
Table of contents
- دورِ حاضر کی سائنسی ترقی
- اسلامی تعلیمات سے اِعراض
- سائنس سے متعلق طبقاتی تقسیم
- اسلام میں سائنس کا تصوّر اور اِیجاد
- گردشِ شمس سے متعلق بدلتی سائنسی تحقیقات اور اسلامی نظریہ
- درد محسوس کرنے والے خَلیے اور قرآنِ پاک
- اسلامی دنیا کی چند سائنسی خدمات
- رَصد گاہوں کا قیام
- آکسیڈیشن، بخارات، کرسٹلائزیشن اور عملِ کشید سے متعلق تحقیق
- دو سو سے زائد سرجری آلات کی اِیجاد
- آنکھ کی فزیالوجی اور اناٹومی سے متعلق تحقیق
- ایتھانول، اور الکوحل کی اِیجاد
- آتشی شیشے ، کُرَوی عدسے اور دنیا کے سب سے پہلے کیمرے کی ایجاد
- دنیا کے سب سے پہلے پلینی ٹیریم کی ایجاد
- یورپ سے سات سو سال قبل گھڑیوں کی ایجاد
- الجبرا اور ہندسوں کا استعمال
- اُصطرلاب کی اِیجاد
- تارپیڈو (Torpedo) کی اِیجاد اور راکٹ کا ڈایا گرام
- دعا
دورِ حاضر کی سائنسی ترقی
برادرانِ اسلام! موجودہ دَور سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی (Scientific Progress and Technology) کا دَور ہے، آئے دن مختلف اور حیران کُن اِیجادات (Inventions) ہو رہی ہیں، ان اِیجادات کی بدَولت فاصلے سمٹ رہے ہیں، دنیا ایک گلوبل ولیج (Global Village) بن چکی ہے، دنیا کے ایک سے دوسرے کونے میں رابطہ کرنا انتہائی آسان ہوگیا ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی (Science and Technology) کی بدَولت ذرائع اِبلاغ اس قدر ترقی کر چکے ہیں، کہ دنیا بھر میں رُونما ہونے والے اَہم واقعات اور خبریں آپ براہِ راست اپنے موبائل فون یا ٹی وی سیٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ کینسر (Cancer)، تپِ دِق (TB)، ہیپاٹائیٹس (Hepatitis)، ذیابیطس (Diabetes)، ہارٹ اٹیک (Heart Attack) جیسی خطر ناک بیماریوں کا علاج دریافت ہو چکا ہے، ہر مشکل سے مشکل آپریشن بآسانی کیا جا رہا ہے، جو لوگ آنکھوں میں موتیا (Cataract) اتر آنے کے باعث بصارَت سے محروم ہو چکے تھے، ان کی آنکھوں کے کامیاب آپریشن کیے جا رہے ہیں، ناگہانی آفات یا حادثات کے باعث جو چلنے پھرنے سے معذور ہو چکے تھے، مصنوعی اعضاء تیار کر کے انہیں چلنے پھرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے، ساتھ ہی ساتھ جنگی صورتحال سے نپٹنے، اور طاقت کے توازُن کو برقرار رکھنے کے لیے، جدید ٹیکنالوجی سے لیس خطرناک اور مُہلک ہتھیار بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔
عزیزانِ مَن! سائنسی ترقی کی بدَولت حج، عمرہ یا تجارت کی غرض سے اونٹوں، گھوڑوں اور بحری جہاز پر مہینوں سفر کی صُعوبتیں برداشت کرنے والوں کے لیے، ہوائی جہاز جیسی سفری سہولیات میسر آچکی ہیں، انٹر نیٹ (Internet) جیسی اِیجاد کے ذریعے گھر بیٹھے دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ یونیورسٹی میں داخلہ لے کر تعلیم کا حصول ممکن اور انتہائی آسان ہوچکا ہے، مختلف موبائل ایپلی کیشنز (Mobile Applications) کے ذریعے، آپ صرف ایک کال کرکے اپنی روز مرہ ضروریات کی ہر چیز گھر بیٹھے منگوا سکتے ہیں، یہ سب سہولیات ٹیکنالوجی (Technology) اور سائنسی ترقی کی مرہونِ منّت ہیں، جس سے بلا شبہ کسی طور پر بھی انکار ممکن نہیں۔

یہ بھی ضرور پڑھیں استاد کا مقام، مرتبہ اور ذِمّہ داری
اسلامی تعلیمات سے اِعراض
عزیزانِ محترم! اس سائنسی ترقی کا دلدادہ ہو کر اپنی تہذیب وتمدُن اور مذہبی تعلیمات سے منہ موڑنا، کسی طور پر بھی درست نہیں، یاد رکھیے! بحیثیت مسلمان، سائنس کی صرف وہی توجہیات اور تھیوری (Theory) ہمارے لیے قابلِ قبول ہیں، جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ومُوافق ہوں، اور کسی صورت اسلام سے متصادِم نہ ہوں، اگر کوئی سائنسی تھیوری (Theory) یا تحقیق (Research) اسلامی تعلیمات سے مُطابقت نہ رکھتی ہو، تو اُسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا؛ کیونکہ اسلام ایک اِلہامی دِین ہے، جس کا دستور قرآنِ مجید کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے، یہ دستور اللہ رب العالمین کی طرف سے ہمیں عطا کیا گیا ہے، لہذا اس میں کسی قسم کی غلطی کی گنجائش موجود نہیں، جبکہ سائنسی تھیوری (Theory) انسانی سوچ اور فکر کا نتیجہ ہوتی ہے، جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں رُونما ہوتی رہتی ہیں، اور اس میں ہمیشہ غلطی کی گنجائش بدرجۂ اَتم موجود رہتی ہے۔
سائنس سے متعلق طبقاتی تقسیم
حضراتِ گرامی قدر! ہمارا مُعاشرہ سائنس سے متعلق تین3 مختلف طرح کے طبقات میں بٹا ہوا ہے، ایک طبقہ وہ ہے جو یکسر سائنس کو تسلیم نہیں کرتا، اسلام اور سائنسی نظریات کو باہم متصادِم جانتا ہے، ان کا موقف یہ ہے کہ سائنس کی بنیاد عقلِ انسانی پر ہے، اوریہ قوانین تبدیل بھی ہوتے رہتے ہیں، لہٰذا کسی طور پر بھی قرآنِ کریم کا سائنس سے مُطابقت دکھانا درست نہیں۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو سائنس کا اس قدر حامی ہے، کہ تمام اسلامی تعلیمات کو کھینچ تان کر، سائنس کے مُطابق بنانے کی کوشش میں لگا ہے، جبکہ تیسرا طبقہ وہ ہے جو سائنس کی صرف ان توجہیات کو قبول کرتا ہے، جو قرآن وسُنّت کے مُطابق ہیں، اور جو سائنسی تحقیقات، نظریات اور توجیہات اسلامی تعلیمات سے متصادِم ہیں، انہیں یکسر مسترد کر دیتا ہے۔
اوّل الذِکر دونوں طبقات اِفراط وتفریط کا شکار ہیں، جبکہ تیسرا طبقہ انتہائی معتدِل سوچ کا حامل ہے، اور ایک حقیقی مسلمان کی سوچ ایسی ہی ہونی چاہیے۔
قرآن اور سائنس کا باہمی مُوازنہ کرنے والوں کو یہ بات ہر گز نہیں بھولنی چاہیے ، کہ قرآنِ پاک کوئی سائنس (Science) کی کتاب نہیں، بلکہ اللہ کی کتاب ہے، اس لیے سائنس کے صرف انہی نظریات کو قبول کیا جائے گا، جو دینِ اسلام کے مُطابق ہوں، بصورتِ دیگر انہیں رَد کر دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ فزکس (Physics) کے مشہور نوبل انعام یافتہ سائنس دان “البرٹ آئن سٹائن” (Albert Einstein) کا یہ مشہور قول کہ “سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے، اور مذہب سائنس کے بغیر اندھاہے”([1])، کُلّی طور پر ایک مسلمان کے لیے ہرگز قابلِ قبول نہیں؛ کیونکہ سائنس کی حُدود وقُیود متعین کرنے کے لیے مذہب کی ضرورت تو بہرصورت ہے، لیکن مذہب کو اپنی حقّانیت ثابت کرنے کے لیے سائنس کی ضرورت ہرگز نہیں۔
امامِ اہل سُنّت امام احمد رضا رحمۃُ اللہِ علیہ سائنس سے متعلق مسلمانوں کو اِفراط وتفریط کا شکار ہونے سے بچنے، اور اسے قابو کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “سائنس یوں مسلمان نہ ہوگی کہ اسلامی مسائل کو آیات ونُصوص میں تاویلات دُور اَزکار کرکے سائنس کے مطابق کر لیا جائے۔ یوں تو (معاذاللہ) اسلام نے سائنس قبول کی، نہ کہ سائنس نے اسلام! وہ مسلمان ہوگی تو یوں کہ جتنے اسلامی مسائل سے اُسے خلاف ہے، سب میں مسئلۂ اسلامی کو روشن کیا جائے، دلائلِ سائنس کو مردود وپامال کر دیا جائے، جا بجا سائنس ہی کے اَقوال سے اسلامی مسئلہ کا اِثبات ہو، سائنس کا اِبطال و اِسکات ہو، (سائنس) یوں قابو میں آئے گی!”([2])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں مسلم دنیا اور سائنسی افکار
اسلام میں سائنس کا تصوّر اور اِیجاد
عزیزانِ محترم! جہاں تک قرآن مجید میں چُھپے سائنسی عُلوم وحقائق ومُعارِف کی بات ہے، تو اس سے ہر گز انکار نہیں کیا جا سکتا؛ کیونکہ اللہ رب العالمین کے فرمانِ مبارک: ﴿تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ﴾([3]) “(اس قرآن میں) ہر چیز کا روشن بیان ہے!” کا یہ بھی ایک مفہوم ہے۔
حضرت ابوبکر بن مُجاہد رحمۃُ اللہِ علیہ نے ایک روز فرمایا، کہ دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں، جو کتاب اللہ میں مذکور نہ ہو، اس پر کسی نے اُن سے کہا کہ مسافر خانوں (Passenger Compartment) کا کہاں ذکر ہے؟ تو آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے فرمایا کہ اس آیتِ کریمہ میں: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْہَا مَتَاعٌ لَّکُمْ﴾([4]) “اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان گھروں میں جاؤ، جو خاص کسی کی سکونت کے لیے نہیں، اور ان کے برتنے کا تمہیں اختیار ہے!”([5])۔
گردشِ شمس سے متعلق بدلتی سائنسی تحقیقات اور اسلامی نظریہ
حضراتِ گرامی قدر! سورج ساکن ہے یا متحرک؟ اس بارے میں سائنسدانوں نے ہزاروں سال تک مختلف نظریات اپنائے، تقریباً پانچ سو500 سال قبلِ مسیح میں، مشہور ہیئت داں (Astronomer) اور فلاسفر، فیثا غورث (Pythagoras) کی تحقیق یہ تھی کہ سورج ساکن ہے، اور زمین سمیت دیگر تمام سیّارے اس کے گرد، گردش کر رہے ہیں، پھر 140ء میں یونان کے فلاسفر بطلیموس نے اس نظریہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ زمین ساکن ہے، اور سورج اس کے گرد حرکت کر رہا ہے، یہ وہ نظریہ تھا جو اِس سے قبل کسی دَور میں اَرسطو بھی پیش کر چکا تھا، اَرسطو اور بطلیموس کا یہ نظریہ اٹھارہ سو سال تک دنیا میں مشہور ومقبول رہا۔ بعد ازاں یورپ کے ایک سائنسدان کوپرنیکس (Copernicus) نے یہ نظریہ اپنایا کہ “سورج متحرک نہیں بلکہ ساکن ہے، اور ہماری زمین اپنے محوَر کے گرد بھی گھومتی ہے، اور سورج کے گرد بھی سال بھر میں ایک چکر لگاتی ہے”، اٹلی کے ہیئت داں (Astronomer) گلیلیو (Galileo) اور نیوٹن (Newton) وغیرہ بھی اسی نظریے کے حامی تھے۔
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! 1915ء میں قدم بقدم ٹھوکریں کھاتی سائنس کا نظریہ ایک بار پھر تبدیل ہوا، اور مشہور سائنسدان اَلبرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) نے نظریۂ اِضافیت (Theory of Relativity) پیش کیا۔ اس تھیوری (Theory) کی رُو سے تمام اَجرامِ فلکی (Celestial Bodies) خواہ ستارے ہوں یا سیّارے، وہ گردش میں ہیں، اور آج جدید سائنس کا نظریہ یہی ہے کہ سورج متحرک ہے، اور آٹھ8 سیّارے اس کے گر د محوِ گردش ہیں، نیز سورج اپنے پورے خاندان (یعنی نظامِ شمسی) سمیت ملکی وے کہکشاں (Milky Way Galaxy) کے مرکز کے گرد گھوم رہا ہے([6])۔
میرے محترم بھائیو! گردشِ شمس سے متعلق جو نظریہ جدید سائنس نے آج اپنایا ہے، مذہبِ اسلام نے اُسے چودہ سو سال قبل بیان فرمایا، اور آ ج تک اسی نظریے پر قائم ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ﴾([7]) “وہی ہے جس نے رات دن بنائے، اور سورج اور چاند، ہر ایک، ایک گھیرے (مدار) میں پَیر (تیر) رہا ہے!”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں اسپورٹس کلچر کے نقصانات اور اسلامی تعلیمات
درد محسوس کرنے والے خَلیے اور قرآنِ پاک
عزیزانِ مَن! پہلے پہل یہ خیال کیا جاتا تھا، کہ درد کا احساس صرف دماغ پر ہوتا ہے، لیکن جدید سائنسی تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے، کہ جِلد (Skin) میں درد محسوس کرنے والے خَلیے ہوتے ہیں، جنہیں درد کے آخذے (Receptors) کہا جاتا ہے، یہ آخذے (خَلیے) اگر زندہ ہوں تو زخم لگنے پر انسان کو درد محسوس ہوتا ہے، اور اگر یہ مر جائیں تو انسان کو کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔
یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص آگ میں جل کر زخمی ہو جائے، تو ڈاکٹر صاحبان معائنہ کرتے وقت اس کے زخموں میں سُوئی چبھو کر یہ چیک کرتے ہیں، کہ اسے درد محسوس ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر مریض درد محسوس کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے درد کے آخذے زندہ ہیں، اور زخم زیادہ گہرے نہیں ہیں۔ اور اگر مریض کو درد محسوس نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زخم زیادہ گہرے ہیں، جن کے باعث درد کے آخذے (Receptors) یا خَلیے مر چکے ہیں۔
برادرانِ ملّتِ اسلامیہ! درد کے آخذوں کے بارے میں قرآنِ پاک میں اشارۃً یوں ارشاد فرمایا گیا ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَيْرَهَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيْزًا حَكِيْمًا﴾([8]) “جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا، عنقریب ہم انہیں آگ میں داخل کریں گے، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی، ہم ان کے سِوا اَور کھالیں انہیں بدل دیں گے؛ تاکہ عذاب کا مزا چکھ لیں، یقیناً اللہ غالب حکمت والا ہے!”۔
یعنی جہنم کی آگ میں جل جانے کے باعث جب ان کی جلد خراب ہو جائے گی، اور درد کے آخذے (Receptors) مر جانے کے باعث انہیں درد محسوس نہیں ہوگا، تو انہیں دوسری کھال دی جائے گی؛ تاکہ انہیں درد محسوس ہو، اور وہ عذابِ الٰہی کا مزا اچھی طرح چکھ سکیں!۔
عزیزانِ محترم! درد کے آخذوں سے متعلّق تمام تحقیق کا سہرا تھائی لینڈ میں واقع چیانگ مائی یونیورسٹی (Chiang Mai University) کے ڈیپارٹمنٹ آف اناٹونی (Department Of Anatomy) کے سربراہ، پروفیسر ٹیگاتت تیجاسن (Tagatat Tejasen) کے سر ہے، انہوں نے درد کے آخذوں (Receptors) پر تحقیق کرنے میں کافی وقت صرف کیا، جب انہیں یہ بتایا گیا کہ قرآنِ مجید میں اس چیز کا ذکر چودہ سو سال سے موجود ہے، تو پہلے انہیں اس بات پر یقین ہی نہیں آیا، لیکن جب انہوں نے اپنی آنکھوں سے مذکورہ بالا آیتِ مُبارکہ کو مُلاحظہ کیا، تو وہ دینِ اسلام کی حقّانیت سے بےحد متاثر ہوئے، اور بعد ازاں جب وہ آٹھویں “طبّی کانفرنس” (Medical Conference) میں شرکت کے لیے حجازِ مقدّس حاضر ہوئے، تو وہاں انہوں نے سب کے سامنے بلند آواز سے کلمہ طیّبہ پڑھا، اس کانفرنس کا موضوع “قرآنِ پاک اور سنّت میں سائنسی نشانیاں” تھا([9])۔
اسلامی دنیا کی چند سائنسی خدمات
عزیزانِ مَن! سائنس سے متعلّق قرآن مجید میں اتنی واضح آیات ہونے کے باوجود، ہم لوگ اس مُعاملے میں احساسِ کمتری کا شکار کیوں ہیں؟! ہمارے مسلم نوجوان یہ سمجھتے ہیں، کہ دنیا بھر میں ہونے والی تمام اِیجادات اور سائنسی ترقی کا سارا سہرا صرف غیرمسلموں کے سر ہے! مذہبِ اسلام اس مُعاملے میں بالکل خاموش اور مسلمان سب سے پیچھے ہیں! لیکن درحقیقت ایسا نہیں، ہماری یہ سوچ اور احساسِ کمتری صرف اس لیے ہے، کہ آج ہم قرآنِ پاک سے دُور ہو چکے ہیں، اس کی تلاوت کرنے اور اس میں غور وفکر کرنے کی ہمیں عادت نہیں، ہمیں اس بات سے بھی آگاہی نہیں کہ ہمارے آباء واَجداد نے قرآن وسنّت کی بنیاد پر کیسے کیسے کارہائے نمایاں انجام دیے! اور کیسی کیسی سائنسی اِیجادات کے ذریعے انسانیت کی خدمت انجام دی، اس لیے اگر ہم بھی قرآن وسنّت سے رہنمائی حاصل کرتے تو یقین جانیے! کہ پھر ہماری سوچ کے زاویے کچھ اَور ہوتے!!۔
رَصد گاہوں کا قیام
برادرانِ ملّت اسلامیہ! آپ احباب کو یہ بات خوب معلوم ہونی چاہیے، کہ جس وقت پورا یورپ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، اور حصولِ علم کے لیے وہاں ایک بھی یونیورسٹی (University) موجود نہیں تھی، اس وقت اسلامی دنیا زیورِ علم سے آراستہ تھی، لاکھوں لاکھ کتب پر مشتمل ہزاروں لائبریریاں قائم کی جا رہی تھیں، اور مسلمان سائنسدان کائنات کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھانے، اورمختلف نَوعیت کی اِیجادات وتحقیقات کے لیے لیبارٹریوں (Laboratories) اور رَصد گاہوں (Observatories) میں مصروفِ عمل تھے۔
تاریخ گواہ ہے کہ یورپ کی سب سے پہلی رَصد گاہ بھی اشبیلیہ (اسپین) میں مسلمانوں نے ہی بنائی، یہ رَصد گاہ اسپین کی جامع مسجد کے تین سو300 فٹ بلند مینارہ، گیرالڈا ٹاور (Geralda Tower) میں قائم کی گئی([10])۔
آکسیڈیشن، بخارات، کرسٹلائزیشن اور عملِ کشید سے متعلق تحقیق
میرے محترم بھائیو! جابر بن حیّان کے نام سے کون واقف نہیں! وہ ایک عظیم مسلم سائنسدان تھے، انہیں بابائے کیمسٹری (Father Of Chemistry) بھی کہا جاتا ہے، مشرق سے مغرب تک ہر مسلم وغیر مسلم سائنسدان آپ کی خدمات کا اعتراف کرتا ہے، انہوں نے آکسیڈیشن (Oxidation)، بُخارات (Evaporation)، کرسٹلائزیشن (Crystallization)، عملِ کشید (یعنی مائع کو بُخارات میں تبدیل کرنے، اور بُخارات کو مائع میں تبدیل کرنے) جیسے کیمیا (Alchemy) کے بنیادی عوامل سے متعلق تحقیق، اور گندھک کے تیزاب (Sulfuric Acid) جیسی اہم اِیجادات کیں([11])۔
دو سو سے زائد سرجری آلات کی اِیجاد
حضراتِ ذی وقار! ابو القاسم زَہراوی اَندلُس (اسپین) سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور مسلم سائنسدان گزرے ہیں، انہوں نے دو سو200 سے زائد سرجری کے آلات اِیجاد کیے، یورپ سمیت دنیا بھر میں سرجری کے لیے جو آلات استعمال کیے جاتے ہیں، وہ کم وبیش آج بھی وہی ہیں، جو ابو القاسم زَہراوی نے ایجاد کیے([12])۔
آنکھ کی فزیالوجی اور اناٹومی سے متعلق تحقیق
اسی طرح ابنِ سینا (Ibn-e-Sina) فزکس (Physics) کا ماہر، وہ پہلا شخص تھا جس نے یہ کہا، کہ روشنی کی رفتار لامحدود نہیں بلکہ اس کی ایک معیّن رفتار ہے، اس نے زہرہ سیّارے (Venus Planets) کو بغیر کسی آلہ کے اپنی آنکھ سے دیکھا تھا، اس نے سب سے پہلے آنکھ کی فزیالوجی (Physiology) اور اناٹومی (Anatomy) بیان کی، اس نے آنکھ کے اندر موجود تمام رگوں اور پٹھوں کو تفصیل سے بیان کیا، اس نے یہ بھی بتایا کہ سمندر میں پتھر کیسے بنتے ہیں، اور سمندر کے مردہ جانوروں کی ہڈیاں پتھر وں کی شکل کیسے اختیار کر لیتی ہیں؟([13])۔
ایتھانول، اور الکوحل کی اِیجاد
عزیزانِ محترم! اپنے وقت کے عظیم طبیب (Doctor) اور سائنسدان ابوبکر محمد بن زکریا رازی نے، جراثیم (Germs) اور انفیکشن (Infection) کے مابین تعلق معلوم کیا، جو میڈیکل ہسٹری (Medical History) میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے علاوہ ایتھانول (Ethanol) اور الکوحل (Alcohol) جیسی اہم اِیجادات بھی انہی کی مرہونِ منت ہیں([14])۔
آتشی شیشے ، کُرَوی عدسے اور دنیا کے سب سے پہلے کیمرے کی ایجاد
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! علمِ بصریات (Optics) میں دنیا کی سب سے اہم اور جامع تصنیف “کتاب المَناظر” مسلم سائنسدان ابن الہیثم (Ibn al-Haytham) نے تحریر کی، انہوں نے آتشی شیشے (Burning Glass) اور کُرَوی عدسے ((Spherical Lens بنائے، لینز (لینس) یا عدسوں (Lens) کو بڑا کرنے کی صلاحیت کی تشریح کی، عدسوں سے متعلق آپ کی تحقیق کی بنیاد پر یورپ میں مائیکرو سکوپ (Micro Scope) اور ٹیلی سکوپ (Tele Scope) کی اِیجاد ممکن ہوئی([15])۔
دنیا کا سب سے پہلا پِن ہول کیمرہ (Pin Hole Camera) بھی انہی کی ایجاد ہے، اس سلسلے میں انہوں نے اپنی تحقیق پیش کرتے ہوئے کہا، کہ روشنی جس سوراخ سے تاریک کمرے کے اندر داخل ہوتی ہے، وہ سوراخ جتنا چھوٹا ہو گا، تصویر (Picture) بھی اتنی ہی عمدہ بنے گی۔ اسی طرح دنیا کا سب سے پہلا کیمرہ آبسکیورہ (Camera Obscura) بھی مسلم سائنسدان ابن الہیثم ہی کی ایجاد ہے([16])۔
دنیا کے سب سے پہلے پلینی ٹیریم کی ایجاد
حضراتِ گرامی قدر! دنیا کا سب سے پہلا پلینی ٹیریم (Planetarium) اسپین کے مسلم سائنسداں عبّاس ابنِ فرناس نے قُرطبہ میں نویں صدی عیسوی میں بنایا، یہ شیشے کا تھا، انہوں نے اس میں آسمان کی پر و جیکشن (Projection) اس طور سے کی، کہ ستاروں، سیّاروں، کہکشاؤں کے علاوہ بجلی اور بادلوں کی کڑک بھی سنائی دیتی تھی([17])۔
یورپ سے سات سو سال قبل گھڑیوں کی ایجاد
میرے محترم بھائیو! جرمنی میں گھڑیاں 1525ء، اور برطانیہ میں 1580ء میں بننا شروع ہوئیں، جبکہ اسلامی دنیا میں یورپ سے سات سو700 سال قبل گھڑیوں کا استعمال عام ہو چکا تھا، خلیفہ ہارون الرشید رحمۃُ اللہِ علیہ کا انتقال تقریباً 809 عیسوی میں ہوا، انہوں نے اپنے دَور میں اس وقت فرانس کے شہنشاہ شارلیمان کو ایک واٹر کلاک (Water Clock) تحفے میں دیا تھا([18])۔
الجبرا اور ہندسوں کا استعمال
میرے عزیز دوستو! الجبرا ریاضی سے متعلق ایک ایسا علم ہے، جو آج بھی شاملِ نصاب ہے، الجبرا (Algebra) پر دنیا کی پہلی کتاب “الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلۃ ” مشہور عراقی سائنس داں محمد بن موسیٰ خوارزمی نے لکھی، انہوں نے اس کتاب میں 1 سے 9 اور صِفر کے اَعداد بھی پیش کیے، اس سے پہلے لوگ ہندسوں کے بجائے حروف کا استعمال کرتے تھے([19])۔ مذکورہ بالا کتاب انگریزی میں”The Compendious Book on Calculation by Completion and Balancing” کے نام سے معروف ہے!۔
اُصطرلاب کی اِیجاد
برادرانِ اسلام! ابو اِسحاق زرقلی اَندلُس کے مانے ہوئے اسٹرونامیکل آبزرور (Astronomical Observer) تھے، انہوں نے ایک خاص اُصطرلاب (Astrolabe) “الصفیحہ” کے نام سے بنا یا، جس سے سورج کی حرکت کا مشاہدہ کیا جا سکتا تھا، انہوں نے اس اُصطرلاب (Astrolabe) پر ایک آپر یٹنگ مینوئیل (Operating Manual) بھی تحریر کیا، جس میں اس سائنسی حقیقت کا انکشاف کیا، کہ آسمانی کُرے بَیضوی مدار (Elliptical Orbit) میں گردش کرتے ہیں، یہی انکشاف صدیوں بعد غیر مسلم سائنسدان کیپلر (Kepler) نے کیا([20])۔
تارپیڈو (Torpedo) کی اِیجاد اور راکٹ کا ڈایا گرام
میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! بحری جہازوں پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا تارپیڈو (Torpedo) بھی، پندرہویں صدی عیسوی کے مسلمانوں کی ہی ایجاد ہے۔ اس کے علاوہ محققِ شام حسن الرماہ نے ملٹری ٹیکنالوجی (Military Technology) پر 1280ء میں ایک شاندار کتاب لکھی، اس کتاب میں انہوں نے راکٹ (Rocket) کا ڈایا گرام (Diagram) بھی پیش کیا، اس راکٹ کا ماڈل امریکہ کے نیشنل ائیر اینڈ سپیس میوزیم (National Air and Space Museum) واشنگٹن (Washington) میں موجود ہے، مزید برآں یہ کہ اس کتاب میں گن پاؤڈر (Gun Powder) بنانے کے اَجزائے ترکیبی بھی دیے گئے ہیں([21])۔
المختصر یہ کہ مسلمان سائنسدانوں کی سائنسی خدمات کی فہرست اس قدر طویل ہے، کہ اُن سب کا اِحاطہ اس مختصر سی تحریر میں ممکن نہیں، چند اِیجادات بھی صرف اس نقطۂ نظر سے ذکر کی گئیں، کہ ہم احساسِ کمتری کے خول سے باہر نکلیں، اور اپنے اَسلاف کے شاندار ماضی سے آگاہ ہوکر اُن کے نقشِ قدم کی پَیروی کرتے ہوئے، اَغیار کی محتاجی سے بچ کر، خود نئی دریافتوں اور اِیجادات کی جستجو میں، دیگر اقوام سے آگے بڑھ کر، ملک وملت اور اَقوام عالم کی بھرپور خدمت سر انجام دیں!!۔
دعا
اے اللہ! ہمیں حصولِ علم کا جذبہ عطا فرما، پڑھ لکھ کر دينِ اسلام کی خدمت کی توفیق مرحمت فرما، سائنسی علوم سیکھ کر انسانیت کے لیے کچھ اچھا کرنے کی سوچ عطا فرما، قومِ مسلم کا سر فخر سے بلند کرنے والی لگن عطا فرما، اور سائنسی اِیجادات کے مُعاملے میں اَغیار کی محتاجی سے بچا!۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہ کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتّحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، اس میں سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اخلاص کی دولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتّحاد واتّفاق اور محبت والفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!۔
اے اللہ! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کےظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی وکشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما!، آمین یارب العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1])دیکھیے: “قرآن اور جدید سائنس” آزاد دائرۃ المعارف وکیپیڈیا۔
([2]) “فتاوی رضویہ” کتاب الرد والمُناظرہ، رسالہ “نُزولِ آیاتِ فُرقان بسکونِ حرکتِ زمین وآسمان” 22/245۔
([5]) “الإتقان” النوع ٦٥ في العلوم المستنبطة من القرآن، 2/٢٤٥.
([6])دیکھیے: “سورج ساکن نہیں ہے” اردو محفل 21 ستمبر 2012ء۔
([9])دیکھیے: “قرآن اور جدید سائنس” آزاد دائرۃ المعارف وکیپیڈیا۔
([10]) “مسلمان سائنسدانوں کی چند اہم دریافتیں اور ایجادات، ایک جائزہ” 12 اپریل 2019ء۔
([11]) دیکھیے: “مسلمان سائنسدانوں کی اِیجادات” دنیا نیوز ڈیجیٹل ایڈیشن 8 ستمبر 2018ء۔
و”مسلمان سائنسدانوں کی چند اہم دریافتیں اور ایجادات، ایک جائزہ” 12 اپریل 2019ء۔
([12])دیکھیے: “مسلمان سائنسدانوں کی ایجادات” دنیا نیوز ڈیجیٹل ایڈیشن 8 ستمبر 2018ء۔
([14]) دیکھیے: “مسلمان سائنسدانوں کی ایجادات” دنیا نیوز ڈیجیٹل ایڈیشن 8 ستمبر 2018ء۔ و”مسلمان سائنسدانوں کی چند اہم دریافتیں اور ایجادات” 12 اپریل 2019ء۔
([15]) دیکھیے: “مسلمان سائنسدانوں کی ایجادات” دنیا نیوز ڈیجیٹل ایڈیشن 8 ستمبر 2018ء ملتقطاً۔
([16]) “مسلمان سائنسدانوں کی چند اہم دریافتیں اور ایجادات، ایک جائزہ” 12 اپریل 2019ء۔