صوفیائے کرام  اور اُن کی تعلیمات

Home – Single Post

The Sufi Saints and Their Teachings

برادرانِ اسلام! حضرت امام ابوالقاسم قشیریرحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “نصراباذی کہتے ہیں، کہ تصوّف کی حقیقت یہ ہے، کہ انسان قرآن وسنّت پر کاربند رہے، خواہشات اور بدعتوں کو ترک کر دے، اور بزرگانِ دِین کا احترام وتعظیم کرے”([1])۔

امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا رحمۃُ اللہ علیہ حقیقتِ تصوّف کے بارے میں فرماتے ہیں کہ “شریعت، طریقت، حقیقت، معرفت میں باہم اصلاً کوئی تخالُف (تضاد) نہیں، اس (تضاد) کا مدّعِی اگر بےسمجھے کہے، تو نِرا جاہل ہے، اور سمجھ کر کہے تو گمراہ بد دِین ہے۔ شریعت حضورِ اقدس سیّدِ عالَم ﷺ کے اقوال ہیں، اور طریقت حضور کے اَفعال، اور حقیقت حضور کے اَحوال، اور معرفت حضور کے علومِ بے مثال”([2])  کا نام ہے۔

تو جو لوگ ان باتوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں، وہ قرآن وحدیث کے مطالعہ میں مصروف رہتے، اور قناعت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان حضرات نے پیار، محبت، اَخلاق، ضبطِ نفس اور باہمی رَواداری کی تعلیمات کو عام کیا، مُعاشرے کے دھتکارے ہوئے لوگوں کو  اپنے سینے سے لگایا، شدّت وانتہاپسندی کی نفی کی، اور اپنے عمل کے ذریعے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کیا، ان بزرگوں کی  رُوحانی طاقت، کردار وگفتار اور خلوص واِیثار کے ذریعے ایسی فضا قائم ہوئی، جو اَمن وشانتی، تزکیۂ نفس اور اِصلاحِ مُعاشرہ کی ضامِن تھی۔

عزیزانِ گرامی قدر! اللہ تعالی کی بارگاہ میں اِن نُفوسِ قُدسیہ کا مقام ومرتبہ نہایت اَرفع واعلی ہے، رب تعالی اپنے فضل وکرم سے انہیں اپنا قُربِ خاص عطا فرماتا ہے، اللہ تعالی کے نیک بندے، درحقیقت سروَرِ کونین ﷺ کے نائبین ہوا كرتے ہیں، انہيں مخلوق كى تربیت ورَہنمائی کا ذریعہ بنایا گیا ہے، خالقِ کائنات ﷻ نے ان کی شان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ﴾([3]) “سُن لو یقیناً اللہ تعالى کے ولیوں پر نہ کچھ خَوف ہے، نہ کچھ غم”۔

محترم بھائیو! ان مقبولانِ بارگاہِ الہی کے دل ہر وقت ذکرُ اللہ میں مستغرق رہتے ہیں، ان کے شب وروز تسبیح وتہلیل میں گزرتے ہیں، ان کے دل اللہ ورسول کی محبت سے لبریز ہوتے ہیں، ان کی کسی سے دوستی اور دشمنی بھی اللہ ورسول ہی کى خاطر ہوا كرتی ہے، یہ حضرات اِطاعتِ الہی پر ہمیشگی اختيار كرتے ہیں، جبكہ نافرمانی ودنیاوی لذّتوں میں مشغولیّت سے اجتناب كرتے ہیں، پروَردگارِ عالَم ﷻ اپنے ان محبوب بندوں کی ہر طرح مدد فرماتا ہے، دينِ اسلام كے اَسرار ورُموز اور اس كى تبليغ میں ان کی رَہنمائی فرماتا ہے، ان کے قُلوب واَذہان میں اللہ ورسول کی محبت وعقیدت کمال درجہ ہوتی ہے، ان کی گفتگو وخاموشی پُرتاثیر ہوا كرتی ہے، ان کے سینوں سے علم کے چشمے پھُوٹتے ہیں، شریعتِ محمدی کے عامل اور پیکرِ حُسنِ اَخلاق ہوا كرتے ہیں، پیغامِ اسلام کو مخلوق تک پہنچانے میں یہ حضرات تاریخ ساز کردار ادا کرتے ہیں، اور یہی لوگ اللہ تک پہنچنے کا خوبصورت اور آسان راستہ ہیں، ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر بندہ اپنے پروَردگار کی بارگاہ تک رَسائی حاصل کر سکتا ہے، ان کی صحبت یادِ الٰہی کا سبب ہے۔

حدیث شریف میں انہی درویش صفت  ہستیوں کو اللہ تعالی کے بہترین بندے قرار دیا گیا ہے، حضرت سيِّدنا عبد الرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رحمتِ عالمیان ﷺ نے ارشاد فرمایا: «خِيَارُ عِبَادِ اللهِ الَّذِينَ إِذَا رُؤُوا، ذُكِرَ اللهُ»([4]) “اللہ تعالى کے بہترین بندے وہ ہیں، جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آجائے”۔

شارحِ “مشکاۃ” علّامہ طیبی رحمہ اللہ اس حدیثِ پاک کی شرح میں لكھتے ہیں کہ “ان کے چہروں پر انوار وآثارِ عبادت ایسے ہوں، کہ انہیں دیکھتے ہی رب A یاد آجائے، ان کے چہرے آئینۂ خدانما ہوتے ہیں”([5])۔ اللہ کریم کے ان بندوں کی صحبت سے نا صرف ظاہر سَنورتا ہے، بلکہ باطن کی بھی اِصلاح کا سامان ہو جاتا ہے۔

حضراتِ ذی وقار! صُوفیائے کرام رحمہ اللہ ملّتِ اسلامیہ کا وہ طبقہ ہیں، جنہوں نے ہر دَور میں روحانی پاکیزگی، اور اپنے کردار وعمل سے اسلام کے ظاہر وباطن کی حفاظت کی، انہوں نے ظلم، جَہالت، شرک ومعصیت کی تاریکیوں میں محبت، علم، امن، رُشد وہدایت، نیکی وتقویٰ، اِیثار وقربانی اور بھائی چارے کی شمعیں روشن کیں، اپنے حُسنِ سُلوک اور طرزِ عمل کے ذریعےمُعاشرے میں پھیلی تمام خرابیوں، مثلاً ذات پات اور امیر غریب کے فرق کو ختم کیا، ان حضرات کا سُلوک سب کے ساتھ یکساں اور ہمدردانہ ہوا کرتا ہے، انہوں نے باہمی روا داری کو فروغ دے کر مُعاشرے میں اتحاد واتفاق اور جذباتی ہم آہنگی پر مبنی  خوش گوار مُعاشرتی ماحول پیدا کیا۔ یہ  حضرات امن کے حقیقی سفیر ہیں، اور انہی کی تعلیمات کے صدقے  آج دنیا کے اکثر خطّوں میں امن وامان قائم ہے۔

عزیزانِ محترم! فکری واعتقادی، رنگ ونسل اور زبان ووطن کی بنیاد پر کسی عصبیت کا شکار ہوئے بغیر، تحمل وبُردباری کے ساتھ کسی دوسرے کو برداشت کرنا رواداری کہلاتاہے۔ حضراتِ صُوفیائے کرام رحمہ اللہ نے اپنی فراخ دلی اور وسعتِ قلبی کے سبب امن وسکون، برداشت، رعایت، تحمل، وضع داری، ہر ایک کے ساتھ یکساں برتاؤ، اور نرمی اپنا کر جس قدر رواداری کا مُظاہرہ کیاہے، کسی اور طبقے میں اس کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔

حضراتِ گرامی قدر! رواداری کی بنا پر مُعاشرے میں عفو و درگزر، اخوّت  اور بھائی چارے کے جذبات پرورِش پاتے ہیں، ایک مسلمان دوسروں کے ساتھ مُعاملات میں ان کا روادار ہوتا ہے، دوسروں کی زیادتی وسختی پر صبر ونرمی اختیار کرتاہے۔ دینِ اسلام  ہمیں ایسے ہی  خواص اپنانے کی ترغیب دیتاہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ﴾([6]) “غصہ پینے والے، اور لوگوں سے درگزر کرنے والے، اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں”۔

ایک اَور مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ﴾([7]) “اے حبیب! مُعاف کرنا اختیار کیجیے، بھلائی کا حکم دیجیے اور جاہلوں سے منہ پھیر لیجیے”۔

میرے پیارے بھائیو! اسلام جہاں مسلمان کو یہ حکم دیتا ہے، کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ رواداری کا مُعاملہ کرے، اسی طرح وہ مسلمان کو یہ بھی حکم دیتاہے کہ وہ غیرمسلموں کے ساتھ بھی حُسنِ  سلوک سے پیش آئے، ان کے ساتھ احسان وبھلائی کرے، انہیں بلاعُذرِ شرعی کسی قسم کی تکلیف نہ دے، ان کے ساتھ عدل وانصاف کا مُعاملہ کرے، اور اپنے وطن میں اِن لوگوں کے جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت کرے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَتُقْسِطُوْۤا اِلَيْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ﴾([8]) “اللہ تمہیں اُن کے ساتھ احسان کرنےسے منع نہیں فرماتا، جو تم سے دِین كے مُعاملے میں نہ لڑيں، اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالیں، اور اُن سے انصاف کا برتاؤ کرو، یقیناًانصاف والے اللہ تعالی کو محبوب ہیں”۔

حضراتِ گرامی! یہ اسلام ہی کا طرّۂ امتیاز ہے، کہ وہ اپنے  پَیروکاروں کو دیگر اَدیان کے ماننے والوں کے ساتھ بھی، احسان ورَواداری کے ساتھ پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے۔ چونکہ سابقہ اَدیان وکُتبِ سَماویّہ اور دینِ اسلام کے مابین، اللہ تعالی، فرشتوں، آسمانی  کتابوں، رسولوں، یومِ آخرت اور اچھی بُری تقدیر پر ایمان، عدل وانصاف، باہمی رَواداری، عفو ودرگزر، صِلہ رِحمی، اتفاق واتّحاد، امن وشانتی، باہمی محبت وشفقت، مقدَّس مقامات اور عبادت گاہوں کے تحفّظ جیسے بعض مُعاملات مشترِک ہیں، لہٰذا سبھی کو ان اُمور پر عمل پَیرا ہونا چاہیے؛ تاکہ مُعاشرے میں امن وامان کی فضا برقرار رہے، اور مذہبی بنیادوں پر کسی قسم کی بدمزگی پیدا نہ ہو۔

برادرانِ ملّتِ اسلامیہ! دینِ اسلام ایک مسلمان کو ہمیشہ مثبت طرزِ عمل اپنانے، باہم رحمدلی اور ایک دوسرے کی غلطی کوتاہیوں کو مُعاف کرنے کی تعلیم دیتاہے۔ احادیثِ مبارکہ میں اس بات کی بہت زیادہ تلقین اور فضیلت بیان کی گئی ہے، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «ارْحَمُوْا تُرْحَمُوْا، وَاغْفِرُوْا يَغْفِرِ اللهُ لَكُمْ!»([9]) “رحم کرو، تم پر بھی رحم کیا جائے گا! اور لوگوں کو مُعاف کیا کرو، اللہ تعالی بھی تم سے درگزر فرمائے گا!”۔

جانِ برادر! یہی وجہ ہے کہ صُوفیائے کرام رحمہ اللہ نے بھی، خَلقِ خدا کو  ہمیشہ عفو ودرگزر سے کام لینے کی تعلیم دی، اور تشدّد، مار پیٹ اور انتقامی سوچ کی حَوصلہ شکنی فرمائی۔

پیارے بھائیو! صوفیائے کرام رحمہ اللہ کی عفو ودرگزر پر مبنی ان تعلیمات کے پسِ پردہ، مَقاصد حسَنہ یہی ہیں کہ مُعاشرے میں انتقامی سوچ کا خاتمہ ہو، اور امن وامان کا بول بالا  ہو؛ کیونکہ حالات وواقعات یہ بتاتے ہیں، کہ جب انتقام کی آگ ایک بار بھڑک اٹھے، تو یہ نسلوں تک چلتی ہے، جس سے سوائے جان، مال اور وقت کے ضیاع کے کچھ ہاتھ نہیں آتا، نیز مُعاشرے کا امن وامان بھی تہہ وبالا ہو جاتا ہے۔

حضراتِ گرامی! صوفیائے کرام رحمہ اللہ نے مادّیت کے دَلدَل میں پھنسی انسانیت کی اصلاح کے لیے، دینِ اسلام کے روحانی پہلوؤں پر خاص توجہ مرکوز فرمائی، اور روحانیت کا طریق اپنایا، انسان کو اس بات کی تعلیم دی کہ وہ زُہد کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناکر، اور نفسانی خواہشات کے خلاف جہاد  کر کے، خود کو ترکِ لذّات وشَہوات پر آمادہ کرے، سب سے پہلے اپنے ظاہر وباطن کی اصلاح کرے، ہر وقت اپنا مُحاسبہ کرتا رہے، اور اپنے اندر سے باطنی بیماریوں اور آلائشوں کو دُور کر دے، دل کی دنیا کو رُوحانیت سے آباد کرے، اپنے اعمال وکردار سے مخلوقِ خدا کا بھلا کرے، دُنیا کی رنگینیوں اور اس کے فتنوں میں پڑنے سے اجتناب کرے؛ کہ اس میں اسی کی بھلائی ہے؛ کیونکہ اللہ ربّ العزّت کو تو ہماری عبادتوں، رِیاضتوں کی کوئی ضرورت نہیں، اُس کی رَبوبیت ہمارے مُجاہدوں اور مُراقبوں کی محتاج نہیں، وہ ان سب چیزوں سے بےنیاز اور بےپرواہ ہے، اللہ B کا قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: ﴿وَمَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ﴾([10]) “جو اللہ کی راہ میں کوشش کرے، تو اپنے ہی بھلے کی کوشش کرتا ہے، یقیناً اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے”۔

یقین جانیے! اگر ہم نے اپنے سچے مَن سے اپنی ظاہری وباطنی اصلاح کرنے، اور اللہ ﷻ کی خوشنودی کے حصول کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا، تو ہر رُکاوٹ خودبخود دُور ہوتی چلی جائے گی، اور نصرتِ الٰہی کے سبب منزلِ مقصود تک پہنچانے  والے راستے اپنے آپ دکھائی دینے لگیں گے؛ کیونکہ اللہ رب العزّت نے قرآنِ پاک میں اس بات کا وعدہ فرمایا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ  سُبُلَنَا١ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ﴾([11]) “جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی، ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھا دیں گے، اور یقیناً اللہ نیکوں کے ساتھ ہے”۔

حضراتِ ذی وقار! اَحکامِ شریعت سے نابلد بعض نام نہادصُوفی اور جعلی پیر، تصوّف اور راہِ سُلوک سے متعلق عوام میں شکوک وشبہات پیدا کرتے ہیں، اور بعض ایسے نظریات کا پرچار بھی کرتے ہیں، جن کا صُوفیائے کرام کی تعلیمات سے دُور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔ یاد رکھیے! صُوفیائے کرام کی کبھی بھی یہ تعلیمات نہیں رہیں، کہ فرائض وواجبات کو ترک کر کے سنّتوں کی طرف توجہ کی جائے، یا سُنتوں کو چھوڑ کر نوافل کی ادائیگی میں مشغول ہوا جائے، ایسا کرنے والے احمق اور گمراہ لوگ ہیں۔

عزیزانِ محترم! صُوفیائے کرام رحمہ اللہ کی کبھی بھی یہ تعلیمات نہیں رہیں، کہ کوئی حکمِ شریعت کو چھوڑ کر دیگر چیزوں پر عمل پیرا ہو، نماز، روزہ چھوڑ کر صرف ذکر واَذکار اور چلّہ کشی پر اِکتفا کرے، اگر کوئی نام نہاد صُوفی ایسی بات کہتا، اور ایسے خیالات واَفکار کا حامل ہے، تو اس کا جماعتِ صُوفیہ سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ فرقۂ ضالّہ (گمراہوں) میں سے ہے، حقیقی صُوفیہ ایسے نام نہاد صُوفیوں سے اپنی براءَ ت کااظہار کرتے ہیں۔ صُوفیائے کرام رحمہ اللہ کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ ظاہری اعمال اور باطنی افعال کا آپس میں تعلق ایسا ہے، جیسے روح کا جسم سے۔ ظاہری اعمال شریعت ہیں،  تو باطنی اعمال تصوف۔

میرے عزیز دوستو، بزرگو اور بھائیو! صُوفیائے کرام رحمہ اللہ کی تمام تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے، کہ آدابِ شریعت کی پابندی رہے، حرام ومشتبہ چیزوں سے دست کشی کی جائے، ناجائز اَوہام وخیالات سے حواسّ کو آلودہ نہ کیا جائے، نفسانی خواہشات کو شریعتِ مطہَّرہ کے تابع کیا جائے۔ حدیث شریف میں فرمایا: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعاً لما جِئْتُ بِهِ»([12]) “كوئی شخص اُس وقت تک مؤمنِ کامل نہیں ہوسکتا، جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائیں”!۔

 عزیزانِ گرامی قدر! تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں قیامِ امن کے لیے صُوفیہ کا کردار اپنی مثال آپ رہا، آج کون اس بات سے انکار کرسکتاہے، کہ دُور دراز ممالک میں اگر کسی نے قلب ونظر کے سُومنات فتح کیے، تو وہ یہی حضراتِ صوفیائے کرام رحمہ اللہ ہی ہیں، یہی وہ نُفوسِ قُدسیہ ہیں جنہوں نے صرف وعظ وتلقین ہی سے نہیں، بلکہ انسان دوستی کے رویّوں سے دلوں کی دنیا کومسخَّر کیا۔ ہماری تاریخ ایسے درویش اور صُوفی انسانوں سے بھری پڑی ہے، جو ہمیشہ امن ومحبت اور سلامتی کی تبلیغ کرتے، اور اپنے قول وفعل سے شرانگیزی کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ جو دراصل صُوفیہ کہلاتے ہیں، انہوں نے مُعاشرے میں امن وسلامتی اور بھائی چارے کے قیام کے لیے، ہمہ وقت جدوجہد کر کے اپنا دل تقویٰ وطہارت سے آراستہ کیا، ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑا، غیروں کو بھی سینے سے لگایا، محبت واُلفت کا پیغام دیا، یہی وجہ ہے کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود، ان حضرات کی محبت ہمارے دلوں میں آج بھی قائم ودائم ہے۔

محترم بھائیو! ہند سے عرب تک، وسطِ ایشیا سے یورپ تک، جاپان سے امریکہ تک،  ظلم وبربریت، فرقہ واریت، دہشت گردی، انتہاء پسندی، اور تنگ نظری کی آگ میں جلتا ہوا آج کا انسان، کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہے، ذات پات کے جھگڑوں سے لہولہان زندگی، تعلیماتِ صُوفیہ سے امن کی خیرات طلب کر رہی ہے، امنِ عالَم کے لیے آج پھر اُسی صوفیانہ کردار کی ضرورت ہے، جس نے پوری دنیا کو محبت، اخوّت،  اور مُعاشرت کے جواہر عطا کیے، دنیا کو امن وسکون سے رُوشناس کرایا۔ آج اگر ہم واقعی امن وسکون چاہتے ہیں، تو ہمیں صوفیائے کرام کی تعلیمات  سے آگاہی حاصل کرنا ہوگی، ان پر عمل کرنا ہوگا، یقین جانیے! جس دن ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے، اُس دن ظلم وبربریت اور جنگ و جدل  سے بھری اس دنیا سے،  دہشت گردی، انتہا پسندی اور ناانصافی کا خاتمہ ہو جائے گا، امن کا دَور دَورہ ہوگا، نیز ہمارا یہ مُعاشرہ خوشیوں اور خوشحالی کا گہوارہ بن جائے گا، ان شاء اللہ!۔

موجودہ زمانے میں تصوّف اور صوفیائے کرام کے نام پر، صوفیانہ کلام کو موسیقی کی دھنوں پر ناچ گانے اور دھمال کے ساتھ، رواج دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان چیزوں کا صوفیہ کی تعلیمات سے دُور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔ آج کل میڈیا پر گانے بجانے والے مراثیوں کو  بعض صوفیانہ کلام پڑھتے دیکھا جاتا ہے، اور سونے پر سہاگہ یہ کہ رقص وسُرود کے فحش وعُریاں ماحول میں، ناجائز موسیقی کے ساتھ، صوفیانہ کلام پڑھنے والے یہ مراثی لوگ، بڑے فخر سے تصوّف کی باریکیوں پر، اس انداز سے گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں، جیسے کوئی ماہرِ فنِ تصوّف وروحانیت ہوں، حالانکہ اگر ان نام نہاد سازشی صوفیوں کو کھنگالا جائے تو پتا چلے، کہ انہیں طہارت اور پاکی ناپاکی سے بھی پوری طرح واقف نہیں، موصوف کو نماز روزہ اور دیگر ضروریات کی تو خبر ہی نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی خاص سوچ ومقصد کے تحت مُعاشرے میں لادینیت سے بھرپور، ایک خاص نَوعیت کا دھمالی پوپ میوزیکل (Pope Musical) تصوّف متعارف کرانے کی سازش رچی جا رہی ہے، جس کا کم از کم دینِ اسلام اور اس کی تعلیمات سے تو ہرگز کوئی واسطہ نہیں۔

سچا تصوّف تو یہ ہے، کہ تمام ظاہری وباطنی گناہوں، برائیوں سے بچنے اور تمام فرائض وواجبات پر عمل کی بھرپور کوشش کی جائے۔ لہذا ان تمام خرابیوں سے بچنا اور اپنے اردگرد کے ماحول کو بچانا انتہائی ضروری ہے۔

اے اللہ! ہمیں اور ہماری آنے والی تمام نسلوں کو  بُرے ماحول سے بچا، اللہ  ورسول اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ سے سچی محبت کرنے والا بنا، صالحین کی صحبت اختیار کرنے، اور اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما، ان کی  تعلیمات پر عمل کرنے والا بنا، اولیائے کرام سےخالصۃً اپنی رضا پر مبنی، ہماری اِس محبت واُلفت کو ہمارے لیے، دنیا میں باعثِ راحت  وآرام، اور آخرت میں نَجات اور بلندیٔ درَجات  کا سبب بنا۔

رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے کشمیری وفلسطینی مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، اُن کے جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، مسئلہ کشمیر کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔

الٰہی! تمام مسلمانوں کی جان، مال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، جن مصائب وآلام کا انہیں سامنا ہے، ان سے نَجات عطا فرما۔ ہمارے وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین ووطنِ عزیز  کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، اُن کے درجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق  عطا فرما۔

اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے ہمیں وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔ وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّةِ أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) “الرسالة القشَيرية” باب في ذكر مشايخ هذه الطريقة، صـ63.

([2]) “فتاوی رضویہ” کتاب الحظر والاباحۃ، شریعت، طریقت، حقیقت، معرفت …، 17/106۔

([3]) پ11، یونس: 62.

([4]) “مسند الإمام أحمد” مسند الشاميّين، ر: 18020، 6/291.

([5]) “الكاشف عن حقائق السنن” كتاب الآداب، تحت ر: 4872، 9/124.

       ([6]) پ4، آل عمران: 134.

       ([7]) پ9، الأعراف: 199.

([8]) پ٢8، الممتحنة: 8.

        ([9]) “مسند الإمام أحمد”  مسند عَبْد اللهِ بْنِ عَمْرو، ر: 7062، 2/682.

([10]) پ20، العنکبوت: ٦.

       ([11]) پ٢١، العنکبوت: ٦٩.

([12]) “البرهان المؤيّد” الإيمان والهوى، صـ22.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *