معراج النبی ﷺ

Home – Single Post

معراج النبی

حضور پُرنور، شافعِ یومِ نُشور ﷺ کی بارگاہ میں ادب واحترام سے دُرود وسلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اللّهمّ صلِّ وسلِّم وبارِك على سيِّدِنا ومولانا وحبيبِنا محمّدٍ وعلى آلهِ وصَحبهِ أجمعين.

برادرانِ اسلام! معراجِ مصطفی ﷺ ایک عظیم الشان اور انسانى ذہن کو انتہائی حیران کرنے والا معجزہ، اور سرکارِ قرار ﷺ کے فضائل وکمالات میں سے ایک ہے، اللہ تعالی نے  تما م  انبیاء ومرسلین علیہ السلام

 کے معجزات وکما لاتِ  مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی ذاتِ بابرکات میں جمع فرما  کر، آپ ﷺ کو تمام مخلوقات میں سب سے ممتاز فرما دیا ہے، فضیلتِ اسراء ومعراج سے اپنے پیارے حبیب نبئ  آخر الزمان ﷺ کو وہ خصوصیت وشرَف عطا فرمایا، جو کسی اور نبی ورسول کو نہیں ملا، اور جہاں اپنے محبوبِ كريم ﷺ کو پہنچایا، کسی اَور کو وہاں تک رَسائى نہیں بخشى، خالقِ کائنات ﷻ ارشاد فرماتا ہے: ﴿سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ﴾([1]) “پاکی ہے اُسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصی، جس کے اِرد گرد ہم نے برکت رکھی ہے؛ تاکہ ہم اُسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں، یقیناً الله تعالى سنتا دیکھتا ہے”۔

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ “اس آیتِ مبارکہ میں مصطفى جانِ رحمت ﷺ کی جسمانی معراج کا ذکر ہے، جو نبوّت کے گیارہویں سال مطابق ۶۲۱ء میں ستائیس رجب، پیر کی رات کے آخری حصے میں، بیداری کی حالت میں ہوئی”([2])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :واقعۂ معراج اور دیدارِ الٰہی

عزیزانِ محترم! مصطفى جانِ رحمت ﷺ رات کے ایک مختصر حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک، اور وہا ں سے آ سمانوں کی سَیر فرماتے ہوئے سدرۃ المنتہیٰ سے اوپر، جہاں تک ربِ كائنات نے چاہا تشریف لے گئے، عرش وکرسی، لَوح وقلم، جنّت ودوزخ وغیرہ بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ فرمایا، رب العرش الكريم کے دیدار  اور اُس کی بےپناه نوازشو ں، لا تعداد عنایتوں سے سرفراز ہو کر واپس تشریف لائے، ايك مقام پر يوں ارشادِ ربّانی ہے: ﴿وَالنَّجْمِ اِذَا هَوٰى ۙ۰۰۱ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰى﴾([3]) “اُس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم، جب یہ معراج سے اُترے! نہ وہ بہکے نہ بے راہ چلے!”۔ مفسّرینِ کرام فرما تے ہیں: “﴿ وَالنَّجْمِ﴾ سے  مراد حضور ﷺ ہیں، اور ﴿ هَوٰى﴾ سے مراد اُن کا معراج سے واپس تشریف لا نا ہے”([4])۔

حضور نبئ رحمت، شفيعِ امّت ﷺ نے سفرِ معراج میں جب خالقِ کائنات  کے قُرب خاص میں تجلیات واَنوار کا مشاہدہ کیا، اور راز ونیاز کے جو پیغامات انہیں عطا ہوئے، وہ مخلوق كى عقل سے بالاتر ہیں، اِس سے متعلق اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ﴿وَهُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ؕ۰۰۷ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ۰۰۸ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ۰۰۹ فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى﴾([5]) “وہ آسمانِ بریں کے سب سے بلند کنارے پر تھا، پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا، پھر خُوب اُتر آیا، تو اُس جلوے اور اِس حبیبِ كريم میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا، بلکہ اس سے بھی کم، اب وحی فرمائی اپنے بندۂ خاص پر جو چاہا وحی فرمائی!”۔

اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى ۰۰۱۷ لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى﴾([6]) “اس حبیب كريم كى آنکھ نہ کسی طرف پھری، نہ حد سے تجاوُز کیا، یقیناً اپنے رب تعالى کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں”۔

حضرت سیِّدنا اَنس بن مالک رضي الله عنه سے روایت ہے، اللہ کے حبیب ﷺ نے شبِ معراج کا قصہ یُوں بیان فرمایا: «بَيْنَمَا أَنَا فِي الْحَطِيْمِ مُضْطَجِعاً، إِذْ أَتَانِي آتٍ فَشَقَّ مَا بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ فَاسْتَخْرَجَ قَلْبِيْ، ثُمَّ أُتِيْتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَمْلُوْءَةٍ إِيمَاناً، فَغُسِلَ قَلْبِيْ ثُمَّ حُشِيَ، ثُمَّ أُعِيْدَ ثُمَّ أُوتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ أَبْيَضَ، فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ، فَانْطَلَقَ بِيْ جِبْرِيْلُ حَتَّى أَتَى السَّمَآءَ الدُّنْيَا»([7]) “میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا کہ ایک آنے والا آیا، اُس نے یہاں سے یہاں تک ميرا سینہ  چیرا اور دل نکال ليا، پھر میرے پاس سونے کا طشت لایا گیا، جو ایمان سے بھرا ہوا تھا، میرا دل  دھویا گیا، پھر دل کو ایمان سے بھر ديا گیا، اس کے بعد دل کو اپنی جگہ رکھ دیا گیا، پھر سواری کےلیے میرے پاس ایک سفید جانور لایا گیا، جو خچر سے چھوٹا  اور گدھے سے بڑا تھا، مجھے اس پر سوار کیا گیا، اس کے بعد مجھے جبریل آسمان کی طرف لے کر چلے”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حضورِ اکرم ﷺ کا حُسن وجمال

مصطفى جانِ رحمت ﷺ نے جب واقعۂ معراج لوگوں میں بیان فرمایا، تو  كفّارِ مکّہ نے آپ كا مذاق اُڑایا، اور ابو جہل نے  ہر طرف لوگ دَوڑا دیے، اور زیادہ  سے زیادہ  لوگوں کو جمع کر کے حضور كو جھٹلانے کی غرض سے واقعۂ معراج مزاحیہ انداز سے سنانے لگا، حضرت سیِّدنا ابو بکر صدّیق رضي الله عنه کو بھی بلا کر  کہا کہ  تمہارے رسول فرماتے ہیں، کہ میں راتوں رات مکّہ سے بیت المقدس، اور وہا ں سے آسمانوں پر پہنچا، اور تمام آسمانوں کی سیر کر کے واپس آ گیا۔ کیا ان کی اس بات کی بھی آپ تصدیق کرتے ہیں؟ حضرت سیدنا صدّیق ِ اکبر رضي الله عنه نے فرمایا: میں تو اس سے بھی زیادہ بعید چیزوں  میں ان کی تصدیق کرتا ہوں، اگر انہوں نے ايسا فرمایا ہے تو اس بات کے حق ہونے میں کو ئی شک و شبہ نہیں([8])۔

رفیقانِ ملّت اِسلامیہ! جب حضورِ اکرم ﷺ سفرِ معراج سے واپس لوٹے، تو  کفّارِ مکّہ نے اس معجزے کا انکار کیا اور مذاق اڑایا، اور اس واقعہ کو جھوٹ سمجھ کر غلط انداز سے لوگوں میں پھیلانا شروع کر دیا، لوگ اس میں مزید بڑھا چڑھا کر دلائل وبراہین کا مطالبہ کرنے لگے، اللہ تعالی کے سچے اور پیارے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَقَدْ رَأَيْتُنِيْ فِي الْحِجْرِ وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِيْ عَنْ مَسْرَايَ، فَسَأَلَتْنِيْ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ بَيْتِ الْـمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا، فَكُرِبْتُ كُرْبَةً مَا كُرِبْتُ مِثْلَه قَطُّ، فَرَفَعَهُ اللهُ لِيْ أَنْظُرُ إِلَيْهِ، مَا يَسْأَلُونِيْ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ بِه»([9]) “ميں حطیمِ کعبہ میں کھڑا تھا کہ قریش مجھ سے واقعۂ معراج کے بارے میں سوالات کر رہے تھے، انہوں نے بیت المقدس کی کچھ نشانیاں مجھ سے پوچھیں، جن  کو میں نے محفوظ نہیں رکھا تھا، اس لیے میں اتنا پریشان ہوا  کہ اس سے پہلے کبھی اتنا پریشان نہیں ہوا تھا، تب اللہ تعالی نے بیت المقدس کو اٹھا کر میرے سامنے کر دیا، کہ میں اسے دیکھتا رہا، وہ مجھ سے جس چیز کا پوچھتے رہے، میں وہ بیان کرتا رہا”۔

ایک اَور روایت میں ہے کہ جب  حضور ﷺ بلندیوں کو طَے فرما کر ﴿قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْاَدْنٰى﴾([10]) كی منزلِ اعلی ٰ پر تشریف فرما ہوئے، تو  قُربِ خداوندی میں آداب کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے عرض کی: «التحیّاتُ لِلهِ والصّلواتُ وَالطَّیِّباتُ» “ہماری قَولی،فعلی اور مالی تمام عبادتیں صرف  اللہ تعالی کے لیے ہیں!” خالقِ کائنات ﷻ نے تحفۂ سلام قبول فرما کر مہمان ِمعراج کا استقبال کرتے ہوئے فرمایا: «السّلامُ علیكَ أَیُّها النَّبيُّ وَرَحمَةُ الله وبرکاتُه!» “اے نبی آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں!” پھر سرکار دو عالم ﷺ نے اِس طرح عرض کی: «السّلامُ علینا وعَلىٰ عِبادِ اللهِ الصَّالحین!» “ہم پر بھی سلام ہو اور تیرے نیک بندوں پر بھی!” پھر عالَم ِ بالا کے فرشتوں نے یہ صدا بلند کی: «أَشهَدُ أَن لَّا إِلٰه إِلَّا الله وَأَشهدُ أَنَّ  مُحَمَّداً عَبدُه وَرَسُولُه» پھر سلام  وجواب کےبعد اللہ تبارک تعالی نے اپنے حبیب ﷺ سے بہت سی گفتگو فرمائی، جن میں سے کچھ راز تھے، کچھ خبریں تھیں اورکچھ اَحکام([11])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :میلادِ مصطفیﷺ کے مقاصد

جانِ برادر! شبِ معراج حضرت  سيِّدنا ابراہیم خلیل  اللہ علیہ السلام سے ملاقات کے وقت جو مُعاملہ ہوا، اُسے رسولِ اکرم ﷺ نے یوں بیان فرمایا: «لَقِيْتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِيْ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلامَ وَأَخْبِرْهُمْ: أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ، عَذْبَةُ الْماءِ، وَأَنَّهَا قِيْعَانٌ، وَأَنَّ غِرَاسَهَا سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ»([12]) “شبِ معراج میں نے  حضرت ابراہیم سے ملاقات کی، انہوں نے فرمایا کہ اپنی اُمّت  کو میرا سلام کہیے، اور انہیں بتائیے کہ جنّت کی مٹّی پاکیزہ، اُس کا پانی میٹھا اور وہ ہموار زمین ہے، اُس کی کاشت سبحان الله، والحمدُ لله، ولا إله إلا الله، واللهُ أکبر کہنا ہے”۔

معراج کی رات اس قُرب ِخاص میں بِلاواسطہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم ﷺ سے وہ خاص با تیں کیں، جو کسی کے وَہم وگمان میں بھی نہیں آ سکتیں۔ محدثین ِکرام فرماتے ہیں، کہ اللہ تعالی نے اس قُربِ خاص میں اپنے محبوب ﷺ پر ايسا كرم فرمایا کہ حضور ﷺ خود فرماتے ہیں: «فَوَضَعَ يَدَه بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ، فَعَلِمْتُ مَا بَيْنَ الْمشْرِقِ وَالْمغْرِبِ»([13]) “اللہ تعالی نے اپنا دستِ قدرت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا، تو میں نے اس کی ٹھنڈک اپنی چھاتی کے درمیان محسوس کی، اور اس کی برکت سے میں نے مشرق  ومغرب کے علوم جان لیے”۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَتَيْتُ -وَفِي رِوَايَةِ هَدَّابٍ: مَرَرْتُ- عَلٰى مُوسٰى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِيْ عِنْدَ الْكَثِيْبِ الْأَحْمَرِ، وَهُوَ قَائِم یُصَلّيِ فِيْ قَبرِه»([14]) “جب میں موسیٰ علیہ السلام

 کی قبر کے پاس سے گزرا، تو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے  نماز پڑھ رہے ہیں”۔ اور یہی حضرت موسی علیہ السلام ہیں جن  کی برکت سے اُمّتِ محمدیّہ کو یہ عظیم فائدہ ہوا، کہ پچاس50 کی جگہ صرف پانچ5 نمازیں ہو گئیں، اور ثواب وہی پچاس50 نمازوں کا عطا کیا جاتا ہے۔

جیسا کہ حضور نبیٔ رَحمت ﷺ نے سفر ِمعراج سے واپسی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: «فَنَزَلْتُ إِلَى مُوسَى g، فَقَالَ: مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: خَمْسِينَ صَلَاةً، قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ، فَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُم» “حضرت موسیعلیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے كہا كہ اللہ تعالی نے آپ کو کیا حکم  دیا ہے؟ ميں نے کہا: روزانہ پچاس نمازوں کا تحفہ دیا ہے، فرمايا: میں بنی اِسرائیل کو آزما چُکا ہوں، آپ کی اُمّت اتنی نمازیں نہیں پڑھ سکے گی،آپ واپس جائیے   اور اللہ تعالی سے تخفیف  ورعایت  طلب کیجیے” سرکارِ دو عالم ﷺ بار بار رب تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہو کر تخفیف کرواتے رہے، یہاں تک کہ پچاس  ميں سے پانچ نمازیں باقى رہ گئیں([15])۔

عزیزانِ محترم! واقعۂ معراج سے نفل نماز کی فضیلت کا سبق بھی حاصل ہوتا ہے، حضرت سیِّدنا ابنِ عبّاس رضي الله عنه نے کہا کہ اللہ کے نبی ﷺ کو جس رات معراج کرائی  گئی، آپ جنّت میں داخل ہوئے، آپ نے اُس کی ایک جانب سے ایک دھیمی سی آواز سنی، فرمایا: «يَا جِبْرِيلُ! مَا هَذَا؟» “اے جبریل! یہ آواز کیا ہے؟ عرض کی: یہ آپ کے مؤذِّن بِلال ہیں”([16]) اور جب اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت سیِّدنا بلال رضي الله عنه سے فرمایا: «يَا بِلاَلُ حَدِّثْنِيْ بِأَرْجى عَمَلٍ عَمِلْتَه عِنْدَكَ فِي الْإِسْلاَمِ مَنْفَعَةً؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ» “اے بلال! مجھے وہ عمل بتلاؤ جس سے تمہیں مسلمان ہونے کے بعد سب سے زیادہ نفع کی اُمید ہو!؛ کیونکہ میں نے آج رات جنّت میں  اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے” حضرت بلال نے عرض کی: میں نے مسلمان ہونے کے بعد کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کی منفعت کی مجھے زیادہ اُمید ہو، البتہ رات ہو یا دن، جب میں مکمل وضو کرتا ہوں تو اُس وضو کے ساتھ اتنی رکعات نماز پڑھ لیتا ہوں، جتنی اللہ تعالی نے میری قسمت میں لکھ دی ہے([17])۔

حکیم الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی  اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں کہ “حضرت سیِّدنا بلال رضي الله عنه کا حضور ﷺ سے آگے جنّت میں جانا، ایسا ہے جیسے نوکر چاکر بادشاہوں کے آگے ہٹو بچو کرتے ہوئے چلتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اے بلال! تم نے ایسا کونسا کام کیا ہے جس سے تم کو میری یہ خدمت میسّر آئی؟ خیال رہے کہ معراج کی رات نہ تو حضرت سیِّدنا بلال رضي الله عنه حضور ﷺ کے ساتھ جنّت میں گئے، نہ آپ علیہ السلام کو معراج ہوئی، بلکہ حضور ﷺنے اس رات وہ واقعہ ملاحظہ فرمایا جو قیامت کے بعد ہوگا، کہ تمام خَلق سے پہلے حضور ﷺ جنّت میں داخل ہوں گے، اس طرح کہ حضرت سیِّدنا بلال رضي الله عنه خادمانہ حیثیت سے آگے آگے ہوں گے”([18])۔

حضراتِ گرامی قدر! شبِ معراج شہنشاہِ کونین ﷺ ايك ایسی قَوم كے پاس سے گزرے جن کے سَروں کو کُچلا جا رہا تھا، پھر وہ سَر فوراً  پہلے کی طرح صحيح سالم ہو جاتے، یہ سلسلہ اُن کے ساتھ لگا تار جاری تھا، تاجدارِ رسالت ﷺ نے پوچھا: «مَنْ هؤُلَاءِ؟» “یہ کون لوگ ہیں؟” عرض کی گئى: یہ وہ لوگ ہیں جو فرض نماز کی ادائیگی میں سُستی کرتے ہیں”([19])۔

میرے محترم بھائیو! ہمارے آقا نے اس سفرِ مبارک میں ایک منظر یہ بھی دیکھا، کہ ایک شخص جس نے بڑی بھاری گٹھڑی باندھی ہوئی ہے، وہ اُسے اُٹھا نہیں پاتا، مگر اس گٹھڑی میں مزید اِضافہ چاہتا ہے، حضورِ اكرم نُورِ مجسّم ﷺ کو بتایا گیا: «هذا الرّجلُ مِن أمّتك، عليه أمانةُ النّاسِ لا يستطيعُ أداءَها، وهو يزيدُ عليها»([20]) “یہ آپ کا وہ اُمتی ہے، جس کے پاس لوگوں کی امانتیں ہوں گی، وہ انہیں ادا نہیں کر پائے گا، اور مزید امانتیں لینے کا خواہشمند ہوگا”۔

مسلمان  کی بےعزّتی اور اس کی  غیبت  کرنا بہت سخت گناہ ہے، اور اس کا عذاب سخت ہے، ہمارے پیارے آقا، جنابِ محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَمَا عُرِجَ بِيْ مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُّحَاسٍ، يَخْمِشُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَصُدُوْرَهُمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هٰؤُلَاءِ يَا جِبْرِيْلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ، وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِم»([21]) “جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا، جن کے ناخن تانبے کے تھے، اور وہ اُن سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے، میں نے کہا: اے جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟ جواب ملا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (یعنی غیبت کرتے ہیں) اُن کی عزّت خراب کرتے ہیں”۔

لہٰذا ہرمسلمان پر لازم ہے کہ بدگمانی، دوسروں کی عَیب جُوئی، غیبت اور چغلخوری سے بچتا رہے۔

سفرِ معراج میں حضور اکرم ﷺ نے ایک ایسی قَوم بھی دیکھی جن کے پاس ہانڈی میں پکا ہوا لذیذ گوشت ہے، اور دوسری ہانڈی میں بدبودار گوشت ہے، وہ لوگ پاکیزہ ولذیذ کھانا چھوڑ کر بدبودار کھانے پر ٹُوٹ پڑتے ہیں، الله تعالى كے حبیب ﷺ نے فرمایا: «ما هذا يا جبريل؟» “اے جبرائیل یہ کیا ہے؟” عرض کی: یہ اُن لوگوں كا عذاب ہے جو اپنی حلال بیویوں کو چھوڑ کر بدکار عورتوں کے پاس جاتے ہیں”([22])۔

ميرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! واقعہ معراج اور سرکارِ دو جہاں ﷺ کے طفیل ہمیں نمازوں کا تحفہ وُصول ہوا،لہذا ہمیں چاہیے کہ نمازوں کی پابندی کریں، دیگر فرائض وواجبات اور اَحکامِ شریعت پر عمل کریں، بےحیائی اور بدکاری سے کوسوں دُور بھاگیں، اور گناہوں سے اجتناب کریں۔

اے اللہ! ہمیں نمازوں میں سُستی کرنے، جھوٹ بولنے، غیبت کرنے جیسے تمام گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرما، یہود وہنود، اور تمام دشمنانِ اسلام کی بیہودہ رُسوم سے بچا، ہمیں پنجوقتہ نماز کا پابند بنا، اور شبِ معراج کے فُیوض وبرکات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرما،  آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) پ15، الإسراء: 1.

([2]) “تفسیر نور العرفان” پ15، الاِسراء، تحت آیت:1،؃ 449۔ “مقالاتِ کاظمی” رسالہ “معراج النبی” 1/222، ملخصاً۔

([3]) پ٢٧، النجم:1، 2.

([4]) “تفسیر القُرطُبي” پ 27، سورة والنجم، تحت الآية: 1، الجزء 17، صـ74.

([5]) پ27، النجم: 7-10.

([6]) پ27، النجم: 17، 18.

([7]) “صحيح البخاري” كتاب مناقب الأنصار، باب المعراج، ر: 3887، صـ652.

([8]) “التفسیرات الأحمدیّة” الإسراء، تحت الآية: ١، صـ٥٠٦، ملخّصاً.

([9]) ” صحيح مسلم” كتاب الإيمان، باب ذكر المسيح …إلخ، ر: 430، صـ89.

([10]) پ27، النجم: 9.

([11]) “التفسیرات الأحمدیّة” الإسراء، تحت الآية: ١، صـ٥٠٦. “روح البيان” پ 15، تفسير سورة الإسراء، تحت الآيات: 1-7، 5/121.

([12]) “سنن الترمذي” كتاب الدعوات، ر: 3462، صـ791.

([13]) المرجع نفسه، أبواب تفسير القرآن [باب ومن] سورة ص، ر: ٣٢٣٤، صـ٧٣٥.

([14]) “صحيح مسلم” أبواب الفضائل، باب من فضائل موسى، ر: ٦١٥٧، صـ١٠٤٤.

([15]) المرجع نفسه، كتاب الإيمان، باب الإسراء برسول الله …إلخ، ر: 411، صـ83.

([16]) “مُسند الإمام أحمد” مسند عبد الله بن العباس …إلخ، ر: 2324، 1/553.

([17]) “صحيح مسلم” باب من فضائل بلال، ر: ٦٣24، صـ١٠٨١.

([18]) “مرآۃ المناجیح” نماز کا بیان،  نوافل کا باب، پہلی فصل، زیرِ حدیث: 1322، 2/290۔

([19]) “مُسند البزّار” مسند أبي حمزة أنس بن مالك …إلخ، ر: 9518، 17/5.

([20]) المرجع نفسه، 17/6.

([21]) “سنن أبي داود” كتاب الأدب، باب في الغِيبة، ر: 4878، صـ٦٨٨.

([22]) “سُبل الهدى والرَشاد” جماع أبواب معراجه g، البابُ 8، 3/81 ، 82.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *