مزاراتِ اولیاء پر ہونے والی خُرافات کی روک تھام

Home – Single Post

Prevention of Superstitions at the Shrines of Saints

برادرانِ اسلام! بزرگانِ دین کے مزارات، خانقاہیں اور آستانے رُشد وہدایت کے مراکز، روحانی فُیوض وبركات کے سرچشمے اور شَعائر اللہ  ہیں، ان کا ادب واحترام ہر مسلمان پر لازم ہے۔ قُرونِ ثلاثہ سے لے کر آج تک مسلمان، مزاراتِ اولیاء پر حاضر ہو کر فیض پاتے، اور روحانی تسکین حاصل کرتے چلے آ رہے ہیں۔ مزارات پر حاضری  زیارتِ قُبور میں داخل ہے، جو فی نفسہ ممنوع نہیں، بلکہ حدیثِ پاک سے ثابت ہے۔ حضرت عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، کہ مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «كُنتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا!»([1]) “میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب (كہتا ہوں کہ) ان کی زیارت کیا کرو!”۔

ان مزارات میں آرام فرمانے والے اولیائے  کرام،  اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اور مقبولانِ بارگاہ ہیں، مسلمان اپنی حاجت برآری  کے لیے ان کے وسیلے سے، اللہ A کے حضور  دعائیں کرتےہیں، عطائے الٰہی سے انہیں کائنات  میں متصرِّفْ مانتے ہیں، اور اپنے مَن کی مُرادیں پاتے ہیں۔ اولیائے کرام کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھنا شریعت کے عین مُطابق ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ البتہ یہ عقیدہ کہ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام یا اولیائے کرام،   ذاتی یا مستقل طور پر نظامِ عالَم میں متصرِّفْ یا شریک  ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی شرکت یا مدد کے بغیر یہ نظام نہیں چلا سکتا، یہ خالصۃً کفر وشرک ہے، ایسا عقیدہ رکھنے والا مشرک، مرتَد  اور جہنم کا حقدار ہے!!۔

یہ بھی ضرور پڑھی: جعلی پیروں کا شر وفساد

عزیزانِ محترم! بدمذہبوں اور اسلام مخالف قوتوں کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے، کہ مسلمانوں کے مقاماتِ مقدّسہ اور شعائر اللہ کو بدنام کرنے کے لیے، وہاں خُرافات ومنکَراتِ شرعیہ کا بازار گرم کرواتے ہیں؛ تاکہ مسلمانوں کی نسلِ نو کے دلوں سے ان مقامات کی شان وعظمت اور تعظیم وادب کو ختم  کیا جا سکے، یہی وجہ ہے کہ آج  ہمارے  جلیل القدر اولیائے کرام اور بزرگانِ دین کے مزارات پر، خُرافات اور غیرشرعی اُمور کا سرِعام ارتکاب کیا جا رہا ہے، ان مزارات کے قُرب وجَوار میں فحاشی، عُریانیت اور جُوئے  کے اڈے قائم کیے جا رہے ہیں، شراب نوشی، رقص وسرود، بھنگ، چرس اور ڈھول تاشے کی محفلیں سجائی جا رہی ہیں، لیکن کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں! حکومتی اہلکار بھی ہزار پانچ سو روپے رشوت کی خاطر، اپنی ذمہ داری سے غفلت برت کر، اس جرم میں برابر کے شریک ہیں، جس کے باعث رُشد وہدایت اور روحانی فیض کے یہ سر چشمے، اپنی اہمیت واِفادیت کھو رہے ہیں!!۔

اسی طرح بعض فاسق وفاجر پیر، اور اُن کے جاہل مریدین بھی، علمِ دین سے دُوری کے باعث مزاراتِ اولیاء کے طواف، سجدۂ تعظیمی، مرد وزَن کے اختلاط، ڈھول تاشوں کے ساتھ مزارات پر بلاضرورت چادریں چڑھانے، ناچ بھنگڑا کرنے، منّتیں مانگ کر قبروں پر چراغ جلانے، فرضی مزارات بنا کر ان کی تعظیم کرنے، اور بھنگ وچرس کی محفلیں سجانے جیسی بےہودہ خُرافات ومنکَرات کے مرتکِب ہوتے ہیں۔

لہٰذا ہر اپنے اور غیر پر  واضح رہے، کہ یہ اُمور خالصۃً ان لوگوں کے ذاتی افعال اور بےعملیاں ہیں، جو جہنم میں لے جانے کا باعث ہیں۔ مسلکِ حق اہلِ سنّت وجماعت کا، ایسے فُسّاق وجُہّال اور ان کی حرکتوں سے کوئی تعلق نہیں، قرآن وحدیث اور ہمارے بزرگوں کی ہزاروں کتب، اِن اُمور کی حُرمت وبُرائی پر شاہدِ عدل ہونے کے باوُجود، بعض لوگ ان خُرافات کو مسلکِ اہل سنّت وجماعت کے کھاتے میں ڈال کر تنقید کے نشتر چلاتے، اور سادہ لَوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے ہیں، یہ  سراسر  زیادتی اور  علمی خِیانت ہے، جو کسی بھی صاحبِ علم کو زَیب نہیں دیتی!

حضراتِ گرامى قدر! مزاراتِ اولیاء پر جو خُرافات بہت عام ہو چکی ہیں، اُن میں سے ایک بزرگانِ دین کے مزارات کا طواف کرنا اور انہیں بوسہ دینا ہے، مسلکِ حق اہلِ سنّت وجماعت کے نزدیک تعظیم کی نیّت سے مزاراتِ اولیاء کا طواف کرنا، یا انہیں بوسہ دینا  ممنوع ہے، امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا  رحمۃُ اللہِ علیہ اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “مزار کا طواف جو محض بہ نیّتِ تعظیم کیا جائے ناجائز ہے؛ کہ تعظیم بالطواف مخصوص بخانۂ کعبہ ہے۔ مزار کوبوسہ دینا نہ چاہیے، علماء اس میں مختلف ہیں، اور بہتر بچنا ہے، اور اسی میں ادب زیادہ ہے!”([2])۔

عزیزانِ مَن! بوسۂ قبور اور طواف کی ممانعت کاحکم صرف مزاراتِ اولیاء تک محدود نہیں، بلکہ اس حکم میں مزاراتِ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام بھی داخل ہیں، ہمارے جو بھائی حجِ بیت اللہ یا عمرہ کے بعد بارگاہِ رسالت میں حاضری کے لیے مدینہ منوّرہ حاضر ہوتے ہیں، اور مُواجہہ شریف کے سامنے حاضر ہو کر روضۂ انور کی سنہریوں جالیوں کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے کے لیے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں، انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ایسا کرنا خلافِ ادب اور ممنوع ہے، بارگاہِ رسالت میں حاضری کے آداب بیان کرتے ہوئے، امامِ اہلِ سنّت نے ارشاد فرمایا کہ “خبردار (روضۂ انور کی) جالی شریف کو بوسہ دینے، یا ہاتھ لگانے سے بچو!؛ کہ خلافِ ادب ہے، بلکہ (جالی شریف سے) چار4 ہاتھ فاصلہ سے زیادہ قریب نہ جاؤ، یہ ان کی رحمت کیا کم ہے، کہ تم کو اپنے حضور بلایا! اپنے مُواجہۂ اَقدَس میں جگہ بخشی!”([3])۔

ایک اَور مقام پر مزید اِرشاد فرمایا کہ “روضۂ انور کا طواف نہ کرو، نہ سجدہ، نہ

اتنا جھکنا کہ رُکوع کے برابر ہو! رسول الله ﷺ کی تعظیم (زیادہ جھکنے میں نہیں، بلکہ) اُن کی اِطاعت (یعنی فرمانبرداری اور پَیروی) میں ہے”([4])۔

 حضراتِ محترم! مزاراتِ اولیاء کرام پر بعض جاہل لوگوں کی طرف سے جن خُرافات کا سلسلہ جاری ہے، اُن میں سے ایک “سجدۂ تعظیمی” بھی ہے، اپنے پیر ومرشد یا  کسی بھی ولی کے مزار پر تعظیم کی نیّت سے سجدہ کرنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے، اور عبادت کی غرض سے ہو تو کفر وشرک ہے، اور اگر دونوں میں سے کوئی نیّت نہ ہو تب بھی ممنوع ہے؛ کہ بُت پرستی سے مُشابہ اور صورۃً سجدہ کے قریب ہے۔

پیر ومرشد کے لیے سجدۂ تعظیمی سے متعلق، ایک سوال کے جواب میں امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خاں رحمۃُ اللہِ علیہ  نے ارشاد فرمایا کہ “مسلمان اے مسلمان! اے شریعتِ مصطفوی کے تابعِ فرمان! جان اور یقین جان! کہ سجدہ حضرت -عزّت جلالُہ- کے سوا کسی کے لیے نہیں، اُس کے غیر کو سجدۂ عبادت تو یقیناً اِجماعاً شرکِ مُہین وکفرِ مُبین ہے، اور  سجدۂ تحیَت (تعظیمی) بھی حرام وگناہِ کبیرہ بالیقین ہے”([5])۔

ایک اَور مقام پر مزید ارشاد فرمایا: “غیرِ خدا کو سجدۂ عبادت شرک ہے، سجدۂ تعظیمی شرک نہیں مگر حرام ہے، گناہِ کبیرہ ہے، متواتر حدیثیں اور متواتر نُصوصِ فقہیّہ سے اس کی حرمت ثابت ہے، ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحریم پر چالیس40 حدیثیں روایت کیں، اور نُصوصِ فقہیّہ کی گنتی نہیں([6])، “فتاوی عزیزیّہ” میں ہے کہ اس کی حُرمت پر اِجماعِ اُمّت ہے”([7])۔

عزیزانِ محترم! بعض مقامات پر مریدوں اور عقیدت مندوں کی جانب سے، کسی بزرگ کے عرس پر ڈھول تاشوں اور بھنگڑوں کے ساتھ مزار کے لیے چادریں لائی جاتی ہیں، یہ چادریں انتہائی بیش قیمت ہوا کرتی ہیں، جسے قافلے کی شکل میں عقیدت مندوں نے چاروں طرف سے تھاما ہوتا ہے، چادر کے آگے ڈھول کی تھاپ پر بعض فاسق نوجوان رَقص کر رہے ہوتے ہیں، یہ عمل انتہائی معیوب، غیرشرعی اور مزارات پر ہونے والی خُرافات میں سے ایک ہے۔

شریعت ِ مُطہَّرہ ڈھول تاشوں کی اجازت ہر گز نہیں دیتی، اور رہی بات تہ در تہ بلاضرورت چڑھائی جانے والی چادروں کی، تو یہ ایک فُضول اَمر کے سوا کچھ نہیں۔ امامِ اہلِ سنّت بلاضرورت چڑھائی جانے والی چادروں کے بارے میں حکمِ شرعی بیان فرماتے ہیں کہ “جب چادر موجود ہو، اور وه ابھی پُرانی یا خراب نہ ہوئی کہ بدلنے کی حاجت ہو، تو بےکار چادر چڑھانا فُضول ہے، بلکہ جو دام (مال) اس میں صرف کریں، ولیُ اﷲ کی روحِ مبارک کو اِیصالِ ثواب کے لیے کسی محتاج کو دے دیں”([8])۔

حضراتِ ذی وقار! مزاراتِ اولیاء کے نام پر ہونے والی خُرافات میں سے ایک، فرضی مزار بنا کر اس کی تعظیم کرنا، اس کی آڑ میں بھنگ اور چرس پینا، اور اس کا کاروبار کرنا ہے،  یہ ایک انتہائی مذموم اَمر ہے، کہ اپنے غیر قانونی وغیر شرعی دھندے کو چلانے کے لیے، مزاراتِ اولیاء کا سہارا لیا جائے!! محکمۂ اوقاف کو چاہیے کہ اس چیز کا فوری نوٹس لے، اور مزاراتِ اولیاء کی آڑ میں ہونے والے ایسے بےہودَہ کاروبار کو بند کروائے، اور اس کے ذمہ داروں کو قرارِ واقعی سزا دے؛ تاکہ آئندہ کسی کو ایسی گری ہوئی حرکت کرنے کی جرأت نہ ہو!۔

فرضی مزارات کے بارے میں حکمِ شرعی بیان کرتے ہوئے، امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا رحمۃُ اللہِ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ “فرضی مزار بنانا، اور اس کے ساتھ اصل جیسا مُعاملہ کرنا (یعنی اس کا ادب واحترام اور تعظیم کرنا) ناجائز وبدعت ہے!”([9])۔

عزیزانِ مَن! اولیائے کرام کے مزارات پر جو خُرافات عام ہیں، اُن میں سے ایک، مَرد وزَن کا اختلاط اور بےپردگی ہے۔ مزارات پر بےپردہ عورتوں کا  بہت اِزدحام ہوتا ہے، اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنی کم عقلی اور ضروری دینی علوم سے واقفیت نہ ہونے کے باعث، مزارات پر غیرشرعی اُمور کا ارتکاب کرنے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔ انہیں چاہیے کہ بلاضرورتِ شرعی اپنے گھر سے، بغیرمحرم کے ہرگز  باہر نہ نکلیں، اور اَحکامِ شریعت کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائیں!۔

مزارات پر عورتوں کی حاضری کے بارے میں، امامِ اہلِ سنّت نے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ “یہ نہ پوچھو کہ عورتوں کا مزارات پر جانا جائز ہے یا نہیں؟ بلکہ یہ پوچھو کہ اس عورت پر کس قدر لعنت ہوتی ہے اللہ کی طرف سے؟ اور کس قدر صاحبِ قبر کی جانب سے؟ جس وقت وہ گھر سے ارادہ کرتی ہے، لعنت شروع ہو جاتی ہے، اور جب تک وہ واپس آتی ہے ملائکہ لعنت کرتے ہیں!”([10])، حدیثِ پاک میں ہے : «لَعَنَ اللهُ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ!»([11]) “قبروں کی زیارت کے لیے جانے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہے”!۔

حضراتِ گرامی قدر! آجکل مزاراتِ اولیاء یا قبرستان میں، اپنے پیاروں کی قُبور پر چراغ، موم بتى یا اگربتی وغیرہ جلانا ایک معمول بن گیا ہے، یہ بھی بزرگانِ دین یا قبورِ مسلمین سے متعلق خُرافات میں سے ایک ہے، بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ مزار پر چراغ جلانے سے ہماری مانگی ہوئی مَنّت پوری ہو جائے گی، اسی طرح بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مُردے کو تسکین ملتی ہے، اور اس کی قبر روشن ہوتی ہے، یہ سراسر جہالت، بدعت اور خُرافات پر مبنی اَمر ہے، امامِ اہلِ سنّت علّامہ عبد الغنی نابلُسی رحمۃُ اللہِ علیہ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ “قبروں کی طرف شمع لے جانا، بدعت اور مال کا ضائع کرنا ہے، یہ سب اس صورت میں ہے کہ (جب چراغ جلانا) بالکل فائدے سے خالی ہو”([12])۔

عزیزانِ محترم! بسا اوقات عوام میں کسی خاص مقام،  مثلاً کسی درخت، دیوار یا تاک وغیرہ کے بارے میں، یہ بات غلط طور پر مشہور ہو جاتی ہے، کہ یہاں فُلاں شہید یا بزرگ رہتے ہیں، اور لوگ بلاسوچے سمجھے ہار پھول ڈالنے، لوبان جلانے، منّتیں مانگنے، فاتحہ دلانے اورنذر ونیاز کرنے کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں، یہ انتہائی غیرذمّہ دارانہ اور جاہلانہ اَمر ہے۔ امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا رحمۃُ اللہِ علیہ  ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ “یہ سب (باتیں) واہیات وخُرافات اور جاہلانہ حماقات وبطالات  ہیں، ان کا اِزالہ لازم ہے”([13])۔

میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! کوئی شخص پیر ہو یا مرید، بظاہر وہ  کتنا ہی صاحبِ کرامت کیوں نہ ہو، اگر وہ مزاراتِ اولیاء کے سلسلہ میں اَحکامِ شرعیہ کی پاسداری نہیں کرتا، اور محبت وعقیدت میں مکروہ وحرام اُمور کے ارتکاب سے نہیں بچتا، تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے، جس کو کسی طور پر درست یا جائز  نہیں کہا جا سکتا، لیکن اس بنیاد پر مزارات پر جانے کو حرام کہنا، اور انہیں کفر وشرک کے اڈّے قرار دینا بھی سراسر ظلم وزیادتی ہے، جس طرح ہر گلی بازار میں غیرشرعی اُمور کی بھرمار ہونے کے باوُجود، ہم وہاں جانا ترک نہیں کرتے، اسی طرح  بعض جُہّال کی وجہ سے رُشد وہدایت اور روحانی فیض کے ان سر چشموں سے کس طرح منہ موڑا جا سکتا ہے؟! البتہ اَربابِ اقتدار اور ان مزارات وخانقاہوں کے گدی نشینوں سے، ہم اتنی درخواست ضرور کر سکتے ہیں، کہ وہ اپنے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے، مزاراتِ اولیاء اور اس کے آس پاس ہونے والے غیرشرعی اُمور اور خُرافات کے خاتمہ کو یقینی بنائیں؛ تاکہ روحانی سکون کے مُتلاشی لوگ، اطمینانِ قلب اور یکسُوئی کے ساتھ عبادت ورِیاضت کر سکیں، اور ان مقدّس ہستیوں کى نگاہِ کرم سے فیضیاب ہو سکیں۔

اے اللہ! ہمیں بزرگانِ دین اور اولیائے کرام  کی محبت عطا فرما، ان کے ادب واحترام کى توفیق مرحمت فرما، ان کے مزارات پر باادب حاضری کی سعادت نصیب فرما، اولیائے کرام کے نام پر غیرشرعی اُمور کا ارتکاب کرنے والوں کو ہدایت دے، ان مزارات کے گدی نشینوں کو اَحکامِ شریعت کا پابند بنا، انہیں اپنے اَسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عنایت فرما!۔

اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہ کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتّحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، اس میں سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اخلاص کی دولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔

ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتّحاد واتّفاق اور محبت والفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!۔

اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کےظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی وکشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما!، آمین یا رب العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) “صحيح مسلم” كتاب الجنائز، ر: 2260، صـ393.

([2]) “فتاوی رضویہ” كتاب الجنائز، باب اَحوال قُربِ موت، 7/331۔

([3]) “فتاوی رضویہ” كتاب الحج، رسالہ “انوَر البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ” 8/602۔

([4])  ایضاً،؃ 604۔

([5]) “فتاوی رضویہ” كتاب الحظر والاِباحۃ، رسالہ “الزبدۃ الزکیۃ لتحریم سجود التحیۃ” 15/498۔

([6]) امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا رحمۃُ اللہِ علیہ  کے زمانے میں بھی، پیروں کی تعظیم میں غُلو كرنے والی جو بدعات وخُرافات عروج پر تھیں، ان میں سے ایک بدعت سجدۂ تعظیمی بھی تھی، آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے اس کے رَد میں “الزُّبدة الزَّکية لتحریم سُجود التحيّة” کے نام سے باقاعدہ ایک مبسوط رسالہ تحریر فرمایا، اور اس میں متعدد آیاتِ قرآنیہ، چالیس40 اَحادیثِ مبارکہ اور تقریباً ڈیڑھ سو150 فقہی نُصوص سے ثابت کیا، کہ عبادت کی نیّت سے غیراللہ کو سجدہ کرنا  کفر وشرک ہے، اور تعظیم کی نیّت سے ہو تو حرام ہے۔

([7]) “فتاوی رضویہ” كتاب الحظر والاِباحۃ، غیرِ خدا کو سجدۂ عبادت شرک …الخ،  15/491۔

([8]) “اَحکامِ شریعت” حصّہ اوّل،مزاراتِ اولياء،؃ 89۔

([9]) “فتاوی رضویہ” كتاب الجنائز، باب اَحوال قُربِ موت، 7/252۔

([10]) “ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت” عورتوں کا مزارات پر جانا،  حصّہ دُوم،؃  107۔

([11]) “صحيح ابن حبان” كتاب الجنائز، ر: 3178، 7/ 452.

([12]) “فتاوی رضویہ” كتاب الجنائز، باب اَحوالِ قُربِ موت، رسالہ “بریق المنار”  7/303۔

([13]) “اَحکامِ شریعت” حصّہ اوّل ،؃  50۔

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *