
Table of contents
پیری مریدی
برادرانِ اسلام! بیعت کے معنی پورے طَور سے بِک جانا ہے([1])۔ بیعتِ ارادت کہ اپنے ارادہ واختیار سے یکسر باہر ہو کر، اپنے آپ کو شیخ مرشِد، ہادئ برحق، واصلِ حق (یعنی جو اللہ تک پہنچ چکا ہو، اُس) کے ہاتھ میں بالکل سپرد کر دے، اس کے چلانے پر راہِ سُلوک چلے، کوئی قدم بے اس کی مرضی کے نہ رکھے، اپنی ہر مشکل اس پر پیش کرے، غرض اس کے ہاتھ میں مُردہ بدستِ زندہ ہو کر رہے۔ یہ بیعتِ سالکین ہے، اور یہی مقصودِ مشایخِ مرشدین ہے، یہی اللہ تعالی تک پہنچاتی ہے([2])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : حقوق العباد اور ہیومن رائٹس میں فرق
شریعت وطریقت وحقیقت ومعرفت
میرے محترم بھائیو! جہاں حقیقی اولیائے کرام قرآن وسنت اور اپنے روحانی فیوض وبرکات سے، اپنے مریدین ومعتقدین کی مذہبی واخلاقی اور ظاہری وباطنی تربیت فرماتے ہیں، وہيں آج کل بعض نام نہاد جعلی پیر فقیر، ولایت کا ڈھونگ رچا کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہوئے، ان کے ایمانوں پر ڈاکے ڈالتے نظر آتے ہیں، انہیں گمراہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں، اور خود ان جعلى پیروں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب ان سے کسی شرعی معاملے، نماز وغیرہ سے متعلق پوچھا جائے تو (معاذ اللہِ) کہتے ہیں کہ “ہم شریعت کے پابند نہیں، شریعت ہماری پابند ہے”۔ کوئی کہتا ہے کہ “تم شریعت پر چلو، ہمارا طریقت کا راستہ اس سے الگ ہے، تم ظاہری احکام پرعمل کرتے ہو، اور ہم باطنی علوم پرعمل پیرا ہیں”۔ بعض لوگ یہ حیلہ سازی بھی کرتے ہیں کہ “میاں! ہم تو مدینے میں نماز پڑھتے ہیں، میاں! نماز تو روحانیت کا نام ہے، جو دِل میں ہوتی ہے، ہمارے دل نمازی ہیں” وغیرہ وغیرہ۔ ایسے جعلى پیروں کا کوئی اعتبار نہیں، ایسے پیروں سے اپنا ایمان اور عقیدہ محفوظ رکھنافرض ہے؛ کہ کہیں یہ لٹیرے ہمارا ایمان ہی نہ برباد کر دیں!؛ کیونکہ عام طور پر ان کے شنیع اقوال وعقائد، کفر وگمراہی پر مشتمل ہوا كرتے ہیں۔ نیز ان سے دور رہنا اس ليے بھی ضروری ہے، کہ اہلسنّت وجماعت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ “طریقت شریعت سے جُدا نہیں”۔ چنانچہ مجدِّد اعظم، امامِ اہلسنّت، سیِّدُنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ “شریعت حضورِ اقدس سیِّدِ عالَم ﷺ کے اقوال ہیں، اور طریقت حضور کے اَفعال، اور حقیقت حضور کے اَحوال، اور معرفت حضور کے علومِ بےمثال ہیں”([3])۔
بیعت (پیری مریدی)، قرآنِ کریم کی رَوشنی میں
عزیزانِ محترم! (1) اللہ f کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَابْتَغُوْۤا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ وَجَاهِدُوْا فِيْ سَبِيْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾([4]) “اے ایمان والو اللہ سے ڈرو! اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو، اور اس کی راہ میں جہاد کرو، اس امید پر کہ فلاح پاؤ!”۔
امام حافظ الدین نَسَفی رحمہُ اللہ اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ “ہر وہ چیز وسیلہ ہے، جس کے ذریعہ مطلوب تک پہنچا جائے، یعنی وہ قُربت وعبادت اور ترکِ مَعاصی، جن سے قربِ خداوندی حاصل کیا جائے”([5])۔
حضرت شاہ ولی اللہ احمد بن عبد الرحیم دہلویؒ فرماتے ہیں کہ “اس آیتِ مبارکہ میں وسیلہ سے مراد بیعتِ مُرشِد ہے”([6])۔
(2) حضور نبئ کریم ﷺ نے صحابۂ کرام وصحابیاتِ محترمات سے مختلف مواقع پر، مختلف قسم کی بیعتیں لیں، جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَمَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَيْهُ اللّٰهَ فَسَيُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا﴾([7]) “وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں اے حبیب! وہ تو اللہ ہی کی بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے، تو جس نے عہد توڑا اس نے خود اپنا نقصان کیا، اور وہ عہد جس نے پورا کیا جو اس نے اللہ سے کیا تھا، تو بہت جلد اللہ اسے بڑا ثواب عطا فرمائے گا!”۔
علّامہ علاءُ الدّین علی بن محمد الخازِنؒ اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: “کیونکہ انہوں نے جنّت کے بدلے میں اپنی جانوں کو بیچ دیا۔ بیعت کی اصل یہ ہے کہ ایسا عہد جس میں انسان اپنے آپ پر، امام کی اطاعت لازم کرتا ہے، اور اس عہد کو پورا کرتا ہے جس کا اس نے التزام کیا ہے، اور اس مقام پر بیعت سے مراد حدَیبیہ کے مقام پر ہونے والی “بیعتِ رضوان” ہے”([8])۔
(3) اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَيْـًٔا وَّلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِيْنَ وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَهٗ بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ﴾([9]) “اے نبی! جب تمہارے پاس اس بات پر بیعت کرنے کو مسلمان عورتیں حاضر ہوں، کہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی، نہ چوری کریں گی، نہ بدکاری، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی، اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان (یعنی مَوضعِ ولادت میں اٹھائیں کہ پرایا بچہ لے کر شَوہر کو دھوکا دیں، اور اس کے پیٹ سے جَنا ہوا بتائیں، جیسا کہ جاہلیت کے زمانہ میں دستور تھا) اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی، تو اِن سے بیعت لو اور اللہ سے ان کی مغفرت چاہو!”۔
امام حسین بن مسعود الفَرّاء البَغَویرحمہُ اللہؒ اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ “یہ فتحِ مکّہ کے دن ہوا، جب رسول اللہ ﷺ مَردوں کی بیعت سے فارغ ہوئے، اور حضورِ اقدس ﷺ صفا پر تھے، اور حضرت عمر حضورِ اقدس ﷺ سے نیچے تھے، وہ رسول اللہ ﷺ کے حکم پر خواتین سے بیعت لے رہے تھے، اور حضورِ اقدس ﷺ کی بات خواتین تک پہنچا رہے تھے”([10])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : بڑوں کاادب واحترام اور تربیتِ اولاد
بیعت (پیری مریدی)، حدیثِ نَبَوی کی رَوشنی میں
حضراتِ محترم! (1) حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیبّہ طاہرہ رضیَ اللہُ عنہا سے روایت ہے: «كان النبِيُّ g يبايعُ النّساءَ بِالكلام بهذه الآيةِ: ﴿لَا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَيْـًٔا﴾ [الممتحنة: 12]» “حضور نبئ کریم ﷺ خواتین سے زبانی، اس آیتِ مبارکہ کے اَحکام کی بیعت لیتے، کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی!”۔ آپ رضیَ اللہُ عنہا فرماتی ہیں: «وما مسّتْ يدُ رسولِ الله g يدَ امْرأةٍ، إلّا امْرأةً يملكُها»([11]) “اپنی ازواج اور باندیوں کے سِوا، رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کا ہاتھ نہیں چُھوا”۔
(2) حضرت سیِّدنا عُبادہ بن صامت رضیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضور نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «بايعوني علَى أن لا تُشركُوا بالله شيئاً، ولا تسرقُوا، ولا تَزْنُوا، ولا تقتلُوا أولادَكم، ولا تأتُوا ببهتانٍ تفترونَه بينَ أيدِيكم وأرجُلِكم، ولا تعصوا في معروفٍ، فمَن وفَى منكم فأجرُه علَى الله، ومَن أصاب مِن ذلك شيئاً، فعُوقِب به في الدّنيا فهو له كفّارة، ومَن أصاب مِن ذلك شيئاً فستره اللهُ، فهو إلى الله، إن شاء عفا عنه، وإن شاء عاقبَه!» “مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کروگے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، اور بہتان تراشی نہیں کرو گے جسے تم اپنے ہاتھوں اور پَیروں کے درمیان گھڑو، اور نیکی کے کاموں میں نافرمانی نہیں کرو گے، تم میں سے جس نے یہ عہد پورا کیا اس کا اجر اللہ تعالی کے ذمّۂ کرم پر ہے، اور جو اِن میں سے کسی برائی میں مبتلا ہو، اور دنیا میں اسے سزا مل گئی تو وہ اس کا کفّارہ ہوگیا، اور اللہ تعالی نے جس کا پردہ رکھا، تو وہ اللہ کے سپرد ہے، کہ چاہے تو اسے مُعاف فرمائے، اور چاہے تو اُسے سزا دے!”۔ صحابی کہتے ہیں کہ ہم نےاِس بات پر حضورِ اقدس ﷺ سے بیعت کی”([12])۔
بیعت (پیری مریدی)، اقوالِ علماء کی رَوشنی میں
حضراتِ گرامی قدر! امام مالک رحمہُ اللہ نے فرمایا کہ “علمِ ظاہر کے بغیر، علمِ باطن کا جاننا ممکن نہیں”([13])۔
امام شافعی رحمہُ اللہ نے فرمایا کہ “اللہ تعالی نے کبھی کسی جاہل (غیرِ عالم) کو اپنا ولی (دوست) نہیں بنایا”([14])۔
حضرت معروف بعمی بسطامی رحمہُ اللہ کے والد نے فرمایا، کہ مجھے ابو یزید رحمہُ اللہ نے کہا، کہ میرے ساتھ چلو، اس شخص کو دیکھیں جس نے اپنے آپ کو ولی مشہور کر رکھا ہے! یہ شخص زاہد مشہور تھا، اور لوگ دُور دُور سے اس کی زیارت کو آیا کرتے تھے۔ ہم اس کی طرف چل دیے، ہم نے دیکھا کہ وہ اپنے گھر سے نکلا، اور مسجد میں داخل ہونے سے پہلے قبلے کی طرف منہ کر کے تھوک دیا۔ حضرت ابو یزید رحمہُ اللہ یہ دیکھتے ہی واپس لَوٹ گئے، اور اسے سلام تک نہ کیا۔ فرمایا کہ یہ شخص تو رسول اللہ ﷺ کے آداب میں سے ایک ادب کا لحاظ نہیں کر پا رہا، اپنے دعوئ ولایت کا لحاظ کیا کر پائے گا؟!”([15])۔
امام قشَيرى رحمہُ اللہ نے فرمایا کہ “مرید کے لیے یہ بھی ضروری ہے، کہ وہ کسی شیخ سے آدابِ طریقت سیکھے؛ کیونکہ جس کا طریقت میں کوئی استاد نہیں، وہ اس راہ میں کامیاب نہیں ہو سکتا، چنانچہ حضرت ابو یزید فرماتے ہیں کہ جس کا کوئی استاد نہیں، اس کا پیشوا شیطان ہے!”([16])۔
امام غزالى رحمہُ اللہ نے فرمایا کہ “راہِ حق کے مرید کو، کسی شیخ اور استاد کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی پَیروی کرے؛ تاکہ وہ شیخ اسے سیدھے راستے کی طرف رَہنمائی کرتا رہے؛ کیونکہ دین کا راستہ نہایت گہرا ہے، اور شیطانی راستے کثیر بھی ہیں اور ظاہر وسطحی بھی (فوری سمجھ آنے والے)، لہذا جس کا کوئی رَہنما مرشِد نہیں، ضرور اسے شیطان اپنے راستوں پر لے جائے گا، جیسے وہ شخص جو بغیر کسی مُحافظ کے ہلاکت خیز وادیوں سےگزرے، تو وہ گویا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتا ہے!”([17])۔
امام شيخ شہاب الدّين سُہروَردى رحمہُ اللہ نے فرمایا کہ “خرقہ پوشی یا خرقہ، شیخ اور مرید کے درمیان ایک رشتہ اور تعلق ہے، اور مرید کی طرف سے شیخ کی خدمت میں ایک ذریعۂ تحکیم ہے (یعنی مرید شیخ کو اپنا حاکم تسلیم کر لیتا ہے)، جب دُنیوی مصلحتوں کے لیے یہ تحکیم (کسی کو حاکم بنانا) شریعت میں جائز وپسندیدہ امر ہے، تو پھر منکرِ خرقہ (خرقہ پوشی) کس طرح اس کا انکار کرسکتا ہے؟! جو ایک ایسے طالبِ صادق کو شیخ پہناتا ہے، جو اپنے مرشِد کے پاس حسنِ عقیدت کے ساتھ حاضر ہو کر، دینی اُمور میں اسے اپنا رَہبر بنا لیتا ہے؛ تاکہ شیخ اسے راہِ ہدایت پر گامزن کرے، اسے آفاتِ نفس وفسادِ اعمال کی بصیرت عطا کرے، اور اسے تعلیم دے کہ نفس دشمن کن کن راستوں سے حملہ آوَر ہوتا ہے”([18])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : مزاراتِ اولیاء پر ہونے والی خُرافات کی روک تھام
پیر وشیخ کی شرائط
حضراتِ ذی وقار! امامِ اہلِ سنّت، حضرت امام احمد رضا خان بریلویؒ بیعت (پیری مریدی) کی اَقسام، شرائط اور ضوابط ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ “مرشدِ خاص جسے پیر وشیخ کہتے ہیں، دو2قسم ہے، قسمِ اوّل: شیخِ اتّصال، یعنی جس کے ہاتھ پر بیعت کرنے سےانسان کا سلسلہ، حضور پُر نور سیِّد المرسَلین ﷺ تک متصل ہو جائے، اس کےلیے چار4 شرطیں ہیں:
(1) شیخ کا سلسلہ باتّصالِ صحیح، حضورِ اقدس ﷺ تک پہنچا ہو، بیچ میں منقطع نہ ہو؛ کہ منقطع کے ذریعہ سے اتّصال ناممکن ہے۔ بعض لوگ بلا بیعت محض بزعمِ وراثت، اپنے باپ دادا کے سجادے پر بیٹھ جاتے ہیں، یا بیعت تو کی تھی مگر خلافت نہ ملی تھی، بلا اِذن مرید کرنا شروع کر دیتے ہیں، یا سلسلہ ہی وہ ہو کہ قطع کر دیا گیا، اس میں فیض نہ رکھا گیا، لوگ براہِ ہوَس اس میں اذن وخلافت دیتے چلے آتے ہیں، یا سلسلہ فی نفسہٖ اچھا تھا، مگر بیچ میں کوئی ایسا شخص واقع ہوا، جو بوجہِ اِنتفائے بعض شرائط، قابلِ بیعت نہ تھا، اس سے جو شاخ چلی وہ بیچ میں سے منقطع ہے۔ ان صورتوں میں اس بیعت سے ہرگز اتّصال حاصل نہ ہوگا۔ بیل سے دودھ یا بانجھ سے بچہ مانگنے کی مَت جُدا ہے!۔
(2) شیخ سنّی العقیدہ ہو۔ بد مذہب گمراہ کا سلسلہ شیطان تک پہنچے گا، نہ کہ رسول اللہ ﷺ تک۔ آج کل بہت کھلے ہوئے بد دِینوں، بلکہ بے دینوں، حتی کہ وہابیہ نے (جو سرے سے منکِر ودشمنِ اولیاء ہیں) مکّاری کے لیے، پیری مریدی کا جال پھیلا رکھا ہے۔ ہو شیار خبردار! احتیاط احتیاط!!۔
(3) عالِم ہو۔ اقول: علمِ فقہ اس کی اپنی ضرورت کے قابل کافی ہو، اور لازم ہے کہ عقائدِ اہلِ سنّت سے پورا واقف ہو، کفر واسلام وضلالت وہدایت کے فرق کا خوب عارف (جاننے والا) ہو۔ ورنہ آج بد مذہب نہیں، تو کل ہو جائے گا! ؏ من لم یعرف الشّرَ فیوماً یقع فیه
جو شَر سے آگاہ نہیں، ایک دن اُس میں مبتلا ہو ہی جائےگا!
صدہا کلمات وحرکات ہیں، جن سے کفر لازم آتا ہے، اور جاہل براہِ جہالت ان میں پڑ جاتے ہیں، اوّل تو خبر ہی نہیں ہوتی کہ ان کے قول یا فعل سے کفر سرزَد ہوا، اور بے اطلاع تَو بہ ناممکن ہے، تو مبتلا کے مبتلا ہی رہے۔ اور اگر کوئی خبر دے تو ایک سلیمُ الطبع جاہل ڈَر بھی جائے، تَوبہ بھی کرلے،مگر وہ جو سجادۂ مشیخت پر ہادی ومرشِد بنے بیٹھے ہیں، ان کی عظمت جو خود ان کے قلوب میں ہے، کب قبول کرنے دے؟!۔
(4) فاسقِ مُعلِن نہ ہو۔ اقول: اس شرط پر حصولِ اتّصال کا توقّف نہیں؛ کہ مجرّد فسق باعثِ فسخ نہیں، مگر پیر کی تعظیم لازِم ہے، اور فاسِق کی توہین واجب ہے، دونوں کا اجتماع باطل ہے۔ “تبیین الحقائق” امام زَیلعی وغیرہ میں دربارۂ فاسق ہے کہ “امامت کے لیے اسے آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے، اور شریعت میں تو اس کی توہین واجب ہے!”([19])۔
قسمِ دُوم2: شیخِ اِیصال، کہ شرائطِ مذکورہ کے ساتھ مَفاسِدِ نفس ومکائدِ شیطان (شیطان کی مکاریاں) ومصائدِ ہَوا (خواہشاتِ نفس کے حملوں) سے آگاہ ہو، دوسرے کی تربیت کرنا جانتا ہو، اور اپنے متوسِّل پر شفقتِ تامّہ رکھتا ہو، کہ اس کے عیوب پر اسے مطّلع کرے، ان کا علاج بتائے، جو مشکلات اس راہ میں پیش آئیں حل فرمائے، نہ محض سالک ہو، نہ نِرا مجذوب۔ “عوارف شریف” میں فرمایا کہ “یہ دونوں قابلِ پیری نہیں”([20])۔
اقول: اس لیے کہ اوّل (یعنی سالک) خود اَب تک راہ میں ہے، اور دوسرا (یعنی مجذوب) طریقِ تربیت سے غافل ہے۔
اقول: اس لیے کہ وہ مراد ہے، اور یہ مرید۔
پھر بیعت بھی دو2 قسم ہے:
بیعتِ اوّل:بیعتِ برکت (بیعتِ اتّصال) کہ صرف تبرک کے لیے داخلِ سلسلہ ہو جانا۔ آج کل عام بیعتیں یہی ہیں، وہ بھی نیک نیتوں کی، ورنہ بہتوں کی بیعت دنیاوی اَغراضِ فاسدہ کے لیے ہوتی ہے، وہ خارج اَز بحث ہے۔ اس بیعت کے لیے شیخِ اتّصال (جو شرائطِ اربعہ کا جامع ہو) بَس ہے۔
اقول: بےکار یہ بھی نہیں، مفید اور بہت مفید، اور دنیا وآخرت میں بکار آمد (کام آنے والی) ہے۔ محبوبانِ خدا کے غلاموں کے دفتر میں نام لکھا جانا، ان سے سلسلہ متصل ہوجانا، فی نفسہٖ سعادت ہے!۔
اوّلاً: ان کے خاص غلاموں سالکانِ راہ سے، اس امر میں مشابہت ہے، اور رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: «مَن تشبّه بقومٍ فهو منهم»([21]) “جو جس قوم سے مشابہت پیدا کرلے، وہ انہی میں سے ہے!”۔
ثانیاً: ان غلامانِ خاص کے ساتھ، ایک سلک (لڑی، ہار) میں منسلک ہونا ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، کہ ان کا رب A فرماتا ہے: «هُم القومُ لا يشقَى بهم جليسُهم!»([22]) “کچھ لوگ وہ ہیں، کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی بد بخت نہیں رہتا!”۔
ثالثاً: محبوبانِ خدا رحمت کی علامت ہیں، وہ اپنا نام لینے والے کو، اپنا کرلیتے ہیں، اور اس پر نظرِ رحمت رکھتے ہیں۔ امامِ یکتا سیِّدی ابو الحسن نور الملّۃ والدّین علی “بہجۃ الاَسرار شریف” میں فرماتے ہیں کہ “حضور پُرنور سیِّدنا غوثِ اعظم ؒ سے عرض کی گئی، کہ اگر کوئی شخص حضور کا نام لیوا ہو، اور اس نے نہ حضور کے دستِ مبارک پر بیعت کی ہو، نہ حضور کا خرقہ پہنا ہو، کیا وہ حضور کے مریدوں میں شمار ہوگا؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ “جو اپنے آپ کو میری طرف نسبت کرے، اور اپنا نام میرے غلاموں کے دفتر میں شامل کرے، اللہ تعالی اسے قبول فرما لے گا، اور اگر وہ کسی ناپسندیدہ راہ پر ہو، تو اسے تَوبہ کی توفیق عطا کرے گا، اور وہ میرے مریدوں کے زُمرے میں ہے، اور بےشک میرے رب A نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، کہ میرے مریدوں، ہم مذہبوں، اور میرے ہر چاہنے والے کو، جنّت میں داخل فرمائے گا!”([23])۔
بیعت دُوم2: بیعتِ ارادت (بیعت اِیصال) کہ اپنے ارادہ واختیارسے یکسر باہر ہوکر، اپنے آپ کو شیخ مرشِد، ہادئ برحق، واصل بحق کے ہاتھ میں بالکل سپرد کر دے، اسے مطلقاً اپنا حاکم ومالک ومتصرّف جانے، اس کے چلانے پر راہِ سُلوک چلے، کوئی قدم بے اِس کی مرضی کے نہ رکھے، اس کے لیے اس کے بعض اَحکام، یا اپنی ذات میں خود اس کے کچھ کام، اگر اس کے نزدیک صحیح نہ معلوم ہوں، انہیں اَفعالِ خضر D کے مثل سمجھے، اپنی عقل کا قصور جانے، اس کی کسی بات پر دل میں بھی اعتراض نہ لائے، اپنی ہر مشکل اس پر پیش کرے، غرض اس کے ہاتھ میں مُردہ بدستِ زندہ ہو کر رہے، یہ بیعتِ سالکین ہے([24])۔
مُراقبۂ تصوّرِ شیخ
حضراتِ گرامی قدر! شاه ولى الله محدِّث دہلوى رحمہُ اللہ نے فرمایا کہ “جب مرشِد اس کے پاس نہ ہو، تو محبت وتعظیم کے ساتھ مرشِد کی صورت کو، اپنی دونوں آنکھوں کے درمیان تصوّر کرتا رہے، تب مرشِد کی خیالی صورت اِسے وہ فائدہ دے گی، جو فائدہ مرشِد کی صحبت دیتی ہے”([25])۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمہُ اللہ مزید فرماتے ہیں کہ “اگر تم ترقی سے رُک گئے ہو، تو چاہیے کہ صورتِ شیخ کو اپنے داہنے شانے پر، اور شانے سے دل تک ایک امر کشیدہ فرض کر لو، اور اس پر صورتِ شیخ کو لا کر اپنے دل میں رکھو! اس سے امید ہے کہ تمہیں مقامِ غیب وفنا حاصل ہو جائے”([26])۔
آپ رحمہُ اللہ مزید فرماتے ہیں کہ “ہماری صحبت تو رسول اللہﷺ تک متصل ہے، اگرچہ خاص یہ آداب واَشغال ثابت نہ سہی!”([27])۔
خلاصۂکلام
عزیزانِ گرامی قدر! قرآنِ مجید، احادیثِ مبارکہ اور اقوالِ علمائے کرام کی رَوشنی میں یہ بات ثابت ہوئی، کہ مرید ہونے کا مقصد اپنے باطن کی اِصلاح، اَحکامِ شریعت کا پابند ہونا، اور اپنی دنیا وآخرت کو سنوارنا ہے۔ ہر انسان پر واجب ہے کہ اپنے باطن کی اصلاح کرے، اس کے لیے جہاں دیگر ذرائع ہیں، وہیں کسی کے ہاتھ پر بیعت کرنا بھی ایک ذریعہ ہے۔ لہذا کسی سے بیعت ہو کر، یعنی کسی کی مریدی اختیار کرکے بھی اپنی اصلاح کی كوشش جائز ہے، اور کسی متبعِ سنّت پیر کے ہاتھ پر بیعت کرنا بھی جائز ہے۔
ایک اِصلاحی پہلو
میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! اس بات کی وضاحت بھی کروں، کہ جاہل، بے عمل، بلکہ بد عمل پیروں کی اصلاح بھی ضروری ہے، جو اَحکامِ شریعت پر عمل کیے بغیر جنّت میں جانا چاہتے ہیں۔ ان کی جہالت میں سے، ان کا یہ طرزِ عمل بھی ہے، کہ یہ لوگ خود کو شریعتِ مطہَّرہ کے اَحکام سے آزاد سمجھتے ہیں، اور لوگوں کے سامنے بھی اَحکامِ شریعت کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ جبکہ بعض جاہلوں نے محض دنیا کمانے کی خاطر پیری مریدی کا کاروبار شروع کر رکھا ہے۔
لہذا ہم سب کی یہ ذمّہ داری ہے، کہ ہم خود بھی ایسے جاہل اور بد عمل پیروں سے بچیں، اور اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کو بھی ان کے شَر وفساد سے بچائیں!۔
دعا
اے اللہ! ہمیں حضراتِ اولیائے کرام علیہمُ الرِّضوان کی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرما، ان کے فیضِ روحانی سے ہمیں کامل حصّہ عطا فرما، اور اپنی محبت واطاعت کے ساتھ اپنی ولایت عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا۔ ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، اس میں سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اخلاص کی دولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت والفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!۔
اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے فلسطینی اور کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “الملفوظ” حصّہ 2، 41، 42۔
([3]) “فتاویٰ رضویہ” کتاب الحظر والاِباحہ (سوم3)، تصوّف وطریقت، 17/ 106۔
([5]) “المدارك” المائدة، تحت الآية: 35، 1/320.
([6]) “القول الجميل مع شفاء العليل” الحكمة في تكرار البيعة، صـ39.
([8]) “لُباب التأويل في معاني التنزيل” الفتح، 4/157.
([10]) “معالم التنزيل” الممتحنة، تحت الآية: 12، 4/334، 335.
([11]) “صحيح البخاري” باب بيعة النساء، ر: 7214، صـ1242.
([12]) “صحيح البخاري” كتاب الإيمان، باب، ر: 18، صـ6.
([13]) انظر: “فيض القدير” حرف العين، تحت ر: 5711، 4/388.
([14]) ديكھیے: “فتاوىٰ رضویہ” كتاب الحظر والاِباحہ، رسالہ “مقالِ عُرفاء ” 17/138۔
([15]) انظر: “الرسالة القشَيرية” باب في ذكر مشايخ هذه الطريقة، صـ29.
([16]) انظر: “الرسالة القشَيرية” باب الوصية للمريد، صـ390.
([17]) “إحياء علوم الدّين” بيان شروط الإرادة ومقدمات المجاهدين …إلخ، 3/81.
([18]) “عوارف المعارف” الباب 12 في شرح خرقة المشايخ الصوفية، 5/102.
([19]) “تبيين الحقائق” كتاب الصّلاة باب الإمامة، الجزء 1، صـ134.
([20]) “عوارف المعارف” الباب 10 في شرح رتبة المشيخة، 5/97.
([21]) “سنن أبي داود” باب في لبس الشهرة، ر: 4031، صـ569.
([22]) “صحيح مسلم” باب فضل مجالس الذكر، ر: 6839، صـ1170، 1171.
([23]) “بهجة الأسرار” فضل أصحابه وبُشراهم، صـ100.
([24]) “فتاویٰ افریقہ” 123-126 ملتقطاً۔
([25]) “القول الجميل مع شفاء العليل” فصل 6، صـ96، 97.
([26]) “الانتباه في سلاسل الأولياء الله” طريقة نقشبندية، صـ46.