
Table of contents
- بےمثل وبے مثال پیکرِ حُسن وجمال
- حُسن وجمالِ مصطفیﷺ اور صحابۂ کرام
- ثانی نہیں ہے کوئی آمنہ کے لال کا!
- چاند سے زیادہ حسین وجمیل
- با رُعب اور پُر وقار شخصیت
- قالب میں ڈھلی چاندی کی مثل خوبصورت رنگت
- سب سے زیادہ حسین وجمیل
- چاند کا ٹکڑا
- چہرۂ مصطفی ﷺ
- حضور نبئ کریم ﷺ کی پیشانی مبارک
- د َ ہن ِ اقدس اور چشمانِ مبارک
- رحمتِ کونین ﷺ کی بینی مبارک
- رسول اللہ ﷺ کی پُرنور گردن
- نبئ کریم ﷺ کا قد مبارک
- حضور ﷺ کے گیسوئے عنبریں
- رسولِ اکرم ﷺ کا سینہ مبارک
- تاجدارِ دو عالَم ﷺ کے دستِ رحمت
- حضور ﷺ کے پائے اقدس
- مُشک وعنبر سے زیادہ خوشبو دار پسینہ مبارک
- دلنشین اور واضح اندازِ گفتگو
- حُسن سراپائےرسول
- بے مثل وبے مثال آقا ﷺ
- حضورِ اکرم ﷺ کی خوش طبعی
- سرورِ دو جہاں ﷺ کے اَخلاقِ کریمہ
- س راپا ئے رحمت
- حُسن وجمالِ مصطفی سے متعلق علمائے امّت کے اقوال
- حُسن وجمال کا چرچا
- تکمیلِ ایمان کا ذریعہ
- رُوئے تاباں کی طرف آنکھ اُٹھانا بھی مشکل اَمر
- حضورِ اکرم ﷺ کا مکمل حُسن وجمال ظاہر نہیں ہوا
- حضور اکرم ﷺ جیسا کائنات میں کوئی نہیں
- مسلمانانِ عالَم کا اتفاق
- شمائلِ مصطفی ﷺ بیان کرنے میں احتیاط کا پہلو
- حُسن وجمالِ مصطفی سے متعلق اسلامی عقیدہ
- دعا
بےمثل وبے مثال پیکرِ حُسن وجمال
برادرانِ اسلام! مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ سرتاپا، نورِ مجسّم اور پیکرِ حُسن وجمال ہیں، سروَرِ عالم ﷺ جس طرح کمالِ سیرت میں سب سے منفرِد ویکتا ہیں، اسی طرح ظاہری حُسن وجمال میں بھی بےمثل وبےمثال ہیں، اللہ تعالی نے آپ کو لازوال حُسن وجمال عطا فرمایا، ساری کائنات میں سروَرِ کونین ﷺ سا حسین وجمیل کوئی نہیں، حُسن وجمال کے اس ذکر کو اگر مختصر پیرائے میں عرض کیا جائے، تو صرف اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ سارے جہاں میں کوئی ایسی کامل عقل نہیں، جو رسولِ اکرم ﷺ کے حُسن وجمال اور نورانیت کا کما حقّہ اِدراک کر سکے!۔
اللہ ربّ العالمین قرآنِ پاک میں حضورِ اكرم ﷺ کے حُسن وجمال کی قسم ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَالنَّجْمِ اِذَا هَوٰى ۙ۰۰۱ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰىۚ۰۰۲ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ؕ۰۰۳ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى﴾([1]) “اس پیارے چمکتے تارے (محمد) کی قسم! جب یہ (معراج سے) اُترے! تمہارے صاحب نہ بہکے، نہ بےراہ چلے، اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے، وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے!”۔
ایک اَور مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿وَالضُّحٰىۙ۰۰۱ وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى﴾([2]) “چاشت کی قسم، اور رات کی! جب پردہ ڈالے”۔ مُفسّرینِ کرام اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں کہ ﴿وَالضُّحٰى﴾ سے مراد نورِ جمالِ مصطفی ﷺ ہے، اور ﴿وَالَّيْلِ﴾ حضورِ اکرم ﷺ کے گیسوئے عنبرین (بال مبارک) کے لیے بطورِ کنایہ استعمال ہوا ہے([3])۔ یعنی ان آیاتِ مبارَکہ میں خالقِ کائنات A نے اپنے حبیب کریم ﷺ کے مبارَک روشن چہرے، اور رات کی تاریکی سے زیادہ گہری سیاہ زلفوں کی قسم ذکر فرمائی، اور اس طرح اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے حُسن وجمال کا بیان فرمایا ہے([4])۔
حُسن وجمالِ مصطفیﷺ اور صحابۂ کرام
عزیزانِ محترم! صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ وہ خوش بخت اور پاکیزہ نُفوس ہیں، جنہوں نے نبئ کریم ﷺ کے جمالِ جہاں آراء کا اپنی چشمانِ سر سے مُشاہدہ كیا، اور خوش نصیبی کی معراج حاصل کی۔ متعدِد روایات میں انہوں نے سرکارِ دو عالَم ﷺ کے حُسن وجمال کو، جن تشبیہات، اِستعارات اور خوبصورت پیرائے میں بیان فرمایا ، انہیں پڑھ کر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کی قسمت پر رشک آتا ہے! اور دل میں بےاختیار یہ خواہش مچلتی ہے، کہ کاش اُس مبارک دَور میں ہم بھی موجود ہوتے، اور اپنی ان گنہگار آنکھوں سے دیدارِ مصطفی کا شرف پاتے!۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : میلادِ مصطفیﷺ کے مقاصد
ثانی نہیں ہے کوئی آمنہ کے لال کا!
نبئ کریم ﷺ کے بےنظیر حُسن کا ذکر کرتے ہوئے، حضرت سیِّدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ g!»([5]) “آپ ﷺ جیسا حسین و جمیل نہ کوئی آپ سے پہلےدیکھا، نہ آپ ﷺ کے بعد دیکھا”۔
چاند سے زیادہ حسین وجمیل
حضراتِ گرامی قدر! رحمتِ عالمیان ﷺ کے حُسن وجمال کا ذکر کرتے ہوئے، حضرت سیِّدنا جابر بن سَمُرَہ فرماتے ہیں: «رأيتُ رسولَ الله g في ليلةِ إضحيان، فجعلتُ أَنظر إلى رسولِ الله g وإلى القمر، وعليه حلّةٌ حمراء، فإذا هو عندي أحسن من القمر!»([6]) “میں نے رسول الله ﷺ کو چاندنى رات میں دیکھا، کبھی میں حضور ﷺ کى طرف دیکھتا، کبھی چاند کی طرف، اس وقت آپ نے سرخ رنگ کا جوڑا پہن ركھا تھا، آپ ﷺ میرے نزديك چاند سے بھی زیادہ حسين وجمیل تھے!” ؏
| چاند سے منہ پہ تاباں درخشاں درود |
| نمک آگیں صباحت پہ لاکھوں سلام!([7]) |
با رُعب اور پُر وقار شخصیت
حضرت سیِّدنا ہند بن ابی ہالہرضی اللہ عنہ نے سروَرِ کونین ﷺ کے حُسنِ بےمثال کو، چودہویں14 کے چاند سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا: «كَانَ رَسُولُ اللهِ g فَخْماً مُفَخَّماً، يَتَلَأْلَأُ وَجْهُهُ، تَلَأْلُؤَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ»([8]) “رسول اللہ ﷺ عظيم الشان بارُعب، انتہائی پُر وَقار شخصیت کے مالک تھے، آپ ﷺ کا چہرۂ انور چودہویں14 کے چاند کی طرح چمکتا تھا!”۔
قالب میں ڈھلی چاندی کی مثل خوبصورت رنگت
عزیزانِ مَن! حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضورِ اکرم ﷺ کے جسمانی حُسن وجمال، اور خوبصورتی کو چاندی سے تشبیہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: «كَانَ رَسُوْلُ اللهِ g أبيَضَ، كَأنَّمَا صِيغَ مِنْ فِضَّةٍ، رَجِلَ الشَعْرِ!»([9]) “رسول الله ﷺ کے جسمِ اَقدس کا رنگ سفید تھا، گویا کہ قالب میں چاندی ڈھالی گئی ہو! آپ ﷺ کے بال مبارک کسی قدر سیدھے گھنگریالے تھے” ؏
| ک گیسو، ھٰ دَہن، یٰ ابرُو، آنکھیں ع ص |
| كهٰيٰعص اُن کا ہے چہرہ نور کا!([10]) |

یہ بھی ضرور پڑھیں :نعت خوانی کے آداب واَحکام اور دَورِ حاضر کی خُرافات
سب سے زیادہ حسین وجمیل
حضرت سیِّدنا عَمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: «ما كان أحدٌ أحبَّ إليَّ من رسول الله g، ولا أجلَّ في عيني منه، وما كنتُ أطيقُ أن أملأَ عيني منه؛ إجلالاً له، ولو سُئلتُ أن أصِفَه ما أطقتُ؛ لأنّي لم أكن أملأُ عيني منه»([11]) “میرے نزدیک رسول الله ﷺ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں، نہ میری نگاہوں میں کوئی شخص حضورِ اکرم ﷺ سے زیادہ حسین وجمیل ہے، میں رحمتِ عالم ﷺ کے مقدّس چہرہ کو، اُس کے جلال وجمال کے سبب، جی بھر کر دیکھنے کی تاب نہیں رکھتا تھا! اگر کوئی مجھ سے کہے کہ سرکارِ دو عالَم ﷺ کا حسن وجمال بیان کرو، تو میں اس بات کی طاقت نہیں رکھتا؛ کیونکہ (رحمتِ عالم ﷺ کے جمالِ جہاں آرا کی چمک دمک کے سبب) میں نے حضور کو کبھی آنکھ بھر کر دیكھا ہی نہیں!”۔
چاند کا ٹکڑا
حضرت سیِّدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «كان رسولُ الله g إِذا سُرَّ استنارَ وَجهُه، حتَّى كأنّهُ قطعَةُ قَمَرٍ، وكنّا نعرِف ذلك منه»([12]) “حضورِ اکرم ﷺ جب خوش ہوتے، تو حضور ﷺ کا چہرۂ مبارک یوں نور بار ہوتا جیسے چاند کا ٹکڑا! اور ہم حضورِ اكرم ﷺ کے چہرۂ انور کی چمک دمک سے، حضورِ اقدس ﷺ کی خوشی جان لیا کرتے!”؏
| جس سے تاریک دل جگمگانے لگے |
| اس چمک والی رنگت پہ لاکھوں سلام!([13]) |
چہرۂ مصطفی ﷺ
حضراتِ ذی وقار! مصطفی جانِ رحمت ﷺ کا رُخِ انور نہایت روشن، وجیہ اور چاند کی طرح گول تھا، حضرت سیِّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سروَرِ کائنات ﷺ کے حُلیہ مبارک کے بارے میں فرماتے ہیں: «وَكَانَ فِي الوَجْهِ تَدْوِيرٌ، أَبْيَضُ مُشْرَب»([14]) “حضور ﷺ کا چہرۂ انور کچھ گولائی میں تھا، اور آپ ﷺ کی رنگت سفید تھی”۔
حضور نبئ کریم ﷺ کی پیشانی مبارک
حضرت سیِّدنا ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک پیشانی کے بارے میں فرماتے ہیں: «وَاسِعُ الْجَبِينِ»([15]) “آپ ﷺ کی مقدّس پیشانی کشادہ اور چوڑی تھی” ؏
| جس کے ماتھے شَفاعت کا سہرا رہا |
| اُس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام!([16]) |

یہ بھی ضرور پڑھیں :معراج النبی ﷺ
دَہنِ اقدس اور چشمانِ مبارک
عزیزانِ مَن! رحمتِ دوعالَم ﷺ کے باطنی اَوصاف وکمالات کی طرح آپ ﷺ کا ظاہری حُسن وجمال بھی بےمثال تھا! آپ ﷺ کے دَہنِ اقدس اور چشمانِ مبارک کے بارے میں، حضرت سیِّدنا جابر بن سَمُرَ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «كَانَ النَّبِيُّ gضَلِيعَ الفَمِ، أَشْكَلَ العَيْنَيْنِ، مَنْهُوسَ الْعَقِبِ»([17]) “نبئ پاک ﷺ کا دَہنِ مبارک کشادہ، آنکھوں کے کنارے لمبے، اور ایڑھیوں پر گوشت کم تھا”۔
حضرت سیِّدنا علی المرتضیٰرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «أَدْعَجُ العَيْنَيْنِ، أَهْدَبُ الأَشْفَارِ»([18]) “رسول اللہ ﷺ کی چشمانِ مبارک سیاہ، اور پلکیں لمبی تھیں”۔
رحمتِ کونین ﷺ کی بینی مبارک
حضراتِ گرامی قدر! سروَرِ دوجہاں ﷺ کی بینی (ناک) مبارک بہت ہی خوبصورت، دراز، بلند اور نورانی تھی، حضرت سیِّدنا ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم ﷺ فرماتے ہیں: «أقنَى العرنَين، له نورٌ يعلوه»([19]) “رسول اللہﷺ
کی بینی (ناک) مبارک باریک اور بلند تھی، جس پر نمایاں نُور اور رَوشنی تھی” ؏
| نیچی آنکھوں کی شرم وحَیا پر دُرود | اُونچی بینی کی رِفعت پہ لاکھوں سلام!([20]) |
رسول اللہ ﷺ کی پُرنور گردن
حضرت سیِّدنا ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ نے نبئ کریم ﷺ کا حُلیہ مبارکہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: «كان رسولُ الله g …دَقِيقَ الْمَسْرُبَةِ، كَأَنَّ عُنُقَهُ جِيدُ دُمْيَةٍ فِي صَفَاءِ الْفِضَّةِ»([21]) “تاجدارِ رسالت ﷺ کی گردن مبارک بڑی خوبصورت تھی، گویا کہ چاندی کی کوئی مُورتی تراشی گئی ہو”۔
نبئ کریم ﷺ کا قد مبارک
رحمتِ عالمیان ﷺ کا قد مبارک میانہ تھا، حضرت سیِّدنا انَس فرماتے ہیں: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ g لَيْسَ بِالطَّوِيلِ البَائِنِ، وَلاَ بِالقَصِيرِ»([22]) “رسول اللہ ﷺ کا قد مبارک نہ تو بہت لمبا تھا، اور نہ ہی پست (چھوٹا) تھا” ؏
| قدِ بے سایہ کے سایۂ مَرحمت |
| ظلِ مَمدودِ رافت پہ لاکھوں سلام |
| طائرانِ قُدُس جس کی ہیں قمرِیاں |
| اُس سہی سَروقامت پہ لاکھوں سلام([23]) |
حضور ﷺ کے گیسوئے عنبریں
رفیقانِ ملّت اسلامیہ! مصطفی جانِ عالَم ﷺ کے گیسوئے عنبریں (بال مبارک) بڑے ہی پیارے تھے، نہ بالکل سیدھے تھے، نہ بہت گھنگریالے، حضرت سیِّدنا قَتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، کہ میں نے حضرت سیِّدنا انَس رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کہ تاجدارِ دوعالَم ﷺ کے بال مبارک کیسے تھے؟ انہوں نے ارشاد فرمایا: «كَانَ شَعَراً رَجِلًا، لَيْسَ بِالْجَعْدِ وَلَا السَّبْطِ، بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ»([24]) “نبئ کریم ﷺ کے بال مبارک میانہ تھے، نہ بہت گھنگریالے، نہ بالکل سیدھے، اور وہ کانوں اور شانوں (کندھوں)کے درمیان تھے”۔
میرے عزیز دوستو! حضور نبئ کریم ﷺ کی مبارک زُلفوں کی لمبائی کے بارے میں مختلف روایات ہیں، بعض میں نصف کانوں تک، بعض میں کانوں کی لَو تک، اور بعض روایات میں شانوں تک مذکور ہ([25])۔ ان روایات کے اختلاف کی وجہ یہ ہے، کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ نے خاتم النبیین ﷺ کے گیسوئے عنبریں کو مختلف مَواقع پر مشاہدہ فرمایا، کبھی آپ ﷺ نے نصف کانوں تک بال مبارک رکھے، اور کبھی کانوں کی لَو تک، اور کبھی شانوں تک، لہذا ایسی روایات میں باہم کوئی تضاد وتعارُض نہیں۔ ؏
| گوش تک سنتے تھے فریاد، اب آئے تادوش |
| کہ بنیں خانہ بدوشوں کو سہارے گیسو([26]) |
رسولِ اکرم ﷺ کا سینہ مبارک
مصطفی جانِ رحمت ﷺ کا سینہ مبارک کشادہ تھا، حضرت سیِّدنا بَراء بن عازِب رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کا حُلیہ مبارکہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «مَرْبُوعاً، بَعِيدَ مَا بَيْنَ المَنْكِبَيْنِ، لَهُ شَعَرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنِهِ»([27]) “نبئ کریم ﷺ میانہ قد تھے، آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا (یعنی آپ ﷺ کا سینہ مبارک چوڑا تھا)، آپ ﷺ کے بال مبارک کانوں کی لَو تک تھے” ؏
| رفعِ ذِکرِ جلالت پہ اَرفَع دُرود |
| شرحِ صدرِ صدارت پہ لاکھوں سلام([28]) |
تاجدارِ دو عالَم ﷺ کے دستِ رحمت
تاجدارِ رسالت ﷺ کے دستِ رحمت ریشم کی طرح نرم ونازک، پُرگوشت، کلائیاں لمبی، اور بازُو مبارک دراز تھے([29])، حضرت سیِّدنا انَس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «مَا مَسِسْتُ حَرِيراً وَلَا دِيبَاجاً أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ النَّبِيِّ g»([30]) ” میں نے کسی ریشم اور دِیباج کو، رسولِ اکرم ﷺ کی ہتھیلیوں سے زیادہ نرم و نازک نہیں پایا!”۔
حضور ﷺ کے پائے اقدس
برادرانِ اسلام! مصطفی جانِ رحمت ﷺ کے پائے اَقدس (مبارک پاؤں) چوڑے ، پُرگوشت، اور مبارک ایڑیاں کم گوشت والی تھیں، آپ ﷺ کے مبارک پاؤں کے تلوے اونچے تھے، اور زمین پر نہ لگتے تھے، دونوں پنڈلیاں مبارک صاف، شفّاف اور قدرے پتلی تھیں، پائے اَقدس کی نرمی اور نزاکت کا یہ عالم تھا، کہ ان پر پانی ذرا بھی نہیں ٹھہرتا تھا([31])۔ ؏
| ساقِ اصلِ قدم شاخِ نخلِ کرم |
| شمع راہِ اَصابت پہ لاکھوں سلام |
| کھائی قرآن نے خاکِ گزر کی قسم |
| اُس کفِ پا کی حُرمت پہ لاکھوں سلام([32]) |
مُشک وعنبر سے زیادہ خوشبو دار پسینہ مبارک
حضور نبئ کریم ﷺ کے مبارک پسینہ کی خوشبو مشک وعنبر سے بڑھ کر تھی، حضرت سیِّدنا انَسرضی اللہ فرماتے ہیں: «مَا شَمَمْتُ عَنْبَراً قَطُّ، وَلَا مِسْكاً، وَلَا شَيْئاً، أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللهِ g»([33]) “رسول اکرم ﷺ کے جسمِ اقدس کی جیسی خوشبو تھی، ویسی خوشبو نہ مشک میں تھی، نہ عنبر میں، نہ کسی اَور چیز میں” ؏
| شبنمِ باغِ حق یعنی رُخ کا عَرق |
| اس کی سچی بَراقَت پہ لاکھوں سلام([34]) |
دلنشین اور واضح اندازِ گفتگو
مصطفى جانِ رحمت ﷺ کا اندازِگفتگو اس قدر پیارا اور قابلِ فہم تھا، کہ سننے والا بآسانی سن کر سمجھ لیتا، حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا تاجدارِ رسالت ﷺ کے اندازِ گفتگو سے متعلق فرماتی ہیں: «مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ g يَسْرُدُ سَرْدَكُمْ هَذَا، وَلَكِنَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ يُبَيِّنُهُ، فَصْلٌ يَحْفَظُهُ مَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ»([35]) “رسول اللہ ﷺ تم لوگوں کی طرح جلدی جلدی گفتگو نہیں فرماتے تھے، بلکہ وہ نہايت واضح انداز میں کلام فرماتے، کہ پاس بیٹھنے والا اُسے یاد کر لیا کرتا!”۔
جو بات زیادہ اہم ہوتی، آپ ﷺ اسے بسااوقات تین تین بار دُہراتے؛ تاکہ سننے والے اسے اچھی طرح ذہن نشین کر لیں! حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالک رضی اللہ عنہ حضورِ اكرم ﷺ کے اندازِ گفتگو کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «كَانَ رَسُولُ الله g يُعِيدُ الكَلِمَةَ ثَلَاثاً؛ لِتُعْقَلَ عَنْهُ»([36]) “رسول اللہ ﷺ ایک بات تین3 بار دہراتے؛ تاکہ آپ ﷺ کا مُخاطَب شخص اس بات کو اچھی طرح سمجھ (کر دل میں اُتار) سکے!” ؏
| میں نثار تیرے کلام پر، ملی یُوں تو کس کو زباں نہیں؟ |
| وہ سخن ہے جس میں سُخن نہ ہو، وہ بیاں ہے جس کا بیان نہیں([37]) |
سب سے زیادہ خوبرو
حضرت سیِّدنا ابو قِرصافہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ میں نے اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ، نبئ کریم ﷺسے بیعت کا شرف حاصل کیا، واپسی پر میری والدہ نے مجھ سے فرمایا: «يَا بُنَيَّ! مَا رَأَيْنَا مِثْلَ هَذَا الرَّجُلِ أَحْسَنَ مِنْهُ وَجْهاً، وَلَا أَنْقَى ثَوْباً، وَلَا أَلْيَنَ كَلَاماً، وَرَأَيْنَا كَأَنَّ النُّورَ يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ»([38]) “اےمیرے پیارے بیٹے! ہم نے حضور ﷺ سے زیادہ خُوبرُو، ان سے زیادہ پاکیزہ لباس والا، اور ان سے زیادہ نرم گفتار کسی کو نہیں دیکھا! بلکہ ہم نے انہیں ایسا دیکھا کہ گویا ان کے منہ سے نور نکل رہا ہے!”۔
حُسن سراپائےرسول
حضرت سیِّدہ اُمِّ مَعبدرضی اللہ عنہا مصطفی جانِ رحمت ﷺ کا حُلیہ مبارکہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ “آپ ﷺ کا حُسن نمایاں، چہرہ حسین، قد وقامت خوبصورت، نہ بڑے پیٹ کا عیب، نہ چھوٹے سَر کا نقص، اِنتہائی خوبصورت، خوبرُو آنکھیں، سیاہ اور بڑی پلکیں، گونج دار آواز، گردن بلند، داڑھی مبارک گھنی، باریک اور باہم ملی ہوئی اَبرُو، خاموش رہیں تو باوقار، لب کشا ہوں تو چہرہ پُر بہار ووقار، سب سے بڑھ کر باجمال، دُور ونزدیک سے حسین وجمیل، شِیریں زَباں، گفتگو صاف اور واضح، نہ بےفائدہ نہ بےہودہ، مبارک منہ سے الفاظ ادا ہوں تو گویا موتی جھڑیں، درمیانہ قد، نہ لمبا کہ دراز قامتی بُری لگے، نہ پست کہ آنکھوں میں حَقارت پیدا ہو!”([39])۔ ؏
| حُسن تیرا سا نہ دیکھا نہ سنا | کہتے ہیں اگلے زمانے والے([40]) |
بے مثل وبے مثال آقا ﷺ
حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ نے پےدَرپے (لگاتار) روزے رکھنے سے منع فرمایا، کچھ لوگوں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! آپ خود تو پے دَر پے روزے رکھتے ہیں! سركارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا: «وَأَيُّكُمْ مِثْلِي؟ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ!»([41]) “تم میں میرے جیسا کون ہے؟ میں تو اپنے رب تعالی کے یہاں رات گزارتا ہوں، وہ مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے” ؏
| ترے خُلق کو حق نے عظیم کہا، تری خِلْق کو حق نے جمیل کیا | |
| کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا، ترے خالقِ حُسن واَدا کی قسم! | |
| ترا مَسندِ ناز ہے عرشِ بریں، ترا محرمِ راز ہے رُوح ِ امیں | |
| تُو ہی سروَرِ ہر دو جہاں ہے شہا، ترا مثل نہیں ہے خدا کی قسم!([42]) | |
حضورِ اکرم ﷺ کی خوش طبعی
حضراتِ گرامی قدر! خوش طبعی اور مِزاح بھی سنّت ہے، لیکن مصطفى جانِ رحمت ﷺ نے مِزاح میں بھی کبھی کوئی جھوٹی بات نہیں کہی، ہمیشہ سچ ہی ارشاد فرمایا، حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! آپ ہم سے مِزاح بھی فرماتے ہیں؟ تو رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقّاً!»([43]) “میں (مذاق میں بھی) سچّی بات ہی کہتا ہوں!”۔
حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ ایک شخص نے رسول الله ﷺ سے سواری مانگی، رسولِ اكرم ﷺ نے فرمایا: «إِنِّي حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ النَّاقَةِ» “میں تجھے اونٹنی کے بچے پر سوار کروں گا!” اس نے عرض کی: یارسولَ اللہ! میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں گا؟ رسول الله ﷺ نے فرمایا: «وَهَلْ تَلِدُ الإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ؟»([44]) ” اونٹنیاں ہی تو اونٹ پیدا كرتى ہيں!” ؏
| اُن کے نثار کوئی، کیسے ہی رنج میں ہو |
| جب یاد آگئے ہیں، سب غم بھلا دیے ہیں!([45]) |
سرورِ دو جہاں ﷺ کے اَخلاقِ کریمہ
عزيزانِ محترم! مصطفی جانِ رحمت ﷺ انتہائی مہربان، سخی، راست گو، نرم طبیعت، خوش مزاج، اور خوش اَخلاق تھے، اللہ ربّ العزّت آپ ﷺ کے اَخلاقِ حسَنہ کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ﴾([46]) “(اے حبیب) یقیناً تم اَخلاق کے اعلیٰ ترین مَقام پر فائز ہو!”۔
حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے حضورِ اکرم ﷺ کے اَخلاقِ كريمہ کے بارے میں پوچھا، تو آپ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: «كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنُ»([47]) “خود قرآنِ کریم ہی حضور ﷺ کے اَخلاقِ کریمہ ہیں”۔
حضرت سیِّدُنا اَنَسْ تاجدارِ رسالت ﷺ کے اَخلاقِ حسنہ اور عاداتِ کریمہ سے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: «لَمْ يَكُنْ رَسُولُ الله ﷺ فَاحِشاً، وَلاَ لَعَّاناً، وَلَا سَبَّاباً»([48]) “رسول اللہ ﷺ نہ فحش گو تھے، نہ لعنت کرنے والے، اور نہ ہی گالی دینے والے تھے!” ۔
سراپا ئے رحمت
عزیزانِ ملّت اسلامیہ! مصطفى جانِ رحمت ﷺ سراپائے رحمت تھے، کفّار ومشرکین نے تبلیغِ اسلام کے مقدّس جرم میں، نبئ رحمت ﷺ کو بڑی اَذیتیں پہنچائیں، لیکن قدرت رکھنے کے باوُجود رحمتِ عالميان ﷺ نے، ان لوگوں سے بدلہ نہیں لیا، بلکہ ان کے حق میں بد دعا تک نہیں فرمائی۔ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہرضي الله عنها نے روايت كی، کہ بارگاہِ رسالت میں عرض کیا گيا: یا رسولَ اللہ! مشرکین کے لیے بددعا کیجیے، سروَرِ كونین ﷺ نے فرمایا: «إنِّيْ لَمْ أُبْعَثْ لَعَّاناً، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً!»([49])
“میں بد دعا کرنے والا نہیں بھیجا گیا، بلکہ میں تو (سراپا) رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں!”۔
ہر عیب سے پاک اور زیادہ حُسن وجمال کے حامل
حضراتِ ذی وقار! شاعرِ دربارِ ر سالت حضرت سیِّدنا حسّان بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے “قصیدۂ ہمزیہ” میں جمالِ نبوّت کی شانِ بےمثال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ؏
| وأحسن مِنْكَ لم تَرَ قَطُّ عینِي | وأجمَل مِنْكَ لم تَلِدِ النِّساءُ | |
| خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِنْ کُلِّ عیبٍ | کأنَّكَ قد خُلِقْتَ کما تشاءُ([50]) |
“(1) آپ ﷺ سے زیادہ حُسن والا میری آنکھ نے کبھی دیکھا ہی نہیں، (2) آپ ﷺ سے زیادہ جمال والا کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔ (3) آپ ﷺ ہر عیب سے پاک پیدا کیے گئے ہیں، (4) گویا کہ آپ ﷺ ایسے پیدا کیے گئے ہیں جیسا آپ چاہتے تھے” ؏
| سر تا بقدم ہے تنِ سلطانِ زمَن پھول |
| لب پھول، دَہن پھول، ذَقن پھول، بدن پھول([51]) |
امام بوصیری رحمۃُ اللہ علیہ نے شمائلِ مصطفی اور آپ ﷺ کے حُسن وجمال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے “قصیده بُردہ شریف” میں فرمایا: ؏
| مُنزَّهٌ عن شريكٍ في مَحاسِنِه | فجَوهرُ الحُسنِ فيه غيرُ مُنقسِمِ([52]) |
“حضور نبئ کریم ﷺ اپنی خوبیوں میں ایسے یکتا ہیں، کہ اس مُعاملے میں آپ کا کوئی شریک نہیں، بلكہ ان کا جَوہرِ حُسن وجمال تقسیم سے پاک ہے”
| وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے، کہ گمانِ نقصْ جہاں نہیں |
| یہی پھول خار سے دُور ہے، یہی شمع ہے کہ دُھواں نہیں([53]) |
حُسن وجمالِ مصطفی سے متعلق علمائے امّت کے اقوال
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! حضور سروَرِ عالم ﷺ کا حُسن وجمال بےمثل وبےمثال ہے، اور اس پر اِیمان واِیقان تکمیلِ ایمان کا ذریعہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اس سلسلے میں علمائے امّت کے متعدِد اَقوال وفرامین موجود ہیں، جن میں سے چند حسبِ ذیل ہیں:
حُسن وجمال کا چرچا
(1) قاضی عیاض رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “اے طالبِ صادق! جان لو کہ حضور ﷺ کے مَحاسنِ عالیہ میں اپنی کوشش کو قطعاً دخل نہیں، بلکہ وہ آپ کی جبلّت میں پیدائشی طور پر پائے جاتے ہیں۔ آپ کی ذاتِ مقدّسہ میں مَحاسن وکمالات فطری طَور پر، اس طرح جمع کر دیے گئے ہیں، کہ کوئی کمال اس کے اِحاطے سے باہر نہیں رہا۔ بےشمار احادیث میں جو آپ کے حُسن وجمال کا چرچا ہے، اُن کی صحت میں کلام نہیں، بلکہ بعض آثار تو صحت سے قطعیّت، اور وہاں سے حقُ الیقین کے درجے تک پہنچے ہوئے ہیں! آپ کے حسن وجمال اور تناسُبِ اعضاء کے بیان میں، آثارِ صحیحہ کثیرہ مشہورہ وارِد ہیں”([54])۔
تکمیلِ ایمان کا ذریعہ
(2) امام قسطلانی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “حضور ﷺ پر ایمان لانے کی تکمیل میں سے ہے، کہ اس بات پر بھی ایمان لایا جائے، کہ اللہ تعالی نے حضورِ اکرم ﷺ کے بدن شریف کی بناوَٹ، اس طَور پر کی ہے کہ حضور سے پہلے اور بعد، کسی کی تخلیق اس انداز سے نہیں کی گئی”([55])۔
رُوئے تاباں کی طرف آنکھ اُٹھانا بھی مشکل اَمر
(3) علّامہ علی قاریرحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “نبئ اکرم ﷺ کا حسن وجمال اَوجِ کمال پر تھا (یہاں تک فرمایا کہ) لیکن رب A نے حضور نبئ کریم ﷺ کے جمالِ جہاں آرا میں سے، بہت کچھ صحابۂ کرام رضي الله عنها پر بھی مخفی رکھا، اگر سرکارِ دوعالَم ﷺ کا حسن وجمال پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ افروز ہوتا، تو حضور ﷺ کے رُوئے تاباں کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنا بھی مشکل ہو جاتا!”([56])۔
حضورِ اکرم ﷺ کا مکمل حُسن وجمال ظاہر نہیں ہوا
(4) علّامہ علی قاریرحمۃُ اللہ علیہ مزید تحریر کرتے ہیں کہ “امام قُرطبی نے بعض علماء سے نقل كيا، کہ ہمارے لیے حضورِ اکرم کا مکمل حسن وجمال ظاہر نہیں ہوا؛ (کیونکہ اگر حضور کا تمام حسن وجمال ظاہر ہوتا) تو صحابۂ کرام کی آنکھیں حضور کو دیکھنے پر قادِر نہ ہوتیں!”([57])۔
حضور اکرم ﷺ جیسا کائنات میں کوئی نہیں
(5) علّامہ محمد بن عبد الباقی زرقانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “مَولا علی رضي الله عنها نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ کی تعریف بیان کرنےوالا، جب آپ کی تعریف کرنے کی طاقت نہیں پاتا، تو بالآخر کہتا ہےکہ میں نے حضور ﷺ سے پہلے اور بعد، حضور جیسا کسی کو دیکھا ہی نہیں!”([58])۔
مسلمانانِ عالَم کا اتفاق
(6) حضور نبئ کریم ﷺ کے حُسن وجمال کے بارے میں، امام اِبراہیم باجُوریرحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا کہ “مسلمانانِ عالَم اِس بات پر متفق ہیں، کہ ہر شخص کے لیے سرکارِ دوعالَم ﷺ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے، کہ خالقِ کائنات A نے حضور ﷺ کے بدنِ اطہر کو، اِس شان سے تخلیق فرمایا کہ آپ ﷺ سے پہلے اور آپ کے بعد، کسی کو آپ جیسا نہ بنایا”([59])۔
شمائلِ مصطفی ﷺ بیان کرنے میں احتیاط کا پہلو
میرے محترم بھائیو! حضور نبئ کریم ﷺ کے شمائل اور حُسن وجمال کا ذکر کرنا، جہاں دنیا وآخرت میں رحمتوں، برکتوں اور نَجات کا باعث ہے، وہیں اس میں ذراسی کوتاہی یا تنقیص، اِیمان کی بربادی اور جہنّم میں لے جانے کا سبب بن سکتی ہے! لہٰذا تاجدارِ رسالت ﷺ کے حُسن وجمال کا ذکر کرتے ہوئے، ہمیشہ حددرجہ احتیاط برتیں، اور بہت سوچ سمجھ کر الفاظ کا چناؤ کریں!۔
حضرت سیِّدنا جابر بن سَمُرَہ رضي الله عنها سے ایک شخص نے اِستفسار کیا، کہ کیا حضور ﷺ کا چہرہ تلوار کی طرح (چمکدار)تھا؟ حضرت سیِّدنا جابر بن سَمُرَہ رضي الله عنها نے فرمایا: «مِثْلُ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ مُسْتَدِيرٌ»([60]) “(نہیں، بلکہ) سورج اور چاند کی طرح گول تھا”۔
رسول اللہ ﷺ کے رُخ ِانور کی تابانی كو، تلوار کے ساتھ تشبیہ دینے میں بےادبی کا احتمال تھا؛ کیونکہ تلوار میں صرف چمک ہوتی ہے، نورانیت نہیں ہوتی، اسی طرح لمبائی ہو تی ہے، گولائی نہیں ہوتی، جبکہ چاند سے تشبیہ دینا اس لیے دُرست ہے؛ کہ اس میں نورانیت بھی ہے اور گولائی بھی، مزید یہ کہ اس کی روشنی کو تا قیامت زوال نہیں!([61])۔
حُسن وجمالِ مصطفی سے متعلق اسلامی عقیدہ
میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! حضورِ اقدس ﷺکے حُسن وجمال کو بےمثل ماننا، تکمیل اِیمان میں سے ہے ، کسی شخص کا اِیمان اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا، جب تک وہ نبئ بےمثال ﷺ کو باعتبارِ صورت وسیرت، اِس کائناتِ ہَست وبُود کی تمام مخلوقات سے افضل واکمل تسلیم نہ کر لے! ([62]) لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے عقیدہ وِایمان میں اس اَمر کو ضرور ملحوظ رکھیں، اور جہاں کوئی خامی، کمی یا کوتاہی پائیں، اُسے درست کر کے اپنی دنیا وآخرت سنواریں، اور اپنے ایمان کو فرحت وتازگی بخشیں!۔
دعا
اے اللہ! حضورِ اکرم ﷺ کے حُسنِ بےمثال کے صدقے ہمارے ایمان کی حفاظت فرما، ہماری دنیا وآخرت بہتر بنا، ہم پر اپنی رحمتوں، برکتوں اور خیر وبھلائی کا نُزول فرما، نبئ کریم ﷺ کے حُسن وجمال سے متعلق ہمارے عقیدے کو صحابۂ کرام رضي الله عنها کے نظریات کے مُوافق بنا، شمائلِ مصطفی بیان کرتے وقت، احتیاط کا دامن تھامے رہنے کی توفیق مرحمت فرما، کسی بھی قسم کی تنقیص یا کوتاہی سے بچا، اور ہر معاملے میں مقام ِ مصطفی کے آداب ملحوظِ خاطر رکھنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام رضي الله عنها کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!۔
اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی وکشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([3]) “تفسیر خزائن العرفان” پ 30، الضُحیٰ، زیرِ آیت: 2، 1108۔
([4]) دیکھیے: “شمائل ِ نبوی ﷺ” واعظ الجمعہ 8 جنوری 2021ء۔
([5]) “سنن الترمذي” باب المناقب، ر: ٣٦٣٧، صـ٨٢٩.
([6]) المرجع نفسه، أبواب الأدب، ر: ٢٨١١، صـ٦٣٣.
([7]) “حدائق بخشش” حصہ دُوم، مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام، 301۔
([8]) “المعجم الكبير” باب الهاء، من اسمه هند، ر: ٤١٤، ٢٢/١٥٥.
([9]) “الشمائل المحمديّة” باب صفة خلق رسول الله g، ر: ١٢، صـ٢٩.
([10]) “حدائق بخشش” حصّہ دُوم2 ، صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا، 249۔
([11]) “صحيح مسلم” كتاب الإيمان، باب كون …إلخ، ر: ٣٢١، صـ٦٤، ٦٥.
([12]) “صحيح البخاري” باب صفة النّبي g، ر: ٣٥٥٦، صـ٥٩٧.
([13]) “حدائق بخشش” حصہ دُوم 2، مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام، 301۔
([14]) “سنن الترمذي” باب ما جاء في صفة النّبي g، ر: ٣٦٣٨، صـ٨٢٩.
([15]) “شرح السُنة” للبَغَوي، كتاب الفضائل، باب جامع صفاته g، ر: ١٣/ ٢٧٠. و”الشمائل المحمدية” للترمذي، باب ما جاء في خلق رسول الله g، ر: ٧، صـ٢٢.
([16]) “حدائق بخشش” حصہ دُوم 2، مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام، 300۔
([17]) “سنن الترمذي” باب ما جاء في صفة النّبي g، ر: ٣٦٤٦، صـ٨٣١.
([18]) “سنن الترمذي” باب ما جاء في صفة النّبي g، ر: ٣٦٣٨، صـ٨٢٩. و”الشمائل المحمديّة” للترمذي، باب ما جاء في خلق رسول الله g، ر: ٦، صـ٢٠.
([19]) “الشريعة” للآجرّي، كتاب الإيمان والتصديق بأنّ الجنّة والنّار مخلوقتان، باب صفة خلق رسول الله g …إلخ، ر: ١٠٢٢، ٣/ ١٥٠٨. و”الشمائل
المحمدية” للترمذي، باب ما جاء في خلق رسول الله g، ر: ٧، صـ٢٢.
([20]) “حدائق بخشش” حصہ دُوم2، مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام، 301۔
([21]) “الشمائل المحمدية” للترمذي، باب ما جاء في خلق رسول الله g، ر: ٧، صـ٢٢.
([22]) “صحيح البخاري” كتاب المناقب، ر: ٣٥٤٨، صـ٥٩٦.
([23]) “حدائق بخشش” حصہ دُوم 2، مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام، 299۔
([24]) “صحيح مسلم” كتاب الفضائل، ر: ٦٠٦٧، صـ١٠٢٩.
([25]) “سنن الترمذي” أبواب اللباس، ر: ١٧٢٤، صـ٤١٢.
([26]) “حدائق بخشش” حصّہ اوّل،چمنِ طیبہ میں سُنبل جو سنوارے گیسو، 119۔
([27]) “صحيح البخاري” كتاب المناقب، ر: ٣٥٥١، صـ٥٩٦.
([28]) “حدائق بخشش” حصہ دُوم 2، مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام، 304۔
([29]) انظر: “الشمائل المحمدية” للترمذي، باب ما جاء في خلق رسول الله g، ر: ٧، صـ٢٣.
([30]) “صحيح البخاري” كتاب المناقب، ر: ٣٥٦١، صـ٥٩٧.
([31]) انظر: “الشمائل المحمدية” للترمذي، باب ما جاء في خلق رسول الله g، ر: ٧، صـ٢٣. و”سیرتِ مصطفی” باب 17، شمائل وخصائل، پائے اقدس، 580، ملخّصاً۔
([32]) “حدائق بخشش” حصہ دُوم 2، مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام، 305۔
([33]) “صحيح مسلم” كتاب الفضائل، ر: ٦٠٥٣، صـ١٠٢٧.
([34]) “حدائق بخشش” حصہ دُوم 2، مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام، 301۔
([35]) “سنن الترمذي” أبواب المناقب، ر: ٣٦٣٩، صـ٨٣٠.
([36]) المرجع نفسه، ر: ٣٦٤٠، صـ٨٣٠.
([37]) “حدائق بخشش” حصہ اوّل ، وہ کمال حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نَقصِ جہاں نہیں، 107۔
([38]) “المعجم الكبير” جندرة بن خيشنة أبو… إلخ، ر: ٢٥١٨، ٨/١٨، ١٩.
([39]) “المعجم الكبير” باب الحاء، حبيش بن خالد الخزاعي، ر: ٣٦٠٥، ٤/٤٨. و”مُستدَرك الحاكم” كتاب الهجرة …إلخ، ر: ٤٢٧٤، ٣/ ١٠، ملخّصاً.
([40]) “حدائق بخشش” حصہ اوّل، آنکھیں رو رو کے سُجانے والے ، 161۔
([41]) “صحیح البخاري” بَابُ التنكيل لمن أكثر الوصال، ر: ١٩٦٥، صـ٣١٦.
([42]) “حدائق بخشش، حصہ اوّل ، ہے کلامِ الہی میں شمس وضُحی ترے چہرۂ نورِ فزا کی قسم، 80، 81۔
([43]) “سنن الترمذي” باب ما جاء في المزاح، ر: ١٩٩٠، صـ٤٦٠.
([44]) المرجع نفسه، ر: ١٩٩١، صـ٤٦٠.
([45]) “حدائق بخشش” حصہ اوّل، اُن کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں، 101۔
([47]) “مسند الإمام أحمد” مسند السيّدة عائشة، ر: ٢٤٦٥٥، ٩/٣٨٠.
([48]) “صحیح البخاري” کتاب الأدب، ر: ٦٠٤٦، صـ١٠٥٦.
([49]) “صحیح مسلم” کتاب البرّ والصلة والأدب، ر: ٦٦١٣، صـ١١٣٤.
([50]) “ديوان حَسّان بن ثابت” قافية الألف، صـ٢١.
([51]) “حدائق بخشش” حصّہ اوّل، سر تا بقدم ہے تنِ سلطان زَمن پھول ، 78۔
([52]) “قصيدة البُردة” الفصل 3 في مدح النّبي ﷺ، صـ٢٩.
([53]) “حدائقِ بخشش” حصّہ اوّل، وہ کمالِ حسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں، 107۔
([54]) “الشفا” القسم 1، الباب 2 في تكميل …إلخ، فصل، الجزء ١، صـ٤٤.
([55]) “المواهب اللدُنية” المقصد 3، الفصل 1 في كمال خلقته وجمال …إلخ، ٢/٥.
([56]) “جمع الوسائل” باب تعطّر رسول الله g، الجزء ٢، صـ٩.
([57]) المرجع نفسه، باب ما جاء في خلق رسول الله g، الجزء ١، صـ١٠.
([58]) “شرح الزرقاني على المواهب اللدُنية” شرح مقدّمة المواهب، ١/٢٠.
([59]) “المواهب اللدُنية على الشمائل المحمديّة” باب ما جاء في …إلخ، صـ٣٨.
([60]) “الطبقات الكبرى” لابن سعد، ذكر صفة خلق رسول الله، ١/٢٨٣.
([61]) دیکھیے: “شمائل ِ نبوی ﷺ” واعظ الجمعہ 8 جنوری 2021ء۔
([62]) “المواهب اللدُنية” المقصد 3، الفصل 1 في كمال خلقته وجمال …إلخ، ٢/٥.