واقعۂ معراج اور دیدارِ الٰہی

Home – Single Post

Story of Miraj

الحمد لله ربّ العالمين، والصّلاةُ والسّلامُ على خاتمِ الأنبياءِ والمرسَلين، وعلى آلهِ وصحبهِ أجمعين، أمّا بعد: فأعوذُ باللهِ مِن الشّيطانِ الرّجيم، بسمِ الله الرّحمنِ الرّحيم.

حضور پُرنور، شافعِ یومِ نُشور ﷺ کی بارگاہ میں ادب واحترام سے دُرود وسلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اللّهمّ صلِّ وسلِّم وبارِك على سيِّدِنا ومولانا وحبيبِنا محمّدٍ وعلى آلهِ وصَحبهِ أجمعين.

شبِ معراج اللہ تعالی نے  مصطفی جانِ رحمت ﷺ کو اپنے پاس بلا کر، جو خصوصیت،شرَف، قُرب اور اپنا دیدار بخشا، خوش بختی کی ایسی معراج وسعادت کبھی کسی اَور نبی ورسول کے حصے میں نہیں آئی، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ﴾([1]) “پاکی ہے اُسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا، مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ (جس کے اِرد گرد ہم نے برکت رکھی ہے)؛ تاکہ ہم اُسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں، یقیناً الله تعالى سنتا دیکھتا ہے”۔

معراج کی رات اللہ تعالی نے سروَرِ دو جہاں ﷺ کو بےحد وحساب اِنعام واِکرام سے نوازا، اس مبارک رات تاجدارِ رسالت ﷺ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک، اور وہاں سے آ سمانوں کی سَیر فرماتے ہوئے سدرۃُ المنتہیٰ سے اوپر، جہاں تک ربِ كائنات نے چاہا تشریف لے گئے، عرش وکرسی، لَوح وقلم، جنّت ودوزخ وغیرہ بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہَدہ فرمایا، انبیاء کِرام ﷐ کی اِمامت فرمائی، آپ کو فرض نمازوں کا تحفہ عطا ہوا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنے دیدار سے مشرَّف فرمایا!۔

حضور نبئ کریم ﷺ کو جو رؤیتِ باری تعالی بخشی گئی، وہ چشمانِ مبارک سے تھی یا قلبی طور پر تھی، اس بارے میں صحابۂ کرام ﷡ کی آراء باہم مختلف ہیں، البتہ زیادہ صحیح، راجح اور مختار قول یہی ہے کہ سرکارِ دوعالم ﷺ نے اپنی چشمانِ سر سے اپنے ربّ تعالی کا دیدار کیا۔ اس مَوقِف کی تائید میں قرآن وحدیث، فرامینِ صحابہ اور علمائے اُمّت کے چند اَقوال بطَورِ  دلائل حسبِ ذیل ہیں:

(1) حضور نبئ رَحمت، شفيعِ امّت ﷺ نے سفرِ معراج میں خالقِ کائنات B کے قُربِ خاص میں تجلّیات واَنوار کا مشاہَدہ کیا، اور راز ونیاز کے جو پیغامات انہیں عطا ہوئے، وہ مخلوق كى عقل سے بالاتَر ہیں، اِس سے متعلق اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ﴿وَهُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ؕ۰۰۷ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ۰۰۸ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْاَدْنٰىۚ۰۰۹ فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى﴾([2]) “وہ آسمانِ بریں کے سب سے بلند کنارے پر تھا، پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا، پھر خُوب اُتر آیا، تو اُس جلوے اور اِس حبیبِ كريم میں دو2 ہاتھ کا فاصلہ رہا، بلکہ اس سے بھی کم۔ اَب وَحی فرمائی اپنے بندۂ خاص پر جو چاہا وَحی فرمائی!”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حضورِ اکرم ﷺ کا حُسن وجمال

شبِ معراج دیدارِ الہٰی قرآن کی روشنی میں

امام ابن جریر طَبری اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: “وقال آخَرون: بل معنى ذلك: ثمّ دَنا الربُّ من محمدٍ g فتدَلّى”([3]). “دیگر مفسّرین نے کہا کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ “اللہ تعالی اپنے حبیب کریم ﷺ سے قریب ہوا، تو وہ بھی اپنے رب تعالی سے قریب ہو گئے”۔

علّامہ  بَغَوی اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: “ثمّ دَنا الرَبُّ e مِن محمدٍ g فتدَلّى”([4]). “اللہ تعالی اپنے حبیب کریم ﷺ سے قریب ہوا، تو وہ بھی اپنے رب تعالی سے قریب ہو گئے”۔

(2) اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى ۰۰۱۷ لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى﴾([5]) “اس حبيب كريم كى آنکھ نہ کسی طرف پھری، نہ حَد سے تجاوُز کیا، یقیناً اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں”۔ یہ سروَرِ کونین ﷺ کی شان اور اللہ کی دی ہوئی طاقت تھی، کہ آپ ﷺ نے رب تعالی کا قُربِ خاص حاصل كيا، اَنوار وتجلّیات کے نظارے کيے، جنّت ودوزخ اور عالَمِ ملکوت کے عجائبات کا مشاہَدہ فرمايا، انبیاء وملائکہ سے ملاقات کی، لیکن نہ تو آپ کی آنکھیں اُن اَنوار کی چمک دَمک سے خیرہ

ہو کر چُندھیائیں، نہ بند ہوئیں، نہ جھَپکیں، نہ دل گھبرایا، بلکہ جی بھر کر دیدار کیا۔

(1)حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عباس ﷟ سے روایت ہے، حضورِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «رَأَيْتُ رَبِّي f»([6]) “میں نے اپنے رب A کو دیکھا۔ امام جلال الدین سُیوطی ﷬ “خصائص کبرٰی” اورعلّامہ عبدالرؤف مُناوی ﷬ “تیسیرشرح جامع صغیر” میں فرماتے ہیں کہ  “یہ حدیث بسند صحیح ہے”([7])۔ نیز حضور نبئ کریم ﷺ کے اس فرمانِ مبارک کو حضرت سیّدہ عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہ ﷝ کے (رؤیت کی نفی سے متعلق) قول پر فَوقیت حاصل ہے۔

(2) حضرت سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ﷛ سے روایت ہے، حضور نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «قال لي ربّي e: نحلتُ إبراهيمَ خلّتي، وكلّمتُ موسى تكليماً، وأعطيتُك يامحمد كفاحاً!([8])»([9]) “مجھے میرے رب A نے فرمایا کہ میں نے ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا، اور موسی سے کلام فرمایا، اور تمہیں اے حبیب مُواجہ بخشا، کہ بےپردہ وحجاب تم نے مجھے دیکھا!”۔

(3) حضرت سیِّدنا جابربن عبد اللہ ﷟ سے راویت ہے، حضور سیّد المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إنّ الله تعالى أعطى موسى الكلامَ، وأعطاني الرُؤية، وفضّلني بالمقام المحمود، والحوض المورود«([10]) “بےشک اللہ تعالیٰ نے موسی کو دولتِ کلام بخشی، اورمجھے اپنا دیدار عطا فرمایا، اور  مجھ کو شَفاعت کبرٰی وحوض کوثر سے فضیلت بخشی”۔

(4) حضرت سیّدہ اسماء بنت ابی بکر صدیق ﷟ بیان کرتی ہیں کہ میں نے سنا، حضور سروَرِ کائنات ﷺ سِدرۃ المنتہی کا وصف بیان فرما رہے تھے، میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ! حضور نے اس کے پاس کیا دیکھا؟ فرمایا:  «رأيتُه عندها» يعني ربَّه([11]). “حضور اکرم ﷺ نےفرمایا: “مجھے اس کے پاس رب تعالی کا دیدار ہوا”۔

(5) حضرت سیِّدنا عبد الرحمن بن عائش ﷛ سے روایت ہے، رحمتِ عالمیان ﷺ نے ارشاد فرمایا: «رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ الصُّورَةِ»([12]) “میں نے اپنے ربّ کو سب سے خوبصورت ترین صورت میں دیکھا”۔

(6) ایک روایت میں ہے کہ جب  حضور ﷺ بلندیوں کو طَے فرما کر ﴿قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى﴾([13]) كی منزلِ اعلی پر تشریف فرما ہوئے، تو  قربِ خداوندی میں آداب کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے عرض کی: «التحیّاتُ لِلهِ والصّلواتُ وَالطَّیِّباتُ» “ہماری قَولی،فعلی اور مالی تمام عبادتیں صرف  اللہ تعالی کے لیے ہیں!” خالقِ کائنات ﷻ نے تحفۂ سلام قبول فرما کر مہمان ِمعراج کا استقبال کرتے ہوئے فرمایا: «السّلامُ  علیكَ أَیُّها النَّبيُّ وَرَحمَةُ الله وبرکاتُهٗ!» “اےنبی! آپ پر سلام ہو، اور اللہ کی  رحمتیں اور برکتیں ہوں!” پھر سرکار دو عالم ﷺ نے اِس طرح عرض کی: «السّلامُ علینا وعَلى عِبادِ اللهِ الصَّالحین!» “ہم پر بھی سلام ہو اور تیرے نیک بندوں پر بھی!” پھر عالَم ِ بالا کے فرشتوں نے یہ صدا بلند کی: «أَشهَدُ أَن لَّا إِلٰه إِلَّا الله، وَأَشهدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبدُهٗ وَرَسُولُهٗ» پھر سلام وجواب کے بعد اللہ تبارک تعالی نے اپنے حبیب کریم ﷺ سے بہت سی گفتگو فرمائی، جس میں کچھ راز تھے، کچھ خبریں تھیں اور کچھ اَحکام([14])۔

(7) معراج کی رات اس قُرب ِخاص میں بِلا واسطہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم ﷺ سے وہ خاص با تیں کیں، جو کسی کے وَہم وگمان میں بھی نہیں آ سکتیں۔  محدثین ِکرام فرماتے ہیں، کہ اللہ تعالی نے اس قُربِ خاص میں اپنے محبوب ﷺ پر ايسا كرم فرمایا کہ حضور ﷺ خود فرماتے ہیں: «فَوَضَعَ يَدَهٗ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ، فَعَلِمْتُ مَا بَيْنَ الْمشْرِقِ وَالْمغْرِبِ»([15]) “اللہ تعالی نے اپنا دستِ قدرت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا، تو میں نے اس کی ٹھنڈک اپنی چھاتی کے درمیان محسوس کی، اور اس کی برکت سے میں نے مشرق  ومغرب کے علوم جان لیے”۔ نبئ کریم ﷺ کی پُشتِ مبارک پر دستِ قدرت رکھے جانے سے یہ پتہ

چلتا ہے، کہ سرکارِ دو جہاں ﷺ کو  شبِ معراج کس قدر قُربِ الہی میسّر آیا!۔

(8) حضرت سیِّدنا محمد بن کعب ﷟ سے روایت ہے، کہ صحابۂ کرام ﷡ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ نے اللہ تعالی کو دیکھا ہے؟ رحمت ِ عالمیان ﷺ نے فرمایا: «رَأَيْتُهُ بِفُؤَادِي مَرَّتَيْنِ»([16]) “میں نے اللہ تعالی کو  دو2 بار دل سے (یعنی تصدیقِ قلب کے ساتھ) دیکھا” اس کے بعد سروَرِ دوجہاں ﷺ نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى﴾([17]) “دل نے جھوٹ نہ کہا جو ( آنکھ نے)  دیکھا” یعنی جو آنکھ سے دیکھا،  دل نے بھی اس کی تصدیق کی۔

(9) بعض احادیث میں مذکور ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لِي مَعَ الله وَقْتٌ لَا يَسَعُ فِيهِ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ، وَلَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ»([18]) “میرے لیے خدا کے ساتھ ایک خاص وقت ہے، جس میں کسی مقرَّب فرشتے یا مُرسَل نبی کی گنجائش نہیں”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :میلادِ مصطفیﷺ کے مقاصد

حضور نبئ کریم  ﷺ کو اللہ تعالی کا دیدار حاصل ہوا یا نہیں؟ اس بارے میں صحابۂ کرام ﷡ کے زمانے ہی سے اختلاف رہا ہے، چنانچہ ام المؤمنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ ﷝ وغیرہا اس بات کے قائل ہیں، کہ حضور ﷺ کو براہِ راست دیدارِ الٰہی نہیں ہوا، جبکہ حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عباس﷛، دیگر صحابہ اور تابعین وغیرہم کی رائے یہ ہے، کہ اللہ تعالی نے شبِ معراج اپنے حبیبِ کریم  ﷺ کو، براہِ راست اور بے پردہ وحجاب دَولتِ دیدار سے شر فیاب فرمایا۔ چنانچہ

اس بارے میں چند روایات حسبِ ذیل ہیں:

(1)حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عباس ﷟ فرماتے ہیں: «إنّا بنو هاشم نزعم أَنْ نقولَ: إنّ محمّداً قد رأى ربَّه مرَّتَين»([19]) “ہم بنی ہاشم (اہلِ بیت رسول اللہ ﷺ) تو کہتے ہیں، کہ بےشک محمد ﷺ نے اپنے رب تعالی کو دو2 بار دیکھا”۔

(2) حضرت سیّدنا عبد اللہ بن ابی سلَمہ ﷛ سے  روایت ہے، کہ حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عمر ﷟ نے، حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عباس ﷟ سے دریافت کیا، کہ کیا رسول اللہﷺ نے اپنے رب تعالی کو دیکھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ  “ہاں دیکھا”([20])۔

(3) حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عباس ﷟ نے فرمایا کہ “رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب تعالی کو دیکھا”۔ حضرت سیّدنا عکرمہ ﷛ ان کے شاگرد کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ کیا حضور ﷺ نے اپنے رب تعالی کو دیکھا؟ فرمایا : “ہاں، اللہ تعالی نے موسی D کے لیے کلام رکھا، ابراہیم D کو اپنا خلیل بنایا، اور ہمارے آقا ﷺ کو بلا حجاب اپنا دیدار کرایا”([21])۔

(4) حضرت سیّدنا انس بن مالک ﷛ فرماتے ہیں: «إنّ محمّداً g رأَى ربَّه f»([22]) “یقیناً جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب A کو دیکھا”۔

(5) حضرت سیِّدنا ابن عباس ﷟ فرماتے ہیں: «أَتَعْجَبُونَ أَنْ تَكُونَ الْخَلَّةُ لِإِبْرَاهِيمَ، وَالْكَلَامُ لِمُوسى، وَالرُّؤْيَةُ لِمُحَمَّدٍ g، وَصَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ»([23]) “کیا ابراہیم کے لیے دوستی اورموسی کے لیے کلام اورمحمد ﷺ کے لیے دیدار ہونے میں تمہیں کچھ تعجب ہے؟!”۔

(6) حضرت سیّدنا کعب ﷛ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ الله قَسَّمَ رُؤْيَتَهُ وَكَلَامَهُ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَمُوسَى، فَكَلَّمَ مُوسَى مَرَّتَيْنِ وَرَآهُ مُحَمَّدٌ مَرَّتَيْنِ»([24]) “اللہ تعالی نے اپنی رؤیت (دیدار) اور کلام کو حضور نبئ کریم ﷺ اور حضرت سیِّدنا موسیٰ D کے درمیان تقسیم فرما دیا، حضرت سیِّدنا موسیٰ D دو بار رب تعالی سے  ہم کلام ہوئے، اور رسول اللہ ﷺ نے دو بار  اپنے رب کا دیدار کیا”۔

(7) حضرت سیِّدنا ابن عباس ﷟ فرماتے ہیں: «إنَّ مُحَمَّداً g رَأَى رَبَّهُ مَرَّتَيْنِ: (1) مُرَّةً بِبَصَرِهِ، (2) وَمَرَّةً بِفُؤَادِهِ»([25]) “بےشک محمد ﷺ نے دو2 بار اپنے رب تعالی کو دیکھا: (1) ایک بار اس آنکھ سے، (2)  اور ایک بار دل کی آنکھ سے”۔

(8) مَروان نے حضرت سیّدنا ابو ہریرہ ﷛ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا؟ تو آپ ﷛ نے جواباً ارشاد فرمایا: «نعم»([26]) “ہاں”

یعنی  حضور ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔

(1) حضرت سیِّدنا امام احمد بن حنبل ﷬ سے سوال کیا گیا، کہ کیا  حضور نبئ کریم ﷺ نے اللہ تعالی کا دیدار کیا؟ آپ نے بار بار فرمایا: “رَآهُ رَآهُ رَآهُ”. “رسولِ اکرم ﷺ نے اللہ تعالی کا دیدار کیا، دیدار  کیا، دیدار کیا!” اور یہ جملہ اتنی بار دُہرایا کہ آپ کے سانس کا تسلسل ٹوٹ گیا”([27])۔

(2) امام قاضی عیاض ﷬ فرماتے ہیں: “إنّ الحسنَ كان يَحلِفُ بِالله: لقَد رَأَى محمّدٌ ربَّه”([28]) “امام حسن بصری ﷫ قسم کھا کر فرمایا کرتے، کہ یقیناً رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب تعالی کو دیکھا”۔

(3) امام شہاب الدین خَفاجی ﷬ فرماتے ہیں: “أنّ الأصحَ الراجح أنّه g رأى ربَّه بعَين رأسِه حين أُسرِي به، كما ذهب إليه أكثرُ الصحابة”([29]) “زیادہ صحیح اور مختار یہی ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے معراج کی رات، چشمانِ سر سے اپنے ربّ کا دیدار کیا، اور اکثر صحابہ کا  بھی یہی مذہب ہے”۔

(4) امام شرف الدین نَوَوی ﷬ فرماتے ہیں: “إنّ الراجحَ عند أكثر العلماء إنّ رسول الله g رأى ربَّه بعَينَي رأسِه ليلةَ الإسراء؛ لحديث ابن عباس وغيره مما تقدّم، وإثباتُ هذا لا يأخذونه إلّا بالسماع من رسول الله g”([30]) “اکثر علماء کے نزدیک راجح یہی ہے کہ شبِ معراج رسول اللہ ﷺ نے چشمانِ سر  سے دیدارِ الٰہی کا شرف پایا؛ کیونکہ حضرت سیِّدنا ابن عبّاس کی روایت نیز دیگر روایات میں بھی اس کا ثبوت ہے،اور ان صحابہ نے حضور ﷺ سے سُن کر ہی اسے ثابت کیا ہے، پھر اس میں کسی قسم کا شک وشبہ مناسب نہیں!”۔

(5) امام ابو القاسم قُشیری  ﷬فرماتے ہیں کہ امام ابو الحسن نُوری ﷬ نے فرمایا: “شاهَد الحقُّ القلوبَ، فلم يرَ قلباً أشوَقَ إليه من قلب مُحَمَّدٍ g، فأكرَمَه بالمعراج تعجيلاً للرُؤية والمكالمة”([31]) “حق تعالی نے تمام لوگوں کے دلوں میں سب سے زیادہ حضور نبئ کریم ﷺ کے قلبِ پاک کو اپنا مشتاق پایا، لہذا رسولِ اکرم ﷺ کو  معراج کے ذریعے اپنا دیدار اور ہمکلامی کا جلد شرف بخشا”۔

(6) امام شِہاب الدین قسطلانی ﷬ فرماتے ہیں: “مَن أثبتَ له أنّه رآه بقلبه، أنّ الرؤيةَ التى حصلت له خُلقت له فى قلبه كما تخلق الرُؤية بالعَين لغيره، والرؤيةُ لا يشترط لها شيءٌ مخصوصٌ عقلاً، ولو جرت العادةُ بخلقها فى العين”([32]) “جن لوگوں نے سروَر کونین ﷺ کے لیے رؤیتِ قلبی ثابت کی ہے،  اُن کی مُراد یہ ہے کہ  جس طرح کسی کی آنکھ میں بینائی پیدا کر دی جاتی ہے، اسی طرح حضور نبئ کریم ﷺ کے قلبِ اطہَر میں بینائی پیدا کر دی گئی (جس سے رسول اللہ ﷺ نے حق تعالی کا مُشاہدہ کیا)  اور دیکھنے کے لیے عقلاً کسی خاص جُزو ِبدن کا ہونا، یا کسی چیز کا پایا جانا ضروری نہیں، اگرچہ عادۃً بینائی آنکھ ہی میں پیدا ہوتی ہے” لیکن اللہ تعالی قادر ہے، کہ خرقِ عادت کے طَور پر آنکھ کے علاوہ کسی اَور عضو

میں بینائی پیدا کر دے؛ کیونکہ اسے ہر طرح کی قدرت حاصل ہے!۔

(7) امام برہان الدین حلبی ﷬ فرماتے ہیں: “واختلف في رؤيته g لربِّه تبارَك وتعالى تلك الليلةَ، فأكثرُ العلماء على وُقوع ذلك: أي أنّه g رآه e بعَين رأسِه”([33]) “دیدارِ الٰہی کے بارے میں اگرچہ اختلاف ہے، مگر اکثر علماء اسی بات کے قائل ہیں کہ حضور نبئ کریم ﷺ نے اپنی چشمانِ سر سے ربّ تعالی کا دیدار كیا”۔

(8) مفسّرِ قرآن علّامہ اسماعیل حقّی ﷬ شبِ معراج دیدارِ الہی کے بارے میں عقلی دلیل دیتے ہوئے فرماتے  ہیں: “ومِن المُحال أن يدعوَ كريمٌ كريماً إلى دارِه ويضيِّف حبيبٌ حبيباً في قصرِه، ثمّ يتستر عنه ولا يُرِيه وجهَه”([34]) “یہ بات نا ممکن ہے کہ کوئی کریم کسی کریم کو دعوت دے کر بلائے، اور کوئی حبیب اپنے محبوب کو اپنے محل میں مہمان بنائے، پھر اس سے چُھپ جائے اور اسے اپنا چہرہ نہ دِکھائے!”۔

(9) مفسّرِ قرآن علّامہ سیِّد محمود آلُوسی بغدادی ﷬ شبِ معراج دیدارِ الٰہی کے قائلین کا مَوقف نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: “إنّه m رأى ربَّه c بعينه”([35]) “تاجدارِ رسالت ﷺ نے اللہ تعالی کو  اپنی چشمانِ مبارک سے دیکھا”۔

(10) حضرت شاہ عبد الحق محدِث دہلوی ﷬ فرماتے ہیں کہ “کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ حضور نبئ کریم ﷺ کو اس مقامِ رفیع پر لے جائیں، اور خَلوَتِ خاص میں حضوری کرائی جائے، اور سب سے  اعلی واقصیٰ مطلوب جو کہ  دیدارِ باری تعالی ہے،  اس سے مشرَّف نہ کیا جائے!”([36])۔

(11) امام اہلِ سنّت امام احمد رضا ﷬  “شرح ہمزیّہ” کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ “موسی D کو دولتِ کلام عطاہوئی، ہمارے نبی ﷺ کو ویسی ہی شب اِسراء ملی، اور زیادتِ قُرب اورچشمِ سر سے دیدارِ الٰہی اس کے علاوہ۔ اور بھلا کہاں کوہِ طور جس پر موسی D سے مُناجات ہوئی! اورکہاں مافَوق العرش جہاں ہمارے نبی ﷺ سے کلام ہوا!”([37])۔

واقعۂ معراج اور اس میں حضور نبئ کریم ﷺ کودیدارِ الہی کا شرف ملنا، اس بات پر دلیل ہے کہ اگر بندے  کی طلب سچی ہو، قول وفعل میں اِخلاص ہو، اور فرائض وواجبات کی پابندی کرے، تو اللہ تعالی اپنے بندہ پر  خوب اِنعام واِکرام  فرماتا ہے، اُس پر اپنی رحمتوں کا نُزول فرماتا ہے، اس کی بے حساب بخشش ومغفرت فرماتا ہے، اور اُسے عُروج وبلندی سے سرفراز فرماتا ہے۔ لہذا اللہ ورسول کے اَحکام وتعلیمات پر عمل کریں، فرائض وواجبات  کی پابندی کریں، اعمالِ صالحہ پر کاربند رہیں، گناہوں سے اجتناب برتیں، اور اللہ تعالی کے نیک بندے بن کر رہیں!۔

اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق بخشے، ہمارے گناہوں کو مُعاف فرمائے، اور ہمیں اپنا فرمانبردار بندہ بنائے، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خيرِ خلقِه سيِّدنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) پ15، الإسراء: 1.

([2]) پ27، النّجم: 7-10.

([3]) “جامع البيان” سورة النجم، تحت الآية: 8، 9، ر: 25109، الجزء 27، صـ60.

([4]) “مَعالم التنزيل” سورة النجم، تحت الآية: 8، 9، 4/246.

([5]) پ27، النجم: 17، 18.

([6]) “مسند الإمام أحمد” مسند عبد الله بن عباس …إلخ، ر: 2580، 1/611.

([7]) انظر: “الخصائص الکبرٰی” باب خصوصيته g بالإسراء …إلخ، حدیث ابن عباسk، 1 /267. و”التيسیر شرح الجامع الصغیر” حرف الراء، تحت ر: 4377، 3/526.

([8]) في “مجمع بحار الأنوار”: “كفاحا” أي: “مواجهة ليس بينهما حجاب ولا رسول” [حرف الكاف، كفح، 4/424]. “کفاح کا معنی  بالمشافہ دیدار کرنا ہے، جبکہ درمیان میں کوئی پردہ  اور قاصد نہ ہو”۔

([9]) “تاريخ دِمشق” حرف الألف، باب ذكر عروجه إلى السماء واجتماعه بجماعة من الأنبياء، ر: 800، 3/517.

([10]) “کنز العمال” حرف القاف، كتاب القيامة من قسم الأقوال، رؤية الله تعالى، ر: 39200، 14/191.

([11]) “الدر المنثور” سورة الإسراء، تحت الآية: 1، 5/221.

([12]) “السنة” لابن أبي عاصم، باب، ر: 467،  1/ 203.

([13]) پ27، النجم: 9.

([14]) “التفسیرات الأحمدیّة” صـ٥٠٦. و”روح البيان” تفسير سورة الإسراء، تحت الآيات: 1-7، 5/121.

([15]) “سنن الترمذي” أبواب التفسير، [باب ومن] سورة ص، ر: ٣٢٣٤، صـ٧٣٥.

([16]) “تفسير ابن كثير” پ27، سورة النجم، تحت الآيات: 5-18، 4/255.

([17]) پ27، النجم: 11.

([18]) “الأسرار المرفوعة” للقاري، حرف اللام،  ر: 764، صـ197.

([19]) “سنن الترمذي” أبواب تفسير القرآن عن رسول الله g، [باب ومن] سورة والنجم، ر: 3278، صـ745. و”الدر المنثور” سورة النجم، تحت الآية: 13، 7/647.

([20]) “سنن الترمذي” ر: 3279، صـ746. و”المعجم الأوسط” باب الهاء، من اسمه: الهيثم، ر: 9396، 6/459. و”الأسماء والصفات” باب ما جاء في قول الله e: ﴿ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى * فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى﴾ …إلخ، 2/190.

([21]) “الأسماء والصفات” باب ما جاء في قول الله e: ﴿ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى﴾ …إلخ، 2/190. و”الدر المنثور” سورة النجم، تحت الآية: 13، 7/648.

([22]) “مسند البزّار” مسند أبي حمزة أنس بن مالك، ر: 7165، 13/426.

([23]) “مُستدرَك الحاكم”، كتاب التفسير، ر: 3747، 4/1404.

([24]) “تفسير ابن كثير” پ27، سورة النجم، تحت الآيات: 5-18، 4/254.

([25]) “المعجم الأوسط” باب الميم، من اسمه: محمد، ر: 5761، 4/215.

([26]) “مناهل الصفا في تخريج أحاديث الشفا” للسيوطي، ر: 417، صـ100.

([27]) “الروض الأنف في شرح السيرة النبوية” للسهيلي، ذكر الإسراء والمعراج، 3/271.

([28]) “الشفا” القسم 1، الباب 3، الفصل 5، الجزء 1، صـ126.

([29]) “نسيم الرياض” القسم 1، الباب 3، الفصل 5، 3/144.

([30]) “شرح النووي على مسلم” كتاب الإيمان، باب معنى قول الله …إلخ، 3/5.

([31]) “الرسالة القشيرية” فصل في بيان اعتقاد هذه  الطائفة في مسائل الأصول، صـ10.

([32]) “المواهب اللدنية” المقصد الخامس: الإسراء والمعراج، 3/105.

([33]) “السيرة الحلبية” باب ذكر الإسراء والمعراج …إلخ، 1/ 573.

([34]) “تفسير روح البيان” پ27، سورة النجم، تحت الآية: 18، 9/ 231.

([35]) “تفسير روح المعاني” پ27، سورة النجم، تحت الآيات: 18-32، 14/54.

([36]) “مدارج النبوة” باب ششم، دیدارِ الہی میں اختلافِ سلف، جزء 1، ؃ 173۔

([37]) “فتاوی رضویہ” کتاب العقائد والکلام، رسالہ: “منبه المنية بوصول الحبيب إلى العرش والرؤية”، 18/407۔

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *