سیرتِ سیِّدنا امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ

Home – Single Post

سیرتِ سیِّدنا امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ

برادرانِ اسلام! “صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کا وُجودِمسعود ہمارے لیے رحمتوں، برکتوں اور آسانیوں کا سبب ہے، وہ ان چمکتے ستاروں کی مانند ہیں جو کفر وشرک اور اِلحاد کی تاریکیوں میں بھٹکتے مسافروں کو، صراطِ مستقیم پر لانے کا ذریعہ بنتے ہیں، اسلام  کے جس تَن آوَر، مضبوط اور وسیع وعریض درخت کے سائے میں، ہم آج پناہ لیے ہوئے ہیں، ان مقدّس ہستیوں نے اس کی آبیاری اپنے خونِ جگر سے کی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ اس دین متین کو زمانے کی تُند وتیز ہواؤں اور طوفانوں سے بچانے کے لیے، اپنا گھربار، جان ومال، عزّت وآبرُو، دنیاوی مَناصب، حتی کہ عزیز واَقارِب کو بھی راہِ خدا میں قربان کرنے سے گریز نہیں کیا۔

ان حضرات مقدّسہ نے غربت واِفلاس کی زندگی گزاری، کفّار ومشرکین کے

ظلم وستم کا سامنا کیا، تپتی ریت اور دہکتے گرم انگاروں پر انہیں لِٹایا گیا، میدانِ جنگ میں تیروں، تلواروں اور نیزوں کے زخم برداشت کیے، لیکن قربان جائیے کہ ان کے پایۂ استقلال میں رَتی برابر بھی لغزش نہ آ ئی، اور سب کچھ لُٹ جانے کے باوُجودبھی، ان حضرات نے اسلام کا دامنِ کرم ہاتھ سے  نہ جانے دیا، یہی وجہ ہے کہ انہیں دنیا ہی میں ﴿رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ﴾([1]) “اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی” کے فرمان کی سندِ لازوال عطا کر دی گئی، انہیں فلاح وکامرانی کی نوید دے کر، دُخولِ جنّت کا مژدۂ جانفزا سنا دیا گیا!۔

ان حضرات مقدّسہ کی خوش بختی کی معراج یہ کہ وہ شب وروز مصطفی جانِ رحمت ﷺ کے شربتِ دیدار سے فیضیاب ہوتے رہے، ان کی صحبتِ بابرکات میں اٹھتے بیٹھتے رہے، یہ وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں سے قرآن کریم نازل ہوتے دیکھا، رسول اللہ ﷺ کے فرامین کو اپنے کانوں سے براہِ راست سنا، اور سن کر یاد کر لیا؛  تاکہ «بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً»([2]) “پہنچا دو میری طرف سے، اگرچہ ایک ہی آیت ہو” کے مِصداق ٹھہر سکیں۔ دینِ اسلام کی تمام تر تعلیمات واَحکام، جن پر آج ہم عمل کی کوشش کرتے ہیں، انہی حضرات صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہ کے طفیل ہم تک پہنچے ہیں!”([3])۔

انہی حضراتِ مقدّسہ میں ایک ممتاز ہستی سیِّدنا امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کی ذاتِ گرامی بھی ہے، سیِّدنا امیر مُعاویہ بن ابو سفیان اُمَوی قریشی رضی اللہُ عنہ بعثتِ نبوی سے پانچ5 برس پہلے پیدا ہوۓ۔ حضرت امام محمد بن عمر واقدی رحمہُ اللہ لکھتے  ہیں کہ “مُعاویہ صلحِ حدَیبیہ کے بعد ہی مسلمان ہوگئے تھے، لیکن انہوں نے اپنا اسلام لوگوں سے مخفی رکھا، اور فتحِ مکّہ کے موقع پر اپنا مسلمان ہونا ظاہر کر دیا”([4])۔

عزیزانِ محترم! سیِّدنا امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ نہایت شاندار شخصیت کے مالک تھے، سیِّدنا خالد بن مَعدان رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ “حضرت امیر مُعاویہ طویلُ القامَت تھے، اور آپ کا رنگ گورا تھا”([5])۔

حضراتِ گرامی قدر! سیِّدنا امیرمُعاویہ رضی اللہُ عنہ کا شمار بڑے بڑے  جلیل القدر صحابۂ کرام میں ہوتا ہے، احادیثِ مبارکہ میں آپ کے متعدد فضائل وارِد ہیں، جن سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہُ عنہ کے مقام ومرتبہ کا خوب اندازہ لگایا جا سکتا ہے!۔

The Status of Amir al-Mu’minin Hazrat Ali ibn Abi Talib (رضی الله عنه) and the Beliefs of Ahl al-Sunnah

