مسلمان كا اپنے نبی ﷺ سے تعلق

Home – Single Post

Love with Prophet

حضور پرنُور، شافعِ یومِ نُشور ﷺ کی بارگاہ میں ادب واحترام سے درودِ پاک کا نذرانہ پیش کیجئے! اللَّهُمَّ صلِّ وسلِّمْ وبارِكْ علَى سيّدِنَا ومولانا وحبيبنا مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِهِ وصَحبِهِ أجمعيْن.

عزيزانِ محترم! امت کا حضور نبئ اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ پختہ تعلق قائم رکھنا اور آپﷺکی تعلیمات کی پیروی اور اتباع کرنا تعلق بالرسول کہلاتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَّهُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ﴾([1]) “جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر اتارا گیا، اور وہی ان کے رب کے پاس سے حق ہے، اللہ نے ان کی برائیاں اتار دیں، اور ان کی حالتیں سنوار دیں”، معلوم ہوا کہ ایمان اور دوزخ سے رہائی پانےکے لیے ان تمام چیزوں کا ماننا ضروری ہے جو سرورِ کونین ﷺ اللہ تعالی کی طرف سے لائے، اگر ان میں سے ایک کا بھی انکار کیا تو بندۂ مؤمن نہیں رہتا، خواہ وہ بذریعہ قرآن یا بذریعہ حدیث ہم تک پہنچی ہوں، اسی لیے اس آیت میں فقط قرآن پر ایمان کے بجائے جو مصطفیٰ جانِ رَحمت ﷺ پر نازل ہوا اُس پر ایمان لانا فرمایا گیا، سرکارِ ابدِ قرار ﷺ کا انکار کر کے توحید وغیرہ سب باطل اور دوزخ کا راستہ ہے۔

ہم رَحمتِ عالمیان ﷺ کی محبت کے بلند و بانگ دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر اس محبت کے تقاضے پورے نہیں کرتے، آقائے دوجہاں ﷺ کی ذات سے تعلق بحال ہونے کا معنی یہ ہے کہ آقاكريم ﷺ کی غلامی اس طرح کریں کہ پھر دنیا کی غلامی سے ہماری جان چھوٹ جائے، جو فقط حضور اکرم ﷺ کے سچے خادم اور غلام بن جاتے ہیں وہ دنیا کے جاہ ومنصب اور جھوٹی وفاداریوں کے بت پاش پاش کر کے، غلامی ومحکومیٔ غیر سے آزادی حاصل کر کے حریت کی منزل تک جا پہنچتے ہیں۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حضورِ اکرم ﷺ کا حُسن وجمال

عزیزانِ گرامی! درود شریف کی اہمیت یوں سمجھ لیں کہ درود ایسا پیارا وظیفہ ہے جس سے سب بگڑے کام بن جاتے ہیں، اس میں سب سے اہم اور سب سے مقدم تو خود خالقِ کائنات ﷻ کا پاک ارشاد اور حکم ہے: ﴿إِنَّ اللهَ وَمَلٰئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّط يَآ أَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا﴾([2]) “یقیناً الله اور اس کے فرشتے اس نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم ان پر درود اور خوب سلام بھیجو”، خالقِ کائناتﷻ نے قرآن پاک میں بہت سے احکامات ارشاد فرمائے، نماز، روزہ، حج،وغیرہ، لیکن یہ اعزاز صرف اور صرف سید الکونین فخر عالمﷺ ہی کے لیے ہے، کہ رسولِ کریم ﷺ پر اللہ تعالی اور اسکے فرشتے تو درود شریف بھیج رہے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی درود وسلام کی کثرت کرو، اس سے بھی درود شریف کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اور اس آیتِ کریمہ کو لفظ ﴿إِنَّ﴾ کے ساتھ شروع فرمایا، جو تاکید پر دلالت کرتا ہے، یعنی اس میں شک وشبہ کی ذرہ بھر گنجائش ہی نہیں کہ اللہ تعالی اور اسکے فرشتے سرکارِ دوعالم ﷺ پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔

درودِ پاک ایسا پیارا عمل ہے کہ ایک مرتبہ اپنے پیارے نبیٔ رَحمت شفیعِ امت ﷺ پر درود پڑھنے کی وجہ سے اللہ رب العالمین اس بندے پر دس مرتبہ رَحمت نازل فرماتا ہے، اور اس کے گناہوں کو مٹا کر درجات کو بلند فرماتا ہے، حضور نبئ اکرمﷺ كا فرمانِ عالی شان ہے: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عَشْراً»([3]) “جو مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے اللہ تعالی اس کے بدلے اس پر دس رَحمتیں نازل فرماتا ہے”۔

حضرت سیدنا اُبی بن کعب ﷛ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں آپ پر درود کی کثرت کرتا ہوں تو میں آپ کے لیے اپنی دعا میں کتنا حصہ مقرر کروں؟ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «مَا شِئْتَ» “جتنا تُو چاہے”، حضرت سیدنا اُبی ﷛ نے کہا: میں نے عرض کی: چوتھائی حصہ مقرر کر لوں؟ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: «مَا شِئْتَ. فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» “جتنا تُو چاہے مقرر کر، اگر اس سے زیادہ کرے تو تمہارے لیے بہتر ہے”، میں نے عرض کی: آدھا حصہ مقرر کر لوں؟ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: «مَا شِئْتَ. فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» “جتنا تُو چاہے مقرر کر لے، اگر اس سے زیادہ کرے تو تمہارے لیے بہتر ہے”، حضرت سیدنا اُبی ﷛ نے کہا: میں نے عرض کی: دو تہائی حصہ مقرر کر لوں؟ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: «مَا شِئْتَ. فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» “جتنا تُو چاہے مقرر کر لے، اگر اس سے زیادہ کرے تو تمہارے لیے بہتر ہے”، میں نے عرض کی: دعا کا سارا وقت درود کے لیے مقرر کروں؟ فرمایا: «إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ»([4]) “اگر تم ایسا کرو گے تو یہتمہارے غم دور کردے گا اور تمہارے گناہ بخش دیے جائیں گے”، معلوم ہوا کثرتِ درود شریف اپنے نبئ مکریم ﷺ سے ربط وتعلق کا ایک بہت عمدہ ذریعہ ہے، اور اس کی برکت سے دکھ درد دور ہوتے ہیں اور گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔

عزیز دوستو! محبت کے معنی میلانِ نفس اوردلی کشش وجھکاؤ کے ہیں، یہ وہ جذبہ ہے جو ہمیشہ پسندیدہ چیزوں اور شخصیتوں کے لیے ہوا کرتا ہے، اورتاجدارِ کائنات ﷺ سے  عشق ومحبت وہ والہانہ جذبہ ہے جو مسلمان کو دوسری اقوام سے ممتاز کر ديتا ہے، یہ جذبہ بناوٹ، عیاری، امید، اور لالچ سے ماورا ہوتا ہے، یہ جذبہ انسان کو ایک جست میں اُس بلندی اور آفاقیت تک لے جاتا ہے،جس کا ہم خیال بھی نہیں کر سکتے، محبتِ رسولﷺ سے یقین وایمان میں پختگی آتی ہے، اسی جذبہ کے تحت ایمان بالغیب پر یقین آجاتا ہے، محبتِ رسولﷺ گویا ایک ايسی کشش ہے، جوبندۂ مؤمن کو کھینچ کر اپنے نبئ کریم ﷺ کے دامن سے وابستہ کردیتی ہے، اور ان کی سنتوں کی پیروی اور تعلیمات پر عمل کرنے کاجذبہ بیدار کر دیتی ہے، اگر تعلقِ محبت استوار نہ ہو تو كامل ایمان کے درجے کو نہیں پہنچاجا سکتا، حضور نبئ کریمﷺ کا واضح ارشاد گرامی ہے: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْن»([5]) “تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں”، یہ حدیثِ مبارکہ اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایمان کا معیار اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ دنیا و مافیہا کی ہر شے سے بڑھ کر حضور پرنور شافعِ یومِ نُشور ﷺ کی ذات سے محبت کی جائے، اور جب تک یہ کیفیت پیدا نہ ہو کوئی شخص  کامل مؤمن نہیں ہو سکتا۔

محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اوّل ہے       اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

محترم بھائیو! رسولِ کریم ﷺ سے محبت عظمت واطاعت والی ہونی چاہیے، اللہ تعالی ورسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں دیگر کسی سے ايسی محبت نہیں ہونی چاہیے، حضور نبئ رَحمت ﷺ سے محبت کرنی ایمان کا رکن ہے،اور دل میں آقا کریم ﷺ سے محبت نہ ہونا کفر کی علامت ہے، ارشاد باری تعالی ہے: ﴿قُلْ إِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَأَمْوَالُنِ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِه وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِه فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَأْتِيَ الله بِأَمْرِهط وَالله لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ﴾([6]) “آپ فرما دیجیئے: اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے، اورتمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں، اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال، اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے، اور تمہارے پسند کے مکان، يہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول، اور اسکی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے، اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا”، مفسرینِ کرام فرماتے ہیں: “معلوم ہوا کہ حضور سے طبعی محبت ہونی چاہیے، نہ کہ محض عقلی، حضور ﷺ سے محبت  اس قسم کی ہونی چاہیے، جس قسم کی اللہ سے ہوتی ہے، یعنی عظمت واطاعت والی محبت، حضور ﷺ سے محبت کرنی شرک نہیں بلکہ ایمان کا رکن ہے، اور دل میں حضور ﷺ کی محبت نہ ہونا کفر ہے؛ کیونکہ اس پر عذاب کی وعید ہے”([7])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :میلادِ مصطفیﷺ کے مقاصد

عزیزانِ محتشم! مسلمان میں پسندیدہ صفتیں، اور نایاب خصلتیں پائی جاتی ہیں جن سے وہ  اپنے عقیدہ اور عبادات ومعاملات اور طور طریقوں میں دوسرے لوگوں کے درمیان نمایاں رہتا ہے؛ کیونکہ وہ اللہ تعالی، اس کے فرشتوں، کتابوں، پیغمبروں، آخرت کے دن پر اور خیر وشر کے فیصلہ یعنی تقدیر پر ایمان رکھتا ہے،  وہ اللہ تعالی کی  پناہ لیتا ہے اور حقیقی طور پر صرف اسی سے مدد چاہتا ہے اور اس کے سوا کسی سے دعا نہیں مانگتا اور اپنے پیارے رسول ﷺ  کی تابعداری کرتاہے، جن کے متعلق اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا﴾([8]) “یقیناً تمہیں رسول الله کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ جو الله اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو اور الله کو بہت یاد کرے”۔

رفیقانِ گرامی! صحابۂ  کرام ﷡ کی طبیعت میں سوز وگداز اور حبِّ رسول ﷺ اس قدر تھا کہ جب کبھی ذکرِ رسول ہوتا تو صحابۂ  کرام﷡ بے تاب ہو جاتے،  عشق ومحبت کا یہ مرتبہ ایمان کا خلاصہ ہے، محبتِ رسول ﷺکے بغیر اتباع ناممکن ہے،  محبتِ رسول ﷺکا اظہار قول اور عمل سے بھی ہوتا ہے، ایک دفعہ سیدنا عمر فاروقِ اعظم ﷛ نے رسولِ اکرم ﷺ  سے عرض کی: يا رسول اللہ، مجھے اپنی جان کے علاوہ سب سے بڑھ کر آپ کی ذات سے محبت ہے، حضور نبیٔ اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: «لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ» “اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے تمہارا ایمان کامل نہ ہوگا جب تک کہ میں تجھے اپنی جان سے بھی پیارا نہ ہوجاؤ”. تو حضرت سیّدنا عمر فاروق ﷛  نے آپ ﷺ سے عرض  کی: ایسی بات ہے تو اب اللہ کی قسم آپﷺ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں، نبیٔ  کریم ﷺ نے فرمایا : «الآنَ يَا عُمَرُ»([9]) “اے عمر ابتمہارا ایمان مکمل ہوا”، لہٰذا ہمیں بھی اپنا رشتہ وتعلق اپنے پیارے نبئ  کریم ﷺ سے مضبوط کرنے کے لیے ان سے محبت کرنی ہوگی، اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنا ہو گا۔

اے اللہ! ہم سب کو حضور ﷺ کی سچی محبت وغلامی عطا فرما، عشقِ رسول ﷺ میں جینا اور مرنا نصیب فرما،کثرت سے درود پاک پڑھنے کی توفیقِ رفیق عطا فرما، ہم پر اپنی نعمتوں کی فراوانی اور اِن ميں دوام عطا فرما،  نعمتوں پر شکر اور ان کی حفاظت کی توفیق عطا فرما، اے اللہ! ہمیں  اپنے اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے فرمان پر عمل کرنے والا بنا،  اے اللہ! ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، ہمیں اپنے عذاب سے بچا، ہمیں پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے وافر حصہ عطا فرما، اے مولائے کریم! ہمیں ایسا بندہ بنا لے کہ ہم تجھے اور تیرے حبیبِ کریم ﷺ کو پسند آجائیں، آمین یا رب العالمین!

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه سيّدنا ونبيّنا وحبيبنا محمّدٍ وّعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين.


([1]) پ26، محمد: 2.

([2]) پ22، الأحزاب: 56.

([3]) “صَحيح مُسلم” كتابُ الصَّلاَة، بابُ الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ بَعْدَ التَّشَهُّدِ، ر: 912، صـ173.

([4]) “جامع الترمذي” أبوابُ صفة القيامة، بابُ في الترغيب في ذكر الله وذكر الموت آخر الليل وفضل إكثار الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ، ر:  2٤٥٧، صـ٥٦٠.

([5]) “صَحيح البُخاري” كتابُ الإيمان، بابُ حُبُّ الرَّسُولِ ﷺ مِنَ الإِيمَانِ، ر: 15، صـ6.

([6]) پ10، التوبة: 24.

([7]) “تفسیر نور العرفان” ص303، ملتقطاً، بتصرف۔

([8]) پ٢١، الأحزاب: 21.

([9]) “صحيح البخاري” کتاب الأيمان والنذور، بَابٌ: كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ ﷺ؟، ر: 6٦٣2، صـ١١٤٦.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *