
Table of contents
- اسمِ گرامی اور شجرۂ نسَب
- مُرادِ رسول کا قبولِ اسلام
- آپ کا لقب فاروق
- حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مقام ومرتبہ
- عمر کہیں بھی ہو، حق اس کے ساتھ رہے گا
- حضرت سیِّدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ علم کے نَو9 حصّے لے گئے
- شیاطینِ جن وانس عمر سے ڈر کے بھاگ جاتے ہیں
- عمر کے اسلام لانے پر آسمان کے فرشتوں نے مبارکباد پیش کی
- حضرت سیِّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا عشقِ رسول ﷺ
- حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شجاعت وبہادُری
- مُوافقاتِ حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ
- دَورِ فاروقی کی فُتوحات اور طرزِ حکمرانی
- آپ کی شہادت
- مزارِ پُر انوار
- دعا
الحمد لله ربّ العالمين، والصّلاةُ وَالسّلامُ عَلى خاتم الأنبياءِ وَالمرسَلين, وعَلى آلِهِ وَصَحْبِهِ أجمَعِيْن، وَمَن تَبِعَهُم بِإحْسَانٍ إِلى يَوْمِ الدِّين، أَمّا بَعد: فَأَعُوذُ بِالله مِنَ الشّيطانِ الرَّجِيْم، بِسْمِ الله الرَّحْمنِ الرَّحِيْم.
حضور پُرنور، شافعِ یومِ نُشور ﷺ کی بارگاہ میں ادب واحترام سے دُرود وسلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اللَّهُمَّ صلِّ وسلِّمْ وبارِكْ علَى سيِّدِنَا ومولانا وحبيبِنا مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِهِ وصَحبِهِ أجمعين.
برادرانِ اسلام! تاجدارِ رسالت، سروَرِ کائنات، دو جہاں کے سردار ﷺ کے، تمام صحابۂ کرام -علیہم الرضوان- رَوشن ستاروں کی مانند ہیں، کوئی بھی مسلمان ان میں سے جس کو بھی اپنا آئیڈیل، اور رَہبر مان کر پَیروی کرے گا، وہ ہدایت پاجائے گا!۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ذاتِ والا صفات بھی، انہی رَوشن ستاروں میں سے ایک چمکتا دھمکتا، تابندہ ستاره ہے، جو صراطِ مستقیم سے بھٹکے ہوئے مسلمانوں، اور اَقوامِ عالَم کے دل ودماغ پر چھائے، گمراہی کے اندھیروں کو تا صبحِ قیامت اپنے نورانی جلووں سے رَوشن و منوّر کرتا رہے گا۔
عزیزانِ مَن! حضرت سيِّدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفۂ راشد ہیں، اللہ تعالی نے آپ کو شجاعت، بہادُری اور حق گوئی کا پیکر بنایا، اور آپ کو سر چشمۂ ہدایت بنا کر، آپ کے ذریعے اسلام کو عزّت بخشی۔ یقیناً آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ عظیم شخصیت ہیں، جن کی دینِ اسلام کے لیے عظیم الشان خدمات ہیں۔ عدل وانصاف پر مبنی آپ کے فیصلوں، کارناموں، فتوحات اورشاندار کردار سے اسلام کا چہرہ رَوشن ہے۔ آپ تاریخِ انسانی کی ایک ایسی معروف شخصیت کے مالک ہیں، جن کی عظمت کو صرف اپنے ہی نہیں، بلکہ بیگانے بھی تسلیم کرتے ہیں۔ بلا شبہ آپ ایک باعظمت، انصاف پسند، عادِل حاکم، شمعِ رسالت کے پروانے اور عظیم صحابئ رسول ہیں۔
اسمِ گرامی اور شجرۂ نسَب
حضراتِ گرامى قدر! امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نامِ نامی اسمِ گرامی عمر، کنیت ابو حفص ہے، اور لقب “فاروق” ہے۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا سلسلہ نَسَب کچھ اس طرح ہے: عمر بن خطّاب، بن نفیل، بن عبد العُزیٰ، بن ریاح، بن عبد اللہ، بن قُرط، بن رزاح، بن عدِی، بن کعب۔ جبکہ آپ کی والدہ کا نام حَنتمہ، بنت ہاشم، بن مغیرہ، بن عبد اللہ، بن عمر، بن مخزوم ہے([1])۔
آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا سلسلۂ نسَب نویں پُشت میں، سروَرِ کائنات ﷺ سے جا ملتا ہے۔ اسلام قبول کرنے والے، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ چالیسویں صحابی ہیں، آپ سے قبل اُنتالیس39 اَفراد نورِ ایمان سے منوّر ہو چکے تھے([2])۔ آپ عامُ الفیل کے تقریباً 13 سال بعد، مکّہ مکرّمہ میں پیدا ہوئے، اور اعلانِ نبوّت کے چھٹے سال عین جوانی کی حالت میں مشرَّف باسلام ہوئے([3])۔ آپ امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفۂ راشد مقرر ہوئے۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے انتہائی معتمَد صحابی ہیں۔ آپ ان دَس10 خوش نصیب صحابۂ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ میں سے ہیں، جنہیں رسول اللہ ﷺ نے، دُنیا ہی میں ایک ساتھ جنّت کی بِشارت دی۔ آپ کا شمار علماء و زاہدین صحابہ میں ہوتا ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :جہاد کی اہمیت اور شہید کا مقام ومرتبہ
مُرادِ رسول کا قبولِ اسلام
عزیزانِ مَن ! حضرت سیِّدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو مُرادِ رسول بھی کہا جاتا ہے؛ کیونکہ آپ وہ عظیم شخصیت ہیں، جن کے لیے رسول اللہ ﷺ نے خصوصی طور پر یہ دُعا مانگی: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ: بِأَبِي جَهْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ»([4]) “اے اللہ! ان دونوں یعنی ابو جہل اور عمر بن خطّاب میں سے، اپنے پسندیدہ بندے کے ذریعے، اسلام کو عزّت عطا فرما!”۔
ایک روایت میں ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح دعا کی: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً»([5]) “اے اللہ! بطورِ خاص عمر بن خطّاب کے ذریعے، اسلام کو عزّ ت عطا فرمایا”۔
چنانچہ حضور نبئ کریم ﷺ کی دعا کو شرفِ قبولیت سے نوازا گیا، اور چند ہی روز میں اسلام کا سخت دشمن، اسلام قبول کر کے، اس کا سب سے بڑا خیر خواہ، اور جانثار مُحافظ بن گیا!۔
| وہ عمر جس کے اعدا پہ شیدا سقر | اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام |
آپ کا لقب فاروق
حضراتِ گرامی قدر! حضرت سیِّدنا عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کا لقب “فاروق ” ہے، جو حق وباطل میں فرق کرنے کے سبب، آپ کو اللہ ورسول کی بارگاہ سے عطا ہوا۔ حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عبّاس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پوچھا، کہ آپ کو فاروق کیوں کہا جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مجھ سے تین3 روز پہلے اسلام قبول کیا، اللہ A نے اسلام کے لیے میرا سینہ کھول دیا، اور میں بےساختہ پکار اٹھا: “اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، سب اچھے نام اسی کے ہیں”۔
اس وقت رُوئے زمین پر، رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کوئی شخصیت مجھے محبوب نہیں تھی۔ میں نے اپنی ہمشیرہ سے پوچھا، کہ سروَرِ کائنات ﷺ کہاں تشریف فرما ہیں؟ اس نے کہا کہ دارِ اَرقم بن ابی اَرقم میں، جو صفا پہاڑی کے نزدیک ہے، حضرت امیر حمزہ اور دیگر صحابۂ کرام گھر کے صحن میں، اور دوجہاں کے سردار ﷺ اندر کمرے میں تشریف فرما تھے، میں نے دروازے پر دستک دی، تو سب صحابہ اکٹھے ہوگئے، حضرت سیِّدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ صحابہ نے عرض کی: عمر آگیا ہے! یہ سن کر تاجدارِ رسالت ﷺ خود باہر تشریف لائے، اور جیسے ہی میں اندر داخل ہوا، رسول اللہ ﷺ نے مجھے زور سے جھنجھوڑ کر فرمایا: «مَا أَنْتَ بِمُنْتَهٍ يَا عُمَرُ؟!» “عمر تم باز نہیں آؤ گے؟” میں بےساختہ پکار اٹھا: میں گواہی دیتا ہوں، کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اُس کے بندے اور رسول ہیں!۔
یہ سن کر دارِ اَرقم سے صحابۂ کرام نے، اس زور سے نعرۂ تکبیر بلند کیا، کہ اس کی آواز کعبۃُ اللہ شریف میں سنی گئی ۔ میں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! کیا زندگی اور مَوت دونوں صورتوں میں ہم حق پر نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! إِنَّكُمْ عَلَى الْحَقِّ إِنْ مُتُّمْ وَإِنْ حَيِيتُمْ» “کیوں نہیں؟ اللہ کی قسم ! تم لوگ حق پر ہو ، زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی!”۔ میں نے عرض کی کہ یا رسولَ اللہ! پھر ہم چُھپ چُھپ کر کیوں رہ رہے ہیں؟ اُس ربِ کریم کی قسم جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا! ہم ضرور باہر نکلیں گے! چنانچہ ہم رسول اللہ ﷺ کو اس طرح باہر لائے کہ ہماری دو2 صفیں تھیں، اگلی صف میں حضرت امیر حمزہرضی اللہ تعالٰی عنہ اور پچھلی صف میں ، مَیں تھا، اور میری حالت یہ تھی، کہ میرے اوپر آٹے جیسا غبار تھا، ہم مسجدِ حرام میں داخل ہوئے، تو کفّارِ قریش نے ایک نظر میں مجھے، اور دوسری نظر میں حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دیکھا،تو اُن پر ایسا خوف طاری ہوا، جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ اُس دن رسولِ اکرم ﷺ نے میرا نام “فاروق” رکھ دیا؛ کیونکہ اللہA نے میرے سبب سے حق وباطل میں امتیاز فرمایا([6])۔
| فارقِ حق وباطل امام الہدیٰ | تیغ مسلولِ شدّت پہ لاکھوں سلام |

یہ بھی ضرور پڑھیں :حقوق العباد
حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مقام ومرتبہ
حضرات ِگرامی قدر! حضرت سیِّدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ بہت بلند پایہ شخصیت کے حامل تھے، کتبِ احادیث آپ کے فضائل ومَناقب سے مالا مال ہیں۔ آپ کے مقام ومرتبہ کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے، کہ دوجہاں کے سردار ﷺ نے فرمایا: «لَوْ كَانَ نَبِيٌّ بَعْدِي، لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ»([7]) “اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا، تو وہ عمر بن خطّاب ہوتے!”۔
اور حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَقَدْ كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ رِجَالٌ، يُكَلَّمُونَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونُوا أَنْبِيَاءَ، فَإِنْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ، فَعُمَرُ!»([8]) “تم سےپہلے بنی اسرائیل میں کچھ ایسے لوگ تھے، جونبی تو نہیں تھے، اس کے باوجود فرشتے اُن سے ہم کلام ہوتے تھے، اگر میری امّت میں بھی کوئی ایسا ہے تو وہ عمر ہے”۔
عمر کہیں بھی ہو، حق اس کے ساتھ رہے گا
حضرت سیِّدناعمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں ارشادِ محبوب رب العالمین ﷺ موجود کہ «الْحقُّ بعدِي مَعَ عمرَ حَيْثُ كَانَ»([9]) “عمر کہیں بھی ہو، میرے بعد حق اس کی رَفاقت میں رہے گا!”۔
حضرت سیِّدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ علم کے نَو9 حصّے لے گئے
حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ جن کے لیے صحابۂ کرام کا اِجماع ہے کہ «عُمَرَ قَدْ ذَهَبَ بِتِسْعَةِ أَعْشَارِ الْعِلْم»([10]) “حضرت سیِّدنا عمر علم کے نَو9 حصّے لے گئے!”۔
شیاطینِ جن وانس عمر سے ڈر کے بھاگ جاتے ہیں
حضرت سیِّدناعمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى شَيَاطِينِ الإِنْسِ وَالجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ»([11]) “میں شیاطینِ جن وانس کو دیکھتا ہوں وہ عمر سے ڈر کے بھاگ جاتے ہیں”۔

یہ بھی ضرور پڑھی:شانِ مولائے کائنات رضي الله عنه
عمر کے اسلام لانے پر آسمان کے فرشتوں نے مبارکباد پیش کی
حضرت سیِّدناعمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ جب اسلام لائے، ملأِ اعلیٰ کے فرشتوں نے حضور ﷺ کی بارگاہ میں، تہنیت ومبارکبادیوں کی ڈالیاں نذرانے میں پیش کیں، کہ مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: قَدِ اسْتَبْشَرَ أَهْلُ السَّمَاءِ بِإِسْلَامِ عُمَرَ»([12]) “حضرت جبریل نے میرے پاس آکر کہا: عمر کے اسلام لانے کی آسمان والوں نے مبارک باد دی ہے”۔
حضرت سیِّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا عشقِ رسول ﷺ
حضرت سیِّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی ہی روایت کردہ، ایک طویل حدیث میں فرماتے ہیں، کہ ایک بار رسولِ اکرم ﷺ ایک ایسی چٹائی پر آرام فرما رہے تھے، جس پر کچھ بچھا ہوا نہیں تھا، سرِ اقدس کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا، جس میں کجھور کی چھال بھری ہوئی تھی، میں نے دیکھا کہ دوجہاں کے آقا ﷺ کے پہلو پر چٹائی کے نشان پڑے ہوئے ہیں، یہ دیکھ کر میں رونے لگا، تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَا يُبْكِيكَ؟» “اے عمر! کیوں روتے ہو؟” میں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! قیصر وکسریٰ دنیا کی تمام آسائشوں اور نعمتوں میں ہیں، جبکہ آپ ﷺ تو اللہ کے رسول ہیں، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لهما الدنيا، وَلَكَ الآخِرَةُ!»([13]) ” کیا تم اس پر راضی نہیں ہو، کہ اُن کے لیے دنیا کی عارضی نعمتیں ہوں، اور تمہارے لیے آخرت کی اَبَدی راحتیں ہوں!”۔
حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شجاعت وبہادُری
عزیزانِ گرامی قدر! حضرت سیِّدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دائرۂ اسلام میں داخل ہونے سے، مسلمانوں کی قوّت وعظمت میں بھی بےپناہ اضافہ ہوا، شروع شروع میں مسلمان چُھپ چُھپ کر عبادت کیا کرتے، لیکن حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد، مسلمانوں نے کعبۃُ اللہ میں اعلانیہ عبادت کا سلسلہ شروع کر دیا۔
حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «إِنْ كَانَ إِسْلَامُ عُمَرَ لَفَتْحاً، وَإِمَارَتُهُ لَرَحَمَةً، وَاللهِ! مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ بِالْبَيْتِ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ، قَابَلَهُمْ حَتَّى دَعَوْنَا فَصَلَّيْنَا»([14]) “یقیناً حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قبولِ اسلام، ہمارے لیے ایک فتح تھی، اور ان کی امارت (خلافت) ایک رحمت تھی۔ اللہ کی قسم! بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی ہم استطاعت نہیں رکھتے تھے، یہاں تک کہ حضرت سیِّدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسلام قبول کیا، جب آپ نے اسلام قبول کیا، تو آپ نے مشرکینِ مکّہ کا سامنا کیا، یہاں تک کہ انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا، تب ہم نے خانۂ کعبہ میں نمازیں ادا کرنا شروع کر دیں”۔
ہجرت کےوقت کفّار کے شَر سے بچنے کے لیے، سب مسلمانوں نے خاموشی کے ساتھ ہجرت کی، مگر حضرت سیِّدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی غیرت ایمانی نے چُھپ کر ہجرت کرنا گوارا نہیں کیا، آپ نے تلوار ہاتھ میں لی، کعبۃُ اللہ کا طواف کیا، اور کفّارِ مکّہ کو مخاطَب کر کے فرمایا: «شاهتِ الوجوهُ، مَن أرادَ أن تثكلَه أمُّه، ويُؤتم ولدُه، وتُرمل زوجتُه فلْيَلقني وراءَ هذا الوادي» “چہرے خوف زدہ ہوگئے! اگر کوئی یہ چاہتا ہے، کہ اس کی ماں اس پر روئے، اس کے بچے یتیم ہو جائیں، اور اس کی بیوی بیوہ ہو جائے، تو اس وادی سے باہر آ کر مجھ سے ملے”، مگر کسی میں ہمّت نہ ہوئی کہ آپ کا تعاقُب کرتا([15])۔
مُوافقاتِ حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ
حضراتِ گرامی قدر! قرآن پاک کی بیس20 سےزائد آیات ایسی ہیں، جو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی رائے کے مُوافق نازل ہوئیں ، یہ بات آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی پختہ فہم وفراست اور حکمت ودانائی پر دلالت کرتی ہیں۔ جن آیات میں آپ کی رائے کے مُوافق وحی نازل ہوئی، ان میں مقامِ ابراہیم کو مصلّیٰ بنانے کا حکم، مسلمان عورتوں کو پردے کا حکم، جنگِ بدر کے قیدیوں سے متعلق رائے، حُرمتِ شراب کا حکم، منافقین کی نمازِ جنازہ اوران کی قبورپر جانے کی ممانعت، منافقین کے لیے دعائے مغفر ت سے متعلق حکم، مقامِ بدر کی طرف جانے کا مشورہ، حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ کی پاکیزگی کا بیان، (جبریل کا دشمن ، اللہ کا دشمن ہے ) کے الفاظ کی مُوافقت، رسول اللہ ﷺ کو حاکم بنانے کا حکم، بغیر اجازت گھروں میں داخل ہونے کی ممانعت، جنّتیوں کے دو2 گروہوں سے متعلق رائے میں، مُوافقت کا حکم شامل ہے([16])۔
| ترجمانِ نبی ﷺ ہم زبانِ نبی ﷺ | جانِ شانِ عدالت پہ لاکھوں سلام |
دَورِ فاروقی کی فُتوحات اور طرزِ حکمرانی
برادرانِ ملّتِ اسلامیہ! حضرت سیِّدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مدّتِ خلافت، دَس10 سال، پانچ5 ماہ اور اکیس21 دن ہے۔ آپ کے دَورِ خلافت میں مسلمانوں کو بےمثال فُتوحات اور شاندار کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ آپ نے قیصر وکسریٰ (دو سپر پاور) کی سلطنتوں کو خاک میں روندتے ہوئے اسلام کا پرچم لہرایا۔ آپ ہی کے دَورِ خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، شام، ایران، خُراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا، اور سجستان فتح ہو کر، مملکتِ اسلامیہ کا حصہ بنے، اس طرح اسلامی مملکت کا کُل رقبہ بائیس22 لاکھ، اکاون51 ہزار، تیس30 مربع میل تک پھیل گیا۔ حضرت سیِّدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ہی کے دَور خلافت میں، مسلمانوں کا قبلۂ اوّل بیت المقدس یہودی تسلط سے آزاد ہوا۔
حضرت سیّدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے، محض دو2 سال کے قلیل عرصہ میں ساسانی سلطنت کی شہنشاہیت کو، نہ صرف زیر کر لیا، بلکہ اپنی حُدودِ سلطنت کا انتظام، رِعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت، اور دیگر اُمورِ سلطنت کو بھی خوش اُسلوبی اور مہارت سے نبھایا۔
امیر المؤمنین حضرت سیّدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دَور خلافت میں، ایک محتاط اندازے کے مطابق 3600 علاقے فتح ہوئے، تقریباً 5000 ہزار مساجد تعمیر ہوئیں، یتیم ومساکین ، بیوہ عورتوں اور بزرگ شہریوں کی مالی مدد کے لیےبیت المال کا شعبہ قائم کیا گیا۔ عدل وانصاف اور مقدّمات کے جَلد فیصلوں کے لیے عدالتیں بنائی گئی، اور ان میں میرٹ پر قاضی (ججز) تعینات کیے گئے۔
ہجری تقویم (کیلنڈر) کا اِجراء بھی کیا گیا، جو آج تک رائج ہے۔ مَردم شماری کا اہتمام کیا، دُور دراز علاقوں میں پانی کی فراہمی کے لیے نہریں کھدوائیں، نئے شہر آباد کرائے، قیدیوں کی سہولت کے لیے جیل خانے بنوائے، پولیس ڈیپارٹمنٹ قائم کیا، رِعایا کے جان ومال اور بیرونی حملوں سے بچاؤ کے لیے، جگہ جگہ فوجی چھاؤنیاں بنوائیں۔ مسافروں کی سہولت کے لیے مسافر خانے تعمیر کروائے، لا وارث بچوں کی پروَرش وکفالت کے لیے وظائف مقرَّر کیے۔ دینی تعلیم کے فروغ کے لیے مدارس کا قیام عمل میں لایا گیا، ان میں تعلیم دینے والے علماء، اور آئمہ و مؤذِّنین کے مُشاہرے (اجرت) مقرَّر کیے گئے، وقت دریافت کرنے کا طریقہ اِیجاد کیاگیا۔ اس کے علاوہ بھی آپ نے بہت سے فلاحی واِصلاحی اَحکام صادر فرمائے([17])۔
آپ کی شہادت
حضراتِ گرامی قدر! حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کی خبر، خود تاجدارِ رسالت ﷺ نے، اس وقت دی جب آپ اُحد پہاڑ کو قدم بوسی کی سعادت بخش رہے تھے، چنانچہ حضرت سیِّدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ ایک بار رسولِ اکرم ﷺ، حضرت سیِّدنا ابو بکر صدیق، حضرت سیِّدنا عمر فاروق اور حضرت سیِّدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ، اُحد پہاڑ پر چڑھے تو پہاڑ کانپنے لگا، رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے پاؤں مار کر فرمایا: «اُثْبُتْ أُحُدُ! فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ»([18]) “اے اُحد ٹھہر جا! کہ تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو2 شہید ہیں!”۔
حضراتِ گرامی قدر! 26 ذی الحجہ، سن 23 ہجری کو، نمازِ فجر کے وقت، ابو لؤلؤ فیروز نامی بدبخت (مجوسی) نے موقع دیکھ کر، حضرت سیِّدنا عمر رضی اللہ عنہ پر زہر آلود خنجر کے تین3 قاتلانہ وار کیے، جو مُہلِک ثابت ہوئے، جس سے آپ شدید زخمی ہو گئے۔ پوری مسجد میں شور برپا ہوگیا، لوگوں نے اس کا پیچھا کیا، اس نے مزید گیارہ1۱ افراد کو شدید زخمی کر دیا، چھ6 افراد بعد میں شہید ہو گئے، جب قاتل نے بچنے کی کوئی صورت نہ پائی، تو خود کو بھی اسی خنجر سے مار کر خود کشی کر لی([19])۔
مزارِ پُر انوار
میرے دوستو، بزرگو! آپ رضی اللہ عنہ چار4 دن تک موت وحیات کی کشمکش میں رہے، وقتِ آخر اپنے بیٹے حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا: «اذْهَبْ يَا غُلَامُ إِلَى أُمِّ المؤمِنِينَ فَقُلْ لَهَا: إِنَّ عُمَرَ يَسْأَلُكِ أَنْ تَأْذَنِي لِي أَنْ أُدْفَنَ مَعَ أَخَوَيَّ! ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَأَخْبِرْنِي» “بیٹا ام المؤمنین حضر ت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنہا کی بارگاہ میں جا کر عرض کرو، کہ اگر آپ کی اجازت ہو، تو عمر اپنے دونوں دوستوں کے ساتھ دفن ہونا چاہتا ہے! پھر آکر مجھے اُن کے جواب سے آگاہ کرو!” حضرت سیّدنا ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا: «فَأَرْسَلَتْ أَنْ نَعَمْ، قَدْ أَذِنْتُ لَك!» “ام المؤمنین نے پیغام بھیجا، کہ ہاں میں نے آپ کو اجازت دی!”۔ حضرت سیِّدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہا کو جب اجازت ملنے کی خبر دی گئی، تو آپ نے فرمایا: الحمدللہ! مجھے اس سے زیادہ اَور کسی بات کی خواہش نہ تھی، اللہ کا شکر ہے کہ میری یہ خواہش پوری ہو گئی ہے!۔
یکم محرّم الحرام 24 سنِ ہجری، سجدہ کی حالت میں آپ کی روح مبارک نے پرواز کی، إنّا لله وإنّا إلیه راجعون!. آپ کی نمازِ جنازہ حسبِ وصیت حضرت سیِّدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے پڑھائی([20])۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن کر دیے گئے۔
دعا
اے اللہ! ہمیں حضرت سیِّدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہا کی شجاعت وبہادُری سے حصّہ عطا فرما، عدل وانصاف کا بو ل بالا کرنے کی توفیق دے، ان کی سیرت پر چلتے ہوئے اپنا تن من دھن سب کچھ، تیری راہ میں قربان کرنے کا جذبہ عطا فرما، ہر نیک کام میں اخلاص کی دولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت والفت کو اَور زیادہ فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!۔
اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔
الٰہی! تمام مسلمانوں کی جان، مال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، جن مصائب وآلام کا انہیں سامنا ہے، ان سے نَجات عطا فرما۔ ہمارے وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین ووطنِ عزیز کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، اُن کے درجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہا کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے ہمیں وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّةِ أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “أُسد الغابة” باب العین والمیم، عمر بن الخطّاب، ٤/١٣٧، ١٣٨.
([2]) “المعجم الکبیر” أحادیث عبد الله بن عبّاس، ر: ١٢٤٧٠، ١٢/٤٧.
([3]) “الطبقات الکبری” ر: ٥٦- عمر بن الخطّاب، إسلام عمر، ٢/٢٣٤.
([4]) “سنن الترمذي” أبواب المناقب، ر: ٣٦٨١، صـ٨٣٨.
([5]) “سنن ابن ماجه” مقدّمة المؤلِّف، فضل عمر I، ر: ١٠٥، صـ٢٨.
([6]) “حلیة الأولیاء” ٢- عمر بن الخطّاب، ر: ٩٣، ١/٧٥، 76.
([7]) “سنن الترمذي” أبواب المناقب، ر: ٣٦٨٦، صـ838.
([8]) “صحیح البخاری” کتاب فضائل أصحاب …إلخ، ر: 3689، صـ620.
([9]) “نوادر الأصول” الأصل 100 في حقيقة …إلخ، ر: 705، صـ2٧4.
([10]) “المعجم الكبير” عبد الله بن مسعود الهذلي، باب، ر: 8808، ٩/163.
([11]) “سنن الترمذي” أبواب المناقب، ر: 3691، صـ840.
([12]) “مستدرَك الحاكم” كتاب معرفة الصحابة، ر: 4491، 5/1693.
([13]) “صحیح مسلم” باب في الإیلاء …إلخ، ر: ٣٦٩٢، صـ636.
([14]) “المعجم الکبیر” باب، ر: ٨٨٢٠، ٩/165.
([15]) “تهذیب الأسماء واللُّغات” باب العین والمیم، عمر بن الخطّاب، ٢/٥، ٦.
([16]) “تاریخ الخلفاء” الخليفة الثاني عمر بن الخطّاب، صـ99-١٠١ ملتقطاً.
([17]) “فتوح البلدان” صـ٢٤٩-٤١٦ بتصرّف. “تاریخ الخلفاء” الخليفة الثاني: عمر بن الخطّاب I، صـ١١٠ ملخّصاً.
([18]) “صحیح البخاري” کتاب فضائل أصحاب النبي، ر: ٣٦٧٥، صـ٦١٧.
([19]) “الطبقات الکبری” ر: ٥٦- عمر بن الخطّاب، ١/٢٩٣، ٢٩٦ ملتقطاً.
([20]) “الطبقات الکبری” ر: ٥٦- عمر بن الخطّاب، ١/٣٠٧، ٣١٠ ملتقطاً.