میلادِ مصطفیﷺ کے مقاصد

Home – Single Post

 Objectives of the Birth of the Mustafa (ﷺ)

برادرانِ اسلام! ربیع الاوّل کا  مہینہ اُمتِ مسلمہ کے لیے بڑی خاص اہمیت کا حامل ہے، اس مبارک ماہ کی بارہ12 تاریخ کو مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی ولادتِ باسعادت ہوئی، رحمتِ عالمیان ﷺ اس دنیا میں انسانِ کامل، اور ہادئ عالَم بن کر تشریف لائے، رسولِ کریم ﷺ کے وُجودِ مسعود کے طفیل اس دنیا سے ظلمت وجہالت کے تاریک اور سیاہ بادل چھٹے،سسکتی انسانیت کو سہارا ملا، دُکھی اور بےسہارا لوگوں کو فرحت، مسرّت اور شادمانی نصیب ہوئی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ ربّ العالمین کا خاص فضل وکرم، احسان، نعمت اور رحمت نصیب ہوئی۔ ؏

حَسن ولادتِ سرکار سے ہوا روشن

مِرے خدا کو بھی پیاری ہے بارہویں تاریخ([1])

عزیزانِ محترم! خالقِ کائنات الله شانِهُ نے ہمیں بےحساب نعمتوں سے نوازا ہے، مگر جس نعمت کو خاص طَور پر عطا فرما کر مسلمانوں پر احسانِ عظیم فرمایا اور جتایا، وہ رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارک ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿لَقَدْمَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ١ۚ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ﴾([2]) “یقیناً اللہ تعالى کا مسلمانوں پر بڑا احسان ہوا، کہ اُن میں اُنہیں میں سے ایک رسول بھیجا، جو اُن پر الله تعالى کی آیتیں پڑھتے ہیں، انہیں پاک کرتے ہیں، انہیں کتاب وحکمت سکھاتے ہیں، اور اِس سے پہلے وہ لوگ ضرورکھلی گمراہی میں تھے”۔

اِس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالی نے نبئ کریم ﷺ كى ذاتِ بابركت کو، واضح طور پر اپنا فضل واحسان قرار دیا ، اور رسولِ کریم ﷺ کے اوصاف کا ذکر فرمایا۔ ؏

مثلِ فارس زلزلے ہوں نجد میں

 ذکرِ آیاتِ ولادت کیجیے([3])

یہ بھی ضرور پڑھیں : مصطفی جانِ رحمت…. انسانِ کامل

حضراتِ گرامی قدر! بارہ12 ربیع الاوّل کے موقع پر محافلِ میلاد میں، حمد ونعت شریف کے بعد بیان اور تقاریر کی صورت میں، حضور نبئ کریم ﷺ کے اَوصاف وکمالات اور ولادتِ باسعادت کے وقت، رُونما ہونے والے واقعات بیان کرنا ذکرِ میلاد  ہے، اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں، اللہ B نے قرآنِ پاک میں متعدِد انبیائے کرام رضي الله عنهم کی ولادتِ باسعادت کا ذکر فرمایا ہے، حضرت سیِّدنا عیسیٰ D کی ولادت شریفہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ﴿وَالسَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ﴾([1]) “مجھ (عیسیٰ D) پر سلامتی ہے جس دن میں پیدا ہوا”۔


اللہ تعالی نے اپنے حبیب ﷺ کی آمد کا چرچا، گذشتہ اُمتوں میں بھی بلند فرمایا، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَاِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ﴾([5]) “(یاد کرو) جب عیسیٰ بن مریم نے کہا: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا، اور اُس رسول کی بِشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے، اُن کا نام احمد ہے”۔

سرکارِ اَبَد قرار ﷺ کی ولادتِ باسعادت اور تشریف آوَری، تمام جہانوں کےلیے رَحمت ہے، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ﴾([6]) “ہم نے آپ كو سارے جہان کے ليے رَحمت بنا کر بھیجا”۔

حضراتِ ذی وقار! نبئ کریم ﷺ کا اس دنیا میں تشریف لانا، اللہ تعالی کا خاص فضل ورحمت اور نعمتِ خداوندی ہے، ہمیں چاہیے کہ اللہ ربّ العالمین کے اس خصوصی فضل وکرم پر اس کا زیادہ سے زیادہ شکر بجا لائیں، اس کے فرمانبردار بندے بنیں، اس کی اِطاعت کریں، اس کے دیے ہوئے اَحکام پر عمل کریں، جن کاموں سے روکا گیا ہے ان سے اجتناب کریں، اور اس کی طرف سے فضل، رحمت اور نعمت کے حُصول پر شکر بجا لائیں، نیز خوشی ومسرّت کا اظہار کریں؛ کہ یہ حکمِ الہی کے عین مطابق ہے۔

ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ﴾([7]) “اے حبیب! آپ فرما دیجیے، كہ اللہ تعالى ہی کے فضل اور اُسی کی رَحمت پر چاہیے کہ وہ خوشی منائیں، وہ ان کے سب دَھن دولت سے بہتر ہے جو وه جمع كرتے ہيں”۔ حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عباس رضي الله عنه اس آيتِ مباركہ كى تفسير ميں فرماتے ہیں کہ “یہاں فضلِ الہى سے مراد نبئ کریم ﷺ کی ذاتِ والا صفات ہے”([8])۔؏

حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائشِ مَولیٰ کی دُھوم

 مثلِ فارَس نجد کے قَلعے گراتے جائیں گے([9])

یہ بھی ضرور پڑھیں : حضورِ اکرم ﷺ کا حُسن وجمال

عزیزانِ مَن! اللہ تعالی نے قرآنِ کریم میں اپنی نعمتوں کا خُوب چرچا کرنے کا حکم دیا ہے، ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾([10]) “اپنے رب کی نعمت کا خُوب چرچا کرو”۔ اب آپ خود ہی بتائیے کہ رحمتِ عالَم ﷺ کی ذات ِ والا صفات سے بڑھ کر بھلا کونسی نعمت ہو سکتی ہے؟! لہذا معلوم ہوا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا ہر سال ماہِ ربیع الاوّل کی بارہ12 تاریخ کو جشنِ عیدِ میلاد النبی منانا، نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہننا، چراغاں کرنا، گھروں پر جھنڈے لگانا، لوگوں کو کھانا کھلانا، پانی کی سبیلیں لگانا، جلوس نکانا، اجتماعِ ذکر ونعت کا اہتمام کرنا، اور شرعی حُدود وقیود کی پاسداری کرتے ہوئے، شکرِ نعمتِ الہی کے طَور پر خوشی اور مسرّت کا اظہار کرنا، شرعاً دُرست، جائز اور  حُصولِ اجر وثواب  کا باعث ہے!۔ ؏

رہے گا یونہی اُن کا چرچا رہے گا

پڑے خاک ہو جائیں جَل جانے والے([11])

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نَجات دِلا کر، انہیں دریا کے بیچوں بیچ راستہ دے کر، اور بادَل کو سائبان بنا کر ان پر احسان فرمایا، اور پھر ان کی نسلوں کو یہ احسان یاد رکھنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ﴿يٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِيَ الَّتِيْۤ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ﴾([12]) “اے حضرت یعقوب D کی اولاد! یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا!”۔

صدر الاَفاضل علّامہ سیِّدمحمد نعیم الدین مُرادآبادی رحمة الله عليه اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں کہ “یاد کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالی کی اِطاعت وبندگی کر کے شکر بجا لاؤ؛ کیونکہ کسی نعمت کا شکر نہ کرنا ہی اس کا بھلانا ہے”([13])۔ لہذا حضور نبئ کریم ﷺ جیسی عظیم اور بےمثال نعمت واحسانِ  خداوندی کا شکر یہی ہے، کہ مصطفی جانِ رحمت ﷺ  کا زیادہ سے زیادہ ذکر کیا جائے، سروَرِ کونین ﷺ کے اَوصاف، کمالات اور معجزات  کو سُنا سُنایا جائے، اپنے قول وفعل سے محبتِ مصطفی کا اظہار کیا جائے، حضور سیِّد عالَم ﷺ کے اُسوۂ حسنہ اور تعلیمات پر عمل کیا جائے، رحمتِ عالمیان ﷺ کی تعظیم وتوقیر کی جائے، اپنی نسلوں کو اللہ تعالی کے اس احسانِ عظیم سے آگاہ کیا جائے، ان کے دِلوں میں محبتِ رسول کی شمع فروزاں کی جائے وغیرہ وغیرہ۔ اور اس کی سب سے بہتر صورت یہ ہے، کہ جشنِ میلاد کو خُوب دُھوم دھام سے منایا جائے؛ کیونکہ جشنِ عید میلاد النبی وہ واحد مذہبی مناسبت ہے، جس میں شکرِ الہی بجا لانے کی تمام ممکنہ صورتوں پر، ایک ساتھ عمل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

اس مبارک موقع پر غلامانِ رسول خوشی اور مسرّت کا اظہار کرتے ہیں، اپنی گلی محلوں کو سجاتے ہیں، تلاوتِ قرآنِ کریم  کرتے ہیں، محافلِ نعت کا اہتمام کرتے ہیں، ساری رات جا گ کر عبادت کرتے ہیں، نوافل پڑھتے ہیں، ذکر واَذکار کرتے ہیں، یوم ِمیلاد کی خوشی میں روزہ رکھتے ہیں، اپنے عزیز واَقارب سے ملتے ملاتے، ان کی دعوتیں کرتے، اور انہیں عیدِ میلاد کی مبارکباد دیتے ہیں۔

الغرض مختلف صورتوں میں اللہ B کے احسانِ عظیم کا عملی طَور پر شکر بجا لاتے ہیں، لہذا  بعض لوگوں کی جانب سے اس نیک اور متعدِد سعادتوں کے حامل امر کو، شرک وبدعت قرار دینا، اسے حرام کہنا، نسلِ نَو کو دینِ اسلام سے متنفر اور دُور کرنے کے مترادِف  ہے۔ ایسوں کو چاہیے کہ کفر واِلحاد اور فتنہ وفساد کے اس دَور میں، دینِ اسلام کو در پیش چیلنجز (Challenges) کو سمجھیں! وقت کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھیں! شرک وبدعت کی گردان کر کے مسلمانوں کو دینِ اسلام سے مزید دُور نہ کریں! بلکہ اپنے مَوقف پر نظرِ ثانی کریں! ؏

ذکر روکے فضل کاٹے نَقص کا جُویاں رہے

پھر کہے مَردَک کہ ہوں اُمّت رسولُ اللہ کی([14])

یہ بھی ضرور پڑھیں : مسلمان كا اپنے نبی ﷺ سے تعلق

میرے محترم بھائیو! رحمتِ عالمیان ﷺ کی ولادت کی خوشی منانا خیر وبرکت کا مُوجِب ہے، یہ ایک ایسا عظیم عمل ہے جسے کرنے سے دنیا وآخرت کی بھلائیاں، اور متعدد فوائد وثمرات حاصل ہوتے ہیں، مسلمان تو مسلمان، اس عمل خیر کی برکت سے سخت کافر ومشرِک بھی محروم نہیں رہتے، انہیں بھی حضور ﷺ کے صدقے کچھ نہ کچھ حصّہ عطا ہو ہی جاتا ہے۔ امام ابنِ حجر عسقلانی رحمة الله عليه نے امام سہیلی رحمة الله عليه کے حوالے سے بیان فرمایا، کہ حضرت سيِّدنا عباس رضي الله عنه نے فرمایا: «لَمَا مَاتَ أَبُو لَهَبٍ رَأَيْتُهُ فِي مَنَامِي بَعْدَ حَوْلٍ فِي شَرِّ حَالٍ، فَقَالَ: مَا لَقِيتُ بَعْدَكُمْ رَاحَةً إِلَّا أَنَّ الْعَذَابَ يُخَفَّفُ عَنِّي كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ»([15]) “جب ابو لہب مر گیا تو میں نے اُسے ایک سال بعد خواب میں بُرے حال میں دیکھا، کہتا ہے کہ دنیا سے جانے کے بعد آرام نصیب نہیں ہوا، لیکن ہر پیر کے دن میرے عذاب میں کمی کر دی جاتی ہے”۔

حضرت سیِّدنا عباس رضي الله عنه عذاب میں اس کمی کی وجہ خود  بیان فرماتے ہیں: «وَذٰلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ g وُلِدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَكَانَتْ ثُوَيْبَةُ بَشَّرَتْ أَبَا لَهَبٍ بِمَوْلِدِهِ فَأَعْتَقَهَا»([16]) “(عذاب میں کمی کا سبب) یہ ہے، کہ پیر شریف کے دن حضور نبئ کریم ﷺ کی ولادت ہوئی، اور ثوَیبہ (باندی) نے ابو لہب کو حضور  کی ولادتِ با سعادت کی خوشخبری سنائی تھی، اس پر اُس نے ثویبہ کو آزاد کر دیا تھا”۔

جلیل القدر محدِّث حضرت امام ابنِ جزری رحمة الله عليه اِس حدیثِ پاک پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “جب ابو لہب جیسے کافر کا یہ حال ہے (جس کى مذمّت قرآنِ مجید میں نازل ہوئی) کہ حضور نبئ کریم ﷺ کی ولادت کی خوشی کا اظہار کرنے پر، اس كے عذاب میں کمی كی جاتی ہے، تو نبئ کریم ﷺ کے اس اُمّتی، توحید ورسالت کا دم بھرنے والے، مؤمن مسلمان کی جزا کا کیا حال ہوگا؟ جو حضور اکرم ﷺ کی ولادت کی خوشی مناتا ہے!”([17]) ؏

وہی دُھوم ہے اُن کی ما شاء اللہ

 مِٹ گئے آپ مٹانے والے([18])

حضراتِ محترم! میلاد النبی کی مُروّجہ محفلوں اور اجتماعِ ذکر ونعت میں، مصطفی جانِ رحمت ﷺ کے اَوصاف وکمالات کا ذکرِ خیر ہوتا ہے۔ ولادتِ پاک کا ذکر کرنا، بوقتِ ولادت رُونما ہونے والے واقعات بیان کرنا، خود تاجدارِ رسالت ﷺ سے بھی ثابت ہے۔

 صحابئ رسول حضرت سیِّدنا عِرباض بن ساریہ رضي الله عنه کہتے ہيں، کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: «إِنِّي عَبْدُ الله، وَخَاتَمُ النَّبِيِّيْن، وَأَبِي مُنْجَدِلٌ فِيْ طِينَتِه، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذٰلِكَ: أَنَا دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ، وَبِشَارَةُ عِيسٰى، وَرُؤْيَا أُمِّي آمِنَةَ الَّتِي رَأَتْ» “میں اُس وقت سے اللہ کا بندہ اور آخری نبی ہوں، جب میرے باپ حضرت آدم D ابھی مٹی کی شكل میں تھے، اور میں اس بارےمیں  تمہیں خبر دیتا ہوں، کہ میں اپنے باپ حضرتِ ابراہیم کی دعا، حضرتِ عیسیٰ کی بِشارت اور اپنی والدہ حضرت آمنہ کا خواب ہوں”۔

حضرت سیِّدنا عِرباض بن ساریہ رضي الله عنه کہتے ہيں، کہ جس طرح گزشتہ انبیاء کی ماؤں نے خواب دیکھا، رسول اللہ ﷺ کی والدہ نے بھی آپ  ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے  وقت، ایک ایسا نُور دیکھا جس کی بدَولت ملکِ شام کے محلّات اُن پر روشن ہو گئے۔ پھر صحابئ رسول نے سورۂ اَحزاب کی یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًاۙ* وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا﴾([19]) “اےغیب کی خبر دينے والے (نبی)! یقیناً ہم نے آپ كو حاضر گواه اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا، الله کے حکم سے اُس کی طرف بلانے والا، اور چمکا دینے والا ا ٓ فتاب بنا کر بھیجا”۔ لہذا ذکرِ میلاد کرنا قرآن وحدیث کے عین مطابق ہے، اور یہ عمل  کثیر خیر وبرکت کے ساتھ، بڑے اجر وثواب کا بھی حامل ہے۔ ؏

بجھ گئیں جس کے آگے سبھی مشعلیں

 شمع وہ لے کر آیا ہمارا نبی([20])

حضراتِ گرامی قدر! ہم مسلمان ہر سال ماہِ ربیع الاوّل میں اپنے پیارے نبی ﷺ سے اپنی عقیدت ومحبت کے اظہار کےلیے، بھرپور طریقے سے جشنِ عیدِ میلاد النبی مناتے ہیں، اور اس کےلیے خوب اہتمام کرتے ہیں، یہ بڑا اچھا عمل ہے، اسے شرعی حُدود میں رہتے ہوئے ضرور جاری وساری رکھا جانا چاہیے! لیکن ساتھ ہی ساتھ ہمیں یہ بات بھی خوب اچھی طرح معلوم ہونی چاہیے، کہ میلادِ مصطفیٰ منانے کے مقاصد کیا ہیں؟  جشنِ میلاد النبی منانے کےلیے اتنا اہتمام کیوں کیا جاتا ہے؟ اس سلسلے میں چند خاص خاص باتیں حسبِ ذیل ہیں:

عزیزانِ مَن! خالقِ کائنات کا بےپناہ شکر ہے، کہ اس نے ہمیں دولتِ ایمان سے نوازا، اور اپنے پیارے حبیب ﷺ کی امّت میں پیدا فرمایا، حضور نبئ کریم ﷺ کی امت میں پیدا ہونا ایک ایسا عظیم شرف ہے، جس پر اللہ ربّ العالمین کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے، یقیناً اللہ تعالی نے ہمیں اپنا حبیب عطا فرما کر،  ہم گنہگاروں پر احسانِ عظیم فرمایا! لہذا نعمتِ الہی کے اظہار کے طَور پر ہمیں چاہیے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کریں، اپنی سیرت وصورت کو اسلام کے سانچے میں ڈھالیں، اور میلادِ مصطفی کی محافل کا کثرت سے انعقاد کریں؛ تاکہ امتِ مسلمہ کو سروَرِ دوجہاں ﷺ کے مقام ومرتبہ سے آگاہی دی جا سکے، نیز انہیں بتایا جا سکے کہ اللہ B نےاپنا محبوب عطا فرما کر ہم پر کتنا بڑا احسان فرمایا ہے!۔

برادرانِ اسلام! رحمتِ عالمیان ﷺ کا ادب، احترام اور آپ کی تعظیم، پوری کائنات میں سب سے زیادہ ہے، اللہ تعالی نے قرآن ِ کریم میں اپنے حبیب کریم ﷺ کی تعظیم، ادب اور احترام کے بارے میں واضح طَور پر حکم فرمایا: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ﴾([21]) “اےایمان والو! اپنی آوازیں اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اونچی نہ کرو! اور ان کے حضور چِلّا کر بات نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ چِلّاتے ہو!؛ کہ کہیں تمہارے اعمال اَکارت (ضائع) ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو!”۔

صدر الاَفاضل علّامہ سیِّد محمد نعیم الدین مُرادآبادی رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ “اس آیتِ مبارکہ میں حضور ﷺ کا اِجلال واِکرام اور ادب واحترام تعلیم فرمایا گیا ہے، اور  حکم دیا گیا ہے کہ ندا کرنے میں ادب کا پورا لحاظ رکھیں، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہیں اس طرح نہ پکاریں! بلکہ کلماتِ ادب وتعظیم وتوصیف وتکریم واَلقابِ عظمت کے ساتھ عرض کرو جو عرض کرنا ہو؛ کہ ترکِ اَدب سے نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے!”([22])۔

غیر شرعی اُمور سے پاک، جشنِ میلاد منانے کا ایک مقصد حضور نبئ کریم ﷺ کی تعظیم، ادب اور احترام بجا لانا، اور لوگوں کو اس سلسلے میں آگاہی دینا بھی ہے۔ مفسِّر قرآن شیخ اسماعیل حَقّی رحمة الله عليه “تفسیر رُوح البیان” میں فرماتے ہیں کہ “میلاد شریف منانا حضور ﷺ کی تعظیم میں سے ہے، جبکہ وہ مُنکَرات (غیرشرعی اُمور) سے پاک ہو، اِمام سُیوطی رحمة الله عليه  نے فرمایا کہ ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ باسعادت پر اِظہارِ شکر کرنا مستحب ہے”([23])۔

حضراتِ گرامی قدر! حضور نبئ کریم ﷺ بارگاہِ خداوندی میں اظہارِ تشکُرکے طَور پر، اپنی ولادتِ باسعادت کی خوشی میں، ہر پیر کو روزہ رکھا کرتے، ” مسلم شریف” کی حدیث ہے، حضرت سیِّدنا ابوقَتادہ انصاری رضي الله عنه فرماتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ سے پیر کے روزہ سے متعلق پوچھا گیا، تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: «فِيْهِ وُلِدْتُ، وَفِيْهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ»([24]) “اِسی دن میری ولادت ہوئی، اور اِسی دن مجھ پر (پہلی بار) وحی نازل ہوئی”۔ لہذا سنّتِ مصطفی کی پَیروی میں بارہ12 ربیع الاوّل کے موقع پر، مسلمانوں کا روزہ رکھنا بھی میلادِ مصطفی منانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

میرے محترم بھائیو! حضور رحمۃٌ للعالمین ﷺ کے اُسوۂ حسنہ پر عمل کی ترغیب دینا، بھی جشنِ میلادِ مصطفی  کے مقاصد میں سے ہے، اللہ تعالی نے قرآنِ کریم میں اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے اُسوۂ حسنہ پر عمل کی ترغیب بیان فرمائی، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾([25]) “یقیناً تمہارے ليے رسولُ اللہ کی پَیروی ہى بہتر ہے”۔

مفسّرینِ کرام فرماتے ہیں کہ “اس سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی حياتِ طیّبہ، سارے انسانوں کےلیے نمونۂ حيات ہے، زندگی کا کوئی بهى شعبہ اس سے باہر نہیں، رب تعالی نے حضور اکرم ﷺ کی حياتِ طیّبہ کو اپنی قدرت کا نمونہ بنایا، لہذا کامیاب زندگی وہی ہے جو اُن کے نقشِ قدم پر ہو، اگر ہمارا جینا مرنا سونا جاگنا حضور ﷺ کے نقشِ قدم پر ہو جائے، تو یہ سارے کام عبادت بن جاتے ہیں”([26])۔

جشنِ عیدِ میلاد کے موقع پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں، مذہبی جوش ووَلوَلہ خوب پایا جاتا ہے، نیکیوں اور عبادت کی طرف رغبت بڑھ جاتی ہے، لہذا علمائے دین اُمت کی خیرخواہی کے جذبہ  سے، لوگوں کو سیرتِ نبوی سے آگاہ کرتے ہیں، اور انہیں مصطفی جانِ رحمت ﷺ کے  اُسوۂ حسنہ پر عمل کی ترغیب دلاتے ہیں۔

میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! آج دنیا میں ہر طرف نفرت وعداوَت کے جراثیم (Germs) پَنپ رہے ہیں، لسانیت وقَومیت (Linguistics and Nationality) کی بنیادوں پر لڑائی جھگڑے اور فسادات برپا ہیں، مُعاشرے میں عدم برداشت، نااتفاقی اور بد اَمنی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ میلادِ مصطفی منانے کا ایک اہم مقصد، مُعاشرے میں اتحاد، یگانگت اور امن ورَوا داری کا فروغ بھی ہے، میلادِ مصطفیٰ کے جلسے جلوس اور ریلیوں (Rallies) کے ذریعے، باہم اُخوت، محبت اور ہمدردی میں اضافہ ہوتا ہے، اتحاد واتفاق کا درس ملتا ہے، اجتماعیت کی سوچ پیدا ہوتی ہے، لسانیت، قَومیت اور غربت واِمارت کی بنیادوں پر پیدا ہونے والی سطحی سوچ کا خاتمہ ہوتا ہے، لہذا ہمیں چاہیے کہ جشنِ عید ِ میلاد کا خوب اہتمام کریں، اس مقدّس مذہبی مناسبت کو خوب جوش وجذبہ سے منائیں، اللہ تعالی کا خوب شکر بجا لائیں، اپنا وقت ذکر واَوراد میں گزاریں، پنج وقتہ نماز پابندی سے باجماعت ادا کرنے کی پکی نیّت کریں، بارہ12 ربیع الاوّل کو بالخصوص، اور ہر پیر شریف کو بالعموم روزہ رکھیں، محافل ِ میلاد میں منکَراتِ شرعیہ سے اجتناب کریں، لوگوں کی حق تلفی سے بچیں، سروَرِ کائنات ﷺ کی سیرتِ طیّبہ کا خوب مُطالعہ کریں، مصطفی جانِ رحمت ﷺ کے اُسوۂ حسنہ پر عمل کی پختہ عادت بنائیں، اور خوب ذَوق وشَوق سے جشنِ عید میلاد النبی منائیں! ؏

ولادتِ شہِ دیں ہر خوشی کی باعث ہے

ہزار عید سے بھاری ہے بارہویں تاریخ([27])

اے اللہ! ہمیں رسولِ اکرم ﷺ کی سنّت وسیرت اور تعلیمات پر خوب عمل کی توفیق عطا فرما، ان کا ادب واحترام کرنے کی سعادت نصیب فرما، حضورِ اكرم ﷺ كى سيرتِ طیّبہ کی پَیروی كا جذبہ عنایت فرما، دینِ متین کی بےلَوث خدمت کی توفیق عطا فرما، ایک اچھا اور باعمل مسلمان بنا۔ اور ہمارے عقائد واعمال کی حفاظت فرما، اور اگر ان میں کوئی کمی کوتاہی واقع ہو تو اسے دُور فرما۔

اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام رضي الله عنهم کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!۔

اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی وکشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔


([1]) “ذَوقِ نعت” ردِیف خائے معجمہ،؃ 38۔

([2]) پ٤، آل عمران: ١٦٤.

([3]) “حدائقِ بخشش” دشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے، حصّہ اوّل،؃ 199۔

([4]) پ١٦، مريم: ٣٣.

([5]) پ٢٨، الصف: 6.

([6]) پ17، الأنبیاء: 107.

([7]) پ١١، يونس: ٥٨.

([8]) “رُوح المعاني” یونس، تحت الآية: 58، ١١/١٤١. و”الدرّ المنثور” يونس، تحت الآية: ٥٨، ٤/٣٦٨.

([9]) “حدائقِ بخشش” حصّہ اوّل، پیشِ حق مژدہ شَفاعت کا سُناتے جائیں گے، ؃ 157۔

([10]) پ٣٠، الضحی: ١١.

([11]) “حدائقِ بخشش” حصّہ اوّل، چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے،؃ 159۔

([12]) پ١، البقرة: ٤٠.

([13]) “تفسیر خزائن العرفان” پ 1، البقرہ، زیرِ آیت: 40،؃ 16۔

([14]) “حدائقِ بخشش” حصّہ اوّل، عرشِ حق ہے مسندِ رِفعت رسول اللہ کی،؃ 152۔

([15]) “فتح الباري” کتاب النکاح، تحت ر: 5101، ٩/١٦٦، ١٦٧.

([16]) “فتح الباري” کتاب النکاح، تحت ر: 5101، ٩/١٦٧.

([17]) “عرف التعريف بالمولد الشّريف” إرهاصات مولدِه g، صـ٢٢.

([18]) “حدائقِ بخشش” حصّہ اوّل، آنکھیں رو رو کے سُجانے والے،؃ 161۔

([19]) “مُستدرَك الحاكم” تفسير سورة الأحزاب، ر: 3566، 4/1339.

([20]) “حدائقِ بخشش” حصّہ اوّل، سب سے اَولیٰ واعلیٰ ہمارا نبی،؃ 138۔

([21]) پ26، الحُجرات: 2.

([22]) “تفسیر خزائن العرفان” پ 26، حُجرات، زیرِ آیت: 2،؃ 947۔

([23]) “رُوح البيان” پ ٢٦، الفتح، تحت الآية: ٢٩، ٩/٥٦.

([24]) “صحیح مسلم” کتاب الصیام، ر: 2٧٥٠، صـ٤٧٨.

([25]) پ21، الأحزاب: 21.

([26]) “تفسیر نور العرفان” پ 21، اَحزاب، زیرِ آیت: 21،؃ 671، ملتقطاً۔

([27]) “ذَوقِ نعت” ردِیف خائے معجمہ، سحابِ رحمت باری ہے بارہویں تاریخ ،؃ 38۔

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *