
Table of contents
- اولیاء الله کی شان
- شیخ ابو بکر رحمہ اللہ کی بِشارت
- شیخ ابو مدیَن رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی گردن جھکا دی
- آپ رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش اور اسمِ گرامی
- وقتِ ولادت اور بچپن میں کرامات کاظہور
- آپ رحمۃ اللہ علیہ کو بچپن میں ہی اپنی وِلایت کاعلم تھا
- آپ رحمۃ اللہ علیہ کے بیان ووعظ کی برکتیں
- ہر رات ختمِ قرآن ِ مجید
- چالیس سال تک عشاء کے وضو سے نمازِ فجر
- شیاطین سے مقابلہ
- ڈاکو بھی تائب ہوگئے
- آپ رحمۃ اللہ علیہ کا حُلیہ مبارکہ
- آپ رحمۃ اللہ علیہ کا پہلا وعظ مبارک
- جنّات بھی آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وعظ وبیان سننے حاضر ہوتے
- آپ رحمۃ اللہ علیہ کی مبارک آواز اور شرکائے وعظ پر ہیبت
- چالیس سال تک استقامت کے ساتھ وعظ و بیان فرما تے رہے
- پانچ سو سے زائد یہودیوں ا ور عیسائیوں کا قبولِ اسلام
- آپ ظاہری وباطنی اَوصاف ِ حمیدہ کے جامع ہیں
- تیرہ علوم میں تقریر فرما یا کر تے
- آپ رحمۃ اللہ علیہ کا علم وعمل اور تقویٰ وپرہیزگاری
- آپ رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کی برکتیں
- آپ علم کا سمندر ہیں
- آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ِمبارک
- ایک ضروری گزارش
- ملفوظاتِ غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ
- دعا
اولیاء الله کی شان
برادرانِ اسلام! اللہ تعالی نے اپنے بندوں میں سے اہلِ ایمان کو خاص مقام عطا فرمایا، اور پھر اِن میں سے متّقین اور پرہیزگاروں کو اپنی محبت واُلفت کے جام پلا کر، انہیں ولایت کے اعلی درجہ پر فائز فرمایا، اور اپنی قدرت سے انہیں اختیار وکمالات دے کر، ہر طرح کے رنج وغم سے آزاد کر دیا۔ یہی وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہیں زمانہ اولیاء اللہ کہہ کر پکارتا ہے، انہی محبوبانِ خدا میں سے ایک اَہم اور عالی مرتبت شخصیت، پیرانِ پیر دستگیر روشن ضمیر، حضرت سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ذاتِ والا صفات بھی ہے، جن كی پیدائش سے قبل ہی لوگوں میں ان کے مقام ومرتبہ کا چرچا ہونے لگا تھا۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :صوفیائے کرام اور اُن کی تعلیمات
شیخ ابو بکر رحمہ اللہ کی بِشارت
رفیقانِ گرامی قدر! شیخ ابوبکر بن ہوار نے ایک روز اپنے مریدین سے فرمایا کہ “عنقریب عراق میں ایک عجمی شخص ظاہر ہوگا، جو اللہ تعالى اور لوگوں کے نزدیک عالی مرتبت ہوگا، اُس کا نام عبد القادر ہوگا، اور وہ بغداد شریف میں سکونت اختیار کرے گا، اور اللہ کے حکم سے، خود اپنے بارے میں یہ اعلان فرمائے گا “میرا یہ قدم تمام اولیاء کی گردنوں پر ہے”، اور زمانے کے تمام اولیائے کرام رحمۃ اللہ علیہ اُس کے فرمانبردار ہوں گے”([1])۔
پھر جب حضرت سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ اعلان فرمایا، تو نہ صرف جلسہ میں موجودین، بلکہ دُور دراز اپنی ریاضتوں میں مصروف اولیائے کرام رحمۃ اللہ علیہ نے بھی سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے، آپ رحمۃ اللہ علیہ کی محبت وادب کو اپنے سَروں کا تاج بنایا۔
شیخ ابو مدیَن رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی گردن جھکا دی
سلسلہ شاذليہ کے امام حضرت ابو الحسن شاذلی، اپنے شيخ عبد السلام مشيش كے خلیفہ ہیں([2])، اور وہ امام ابو مدین غوث مغربی کے، اور وہ سرکارِ غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں۔ لہٰذا شاذلی سلسلہ بھی سلسلہ قادریہ ہی کا فیض ہے۔
حضرت شیخ ابو مدیَن بن شعیب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دن ملکِ مغرب میں اپنے ہمراہوں کے درمیان اپنی گردن کو جھکا کر فرمایا: “میں بھی ان میں سے ہوں، اے اللہ میں تجھے اور تیرے ملائکہ کو گواہ بناتا ہوں، کہ یقیناً میں نے سُن لیا اور اطاعت کی”، آپ کے ہمراہوں نے آپ سے اس بارے میں عرض کی تو فرمایا کہ “شیخ عبد القادر نے ابھی ابھی بغداد شریف میں یہ فرمایا ہے کہ “میرا یہ قدم تمام اَولیاء اللہ کی گردنوں پر ہے”۔ ہم نے اس دن کی تاریخ کو یاد رکھا، پھر عراق سے ہمارے مسافر ساتھی آئے، تو انہوں نے ہمیں خبر دی کہ شیخ عبد القادر نے بغداد شریف میں اُسی تاریخ اور وقت کویہ بات ارشاد فرمائی تھی، جو تاریخ ہم نے ملکِ مغرب میں یاد رکھی تھی([3])۔
امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے برادرِ اصغر، شہنشاہِ سخن، استادِ زَمَن، حضرت مولانا حسَن رضا خانرحمۃ اللہ علیہ اسے اپنے ایک شعر میں یوں بیان کرتے ہیں ؏
| سَروں پر جسے لیتے ہیں تاج والے | تمہارا قدم ہے وہ یا غوثِ اعظم |

یہ بھی ضرور پڑھیں :مزاراتِ اولیاء پر ہونے والی خُرافات کی روک تھام
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش اور اسمِ گرامی
سرکارِ بغداد حضور غوث ِپاک رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ مبارک “عبد القادر” ہے، اور آپ رحمۃ اللہ علیہ ۴۷١ھ میں ملکِ ایران کے صوبہ جیلان میں پیدا ہوئے([4])۔
وقتِ ولادت اور بچپن میں کرامات کاظہور
میرے بزرگو ودوستو! سیِّدنا غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ماہِ رمضان المبارک میں ہوئی، اور پہلے ہی دن سے آپ رحمۃ اللہ علیہ نے روزہ بھی رکھ لیا، وقتِ سحری سے اِفطار تک آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنی والده محترمہ کا دودھ نہ پیتے، چنانچہ سیِّدنا غوث الثقلین شیخ عبد القادر جیلانیرحمۃ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ حضرت سیِّدہ ام الخیر فاطمہ رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتیں کہ “جب میرے صاحبزادے عبد القادر کی ولادت ہوئی، تو وہ رمضان المبارک میں دن کے وقت دودھ نہیں پیتے تھے، آئندہ سال مطلع صاف نہ ہونے کے سبب رمضان کا چاند نظر نہیں آیا، تو لوگ میرے پاس دریافت کرنے کے ليے آئے، میں نے کہا کہ “میرے بچے نے آج دن میں دودھ نہیں پیا”، پھر معلوم ہوا کہ آج رمضان کا دن ہے، تب ہمارے شہر میں یہ بات مشہور ہوگئی، کہ سیِّدوں میں ایک ایسا بچہ پیدا ہوا ہے، جو رمضان المبارک میں دن کے وقت دودھ نہیں پیتا”([5])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :جعلی پیروں کا شر وفساد
آپ رحمۃ اللہ علیہ کو بچپن میں ہی اپنی وِلایت کاعلم تھا
میرے محترم بھائیو! محبوبِ سبحانی شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا، کہ آپ کو اپنے ولی ہونے کا علم کب ہوا؟ ارشاد فرمایا کہ “میری عمر دس10 سال تھی، میں مکتب میں پڑھنے جاتا، تو دیکھتا كہ میرے آنے پر فرشتے بچوں سے فرماتے کہ “ولیُ اللہ کے بیٹھنے کے لیے جگہ كشاده کر دو!”([6])۔
حضراتِ محترم! غور کیجیے کہ اللہ تعالی کس طرح اپنے ولیوں کو عزّت واحترام سے نوازتا، اور پھر اپنی مخلوق کے دلوں میں بھی ان کی محبت ڈال دیتا ہے! لہذا ہمیں بھی اولیاء اللہ کی بےادبی سے بچتے ہوئے، ان سے سچی محبت اور دل سے قدر کرنی چاہیے۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے بیان ووعظ کی برکتیں
حضرت سيِّدنا بزّار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، کہ میں نے حضرت سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو کرسی پر بیٹھ کر فرماتے سنا، کہ میں نے نمازِ ظہر سے قبل حضور سیّدِ عالَم ﷺ کی زیارت کی، نبئ كريم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ “بیٹا تم بیان ووعظ کیوں نہیں کرتے؟” میں نے عرض کی کہ اے میرے نانا جان! میں ایک عجمی شخص ہوں، بغداد میں عرب کے فصیح ترین لوگوں کے سامنے بیان کیسے کروں؟ سركارِ اَبَد قرار ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ “بیٹا اپنا منہ کھولو!”، میں نے اپنا منہ کھولا، تو رحمتِ عالميان ﷺ نے میرے منہ میں سات7 بار اپنا لُعابِ دہن مبارک ڈالا، اور فرمایا کہ “لوگوں کے سامنے وعظ کرو! اور انہیں حکمت ونصیحت کے ساتھ اپنے رب تعالى کی طرف بلاؤ!”۔
پھر میں نے نمازِ ظہر ادا کی اور وعظ کے لیے بیٹھ گیا، بہت سے لوگ میرے پاس آکر مجھ پر چِلّائے، اس کے بعد میں نے حضرت سیِّدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کی زیارت کی، کہ میرے سامنے مجلس میں کھڑے ہیں اور فرماتے ہیں کہ “اے میرے بیٹے! تم وعظ کیوں نہیں کہتے؟” میں نے عرض کی کہ بابا جان! لوگ مجھ پر چلّاتے ہیں، پھر آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اپنا منہ کھولو، میں نے منہ کھول دیا، تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے میرے منہ میں چھ6 بار اپنا لُعابِ دہن مبارک ڈالا، میں نے عرض کی کہ آپ نے سات7 بار کیوں نہیں ڈالا؟ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ “رسول اللہ ﷺ کے ادب کی خاطر”۔
پھر وہ میری آنکھوں سے اَوجھل ہو گئے، اور میں نے یہ شعرپڑھا: (جس کا ترجمہ یہ ہے:) “فکرِ آخرت کا تیراک، دل کے سمندر میں غَوطہ لگا کر، معرفتِ الہی کے موتی تلاش کر کے، انہیں سینے کے کنارے پر لا کر، اپنی زبان سے پاکیزہ الفاظ کے ذریعے، خوبصورت اور مقدّس مقامات میں، لوگوں کی سماعتوں کی نذر کرتا ہے، اور وہ انہیں پسند کرتے ہوئے، اِطاعتِ الٰہی کے لیے قبول کر لیتے ہیں([7])۔ یعنی علماء، اولیاء وصالحینِ امّت اور عارفین کی زبانوں سے جاری ہونے والا کلام، مخلوقِ خدا کی اصلاح اور بھلائی کے ساتھ ساتھ، معرفتِ رب A اور دونوں جہاں میں کامیابی کا سامان بھی بنتا ہے۔
ہر رات ختمِ قرآنِ مجید
حضور سیِّدنا غوث الثقلین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “میں پندرہ15 سال تک ہر رات ایک قرآنِ پاک ختم کرتا رہا”([8])۔ اللہ تعالی اپنے ان بندگانِ خاص کے صدقے ہمیں بھی قرآنِ کریم سے کامل محبت، اور کثرت سے تلاوت کی توفیق عطا فرمائے!۔
چالیس سال تک عشاء کے وضو سے نمازِ فجر
شیخ ابو عبد اللہ محمد بن ابو الفتح ہَروی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “میں نے چالیس40 سال تک حضرت شیخ سیِّد محی الدین عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں وقت گزارا، اس مدّت میں آپ رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ عشاء کے وضو سے صبح کی نماز ادا کرتے، اور آپ رحمۃ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ جب بھی بے وضو ہوتے، تو فوراًوضو فرما کر دو2 رکعت نمازِ نفل پڑھا کرتے”([9])۔
محترم بھائیو! اللہ تعالی کے برگزیدہ بندوں کا تو یہ عالَم ہے! اور ایک ہم ہیں کہ فرائض وواجبات کا بھی اہتمام صحیح طور پر نہیں کرتے، اس پر ہمیں بہت غور، فکر اور عمل کی ضرورت ہے!!۔
شیاطین سے مقابلہ
شیخ عثمان صریفینی نقشبندی فرماتے ہیں، کہ میں نے شہنشاہِ بغداد، حضور غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ کی زبانِ مبارک سے سنا کہ “میں شب وروز بیابانوں اور ویران جنگلوں میں رہا کرتا تھا، شیاطین مسلّح ہو کر ہیبت ناک شکلوں میں قطار دَر قطار میرے پاس آتے، اور مجھ سے مقابلہ کرتے ہوئے مجھ پر آگ پھینکتے، مگر میں اپنے دل میں بہت زیادہ ہمّت وطاقت محسوس کرتا، اور غیب سے کوئی مجھے پکار کر کہتا: “اے عبد القادر اُٹھو! ان کی طرف بڑھو، مقابلے میں ہم تمہیں ثابت قدم رکھیں گے، اور تمہاری مدد کریں گے!”، پھر جب میں ان کی طرف بڑھتا، تو وہ دائیں بائیں یا جدھر سے آتے اُسی طرف بھاگ جاتے، کبھی ان میں سے صرف ایک ہی شيطان میرے پاس آتا، اور ڈرا کر مجھے کہتا کہ یہاں سے چلے جاؤ! میں اُسے ایک طمانچہ مارتا تو وہ بھاگتا نظر آتا، پھر میں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِیْمِ پڑھتا تو وہ جَل کر خاک ہو جاتا([10])۔
حضراتِ گرامی قدر! یہ سب کچھ اللہ کریم کی طرف سے عطا کردہ انعام واِکرام، اور خاص فضلِ عمیم کے اثرات ہوتے ہیں، اللہ تعالی جسے چاہے یہ قوّت وطاقت عطا فرماتا ہے۔
ڈاکو بھی تائب ہوگئے
سرکارِ بغداد حضورِ غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “میں علمِ دین حاصل کرنے کے ليے، قافلے کے ہمراہ جیلان سے بغداد کے لیے روانہ ہوا، جب ہم ہمدان سے آگے بڑھے، تو ساٹھ60 ڈاکو ہمارے قافلے پر ٹوٹ پڑے، اور تمام مال لُوٹ لیا، لیکن مجھ سے کسی نے تعرّض (چھیڑ چھاڑ کا مُعاملہ) نہیں کیا، پھر ایک ڈاکو نے میرے پاس آکر پوچھا: اے لڑکے! کیا تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ میں نے جواب دیا کہ میرے پاس چالیس40 دینار ہیں، اس نے پوچھا: کہاں ہیں؟ میں نے کہا کہ میری گُدڑی کے نیچے، ڈاکو اس راست گوئی کو مذاق سمجھ کر چلا گیا، اس کے بعد دوسرا ڈاکو آیا،اور اُس نے بھی ویسے ہی سوالات کيے، اور میں نے وہی جوابات اسے بھی دیے، وہ بھی اسی طرح مذاق سمجھتے ہوئے چلتا بنا۔ جب سارے ڈاکو اپنے سردار کے پاس جمع ہوئے، تو انہوں نے سردار کو میرے بارے میں بتایا، مجھے وہاں بلا لیا گیا، وہ لوگ مال کی تقسیم میں مصروف تھے، ڈاکوؤں کا سردار مجھ سے مخاطِب ہوا، کہ تمہارے پاس کیا ہے؟ میں نے کہا کہ میرے پاس چالیس40 دینار ہیں، پوچھا: کہاں ہیں؟ میں نے کہا کہ میری گُدڑی کے نیچے، اُس نے ڈاکوؤں کو حکم دیتے ہوئے کہا، کہ اس کی تلاشی لو! تلاشی لینے پر جب سچائی کا اظہار ہوا، تو اُس نے تعجب سے سوال کیا، کہ تمہیں سچ بولنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ میں نے کہا کہ میری والدہ محترمہ نے مجھے ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین فرمائی ہے، میں اُن كا وعدہ نہیں توڑ سکتا! اِس پر ڈاکوؤں کا سردار رو کر کہنے لگا، کہ تم اپنی ماں سے کيے ہوئے وعدے سے منحرِف نہیں ہوئے، اور میں نے اپنی ساری عمر اپنے رب تعالى سے کيے ہوئے وعدے کے خلاف گزار دی! اسی وقت وہ سردار اُن ساٹھ60 ڈاکوؤں سمیت میرے ہاتھ پر تائب ہوا، اور قافلے کا لُوٹا ہوا مال واپس کر دیا”([11])۔
سبحان اللہ! جس طرح حضور غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے، اپنے بچپن ہی میں راست گوئی، اور اپنی والدہ محترمہ کی اچھی تربیت کی برکت سے، راہ سے بھٹکے ہوؤں کو ہدایت وتَوبہ کی طرف راغب کیا، ہم بھی اس مقبولِ بارگاہِ الٰہی کی خدمت میں، حضرت حسن رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے اس شعر کی صورت میں استغاثہ کرتے ہیں ؏
| کرو گے کب تک اچھا مجھ بُرے کو | مرے حق میں ہے کیا ارشاد یا غوث! |
کیونکہ ان اولیاء اللہ کی دعا اور نگاہِ کیمیا اثر سے، اللہ تعالی بندوں کی تقدیریں بھی بدل دیتا ہے۔ اس پر کسی نے کیا ہی خوبصورت شعر کہا ہے ؏
| نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی | بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی |
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا حُلیہ مبارکہ
میرے بزرگو ودوستو! امام الاولیاء، شیخ الاسلام، محی الدین سیِّد عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ، ضعیف البدن، میانہ قد، فراخ سینہ، گھنی اور دراز داڑھی، مِلے ہوئے ابرُو، بڑی آنکھوں، بلند آواز، گندمی رنگ اور وافر علم و فضل والے تھے([12])۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا پہلا وعظ مبارک
حضور غوثِ اعظم حضرت سیِّدنا شیخ محی الدّین عبد القادر جیلانی قطبِ ربّانی رحمۃ اللہ علیہ کا، پہلا وعظ اجتماعِ محلہ برانیہ میں، ماہِ شوّال المکرَّم ۵۲۱ ہجری میں عظیم الشان جلسہ میں ہوا، جلسے پر ہیبت ورَونق چھائی ہوئی تھی، اولیائے کرام اور فرشتوں نے اسے ڈھانپا ہوا تھا، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب وسنّت کے واضح الفاظ کے ساتھ، لوگوں کو اللہ تعالى کی طرف بلایا، تو وہ سب لوگ اطاعت وفرمانبرداری کے ليے جلد آگے بڑھنے لگے([13])۔
جنّات بھی آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وعظ وبیان سننے حاضر ہوتے
شیخ ابو زکریا یحییٰ بن ابی نصر صحراوی رحمۃ اللہ علیہ کے والدفرماتے ہیں کہ “میں نے ایک بار کسی عمل کے ذریعے جنّات کو بلایا، تو انہوں نے آنے میں کچھ دیر کر دی، پھر وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے، کہ جب شیخ عبد القادر جیلانی قطب ِربّانی رحمۃ اللہ علیہ بیان فرما رہے ہوں، اس وقت ہمیں نہ بلایا کریں، میں نے کہا کہ وہ کیوں؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم لوگ حضور غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں، میں نے کہا کہ کیا تم بھی ان کی مجلس میں جاتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! ہم انسانوں سے زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں، ہمارے بہت سے گروہ ہیں، جنہوں نے اسلام قبول کیا ہے، اور ان سب نے حضور غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر توبہ بھی کی ہے([14])۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی مبارک آواز اور شرکائے وعظ پر ہیبت
حضرت سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس مبارک میں، باوجود یہ کہ شرکائے اجتماع بہت زیادہ ہوتے، لیکن اس کے باوجود آپ رحمۃ اللہ علیہ کی آواز مبارک جیسے قریب والوں کو سنائی دیتی، ویسے ہی دُور والوں کو بھی سنائی دیتی، یعنی دور ونزدیک والوں کے ليے آپ رحمۃ اللہ علیہ کی آواز مبارک یکساں تھی، آپ رحمۃ اللہ علیہ شرکائے اجتماع کے دلوں کے احوال کے مطابق بیان فرماتے، اور کشف کے ساتھ ان کی طرف متوجہ ہوتے۔ جب آپ رحمۃ اللہ علیہ منبرپر کھڑے ہوتے تو لوگ بھی آپ کے جلال کے سبب کھڑے ہو جاتے، پھر جب آپ رحمۃ اللہ علیہ اُن سے فرماتے کہ “چپ رہو!” تو سب ایسے خاموش ہو جاتے، کہ آپ کی ہیبت سے ان کی سانسوں کے علاوہ کچھ بھی سنائی نہ دیتا([15])۔
چالیس سال تک استقامت کے ساتھ وعظ وبیان فرماتے رہے
سیِّدی غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے، سیِّدنا عبد الوہّاب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، کہ حضور سیِّدنا محبوبِ سبحانی شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے، ۵۲۱ھ سے ۵۶۱ھ تک چالیس40 سال مسلسل مخلوقِ خدا کو وعظ و نصیحت فرمائی([16])۔
پانچ سو سے زائد یہودیوں ا ور عیسائیوں کا قبولِ اسلام
حضراتِ گرامی قدر! حضرت سیِّدنا شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “میرے ہاتھ پر پانچ سو500 سے زائد، یہودیوں اور عیسائیوں نے اسلام قبول کیا، اور ایک لاکھ سے زیادہ ڈاکو، چور، فُسّاق وفجّار، فسادی اور بدعتی لوگوں نے توبہ کی، اور یہ بہت بڑی بھلائی ہے”([17]) جو اللہ تعالی نے عطا فرمائی۔
آپ ظاہری وباطنی اَوصافِ حمیدہ کے جامع ہیں
برادرانِ اسلام! مفتئ عراق محی الدین شیخ ابو عبد اللہ محمد بن علی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “حضرت سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانی قطبِ ربّانی رحمۃ اللہ علیہ، خشیتِ الہی میں جلد رونے والے، باہیبت، مستجاب الدّعوات، کریم الاَخلاق، خوشبودار پسینے والے، بُری باتوں سے دُور رہنے والے، حق کی طرف لوگوں سے زیادہ قریب، نفسانی خواہشات پر قابو پانے والے، اپنی ذات کے لیے غضب ناک نہ ہونے والے، سائل کو نہ جھڑکنے والے، علم سے مہذَّب تھے، آدابِ شریعت آپ کے ظاہری اَوصاف، اور حقیقت آپ کا باطن تھا”([18])۔
تیرہ علوم میں تقریر فرمایا کرتے
میرے عزیز بھائیو! ابو عبد اللہ محمد بن خضر حسینی مُوصلی فرماتے ہیں، کہ میں نے اپنے ابا جان کو فرماتے سنا ہے کہ “حضرت سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ تیرہ13 علوم میں تقریر فرمایا کرتے، اور آپ کے مدرسہ عالیہ میں لوگ آپ سے تفسیر، حدیث، فقہ اور علم الکلام پڑھتے، دوپہر سے پہلے اور بعد، دونوں وقت لوگوں کو تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، اصول اور نحو پڑھاتے، اور ظہر کے بعد مختلف قراءتوں کے ساتھ قرآن مجید پڑھایا کرتے”([19])۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا علم وعمل اور تقویٰ وپرہیزگاری
محترم بھائیو! حضرت شیخ امام مُوَفَّق الدّین بن قُدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “ہم ۵۶۱ ہجری میں بغداد شریف گئے، تو دیکھا کہ شیخ سیِّد عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اُن لوگوں میں سے ہیں، جنہیں وہاں پر علم و عمل اور حال (روحانیت) وفتویٰ نویسی کی بادشاہت دی گئی ہے، کوئی طالب علم یہاں کے علاوہ، کسی اَور جگہ کا ارادہ اس ليے نہیں کرتا، کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ذات میں تمام علوم جمع ہیں، اور جو لوگ آپ رحمۃ اللہ علیہ سے علم حاصل کرتے، آپ اُن تمام طلبہ کو پڑھانے میں صبر فرماتے، آپ کا سینہ فراخ تھا، آپ سَیر چشم تھے، اللہ تعالی نے آپ میں اَوصاف ِجمیلہ اور اَحوالِ عزیزہ جمع فرما دیے تھے”([20])۔ الله تعالی ان خوبیوں میں سے ہمیں بھی حصہ عطا فرمائے!۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کی برکتیں
عزیزانِ محترم! شیخ ابو عبد اللہ محمد بن علی سنجاری کے والد فرماتے ہیں کہ “حضرت سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ دنیا کے سرداروں میں منفرِد ہیں، اولیاء اللہ میں سے ایک فَرد ہیں، اللہ تعالی کی طرف سے مخلوق کے ليے ہدیہ ہیں، وہ شخص نہایت نیک بخت ہے جس نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا، وہ شخص ہمیشہ شاد رہے جس نے آپ کی صحبت اختیار کی، وہ شخص ہمیشہ خوش رہے جس نے حضرت سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں رات بسر کی”([21])۔
آپ علم کا سمندر ہیں
میرے محترم بھائیو! شیخ عبد الحق محدِّثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے علمی کمالات سے متعلق، ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ “ایک روز کسی قاری نے، آپ رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس شریف میں قرآنِ مجید کی ایک آیتِ مبارکہ تلاوت کی، آپ نے اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں پہلے ایک معنی، پھر دو2 اس کے بعد تین3، یہاں تک کہ حاضرین کے علم کے مطابق آپ نے اس آیت مبارکہ کے گیارہ11 مَعانی بیان فرمائے، اور پھر دیگر وُجوہات بیان فرمائیں جن کی تعداد چالیس40 تھی، اور ہر وَجہ کی تائید میں علمی دلائل بیان فرمائے، اور ہر معنی کے ساتھ سند بھی بیان فرمائی، آپ کے علمی دلائل کی تفصیل سے سب حاضرین متعجب ومتحیر رہ گئے”([22])۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ِمبارک
حضرت سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ۹ربیع الآخر ۵۶۱ ہجری میں انتقال فرمایا، وصال کے وقت آپ رحمۃ اللہ علیہ کی عمر شریف تقریباً نوّے۹۰ برس تھی”([23])۔ پاک وہند میں عرصہ دراز سے 11 ربیع الآخر کو، آپ رحمۃ اللہ علیہ کے ایصالِ ثواب کے لیے گیارہویں شریف کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
ایک ضروری گزارش
جانِ برادر! گیارہویں شریف اور اس طرح کی دیگر مناسبات میں، کھلائے جانے والے کھانے کو، اِنفاق (خرچ کرنا) فی سبیل اﷲ سمجھ کر وسعت دیں، ختم شریف کے لیے عمدہ کھانے، مستحقین کے لیے کپڑے اور نقدی، مریضوں کے لیے پھل اور دوائیاں، بیروزگاروں کے لیے عطیات سے فنڈ مقرّر کریں۔ اس فنڈ سے بیروزگاروں کو گزارا اَلاؤنس، غریب بچیوں کے لیے شادی کا بندوبست، نادار طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف، معذوروں کے لیے کَفالت خانے، اور حادثات سے متاثرین کی مدد کی جائے، رَفاہی، تعلیمی اور تربیتی ادارے قائم کیے جائیں، بیواؤں، یتیموں کے لیے کَفالتِ عامّہ کا بندوبست کیا جائے۔
ان تمام اعمالِ صالحہ کا ثواب سرکارِ غوثِ اعظم اور اپنے دیگر بزرگوں کو پہنچایا جائے؛ تاکہ ان کے اِحسانات کا کسی قدر حق ادا ہو، اور ان کے درَجات مزید بلند، اور ان کے فیوض و برکات مزید عام ہوں۔ نیز عام مسلمانوں کو بھی اس کا ایصالِ ثواب کیا جائے؛ تاکہ ان کی بھی اُخروی نَجات کا ذریعہ ہو۔
ان نیکیوں کے صدقہ اور وسیلہ سے پروَردگار سے دعا ئیں کی جائیں؛ کہ مسلمانوں پر آنے والی مصیبتيں ٹل جائیں، ان کی عزّت وآزادی بحال ہو، ان کی کمزوریاں، محکومیاں اور محرومیاں ختم ہوں، ان کے باہمی اختلافات وتنازعات نابُود ہوں، وہ علم، عمل اور جُہدِ مسلسل کے اسلحہ سے لیس ہو کر، میدانِ مُسابَقت میں اُتریں، اور اپنا کھویا ہوا مقام ووقار دوبارہ حاصل کریں۔
یہ ہے عرس، گیارہویں شریف اور برسی منانے کا صحیح طریقہ، نیکی نیکی ہے، جب بھی کی جائے! جہاں بھی کی جائے! یہ سوال بے معنی ہے کہ یہ کب شروع ہوئی؟ ایصالِ ثواب کے مختلف طریقے اور نام ہیں، ہر دَور میں تھے، ان شاء الله ہر دَور میں رہیں گے، البتہ ان میں دَر آئیں خرابیوں کا اِزالہ اشدّ ضروری ہے!! ہر عمل میں خُلوص و للہیت کا رنگ پیدا کریں، الله ورسول کی رضا اور مخلوقِ خدا کی بہتری پیش نظر رکھیں! نیکی کی راہیں بکثرت کھلی ہیں، مگر ضرورت خُلوص اور جذبہ و عمل کی ہے۔
ملفوظاتِ غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ
(1) حضرت سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانی قطبِ ربّانی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہيں کہ “اللہ A کی نافرمانی نہیں کرنی چاہيے، اور سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہيے، اس بات پر یقین رکھنا چاہيے کہ تم اللہ A کے بندے، اور اللہ A ہی کی ملکیت میں ہو، اُس کی کسی چیز پر اپنا حق ظاہر نہیں کرنا چاہيے، بلکہ اُس کا ادب کرنا چاہيے؛ کیونکہ اُس کے تمام کام یقیناً صحیح ودرست ہیں، اللہ A کے کاموں کو ہمیشہ مقدَّم سمجھنا چاہيے”([24])۔
(2) شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشادِ مبارک ہے کہ “جب بندہ مخلوق، خواہشاتِ نفس، ارادہ، اور دنیا وآخرت کی آرزوؤں كے تمام راستے بند کر دیتا ہے، تو اللہ A کے سوا اس کا کوئی مقصود نہیں ہوتا، اور یہ تمام چیزیں اس کے دل سے نکل جاتی ہیں، تب وہ اللہ B تک پہنچ جاتا ہے، وه اسے محبوب ومقبولِ بارگاہ بنا لیتا ہے، اس سے محبت کرتا اور مخلوق کے دل میں اِس کی محبت پیدا کر دیتا ہے۔ وہ بندہ صرف اللہ A کے قُرب کو محبوب رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے نوازتا ہے، اسے اپنی نعمتیں عطا فرماتا ہے، اس پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے، اور اس سے وعدہ فرماتا ہے کہ یہ دروازے اس پر کبھی بند نہیں ہوں گے۔ اس وقت بندہ اللہ B کا ہو کر رہ جاتا ہے، اور اُس کے تدبّر سے تدبیر کرتا ہے، اُس کی چاہت سے چاہتا ہے، اُس کی رِضا سے راضی ہوتا ہے، اور صرف اُسى کے حکم کی پابندی کرتا ہے”([25])۔
(3) حضور سیِّدنا شیخ محی الدّین عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ “الله A سے اپنے سابقہ گناہوں کی بخشش، اور آئندہ گناہوں سے بچنے، اس کے حکم پر عمل کرنے، اور حسنِ اطاعت کی توفیق مانگو! قضاء وقدر پر رِضامندی ، آزمائش کی سختیوں پر صبر، نعمتوں اور عطا پر شکر، پھر وفات خاتمہ بالخیر کے ساتھ، اور انبیاء علیہم السلام، صدیقین، شہداء اور صالحین سب بہترین رُفقاء کی رَفاقت طلب کرو! اور اللہ تعالیٰ سے دنیا طلب نہ کرو، اور آزمائش وتنگدستی سے خَلاصی کے بجائے، دولتمندی اور عافیت مت مانگو! بلکہ اس كى تقسیم اور تدبیر پر رِضا مندی کا سوال کرو! اور جس حال میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں رکھا ہے، اس کی دائمی حفاظت کی دعا کرو؛ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان میں سے تمہاری بھلائی کس چیز میں ہے! فقر وفاقہ میں یا دَولتمندی کی آزمائش یا عافیت میں! اللہ تعالی نے تم سے اشیاء کا علم چُھپا رکھا ہے، ان اشیاء کی خوبیوں اور خرابیوں کے جاننے میں وہ یکتا ہے”([26])۔
دعا
اےاللہ! ہمیں سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی سیرتِ طیّبہ پر عمل کی توفیق عطا فرما، ان کے فیضِ روحانی سے ہمیں کامل حصہ عطا فرما، اور اپنی محبت واطاعت کے ساتھ اپنی ولایت عطا فرما، اولیائے کرام سے خالصۃً اپنی رضا پر مبنی، ہماری اِس محبت واُلفت کو ہمارے لیے، دنیا میں باعثِ راحت وآرام، اور آخرت میں نَجات اور بلندیٔ درَجات کا سبب بنا۔
رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے کشمیری وفلسطینی مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، اُن کے جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، مسئلہ کشمیر کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔
الٰہی! تمام مسلمانوں کی جان، مال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، جن مصائب وآلام کا انہیں سامنا ہے، ان سے نَجات عطا فرما۔ ہمارے وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین ووطنِ عزیز کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، اُن کے درجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام ضی اللہ عنہم کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے ہمیں وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّةِ أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “بهجة الأسرار” ذکر إخبار المشایخ عنه بذلك، صـ14.
([2]) “أعلام التصوّف الإسلامي” سيِّدي أبو الحسن الشاذلي، صـ40، 43.
([3]) “بهجة الأسرار” الشيخ شعيب أبو مديَن المغربي، صـ38.
([4]) “بهجة الأسرار” ذکر نسبه وصفته h، صـ171.
([5]) “بهجة الأسرار” ذکر نسبه وصفته h، صـ172.
([6]) “بهجة الأسرار” ذکر کلمات أخبر بها عن نفسه محدِّثاً بنعمة ربّه، صـ48.
([7]) “بهجة الأسرار” ذکر فصول من کلامه مرصّعاً بشيء …إلخ، صـ58.
([8]) “بهجة الأسرار” ذکر فصول من کلامه مرصّعاً بشيء …إلخ، صـ118.
([9]) “بهجة الأسرار” ذکر طریقه h، صـ164.
([10]) “بهجة الأسرار” ذکر طریقه h، صـ165، 166.
([11]) “بهجة الأسرار” ذکر طریقه h، صـ167، 168 ملتقطاً.
([12]) “بهجة الأسرار” ذکر نسبه وصفته h، صـ174 ملتقطاً.
([13]) “بهجة الأسرار” ذکر وعظه h، صـ174.
([14]) “بهجة الأسرار” ذکر وعظه h، صـ180.
([15]) “بهجة الأسرار” ذکر وعظه h، صـ181.
([16]) “بهجة الأسرار” ذکر وعظه h، صـ183، 184.
([17]) “بهجة الأسرار” ذکر وعظه h، صـ184.
([18]) “بهجة الأسرار” ذکر شيء من شرائف أخلاقه h، صـ201 ملتقطاً.
([19]) “بهجة الأسرار” ذکر علمه وتسمیة بعض شیوخه h، صـ225.
([20]) “بهجة الأسرار” ذکر علمه وتسمیة بعض شیوخه h، صـ225، 226.
([21]) “بهجة الأسرار” ذکر احترام المشایخ والعلماء له …إلخ، صـ432، 433.
([22]) “اخبار الاخیار”شيخ محى الدين عبد القادر جيلانى، ۱۱۔
([23]) “ذیل طبقات الحنابلة” إسماعيل بن أبي طاهر بن الزبير الجيلي، 2/206.
([24]) “فتوح الغيب” 24 في الحثّ على ملازمة باب الله تعالى، صـ44.
([25]) “فتوح الغيب” 56 في فناء العبد عن الخلق …إلخ، صـ100.
([26]) “فتوح الغيب” 69 في الأمر بطلب المغفرة والعصمة …إلخ، صـ117.