
Table of contents
- ولادتِ باسعادت اور سلسلۂ نسَب
- تعلیم و تربیت
- حیرت انگیز قوّتِ حافظہ
- اساتذۂ کرام
- درس وتدریس
- تلامذہ
- بیعت و خلافت
- خلفاء
- رشتہ اِزدِواج اور اولادِ اَمجاد
- رُفقاء ومُعاصرین
- پیر مہر علی شاہ کی سیرت اور دینی خدمات پر لکھی گئی کتب
- اِیثار وسخاوت
- عبادت ورِیاضت
- مالِ دنیا سے بے رغبتی
- وادئ حمراء میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کا شرف
- اَج سک متراں دی وَدھیری اے
- تصنیفات
- ردِّ قادیانیت اور پیر مہر علی شاہ
- قادیانیوں سے حقیقتِ معجزہ کی تشریح کا مُطالبہ
- مُناظرے کا چیلنج
- پیر مہر علی شاہ کی جانب سے بطور مُباہلہ مُردے زندہ کرنے کی پیشکش
- قادیانی حلقوں میں انتشار
- ” سیفِ چشتیائی ” کے ذریعے فتنۂ قادیانیت کی بیخ کنی
- ارشادات وفرامین
- وِصال شریف
- دعا
الحمد لله ربّ العالمين، والصّلاةُ والسّلامُ على خاتمِ الأنبياءِ والمرسَلين، وعلى آلهِ وصحبهِ أجمعين، أمّا بعد: فأعوذُ باللهِ مِن الشّيطانِ الرّجيم، بسمِ الله الرّحمنِ الرّحيم.
حضور پُرنور، شافعِ یومِ نشور ﷺ کی بارگاہ میں ادب واحترام سے دُرود وسلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اللّهمّ صلِّ وسلِّم وبارِك على سيِّدِنا ومولانا وحبيبِنا محمّدٍ وعلى آلهِ وصَحبهِ أجمعين.
برادرانِ اسلام! جن حضراتِ اولیائے کرام اور علمائے دِین نے برصغیر پاک وہند میں دینِ اسلام کی شمع روشن کی، اپنی پوری زندگی تبلیغ واِشاعت اسلام کے لیے وقف کر دی، اللہ تعالی کی وَحدانیت کا پرچار کیا، پُر فتن دَور میں ختمِ نبوّت کا عَلم (جھنڈا) بلند کیا، اور قادیانیت کی بیخ کنی کی، اُن میں ایک نمایاں ترین نام فاتحِ قادیانیت، قبلۂ عالَم حضرت پیر سیّد مہر علی شاہ چشتی گولڑوی کا ہے۔
ولادتِ باسعادت اور سلسلۂ نسَب
عزیزانِ محترم! تاجدارِ گولڑہ پیر سیّد مہر علی شاہ کی ولادتِ باسعادت بروز پیر، یکم رمضان المبارک 1275ھ/14 اپریل 1859ء کو ہوئی، آپ کا تعلق سادات گھرانے سے ہے، آپ کاسلسلۂ نسَب والد ماجد سیّد نذر دین شاہ کی طرف سے، پچیس25 واسطوں سے حضور غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی ، اور چھتیس36 واسطوں سے نواسۂ رسول حضرت سیّدنا امام حسن سے جا ملتا ہے، جبکہ والدہ ماجدہ معصومہ موصوفہ بنت پیر سیّد بہادُر شاہ کی جانب سے، پچیس25 واسطوں سے حضور غوثِ اعظم سے ملتا ہے۔
حضرت پیر مہر علی شاہ کے پردادا حضرت سیّد رَوشن شاہ اور اُن کے بھائی سیّد غلام رسول شاہ پوٹھوہار کے علاقہ ” گولڑہ” میں آ کر آباد ہوئے، اور اس خطے کی باطنی ولایت کے وارث قرار پائے([1])۔ یہ علاقہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد (Islamabad) میں مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے، جو راولپنڈی (Rawalpindi) کے صدر مقام سے تقریبا ً بیس20 کلو میٹر (km) دُوری پر ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :جعلی پیروں کا شر وفساد
تعلیم و تربیت
حضراتِ گرامی قدر! پیر مہر علی شا ہ صاحب نے حفظِ قرآن اور ابتدائی دینی ودنیاوی تعلیم اپنے علاقہ کی “خانقاہِ قادریہ” کے مدرسہ سے حاصل کی، اس کے بعد مزید دینی تعلیم کے لیے حَسن اَبدال (پاکستان) کے نواح میں مَوضع “بھوئی” میں، اپنے وقت کے ناموَر عالِم دین مولانا محمد شفیع قریشی کی درسگاہ میں داخلہ لیا، جہاں حضور پیر مہر علی شاہ نے کتبِ منطق، نحو اور اُصول کے درمیانی اَسباق پڑھے، اس کے بعد ضلع خوشاب کی وادئ سون(سکیسر) میں واقع مَو ضع “انگہ” کا سفر اختیا ر کیا، جہاں آپ نے مولانا حافظ سلطان محمود سیالوی صاحب سے فقہ، صحاحِ ستّہ، تفسیر ِ بیضاوی، فلسفہ، ریاضی سمیت علومِ عقلیہ ونقلیہ کی تکمیل کی۔
بعد ازاں حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب علیگڑھ (ہندوستان) تشریف لے گئے، اور وہاں مولانا لُطف اللہ علی گڑھی کی خدمت میں حاضر ہو کر حُصولِ علم کے مزید طلبگار ہوئے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ کو مولانا لُطف اللہ علی گڑھی کی جانب سے قرآنِ مجید کی تفاسیر، کتبِ احادیث اور دیگر عُلوم کی اَسناد بھی عطا ہوئیں، جو آج بھی تبرّکاتِ عالیہ مزار شریف میں مَوجود ہیں۔ علیگڑھ (ہندوستان) میں آپ کا قیام اڑھائی سال تک رہا، اس دَوران حضرت پیر مہر علی شاہ درس وتدریس میں بھی مصروف رہے، اور تشنگانِ علم کی سیرابی کا ساماں کرتے رہے([2])۔
حیرت انگیز قوّتِ حافظہ
عزیزانِ مَن! قطبِ عالَم حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب مضبوط قوّتِ حافظہ کے مالک تھے، آپ کے قوّتِ حافظہ کی مضبوطی کا یہ عالَم تھا کہ” ناظرہ قرآنِ پاک پڑھنے کے دَوران آپ روزانہ کا سبق کسی کے کہے بغیر زبانی یاد کر لیتے، اور بغیر دیکھے ہی سنا دیا کرتے تھے، حتی کہ جب ناظرہ مکمل ہوا تو اس وقت آپ کو پورا قرآن پاک حفظ ہو چکا تھا”([3])۔
اساتذۂ کرام
حضرت پیر مہر علی شاہ کے اساتذۂ کرام میں جن حضرات کے نام زیادہ نمایاں ہیں، اُن میں سے چند ایک کے اسمائے گرامی حسبِ ذیل ہیں:
(1) مولانا غلام محی الدین ہزاروی، (2) مولانا محمد شفیع قریشی، (3) مولانا لُطف اللہ علی گڑھی، (4) مولانا سلطان محمود سیالوی([4])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :مزاراتِ اولیاء پر ہونے والی خُرافات کی روک تھام
درس وتدریس
جانِ برادر! حضرت پیر مہر علی شاہ حُصولِ علم کے بعد واپس گولڑہ شریف تشریف لائے، اور درس وتدریس میں مشغول ہو گئے، آپ نے گولڑہ شریف میں عُلومِ دِینیہ کی پہلی باقاعدہ درسگاہ کی بنیاد رکھی، آپ ایک بہترین معلّم تھے، آپ کا اندازِ تدریس اور لب ولہجہ کی تاثیر کچھ ایسی تھی، کہ جو بھی آپ کا درس سنتا بےاختیار گرویدہ ہو جاتا تھا، دَورانِ تدریس آپ اس قدر بہترین اور مؤثِر انداز سے سمجھاتے کہ طلباء بڑی آسانی سے سمجھ کر یاد کر لیتے تھے۔
حضرت پیر مہر علی شاہ نے درس وتدریس کا یہ سلسلہ حالتِ استغراق اور کیفیتِ جذب ومستی آنے تک جاری رکھا، جب حالتِ استغراق میں اِضافہ ہوگیا، تو آپ نے درس وتدریس کا سلسلہ مَوقوف کر دیا([5])۔
تلامذہ
حضرت پیر مہر علی شاہ سے اکتسابِ فیض کرنے والوں کی صحیح تعداد تو معلوم نہیں ہوسکی، مگر اس اَمر میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ نے بڑی محنت اور جانفشانی سے تدریس فرمائی،اور علم وفیض کے دریا بہا کر تشنگانِ علم کی پیاس بجھائی۔ حضرت قبلۂ عالَم سے براہِ راست علم حاصل کرنے والے جن شاگردوں کے بارے میں ہمیں کچھ معلومات ملیں، اُن کے اسمائے گرامی حسبِ ذیل ہیں:
(1)جامع المعقول والمنقول مولانا محبّ النبی ہاشمی (سابق صدر مدرِّس جامعہ غوثیہ گولڑہ شریف)، (2)حضرت مولانا دوست محمد (تحصیل چکوال)، (3)حضرت مولانا سیِّد ممتاز علی شاہ (ضلع پونچھ، آزاد کشمیر)، (4) حضرت مولانا محمد اسماعیل (سابق امام مسجد گولڑہ شریف)، (5) حضرت مولانا فقیر اللہ نور( ضلع ہزارہ)، (6) حضرت مولانا قاضی فیض عالَم (تحصیل گوجر خان)، (7)حضرت مولانا فقیر محمد (فتح جنگ)، (8) حضرت مولانا احمد دِین (چھچھ ، ضلع اَٹک)، (9)حضرت مولانا قائم علی چشتی فاضل لاہوری ([6])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :صوفیائے کرام اور اُن کی تعلیمات
بیعت و خلافت
عزیزانِ مَن! قبلۂ عالم حضرت سیِّد پیر مہر علی شاہ سیال شریف ضلع سرگودھا میں، شمس العارفین خواجہ شمس الدین سیا لو ی چشتی کے دستِ مبارک پر “سلسلۂ چشتیہ نظا میہ سلیمانیہ” میں بیعت ہو ئے، پیر ومُرشِد کی صحبت میں رہ کر راہِ سُلوک کی مَنازل طے كیں۔ حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی مجلس میں آپ کی موجودگی کو بڑا سراہتے، بڑی محبت وشفقت سے ملتے اور خصوصی توجّہ فرماتے تھے([7])۔
نیز “حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی نے اپنے وصال شریف سے کچھ عرصہ پیشتر، حضرت پیر مہر علی شاہ چشتی گولڑوی کو سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ اور سلسلۂ قادریہ کے تمام اَوراد ووظائف اور اَشغال کی اجازت دی، اور خَرقۂ خلافت اور اجازتِ بیعت سے بھی سرفراز فرمایا۔ آپ خواجہ شمس الدین سیالوی کے آخری خلیفہ ہیں، حضور خواجہ سیالوی نے آپ کی تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی، جس کی بدَولت حضور پیر مہر علی شاہ کی شخصیت اور باطن میں نکھار پیدا ہوا”([8])۔
خلفاء
تاجدارِ ولایت پیر مہر علی شاہ صاحب کی رَہبری ورَہنمائی میں جن بزرگوں نے راہِ سُلوک کی منزلیں طے کیں، اور رُوحانیّت کے بلند مقام پر فائز ہوئے ، حضرت قبلۂ عالَم نے انہیں اپنی خلافت سے سرفراز فرمایا، اور اِصلاحِ مُعاشرہ کا مشن (Mission) سونپا۔ آپ کے چند خلفاء حضرات کے اسمائے گرامی حسبِ ذیل ہیں:
(1) صاحبزادہ پیر سیِّد غلام محی الدین چشتی گیلانی (المعروف بابو جی)، (2) حضرت مولانا فقیر محمد (کوٹ اٹل، ضلع ڈیرہ غازی خان)، (3) حضرت حافظ گل فقیر محمد پشاوری، (4) حضرت غلام محمد گھوٹری(سابق شیخ الجامعہ عبّاسیہ، بہاورپور)([9])۔
رشتہ اِزدِواج اور اولادِ اَمجاد
حضراتِ ذی وقار! حضرت پیر سیِّد مہر علی شاہ چشتی گولڑوی کی شادی اپنی والدہ ماجدہ کے رشتہ داروں میں، حضرت سیّد چراغ علی شاہ کی دختر نیک اختر سے، پاکستان کے شہر حَسن اَبدال (Hasan Abdal) میں انجام پائی، ان کے بطن ِ مبارک سے اللہ ربّ العالمین نے آپ کو ایک صاحبزادہ عطا فرمایا، جن کا نام پیر سیّد غلام محی الدین گیلانی تھا۔ پیر مہر علی شاہ صاحب پیار سے انہیں “بابو” کہہ کر بلایا کرتے تھے۔
رُفقاء ومُعاصرین
پیر مہر علی شاہ کے رُفقاء ومُعاصرین میں بڑے بڑے بزرگوں اور علمائے کرام کے نام ہیں، اُن میں سے چند ایک کے اسمائے گرامی حسبِ ذیل ہیں:
(1) حضرت دیوان غیاث الدین صاحب اجمیری، (2)حضرت دیوان سیِّد محمد صاحب (پاکپتن شریف)، (3) حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکی، (4) حضرت مولانا وصی احمد محدِّث سُورتی، (5) حضرت مولانا عبد الباری فرنگی محلّی، (6) حضرت خواجہ اللہ بخش تَونْسوی، (7) حضرت خواجہ محمد دِین سیالوی، (8) حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی، (9) امیرِ ملّت سیِّد جماعت علی شاہ محدِّث علی پوری، (10) حافظ سیِّد جماعت علی شاہ لاثانی، (11) حضرت میاں شیر محمد صاحب شرقپوری، (12) حضرت خواجہ محمد قاسم موہڑوی نقشبندی، (13) حضرت مخدوم صدر الدین گیلانی، (14) حضرت شاہ سلیمان پھلواروی، (15) استاذ العلماء مولانا محمد غازی ([10])۔
پیر مہر علی شاہ کی سیرت اور دینی خدمات پر لکھی گئی کتب
حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب برّ ِ صغیر کی ایک معروف دینی رُوحانی ہستی ہیں، آپ کی سیرت، تعلیمات اور دینی خدمات پر متعدِد کتابیں تحریر کی گئیں ، جن میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں:
(1) مہر ِ منیر، (2) پیر سیِّد مہر علی شاہ گولڑوی اور تحریکِ خلافت، (3) حضرت پیر مہر علی شاہ اور ردِّ قادیانیّت، (4) سیرت حضرت پیر مہر علی شاہ ، (5) فیضانِ پیر مہر علی شاہ ، (6) تذکرہ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی ، (7) المکتوباتُ الطیّبات، (8) ملفوظاتِ مہریہ ۔
اِیثار وسخاوت
میرے محترم بھائیو! تاجدارِ ولایت پیر مہر علی شاہ نے زمانۂ طالبِ علمی ہی سے رِیاضت ومُجاہدات کو اپنا معمول بنا لیا تھا، گھر سے ماہانہ خرچ کے طور پر جو رقم ملتی اُسے غریب طلبہ میں تقسیم فرما دیتے، اور خود عموماً روزہ رکھتے یا فاقہ کرتے تھے، اور پھر شدید بُھوک کے عالَم میں طلبہ کا بچا ہوا کھانا تناوُل فرما لیتے۔ آپ کے اس اِیثار، جُود وسَخا،اور ریاضت ومُجاہدے کو دیکھ کر وہاں کے تمام طلبہ اور دیگر لوگوں کے دلوں میں، آپ کی عقیدت ومحبت گھر کر گئی”([11])۔
عبادت ورِیاضت
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! حضرت سیّدنا پیر مہر علی شاہ صاحب عبادت، رِیاضت اور مُراقبہ کی بڑی کثرت فرماتے، ساری ساری رات ذکر واَذکار اور یادِ الہی میں گزار دیتے، آپ کے مُقرَّبِ خاص مولانا محبوب عالَم ہزاروی فرماتے ہیں کہ “پیر صاحب یادِ الہی میں رات جس پہلو پر بیٹھ جاتے،صبحِ صادق تک بےخودی کے عالَم میں اُسی پہلو پر بیٹھے رہتے، اور ذرّہ برابر حرکت نہ کرتے، حتی کہ مَوسمِ سرما کی طویل اور برفانی راتیں بھی صرف ایک کمبل میں گزار دیتے، صبح کے وقت کمبل پر برف جمی ہوتی جسے اُٹھ کر جھاڑ دیتے، نیز آپ کے اندر عشقِ الہی کی اس قدر حرارت وحِدّت (گرمی) ہوتی، کہ تالاب کے جمے ہوئے پانی میں غسل فرماتے، اور برف ہٹا ہٹا کر غَوطے لگايا كرتے ، اور عموماً عشاء کے وضو سے نمازِ فجر ادا فرماتے”([12])۔
مالِ دنیا سے بے رغبتی
برادرانِ اسلام! قبلۂ عالَم حضرت پیر مہر علی شاہ دنیاوی مال ودَولت کی حرص ولالچ سے بہت دُور تھے، اور عقیدتمندوں کی طرف سے جو تحائف اور نذرانے وغیرہ آتے، انہیں آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی پسند نہ فرماتے۔ “اسی طرح دَورانِ سفر بعض اسٹیشنوں پر گاڑی رکنے کے دَوران مریدوں کی طرف سے جو تحائف وغیرہ ملتے، انہیں بھی اپنے پاس نہ رکھتے، اور جو کچھ اکٹھا ہوتا لنگر کا انتظام کرنے والا اپنے پاس رکھتا، اور لنگر وغیرہ پر خرچ کرتا رہتا تھا”([13])۔
وادئ حمراء میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کا شرف
عزیزانِ محترم! تاجدارِ گولڑہ حضرت پیر مِہر علی شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ “مدینہ منوّرہ کے سفر میں بمقام وادئ حمراء ڈاکوؤں کے حملے کی پریشانی کے سبب، مجبوراً عشاء کی سنتیں مجھ سے رَہ گئیں، دَورانِ سفر جب میں قافلے کے ایک طرف سوگیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور جانِ عالَمﷺ سیاہ عربی جُبّہ زیبِ تن فرمائے تشریف لائے ہیں، اور اپنے حُسنِ باکمال سے مجھے نئی زندگی بخش رہے ہیں، میرے قریب تشریف لا کر سروَرِ دو جہاں ﷺ نے ارشادفرمایا: “آلِ رسول کو سُنّت ترک نہیں کرنا چاہیے” میں نے اِس حالت میں رسولِ اکرم ﷺ کی ریشم سے بھی زیادہ لطیف دونوں پنڈلیوں کو اپنے ہاتھوں سے مضبوط پکڑ لیا، اور روتے ہوئے الصلاةُ والسّلامُ علیك یا رسولَ الله کہنے لگا”۔ تاجدارِ گولڑہ پیر مہر علی شاہ مزید فرماتے ہیں کہ “اُس حُسن وجمالِ باکمال کے متعلّق میں کیا کہوں؟ میری زبان اس کیفیت کو بیان کرنے سے عاجز ہے، اور (بوقتِ دیدار) اس ذَوق ومستی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں”([14])۔
اَج سک متراں دی وَدھیری اے
جانِ برادر! وادئ حمراء مىں نبئ کرىم ﷺ کے دىدارِ پُر انوار سے مشرّف ہونے والے مذکورہ واقعے، اور وقتِ دیدار طاری ہونے والی کیفیت کو یاد کر کے وادئ حمراء ہی میں، حضرت سیّدُنا پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے جذبات مچل گئے، دل کو بےقراری اور آنکھوں سے اَشکباری ہونے لگی، تب آپ نے اپنے مشہور نعتیہ کلام میں اس کا اظہار ان الفاظ سے کیا: ؏
| اَج سِک متراں دی وَدھیری اے، کیوں دِلْڑی اداس گھنیری اے |
| لُوں لُوں وِچ شَوق چنگیری اے اَج نیناں لائیاں کیوں جھڑیاں! |
“آج دل بڑا اُداس، جسم کے ہرہر لُوں (بال بال ) میں شَوق کی بہار، اور آنکھوں سے آنسو کیوں رَواں ہیں؟ اس لیے کہ محبوب کی یاد نے آستایا ہے”
سُبحانَ الله ما أَجْملَكَ! ما أَحْسَنكَ، ما أَکْملَكَ! |
| کتھے مِہر علی کتھے تیری ثنا! گستاخ اَکھیاں کتھے جا اَڑیاں! |
“حضور آپ ﷺ اس قدر صاحبِ حُسن وجمال اور صاحبِ کمال ہیں، کہ مجھ جیسے حقیر سے آپ ﷺ کی ثناء ممکن ہی نہیں، بلکہ اس سے میری کوئی مناسبت نہیں، کہاں میں اورکہاں آپ ﷺ کی ذاتِ اَقدس؟ زیارت و دیدار کا شرف فقط آپ ﷺ کی کرم نوازی ہے، ورنہ میری آنکھیں اس لائق کہاں! بس ان سے لگنے اور تکنے کی جَسارت ہوگئی ہے”([15])۔
تصنیفات
حضراتِ گرامی قدر! تاجدارِ گولڑہ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب جہاں ایک بہترین مدرِّس، مُناظر اور پیر ومُرشد تھے، وہیں اللہ تعالی نے آپ کے قلم کو بھی سلاست ورَوانی بخشی تھی، اپنی بےپناہ علمی ورُوحانی مصروفیات اور مُراقبہ ومُجاہدات کے باوُجود، فاتحِ قادیانیت حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب نے تصنیف وتالیف کے لیے بھی وقت نکالا۔ آپ کے رشحاتِ قلم کے نتیجہ میں جو کتابیں صفحۂ قرطاس پر اُبھریں، اُن میں سے چند مشہور کتب کے نام حسبِ ذیل ہیں:
(1) تحقيق الحق فی كلمۃ الحق، (2) شمس الہدایہ فی اِثبات حیات المسیح، (3) سيفِ چشتيائى، (4) الفُتوحات الصمدیہ، (5) تصفیہ ما بین سنّی وشیعہ، (6) فتاوی مِہریّہ، (7) مرآۃ العرفان (حضرت پیر مہر علی کے منظوم نعتیہ کلام کا مجموعہ جسے استاذ العلماء مفتی فیض احمد فیض صاحب (مصنِّف “مہرِ منیر” نے مرتَّب فرمایا)، (8) اِعلاء کلمۃ اللہ وما اُھِلّ بہ لِغیر اللہ ([16])۔
ردِّ قادیانیت اور پیر مہر علی شاہ
حضراتِ ذی وقار! مرزا غلام قادیانی لعین نے 1891ء میں نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کیا، تب قطبِ عالم حضرت پیر سیّد مہر علی شاہ نے عقیدہ ختمِ نبوّت کے تحفظ وبقاء میں مجاہدانہ کردار ادا کیا، اور قادیانی دجّال کا بھرپور تعاقُب فرمایا۔ مرزا غلام قادیانی لعین نے جب مسیحِ مَوعود اور مامور مِن اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، تو پیر مہر علی شاہ سمیت تمام بزرگانِ دین اور علمائے کرام نے اس کے دعوے کو تسلیم کرنے سے انکار كیا، جس پر جھنجلاہٹ کا شکار ہو کر اخبار “ایام الصلح” میں مرزا ملعون نے ایک اشتہار دیا، اور اس میں مسلمانوں کو چیلنج کرتے ہوئے لکھا کہ “اِس وقت آسمان کے نیچے کسی کو مجال نہیں کہ میری برابری کا دَم مارے، میں اعلانیہ اور کسی خوف کے بغیر کہتا ہوں کہ جو لوگ چشتی، قادری، نقشبندی اور سہروَردی اور (نہ جانے) کیا کیا کہلاتے ہیں، ذرا انہیں میرے سامنے تو لاؤ !”([17])۔
میرے محترم بھائیو! فاتحِ قادیانیت حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب نے اس چیلنج کو قبول کیا، اور 1899ء میں “شمس الہدایہ” نام سے ایک کتاب تالیف فرمائی، جس میں قرآن وحدیث اور آثارِ صحابہ سے لیے گئے قطعی دلائل کے ساتھ، یہ ثابت کیا کہ “حضرت سیِّدنا عیسیٰ مسیح بن مریم کو اللہ تعالی نے زندہ آسمان پر اُٹھا لیا، اور وہ بذاتِ خود اپنے ہی جسم کے ساتھ آسمانوں پر زندہ ہیں، اور قیامت سے قبل بنفسِ نفیس زمین پر نُزول فرمائیں گے”۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ کتاب چھپ کر پورے ہندوستان میں پھیل گئی، اور اس کی ایک کاپی مرزا قادیانی لعین کو قادیان کے پتے پر بھی بھیج دی گئی۔ اس کتاب کے طرزِ استدلال نے مسلمانانِ ہند میں ایک نئی رُوح پُھونک دی([18])۔
قادیانیوں سے حقیقتِ معجزہ کی تشریح کا مُطالبہ
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! 20 فروری 1900ء کو حکیم نور الدین قادیانی لعین نے حضرت قبلہ پیر مہر علی شاہ صاحب کو ایک خط کے ذریعے بارہ12 سوال لکھ بھیجے، فاتحِ قادیانیت قبلہ پیر مہر علی شاہ صاحب نے اُن سب سوالات کے مدلَّل اور تشفی بخش جوابات تحریر فرمائے، اور بدلے میں حکیم نور الدین قادیانی سے صرف ایک سوال کیا کہ “آپ حقیقتِ معجزہ کی تشریح کریں”، مگر قادیانی حلقے آج تک اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں([19])۔
مُناظرے کا چیلنج
جانِ برادر! 20 جولائی 1900ء کو مرزا غلام قادیانی نے ایک اشتہارِ عام کے ذریعے حضرت سیّدنا پیر مہر علی شاہ کو عربی میں تفسیرِ قرآن لکھنے کا چیلنج دیا، جسے حضرت سیّدنا پیر مہر علی شاہ نےقبول کرتے ہوئے، لاہور میں مُناظرے کے لیے 25 اگست 1900ء کی تاریخ مقرّر فرمائی۔ حضرت قبلۂ عالَم پیر مہر علی شاہ صاحب بذریعہ ٹرین مُناظرے سے ایک دن پہلے ہی لاہور پہنچ گئے، جبکہ قادیانی جماعت تمام تر کوششوں کے باوُجود مرزا قادیانی کو لاہور لانے میں ناکام ہی رہی۔
پیر مہر علی شاہ کی جانب سے بطور مُباہلہ مُردے زندہ کرنے کی پیشکش
پھر قادیانیوں کے ایک وفد نے حضرت قبلہ پیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا، کہ آپ مرزا قادیانی کے ساتھ مُباہلہ کریں، یعنی ایک اندھے اور اَپاہج شخص کے حق میں مرزا قادیانی دعا کرے، اور اسی طرح آپ بھی اندھے اور اَپاہج کے حق میں دعا کریں، جس کی دعا سے اندھا اور اَپاہج شفایاب ہو جائے اسی کو بَرحق مان لیا جائے۔ اس پر حضرت قبلۂ عالم پیر مہر علی شاہ نے فرمایا کہ مرزا صاحب سے کہہ دیں کہ “اگر مُردے بھی زندہ کرنے ہوں تو آ جائیں، میں حاضر ہوں”۔ تفسیر نویسی کے مُعاملے میں بھی حضرت پیر صاحب نے فرمایا کہ “ہاتھ میں قلم پکڑ کر تفسیر لکھنا تو عام سی بات ہے، ہمارے آقا ومولا ﷺ کی اُمّت میں اِس وقت بھی ایسے خادمِ دِین موجود ہیں، کہ اگر قلم پر توجہ ڈالیں تو وہ خود بخود تفسیر ِقرآن لکھنے لگے”۔ لیکن مرزا قادیانی مُباہلہ کے لیے بھی پیش نہ ہوا، اور اُس نے راہِ فرار اختیار کرنے میں ہی عافیت جانی([20])۔
قادیانی حلقوں میں انتشار
حضراتِ گرامی قدر! قادیانی جماعت کا جب آخری وفد مرزا قادیانی کے نہ آنے کی اطلاع لے کر آیا، تو قادیانی حلقوں میں انتشار برپا ہوگیا، کئی قادیانی تائب ہو گئے، اور بعض نے گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ یہ فاتحِ قادیانیت حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کی کرامت اور آپ کی قیادت میں مسلمانوں کی یلغار تھی، کہ جس نے قادیانیت کا منہ پھیر دیا۔ بعد ازاں 27 اگست 1900ء کو “بادشاہی مسجد” (لاہور) میں اہلِ اسلام کا عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا، جس میں متعدِد علمائے کرام نے خطاب کیا، اور عقیدہ ختم ِ نبوّت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا، کہ جو شخص اس عقیدے کا منکِر ہے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے([21])۔
“سیفِ چشتیائی“ کے ذریعے فتنۂ قادیانیت کی بیخ کنی
حضراتِ ذی وقار! اس واقعہ کے تقریباً چار4 ماہ بعد مرزا قادیانی نے “اعجاز المسیح” کے نام سے سورۂ فاتحہ کی تفسیر شائع کی، اور اسے اپنی حقانیت کی آخری دلیل قرار دیا، اور مولوی احسن اَمروہی کو مُعاوضہ دے کر قبلہ پیر صاحب کی کتاب “شمس الہدایہ” کا جواب لکھوایا، اور اس کا نام “شمس البازعہ” رکھا۔فاتحِ قادیانیت حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب نے ان دونوں کتابوں کے جواب میں “سیفِ چشتیائی” کے نام سے ایک کتاب تحریر فرما کر، فتنۂ قادیانیت کی بیخ کنی فرمائی([22])۔
ارشادات وفرامین
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! بزرگانِ دین کے ارشادات وفرمودات آبِ زَر سےلکھے جانے کے قابل ہوتے ہیں، پیر مہر علی شاہ کے چند ایسے ہی اَقوالِ زَریں حسبِ ذیل ہیں:
(1) دنیا اور حکمرانوں سے بے رغبتی اللہ والوں کا خاص وطیرہ ہے۔
(2) درویشی مُجاہدہ کا نام ہے۔
(3) درویشوں کو شاہی دربار کی حاضری مناسب نہیں۔
(4) مرید کہلانے کا مستحق وہی شخص ہے جو پیر کی ہدایت پر عمل پَیرا ہو۔
(5) پیر کے معنی یہ ہیں کہ ہر ایک کو آسمانی کتاب (قرآنِ کریم) کے مُطابق ہدایت دے۔
(6) جو شخص علم پڑھ کر تعلیم نہیں دیتا، اس کی مثال درخت بےثمر کی سی ہے۔
(7) انسان کو ہمیشہ خود کو باجمال رکھنا چاہیے؛ کیونکہ اللہ تعالی خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔
(8) دشمنوں کی اِیذا رَسانی پر صبر کرو، اللہ تعالی تمہیں اس پر بےحساب اجر دے گا۔
(9) سیادت اعلیٰ شرف ہے، اسے حقیر دنیا کے (حُصول) لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے([23])۔
(10) بغیر علمِ دین اور تعلیمِ شارع (تعلیماتِ نبوی کے) ایسے راستے کا معلوم کر لینا، جس سے اپنے خالق A کی رضا حاصل کی جائے، نا ممکن ہے([24])۔
(11) بغیر علم کے انسان گویا مُردہ ہوتا ہے([25])۔
(12) باہم اِخلاص اور محبت واُلفت کا ہونا اہلِ اسلام کی اعلیٰ صفات میں سے ہے([26])۔
(13) جب تک اپنے سر سے بزرگی کی بُو نہیں نکالو گے، بارگاہِ بزرگِ حقیقی میں کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکو گے([27])۔
(14) بہت سے لوگ (رُوحانی اعتبار سے) محض اس لیے خالی اور خشک رہ جاتے ہیں، کہ ہر وقت اپنی خودی اور فخر پر نظر رکھتے ہیں([28])۔
وِصال شریف
میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! تاجدارِ گولڑہ پیر سیّد مہر علی شاہ “سلسلہ عالیہ چشتیہ” اور خطہ پوٹھوہار کے ایک عظیم رُوحانی بزرگ ہیں۔ آپ نے اسلام کی شمع فروزاں رکھنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا، آپ نے اپنی ساری زندگی اِشاعتِ اسلام اور دفاعِ اسلام میں گزاری۔ ماہِ صفر المظفّر میں پیر مہر علی شاہ کو زُکام اور میعادی بخار (Typhoid Fever) کا عارضہ ہوا، بیماری کی حالت میں آخری تین3 روز یہ کیفیت رہی کہ بار بار دعا کے لیے ہاتھ بلند فرماتے، اور بارگاہِ الٰہی میں اپنی معروضات پیش کرتے، زبانِ مبارک سے آخری لفظ “اللہ” ادا فرمایا، اور بروز منگل 29 صفر المظفر 1356ھ / 11 مئی 1937ء کو اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے۔
آپ کا مزارِ پُر انوار گولڑہ شریف اسلام آباد میں مرکزِ انوار وتجلیات، مَرجع خلائق اور تشنگانِ فیض کی علمی وروحانی سیرابی کا باعث ہے۔
دعا
اےاللہ! ہمارے دِلوں میں اپنے اولیاء کی محبت میں اِضافہ فرما، بزرگانِ دین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما، قبلہ پیر مہر علی شاہ چشتی گولڑوی کے مشن کو آگے بڑھانے کا جذبہ اور توفیق دے، اور ان کے مزارِ پُر انوار پر اپنی کروڑہا رحمتوں اور برکتوں کا نُزول فرما۔
اےاللہ! اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے وسیلۂ جلیلہ سے ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام کی سچی محبت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سُستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی اور چھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!۔
اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی اور کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان، مال، عزّت، آبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “سیرت حضرت پیر مہر علی شاہ ” 7، 9، 11، 15۔
([2]) دیکھیے: “سیرت حضرت پیر مہر علی شاہ ” 21، 23، 25، 29، 30، ملخصاً۔
([3]) “مہرِ منیر” باب 2 زمانۂ طُفولیت وکسبِ علم، قرآن ناظرہ پڑھ کر حفظ ہوگیا، 65۔
([4]) دیکھیے: “فیضانِ پیر مہر علی شاہ ” آپ کے اساتذہ، 9۔
([5]) “سیرت حضرت پیر مہر علی شاہ ” درس وتدریس، 31، 32۔
([6]) “مہر ِمنیر”باب 3، زمانۂ درس وتدریس ، 87، 88۔ باب 4، شاہی مسجد لاہور کے حجروں میں قیام، 106، 107، 114۔
([7]) “مہر ِمنیر”باب 3، اعلیٰ حضرت سیالوی سے بیعت، 93، ملخصاً۔ و”سیرت حضرت پیر مہر علی شاہ ” بیعت وخلافت، 33۔
([8]) “سیرت حضرت پیر مہر علی شاہ ” خَرقۂ خلافت کا ملنا، 34۔
([9]) “سیرت حضرت پیر مہر علی شاہ ” خلفائے عِظام، 79، ملخصاً۔
([10]) “مہر ِمنیر”باب 7، معاصرینِ کرام، 391- 415، ملتقطاً۔
([11]) “مہرِ منیر” باب 2 زمانۂ طُفولیت وکسبِ علم، مَوروثی جود واِیثار کا مظاہرہ، 68۔
([12]) ایضاً، باب 5، دوسری فصل، مُراقبہ ذکر وفکر کی کیفیت، 148۔
([13]) ایضاً،تیرہویں فصل، دنیا سے بے توجہی، 314، ملخصاً۔
([14]) دیکھیے: “مہر ِمنیر”باب چہارم 4، وادئ حمرا کے واقعہ کے متعلق حضرت قبلۂ عالم کی قلمی تحریر، 131، ملخصاً۔
([15]) “فیضانِ پیر مہر علی شاہ ” زیارتِ مکینِ گنبدِ خضرا بمقام وادیِ حمراء، 3، 4۔
([16]) دیکھیے: “مہر ِمنیر”باب 10، تصانیف، 513، 522، 529، 549، 554، 566، ملتقطاً۔ و” اِعلاءُ کلمۃ اللہ وما اُھِلّ بہ لِغیر اللہ “ 1۔
([17]) “حضرت پیر مہر علی شاہ اور ردّ قادیانیت” 9، 10۔
([18]) دیکھیے: “تحریکِ ختم ِ نبوّت میں حضرت پیر مہر علی شاہ کا مجدِّدانہ کردار” نوائے وقت ڈیجیٹل ایڈیشن 23 اگست 2013ء۔
([19]) دیکھیے: “مہر ِمنیر”باب 5، 208-210، ملخصاً۔
([20]) دیکھیے: “تحریکِ ختم ِ نبوّت میں حضرت پیر مہر علی شاہ کا مجدّدانہ کردار” نوائے وقت ڈیجیٹل ایڈیشن 23 اگست 2013ء، ملخصاً۔
([21]) “حضرت پیر مہر علی شاہ اور ردّ قادیانیت” 14، ملخصاً۔
([22]) دیکھیے: “تحریکِ ختم ِ نبوّت میں حضرت پیر مہر علی شاہ کا مجدّدانہ کردار” نوائے وقت ڈیجیٹل ایڈیشن 23 اگست 2013ء۔
([23]) دیکھیے: “سیرت حضرت پیر مہر علی شاہ ”فرمودات، 114۔
([24]) دیکھیے: “مہرِ منیر” باب 9، فصل 2، ملفوظاتِ طیّبات، 466۔