پندرہویں شعبان کے فضائل واَحکام

Home – Single Post

پندرہویں شعبان کے فضائل واَحکام


حضراتِ گرامی قدر! اللہ تعالی نے دن ورات کو پیدا فرما کر، ان میں سے بعض کو خاص امتیاز بخشا، انہیں میں ماہِ شعبان المعظم کی پندرہویں شب (جسے شبِ براءت یعنی نَجات والی رات کہا جاتا ہے) کو بھی خاص اَہمیت سے سرفراز فرمایا۔ یہ ایک ایسی مبارک رات ہے جس میں اللہ تعالی اپنے بندوں پر خاص نظرِ رحمت فرماتا ہے، اہلِ ایمان پر خصوصى کرم کرتے ہوئے ان کی بخشش ومغفرت فرماتا ہے۔ حضرت سیِّدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ اللهَ يَطْلُعُ عَلَى عِبَادِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ، وَيُمْلِي الْكَافِرِيْنَ، وَيَدَعُ أَهْلَ الْحِقْدِ بِحِقْدِهِمْ حَتَّى يَدَعُوْهُ»([1]) “یقیناً اللہ تعالى شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر خاص تجلّی فرماتا ہے، مؤمنوں کو بخش دیتا ہے، کافروں کو ڈِھیل دیتا ہے، اور آپس ميں کینہ وعداوت (دشمنی) ركهنے والوں کو چھوڑے رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے دل سے عداوَت نکال دیں”۔

میرے دوستو اور بزرگو! حضرت سیِّدنا ابو موسیٰ اَشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ اللهَ لَيَطَّلِعُ فِيْ لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيْعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِـمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ»([2]) “اللہ تعالی شعبان کی پندرہویں رات خاص تجلّی فرماتا ہے، اور مشرِک وچغلخور کے سوا سب کی بخشش فرما دیتا ہے”۔ لہذا ہمیں ہر اُس فعل سے بچنا لازم وضروری ہے، جو ہمارے پروَردگار A کی ناراضگی کا سبب ہو کر، ہماری بخشش ومغفرت میں رکاوٹ کا باعث بنے۔

جانِ برادر! اس رات قبرستان جانا بھی سنّتِ مستحبہ ہے، حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، کہ میں نے ایک رات رسولِ کریم ﷺ کو اپنے گھر میں نہ پایا، تو میں آپ C کی تلاش میں نکلی، کیا دیکھتی ہوں کہ آپ مدینۂ منوّرہ کے قبرستان بقیع میں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: «أَكُنْتِ تَخَافِيْنَ أَنْ يَحِيْفَ اللهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ!» “کیا تمہیں ڈر تھا کہ اللہ اور اُس کا رسول تم پر ظلم کریں گے؟” میں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! میں نے سوچا شاید آپ کسی اَور زَوجہ کے ہاں تشریف لے گئے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ اللهَb يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ»([3]) “اللہ تعالی شعبان کی پندرہویں رات آسمانِ دنیا پر خاص تجلّى فرماتا،  اور بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے بهى زیادہ لوگوں کی بخشش فرماتا ہے”۔ لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ اس رات قبرستان جائیں، اپنی آخرت کی فکر کریں؛ کہ وہ لوگ ہم سے پہلے دنیا سے چلے گئے، اور ہمیں بھی بالآخر اس دارِ فنا سے اُس دارِ بقا کی طرف جانا ہے، اپنے رب کے حضور حاضر ہوکر تمام اعمال کا حساب دینا ہے، تو ضروری ہے کہ اپنے تمام گناہوں، بالخصوص بغض وکینہ اور عداوت ودشمنی سے سچی تَوبہ کریں!۔

دوسری حدیثِ پاک میں فرمایا: «فَيَغْفِرُ لِلْمُسْتَغْفِرِينَ، وَيَرْحَمُ الْـمُسْتَرْحِمِينَ، وَيُؤَخِّرُ أَهْلَ الْحِقْدِ كَمَا هُمْ»([4]) “بخشش چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے، رحم کے طلبگاروں پر رحم فرماتا ہے، اور بُغض وعداوت (دشمنی) رکھنے والوں کو ان کے حال پر ہی چھوڑ دیتا ہے”۔

پيارے بھائیو! حضرت سيِّدنا عبد اللہ بن عَمرو بن عاص ضی اللہ عنہما سے روایت ہے،  مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «يَطَّلِعُ اللهُ b إِلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا لِاثْنَيْنِ: (١) مُشَاحِنٍ، (2) وَقَاتِلِ نَفْسٍ»([5]) “شعبان کی پندرہویں رات اللہ A اپنی مخلوق کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے، سوائے دو2 کے باقی سب کی مغفرت فرما دیتا ہے: (١) کینہ پروَر (2) اور کسی کو ناحق قتل کرنے والا”۔

حضرت سيِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ مدینہ ﷺ نے فرمایا: «يَنْزِلُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِكُلِّ شَيْءٍ إِلَّا رَجُلٍ مُشْرِكٍ، أَوْ فِي قَلْبِهِ شَحْنَاءُ»([6]) “اللہ A پندرہویں شعبان کی رات آسمان ِ دنیا کی طرف تجلّی فرماتا ہے، اور دل میں بغض وعداوت رکھنے والے، اور مشرِک (كافر) کے سوا سب کی مغفرت فرما دیتا ہے”۔

حضرت سيِّدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، دو جہاں کے سردار ﷺ نے فرمایا: «إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، نَادَى مُنَادٍ: هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِر لَهُ، هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيه، فَلَا يَسْأَلُ أَحَدٌ شَيْئاً إِلَّا أُعْطِيَ، إِلَّا زَانِيَةٌ بِفَرْجِهَا أَوْ مُشْرِكٌ»([7]) “جب شعبان کی پندرہویں رات آتی ہے، تو ایک پکارنے والا پکارتا ہے، کہ ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ اس کی مغفرت کر دُوں! ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے عطا کر دُوں! سوائے بدکار عورت اور مشرِک (كافر) کے، جو كوئى مانگتا ہے اسے ملتا ہے”۔

دوسری حدیثِ پاک میں یہ بھی ہے: «لَا يَنْظُرُ اللهُ فِيهَا إِلَى مُشْرِكٍ، وَلَا إِلَى مُشَاحِنٍ، وَلَا إِلَى قَاطِعِ رَحِمٍ، وَلَا إِلَى مُسْبِلٍ، وَلَا إِلَى عَاقٍّ لِوَالِدَيْهِ، وَلَا إِلَى مُدْمِنِ خَمْرٍ»([8]) “اس رات اللہ A مشرِک (کافر)، کینہ پروَر، قطعِ رحمی کرنے والے (رشتہ داری توڑنے والے)، تکبّر سے کپڑا لٹکانے والے، والدین کے باغی ونافرمان، اور شراب کے عادی کی طرف نظرِ رَحمت نہیں فرماتا”۔

حضراتِ گرامی قدر! مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا، کہ كچھ بدنصیب لوگ اپنی بد اعمالیوں کے باعث، اس قدر عظیم اور عام رحمت والی رات میں بھی، اللہ واحد وقہّار کی نظرِ کرم اور بخشش ومغفرت سے محروم رہ جاتے ہیں۔

برادارانِ اسلام! جہاں دیگر مہینوں اور مقدّس ایّام میں روزہ رکھنے کی فضیلت ہے، وہیں ماہِ شعبان کی پندرہ15 کو روزہ رکھنا بھی باعثِ اجر وثواب ہے، حضرت سیِّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُوْمُوْا لَيْلَهَا وَصُوْمُوْا نَهَارَهَا؛ فَإِنَّ اللهَ b يَنْزِلُ فِيْهَا لِغُرُوْبِ الشَّمْسِ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُوْلُ: أَلَا مُسْتَغْفِرٍ لِيْ فَأَغْفِرَ لَهُ! أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ! أَلَا مُبْتَلى فَأُعَافِيَهُ! أَلَا كَذَا…، حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ»([9]) “جب پندرہ15 شعبان کی رات آئے، تو اس میں قیام یعنی عبادت کرو، اور اس کے دن میں روزہ رکھو، کہ اس رات اللہ تعالی سورج غروب ہوتے ہی، آسمانِ دنیا پر خاص تجلّی فرما کر ارشاد فرماتا ہے، کہ ہے کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا کہ اسے بخش دُوں! ہے کوئی روزی کا طلبگار کہ اسے روزی دُوں! ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اسے عافیت عطا کر دُوں! ہے کوئی ایسا …! ہے کوئی ایسا …! یہاں تک کہ فجر کا وقت ہو جائے”۔

میرے محترم بھائیو! حضرت سيِّدنا ابو اُمامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ اَبَد قرار ﷺ نےفرمايا: «خمسُ ليالٍ لا تُرَدُّ فيهنّ الدّعوةُ: (1) أوّلُ ليلةٍ من رجب، (2) وليلةُ النِّصف من شعبان، (3) وليلةُ الجمعة، (4) وليلةُ الفِطر، (5) وليلةُ النَّحر»([10]) “پانچ5 راتیں ایسی ہیں، جن میں دعا ردّ نہیں ہوتی: (1) رجب کی پہلی رات، (2) شعبان المعظم کی پندرہویں شب یعنی شبِ براءت، (3) شبِ جمعہ، (4) شبِ عید الفطر یعنی چاند رات، (5) اور شبِ نحر یعنی ذو الحجۃ الحرام کی دسویں شب”۔

عزیز دوستو! حضرتِ سیِّدنا مُعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبئ رَحمت ﷺ نے فرمایا: «مَن أَحْيَا اللَّيَالِي الْخمس، وَجَبتْ لَهُ الْجنَّةُ: (1) لَيْلَةَ التَّرويَة، (2) وَلَيْلَةَ عَرَفَةَ، (3) وَلَيْلَةَ النَّحْر، (4) وَلَيْلَةَ الْفِطر، (5) وَلَيْلَة النّصْف من شعْبَان»([11]) “جس نے ان پانچ5 راتوں میں جاگ کر عبادت کی، اس کے ليے جنّت واجب ہو گئی: (1) شبِ تَرویہ، یعنی آٹھویں ذى الحجہ، (2) شبِ عرَفہ، یعنی نویں ذى الحجہ، (3) قربانی کی رات، (4) شبِ عید الفطر، (5) اور شعبان کی پندرہویں شب”۔

محترم بھائیو! “علمائے شام كا بیدارئ شبِ براءت میں ایک قول ہے، کہ مسجدوں میں اجتماعى طَور پر بیداری مستحب ہے۔ یہ قول اکابر تابعین مثل حضرت خالد بن معدان اور لقمان بن عامر کا ہے، امامِ مجتہد اسحاق بن راہْوَیہ نے بھی اس بارے میں ان کی مُوافقت فرمائی ہے”([12])۔

برادرانِ اسلام! شبِ براءت، دوزخ کی آگ سے نَجات ،چھٹکارے اور آزادی کی رات ہے، لیکن بد قسمتی سے آج بہت سے مسلمان اسلامی تعلیمات، اور علمائے دین کی صحبتِ بابرکات سے دُوری کے باعث، بے راہ رَوی کا شکار ہوکر، اپنے ہی ہاتھوں اپنا مال فضول خرچ کر کے، آتشبازی کا سامان خریدتے، اور آخرت کی تباہی وبربادی مول لیتے ہیں۔ یقیناً یہ کام حرام اور جُرم ہے؛ کہ اس میں مال کا ضائع کرنا ہے، قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ﴿لَا تُبَذِّرْ تَبْذِيراً (26) إِنَّ الْـمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُوراً﴾([13]) “کسی طرح بےجا خرچ نہ کیا کرو! کیونکہ فضول خرچ کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے پروَردگار کا بہت بڑا ناشکرا ہے”۔

عزيزان محترم! شیخِ  محقّق عبد الحق محدِّث دہلوی رحمہُ اللہ فرماتے ہیں کہ “یہ کام بُری بدعات میں سے ہے، جو ہندوستان کے کئی شہروں میں لوگوں نے رَواج  دے رکھا ہے، جیسے (پندره شعبان كى رات) آگ سے کھیلنا، اور تماشہ کرنے کے ليے جمع ہونا، گندھک (مثلاً بارود) جلانا وغیرہ”([14])۔

علّامہ ابن الحاج مالکی رحمہُ اللہ فرماتے ہیں کہ “اس رات کے بڑے فضائل ہیں، یہ بڑی خیر والی رات ہے، ہمارے اَسلاف کِرام اس کی بڑی تعظیم کیا کرتے، اور اس رات کے آنے سے پہلے ہی اس کی تیاری کرليتے تھے”([15])۔

علّامہ ابن نجَیم مصرى رحمہُ اللہ فرماتے ہیں کہ “شعبان کی پندرہویں رات کو بیدار رہ كر عبادت كرنا مستحب ہے” ([16])۔

آخر میں اس مبارک رات میں کرنے والے کیا کیا کام ہیں؟ ان کا ذکر کیا جاتا ہے؛ تاکہ اِفراط وتفریط سے بچتے ہوئے، اس رات کے فضائل کو سمیٹا جاسکے:

(۱) نمازِ عشاء اور نمازِ فجر باجماعت کا اہتمام۔

(۲) اس رات میں كثرتِ عبادت کی توفیق ہو یا نہ ہو، گناہوں سے بچنے کا خاص اہتمام کرنا، بالخصوص ان گناہوں سے جو اس رات کے فضائل سے محرومی کا باعث بنتے ہیں۔

(۳) اس رات میں توبہ واِستِغفار اور کثرت سے دُرود وسلام کا خاص اہتمام، اور ہر قسم کی رُسومات اور فُضول كاموں سے اجتناب کرنا۔

(۴) اپنے اور پوری امّت کے لیے ہر قسم کی خیرکی دعا۔

(۵) بقدر استطاعت ذِکر واَوراد، نوافل اور تلاوتِ قرآن پاک کا اہتمام۔

(۶) اگر بآسانی ممکن ہو تو پندرہ15 شعبان کا روزہ رکھنا۔

واضح رہے کہ مذکورہ تمام اعمال شب براء ت کا لازمی حصہ نہیں، بلکہ ان کا ذکر محض اس لیے ہے کہ ان میں مشغولی کے سبب ہر قسم کے گناہوں سے بچ کر، اجر وثواب کا ذخیرہ اکٹھا کیا جاسکے۔

اے اللہ! ہمیں پندرہ ۱۵ شعبان المعظم میں بھی زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو اَور زیادہ فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ اپنی سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارا خاتمہ بالخیر فرما، یہود وہنود، اور تمام دشمنانِ اسلام کی بیہودہ رُسومات سے بچا، ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو اَور زیادہ فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں ایسا بندہ بنا جو تجھے اور تیرے حبيبِ كريم ﷺ کو پسند آجائے، اے اللہ ! ہمیں اعمالِ صالحہ کی توفیق اور خاتمہ بالخیر کی نعمتِ عظمیٰ عطا فرما، اے اللہ! ہماری ، ہمارے نسل در نسل بچوں، اور تمام مسلمانوں  کے ایمان کی حفاظت فرما، اے اللہ! ہمیں جنّت میں داخلہ اور جہنم سے نجات  عطا فرما،  ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما، ہمیں دنیا میں بھلائی دے، اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، ہمیں عذابِ دوزخ سے محفوظ فرما، ہميں عبادت پر خوب استقامت عطا فرما، ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!

اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔

الٰہی! تمام مسلمانوں کی جان، مال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، جن مصائب وآلام کا انہیں سامنا ہے، ان سے نَجات عطا فرما۔ہمارے وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما، اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین ووطنِ عزیز کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، ان کے درجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق  عطا فرما۔

اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام ﷡ کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) “المعجم الكبير” باب اللام ألف، ما أسند أبو ثعلبة، ر: ٥٩3، ٢٢/٢٢٤.

([2]) “سنن ابن ماجه” كتاب إقامة الصلاة والسنّة فيها، ر: 1390، صـ٢٣٤.

([3]) “سنن الترمذي” أبواب الصوم، ر: ٧٣٩، صـ١٨٧.

([4]) “شُعب الإيمان” 23- باب في الصيام، ر: ٣835، 3/١406.

([5]) “مُسند الإمام أحمد” مسند عبد الله بن عمرو، ر: 665٣، 2/589.

([6]) “شُعب الإيمان” 23- باب في الصيام، ر: ٣827، 3/١403.

([7]) “شُعب الإيمان” 23- باب في الصيام، ر: ٣836، 3/١406.

([8]) “شُعب الإيمان” 23- باب في الصيام، ر: ٣837، 3/١407.

([9]) “سنن ابن ماجه” كتابُ إقامة الصَّلاة والسنّة فيها، ر: 1388، صـ234.

([10]) “تاريخ دِمشق” تحت ر: 2603، 10/408.

([11]) “الترغیب والترهیب” کتاب العیدَین والأُضحِیة، ر: ٢، ٢/98.

([12]) “مَراقي الفلاح” كتاب الصّلاة، صـ154.

([13]) پ15، الإسراء: 26، 27.

([14]) “ما ثبتَ من السنّة” شهر شعبان، المقالة 3، صـ282.

([15]) “المَدخل” ليلة نصف شعبان، 1/299.

([16]) “البحر الرائق” كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، 2/92، 93 بتصرّف.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *