تعلیماتِ غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی عصری جہات

Home – Single Post

The Contemporary Relevance of the Teachings of Ghawth al-A'zam (May Allah Sanctify His Soul)

برادرانِ اسلام! حضور غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات کسی تعارف کی محتاج نہیں، اللہ  تعالیٰ نے آپ کو “غوثیتِ کُبریٰ” جیسے بلند مقام ومرتبہ اور شان و عظمت سے نواز ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ اجلّ ساداتِ کرام سے ہیں،  والد ماجد حضرت ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ  کی طرف سے حسنی، اور والدہ محترمہ کی طرف سے حسینی سیِّد ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ 470 يا 471ھ میں، رمضان شریف کے مبارک مہینے میں بغداد شریف کے قریب دریائے دجلہ کے کنارے، ایک قصبہ “جیلان” میں پیدا ہوئے([1])۔ زُہد وتقوی اور علم وعمل میں بعطائے الٰہی آپ رحمۃ اللہ علیہ کو کمال حاصل تھا، کئی عشروں تک درس وتدریس کے ذریعے تشنگانِ علم کی سیرابی کا ساماں کرتے رہے،  چالیس40 سال تک مسلسل وعظ ونصیحت کے ذریعے مخلوقِ خدا کی رَہنمائی کا فریضہ بھی انجام دیا([2])۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی تبلیغ اور دعوتِ فکر سے متاثر ہو کر پانچ سو500 سے زائد یہود ونصاری نے دينِ اسلام قبول کیا، اور ایک لاکھ سے زیادہ ڈاکو، چور، فُسّاق وفجّار، فسادی اور بدعتی لوگوں نے توبہ کی”([3])۔

ظاہری وباطنی علوم میں مہارت کے اعتبار سے سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا کوئی ثانی نہ تھا، یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے علماء وصالحین اور علمِ دین کے متلاشی طلباء، آپ رحمۃ اللہ علیہ کےسامنے زانوئےتتلمُذ طے کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ امام مُوفق الدّین بن قُدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “ہم ۵۶۱ ہجری میں بغداد شریف گئے تو دیکھا کہ شیخ سیِّد عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اُن لوگوں میں سے ہیں، جنہیں وہاں پر علم و عمل اور حال (رُوحانیت) وفتویٰ نویسی کی بادشاہت دی گئی ہے، کوئی طالبِ علم یہاں کے علاوہ کسی اَور جگہ کا ارادہ اس ليے نہیں کرتا؛ کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ میں تمام علوم جمع ہیں، اور جو آپ سے علم حاصل کرتے، آپ رحمۃ اللہ علیہ ان تمام طلبہ کے پڑھانے میں صبر فرماتے، آپ کا سینہ فراخ تھا، آپ سَیر چشم تھے، اللہ تعالی نے آپ میں اَوصافِ جمیلہ اور اَحوالِ عزیزہ جمع فرما دیے تھے”([4])۔

سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال شریف ۹ ربیع الآخر ۵۶۱ ہجری میں ہوا، بوقتِ انتقال آپ رحمۃ اللہ علیہ کی عمر شریف تقریباً نوّے۹۰ برس تھی”([5])، آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار شریف بغداد میں واقع ہے، جو زیارت گاہِ ہر خاص وعام ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :گیارہویں شریف

عزیزانِ محترم! اَخلاقی اَقدار کے اعتبار سے ہمارا مُعاشرہ آج  جتنی پستی اور زبوں حالی کا شکار ہے، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی، بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ اَخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے تو شاید بے جا نہ ہوگا، آج باہمی پیار محبت، اِیثار واِخلاص کی جگہ، نفرت وکُدورت، خود غرضی ومفاد پرستی اور لالچ و حرص جیسی مُعاشرتی برائیاں  ہمارے اندر عام ہو چکی ہیں، کوئی کسی کے لیے قربانی دینے یا احساس کرنے کے لیے تیار نہیں، حُبِ د نیا اور حُبِ جاہ کا فتور ہمارے دماغوں میں سما چکا ہے، اپنا مفاد دیکھے بغیر کوئی کسی کی مدد کو تیار نہیں، رِضائے الٰہی کے حصول کا جذبہ اب ثانوی حیثیت اختیار کر چکا ہے، ہر طرف مادّہ پرستی کا دَور دَورہ ہے، ایسے دِگرگوں حالات میں حضور سیِّدنا غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی اَخلاقی، رُوحانی اور مذہبی تعلیمات بڑی اہمیت کی حامل ہیں، جس طرح آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے وعظ ونصیحت اور تعلیمات سے شہرِ بغداد میں ٹوٹ پھوٹ کے شکار، اور اَخلاقی اَقدار سے محروم مُعاشرے کو صراطِ مستقیم پر چلایا، مُعاشرتی بگاڑ ختم کیا، اور دین وملّت کا اِحیاء کیا، بالکل اسی طرح آج بھی اگر ہم تعلیماتِ غوثِ اعظم پر عمل پیرا ہو جائیں، اور انہیں اپنے لیے  مشعلِ راہ بنا لیں، تو عالم ِاسلام اپنی تمام محرومیوں سے نَجات حاصل کر سکتا ہے، اور  عصرِ حاضر میں کفّار ومشرکین کی دينِ اسلام كے خلاف تمام  سازشوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے!۔

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری نوجوان نسل دینی درسگاہوں اور ایسی خانقاہوں سے اپنے تعلق کو مضبوط کرلے، علماء وصالحین اور اولیائے کاملین کی صحبت اختیار کرے، حضور سیِّدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی سیرتِ طیّبہ کا مطالعہ کرے، اور ان کی تعلیمات کے مطابق اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پانے کی کوشش کرے، فرائض وواجبات کی پابندی کرے، اتّباعِ شریعت کرے، ہر کام میں اللہ ورسول کی رضا کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھے، اپنے دل میں اِیثار واِخلاص اور قربانی کے جذبات پروان چڑھائے، اور خود غرضی ، مفاد پرستی اور لالچ وحرص سے نَجات حاصل کرے۔

            عزیزانِ مَن! نہایت بد قسمتی سے کہنا پڑتا ہے، کہ  آج ہماری اکثریت سیِّدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں “گیارہویں والے پیر” سے زیادہ کچھ نہیں جانتی، وہ ہر ماہ گیارہویں شریف کا ختم دلا کر یہ سمجھتے ہیں کہ حقِ عقیدت ادا ہو گیا، انہوں نے کبھی اس بات کی زحمت گوارہ نہیں کی کہ کبھی حضور غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ کی سیرتِ طیّبہ کا مطالعہ کریں، ان کی دینی خدمات کے بارے میں جانیں، اور ان کی تعلیمات سے آگاہی حاصل  کرکے ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں۔

ہمارے لوگ اپنے آستانوں پر ” سیِّدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ” کا اسمِ گرامی  تو بڑے شوق اور عقیدت سے لکھواتے ہیں، بعض اپنی مساجد ومدارس کے نام بھی سیِّدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے “جامع مسجد غوثیہ” یا “دار العلوم غوثیہ” وغیرہ   رکھتے ہیں، یہ ایک اچھی بات ہے، لیکن قابلِ اعتراض پہلو یہ ہے کہ  وہ اپنے مریدوں اور شاگردوں کو سیِّدنا غوثِ اعظم کی تعلیمات سے آگاہ کیوں  نہیں کرتے؟! اپنی مساجد ومدارس میں ان کی کتب سے درسِ تصوّف  کیوں نہیں دیتے؟! سیِّدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی کوئی کتاب شاملِ نصاب کرکے ان کی رُوحانی واَخلاقی تربیت کا اہتمام کیوں  نہیں کرتے؟!  ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارا  یہ فعل حضرت سے عقیدت کے مُنافی نہیں؟! کیا ہم  واقعی سیِّدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے ماننے والے ہیں؟! ہم  شیخ  عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے کیسے پَیروکار یا مرید  ہیں جو اپنے “بڑے پیر صاحب” کے ارشادات وتعلیمات سے ہی آگاہ نہیں!۔

میرے محترم بھائیو! سیِّدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات سے عدم اِلتفات اور رُوگردانی کا نتیجہ ونقصان یہ ہے، کہ آج فاسق وفاجر لوگوں نے “تصوّف وطریقت” کو بطورِ دھندہ اپنا لیا ہے، گلی گلی آستانے کھل چکے ہیں، ان جعلی پیروں کو نماز روزہ سے کوئی سروکار نہیں، چہرے سے سنّتِ رسول بھی غائب ہے، “نعرۂ حیدری” اور “نعرۂ غوثیہ” کی آڑ میں اپنی دکان چمکائے بیٹھے ہیں، مرد وزَن کا اختلاط عام ہے، غیرشرعی اُمور کا سرِ عام ارتکاب کیا جا رہا ہے، لیکن کوئی روکنے ٹوکنے اور پوچھنے والا نہیں!۔

یقین جانیے! اگر ہم نے حضور غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کو عام کیا ہوتا، تو ایسے لوگوں کو آج عوام  خود ہی مسترد کر دیتی، ان کی دکان کھلنے سے پہلے ہی بند ہو جاتی! لیکن صد افسوس کہ ہم لوگوں نے اپنی ساری توجہ “گیارہویں شریف کا ختم” دلانے اور “لنگرِ غوثیہ” کھانے کھلانے پر مبذول رکھی، جبکہ تعلیماتِ غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو یکسر فراموش کر بیٹھے، اور اس  کوتاہی کے باعث ہونے والا نقصان آج ساری امت بُھگت رہی ہے۔ دو2 نمبر قسم کے جعلی پیر کس طرح غیر محرم عورتوں کو گلے سے لگاتے،  بوس وکنار کرتے، ناچتے نچاتے اور  گاتے ہیں، اس طرح کی ویڈیوز (Videos) آئے روز ٹی وی چینلز (TV Channels) اور سوشل میڈیا (Social Media) کی زینت بنتی رہتی ہیں، اب یہ ہمارے علمائے دین کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو اپنی تقریر اور وعظ ونصیحت کے ذریعے ان جعلی پیروں، فقیروں اور چرسیوں،  ملنگوں سے نَجات دلائیں، اور حضور شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات سے آگاہ کریں!۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :وسیلہ ( توسل کا بیان)

حضراتِ گرامی قدر! غوثِ صمدانی ، قطبِ ربّانی شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو اس دنیا سے پردہ فرمائے تقریباً پونے نو سو سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے، لیکن اس کے باوُجود آپ رحمۃ اللہ علیہ کی رُوحانی، اَخلاقی اور مذہبی تعلیمات کی اہمیت اس نفسا نفسی اور مادّہ پرستی کے دَور میں آج بھی جُوں کی توں برقرار ہے،  عصری جہات اور اپنی اہمیت واِفادیت کے اعتبار سے سیِّدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی چند تعلیمات حسبِ ذیل ہیں:

حضراتِ ذی وقار! نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے، کہ پیری فقیری کو بطورِ دھندہ اپنانے والے نا اہل لوگوں کی تعداد، روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے، جسے کوئی کام دھندہ نہیں ملتا وہ عورتوں کی طرح لمبے لمبے بال رکھ کر اور گلے میں تسبیح ڈال کر، ایک دو2 چلّے کاٹتے ہیں، اور پھر  جعلی پیر  بن کر عوام کو بےوقوف بناتے رہتے ہیں، یہ انتہائی مذموم امر ہے، لہذا برائے مہربانی صرف اہلِ علم اور با عمل لوگوں  کا دامن تھامیں، اور فُسّاق وفُجار سے بچ کر رہیں!!۔

یاد رکھیے! جو شخص اعلانیہ گناہ کرتا ہو، یا علمِ دین سے نا بلد ہو، وہ پیر بننے کا ہر گز اہل نہیں، لہذا جو شخص راہِ تصوّف کا مسافر  بننا چاہتا ہے، اور اس کی پیچیدہ گتھیوں کو سلجھانا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ سب سے پہلے علمِ دین حاصل کرے، اَحکامِ شریعت کو اپنی ذات پر نافذ کرے، پھر اس کے بعد اس پُر خار راہ پر اپنے سفر کا آغاز کرے!۔

عصرِ حاضر میں حصولِ علمِ دین کے بغیر شارٹ کٹ (Short Cut) طریقے سے پیر بننے، اور ایک دو2 چلّے کاٹ کر ولایت کا دعوی کرنے والوں کے لیے  شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے صدیوں پہلے ارشادفرمایا کہ “(پہلے) فقہ سیکھو، اس کے بعد خَلوَت نشیں ہو! جو بغیر علم کے الله کی عبادت کرتا ہے وہ جتنا سنوارے گا اس سے زیادہ بگاڑے گا، لہذا اپنے ساتھ شریعت کی شمع لے لو!”([6])۔ حضور غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فرمان عصری جہت اور اِفادیت کے اعتبار سے، آج بھی اسی طرح اہمیت کا حامل ہے جیسے صدیوں پہلے تھا۔

حضرات گرامی قدر! آج کل کے دو2 نمبر پیروں اور جاہل مریدوں نے خواہشاتِ نفس کی تکمیل کا نام دین سمجھ لیا ہے، جہاں ایک طرف جعلی اور ماڈرن پیر ، نوجوان مریدنیوں کو بغل میں لے کر ڈانس کرتے، سوئمنگ پول (Swimming Pool) میں نہاتے، اور موسیقی کی محافل سجا کر اپنے مریدوں کے لیے انٹرٹینمنٹ (Entertainment) کا ساماں کر تے ہیں، وہیں دوسری طرف جاہل مرید بھی ایسے پیروں کی تلاش میں سر گرداں دکھائی دیتے  ہیں، جو نماز روزہ کے مُعاملے میں زیادہ سختی نہ برتیں، اور   چہرے پر داڑھی سجانے کو نہ کہیں!۔

ایسوں کو شریعتِ مطہَّرہ کے اَحکام اور اس کی حُدود کی پاسداری سے متعلق،  حضور غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے جو تنبیہ فرمائی، وہ آج بھی اسی طرح قابلِ عمل اور عصری تقاضوں کے عین مُطابق ہے۔ شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ “شریعتِ پاکیزہ محمدی ﷺ درختِ دینِ اسلام کا پھل ہے، شریعت وہ آفتاب ہے جس کی چمک سے تمام جہاں کی اندھیریاں جگمگا اٹھیں، شریعت کی پَیروی دونوں جہاں کی سعادت بخشتی ہے، خبردار! اس کے دائرہ سے باہر نہ جانا، خبردار! اہلِ شریعت کی جماعت سے جدا نہ ہونا”([7])۔

عزیزانِ مَن! آج کل ہم لوگ فرائض وواجبات میں غفلت وسستی کا مُظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ سُنن ونوافل اور مستحبات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ بارہا دیکھنے میں آیا کہ اگر کہیں محفلِ نعت، دینی جلسہ، پروگرام یا کسی ریلی وغیرہ کا انعقاد ہو رہا ہو، تو اس کے منتظمین یا شرکاء اس کے انتظام وانصرام اور شرکت کے لیے اس قدر پُرجوش ہوتے ہیں، کہ نماز تک کو بھول جاتے ہیں، یہ انتہائی مذموم اَمر ہے، ایسا کرنے کی شرعاً ہر گز اجازت نہیں۔

سرکارِ بغداد حضور غوثِ پاک زندگی بھر اپنے مریدوں اور عقیدت مندوں کو فرائض وواجبات کی پابندی، اور انہیں ہر عمل پر ترجیح دینے کا درس دیتے رہے، عصری جہت کے اعتبار سے آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ایسی تعلیمات اب پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہیں، محبوبِ سبحانی شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ “مؤمن کو چاہیے کہ سب سے پہلے فرائض ادا کرے، اور ان سے فراغت کے بعد سنّتوں پر توجہ دے، پھر نوافل اور فضائل میں مصروف ہو، فرائض کی تکمیل کے بغیر سنّتوں میں مشغول ہونا حَماقت ونادانی ہے، اگر کوئی شخص ادائے فرض کے بجائے سُنن ونوافل میں مشغول ہوا، تو وہ ہرگز قبول نہ کیے جائیں گے، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جسے بادشاہ اپنی خدمت کے لیے بلائے، یہ وہاں تو حاضر نہ ہو اور بادشاه کے غلام کی خدمتگاری میں موجود رہے”([8])۔

عزیزانِ محترم! عصرِ حاضر میں پنپنے والی مُعاشرتی برائیوں میں سے ایک برائی یہ بھی ہے، کہ لوگ ایک دوسرے کے دینی مقام ومنصب کا لحاظ کیے بغیر، معمولی سی بات پر باہم جانی دشمن بن جاتے ہیں، اپنی نفسانی خوشی کی خاطر زندگی بھر اپنے مخالف کو نیچا دکھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، ہمارے قبائلی علاقوں میں ایسی دشمنیاں خاندانوں کے خاندان نگل گئیں، لیکن نفس کی تسکین کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا، ہمیں چاہیے کہ عفو ودرگذر سے کام لیں، حد سے نہ گزریں اور شرعی اَحکام کو ملحوظِ خاطر رکھیں، کسی کا کتنا ہی بڑ ا جرم کیوں نہ ہو، اُسے شریعت کی کسوٹی پر رکھ کر فیصلہ کریں، اور نفس کے غلام ہر گز نہ بنیں!!۔

حضور غوث الثقلین رحمۃ اللہ علیہ خواہشاتِ نفس کی مخالفت کا درس دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “جب تُو اپنے دل میں کسی کی دشمنی یا محبت پائے، تو اس کے کاموں کو قرآن وسنّت پر پیش کر، اگر ان میں پسندیدہ ہوں تو اس سے محبت رکھ، اور اگر ناپسند ہوں تو کراہت كر؛ تاکہ اپنی خواہش سے نہ کوئی دوست رکھے نہ دشمن، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ﴾([9]) “خواہش کے پیچھے نہ جانا؛ کہ تجھے اللہ تعالیٰ کی راہ سے بہکا دے گی!”([10])۔

میرے محترم بھائیو! موجودہ دَور میں غرور وتکبر اور خود ستائشی کا مرض بہت عام ہے، مال ودَولت اور منصب کے اعتبار سے جو تاجر، سیاستدان، عالمِ دین، وکیل، یا صحافی اورپیر وغیرہ چند دنیاوی کامیابیاں سمیٹ لیتا ہے، وہ پھولے نہیں سماتا، وہ خیال کرتا ہے کہ یہ سب کچھ اس نے اپنی سوجھ بوجھ اور طاقت کے بل بوتے پر حاصل کیا ہے۔ اگر وہ فلاح وبہبود پر مشتمل کوئی نیک کام کر لے، یا کسی فورم (Forum) پر  اسے لیکچر (Lecture) وتقریر کے لیے مدعو کر لیا جائے، تو اُس کے غرور وتکبّر کی کوئی انتہاء نہیں رہتی، اپنے منہ سے اپنی ہی تعریفوں کے وہ پُل باندھتے ہیں کہ اللہ کی پناہ!!۔

 شہنشاہِ بغداد رحمۃ اللہ علیہ نے ایسوں کو غرور وتکبّر اور خود ستائشی سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ “جب تم تمام اشیاء کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جانو، اور سمجھو کہ نیک کام کرنے کی توفیق وہی دیتا ہے، اور نفس کا اس سے کچھ بھی لگاؤ نہ رکھو، تو تم اس عُجب وغرور سے بچ جاؤ گے”([11])۔

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! یہ دنیا آزمائش گاہ ہے، اللہ رب العالمین کی طرف سے  آزمائش کے مختلف طریقے ہیں، کسی کو زیادہ مال ودَولت دے کر آزمایا جا رہا ہے، تو کسی کو بھوک، غربت اور تنگی واِفلاس   کے ذریعے۔ اللہ کے نیک بندے ہرحال میں اللہ تعالیٰ سے راضی رہتے اور اس کا شکر ادا کرتے ہیں، لیکن بعضوں کو دیکھا گیا ہے کہ معمولی سى مشکل آنے پر دوہائیاں دینا شروع کر دیتے ہیں، صبر کا مظاہرہ کرنے کے بجائے دوسروں کے سامنے اپنے گھریلو حالات کا رونا لے کر بیٹھ جاتے ہیں، اور ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کی مدد کریں۔ ایسا کرنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں، ایسوں کے لیے حضور پیرانِ پیر روشن ضمیر رحمۃ اللہ علیہ  کا یہ فرمان کہ “فقر کو چھپانا زیادہ لائق ومستحسن ہے”([12]) ، کسی بہت بڑے خزانے سے کم نہیں ہے۔

          میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! بحیثیت مسلمان ہم میں سے ہر شخص کی خواہش ہے، کہ اللہ رب العزت ہم سے راضی ہو جائے، ہمیں اس کا قُرب نصیب ہو جائے، ہم اس کے فرمانبردار بندے بن جائیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم جھوٹ، چغلی، حسد، وعدہ خلافی، امانت میں خیانت، ناپ تول میں کمی جیسی مُعاشرتی برائیوں اور گناہوں کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، اگر ہم واقعۃً اپنے رب کو راضی کرنا چاہتے ہیں، تو ان تمام برائیوں اور گناہوں سے نَجات حاصل کرکے، ہمیں ایک اچھا اور باعمل مسلمان بننا ہوگا۔ حضور غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ  قربِ الٰہی کے حصول کا طریقہ بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “سچائی اور راست بازی اختیار کرو، اگر یہ دونوں صفتیں نہ ہوتیں، تو کسی شخص کو بھی قربِ الٰہی حاصل نہیں ہو سکتا تھا”([13])۔

اے اللہ! ہمیں سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی سیرتِ طیّبہ کا مطالعہ کرنے، اور ان کی تعلیمات پر عمل کی توفیق مرحمت فرما، ان کے فیضِ روحانی سے ہمیں کامل حصہ عطا فرما، اپنی محبت واطاعت اور ولایت عنایت فرما، بزرگانِ دین کی تعلیمات کی روشنی میں ایک اچھا مسلمان بننے کا جذبہ عطا فرما۔

اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتّحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، اس میں سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اخلاص کی دولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔

ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتّحاد واتّفاق اور محبت والفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!۔

اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کےظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی وکشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما!، آمین یارب العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) “بهجة الأسرار” ذکر نسبه وصفته h، صـ171.

([2]) المرجع نفسه، ذکر وعظه h، صـ183، 184.

([3]) المرجع السابق، صـ184.

([4]) “بهجة الأسرار” ذکر علمه وتسمیة بعض شیوخه h، صـ225، 226.

([5]) “ذیل طبقات الحنابلة” إسماعيل بن أبي طاهر بن الزبير الجيلي، 2/206.

([6]) “بهجة الأسرار” ذکر فصول من کلامه مرصّعاً بشيء …إلخ، صـ106.

([7]) المرجع نفسه، صـ99.

([8]) “فتوح الغيب” المقالة 48 فيما ينبغي للمؤمن أن يشتغل به، صـ113.

([9]) پ23، صٓ: 25.

([10]) “الطبقات الكبرى” ومنهم أبو صالح سيِّدي …إلخ، الجزء 1، صـ131.

([11]) “قلائد الجواهر” صـ29.

([12]) المرجع نفسه، صـ57.

([13]) المرجع السابق، صـ61.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *