مَا مِنْ عَمَلٍ أَزْكَى عِنْدَ اللهِ b، وَلَا أَعْظَمَ أَجْراً مِنْ خَيْرٍ يَعْمَلُهُ فِيْ عَشْرِ الأَضْحَى»([8]) “قربانی  کے عشرے میں جو نیک عمل کیا جائے، اللہ تعالی کے ہاں اس سے بڑھ کر پاکیزہ اور زیادہ اجر وثواب والا کوئی عمل نہیں”۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ ان مبارک اوقات کو غنیمت جانے، اور ان میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال انجام دے، اللہ تعالی کی فرمانبرداری ، اس کے ذکر، روزوں اور صدَقات وخیرات کی کثرت کرے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : میلادِ مصطفیﷺ کے مقاصد

عزیزانِ گرامی قدر! نماز دین کا سُتون  اور ارکانِ اسلام میں سے دوسرا اہم رُکن ہے، اِس کی اَہمیت دیگر اسلامی عبادات سے منفرِد ونمایاں ہے، نماز ہی وہ عظیم عبادت ہے جس کی تاکید تمام عبادات میں سب سے زیادہ کی گئی ہے، تمام دینی اَحکام میں سب سے زیادہ اسی کو عظیم تر قرار دیا گیا ہے، یہ وہ فریضہ ہے جو فرض ہونے کے بعدکسی حالت میں کبھی بھی  کسی مسلمان سے ساقط یعنی  مُعاف نہیں ہوتا، یہی وہ اَہم عبادت ہے جو بندۂ مؤمن کو اللہ A کے قریب کرتی ہے، لہذا اللہ تعالی نے اس کی حفاظت کا حکم ارشادفرمایا: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلهِ قَانِتِينَ﴾([9]) “نگہبانی کرو سب نمازوں کی، اور بطور خاص بیچ کی نماز کی، اور اللہ تعالى کے حضور ادب سے کھڑے ہو!”۔

عزیزانِ محترم! اِن مبارک ایّام میں دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنا بھی خصوصاً 9 ذی الحجہ کو مستحب اور باعثِ اجر وثواب ہے، حضرتِ اُمّ المؤمنین سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «كَانَ يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّة، وَيَوْمَ عَاشُورَاء، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنْ الشَّهْرِ وَالْخَمِيسِ»([10]) “حضور نبئ کریم ﷺ 9 ذی الحجہ، عاشورہ، ہر مہینے کے تین دن اور ہر ماہ کے ابتدائی پیر وجمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے”۔ اس دن روزہ رکھنے کا بڑا اجروثواب ہے، اور یہ دو2 سال کے گناہوں کا کفّارہ بھی ہے، حضرت سیّدنا ابو قَتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ، أَحْتَسِبُ عَلَىَ اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ»([11]) “یومِ عرفہ کے روزہ کے بارے میں مجھے اللہ تعالی سے امید ہے، کہ اگلے اور پچھلے دو2 سال کے گناہ مُعاف فرمائے گا”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : حضورِ اکرم ﷺ کا حُسن وجمال

میرے بزرگو اور دوستو! اِن مبارک ایّام میں مستحب ہے کہ کثرت سے صدقہ وخیرات کیا جائے؛ کہ صدقہ  ایمان کی پختگی کی دلیل ہے، اس کے ذریعہ قُرب الہی حاصل کرنے کی رغبت ہوتی ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «الصَّدَقَةُ بُرْهَان»([12]) “صدقہ دلیل ہے”۔

اسی طرح گڑگڑا کر اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا کرنا، کہ جو کثرت سے دعا کرتا ہے اللہ تعالی بھی اسے یاد رکھتا ہے، اس کی دعا کو قبول فرماتا ہے، ارشاد باری تعالی ہے: ﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾([13]) “مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا!”۔

اسی طرح کثرت سے اللہ تعالی کا ذکر کیا جائے، رب تعالی فرماتا ہے: ﴿وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ فِيْ أَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ﴾([14]) “وہ مقرّرہ دنوں میں خصوصیّت کے ساتھ الله کو یاد کریں”۔ وہ مقرّرہ دن یہی ذو الحجّہ کے ابتدائی دس10 دن ہیں، جیسا کہ حضرت سیّدنا ابنِ عبّاس رضی اللہ عنہ  نےاس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں فرمایا([15])۔

محترم بھائیو! سرکارِابَدقرار ﷺ نے اِن ایّام میں ذکرُ اللہ کے بارے میں  فرمایا: «مَا مِنْ أَيَّامٍ أَعْظَم عِنْدَ الله، وَلاَ أَحَبّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَمَلِ فِيهِنّ، مِنْ هَذِهِ الأَيَّامِ الْعَشْر، فَأَكْثِرُوْا فِيْهِنَّ مِنَ التَّهْلِيْلِ وَالتَّكْبِيْرِ وَالتَّحْمِيْدِ»([16]) “ذوالحجہ کےابتدائی دس10 دنوں کی قدر ومنزلت سے بڑھ کر کوئی اَور دن نہیں، نہ ان ایّام کی نیکی سے بڑھ کر کوئی اَور نیکی ہے، لہذا اِن ایّام میں “لا الہ الّا اللہ”، “اللہ اکبر” اور “الحمد للہ” کی کثرت کرو!”۔

صبح وشام، چلتے پھرتے، صحت وبیماری، گھرمیں اور باہر، سفر وحضر ، کھاتے پیتے وقت، الغرض ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے؛ کہ اس کے سبب بھی اللہ تعالی بندے کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ لہٰذا ہم تمام مسلمانوں پر بھی لازم ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق اسلامی تعلیمات پر عمل کریں، جیسے تلاوتِ قرآن، علمِ دین کی مجالس میں شرکت، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک، گھر والوں اور پڑوسیوں سے اچھے تعلّقات قائم رکھنا، اور ان تمام نیک اعمال میں سے اہم ترین عمل مسلمانوں کو خوش رکھنے کے لیے ان سے بھلائی سے پیش آنا ہے؛ کہ یہ اللہ تعالى کے ہاں بہت پسندیدہ عمل ہے، بالخصوص ان دنوں میں؛ تاکہ ان لمحات کی بھی خوب برکتیں حاصل کی جاسکیں۔

اے اللہ! ہمیں اِن مبارک ایام میں خصوصیّت کے ساتھ اپنی عبادت، اپنے ذکر اور دیگر نیک اعمال کی کثرت کرنے کی توفیق عطا فرما، اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے, سرکارِ دوعالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہ کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفيق عطا فرما، ہم پر اپنی نعمتوں کی فراوانی اور اِن ميں دَوام عطا فرما، اِن كى حفاظت وشکر کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفیٰ  کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے وافر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنا، اےالله! متّحده عرب اِمارات کے بانى شيخ زايد اور ديگر حكّام كى مغفرت اور اُن پر اپنى رَحمت فرما, شيخ خلیفہ اور ديگر حكّامِ اِمارات كى حفاظت فرما، اِن سے وه كام لے جس میں تيرى رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه سيّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ وّعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) پ30، الفجر: 1، 2.

([2]) “تفسیر نور العرفان” ص978۔

([3]) “مجمع الزوائد ومنبع الفوائد” كتاب الأضاحي، ر: ٥٩٣٣، 4/٤. إسنادُه حسنٌ ورجالُه ثقات.

([4]) “صحيح مسلم” كتاب الحج، باب فضل يوم عرفة، ر: 3288، صـ567.

([5]) “سنن أبي داود” كتاب المناسك، [باب] ر: 1765، صـ259.

([6]) “جامع الترمذي” أبواب الصّوم، ر: 757، صـ١٩١.

([7]) “صحيح البخاري” كتاب الرقاق، باب التواضع، ر: 6502، صـ1127.

([8]) “سنن الدارمي” كتاب الصيام، باب فِي فَضْلِ الْعَمَلِ فِي الْعَشْرِ، ر: 1774، 2/41.

([9]) پ: 2، البقرة: 238.

([10]) “سنن أبي داود” كتاب الصوم، باب فِي صَوْمِ الْعَشْرِ، ر: 2437، صـ353.

([11]) “صحيح مسلم” كتاب الصيام، ر: 2746، صـ477.

([12]) “صحيح مسلم” كتاب الطهارة، باب فضل الوضوء، ر: 534، صـ114.

([13]) پ24، غافر: 60.

([14]) پ١٧، الحجّ: 28.

([15]) “صحيح البخاري” كتاب العيدَين، صـ١٥٦.

([16]) “مسند الإمام أحمد” مسند عبد الله بن عمر بن الخطّاب، ر: 5٤٤7، ٢/٣٦٥.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *