حقوقِ زوجین ووفاداری

Home – Single Post

Spouse right in islam

الحمد لله ربّ العالمين، والصّلاةُ وَالسّلامُ عَلىٰ سَيّد الأَنبياءِ وَالمرسَلين, وعَلىٰ آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِيْن، وَمَن تَبِعَهُم بِإِحْسَانٍ إِلىٰ يَوْمِ الدِّين، أَمّا بَعد: فَأَعُوْذُ بِالله مِنَ الشّيطانِ الرَّجِيْم، بِسْمِ الله الرَّحْمنِ الرَّحِيْم.

حضور پرنُور، شافعِ یومِ نُشور ﷺ کی بارگاہ میں ادب واحترام سے دُرود وسلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اللَّهُمَّ صلِّ وسلِّمْ وبارِكْ علَى سيّدِنَا ومولانا وحبيبِنا مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِهِ وصَحبِهِ أَجمعِيْن.

عزیزانِ محترم! اللہ ربُّ العالمین نے ایما ن والوں کے لیے مابین زوجین شادی ووفاشعاری کو نعمت بنایا، میاں بیوی کے درمیان اُلفت ومحبت اور وفاداری قائم فرمائی، رشتۂ ازدواج  دلوں کی پاکیزگی، تقوی وپرہیزگاری کا سبب، بد نگاہی، بے حیائی، فحاشی، عُریانیت،گناہوں کے دَلدَل، گندگی  اور آلودگی سے پاک صاف رہنے  کا نہایت ہی عمدہ ذریعہ ہے، اور زَوجَین  کی باہمی خُوش اُسلوبی، وفاشِعاری اور محبت سے ان کے دنیاوی گھر کو جنتی گھرانےبنا دیتی ہے، زوجین کے مابین محبت واُلفت قدرت كا انمول تحفہ ہے، انہیں آپس میں محبت وہمدردی  ہوجاتی ہے، اگرچہ  نکاح سے  پہلے یہ اجنبی تھے، اسی کی بدَولت دو2 خاندان آپس میں مل جاتے ہیں، یہ سب اللہ تبارک وتعالی کی کرم نوازی ہے، باہمی اچھے برتاؤ کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ﴿وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ﴾([1]) “اور ان سے اچھا برتاؤ کرو”، جہاں شَوہر پر اپنی زَوجہ سے اچھا برتاؤ کرنا ضروری ہے، وہیں زوجہ کی طرف سے بھی وفاشعاری ومحبّت کا برتاؤہونا لازم ہے، امّ المؤمنین حضرت سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ ﷝ کا وہ قول مشہور ہے کہ جب آپ﷝ نے پہلی وحی کے بعد نبئ کریم ﷺ سے عرض کی: «وَاللهِ! مَا يحْزنكَ اللهُ أَبَداً، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلىٰ نَوَائِبِ الْحقِّ»([2]) “بخدا! اللہ تعالی آپ کو ہر گز غمزدہ نہ کرے گا؛ کیونکہ آپ صلہ رحمی فرماتے ہیں، لوگوں کا بار اُٹھاتے ہیں، لوگوں کو (مال واَخلاق وغیرہ) عطا فرماتے ہیں جو اُن کے پاس نہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، اور راہِ حق میں پیش آنے والے مصائب میں مدد فرماتے ہیں”۔

برادرانِ محترم! اسلام نے مرد وعورت کو ازدواجی زندگی کے آداب بھی سکھائے؛ کہ عورت اپنے شَوہر کے لیے زیب وزینت اختیار کرے، وفاداری اپنائے، اسی میں اس کی عزّت اور مال وجان کی حفاظت ہے، ارشاد باری تعالی ہے: ﴿فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ﴾([3]) “تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں، خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں”۔ بیوی کا شَوہر کے لیے زیب وزینت کرناباہمی پاکدامنی کی ضمانت ہے، حضرت سیّدنا ابوہریرہ ﷛ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ سے عرض کی گئی: عورتوں میں کون بھلی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ، وَلاَ تُخَالِفُهُ فِيمَا يَكْرَهُ في نَفْسِهَا وَمَالِهِ»([4]) ” جسے دیکھ کر شَوہر خوش ہوجائے، اور کوئی  حکم  دے تو اِطاعت کرے، اور اپنے (بناؤ سنگھار کے) بارے میں شوہر کی مخالفت نہ کرے، اور خاوند کا مال سلیقے سے خرچ کرے”۔

محترم بھائیو! میاں بیوی کے درمیان تعلقات کی خوشگواری اور اعلیٰ ظرفی و خوش اَخلاقی کا برتاؤ اسلامی  تعلیمات سے ہے، جو باہمی محبت والفت کا سبب ہے، اللہ تبارک وتعالی نے زوجین کی باہمی محبت کے بارے میں ارشاد فرمایا: ﴿وَمِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠﴾([5]) “اور الله اس کی نشانیوں ميں سے ہے کہ تمہَارے ليے  تمہَاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ اُن سے آرام پاؤ، اور تمہَارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی، یقیناً اس میں نشانیاں ہیں دھیا ن کرنے والوں کےليے!!”۔

عزیزانِ محترم! شوہر کے لیے ضروری ہے کہ حسن اَخلاق ونرمی کا مُعاملہ رکھے، نیک کاموں میں اپنی زوجہ کی مدد کرے، اللہ ورسول کی نافرمانی والے کاموں سے اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو بھی بچائے،اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ﴾([6]) “اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں”، لہٰذا مرد پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اچھے انداز میں اپنے گھر والوں کو نماز روزے اور ہر نیک کام کی تلقین کرتا رہے۔

میرے بزرگو ودوستو! جس طرح عورت پرلازم ہے کہ وہ  شَوہر  کی خدمت ووفاداری کا  حق ادا کرے، اسی طرح  شَوہر پر بھی لازم ہے کہ بیوی کے حقوق ادا کرے، جس طرح شَوہر چاہتا  ہے کہ میری بیوی میرے لیے مزیّن و آراستہ ہو، اسی طرح مَرد بھی صفائی ستھرائی کا اہتمام  کرے، صحابئ جلیل حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عباس ﷟ نے کہا: «إنّي لأَتَزَيَّن لامْرَأَتِي كما تَتَزَيَّن لي؛ لقوله تعالى: ﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الذي عَلَيْهِنَّ بِالمعْرُوْفِ﴾»([7]) “میں اپنی بیوی کے لیے اسی طرح بنتا سنوَرتا ہوں جیسے وہ میرے لیے بناؤ وسنگھار کرتی ہے؛ اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمانِ عالیشان ہے: “شریعت کے مطابق عورتوں کا بھی حق اَیسا ہی ہے جیسا اُن پر ہے”۔ ہم پر لازم ہے کہ نبئ کریم ﷺ کے فرمان مبارک کو مشعلِ راہ  بنائیں، رسولِ کریم ﷺ نے حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عَمرو بن عاص ﷟ کو زوجہ کے حق کے بارے میں ارشاد فرمایا: «وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقّاً»([8]) “یقیناً تمہَاری زوجہ کا بھی تم پر حق ہے”۔ حضرت اسوَد  کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ ﷝ سے پوچھا: نبئ اکرم ﷺ اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: «كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ -تَعْنِي: في خِدْمَة أَهْلِهِ- فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ»([9])  “اپنے اہل کے کام میں رہتے، اور جب نماز کا وقت ہو جاتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے”۔

برادرانِ اسلام! رسول اللہ ﷺ نے نیک عورت کو ایک بہترین خزانہ قرار دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: «أَلاَ أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ الْمرْءُ! الْمرْأَةُ الصَّالِحَةُ، إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْه، وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْه، وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْه»([10]) “کیا میں تمہیں آدمی کا بہترین خزانہ نہ بتاؤں! وہ نیک عورت ہے کہ جب آدمی اس کی طرف دیکھے تو خوش کر دے،اور جب اسے كوئى حکم دے تو تعمیل کرے، اور جب وہ غائب ہو تو پیچھے سے محافظ رہے”، رسول اللہ ﷺ نے مردوں سے فرمایا: «اسْتَوْصُوْا بِالنِّسَاءِ [خَيْراً]»([11]) “عورتوں سے خیر خواہی کرو”۔ رحمتِ کونین ﷺ نے عورتوں سے اچھے برتاؤ کی تاکید فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: «لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقاً، رَضِيَ مِنْهَا اٰخَرَ»([12]) “کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے  متنفّر نہ ہو، اگر کسی ایک عادت سے وہ ناخوش ہے، تو اس کی کسی دوسری خصلت سے خوش بھی  تو ہوگا”۔

محترم سامعین ِ کرام! زَوجین کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مابین راز کسی پر ظاہر نہ کریں، حضرت سیّدنا ابو سعید خُدری ﷛ سے روایت ہے، نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الرَّجُلَ يُفْضِي إِلىٰ امْرَأَتِهِ وَتُفْضِيْ إِلَيْهِ، ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا»([13]) “اللہ تعالی کے نزدیک قیامت کے دن بد ترین شخص وہ ہوگا جو اپنی عورت کے قریب جائے اورعورت اُس کے قریب جائے، پھر وہ اس کا راز اِفشا کردے”۔

آدابِ زَوجیّت میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی اپنی زَوجہ پر ظلم نہ کرے، عدل وانصاف قائم رکھے، حقوق کی ادائيگی کرےاور اگر ایک سے زائد بیویاں ہوں تو ان میں انصاف سے کام لے، رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ الْمقْسِطِينَ عِنْدَ اللهِ عَلىٰ مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ b، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوْا»([14]) “عدل کرنے والے اللہ تعالی کے نزدیک اللہ تعالی کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے (اور اللہ تعالی کے ہاں دونوں طرف دائیں ہیں) یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے اہل وعِیال اور اپنے ماتحتوں میں عدل وانصاف کریں گے”۔

جنّتی عورت کی نشاندہی کرتے ہوئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِذَا صَلَّتِ الْمرْأَةُ خَمْسَهَا، وَصَامَتْ شَهْرَهَا، وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا، وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا، قِيلَ لَهَا: ادْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ»([15]) “جب عورت پنچ وقتہ فرض نمازیں ادا کرے، ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شَوہر کی فرمانبرداری کرے، تو اس سے کہا جائے گا کہ جنّت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہو جاؤ”۔

شریعتِ مطہَّرہ نے عورت کو شَوہر سے بے وفائی اور ناشکری سے منع فرمایا، حضرت سیّدنا عبداللہ بن عَمرو بن عاص ﷛ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَا يَنْظُرُ اللهُ إِلىٰ امْرَأَةٍ لاَ تَشْكُرُ لِزَوْجِهَا، وَهِيَ لاَ تَسْتَغْنِي عَنْهُ»([16]) “اللہ تعالی اس عورت کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا جو اپنے شَوہر کا شکر ادا نہ کرے، حالانکہ اسے اپنےشَوہر کی ضرورت ہے”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حقوق العباد

اپنے گھر والوں سے حُسنِ سُلوک

عزیزانِ محترم!  مصطفی جانِ رحمت ﷺ سب کے ساتھ اچھا برتاؤ فرماتے، اور خصوصاً اپنے اہل خانہ کے ساتھ، چنانچہ فرمایا: «خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لأهْلِهِ، وَأنا خَيْرُكُمْ لأهْلِي»([17]) “تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہے، اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ تم میں سب سے بہتر ہوں”، لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے اہل وعِیال کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھیں؛ کہ گھروالوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا طاعات پر مددگار ثابت ہوتا ہے، اور یہ چیز انسان کو جنّت سے قریب کر دیتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ مِنْ أَكْمَلِ الْمؤْمِنِينَ إِيمَاناً، أَحْسَنُهُمْ خُلُقاً، وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِه»([18]) “سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ ہیں جن کے اَخلاق سب سے اچھے ہیں، اور وہ اپنے گھر والوں سے نرمی سے پیش آتے ہیں”۔ اور گھر والوں کے ساتھ  نرمی سے پیش آنے میں ان کی رائے کا احترام کرنا بھی ہے؛ کہ اس سے خیر وبرکت ہوتی ہے، اپنی استطاعت کے مطابق اپنے اہل وعِیال کی ضرورتوں کا خیال بھی رکھیں۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :رشتہ داروں کے حقوق

وفاشِعاری

عزیز دوستو! میاں بیوی کے درمیان حسنِ اَخلاق ووفاداری بھی نہایت اہم ہے، ایک دوسرے سے کیے ہوئے وعدوں کی پاسداری بھی ضروری ہے، خالقِ کائنات ﷻ ارشاد فرماتاہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ﴾([19]) “اے ایمان والو! اپنے کہا پورے کرو!”، “تفسیرِ جلالین” میں ہے کہ “العهود المؤكّدة التي بينكم وبين الله أو النّاس”([20]) “اس سے مرادوہ پکے عہد ہیں جو تم نے اپنے اور اللہ کے درمیان، یا لوگوں کے درمیان کر رکھے ہیں”۔

بیوی کے ساتھ ساتھ شَوہر کو بھی اپنی زَوجہ کے ساتھ وفاداری وحسنِ اَخلاق کا مُعاملہ رکھنے کا حکم دیا ہے، ان کے ساتھ محبّت وشفقت کا برتاؤ کرنے، اور ان کے مہر بخوشی ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے، اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ﴿وَاٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً﴾([21]) “عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو!”۔ مقرّر ہ مہر اور دیگر اِخراجات کے مُعاملے میں کوئی کمی نہ ہو، رسول اللہ ﷺ نے وفادار وبہترین عورت کے بارے میں فرمایا: «إِنَّ خَيْرَ النِّسَاءِ الَّتِي إِنْ أُعْطِيَتْ شَكَرَتْ، وَإِنْ أُمْسِكَ عَنْهَا صَبَرَتْ»([22]) “یقیناً بہترین عورت وہ ہے کہ اگر اسے دیا جائے تو شکر گزار ہو، اور نہ دیا جائے تو صابر ہو”۔

اے اللہ! ہمیں اپنے اہل وعیال کے حقوق ادا کرنے کی توفیق وسعادت عطا فرما، زَوجین کو ايك دوسرے کے حقوق کی پاسداری کی توفیق عطا فرما، زَوجین کے مابین محبّت واُلفت کو راسخ فرما، ہمارے گھروں کو محبّت ورَحمت کا گہوارہ بنا، ہمیں وعده پورا کرنے کی توفیق وہمت عطا فرمائے، اےاللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے قرآن وسُنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے, سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام ﷡ کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفيق عطا فرما، ہم پر اپنی نعمتوں کی فراوانی اور اِن ميں دَوام عطا فرما، اِن كى حفاظت وشکر کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفیٰ  کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے وافر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنا، اےالله! متّحده عرب اِمارات کے بانى شيخ زايد اور ديگر حكّام كى مغفرت اور اُن پر اپنى رَحمت فرما, شيخ خلیفہ اور ديگر حكّامِ اِمارات كى حفاظت فرما، اِن سے وه كام لے جس میں تيرى رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

rights of children

یہ بھی ضرور پڑھیں :اولاد کے حقوق

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه سيّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيننا محمّدٍ وّعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) پ٤، النساء: 19.

([2]) “صَحيحُ البخاري” كتابُ بدء الوحي، ر: ٣، صـ١.

([3]) پ٥، النساء: 34.

([4]) “المسند” لأحمد، مسند أبي هريرةh، ر: ٩66٤، ٣/٤٣٩.

([5]) پ٢١، الروم: 21.

([6]) پ٢٨، التحريم: 6.

([7]) “تفسير القرطبي” البقرة، تحت الآية: ٢٢٨، الجزء الثالث، صـ١١٨.

([8]) “صَحيحُ البخاري” كتابُ النكاح، ر: ٥١٩٩، صـ٩٣٠.

([9]) “صَحيحُ البخاري” ر: 676، صـ١١٠.

([10]) “سُننُ أبي داود” كتابُ الزكاة، ر: 1664، صـ٢٤٧.

([11]) “صَحيحُ مسلم” كتابُ الرضاع، بابُ الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ، ر: ٣6٤٤، صـ٦٢٦.

([12]) “صَحيحُ مسلم” كتابُ الرضاع، بابُ الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ، ر: ٣6٤٥، صـ٦٢٦.

([13]) “صَحيحُ مسلم” كتابُ النكاح، ر: ٣٥٤٢، صـ٦٠٩.

([14]) “صَحيحُ مسلم” كتابُ الإمارة، ر: ٤٧٢١، صـ٨١٩.

([15]) “المسند” حديث عبد الرحمن بن عوف الزهري h، ر: 1٦6١، ١/٤٠٦.

([16]) “السُننُ الكبرى” للبيهقي، كتابُ القسم والنشوز، 7/٢٩٤.

([17]) “جامع الترمذي” أبواب المناقب، ر: ٣٨٩٥، صـ٨٧٨.

([18]) “جَامع الترمذي” أَبوابُ الإيمان، ر: 2612، صـ٥٩٤.

([19]) پ6، المائدة: 1.

([20]) “تفسیر الجلالین”، صـ٩٤.

([21]) پ٤، النساء: 4.

([22]) “المصنّف” لعبد الرزاق، كتابُ الجامع، ر: ٢٠٥٩٤، 11/300، ٣٠١.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *