
Table of contents
حضراتِ ذی وقار! کشمیر کا ڈوگرہ راجہ ہری سنگھ ابتدا میں چاہتا تھا، کہ کشمیر آزاد حیثیت میں رہے، مگر اکتوبر 1947ء میں پاکستان کے قبائلی جنگجوؤں سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنے کے عوض، ڈوگرہ راجہ نے انڈیا سے اِلحاق کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد جنگ شروع ہو گئی، اور انڈیا نے اقوامِ متحدہ سے اس مُعاملے پر مداخلت کرنے کی درخواست کی۔ اقوامِ متحدہ کی ایک قرارداد میں یہ تجویز دی گئی، کہ انڈیا یا پاکستان کے ساتھ اِلحاق کے سوال پر ریفرینڈم کروایا جائے۔
جولائی 1949ء میں انڈیا اور پاکستان نے ایک مُعاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت اقوامِ متحدہ کی جانب سے بنائی گئی جنگ بندی لائن، جسے لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے، اس کا اعلان کیا گیا۔
سن 1956ء میں انڈیا نے آرٹیکل 370 کو آئین کا حصہ بنایا، اس آرٹیکل کے تحت انڈیا کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کو خصوصی حقوق دیے گئے، مگر اب پانچ5 اگست 2019ء سے انڈین حكومت نے اس خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر دیا ہے۔
انڈیا کا مؤقف ہے کہ کشمیر انڈیا کا اٹوٹ انگ (نا قابلِ جدائى حصہ) ہے، اور اس مؤقف پر انڈین حکومت، حزبِ اختلاف اور عوام میں اتفاق ہے۔ انڈیا کشمیر کو اپنا اندرونی مُعاملہ سمجھتا ہے۔ جبکہ پاکستان کا دعویٰ ہے، کہ کشمیر تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈہ ہے، جس کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ نیزکشمیری علیحدگی پسند اپنے حقِ خود اِرادیت کا مُطالبہ کرتے ہیں، نتیجۃً گزشتہ تین3 دہائیوں سے وادی کو مسلح شورش کا سامنا ہے۔
پانچ اگست 2019ء کو کیے گئے، انڈین حکومت کے اس خصوصی حیثیت کے خاتمے کے، بعد کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال، اور وہاں کے لوگوں کے تاثرات اور خیالات کے بارے میں، بی بی سی نیوز بڑے مفصّل انداز میں رپورٹنگ کر رہا ہے۔
عزیزانِ مَن! وہاں کے اکثر لوگوں کا کہنا ہے، کہ جب وادی میں صورتحال نارمل ہو گی، تب ان حضرات کے غم وغصے کا واضح اظہار ہو گا، جسے فی الوقت طاقت کے زور سے خوب دبایا گیا ہے۔
آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ساتھ ہی صدارتی حکم کے تحت، اس میں شامل کیا جانے والا آرٹیکل 35 اے بھی ختم ہو گیا ہے، جس کے تحت ریاست کے باشندوں کی بطورِ مستقل باشندہ پہچان ہوتی تھی، اور انہیں بطور مستقل شہری خصوصی حقوق ملتے تھے۔
اس قانون کی رُو سے جموں کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا تھا، یہاں سرکاری نوکری حاصل نہیں کر سکتا، اور نہ کشمیر میں آزادانہ طور پر سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔ تاہم اب کسی بھی انڈین شہری کو یہ تمام حقوق حاصل ہوں گے۔
یہ قوانین ڈوگرہ راجہ ہری سنگھ نے سن 1927 سے 1932ء کے درمیان مرتب کیے تھے، اور انہی قوانین کو سن 1954ء میں ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئینِ ہند میں شامل کر لیا گیا تھا۔
میرے محترم بھائیو! کشمیریوں کو خدشہ ہے، کہ آئینِ ہند میں موجود یہ حفاظتی دیوار گرنے کے نتیجے میں، ہم لوگ بھی فلسطینیوں کی طرح، خود اپنے ہی وطن میں اجنبی ہو کر رہ جائیں گے؛ کیونکہ غیر مسلم آبادکاروں کی کشمیر آمد کے نتیجے میں، ان کی زمین، وسائل اور روزگار پر، بڑی حد تک غیروں کا قبضہ ہو سکتا ہے!!۔
انڈین حکومت بار بار یہ راگ اَلاپ رہی ہے کہ وہاں سب کچھ نارمل ہے۔ یعنی سڑکوں پر گاڑیاں چلنا، سبزی اور دُودھ کا ملنا، بجلی اور پانی مہیا ہونا، محدود پیمانے پر ہی صحیح، لیکن ایمرجنسی کے وقت آنے جانے کی جزوی آزادی حاصل ہونا کیا سب کچھ نارمل ہونے کی دلیلیں ہیں؟ ہرگز نہیں! بلکہ آپ دلوں کے اندر جھانکنےکا کوئی آلہ ایجاد کیجیے، پھر دیکھیں کہ وہاں کیا کیا نارمل ہے!۔
عزیزانِ محترم! قید میں پڑے یا قبروں میں سوئے بیٹوں کی ماؤں کا درد كون جان سكتا؟ اسے محسوس کرسکتا ہے!۔ ہر کشمیری کا دل زخمی ہے، ہر دل کو مختلف بندشوں نے معذور کر کے رکھ دیا ہے۔
پچھلے 70 سال کی تاریخ گواہ ہے، کہ اقوامِ متحدہ کی قرار دادیں مسئلۂ کشمیر کو حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ہماری بےانتہا کوششوں کے باوجود، اس مسئلے میں بین الاقوامی روَیہ تبدیل نہیں ہو سکا۔ 1989ء تک تو کشمیر میں قدرے خاموشی رہی، جس سے بھارت نے کامیابی کے ساتھ اس علاقے پر اپنا قبضہ مضبوط کر لیا، اور کشمیر کو سیاحت کے مرکز کے طور پر دنیا بھر میں پیش کیا۔ پاکستان کے سیاسی حالات بھی کچھ ایسے نہیں تھے کہ کشمیر کے لوگ پاکستان کی طرف رشک کی نظر سے دیکھتے، جب پاکستانی عوام آمریت جھیل رہے تھی، اس وقت کشمیر میں جُمہوریت کے مزے لیے جارہے تھے۔
ظلم كا انجام
برادرانِ اسلام! دُنیا میں جب بھی ظلم و ستم، ا ور جبر و استبداد کا رویہ اختیار کیا گیا، اور جب بھی طاقت کے نشے میں اس حقیقت کو فراموش کیا گیا، کہ اللہ رب العالمین اس کائنات کا خالق ومالک ہے، جو ظلم وستم اور زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا، اور جب چاہے ظالموں کو آنِ واحد میں اپنے غضب سے نشانۂ عبرت بنا سکتا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ جب جب ایسا ہوا، بڑے دردناک اور بھیانک نتائج دیکھنے کو ملے۔ قومِ نوح، قومِ ابراہیم، اصحابِ مدین اور عاد وثمود کی سرکشی، اور ان کے عبرت ناک انجام کو، خود اللہ رب العالمین نے قرآنِ پاک میں بیان فرمایا: ﴿اَلَمْ يَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ١ۙ۬ وَقَوْمِ اِبْرٰهِيْمَ وَاَصْحٰبِ مَدْيَنَ وَالْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْۤااَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ﴾([1]) “کیا ا نہیں اپنوں سے اگلوں کی خبر نہ آئی؟! نوح کی قوم اور عاد اور ثمود، اور ابراہیم کی قوم، اور مدین والے، اور وہ بستیاں جو الٹ دی گئیں، ان کے رسول روشن دلیلیں ان کے پاس لائے تھے، تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا، بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظالم تھے”۔
حضرت سیِّدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ اللَهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ، حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْه» “اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیے رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ پکڑتا ہے تو بچ کر نکل نہیں پاتا”۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿وَكَذَلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَا اَخَذَ القُرَى وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهُ اَلِيمٌ شَدِيدٌ﴾([2]) “ایسے ہی تیرے پروردگار کی گرفت ہے، جب وہ ظالم بستی والوں کو گرفت میں لیتا ہے، یقیناً اس کی گرفت سخت درد ناک ہے”۔
میرے عزیز بھائیو! اس کے باوجود بھی سرکش انسان اگر اللہ تعالی کے قانون کو نہ سمجھے، اور اپنے سے پہلی قوموں کے بھیانک انجام سے عبرت حاصل نہ کرے، تو بہت جلد خود وہ شخص دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بنا دیاجاتا ہے، اور ظالموں کا بالآخر یہی انجام ہوتا ہے۔
ظلم و زیادتی کرنے والوں کو اُن کے انجام سے باخبر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًا١ؕ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرًا﴾([3]) “جو ظلم وزیادتی سے ایسا کرے گا، تو عنقریب ہم اُسے آگ میں داخل کریں گے، اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے”۔
حدیثِ قدسی میں ہے، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا، کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: «يَا عِبَادِي! إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّماً، فَلَا تَظَالمُوا!»([4]) “اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کیا، اور تم پر بھی حرام کیا، لہٰذا تم آپس میں ایک دوسرے پر بھی ظلم مت کرو!”۔
علّامہ ماذری رحمہُ اللہ فرماتے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ ظلم سے پاک ہے؛ کیونکہ مقرّر حدود سے تجاوز کرنے کو ظلم کہتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے اوپر کوئی نہیں، جو اس کے لیے حدود مقرّر کر سکے”([5])۔
ظلم کا معنی
عزیزانِ محترم! ظلم کے معنی کسی چیز کو اس کی جگہ سے ہٹا کر رکھنا، حد سے تجاوز کرنا، ناحق قتل کرنا، گالی دینا، برا بھلا کہنا، کسی کو تکلیف دینا ، یا کسی کا حق چھیننا۔
حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہُ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ “ظلم کے تین3 معنیٰ ہیں: (۱) کسی کا حق مارنا، (۲) کسی کو غیر محل میں خرچ کرنا، (۳) اور کسی کو بغیر قصور کے سزا دینا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ “ہم کسی پر ذرّہ بھرظلم نہیں کرتے”۔ یہاں ظلم سے مراد بے قصور کو سزا دینا ہے”([6])۔
ظالم یا مظلوم کی مدد
سارے ممکنہ اقدامات کے ساتھ ساتھ مسئلۂ کشمیر کے ايسے ممکنہ حل کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے؛ کہ کشمیریوں پر ظلم و ستم کی یہ برسات ختم ہو، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِماً أَوْ مَظْلُوماً» “اپنے بھائی کی مدد کرو! چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم”، صحابۂ کرام -علیہم الرضوان- نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم مظلوم کی تو مدد کر سکتے ہیں، لیکن ظالم کی مدد کس طرح ہوگی؟ مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «تَأْخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ»([7]) “اس کا ہاتھ پکڑ لو یعنی اسے ظلم کرنے سے روک لو!”۔ کیونکہ ظالموں کی مدد وحمایت کرنے والے بھی اس گناہ میں شریک ہیں، ایسوں کو تنبیہ کرتے ہوئے اللہ رب العزّت نے ارشاد فرمایا: ﴿وَلَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ﴾([8]) “ظالموں کی طرف نہ جھکو؛ ورنہ تمہیں آگ چُھوئے گی، اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حمایتی نہیں، پھر مدد نہ پاؤ گے!”۔
حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہُ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ “ظلم پر مدد (اور حمایت) کرنے کی کئی صورتیں ہیں: (۱) ظالموں کو ظلم کی رغبت دینا، (۲) ان کے ظلم پر مبنی قانون کو رائج کرنا، (۳) ان کے ظلم میں ان کا ہاتھ بٹانا، (۴) ان کے ظلم کی حمایت کرنا، یہ کہنا کہ یہ احکام حق ہیں، غرض کہ اس میں بہت وسعت ہے”([9])۔
ایک مسلمان کے خون میں شریک لوگوں کا انجام
حضرت سيِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اشْتَرَكُوا فِي دَمِ مُؤْمِنٍ، لَأَكَبَّهُمُ اللهُ فِي النَّار»([10]) “اگر تمام آسمان و زمین والے ایک مسلمان کا خون کرنے میں شریک ہو جائیں، تو اللہ تعالی ان سب کو منہ کے بل جہنم میں ڈالے گا”۔
عزیزانِ مَن! قرآنِ پاک میں بہت سے مقامات پر جہاد بمعنی جنگ استعمال ہوا ہے، لیکن اسلام میں لفظ جہاد کا اِطلاق تحفظِ دین کی دیگر مَساعی پر بھی جابجا کیا گیا ہے، جیسا کہ منافقین سے جہاد کی بیشتر صورتیں بنا تلوار کے ہیں۔ اسی طرح ہجرت سے قبل مکّی سورتوں میں بھی جہاد کا ذکر ملتا ہے، جو قطعاً جنگ کے معنی میں نہیں۔ لہذا جہاد کے مقصد کی تعبیر وتشریح، دینِ اسلام میں جہاد کی ضرورت کی حد تک تو درست ہے؛ کہ اسلامی جہاد کا اصل مقصد وہدف، ظالم وجابر کو ظلم وجبر سے روکنا، اور مظلوم کو اُس کا حق دلا کر، مُعاشرے میں امن وامان قائم کرنا ہے!۔
حضراتِ گرامی قدر! کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ امریکہ، یورپ اور اسرائیل بھارت کی پشت پر ہیں، جن کے سبب یورپی میڈیا کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وستم کو دنیا کے سامنے، یا تو پیش ہی نہیں کرتا، اور اگر کرتا ہے تو اس کی شدّت کو کما حقّہ ظاہر نہیں کیا جاتا۔ لیکن ان اَوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کا ایک رکن، اپنے ضمیر کی آواز پر، کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے انسانیت سوز ظلم وستم کو بیان کرنے سے روک نہ سکا، اور بیان کرتے کرتے بالآخر رو پڑا([11])۔
مسلمان آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں
میرے عزیز دوستو! کشمیر میں مسلمانوں کا قتلِ عام، کیا ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی نہیں ہے؟! کیا اب تک ہمیں یہود ونصاری اور ہُنود کے اس گٹھ جوڑ کی سمجھ نہیں آئی؟! کیا اللہ رب العزّت اور رسول اللہ ﷺ نے اس بات پر ہمیں آگاہ نہیں کیا تھا، کہ یہ لوگ تمہارے دوست کبھی نہیں ہو سکتے؟! اس کے باوجود ہم ان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لیے کیوں مرے جارہے ہیں!! دنیا بھر میں مسلمانوں کو شہید کیا جا رہا ہے، ان پرظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، مسلمان عورتوں کی عصمت دری کی جارہی ہے، لیکن اس کے باوجود بظاہر ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا! آخر کیوں؟ کیا ہم اس قدر بےحس ہو چکے ہیں؟ یا پھر ہم صرف برائے نام مسلمان ہیں؟! کیا رسولِ اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہمیں یاد نہیں کہ «مَثَلُ الْمؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ، وَتَرَاحُمِهِمْ، وَتَعَاطُفِهِمْ، مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ، تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى»([12]) “مسلمان آپس میں پیار ومحبت، رحم وشفقت اور مہربانی برتنے میں ایک جسم کی مانند ہیں، کہ جس طرح جسم کا کوئی ایک عضو بیمار پڑ جائے، تو سارا جسم اضطراب اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے”۔
ظلم وبربریت، دہشتگردی اور درندگی کے شکار مظلوم کشمیری مسلمان، اِمداد طلب نظروں سے آج ہمیں دیکھ رہے ہیں۔ لہذا مسلمان حکمرانوں کو مصلحتوں اور ذاتی مفادات کی پالیسی کو ترک کرکے، اپنا کردار ادا کرنا ہوگا! اور اس ظلم وستم کو روکنا ہوگا!! ورنہ ؏
تمہاری داستاں تک نہ رہے گی داستانوں میں!
دعا
اے اللہ! ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، ہمارے گھروں کو محبّت ورَحمت کا گہوارہ بنا، ہمارے ما بین محبّت واُلفت کو راسخ فرما، ہمیں خوشحالی عطا فرما، تنگدستی سے بچا اور نظرِ بد سے محفوظ رکھ، ہمیں اپنی عبادت ونیک اعمال کرنے، اور اپنے اَحکام پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما، ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!
اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا۔
الٰہی! تمام مسلمانوں کی جان، مال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، جن مصائب وآلام کا انہیں سامنا ہے، ان سے نَجات عطا فرما۔ ہمارے وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین ووطنِ عزیز کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، اُن کے درجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے ہمیں وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّةِ أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([2]) “صحیح البخاري” کتاب التفسیر، ر: 4686، صـ807.
([4]) “صحیح مسلم” باب تحریم الظلم، ر: ٦٥٧٢، صـ١١٢٨.
([5]) “المعلم بفوائد مسلم” كتاب البرّ والصلة، تحت ر: 1183، ٣/٢٩٠.
([6]) “مرآۃ المناجیح” کتاب الآداب، ظلم کا بیان، پہلی فصل، 6/521۔
([7]) “صحیح البخاري” کتاب المظالم، ر: ٢٤٤٤، صـ٣٩٤.
([9]) “مرآۃ المناجیح” حاکم اور قاضی بننے کا بیان، دوسری فصل، 5/417، بتصرفٍ۔
([10]) “سنن الترمذي” باب الحکم في الدماء، ر: ١٣٩٨، صـ339.