بچے اور اسلام
عزیزانِ محترم! بچے کسی بھی معاشرے کی امیدوں، آرزوؤں اور تمناؤں کا مرکز ہوتے ہیں؛ اس لیے کہ مستقبل کی تعمیر کا اِنحصار انہی پر ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بچے دوسرے تمام طبقات کی بہ نسبت زیادہ توجہ، شفقت اور بہت محبت کے حقدار ہیں۔ معاشرتی حوالے سے بھی بچوں کی اَہمیت مسلَّم ہے،
اسی بنا پر اسلامی تعلیمات میں جہاں والدین کی اِطاعت اور ان کے ساتھ حسنِ سُلوک کی اَہمیت بیان کی گئی ہے، وہیں بچوں کے حقوق بھی واضح کیے گئے ہیں۔ اسلام کی معاشرتی زندگی یک رُخی نہیں، ہمہ گیر ہے۔ والدین اگر اسلامی معاشرے میں بنیادی اِکائی کی حیثیت رکھتے ہیں، تو بچے اس اِکائی کا نتیجہ اور ثمرہ ہیں، یہ دونوں مل کر مُعاشرے کو سجاتے ہیں، بچے تو اور بھی زیادہ اَہمیت رکھتے ہیں؛ کیونکہ وہ نہ صرف والدین کی شخصی پہچان ہیں، بلکہ معاشرے کی ترقی اور اس کی متحرک زندگی کا عکس ہیں۔ آج کی اولاد کل کے والدین، اور آج کے بچے کل کے جَوان اور بزرگ ہیں۔ اس بنا پر اسلام نے بچوں کے بارے میں خصوصی ہدایات عطا فرمائی ہیں۔

اولاد ایک عظیم نعمت ہے
محترم بھائیو! دینِ اسلام کی نظر میں بچوں کی اَہمیت کئی وُجوہ سے ہے، یہ اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت اور بہترین تحفہ ہیں، آج کے بچے کل مستقبل کے معمار ہیں، خاندانی بقا کا ذریعہ ہیں، جماعت کی کثرت اور پہچان کا سبب ہیں، نیز اللہ تعالیٰ کی مدد کی ایک صورت ہیں۔ دینِ اسلام اپنے زیرِ اثر مُعاشرے میں اولاد کو اپنی مُعاشرتی اور سماجی اَقدار کے تعارُف، بقا اور تحفظ کا ذریعہ تصوّر کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اولاد کو والدین کے لیے امانت قرار دیا ہے، لہذا ہمیں اس امانت کی حفاظت اور اچھی تربیت کی کوشش کرنی ہے۔ دینِ اسلام اولاد کو عظیم نعمت قرار دے کر، اس کی نگہداشت کا حکم دیتا ہے، والدین کو اولاد پر نگہبان مقرّر کیا گیا ہے، لہذا والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کی بہتر پروَرش، اور ان کے اچھے مستقبل کی کوشش بھی کرتے رہیں، نیز اولاد کے حق میں ہر مفید معاملے کی فکر کرتے رہیں۔ مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا ہے: «الرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَهُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْهُمْ، وَالْـمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ، وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ»([1]) “آدمی اپنے گھر کا ذمہ دار ہے، اور اُس سے اِس كے گھروالوں کے بارے میں پوچها جائے گا، اسى طرح عورت بھی اپنے شَوہر کے گھر اور بچوں کی نگہبان ہے، اور اس سے بھی ان سے متعلق سوال کیا جائے گا”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حقوقِ زوجین ووفاداری
والدین پر اولاد کے حقوق
عزیز دوستو! ہم پر اپنی اولاد کے حقوق بہت زیادہ ہیں، جن میں ابتدائی حق انہیں اللہ ورسول کے اَحکام کی پہچان کرانا، اور ان بچوں کے لیے دعا کرنا ہے؛ کہ یہ باتیں ان کی دنیا وآخرت کے لیے بہترین سرمایہ، ان کی حفاظت، نَجات اور کامیابی کا سبب ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: «ثَلاَثُ دَعَوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُنَّ لاَ شَكَّ فِيهِنَّ» “یقیناً تین۳ دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں”، مصطفیٰ جانِ رحمتﷺ نے ان میں سے ایک یہ ذکر فرمائی: «دَعْوَةُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ»([2]) “والد کی دعا اپنے بچے کےحق میں”، اس سے معلوم ہوا کہ والدین کی دعائیں اپنی اولاد کے حق میں ضرور قبول ہوتی ہیں۔
قرآنِ کریم نے اُس نیک بندے کا دائمی ذکر فرمایا ہے جس کا حال یہ ہے: ﴿قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي﴾([3]) “عرض کی کہ: اے میرے رب! میرے دل میں ڈال دے کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں، جو تُو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی، اور میں وہ کام کروں جو تجھے پسند آئے، اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح رکھ دے!”۔ تو پتا چلا کہ والدین اپنی اولاد کے لیے بہتری کی دعا کرتے رہیں، ان میں اچھے اَخلاق کے بیج بوتے رہیں، انہیں نيك اعمال اور تمام لوگوں سے احسان وبھلائی کی ترغیب دیتے رہیں۔ حضرت سیّدنا علی کرّم اللہ وجہہ نے فرمایا: «عَلِّمُوْا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيْكُمُ الْخَيْرَ!»([4]) “خود کو اور اپنے گھر والوں کو بھلائی کی تعلیم دو!”۔
اولاد کی اچھی تعلیم
ميرے دوستو اور بزرگو! ہم پر اولاد کا یہ حق بھی ہے، کہ انہیں ان کی ضرورت کے دینی ودنیوی علوم سکھائیں، ساتھ ہی ان کے دلوں میں علم کی محبت اور اس کے حصول کا شَوق بھی پیدا کریں، استادکا مقام واحترام ان کے ذہنوں میں راسخ کریں، مدرسہ واسکول کی حفاظت اور انہیں حاضری کی پابندی کی سوچ دیں، اَسباق میں مکمل شرکت اور مدرّسین سے اَسباق کے متعلق ضروری سوالات کا شَوق پیدا کریں، جو سیکھیں اس کا اثر گھر اور ان کے دوستوں میں ملاحظہ فرمائیں؛ تاکہ ہمیں اندازہ ہوتا رہے کہ ہماری کوششوں کے بعد یہ پھول ہمارے معاشرے اور وطن کو کس قدر مہکا سکیں گے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :رشتہ داروں کے حقوق
اولاد کو آداب بھی سکھائیں
عزیزانِ محترم! ہم پر یہ بھی لازم وضروری ہے کہ، اپنے بچوں اور بچیوں کو والدین سے حسنِ سُلوک، ان کا ادب واحترام، ان کی اِطاعت وفرمانبرداری کا درس دیں، رشتہ داروں کی پہچان کرائیں، ان کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے، اور ان سے میل جول کے طریقے اور آداب بھی سکھائیں؛ تاکہ وہ ان سے صِلہ رحمی کریں، نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «تَعَلَّمُوْا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ؛ فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ مَثْرَاةٌ فِي الـْمَالِ، مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ»([5]) “اپنے رشتہ داروں کو پہچانو؛ تاکہ رشتوں کا لحاظ رکھ سکو؛ اس لیے کہ رشتہ داروں سے حسنِ سُلوک خاندان میں محبت اور مال وعمر میں برکت کا باعث ہے”۔
اولاد کی اچھی تربیت
عزیز دوستو! ہم پر یہ بھی لازم وضروری ہے کہ اپنی اولاد کو مہمان نوازی کے آداب سکھائیں؛ کہ یہ انبیاء ومرسَلین کا طریقہ ہے، ان کی یہ بھی تربیت کریں کہ پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سُلوک کیسے کرنا ہے، ان کے حقوق اور فضائل کو جانیں، ان کے ذہنوں میں یہ بھی راسخ کریں کہ جب کسی محفل میں ہوں تو توجہ سے اچھی باتوں کو سنیں، بڑے جب بات کریں تو چھوٹے خاموش رہیں،
جب کوئی کچھ سمجھائے تو اس کی بات پوری توجہ سے سنیں، اور اس پر عمل کی کوشش بھی کریں، جب کہیں گفتگو کا موقع ہو تو انتہائی ادب واحترام کے ساتھ اچھی باتیں کریں، یعنی کچھ بولنے سے پہلے اچھی طرح تول لیں، ان سب آداب کو مختصر وجامع الفاظ میں رسول اللہ ﷺ نے ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ»([6]) “جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے، اور جو اللہ ﷻ اور یومِ آخرت کو مانتا ہے، اسے چاہیے کہ مہمان کی عزّت کرے”۔
مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے ان آداب اور تربیت کی بنیادی باتوں کو اس لیے کمالِ ایمان قرار دیا، کہ ان کی اَہمیت بہت زیادہ ہے، اور مُعاشرے پر ان کے اچھے اثرات بھی بہت عظیم ہیں۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حقوق العباد
فطرتِ انسانی
عزیز دوستو! بلا شبہ ہر انسان فطرتِ سلیمہ اور طبیعت کی پاکیزگی کے ساتھ پیدا ہوتا ہے: ﴿فِطْرَةَ اللهِ الَتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا﴾([7]) “اللہ تعالى کی ڈالی ہوئی بنیاد جس پر لوگوں کو پیدا کیا”۔ پھر یہ انسان بعد میں اچھائی یا بُرائی کا اثر قبول کرتا ہے، اور اچھے یا بُرے اَخلاق والا بنتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿وَنَفْسٍ وَّمَا سَوَّاهَا* فَأَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوَاهَا* قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا* وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا﴾([8]) “(قسم) جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا، پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری دل میں ڈالی، یقیناً مراد کو پہنچایا جس نے اسے ستھرا کیا، اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چُھپایا “۔
جب انسان کی نشوونما ایسے ماحول میں ہو، جہاں اَخلاق وآداب اور اچھی تربیت کا اہتمام ہو، تو وہ ماحول اسے معاشرے کا اچھا انسان بنا دیتا ہے، جس میں ابتدائی اور اَہم کردار والدین کا ہوتا ہے، کہ وہ اپنے بچوں کی کس طرح تربیت کرتے ہیں،
اگر باپ صرف اپنے کام کاج، دوست واَحباب اور موبائل فون کے ساتھ مشغول رہے، اور اولاد کو وقت نہ دے، اسی طرح اگر ماں صرف اپنے گھریلو کام کاج یا اپنی سہلیوں کے ساتھ مصروف رہے، اور اَولاد کو وقت نہ دے، تو پھر اولاد خود ہی جہاں جیسا دیکھتے اور سنتے ہیں، ان چیزوں کو اپنے اَخلاق کا حصہ بنا لیتے ہیں، ایسے میں آپ خود ہی بتائیں کہ جب باپ کے پاس مشغولیت کے باعث وقت نہیں، ماں نے بھی بچوں کو خاص توجہ نہیں دی، تو پھر ہم نے اپنی اولاد کی صورت میں اللہ تعالی کی اس نعمت کی کیا قدردانی کی؟ اور ہم کس طرح اللہ تعالی کی بارگاہ ان کے بارے میں جواب دے سکیں گے؟
دعا
اے اللہ! ہمیں اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرما، ان کے لیے ہمیں اچھی اچھی دعائیں کرنےکی سعادت نصیب فرما، انہیں اچھے اَخلاق وآدابِ مُعاشرت سکھانے کی ہمّت وطاقت عطا فرما! اےاللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے,
سرکارِ دوعالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفيق عطا فرما، ہم پر اپنی نعمتوں کی فراوانی اور اِن ميں دَوام عطا فرما، اِن كى حفاظت وشکر کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفیٰ کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے وافر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنا، اےالله! متّحده عرب اِمارات کے بانى شيخ زايد اور ديگر حكّام كى مغفرت اور اُن پر اپنى رَحمت فرما, شيخ خلیفہ اور ديگر حكّامِ اِمارات كى حفاظت فرما، اِن سے وه كام لے جس میں تیرى رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه سيّدنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُننا محمّدٍ وّعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “صحيح البخاري” كتاب الأحكام، ر:7138، صـ1229.
([2]) “سنن ابن ماجه” كتاب الدعاء، ر: 3862، صـ651.
([4]) “شعب الإيمان” للبيهقي، 60، ر: 8704، 6/2911 .
([5]) “سنن الترمذي” أبواب البرّ والصلة، ر: 1979، صـ458.