یہ بھی ضرور پڑھیں :شانِ مولائے کائنات رضي الله عنه

عزیزانِ مَن! سیِّدنا امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ وہ خوش بخت صحابئ رسول ہیں، جن کے ہادی ومَہدی (ہدایت یافتہ) ہونے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے بنفسِ نفیس دعا فرمائی، سیِّدنا عبد الرحمن بن ابی عمیرہ رضی اللہُ عنہ سے بسندِ حسن روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے حضرت مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کے لیے اس طرح دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِياً مَهْدِيّاً وَاهْدِ بِه!»([6]) “اے اللہ! مُعاویہ کو ہادی، مَہدی (ہدایت یافتہ) اور دوسروں کے لیے ذریعۂ ہدایت بنا!”۔

اس حدیثِ پاک کی شرح میں ملّا علی قاری رحمہُ اللہ فرماتے ہیں: “تو وہ جس کی ایسی حالت ہے، اُس کے بارے میں کیسے شک کیا جا سکتا ہے”([7]) کہ وہ ہدایت پر نہ ہو؟!

سیِّدنا مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کم وبیش چالیس  برس ملکِ شام کے حاکم رہے، آپ کی یہ وسیع سلطنت اور مختلف شہروں پر مضبوط حکمرانی بھی دعائے رسول کا نتیجہ ہے، سیِّدنا مسلَمہ بن مُخلَّد رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضور نبئ کریم ﷺ نے سیِّدنا مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کے لیے اس طرح دعا کی: «اللَّهُمَّ مَكِّنْ لَهُ فِي الْبِلاَد، وَقِهِ سوءَ العذاب!»([8]) “اے اللہ! مُعاویہ کو شہروں  کی حکومت عطا فرما، اور اسے بُرے عذاب سے بچا!”۔

حضراتِ ذی وقار! مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی دعا کی برکت سے  حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کو علمِ قرآن اور علمِ حساب عطا ہوا،  سیِّدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اقدس ﷺ نے حضرت مُعاویہ کے لیے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ!»([9]) “اے اللہ! مُعاویہ کو  قرآن اور حساب کا علم عطا فرما”۔

ابو نعَیم احمد بن عبد اللہ اصفہانی رحمہُ اللہ فرماتے ہیں کہ “سیِّدنا مُعاویہ حلیمُ الطبع حساب دان تھے”([10])۔

میرے محترم بھائیو! سیِّدنا امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کو یہ شرف بھی حاصل ہے، کہ رحمتِ عالمیان ﷺ نے آپ کو نہ صرف اپنا کاتب بنایا، بلکہ وحی لکھنے کی ذمہ داری بھی عطا فرمائی، “صحیح  مسلم” میں بسندِ صحیح ہے کہ سیِّدنا ابنِ عبّاس رضی اللہُ عنہ نے نبئ اکرم ﷺ سے عرض كی کہ “کیا مُعاویہ کو آپ اپنا کاتِب بنائیں گے؟ نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «نَعَمْ»([11]) “جی ہاں!”۔

حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کے بارے میں سیِّدنا ابن عبّاس رضی اللہُ عنہ ہی سے ایک اَور روایت میں ہے: «وَكَانَ يَكْتُبُ الْوَحْيَ»([12]) “امیر مُعاویہ کاتبِ وحی تھے”۔ سیِّدنا ابن عباس رضی اللہُ عنہ کے اس قول کے بارے میں امام ذَہَبی فرماتے ہیں: “وقد صحّ عن ابن عبّاس k”([13]) “کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے جو یہ

روایت ہے وہ صحیح ہے”۔

سندِ حَسن سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عُمر رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: «أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَانَ يَكْتُبُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ الله g»([14]) “مُعاویہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں بیٹھ کر لکھا کرتے تھے”۔

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! سیِّدنا امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ رحمتِ عالمیان ﷺ کی سنّت سے بڑی محبت کیا کرتے، اور اپنے عمل کو سنّتِ رسول  کے مطابق ڈھالنے کی پوری کوشش فرماتے، یہی وجہ ہے کہ امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کی  نماز کی ادائیگی کا طریقہ حضور سروَرِ کونین ﷺ کی نماز سے بہت مُشابہت رکھتا تھا، سندِ صحیح سے روایت ہے، حضرت ابو الدرداء رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: «مَا رَأَيْتُ أَحَداً بَعْدَ رَسُولِ الله g أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ الله g، مِنْ أَمِيرِكُمْ هَذَا، يَعْنِي مُعَاوِيَةَ»([15]) “میں نے امیر مُعاویہ سے بڑھ کر، کسی کو حضور ﷺ کے مُشابہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا!” اور یہ چیز بغَور مشاہدہ اور حد درَجہ محبتِ رسول کے سبب ہی ممکن ہے!۔

برادرانِ اسلام! سیِّدنا امیر معاویہ رضی اللہُ عنہ صاحبِ علم اور فقیہِ  مجتہد صحابئ رسول ہیں، “صحیح بخاری” میں حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہُ اللہ سے روایت ہے، کہ سیِّدنا ابن عباس رضی اللہُ عنہ سے پوچھا گیا کہ آپ امیر مُعاویہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: «إِنَّهُ فَقِيهٌ!»([16]) “بلاشبہ وہ ایک فقیہ (مجتہد) ہیں!”۔

حضراتِ محترم! قُسطنطینیہ (موجودہ ترکی) پہلے عیسائیوں کے قبضے میں تھا، رسولِ اکرم ﷺ نے وہاں جا کر جہاد کرنے والے پہلے لشکر کے لیے جنّت کی بشارت دی، سیِّدہ اُمِّ حرام رضی اللہُ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: «أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ البَحْرَ، قَدْ أَوْجَبُوا» “میری امّت کا پہلا لشکر جو سمندری جہاد کرے گا، اس پر جنّت واجب ہے”۔ امِّ حرام کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا میں اُس لشکر میں ہوں گی؟  فرمایا: «أَنْتِ فِيهِمْ» “ہاں تم بھی اُن میں ہوگی”۔ پھر نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ، مَغْفُورٌ لَهُم» “میری امّت کا وہ گروہ جو سب سے پہلے شہرِ قیصر جا کر جہاد کرے گا، اس کی بخشش کر دی جائے گی” میں نے پوچھا: کیا میں اُس گروہ میں ہوں گی؟ فرمایا: «لَا» “نہیں”([17])۔

اور “صحیح بخاری” کی روایت ہے: “سیِّدہ امِّ حرام رضی اللہُ عنہا اپنے شَوہر سیِّدنا عُبادہ بن صامت ﷛ کے ساتھ جہاد کے لیے نکلیں، اور یہ وہ پہلا لشکر تھا جو حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کے حکم سے شہر قیصر (قسطنطینیہ، موجودہ تُرکی استنبول) کی طرف جہاد کے لیے نکلا تھا”([18])۔

حضراتِ گرامی قدر! صحابیت ایک ایسا شرف ہے کہ بڑے سے بڑا تابعی بزرگ بھی کسی عام صحابئ رسول کے مقام ومرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا، مشہور محدِّث حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمہُ اللہ سے سوال ہوا، کہ حضرت مُعاویہ اور حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہُ اللہ میں سے افضل کون ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: “الغبارُ الذي دخلَ في أنف فرسِ مُعاويةَ مع النّبي g، خيرٌ مِن مثلِ عُمرَ بن عبد العزيز”([19]) “رسول اللہ ﷺ کی رَفاقت میں حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کے گھوڑے کی ناک میں جو غُبار داخل ہوا، وہ بھی عمر بن عبد العزیز جیسے حضرات گرامی سے افضل ہے”؛ کیونکہ امیر مُعاویہ صحابئ رسول ہیں، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز یں ادا کی ہیں، اس  سے بڑھ کر اَور کیا بزرگی ہو سکتی ہے؟!

عزیزانِ مَن! سیِّدنا امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ اہلِ بیت اَطہار سے انتہائی والہانہ محبت وعقیدت کے جذبات رکھتے تھے، اور ان کی تعظیم وتوقیر میں  کوئی کسر اُٹھا نہ رکھتے! اہل بیت کِرام سے ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ امام ابو بکر محمد بن حسین آجرّی رحمہُ اللہ نے، اپنی کتاب “الشریعۃ” میں اس پر ایک مستقل باب  باندھا، اور اس کا نام رکھا: “باب ذكر تعظيم مُعاوية لأهل بيت رسول الله g، وإكرامه

إيّاهم”([20]) “اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی تعظیم وتکریم میں حضرت معاویہ رضی اللہُ عنہ کے طرزِ عمل کا بیان”۔

صرف یہی نہیں بلکہ حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ صُلح نامہ کی شرائط کی پابندی کرتے ہوئے سیِّدنا امام حسن وحسین رضی اللہُ عنہ کی خدمت میں، پابندی سے مقرّرہ وظیفہ بھی پیش کیا کرتے۔ حضرت جعفر بن محمد رحمہُ اللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں: “إنّ الحسنَ والحسينَ كانَا يَقبلانِ جوائزَ مُعاويةَ”([21]) “سیِّدنا امام حسن وامام حسین رضی اللہُ عنہ حضرت امیر مُعاویہ کی طرف سے ملنے والا وظیفہ قبول فرمایا کرتے تھے”۔

حضرت امام شَعبی رحمہُ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ “سیِّدُنا امام حسین رضی اللہُ عنہ ذَکوان نامی اپنے ایک غلام کے ہمراہ، حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کے پاس تشریف لے گئے، اُس وقت امیر مُعاویہ کے پاس قریش کا ایک وفد موجود تھا، جس میں سیِّدُنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہُ عنہ بھی تھے، حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ نے انتہائی محبّت اور خوش دلی سے سیِّدُنا امام حسین رضی اللہُ عنہ کا استقبال کیا، اور انہیں اپنی نشست پر بٹھایا”([22])۔

امام زُہری رحمہُ اللہ سے روایت ہے کہ سیّدنا  علی رضی اللہُ عنہ جب شہید کر دیے گئے، تو سیِّدنا امام حسن رضی اللہُ عنہ حضرت مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کے پا س آئے، حضرت مُعاویہ نے ان سے کہا: «لَوْلَمْ يَكُنْ لَكَ فَضْلٌ عَلَى يَزِيد، إلَّا أَنَّ أُمَّكَ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ، وَأُمَّهُ امْرَأَةٌ مِنْ كَلْبٍ، لَكَانَ لَكَ عَلَيْهِ فَضْلٌ، فَكَيْفَ وَأُمُّكَ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ g»([23]) “آپ کی والدہ قَرشی ہیں، اور یزید کی ماں بنی کلب سے ہے، یہی بات یزید پر آپ کی فضیلت کے لیے کافی تھی، حالانکہ آپ رضی اللہُ عنہ کی والدہ تو صرف قَرشی ہی نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی شہزادی بھی ہیں (یعنی سیّدہ فاطمہ، پھر آپ کے آگے یزید کی کیا حیثیت؟!)”۔

لہذا امام حسن وحسین اور اہل بیت اَطہار رضی اللہُ عنہ کی ایسی تعظیم وتوقیر اور محبت کے باوُجود، خاندانِ اہلِ بیت کو بنیاد بنا کر حضرت امیر مُعاویہ پر مختلف قسم کی تہمتیں  لگانا، انتہائی نا انصافی ہے!۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدِّث دہلوی رحمہُ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ “جاننا چاہیے کہ حضرت امیر مُعاویہ بن ابو سفیان رضی اللہُ عنہ ایک ایسے شخص تھے جو اصحابِ رسول میں سے تھے، اور زُمرۂ صحابہ میں بڑے صاحبِ فضیلت تھے، تم کبھی ان کے حق میں بدگمانی نہ کرنا، اور ان کی بدگوئی میں مبتلا نہ ہونا، ورنہ تم حرام کے مرتکِب ہوگے!”([24])۔

جانِ برادر! سیِّدنا امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ حضور نبئ کریم ﷺ کے سُسرالی رشتہ دار ہیں، اور رسولِ اکرم ﷺ کے سُسرالی رشتہ داروں کے خلاف طعن وتشنیع، رحمتِ الہی سے دُوری کا باعث ہے، اُم المؤمنین سیِّدہ اُمِ حبیبہ رضی اللہُ عنہا رشتے میں سیِّدنا امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کی بہن، اور حضرت ابوسفیان ﷛ کی بیٹی ہیں،  لہذا اپنے  دل میں حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ سے بُغض رکھنا، رحمتِ الہی سے دُوری اور فرائض وواجبات کی قبولیت میں رکاوَٹ کا باعث ہے، سیِّدنا عُوَیم بن ساعدہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «إنّ اللهَ f اختارَنِي واختارَ بي أصْحاباً، فَجَعَلَ لي منهمْ وُزَراءَ وأنصاراً وأصهاراً، فَمَن سَبَّهُمْ فَعَلَيه لَعْنَةُ اللهِ والمَلائِكَةِ والنّاسِ أجْمَعِينَ! لَا يَقْبَلُ اللهُ منهُ صَرفاً وَلَا عَدلاً!»([25]) “اﷲ f نے مجھے منتخب فرمایا، اور میرے لیے میرے اصحاب کا انتخاب فرمایا، اور ان میں میرے لیے وزراء، سُسرالی رشتہ دار اور مددگار بنائے، تو جو انہیں گالی دے (بُرا کہے) اُس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے! اللہ تعالی اس سے نہ کوئی فرض قبول فرمائے گا نہ کوئی نفل!” ؏

جن کے دشمن پہ لعنت ہے اللہ کی

اُن سب اہلِ محبت پہ لاکھوں سلام([26])

حضراتِ ذی وقار! سیِّدُنا علی المرتضیٰ اور حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کے مابین اختلاف، علمی اور اجتہادی نَوعیت کا تھا، یہی وجہ ہے کہ “جب قیصرِ رُوم نے امیر المؤمنین سیِّدُنا علی رضی اللہُ عنہ کے بعض مفتوحہ علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے اُن سے جنگ کا ارادہ کیا، تو اس پر حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ نے رُوم کے بادشاہ کو ایک دھمکی آمیز خط میں فرمایا: “واللهِ لَئِن لم تنتهِ وتَرجع إلى بلادِك يا لعين! لأصطلحنَّ أنا وابنُ عمّي عليك! ولأخرجنّك من جميع بلادِك! ولأضيقنّ عليك الأرضَ بما رحُبتْ”. “اے لعین! مجھے اپنے رب تعالی کی قسم! اگر تو اپنے ارادے سے باز نہ آیا، اور اپنے مُلک کی طرف واپس نہ لَوٹا، تو میں اور میرے چچا زاد بھائی (حضرت علی) تیرے خلاف صُلح کر لیں گے! پھر تجھے تیرے ہی ملک سے نکال بھگائیں گے! اور اس زمین کو اس کی وُسعتوں کے باوُجود تجھ پر تنگ کر کے رکھ دیں گے!”۔ (حضرت امیر مُعاویہ کے اس حکمت آمیز خط کا خاطر خواہ اثر ہوا) اور رُومیوں کے بادشاہ کو حملہ کرنے کی ہمت نہ ہو سکی([27])۔

غور وفکر کا مقام ہے کہ سیِّدُنا علی المرتضیٰ اور حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کے مابین، اگر ذاتی نَوعیت کی رنجش ہوتی، یا اقتدار کا جھگڑا ہوتا، تو حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ رُومی بادشاہ کو جنگ سے باز رہنے کے لیے ہرگز خبردار نہ کرتے! حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کا باہمی تعاوُن پر مبنی یہ طرزِ عمل، اُن کے  محبت بھرے برادرانہ تعلق پر واضح دلیل ہے!!”([28])۔

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! “حضرات صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہ ایک ایسی مقدّس اور محترم جماعت کا نام ہے، جو مصطفی جانِ رحمت ﷺ اور آپ کی پوری امّت کے درمیان، اللہ رب العالمین کا مقرّر کردہ واسطہ (Source) ہیں، ان کی طرف غیر اجتہادی خطا کی نسبت کرنا قطعاً جائز نہیں؛ کیونکہ انہوں نے جو کیا وہ ایک اجتہاد تھا، اور ان کا مطلوب ومقصود صرف اللہ کی رضا تھی، وہ سب ہمارے امام ومقتدا ہیں، اور ہمیں یہ حکم ہے کہ ان کے مابین جو بھی اختلافات رُونما ہوئے، صحبت نبوی کے احترام میں ہم ان پر مکمل سُکوت اختیار کریں!۔

جہاں تک جنگِ جمل کا مُعاملہ ہے، تو درحقیقت سیّدنا علی المرتضی رضی اللہُ عنہ سمیت دیگر صحابۂ کرام، جن میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ، حضرت زبیر بن عوام اور ام المؤمنین سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ وغیرہم رضی اللہ عنہا میں سے، کسی کے بھی اختیار میں نہیں تھا کہ وہ اس جنگ کو روک سکے، جبکہ یہ سب  جلیل القدر صحابۂ کرام مسلمانوں کی خیر وبھلائی کے سوا کسی اَور چیز کے خواہاں ہرگز نہیں تھے!۔

اسی طرح جنگ ِصفین میں امیر المؤمنین سیِّدنا مولا علی رضی اللہُ عنہ حق پر تھے، اور خال المؤمنین مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کا اجتہاد اگرچہ درست نہیں تھا، مگر اس اجتہادی لغزش کو بنیاد بنا کر، کسی بھی شخص کو اس بات کی شرعاً ہرگز اجازت نہیں  کہ وہ ان کی شان میں نازیبا کلمات کہے، یا  کسی قسم کی گستاخی کا مرتکِب ہو!”۔

سراج الاُمّہ، کاشف الغُمّہ، سیّدنا امام  اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت  رحمہُ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ “ہم سارے صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہ سے محبت کرتے ہیں، اور کسی بھی صحابی کا ذکر بھلائی کے سِوا نہیں کرتے!([29])([30])۔

امام نوَوی رحمہُ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ “اہلِ سنّت اہلِ حق کا مذہب یہ ہے کہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہ کے ساتھ حُسن ظن رکھا جائے، اور ان کے باہمی اختلافات پر خاموشی اختیار کی جائے، ان کے باہمی قِتال وجِدال کی تاویل یوں کی جائے، کہ وہ اہل اجتہاد واہل تاویل تھے، انہوں نے یہ اختلاف معصیت اور محض دنیاوی غرض وحرص کی خاطر نہیں کیا، بلکہ ان دونوں گروہوں میں سے ہر ایک یہ اعتقاد رکھتا تھا کہ وہ شرعاً حق پر ہے، اور اس کا مخالف خطا پر ہے، اس صورت میں قِتال واجب تھا؛ تاکہ اللہ تعالی دونوں گروہوں میں فیصلہ فرما دے! ان میں سے بعض اپنے اجتہاد میں حق پر تھے اور بعض خطا پر، لیکن جو خطا پر تھے وہ بھی معذورِ شرعی تھے؛ کیونکہ مجتہد سے جب بھول چُوک سرزد ہو، تب بھی اُسے مجرِم نہیں ٹھہرایا جا تا، ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ ان جنگوں اور لڑائیوں میں سیّدنا  علی رضی اللہُ عنہ کا اجہتاد مُصیب، درست اورحق پر مبنی تھا، اور یہی اہلِ سنّت کا مذہب ہے”([31])۔

میرے محترم بھائیو! سیِّدنا امیر المؤمنین فاروقِ اعظم رضی اللہُ عنہ نے حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کو ملکِ شام کا حاکم بنایا، آپ چالیس  برس وہاں حاکم رہے، سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہُ عنہ کے قِصاص کے مُعاملے میں اجتہادی اختلاف کی بناء پر، حضرت مُعاویہ کا امیر المؤمنین سیِّدُنا علی رضی اللہُ عنہ سے اختلاف ہوا، باہم جنگیں بھی ہوئیں([32])، لیکن سیّدنا امام حسن بن علی رضی اللہُ عنہ نے آپ  کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو کر، آپ  رضی اللہُ عنہ سے صلح  کی اور اُمّت کو مزید تقسیم ہونے سے بچا لیا۔ نبئ غیب داں ﷺ نے سیِّدنا امام حسن رضی اللہُ عنہ کے اسی فیصلے کی پیشگی خبر دیتے ہوئے فرمایا: «إنّ ابنِي هذا سیِّدٌ، لعلّ اﷲَ أنْ یُصلِحَ به بین فئتَین عظيمتَین من المسلمین!»([33]) “میرا یہ بیٹا سیِّد ہے (سیادت کا علمبردار ہے) میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالی اس کے باعث، دو بڑے گروہِ اسلام میں صلح  کرا دے گا!”([34])۔

علاوہ ازیں “اگر ان اختلافات سے قطع نظر کرکے دیکھا جائے، تو سيِّدُنا امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کی اسلام کے لیے بڑی خدمات ہیں، جن میں سے چند حسبِ ذیل ہیں:

(1) سرکاری دستاویزات کو مُہر  بند کرنے کا سلسلہ سيِّدُنا امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ نے شروع کیا([35])۔

(2) غلافِ کعبہ کی تبدیلی کا حکم سب سے پہلے آپ نے دیا، آپ رضی اللہُ عنہ کے دَورسے قبل کعبۃ اللہ شریف پر غلاف پر غلاف چڑھائے جاتے تھے، لیکن انہیں اُتارا نہیں جاتا تھا([36])۔

(3) بیعت لیتے وقت قسم لینے کا طریقہ سب سے پہلے سیِّدُنا امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ نے شروع کیا([37])۔

(4) امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کے دَور میں متعدِد فُتوحات ہوئیں جن میں ودّان، سوڈان، قیقان، غذامس، افریقہ، قوہستان، بلادِ رُوم اور  بلادِ سجستان وغیرہ کے مزید علاقوں کی فُتوحات([38]) خاص طَور پر قابلِ ذکر ہیں”([39])۔

میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! سیِّدنا امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کی وفات 22([40]) رجب المرجّب 60 ہجری میں ہوئی([41])، آپ نے 78 سال کی عمر پائی، اور وقتِ وفات یہ وصیت فرمائی کہ “میرے پاس نبئ کریم ﷺ کے کچھ ناخن مبارک ہیں، وہ بعدِ غسل میری آنکھوں پر رکھ دیے جائیں، اور حضورِ اکرم ﷺ کی چادر مبارک اور قمیص شریف ہے، مجھے حضور سیِّدِ عالم ﷺ کی قمیص میں  کفن دینا، پھر مجھے ارحم الراحمین کے  سپرد کر دینا”([42])۔

اے اللہ! سیِّدنا امیر معاویہ رضی اللہُ عنہ کے درجات بلند فرما،  رسول اللہ ﷺ کے ہر صحابی اور تمام اہلِ بیت کرام کا ادب، احترام اور تعظیم کرنے کی توفیق  عطا فرما، ان حضراتِ مقدّسہ کے نقشِ قدم  کی پَیروی کی سعادت عطا فرما، ان کے صدقے ہماری بھی بخشش ومغفرت فرما، صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہ سے بُغض وعناد رکھنے والوں، اور انہیں سبّ وشتم  کرنے (بُرا بھلا کہنے) والوں کی صحبت وشُرور سے بچا، اور تمام مسلمانوں کو رافضیت، تفضیلیت، ناصبیت، خارجیت سمیت ہر طرح کی بدمذہبی اور بدعقیدگی سے محفوظ ومامون فرما، آمین یا ربّ العالمین!

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) پ 11، التوبة: 100.

([2]) “صحيح البخاري” كتاب أحاديث الأنبياء، باب ما ذكر عن بني إسرائيل، ر: 3461، صـ582. و”سنن الترمذي” أبواب العلم، باب ما جاء في الحديث عن بني إسرائيل، ر: 2669، صـ605، 606. ]قال أبو عيسى:[ “وهذا حديثٌ حسنٌ صحيح”.

([3]) “عظمتِ صحابہ واہلِ بیتِ کرام” خاتمۃ الکتاب،؃ 339، 340۔

([4]) “الإصابة في تمييز الصحابة” معاوية بن أبي سفيان h، تحت ر: 8087، 6/120.

([5]) المرجع نفسه.

([6]) “مُسند الإمام أحمد” مسند الشامين، حديث عبد الرحمن بن أبي عميرة، ر: 17915، 6/266. و”سنن الترمذي” أبواب المناقب، ر: 3842، صـ869. ]قال أبو عيسى:[ “هذا حديثٌ حسنٌ غريب”. و”مُسند الشّاميين” للطَبَراني، سعيد عن يونس بن ميسرة، ر: 311، 1/181.

([7]) “مرقاة المفاتيح” كتاب المناقب والفضائل، تحت ر: 6244، 10/613.

([8]) “المعجم الكبير” باب، ما أسند مَسلمة بن مخلّد، ر: 1065، 19/439.

([9]) المرجع نفسه، ر: 1066.

([10]) انظر: “الإصابة في تمييز الصحابة” معاوية بن أبي سفيان h، تحت ر: 8087، 6/120.

([11]) “صحيح مسلم” كتاب فضائل الصحابة، باب فضائلِ أبِي سفيان بن حَرْبٍ h، ر: 6409، صـ1101.

([12]) “دلائل النُبوّة” للبَيهقي، باب ما جاء في دعائه g على مَن أكل بشماله، 6/243. و”تاريخ الإسلام” للذَهبي، حرف الميم، معاوية بن أبي سفيان k، 2/540.

([13]) “تاريخ الإسلام” حرف الميم، معاوية بن أبي سفيان k، 2/540.

([14]) “المعجم الكبير” عبد الله بن عَمرو بن العاص، ر: 14446، 13/554. و”مجمع الزوائد” كتاب المناقب، باب ما جاء في معاوية بن أبي سفيان k، ر: 15924، 9/441. ]قال الهيثمي:[ “رواه الطَبَراني وإسنادُه حَسن”.

([15]) “مُسند الشّاميين” سعيد بن عبد العزيز عن إسماعيل بن عبَيد الله، ر: 282، 1/168. و”مجمع الزوائد” باب ما جاء في معاوية بن أبي سفيان k، ر: 15920، 9/440. ]قال الهَيثمي[: “رواه الطَبَراني ورِجالُه رجالُ الصّحيح، غير قيس بن الحارث المذحجي، وهو ثقة”.

([16]) “صحيح البخاري” كتاب أصحاب النّبي g، باب ذكر معاوية، ر: 3765، صـ633.

([17]) المرجع نفسه، باب ما قيل في قتال الروم، ر: 2924، صـ483.

([18]) المرجع السابق، كتاب الجهاد والسِير، ر: 2800، صـ464.

([19]) “مرقاة المفاتيح” شرح مقدّمة المشكاة، 1/83.

([20]) “الشّريعة” للآجرّي، كتاب فضائل معاوية بن أبي سفيان، 5/2468.

([21]) “شرح أصول اعتقاد أهل السُنّة والجماعة” سياق ما روي عن النّبي g في فضائل أبي عبد الرّحمن معاوية بن أبي سفيان، ر: 2782، 8/1530.

([22]) “العِقد الفريد” للأندلُسي، كتاب المجنبة في الأجوِبة، مجاوبة بني هاشم وبني عبد شمس لابن الزبير، الحسين ومُعاوية،  4/99.

([23]) “الشريعة” كتاب فضائل معاوية بن أبي سفيان، باب ذكر تعظيم معاوية لأهل بيت رسول الله g وإكرامه إيّاهم، ر: 1961، 5/2469. وإسنادُه حسنٌ.

([24]) “اِزالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء”   فصل 5 بیان ِفتن، مقصد اوّل، تنبیہ سوم3، 1/146۔

([25]) “السُنّة” لابن أبي عاصم، باب في ذكر الرافضة أذلّهم الله، ر: 1000، الجزء: 2، صـ483. و”المعجم الکبیر” عويم بن ساعدة الأنصاري، ر: 349، 17/140. و”مستدرَك الحاكم” كتاب معرفة الصحابة، ذكر عويم بن ساعدة، ر: 6656، 6/2377، ملتقطاً . ]قال الحاكم:[ “هذا حديثٌ صحيحُ الإسناد ولم يخرجاه”. ]وقال الذَهبي:[ “صحيح”.

([26]) “حدائق بخشش” حصّہ دُوم، مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام،  ؃ 313۔

([27]) “البداية والنهاية” سنة ستّين من الهجرة النَّبوِّية، ترجمة مُعاوية وذكر شيء من أيّامه وما ورد في مناقبه وفضائله، 8/127.

([28]) “عظمتِ صحابہ واہلِ بیتِ کرام” باب 3، فصل 3، امیر مُعاویہ ﷛ کی طرف سے سیِّدنا علی ﷛ کا دِفاع،؃ 136۔

([29]) “الفقه الأكبر” مدارج الصحابة، صـ5.

([30]) “عظمتِ صحابہ واہلِ بیتِ کرام” مقدّمۃ الکتاب،؃ 61۔

([31]) “شرح صحيح مسلم” للنوَوي، كتاب الفِتن وأشراط السّاعة، الجزء: 18، صـ11.

([32]) علّامہ سعد الدین تفتازانی ﷬ ارشاد فرماتے ہیں: “حضرات صحابۂ کِرام کے مابین جو جنگیں اور اختلافات واقع  ہوئے، وہ استحقاقِ خلافت میں نہیں تھے، بلکہ  اجتہادی بھول چُوک تھی”۔ ]”شرح العقائد النَّسَفية” أفضل البَشر بعد نبيّنا g، صـ230[.

([33]) “صحیح البخاري” کتاب الصلح، باب قول النّبي g للحسن بن علي k، ر: 2704، صـ442. و”سنن أبي داود” كتاب السُنّة، باب ما يدلّ على ترك الكلام في الفتنة، ر: 4662، صـ659، 660. و”سنن الترمذي” أبواب المناقب، باب، ر: 3773، صـ857. ]قال أبو عيسى:[ “هذا حديثٌ حسنٌ صحيح”.

([34]) “فتاوی رضویہ” کتاب شتّی، رسالہ “اعتقاد الأحباب في الجمیل والمصطفی والآل والأصحاب” عقیدہ سابعہ: مُشاجَرات صحابۂ کرام،  18/251-253، ملتقطاً۔

([35]) “تاريخ ابن خلدون” بعث معاوية العمال الى الأمصار، بيعة يزيد، 3/24.

([36]) “تاريخ الخلفاء” عهد بني أمية، معاوية بن أبي سفيان، صـ153.

([37]) المرجع نفسه.

([38]) “تاريخ ابن خلدون” بعث معاوية العمال الى الأمصار، صوائف الشام، 3/11، 12. و”تاريخ الخلفاء” عهد بني أمية، معاوية بن أبي سفيان، صـ149، 150.

([39]) دیکھیے: “عظمتِ صحابہ واہلِ بیتِ کرام” باب 8، فصل 6، سیِّدنا امیر معاویہ ﷛ کی بحیثیت خلیفہ خدمات اور کارنامے،؃ 321۔

([40]) سیِّدنا امیر مُعاویہ ﷛ کی تاریخِ وفات میں متعدد اقوال ہیں، یکم، چار، پندرہ،  پچیس اور  چھبیس رجب المرجّب کی روایات بھی موجود ہیں، لیکن قولِ مشہور کے مطابق آپ کی تاریخِ وصال 22 رجب المرجب ہے۔

([41]) انظر: “الاستيعاب في معرفة الأصحاب” ر: 2435 – معاوية بن أبي سفيان، 3/1418. و”تاريخ الطَبَري” ذكر وفاة معاوية بن أبي سفيان h، 5/324.

([42]) “تطهير الجنان واللسان” لابن حجر الهيتمي، الفصل 2 في فضائله ومناقبه …إلخ، صـ28.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Recent Blog

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *