Table of contents
- اِیمان کی علامت
- مہمان نوازی کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کا طرزِ عمل
- حضور نبئ کریم ﷺ کی مہمان نوازی
- نبئ کریم ﷺ کے اس طرزِ عمل
- مہمان نوازی میں صحابۂ کرام کا طرزِ عمل
- اِخلاص کے ساتھ کسی مسلمان کی مہمان نوازی کا اجر
- مہمان نوازی جنّت میں داخلے کا سبب ہے
- مہمان کی آمد خیر وبرکت کا سبب ہے
- گناہوں کی بخشش کا سبب
- مہمان کا احترام واِکرام لازم ہے
- مہمان نوازی کی تاکید
- مہمان کا اچھے انداز سے استقبال
- مہمان نوازی کی مدّت تین دن ہے
- مہمان نوازی نہ کرنے کا نقصان
- بُرائی کا بدلہ بھلائی سے دو
- مہمان نوازی کے چند آداب
- مہمان کے لیے چند ضروری آداب
- خلاصۂ کلام
- دعا
الحمد لله ربّ العالمين، والصّلاةُ والسّلامُ على خاتمِ الأنبياءِ والمرسَلين، وعلى آلهِ وصحبهِ أجمعين، أمّا بعد: فأعوذُ باللهِ مِن الشّيطانِ الرّجيم، بسمِ الله الرّحمنِ الرّحيم.

حضور پُرنور، شافعِ یومِ نشور ﷺ کی بارگاہ میں ادب واحترام سے دُرود وسلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اللّهمّ صلِّ وسلِّم وبارِك على سيِّدِنا ومولانا وحبيبِنا محمّدٍ وعلى آلهِ وصَحبهِ أجمعين.
اِیمان کی علامت
برادرانِ اسلام! مہمان نوازی انبیائے کرام کی سنّت اور علامتِ اِیمان ہے، اللہ رب العالمین نے قرآنِ حکیم میں حضرت سیِّدنا ابراہیم D کی مہمان نوازی کا باقاعدہ ذکر فرمایا، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ﴾([1]) “اور یقیناً ہمارے فرشتے (انسانی شکل میں) ابراہیم کے پاس مژدہ (خوشخبری) لے کر آئے، بولے: سلام، کہا: سلام، پھر (حضرت ابراہیم نے) کچھ دیر نہ کی کہ ایک بچھڑا بُھنا (ہوا) لے آئے”۔
“تفسیرِ قُرطُبی” میں ہے کہ “حضرت سیِّدنا ابراہیم D پہلے وہ انسان ہیں
جنہوں نے دنیا میں مہمان نوازی کا طریقہ رائج فرمایا”([2])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حقوق العباد
مہمان نوازی کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کا طرزِ عمل
عزیزانِ محترم! مہمان نوازی کے حوالے سے رسولِ اکرم ﷺ کا طرزِ عمل بڑا مثالی ہے، سروَر دوجہاں ﷺ مہمانوں کا بڑا خیال رکھا کرتے، اور انہیں ہمیشہ اپنی ذات پر ترجیح دیتے، یہاں تک کہ مہمان نوازی کی خاطر اگر قرض لینا پڑتا تو اُس سے بھی گریز نہ فرماتے۔
ایک بارسروَرِ دوجہاں ﷺ کے یہاں مہمان حاضر ہوا تو حضور نبئ کریم ﷺ نے قرض لے کر اس کی مہمان نوازی فرمائی۔ حضرت سیِّدنا ابو رافع فرماتے ہیں کہ (ایک مہمان کی آمد کے باعث) حضور ﷺ نے مجھے ایک یہودی کے پاس بھیجا اور فرمایا: «يَقُولُ لَكَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ: أَسْلِفْنِي دَقِيقاً إِلَى هِلَالِ رَجَبٍ» “(اُسے کہنا کہ) رسول اللہ ﷺ نے تم سے فرمایا ہے کہ مجھے کچھ آٹا (بطَور قرض) دے دو، میں رجب کے چاند (یعنی آغاز) تک ادا کر دوں گا” یہودی نے کہا کہ جب تک کچھ گِروِی نہیں رکھو گے قرض نہیں دُوں گا،
حضرت سیِّدنا ابورافع فرماتے ہیں کہ میں واپس آیا اور سرکارِ دوجہاں ﷺ کی خدمت میں اس کا جواب عرض کیا، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «وَالله إِنِّي لَأَمِينٌ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ، أَمِينٌ فِي أَهْلِ الْأَرْضِ، وَلَوْ أَسْلَفَنِي أَوْ بَاعَني لَأَدَّيْتُ إِلَيْهِ! اذْهَبْ بِدِرْعِي»([3]) “اللہ کی قسم! میں اہلِ آسمان میں امین ہوں اور اہلِ زمین میں بھی امین ہوں، اگروہ قرض دے دیتا تو میں ضرور ادا کر دیتا! (بہرحال اب) تم میری زِرہ (Armour) لے جاؤ (اور گِروِی رکھ کر قرض لے آؤ)”۔
حضور نبئ کریم ﷺ کی مہمان نوازی
حضور نبئ کریم ﷺ کی مہمان نوازی سے متعلق “مصنَّف ابن ابی شَیبہ” میں ہے کہ ایک دیہاتی رسول کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور بھوک کی شکایت کی، رسول اللہ ﷺ اپنی (اَزواجِ مطہَّرات کے) گھروں میں تشریف لے گئے، پھر باہر تشریف لائے تو ارشاد فرمایا: «مَا وَجَدْتُ لَكَ فِي بُيُوتِ آلِ مُحَمَّدٍ شَيْئاً» “مجھے آلِ رسول ﷺ کے گھروں میں تمہارے لیے کوئی چیز نہیں ملی” اسی دَوران حضور نبئ کریم ﷺ کی بارگاہ میں بھُنی ہوئی بکری پیش کی گئی، حضور نبئ کریم ﷺ نے اُسے دیہاتی (مہمان) کے سامنے رکھ دیا (اور) فرمایا: «اطْعَمْ»([4]) “تم کھاؤ” یعنی حضور نبئ کریم ﷺ نے کاشانۂ نبوّت میں جاری فاقوں کی پرواہ نہ فرمائی، اور اپنے اہل وعِیال کے مقابلے میں مہمان کو ترجیح دی، اور بطور ہدیہ پیش کی جانے والی بھُنی ہوئی بکری سے مہمان کی خاطر تواضُع فرما ئی۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :رشتہ داروں کے حقوق
نبئ کریم ﷺ کے اس طرزِ عمل
مہمان نوازی کے حوالے سے حضور نبئ کریم ﷺ کے اس طرزِ عمل کو سامنے رکھتے ہوئے، اُن لوگوں کو خوب غَور وفکر کرنا چاہیے جو مہمانوں پر اپنی ذات کو ترجیح دیتے ہیں، استطاعت کے باوُجود اُن کی اچھی خاطر تواضُع نہیں کرتے، تنگ دِلی کا مُظاہرہ کرتے ہیں، اور مہمان کی آمد پر غربت اور حالات کا رونا دھونا لے کر بیٹھ جاتے ہیں، اپنے اہل وعِیال کے ساتھ لڑائی جھگڑا شروع کر دیتے ہیں؛ تاکہ مہمان گھر میں غربت اور کشیدہ ماحول دیکھ کر جلد رخصت ہو جائے …وغیرہ وغیرہ۔ ایسا طرزِ عمل بحیثیت مسلمان ہمیں کسی طَور پر زَیب نہیں دیتا؛ کیونکہ ہم تو اُس نبی ﷺ کے اُمّتی ہیں جو مہمان کی خاطرداری اور مہمان نوازی کے لیے قرض لینے سے بھی گریز نہیں فرماتے تھے!۔
ہاں اگر کسی کے گھر میں واقعی بہت زیادہ غربت ہو، تو مہمان کو چاہیے کہ اُن کے ہاں اپنے قیام کو طویل نہ کرے، طرح طرح کے کھانوں کی فرمائش نہ کرے، جو مل جائے وہی کھا لے، اور بوقتِ رخصت مسلمان بھائی کی دِل جُوئی اور خیرخواہی کی نیّت سے اُن کے بچوں یا گھر والوں کو کچھ پیسے دے؛ تاکہ اُن کی کچھ مدد ہو جائے اور سفید پوشی کا بھرم بھی برقرار رہے!۔
مہمان نوازی میں صحابۂ کرام کا طرزِ عمل
حضراتِ گرامی قدر! حضور نبئ کریم ﷺ کی پَیروی میں صحابۂ کرام بھی بڑے مہمان نواز تھے، ان حضرات کی مہمان نوازی کا یہ عالَم تھا کہ مہمان کے بغیر کھانا نہ کھاتے، اور مہمانوں کے انتظار میں سارا سارا دن کچھ کھائے پیے بغیر ہی گزار دیا کرتے، اللہ رب العالمین نے صحابۂ کرام کی اس مہمان نوازی کا قرآنِ کریم میں ذکر فرمایا، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِيْعًا اَوْ اَشْتَاتًا﴾([5]) “تم پر کوئی اِلزام نہیں کہ مِل کر کھاؤ یا الگ الگ”۔
صدر الاَفاضل علّامہ سیِّد نعیم الدین مُرادآبادی اس آیتِ مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں کہ ” قبیلہ بنی لیث بن عَمرو کے لوگ تنہا بغیر مہمان کے کھانا نہ کھاتے تھے،کبھی کبھی مہمان نہ ملتا تو صبح سے شام تک کھانا لیے بیٹھے رہتے، ان کے حق میں یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی”([6])۔ مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ اس بات پر واضح دلیل ہے کہ صحابۂ کرام بڑے مہمان نواز ہوا کرتے تھے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :مزدوروں کے حقوق
اِخلاص کے ساتھ کسی مسلمان کی مہمان نوازی کا اجر
حضراتِ محترم! اِخلاص کے ساتھ کسی مسلمان کی مہمان نوازی، اجر وثواب اور دُخولِ جنّت کا ذریعہ ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَتِيْمًا وَّاَسِيْرًا۰۰۸ اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا۰۰۹ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِيْرًا۰۰۱۰ فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ وَلَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّسُرُوْرًاۚ۰۰۱۱ وَجَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّحَرِيْرًا﴾([7]) “(اللہ کے نہایت نیک بندے) کھانا کھلاتے ہیں اُس کی محبت پر مسکین، اور یتیم اور اَسیر (قیدی) کو ، ان سے کہتے ہیں کہ ہم تمہیں خاص اللہ کے لیے کھانا دیتے ہیں، تم سے کوئی بدلہ یا شکرگزاری نہیں مانگتے، یقیناً ہمیں اپنے رب سے ایک ایسے دن کا ڈر ہے جو بہت تُرش نہایت سخت ہے، تو انہیں اللہ نے اُس دن کے شَر سے بچا لیا، اور انہیں تازگی اور شادمانی دی، اور اُن کے صبر پر انہیں جنّت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دیے”۔
مہمان نوازی جنّت میں داخلے کا سبب ہے
عزیزانِ مَن! مہمان نوازی جنّت میں داخلے کا سبب ہے، حضرت سیِّدنا ابن عباس سے روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «مَنْ أَقَامَ الصَّلَاةَ، وَآتَى الزَّكَاةَ، وَحَجَّ الْبَيْتَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، وَقَرَى الضَّيْفَ، دَخَلَ الْجَنّةَ»([8]) “جو نماز قائم کرے ، زکاۃ ادا کرے، بیت اللہ کا حج کرے، رمضان کے روزے رکھے ،اور مہمان نوازی کرے، وہ جنّت میں داخل ہوگا”۔
حضرت سیِّدنا انَس بن مالک سے روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «مَنْ أَضَافَ مُؤْمِناً، أَوْ خَفَّ لَهُ فِي شَيْءٍ مِنْ حَوَائِجِهِ، كَانَ حَقّاً عَلَى الله أَنْ يُخْدِمَهُ وَصِيفاً فِي الْجَنَّةِ»([9]) “جس نے کسی مسلمان کی مہمان نوازی کی، یا اس کی حاجات میں سےکوئی حاجت پوری کر دی، اللہ تعالی کے ذمّۂ کرم پر ہے کہ جنّت میں اُسے خُدّام عطاکرے”۔
مہمان کی آمد خیر وبرکت کا سبب ہے
جانِ برادر! مہمان کی آمد رحمت اور خیرو برکت کا سبب ہے، حضرت سیِّدنا انَس بن مالک سے روایت ہے، سروَرِ کونین ﷺ نے فرمایا: «الْخَيْرُ أَسْرَعُ إِلَى الْبَيْتِ الَّذِي يُغْشَى، مِنَ الشَّفْرَةِ إِلَى سَنَامِ الْبَعِيرِ»([10]) ” بھلائی اُس گھر کی طرف کوہان میں چُھری چلنے سے بھی زیادہ تیزی سے آتی ہے، جس گھر میں مہمان رات گزارے”۔ یعنی جس گھر میں مہمان ہو وہاں خیرو برکت انتہائی سُرعت (تیزی) سے آتی ہے۔
حکیم الاُمت مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں کہ “اونٹ کی کوہان میں ہڈی نہیں ہوتی، چربی ہی ہوتی ہے، اسے چُھری بہت ہی جلد کاٹتی ہے، اور اس کی تہہ تک پہنچ جاتی ہے، اس لیے اس سے تشبیہ دی گئی، یعنی ایسے گھر میں خیروبرکت بہت جلد پہنچتی ہے”([11])۔
گناہوں کی بخشش کا سبب
میرے محترم بھائیو! بعض لوگ گھر میں مہمانوں کی آمد پر بڑی ناگواری کا اظہار
کرتے ہیں، اور انہیں بوجھ محسوس کرتے ہیں، ایسا طرزِ عمل کسی طَور پر دُرست نہیں؛ کیونکہ مہمان بوجھ نہیں بلکہ اللہ کی رحمت ہے، نیز اُس کا رزق اُس کے ساتھ آتا ہے، جیسا کہ حضرت سیِّدنا ابوذَر غِفاری سے روایت ہے، رحمتِ عالمیان ﷺ نے فرمایا: «الضيفُ ينزل برِزقه، ويرتحل وقد غفرَ الله لأهل المنزل»([12]) “جب مہمان کسی کے یہاں آتا ہے تو اپنا رزق لے کر آتا ہے، اور جب اُس کے ہاں سے جاتا ہے تو اللہ تعالی (مہمان کی آمد کے سبب) صاحبِ خانہ (میزبان) کے گناہ بخش دیتا ہے”۔ لہذا گھر میں مہمانوں کی آمد پر خوشی کا اظہار کریں، ناگواری اور بوجھ خیال نہ کریں، بلکہ انہیں اپنے گناہوں کی بخشش ومغفرت کا ذریعہ وسبب جانیں!۔
مہمان کا احترام واِکرام لازم ہے
حضراتِ گرامی قدر! مہمان کا احترام واِکرام لازم ہے، لہذا مہمان کی خاطر تواضُع میں کمی نہیں کرنی چاہیے، اس مُعاملے میں اللہ B سے ڈرنا چاہیے، اور ایسا کوئی عمل یا بات نہیں کرنی چاہیے جس سے مہمان کو تکلیف پہنچے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيْفِيْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ۰۰۶۸ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخْزُوْنِ﴾([13]) “لُوط (D) نے کہا: یہ میرے مہمان ہیں (انہیں رُسوا کرکے) مجھے فضِیْحت (شرمندہ) نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو اور مجھے رُسوا نہ کرو”۔
اس آیتِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مہمان کی عزّت واحترام میں میزبان کی عزّت ہے، اور مہمان کی ذِلّت ورُسوائی میں میزبان کی ذِلّت ورُسوائی ہے۔
مہمان نوازی کی تاکید
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! احادیثِ مبارکہ میں مہمان نوازی کی بڑی تاکید فرمائی گئی ہے، حضرت سیِّدنا ابوہریرہ سے روایت ہے، سروَرِ دوجہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ»([14]) “جو اللہ تعالی اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی تكريم کرے!”۔
حکیم الاُمت مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں کہ “مہمان کا احترام یہ ہے کہ اس سے خندہ پیشانی سے ملے، اس کے لیے کھانے اور دوسری خدمات کا انتظام کرے، حتَی الاِمکان اپنے ہاتھ سے اس کی خدمت کرے، بعض حضرات خود مہمان کے آگے دسترخوان بچھاتے، اُس کے ہاتھ دھلاتے ہیں،
یہ اسی حدیث پر عمل ہے، بعض لوگ مہمان کے لیے بقدرِ طاقت اچھا کھانا پکاتے ہیں، وہ بھی اس عمل پر ہے جسے مہمان کی خاطر تواضُع کہتے ہیں۔ (البتہ) اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ جو مہمان کی خدمت نہ کرے وہ کافر ہے، مطلب یہ ہے کہ مہمان کی خاطر تقاضائے ایمان کا ہے، جیسے باپ اپنے بیٹے سے کہے کہ اگر تو میرا بیٹا ہے تو میری خدمت کر، مہمان کی خاطر (تواضُع) مؤمن کی علامت ہے۔ خیال رہے کہ پہلے دن مہمان کے لیے کھانے میں تکلُّف کر، پھردو2 دن درمیانہ کھانا پیش کر، تین3 دن کی بھی مہمانی ہوتی ہے، بعد میں صدقہ ہے”([15])۔
مہمان کا اچھے انداز سے استقبال
جانِ برادر! مہمان کا اچھے طریقے اور خوش دلی سے استقبال بھی مہمان نوازی میں داخل ہے، حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیِّبہ طاہرہ سے روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «أَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ»([16]) “لوگوں کو ان کے مَراتب ودرَجات کے مطابق اُتارو” یعنی ان کے مقام ومرتبہ کے مطابق ان کی عزّت اَفزائی اور مہمان نوازی کرو!۔
مہمان نوازی کی مدّت تین دن ہے
حضراتِ گرامی قدر! مہمان نوازی کی زیادہ سے زیادہ مدّت تین3 دن ہے، حضرت ابو شُرَیح کعبی سے روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَالضِّيَافَةُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلاَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ»([17]) “جو شخص اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ مہمان کا اکرام کرے، ایک دن رات اس کی خاطرداری ہے (یعنی مہمان کی خوب آؤ بھگت کرے، اور اُس کے لیے اچھا کھانا تیار کرائے)، اور ضِیافت (دعوت) تین3 دن ہے (یعنی دوسرے اور تیسرے دن درمیانہ کھانا پیش کرے)، اور تین3 دن کے بعد صدقہ ہے، اور مہمان کے لیے حلال نہیں کہ (تین3 دن سے زیادہ) کسی کے ہاں ٹھہرکر اُسے حرج میں مبتلا کرے”۔
حضرت سیِّدنا ابوہریرہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ الضِّيَافَةَ ثَلَاثَةٌ، فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ»([18]) “مہمان نوازی تین3 دن تک ہے، اور جو اس سے زائد ہو وہ صدقہ ہے”۔
لہذا مہمان کو چاہیے کہ کسی کے گھر تین3 دن سے زیادہ قیام نہ کرے؛ کیونکہ ممکن ہے میزبان مالی مسائل کا شکار ہو، اور مہمان کی خاطرداری اور مہمان نوازی کے لیے اس کے پاس مالی وسائل کی کمی ہو، یا اس کے کام کاج کا حرج ہو رہا ہے۔ “صحیح مسلم” میں حضرت سیِّدنا ابوشُرَیح خُزاعی سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يُؤْثِمَهُ» “کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنےمسلمان بھائی کے پاس (بطَور مہمان) اتنی (زیادہ) دیر تک ٹھہرے کہ اسے گناہگار کر دے”
صحابۂ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! وہ (مہمان) اسے کیسے گنہگار کرے گا؟ رحمتِ عالمیان ﷺ نے فرمایا: «يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلَا شَيْءَ لَهُ يَقْرِيهِ بِهِ»([19]) “(اس طرح کہ) ایک شخص کسی کے ہاں (بطَور مہمان اتنی زیادہ دیر ) تک ٹھہرے، کہ اس کے پاس مہمان نوازی کے لیے کچھ نہ رہے”۔ ہاں اگر بذاتِ خود میزبان خُلوصِ دل اور محبت سے رُکنے کے لیے کہے، اور اس کی مالی صورتحال بھی مستحکم ہو، تو تین3 دن سے زیادہ رُکنے میں حرج نہیں۔
مہمان نوازی نہ کرنے کا نقصان
عزیزانِ مَن! مہمان نوازی نہ کرنے والا خیر وبرکت سے محروم رہتا ہے، حضرت سیِّدنا عقبہ بن عامر سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «لَا خَيْرَ فِيمَنْ
لَا يُضِيفُ»([20]) “اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے جو مہمان نوازی نہیں کرتا”۔
بُرائی کا بدلہ بھلائی سے دو
حضراتِ ذی وقار! اگر کسی شخص نے بطور میزبان ہماری مہمان نوازی میں کوتاہی برتی ہو، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم بھی جواباً ویسا ہی کریں، بلکہ بحیثیت مسلمان ہمیں چاہیے کہ بُرائی کا بدلہ بھلائی سے دیں، اور اچھے انداز سےاس کی مہمان نوازی کریں۔ حضرت سیِّدنا ابو الاَحْوَص عَوف بن مالک بن نضلہ جُشَمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، کہ انہوں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں ایک شخص کے پاس گیا لیکن اُس نے میری عزّت وتکریم اور مہمان نوازی نہیں کی، اب وہ میرے ہاں آئے تو کیا میں اُس کی عزّت وتکریم اور مہمان نوازی کروں یا اُس کے کیے کا بدلہ دُوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لاَ، أَقْرِهِ!»([21]) “نہیں، بلکہ تم اُسے مہمان بناؤ” یعنی مہمان نوازی کرو، اور عزّت واِکرام سے نوازو!۔
حکیم الاُمت مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں کہ “اگر اُس نے تمہارے ساتھ بےمُروتی کی ہے، تم اس سے بےمُروتی نہ کرو ، بُرائی کا بدلہ بھلائی سے دو، (اور) اُس کو حقِ مہمانی دو، رب تعالی فرماتاہے: ﴿اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ﴾([22]) “سب سے اچھی بھلائی سے بُرائی کو دُور کرو”([23])۔
مہمان نوازی کے چند آداب
حضراتِ گرامی قدر! میزبان کے لیے مہمان نوازی کے متعدد آداب ہیں، ان میں سے چند حسبِ ذیل ہیں:
(١) میزبان کو چاہیے کہ نیک اور پرہیزگار لوگوں کو اپنا مہمان بنائے۔ (٢) مہمان کى بھرپور عزّت واِکرام کرے، اُسے اللہ کی رحمت جانے، اور اُس کی آمد پر خوشی کا اظہار کرے۔ (٣) شادی بیاہ یا کوئی اَور خوشی کا موقع ہو تو صرف سیاستدانوں، کاروباری شخصیات اور مالداروں کو دعوت نہ دے، بلکہ اپنی خوشی میں غریبوں کو بھی شریک کرے، اور انہیں بھی اپنا مہمان بنائے۔
(٤) وقتاً فوقتاً اپنے عزیز واَقارب اور رشتہ داروں کو بھی مہمان بنائے؛ تاکہ باہم محبت میں اِضافہ ہو، اور صِلہ رحمی کے حکم پر بھی عمل ہو۔ (٥) جب مہمان آ جائے تو نہایت خوش دلی اور پُرجوش طریقے سے اُس کا استقبال کیا جائے۔ (٦) مہمان کی آمد کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو اُسے عمدہ اور لذید کھانا پیش کیا جائے۔
(٧) جب تک مہمان کھانا کھا رہا ہو، میزبان کو چاہیے کہ اُس وقت تک اپنا ہاتھ کھانے سے نہ روکے؛ تاکہ مہمان پیٹ بھر کر کھانا کھا سکے، ورنہ ممکن ہے کہ مہمان تکلُف سے کام لے اور بھوکا رہ جائے۔ (٨) میزبان کو چاہیے کہ مہمان کے پاس زیادہ سے زیادہ وقت گزارے، اس کی بات کو توجہ سے سُنے، اور اکتاہٹ وبےزاری کا اظہار نہ کرے۔ (٩) ایسا کوئی کام یا بات نہ کی جائے جو مہمان کے لیے اَذیت اور تکلیف ودُکھ کا باعث ہو۔
(١٠) اگر مہمان کا ارادہ قیام کا ہو تو اُس کے رہنے کے لیے مناسب انتظام کیا جائے، اور اُس کے لیے صاف ستھرا بستر بچھایا جائے۔ (١١) اگر مہمان رخصت ہونا چاہے تو اُسے دروزے تک رخصت کرنے آئے، اور حقِ مہمانی میں کمی کوتاہی پر معذرت طلب کرے۔
مہمان کے لیے چند ضروری آداب
میرے محترم بھائیو! جس طرح میزبان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مہمان نوازی کے آداب کو بجا لائے، اسی طرح مہمان پر بھی لازم ہے کہ بطور مہمان جب کسی کے گھر جائے تو درج ذیل اُمور پیشِ نظر رکھے:
(١) مہمان کو چاہیے کہ کسی کے گھر پر بغیر پیشگی اطلاع نہ جائے؛ کیونکہ ممکن ہے کہ صاحبِ خانہ گھر پر نہ ہو، یا وہ کسی اہم کام میں مصروف ہو، جس کے باعث مہمان کو وقت دینے سے قاصر ہو۔ (٢) مہمان کو چاہیے کہ کھانے وغیرہ کی فرمائش نہ کرے، بلکہ جو مل جائے خوشی خوشی کھالے۔ ہاں اگر میزبان کے ساتھ مہمان کی بےتکلُفی ہے، اور اس کا فرمائش کرنا میزبان کے لیے خوشی کا سبب ہوگا، تو فرمائشی کھانے پکوانے میں بھی حرج نہیں۔
(٣) میزبان کے گھر، کھانے اور بستر وغیرہ میں عیب نہ نکالے، بلکہ اگر مہمان نوازی سے خوش ہو تو بھرپور تعریف کرے؛ کہ مہمان کا تعریف کرنا میزبان کے لیے خوشی ومسرّت کا باعث ہوتا ہے۔ (٤) بطَور مہمان کسی کے گھر میں تین3 دن سے زائد قیام نہ کیا جائے؛ کہ یہ اُن کے لیے حرَج کا باعث ہوگا۔
(٥) جب کسی کے گھر سے رخصت ہونے لگے، تو اَہل ِ خانہ کی جان، مال، عزّت، آبرُو، رزق اور اَولاد وغیرہ میں برکت کے لیے خوب دعا کرے؛ کہ کھانا کھلانے اور مہمان نوازی کرنے والے کے لیے دعا کرنا سنّت ہے، حضرت مِقداد بن اَسْوَد سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «اللهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي، وَاسْقِ مَنْ سَقَانِي»([24]) “اے اللہ! جس نے مجھے کھلایا تُو اسے کھلا، اور جس نے مجھے پلایا تُو اسے کو پلا” یعنی ان کے رزق میں برکت عطا فرما!۔
خلاصۂ کلام
میرے عزیز دوستو، بھائیو، اور بزرگو! دینِ اسلام میں مہمان نوازی کی بڑی اہمیت اور قدر ومنزلت ہے، مگر نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مادّہ پرستی اور مفاد پرستی کے اس دَور میں ہم مسلمان اس بہترین صفت سے عاری ہوتے جا رہے ہیں، اور وسائل ہونے کے باوُجود اپنے عزیز رشتہ داروں، بہن بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ ساتھ غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی مہمان نوازی سے کتراتے ہیں، ان کی مہمان نوازی کو سعادت کے بجائے مالی بوجھ اور پیسے کا ضِیاں سمجھتے ہیں، جبکہ ایسا طرزِ عمل اسلامی تعلیمات اور ایک مسلمان کی شان کے مُنافی اَمر ہے، جسے کسی طَور پر بھی دُرست قرار نہیں دیا جا سکتا!۔
دعا
اے اللہ! ہمیں مہمان نوازی کی اہمیت وفضیلت سمجھنے کی توفیق عطا فرما، مہمان کی خاطر تواضُع کی سعادت عطا فرما، مہمان کی آمد کو ہمارے لیے باعثِ رحمت بنا، گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بنا، مہمان نوازی کی سنّت پر عمل کا جذبہ عنایت فرما، مہمان کے ساتھ خوش دلی کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرما، مہمانوں کی آمد پر ناگواری کا اظہار کرنے سے بچا، اور ان کی آمد کو بوجھ خیال کرنے جیسی جاہلانہ سوچ سے بچا!۔
اے اللہ! اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے وسیلۂ جلیلہ سے ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت سے محبت اور اِخلاص سے فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
([2]) “تفسير القُرطُبي” پ12، هود، تحت الآية: 69، الجزء 9، صـ56.
([3]) “مسند البزّار” مسند أبي رافع مولى رسول الله g عنه، ر: 3863، 9/315.
([4]) “مصنَّف ابن أبي شَيبة” كتاب الدعاء، الرجل يصيبه الجوع …إلخ، ر: 30195، 15/295.
([6]) “تفسیر خزائن العرفان” پ 18، النور، زیرِ آیت: 61، 651۔
([8]) “المعجم الكبير” للطَبَراني، باب العين، ر: 12692، 12/106.
([9]) “مَكارم الأخلاق” باب آخر في ذلك، ر: 94، صـ345.
([10]) “سنن ابن ماجه” كتاب الأطعِمة، باب الضيافة، ر: 3356، صـ572.
([11]) “مرآۃ المناجیح” کھانوں کا بیان، دعوت کا بیان، پہلی فصل، تحتِ حدیث: 4260، 6/63۔
([12]) “كشف الخفاء ومُزيل الإلباس” حرف الهمزة، ر: 196، 1/96.
([14]) “صحيح البخاري” كتاب الأدب، ر: ٦١٣٨، صـ١٠٦٩.
([15]) “مرآۃ المناجیح” کھانوں کا بیان، دعوت کا بیان، پہلی فصل، تحتِ حدیث: 4243، 6/49۔
([16]) “سنن أبي داود” كتاب الأدب، باب في تنزيل الناس منازلهم، ر: 4842، صـ684.
([17]) “صحيح البخاري” كتاب الأدب، باب إكرام الضيف …إلخ، ر: 6135، صـ1069.
([18]) “مُسند الإمام أحمد” مُسند أبي هريرة h، ر: 9569، 3/423.
([19]) “صحيح مسلم” كتاب اللقطة، باب الضيافة، ر: 4514، صـ766.
([20]) “مُسند الإمام أحمد” مسند الشامين، حديث عقبة بن عامر الجُهَني، ر: 17424، 6/142.
([21]) “سنن الترمذي” كتاب البِرّ والصِلة، باب ما جاء في الإحسان والعفو، ر: 2006، صـ463.
([23]) “مرآۃ المناجیح” کھانوں کا بیان، دعوت کا بیان، دوسری فصل، حدیث: 4248، 6/ 55۔
([24]) “صحيح مسلم” كتاب الأشرِبة، باب إكرام الضيف …إلخ، ر: 5362، صـ918.