
Table of contents
- عالَمِ انسانیت کے لیے رَہبر ورَہنما
- وجہِ کاملیت وجامعیت
- معلّم ِکائنات
- سب سے بہتر اَخلاقِ کریمہ
- عدل ومُساوات میں کامل
- ایمان اور شخصی ت کے اعتبار سے کامل ترین
- شفقت ومہربانی کے لحاظ سے کاملیت
- عادات وخصائل کے اعتبار سے کامل وبہترین
- صداقت واَمانت کے اعتبار سے جامع
- نبئ کریم ﷺ کا کلامِ مبارک اور قرآنِ کریم کی گواہی
- سروَرِ کونین ﷺ بحیثیت انسان ِکامل واکمل
- بے نظیر وبے مثال حُسنِ کامل
- سروَرِ کائنات ﷺ کا کامل اندازِ گفتگو
- صورتِ بشری میں کامل ترین ذاتِ والا صفات
- دعا
عالَمِ انسانیت کے لیے رَہبر ورَہنما
برادرانِ اسلام! مصطفی جانِ رحمت ﷺ بحیثیت انسان، سب سے کامل ترین ہستی ہیں، سروَرِ کونین ﷺ کی سیرتِ طیّبہ عالَمِ انسانیت، بالخصوص اُمتِ مسلمہ کےلیے کامل نمونہ ہے، حضورِ اکرم ﷺ کی عادات وصفات، حُسن وجمال، صداقت واَمانت، طریقۂ تعلیم وتعلُّم، منہجِ دعوت وتبلیغ، اندازِ گفتگو، حُسنِ سُلوک، اور اَخلاقِ کریمہ سمیت تمام اَوصاف وکمالات میں کاملیت وجامعیت ہے۔
رحمتِ دو عالَم ﷺ رَہبرِ انسانیت ہیں، رسولِ کریم ﷺ اس دنیا میں اللہ ربّ العالمین کے آخری نبی بن کر تشریف لائے، لہذا نبئ رحمت ﷺ کی سیرتِ مبارکہ تا قیامت آنے والے انسانوں کےلیے کامل عملی نمونہ ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾([1]) “یقیناً تمہیں رسول اللہ کی پَیروی بہتر ہے!” لہٰذا ہمیں بھی سروَرِ عالَم ﷺ کے اُسوۂ حسنہ پر بھرپور طریقے سے عمل کرنا ہے، کہ اسی میں دنيا وآخرت كى کامیابی اور کامرانی ہے!۔
وجہِ کاملیت وجامعیت
اس دنیا میں رسولِ اکرم ﷺ کی تشریف آوَری کا مقصد ہی عالَمِ انسانیت کی ہدایت، رَہنمائی اور اصلاح ہے، لہذا ان کے تمام فرامینِ مبارکہ اور سیرت ِطیّبہ میں کاملیت وجامعیت کی جھلک ہونا ایک فطری امر ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ١ۗ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ﴾([2]) “وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا، کہ اُن پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں، اور انہیں پاک کرتے ہیں، اور انہیں کتاب وحکمت کا علم عطا فرماتے ہیں، اور وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے”۔
یہی وجہ ہے کہ خالقِ کائنات نے قرآنِ کریم میں واضح طَور پر ہمیں حکم ارشاد فرمایا، کہ ہر مُعاملے میں رسول اللہ ﷺ کے اَحکام کی تعمیل وپَیروی کی جائے، انہیں بلا چُون وچرا دل وجان سے قبول کیا جائے، اور اپنی رائے یا عقل کے گھوڑے نہ دَوڑائے جائیں، اللہ رب العالمین ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ﴾([3]) “جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لے لو، اور جس سے منع فرمائیں (اس سے) باز رہو، اور اللہ سے ڈرو، یقیناً اللہ کا عذاب شدید ہے!” ؏
| خدا نے ذات کا اپنی تمہیں مَظہر بنایا ہے |
| جو حق کو دیکھنا چاہیں تو اُس کے آئینہ تم ہو([4]) |

یہ بھی ضرور پڑھیں : صوفیائے کرام اور اُن کی تعلیمات
معلّم ِکائنات
عزیزانِ محترم! سروَرِ دوجہاں ﷺ کی بحیثیت انسان، کاملیت کا اندازہ اس بات سے خوب لگایا جا سکتا ہے، کہ اللہ جل جلالہٗ نے سرکارِ دوعالم ﷺ کو ساری دنیا کی اِصلاح اور تعلیم وتربیت کےلیے مُعلّمِ کائنات بنا کر بھیجا، اس بارے میں حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عَمرو ضی اللہ عنہما سے روایت ہے، سروَرِ کونین ﷺ نے اِرشاد فرمایا: «إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّماً»([5]) “میں مُعلّم (اُستاد) بنا کر بھیجا گیا ہوں”۔
ایک اَور مقام پر حضرت سیِّدنا مُعاویہ بن حَکم سُلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: «فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي! مَا رَأَيْتُ مُعَلِّماً قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيماً مِنْهُ»([6]) “میرے ماں باپ رسول اللہ ﷺ پر قربان ہوں! میں نے ان سے پہلے اور ان کے بعد ، ان سے بہتر کوئی سكھانے والامُعلّم نہیں ديكھا”۔
سب سے بہتر اَخلاقِ کریمہ
حضراتِ ذی وقار! محسنِ اِنس وجاں ﷺ ہر لحاظ سے ایک عظیم ترین اور کامل انسان ہیں، اگر سروَرِ دوعَالم ﷺ کے اَخلاقِ کریمہ کا ہی ذکر کیا جائے، تو اس بارے میں خود قرآنِ کریم نے گواہی دی، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ﴾([7]) “یقیناً آپ اَخلاق كے عظيم مقام پر ہيں!”۔
رحمتِ عالمیان ﷺ کے اَخلاقِ حسنہ کے بارے میں جب کسی نے حضرت سیِّدَہ عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، سے پوچھا، تو جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا: «كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنُ»([8]) “خود قرآنِ کریم ہى حضور ﷺ کے اَخلاقِ كريمہ ہيں” ؏
| تِرے خُلق کو حق نے عظیم کہا، تِری خَلق کو حق نے جمیل کیا |
| کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا، تِرے خالقِ حُسن وادا کی قسم([9]) |

یہ بھی ضرور پڑھیں : شانِ مولائے کائنات رضي الله عنه
عدل ومُساوات میں کامل
حضراتِ گرامی قدر! نبئ کریم ﷺ بحیثیت انسانِ کامل اعلیٰ اَخلاقی کردار اور حُسنِ سُلوک کا عملی نمونہ ہیں، رسولِ اکرم ﷺ نے متعدد اَزواج ہونے کے باوُجود، سب کے ما بین عدل ومُساوات کو قائم رکھا، سب کی باریاں مقرّر فرما کر برابر وقت دیا اور سب کی دِلجوئی فرمائی۔ ام المؤمنین حضرت سیِّدَہ عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ انصاف سے باریاں تقسیم کرتے، اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے: «اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ!»([10]) “اےاللہ! یہ میری تقسیم ہے جس کا مجھے اختیار ہے، اور مجھے اُس پر ملامت نہ کرنا جو تیرے اختیار میں ہے، اور میں اس (دل کے میلان) پر اختیار نہیں رکھتا!”۔
میرے محترم بھائیو! آج ہم لوگ اپنی ایک بیوی کے ساتھ بھی انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کر پاتے، کہیں نہ کہیں کوتاہی ضرور کر بیٹھتے ہیں، جبکہ رسولِ اکرم ﷺ نے تعدّدِ اَزواج کے باوُجود عدل ومُساوات کا بہترین عملی نمونہ پیش فرمایا، اور یہ امر مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی کاملیت کا بیّن ثبوت ہے!۔
ایمان اور شخصیت کے اعتبار سے کامل ترین
مصطفى جانِ رحمت ﷺ نے حُسنِ اَخلاق کو کمالِ ایمان سے شمار فرمایا، حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أَكْمَلُ المْؤْمِنِينَ إِيماناً أَحْسَنُهُمْ خُلُقَاً، وَخِيارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسائهِم»([11]) “تمام مسلمانوں میں ایمان کے اعتبار سے کامل وہ ہے، جو اَخلاق میں سب سے اچھا ہے، اور تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا ہے!”۔
ایک اَور مقام پر تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لأَهْلِي»([12]) “تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ تم سب سے بہتر ہوں”۔
لہذا پتا چلا کہ باعتبارِ ایمان اور باعتبارِ شخصیت، حضور نبئ کریم ﷺ سے کامل اور بہترین انسان کوئی نہیں!۔
شفقت ومہربانی کے لحاظ سے کاملیت
عزیزانِ مَن! رحمتِ عالمیان ﷺ کی ذاتِ مبارکہ اس اعتبار سے بھی کامل واکمل ہے، کہ سروَرِ کونین ﷺ سے زیادہ بچوں پر کوئی شفیق ومہربان نہیں، حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور رحمتِ عالم ﷺ کی بچوں سے محبت ومہربانی کے بارے میں فرماتے ہیں: «مَا رَأَيْتُ أَحَداً كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ، مِنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ«([13]) “میں نے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر، بچوں پر مہربانی فرمانے والا کسی کو نہیں دیکھا!”۔
حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ تاجدارِ رسالت ﷺ کے انتہائی قریبی صحابی اور وفادار خادم تھے، انہوں نے حضور خاتم النبیین ﷺ کو بہت قریب سے دیکھا، اور مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کا بڑی گہرائی سے مشاہدہ کیا، آپرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: «خَدَمْتُ النَّبِيَّ ﷺ عَشَرَ سِنِیْنَ بِالْمدِیْنَةِ وَأَنَا غُلَامٌ، لَیْسَ کُلُّ أَمْرِيْ کَمَا یَشْتَهِيْ صَاحِبِيْ أَنْ یَکُوْنَ عَلَیْهِ، مَا قَالَ لِيْ فِيْهَا: “أُفٍّ” قَطُّ، وَمَا قَالَ لِيْ: “لِمَ فَعَلْتَ هٰذَا؟” أَمْ “أَلَّا فَعَلْتَ هٰذَا!”»([14]) “میں نے مدینہ منوّرہ میں نبئ کریم ﷺ کی دَس10 سال خدمت کی جبکہ میرى كم عمری کے سبب، ہر کام نبئ رحمت ﷺ کی مرضی کے مطابق نہیں ہو پاتا تھا، ليكن میرے کسی کام پر نبئ رحمت ﷺ نے کبھی مجھے “اُف” تک نہیں کہا، اور نہ یہ فرمایا کہ “تم نے یہ کیوں کیا؟” یا “ایسے کیوں نہ کیا؟”۔
میرے محترم بھائیو! کسی بھی انسان کی عادات وخصائل کو اس کے اہل وعیال، اور ملازمین سے بہتر کوئی نہیں جانتا، رسولِ اکرم ﷺ کی بچوں پر شفقت ومہربانی کے بارے میں حضرت سیِّدنا انَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گواہی دینا، اور اپنا دس 10 سالہ مُشاہدہ بیان فرمانا، رحمتِ عالمیان ﷺ کے انسانِ کامل ہونے پر ایک واضح اور بڑی دلیل ہے!۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : معراج النبی ﷺ
عادات وخصائل کے اعتبار سے کامل وبہترین
جانِ برادر! تاجدارِ رسالت ﷺ اپنی مبارک عادات وخصائل کے اعتبار سے بھی، تمام مخلوقات میں سب سے بہتر اور کامل ہیں، سروَرِ دو عَالم ﷺ کی عادات وخصائل کا ذکر کرتے ہوئے حضرت سیِّدنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: «لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ g فَاحِشاً، وَلَا لَعَّاناً، وَلَا سَبَّاباً»([15]) “رسول اللہ ﷺ نہ فحش گوئی کرتے، اور نہ لعنت کرتے، اور نہ ہی گالی دیتے “۔
صداقت واَمانت کے اعتبار سے جامع
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! سرکارِ دوجہاں ﷺ کی ذاتِ والا صفات بحیثیت انسان اس قدر جامع تھی، کہ کفّار ومشرکین بھی مصطفی جانِ رحمت ﷺ کو صادِق اور امینکہہ کر پکارا کرتے۔ “صحیح بخاری” میں حضرت سیِّدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ “جب آیتِ مبارکہ: ﴿وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ﴾([16]) “(اےحبيب) اپنے قریب تر رشتہ داروں کو خوفِ خدا دلائیے!” نازل ہوئی، تو نبئ کریم ﷺ نے صفا کی پہاڑی پر چڑھ کر اپنے خاندان والوں کو آواز دی، جب وہ جمع ہو گئے تو رسولِ اکرم ﷺ نے انہیں مخاطَب کر کے ارشاد فرمایا: «أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلاً بِالْوَادِي تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ، أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟» “اگر میں کہوں کہ اِس وادی کے پیچھے ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ آوَر ہونا چاہتا ہے، تو کیا تم لوگ میری بات مان لو گے؟” سب نے بیک زبان کہا کہ کیوں نہیں مانیں گے! جبکہ ہم میں سے کسی نے بھی کبھی آپ کو جھوٹ بولتے نہیں پایا([17])۔
نبئ کریم ﷺ کا کلامِ مبارک اور قرآنِ کریم کی گواہی
عزیزانِ محترم! بحیثیت انسان حضور نبئ کریم ﷺ کا کلامِ مبارک بھی جامع وکامل ہے؛ کیونکہ مصطفی جانِ رحمت ﷺ اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے، بلکہ جو کچھ فرماتے ہیں وہ وحئ الٰہی ہوتی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ؕ۰۰۳ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى﴾([18]) “وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے، وہ تو نہیں مگر وحی جو اُنہیں کی جاتی ہے!”۔
سروَرِ کونین ﷺ بحیثیت انسان ِکامل واکمل
حضراتِ گرامی قدر! سروَرِ کونین ﷺ کی ذاتِ مبارکہ بحیثیت انسان اس قدر کامل واکمل ہے، کہ اللہ ربّ العالمین نے سرکارِ دو عالم ﷺ کے نورانی چہرۂ اقدس، اور مبارک زُلفوں کی قسم ارشاد فرمائی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَالضُّحٰىۙ۰۰۱ وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى﴾([19]) “چاشت کی قسم اور رات کی! جب پردہ ڈالے”۔ مفسرینِ کرام اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں کہ ﴿وَالضُّحٰى﴾ سے مراد نورِ جمالِ مصطفی ﷺ ہے، اور ﴿وَالَّيْلِ﴾ حضورِ اکرم ﷺ کے گیسوئے عنبرین (بال مبارک) کےلیے بطورِ کِنایہ استعمال ہوا ہے([20]) ؏
| ہے کلامِ الٰہی میں شمس وضحیٰ، تِرے چہرۂ نور فِزا کی قسم |
| قسمِ شبِ تار میں راز یہ تھا کہ حبیب کی زُلفِ دوتا کی قسم([21]) |
بے نظیر وبے مثال حُسنِ کامل
برادرانِ اسلام! حُسن وجمال کے اعتبار سے بھی سرکارِ دوعالَم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ بےنظیر، بےمثال اور کامل ہے، اللہ ربّ العزّت نے مصطفی جانِ رحمت ﷺ کا کوئی ثانی پیدا ہی نہیں فرمایا، حضرت سیِّدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ «لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ g»([22]) “میں نے ان جیسا حسین و جمیل نہ کوئی ان سے پہلےدیکھا اور نہ ہی ان کے بعد دیکھا”۔
امام قسطلانیرحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “حضور اکرم ﷺ پر ایمان لانے کی تکمیل میں سے ہے، کہ اس بات پر بھی ایمان لایا جائے، کہ اللہ تعالیٰ نے حضورِ اکرم ﷺ کے بدن شریف کی بناوَٹ اس طَور پر کی ہے، کہ حضور سے پہلے اور بعد، کسی کی تخلیق اس انداز سے نہیں کی گئی”([23]) ؏
| وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے، کہ گمانِ نقص جہاں نہیں |
| یہی پھول خار سے دُور ہے، یہی شمع ہے کہ دُھواں نہیں([24]) |
سروَرِ کائنات ﷺ کا کامل اندازِ گفتگو
میرے محترم بھائیو! سروَرِ کائنات ﷺ کا اندازِ گفتگو بھی بحیثیت انسان، سب سے زیادہ دلنشین، منفرد اور کامل تھا، مصطفی جانِ رحمت ﷺ اہم بات کو تین3 بار دُہراتے اور ٹھہر ٹھہر کر گفتگو فرماتے؛ تاکہ اگر کسی سے سُننے میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو وہ اُسے دُور کرلے، حضرت سیِّدنا انَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبئ اکرم ﷺ کے اس دلنشین اندازِ گفتگو اور اُسلوبِ تعلیم کے بارے میں روایت فرماتے ہیں: «إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلاَثاً حَتَّى تُفْهَمَ، وَإِذَا أَتَى عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلاَثاً»([25]) “نبئ كريم ﷺ جب کوئی گفتگو کرتے تو اسے تین3 بار دہراتے؛ تاکہ اچھی طرح سمجھ آجائے، اور جب کسی جماعت کے پاس جاتے، تو انہیں تین3 بار سلام کرتے” ؏
| میں نثار تیرے کلام پر، ملی یُوں تو کس کو زباں نہیں؟ |
| وہ سُخن ہے جس میں سُخن نہ ہو، وہ بیاں ہے جس کا بیان نہیں!([26]) |
صورتِ بشری میں کامل ترین ذاتِ والا صفات
میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! اللہ ربّ العالمین نے رسولِ اکرم ﷺ کو صورتِ ظاہری میں تو ہمارے جیسا بشر (انسان) بنایا ہے، لیکن رحمتِ عالمیان ﷺ کی حقیقت اَرفع واعلیٰ ہے جسے سمجھنا ہمارے بس کی بات نہیں، حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ نے پےدَر پے لگاتار روزے رکھنے سے منع فرمایا، کچھ لوگوں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! آپ خود تو پے دَرپے روزے رکھتے ہیں! سركارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: «أَيُّكُمْ مِثْلِي؟ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ»([27]) “تم میں میرے جیسا کون ہے؟ یقیناً میں تو رات گزارتا ہوں اس حال میں، کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے”، لہذا جو لوگ مصطفی جانِ رحمت ﷺ کو اپنے جیسا بشر خیال کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ اپنے عقائد ونظریات کی اصلاح کریں، اور حضور نبئ کریم ﷺ کے حقیقی مقام ومرتبہ کو پہچاننے کی کوشش کریں! ؏
| تِرا مَسندِ ناز ہے عرشِ بریں، تِرا محرمِ راز ہے رُوح ِامیں |
| تو ہی سروَرِ ہر دو جہاں ہے شہا، تِرا مثل نہیں ہے خدا کی قسم([28]) |
دعا
اےاللہ! ہمیں رسولِ اکرم ﷺ کی سُنّت وسیرت اور تعلیمات پر عمل کی خوب توفیق عطا فرما، ان کا ادب واحترام کرنے کی سعادت نصیب فرما، حضورِ اكرم ﷺ كى سيرتِ طيّبہ کی پَیروی کرنے كا جذبہ عنایت فرما، دینِ متین کی بےلَوث خدمت کی توفیق عطا فرما، ایک اچھا اور باعمل مسلمان بنا، ہمارے عقائد واعمال کی حفاظت فرما، اور اگر ان میں کوئی کمی کوتاہی ہو تو اسے دُور فرما۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہما کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!۔
اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی وکشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([4]) “سامانِ بخشش” کوئی کیا جانے جو تم ہو خدا ہی جانے کیا تم ہو، 165۔
([5]) “سُنن ابن ماجه” المقدّمة، ر: ٢٢٩، صـ٤٨.
([6]) “صحيح مسلم” كتاب المساجد ومواضع الصلاة، ر: ١١٩٩، صـ٢١٨.
([8]) “مُسند الإمام أحمد” مسند السيِّدة عائشة، ر: ٢٤٦٥٥، ٩/٣٨٠.
([9]) “حدائق بخشش” حصّہ اوّل، ہے کلامِ الٰہی میں شمس وضحیٰ ترے چہرۂ نور فزا کی قسم، 80۔
([10]) “سنن أبي داود” کتاب النکاح، ر: ٢١٣٤، صـ٣٠٨.
([11]) “سنن الترمذي” أبواب الرضاع، ر: ١١٦٢، صـ٢٨٢.
([12]) المرجع نفسه، أبوابُ المناقب، ر: ٣٨٩٥، صـ٨٧٨.
([13]) “صحيح مسلم” كتاب الفضائل، ر: ٦٠٢٦، صـ١٠٢٣.
([14]) “سُنَنُ أبي داود” باب في الحلم وأخلاق النبي ﷺ، ر: ٤٧٧٤، صـ٦٧٦.
([15]) “صحیح البخاري” کتاب الأدب، ر: ٦٠٤٦، صـ١٠٥٦.
([17]) “صحیح البخاري” کتاب التفسير، ر: ٤٧٧٠، صـ٨٣٦.
([20]) “تفسیر خزائن العرفان” پ 30، ضحیٰ، زیرِ آیت: 2، 1072۔
([21]) “حدائقِ بخشش” حصّہ اوّل، ہے کلامِ الٰہی میں شمس وضحیٰ ترے چہرۂ نور فزا کی قسم، 80۔
([22]) “سنن الترمذي” باب [وصف علي للنبي g …] ر: ٣٦٣٧، صـ٨٢٩.
([23]) “المواهب اللدُنية” المقصد 3، الفصل 1 في كمال خلقته وجمال …إلخ، ٢/٥.
([24]) “حدائقِ بخشش” حصّہ اوّل، وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں، 107۔
([25]) “صحيح البخاري” کتابُ العلم، ر: ٩٥، صـ٢٢.
([26]) “حدائق بخشش” حصّہ اوّل، وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں، 107۔
([27]) “صحیح البخاري” بَابُ التنكيل لمن أكثر الوصال، ر: ١٩٦٥، صـ٣١٦.
([28]) “حدائق بخشش” حصّہ اوّل، ہے کلامِ الٰہی میں شمس وضحیٰ ترے چہرۂ نورِ فزا کی قسم، 81۔