
با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب
حضراتِ ذی وقار! اسلام ایک پاکیزہ اور جامع دین ہے، یہ ہمیں اپنے بڑوں اور بزرگوں سے ادب واحترام سے پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے، ان کے کام آنا، ان کے مصائب وآلام کو دُور کرنا، ان کے دُکھ درد بانٹنا، ان کے ساتھ ہمدردی، غمخواری اور شفقت سے پیش آنا، بہت بڑی نیکی اور باعثِ اجر وثواب ہے۔ عمر رسيده لوگوں كا ادب واحترام، اور ان سے محبت، الله ورسول کی رِضا وخوشنودی کا بہترین ذریعہ ہے، اِن کی تعظیم، اللہ کی تعظیم ہے، حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ مِنْ إِجْلَالِ اللهِ إِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمسْلِمِ»([1]) “یقیناً عمر رسيده مسلمان کی عزّت وتکریم، اللہ تعالی کی تعظیم وتکریم ہے”۔
میرے بھائیو! رحمتِ کونین ﷺ نے اپنی اُمّت کو بزرگوں کی عزّت وتکریم کی خاص تلقین فرمائی ہے، اور انہیں یہ تاکید فرمائی کہ کم عمر افراد اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کا ادب واحترام کریں، اور بڑے چھوٹوں سے نرمی و شفقت سے پیش آئیں اور اُن پر رحم کریں۔ حضرت سیِّدُنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا!»([2]) “وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے، اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے!”۔
ایک اَور مقام پر ارشاد فرمایا: «كَبِّرِ الكُبْرَ»([3]) “بڑے کے مرتبہ اور عزّت کا خیال رکھو!”۔
حضراتِ گرامی قدر! آج اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ہماری عزت وتکریم بھی کرے، تو ہمیں اپنے بڑے بزرگوں، اور عمر رسیدہ لوگوں کی عزت اور ان کا ادب واحترام کرنا ہو گا۔ حضرت سیِّدُنا اَنَس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَا أَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخاً لِسِنِّهِ إِلَّا قَيَّضَ اللهُ لَهُ مَنْ يُكْرِمُهُ عِنْدَ سِنِّه»([4]) “جو جوان کسی بوڑھے کی بزرگی کے باعث اس کی عزّت کرتا ہے، اللہ تعالی اُس جوان کے لیے بھی کسی کو مقرَّر فرما دیتا ہے، جو اِس کے بڑھاپے میں اس کی عزّت کرے گا”۔
جو لوگ اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کا لحاظ نہیں کرتے، ان کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتے ہیں، ان کے آگے زبان درازی کرتے ہیں، ایسوں کے لیے حدیثِ پاک میں خصوصی طور پر یہ وعید ہے، رحمتِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا»([5]) “وہ ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا، اور بڑوں کا حق نہیں پہچانتا”۔
میرے عزیز دوستو! مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ یتیموں، بیواؤں، کمزورں اور مسکینوں کی مدد کے ساتھ ساتھ، بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ بھی نہایت شفقت سے پیش آتے، ان کاادب واحترام اور عزت افزائی کرتے ہوئے، اُن کا بوجھ تک اپنے شانۂ نبوت پر اٹھالیا کرتے۔ اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہ جو حضورِ اكرم ﷺ سے سب سے زیادہ قریب تھیں، سروَرِ کونَین ﷺ کے اَوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں: «إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ المَعْدُوْمَ، وَتَقْرِيْ الضَّيْفَ، وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقّ»([6]) “آپ صِلہ رحمی فرماتے ہیں، لوگوں کا بار اُٹھاتے ہیں، ضرورتمندوں کی ضرورت پوری کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، اور راہِ حق میں پیش آنے والے مصائب میں مدد فرماتے ہیں”۔
عزیزانِ محترم! چونکہ اسلامی تعلیمات مکمل طور پر ادب ہی پر مبنی ہیں، اس لیے ادب ہی کی تعلیم وتلقین کرتی ہیں، اس کارخانۂ قدرت میں جس جس کو جو جو نعمتیں ملیں ادب کی بنا پرملی ہیں، اور جو ادب سے محروم ہے، حقیقتاً ایسا شخص ہر نعمت سے محروم ہے، شاید اسی لیے کسی نے کہا ہے کہ “با ادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب”۔

یہ بھی ضرور پڑھی: اسلام میں بچوں کے حقوق
والدین کا اَدب واحترام
عزیزانِ من! اس دنیا میں سب سےزیادہ حُسنِ سلوک، عزت افزائی اور ادب واحترام کےلائق ہمارے اپنے والدین ہیں، والدین سےبھلائی کا مطلب بھی یہی ہے کہ ان کے ساتھ نیکی کی جائے، ان کی عزّت وتکریم، اور ان کا ادب واحترام کیا جائے، ان کے ہر جائز حکم پربخوشی عمل کیا جائے، ان کی خدمت کے لیے ہر دَم کوشاں رہا جائے، اور انہیں خوشی فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔
یاد رکھیے! جو مسلمان اپنے والدین كے ساتھ عزّت واحترام اور اَدب کا معاملہ کرتا ہے، اللہ تعالی دنیا ہی میں اس کی عزّت واحترام کا سامان کر دیتا ہے، اور اس کی اپنی اولاد کے دل میں اس کی عزّت ڈال دی جاتی ہے۔ رَحمتِ عالمیان ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: «بَرُّوا آباءَكُمْ، تَبَرُّكُمْ أَبْنَاؤُكُم!»([7]) “اپنے والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، تمہارے بچے بھی تمہارے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گے!”۔
حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عَمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہيں کہ ایک شخص سرکار ابدِ قرار ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو كر جہاد کی اجازت مانگنے لگا، مصطفى كريم ﷺ نے فرمایا: «أَ حَيٌّ وَالِدَاكَ؟» “کیا تمہارے والدین حيات ہیں؟”، اُس نے عرض کى: جی ہاں۔ نبئ پاک ﷺ نے فرمایا: «فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ»([8]) “اُن کی خدمت کرو, اسى ميں تمہارا جہاد ہے!”۔
میرے محترم بھائیو! والدین کے حقوق سے کسی بھی طرح کی رُوگردانی کرنا، یا اُن کے ساتھ بے ادبی، یا اپنے رویّے سے اُن کی عزت وتکریم میں کمی لانا، جنّت سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے، حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روايت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «رَغِمَ أَنْفُهٗ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهٗ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهٗ!» “اُس کی ناک خاک آلود ہو، وه برباد ہو جائے، اُس کی ناک خاک آلود ہو!”، عرض کی گئى: یا رسول اللہ کس کی؟ فرمایا: «مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَهُ الْكِبَر أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا، ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ»([9]) “جو اپنے بوڑھے والدین میں سے ایک یا دونوں کو پائے، پھر بھی اُن کی خدمت کرکے جنّت كا حقدار نہ ہو سكے”۔
حدیثِ پاک میں ہے، نبئ اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: «وَقِّر الْکَبِیْرَ وَارْحَمِ الصَّغِیْرَ تُرَافِقْنِيْ فِيْ الْجَنَّةِ»([10]) “بڑوں کی تعظیم وتوقیر کرو، اور چھوٹوں پر شفقت کرو، تو تم جنّت میں میری رَفاقت پا لوگے”۔
اولاد کی اچھی تعلیم وتربیت
برادرانِ اسلام! والدین کا کردار ان کی اولاد کے لیے مشعلِ راہ ہوتا ہے، کہ بچہ اپنے والدین کے کردار کا آئینہ دار ہوتا ہے، اگر ہم یہ چاہتے ہیں، کہ ہمارے بچے کل کو ہمارے بڑھاپے کاسہارا بنیں، ہماری عزت اور اَدب واحترام کریں، تو انہیں اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیے، ہمیشہ اپنوں سے بڑوں کی عزت اور چھوٹوں کے ساتھ شفقت سے پیش آنے کی نصیحت کریں، اور اپنے والدین سے حسنِ سُلوک، ان کا ادب واحترام، ان کی اِطاعت وفرمانبرداری کا درس دیں، رشتہ داروں کی پہچان کرائیں، اور اُن کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے، اُن سے میل جول کے طریقے اور آداب بھی سکھائیں؛ تاکہ وہ ان سے صِلہ رحمی کریں۔ نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «تَعَلَّمُوْا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ؛ فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ، مَثْرَاةٌ فِي الْمالِ، مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ»([11]) “اپنے رشتہ داروں کو پہچانو؛ تاکہ رشتوں کا لحاظ رکھ سکو؛ اس لیے کہ رشتہ داروں سے حسنِ سُلوک خاندان میں محبت اور مال وعمر میں برکت کا باعث ہے”۔
رفيقانِ گرامى قدر! بچوں کی اچھی تعلیم وتربیت، اِن میں عقائدِ اہلِ سنّت کی پختگی، اَخلاق کی درستگی، اور اعمال میں پاکیزگی لانے کا سبب بنتی ہے، جس سے ان کے اندر بلندیٔ کردار، وسعت ِفکر ونظر اور عزتِ نفس کا اِحساس پیدا ہوتا ہے۔ اقوامِ عالم کی تاریخ بتاتی ہے، کہ جن لوگوں نے اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت پر پوری توجہ دی، وہ ہر زمانے میں کامیاب رہے، اور جن لوگوں نے اس بات کی اہمیت محسوس نہیں کی, اولاد کی صحیح پرورش وتربيت سے غافل رہے, معاشرے میں انہیں کوئی عزت نہ مل سکی، اور کل بروزِ قیامت اس کوتاہی پر ان سے باز پُرس بھی کی جائے گی۔ حدیثِ پاک میں ہے، سركارِ دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ …وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِه، وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِه، وَالمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا، وَمَسْؤُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا»([12]) “تم سب ذمہ دار ہو، اور تم سب سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔۔۔، مرد اپنے اہل وعیال کا ذمہ دار ہے، اور اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائےگا، عورت اپنے شوہر کے گھر میں ذمہ دار ہے، اور اس سے اس کے ما تحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا!”۔
حضرت سیِّدُنا علی -کرّم اللہ وجہہ- نے فرمایا: «عَلِّمُوْا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيْكُمُ الْخَيْرَ!»([13]) “اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بھلائی کی تعلیم دو!”۔
اولاد کی اچھی تربیت ہی اچھے معاشرے کی بنیاد ہے، جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَداً مِنْ نَحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ!»([14]) “باپ کی طرف سے اولاد کے لیے اس سے بہتر کوئی عطیہ نہیں، کہ وہ ان کی اچھی تربیت کرے!”۔
عزیزانِ گرامی! بعض لوگوں کو اپنی اولاد میں بچوں سے زیادہ محبت ودلچسپی ہوتی ہے، جبکہ بچیوں کو وہ بوجھ سمجھتے ہیں، اسی لیے ان کی خبر گیری اور تربیت میں بھی کوتاہی برتتے ہیں، یہ عمل معاشرتی بگاڑ کا سبب ہے، اسلام نے خصوصیت کے ساتھ بچیوں کی اچھی تعلیم وتربیت کی تاکید فرمائی، اور اس کی بڑی فضیلت بیان کی، نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ عَالَ ثَلاَثَ بَنَاتٍ، فَأَدَّبَهُنَّ وَزَوَّجَهُنَّ، وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ، فَلَهُ الْجَنَّةُ»([15]) “جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں، اور وہ ان کی اچھی تربیت کرے، اور مناسب جگہ ان کی شادی کرے، اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے، تو اس کےلیے جنت ہے”۔
میرے عزیز! اللہ کے حبيب ﷺنے ہميں ساری اولاد کے درمیان برابری کا حکم فرمایا ہے، اور یہ بھی کہ ان کے درمیان کوئی فرق نہ کیا جائے، سرورِکونین ﷺ نے ارشاد فرمایا: «اِتَّقُوا اللهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ!»([16]) “اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان برابری رکھو!”۔
بیٹے کو بوسہ ومحبت زیادہ دینے، اور بیٹی کو محبت سے محروم کرنے والوں کو رسول الله ﷺ نے تنبیہ فرمائی ہے، کہ اس معاملہ میں بھی اپنے بچوں میں برابری کی جائے، ایک شخص حضور نبئ کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ اس کا بچہ آیا، اس نے اسے اُٹھایا، چوما اور اپنی گود میں بیٹھا لیا، پھر كچھ دير بعد اس کی بچی آئی ، تو اس نے اسے اُٹھایا اور اپنی ایک جانب بٹھا دیا، رحمتِ عالميان ﷺ نے فرمایا: «فَمَا عَدَلْتَ بَيْنَهُمَا!»([17]) “تم نے ان دونوں کے درمیان برابری نہیں کی”۔

یہ بھی ضرور پڑھی:حقوقِ زوجین ووفاداری
تربیتِ اولاد کے چند ضروری آداب
پیارے بھائیو! والدین کی یہ اوّلین ذمہ داری ہے، کہ بچوں کی اچھی تعلیم وتربیّت کرکے انہیں اچھا، ذمہ دار اور مثالی مسلمان بنائیں؛ كيونکہ اگر بچے کی صحیح دیکھ بھال کی جائے، تو وہ بڑا ہو کر بے شمار قابلیتوں کے ساتھ، مُعاشرے میں بہترين كردار ادا کرسكتا ہے، خود اپنے آپ كو اور پورے معاشرے كو فائده پہنچا سكتا ہے۔ بچوں کی تربیت کے ابتدائی مراحل کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِينَ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمضَاجِعِ»([18]) “بچے جب سات سال کے ہو جائيں تو انہیں نماز کا حکم دو، اور جب وہ دس برس کے ہوں تو (نماز نہ پڑھنے پر) اُنہيں مارو، اور ان كےبستر الگ الگ کردو!”۔
عزیزانِ ملّتِ اسلامیہ! بچوں کی تعلیم وتربیت میں نرمی وشفقت کا پہلو پیشِ نظر رہے، حتی الامکان انہیں پیار ومحبت سے سمجھانے، اور اپنی بات پر قائل کرنے کی کوشش کریں، اور ان پر بے جا سختی اور تُرش روی سے گریز کیا جائے؛ ہمارے نبئ کریم، مصطفى جانِ رحمت ﷺ بچوں کے ساتھ بہت مہربانى اور نہایت شفقت سے پیش آياكرتے، حدیث شریف میں ہے کہ حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں فرمایا: «مَا رَأَيْتُ أَحَداً كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ«([19]) “میں نے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر، بچوں پر مہربانی فرمانے والا کسی کو نہیں دیکھا”۔
ہر مسلمان كے ليے ضرورى ہے، كہ وه اپنى اولاد كے دل ميں الله تعالى، اسكے رسول ﷺ، دينِ اسلام، علمائے اسلام اور بزرگوں كى محبت، ان کا ادب واحترام اورتعظيم وتوقير پيدا كرنے كى كوشش كرے، عام مسلمانوں كے ساتھ بهى محبّت وخلوص اور عزت كے ساتھ پيش آنے كى تربيت دے، اور انہیں معاشرے كا اچها فرد بنا كر جینے كا ڈهنگ سكهائے۔
عزیز دوستو! ہم پر یہ بھی لازم وضروری ہے، کہ اپنی اولاد کو مہمان نوازی کے آداب سکھائیں؛ کہ یہ انبیاء ومرسَلین کا طریقہ ہے، ان کی یہ بھی تربیت کریں، کہ پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سُلوک کیسے کرنا ہے، ان کے حقوق اور فضائل بتائیں، ان کے ذہنوں میں یہ بھی راسخ کریں، کہ جب کسی محفل میں ہوں تو توجہ سے اچھی باتوں کو سنیں، بڑے جب بات کریں تو چھوٹے خاموش رہیں، جب کوئی کچھ سمجھائے تو اس کی بات پوری توجہ سے سنیں، اور اس پر عمل کی کوشش بھی کریں، جب کہیں گفتگو کا موقع ہو تو انتہائی ادب واحترام کے ساتھ اچھی باتیں کریں، یعنی کچھ بولنے سے پہلے اچھی طرح تول لیں۔
ان سب آداب کی مختصر وجامع الفاظ میں رسول اللہ ﷺ نے ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْراً أَوْ لِيَصْمُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ»([20]) “جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے۔ اور جو اللہ ﷻ اور یومِ آخرت کو مانتا ہے، اسے چاہیے کہ مہمان کی عزّت کرے”۔
مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے ان آداب اور تربیت کی بنیادی باتوں کو اس لیے کمالِ ایمان قرار دیا، کہ ان کی اَہمیت بہت زیادہ ہے، اور مُعاشرے پر ان کے اچھے اثرات بھی بہت عظیم ہیں۔
جانِ برادر! اولاد کی اچھی تربیت کے لیے یہ بھی ضروری ہے، كہ والدين اِنہیں وقت ديں، اور ان كے ساتھ بیٹھ كر باتيں كريں، صرف مدرسے يا اسكول بهيج كر مطمئن ہو جانا، اور بذاتِ خود اِن كى تربيت كا اہتمام نہ كرنا، والدين كى بہت بڑى بھول ہے، جس كے باعث اكثر اوقات اولاد اچهى تربيت سے محروم ره جاتى ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان اپنى اولاد كى اچهى تربيت كى خاطر خود اپنے اخلاق، عادات واطوار بهى بہتر بنائے؛ كيونكہ بچوں كى ليے پہلى تربيت گاه وه ماحول ہے جو انہيں گهر ميں ملتا ہے، لہذا بچہ اپنے والدين ميں جو عادات واخلاق ديكهتا ہے، انہيں فوراًاپنا ليتا ہے، چنانچہ اگر والدين كى عادات واخلاق اچھے ہوں، تو بچوں كى عادات واخلاق بهى خود بخود اچهے ہو جاتے ہيں، بصورتِ ديگر بچوں كے بگڑنے ميں دير نہيں لگتى۔
برادرانِ اسلام! اچھی تربیّت کےچند ضروری آداب میں سے یہ بھی ہے، کہ بچوں کے اَحوال پر کڑی نظر رکھی جائے، ان کے طور طریقوں کو پَرکھا جائے، ان کے دوستوں پر بھی نگاہ رکھی جائے، انہیں اچھی صحبت اختیار کرنے کے فوائد بتا كر ترغیب دی جائے، اور بُری صحبت كے نقصانات بتا كر اس سے مکمل اجتناب کی تعلیم دی جائے؛ کہ نبئ کریم رؤف رحیم ﷺ نے فرمایا: «الَمرْءُ عَلىٰ دِيْنِ خَلِيْلِه، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ»([21]) “آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، تو تم میں سے ہر ایک کو چاہیے، کہ دیکھ بھال کر دوست بنائے”۔
لہٰذا والدین پر لازم ہے کہ اپنے بچوں اور بچیوں پر کڑی نگاہ رکھیں، ان کا گھر میں اور باہر کہاں اور کن كن کاموں میں وقت صرف ہوتا ہے، ذرائعِ اِبلاغ خصوصاً موبائل فونز اور انٹرنیٹ وغیرہ میں ان کی کیا سرگرمیاں ہیں، اور کس طرح کے لوگوں سے ان کے روابط ہیں، اس کا خاص خیال رکھیں، اور ہر ممکن حد تک انہیں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیاکے منفی اثرات سے دور رکھنے کی کوشش کریں!!۔

یہ بھی ضرور پڑھی: مہمان نوازی کی اہمیت وفضیلت
حرفِ آخر
عزیزانِ محترم! چونکہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس مبارك دين نے ہر معاملے میں اہلِ ايمان كى رَہنمائی كی ہے، اور زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس ميں دینِ اسلام نے ہماری رہنمائی نہ فرمائی ہو۔ اس لیے ہرایک مسلمان پر لازم ہے کہ دینِ اسلام کی روشن ودرخشاں تعلیمات پر عمل پيرا رہے، اسلامی آداب وتعلیمات جو نہایت ہی آسان, سلیس اور دِلنشین ہیں، ان کی بجا آوری کرکےانعاماتِ ربّانی کا مستحق، اور اُسوۂ حسنہ کا سچا پیروکار بن جائے، اور اپنی اولاد کوبھی اس کی تعلیم وتربیت دے،تاکہ وہ بھی شریعتِ مطہرہ کے احکام کی پابندی کے ساتھ ساتھ، اپنے سے بڑوں، اور بزرگوں کاادب واحترام کرنا سیکھیں، اور چھوٹوں کے ساتھ بھی نرمی وشفقت سے پیش آئيں۔
دُعا
اے اللہ! ہمیں اپنے بڑوں کے ادب و احترام کی توفیق مرحمت فرما، اپنے بچوں کی اچھی تربیت کی سعادت عطا فرما، ان کے لیے ہمیں اچھی اچھی دعائیں کرنےکی توفیق نصیب فرما، انہیں اچھے اَخلاق وآدابِ مُعاشرت سکھانے کی ہمّت وطاقت عطا فرما، ہمارے گھروں کو محبّت، رَحمت اور شفقت کا گہوارہ بنا، ہمارے ما بین محبّت واُلفت کو راسخ فرما، ہمیں خوشحالی عطا فرما، تنگدستی سے بچا اور نظرِ بد سے محفوظ رکھ، ہمیں اپنی عبادت، نیک اعمال، اور اپنے اَحکام پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما، ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!
اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔
الٰہی! تمام مسلمانوں کی جان، مال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، جن مصائب وآلام کا انہیں سامنا ہے، ان سے نَجات عطا فرما۔ ہمارے وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین ووطنِ عزیز کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، اُن کے درجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے ہمیں وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّةِ أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “سنن أبي داود” كتابُ الأدب، ر: 4843، صـ684.
([2]) “سنن الترمذي” باب ما جاء في رحمة الصبيان، ر: ١٩١٩، صـ٤٤٨.
([3]) “صحيح البخاري” كتابُ الْأدب، ر: 6143، صـ1071.
([4]) “سنن الترمذي” أبوابُ البر والصلة، ر: 2022، صـ466.
([5]) “سنن أبي داود” كتابُ الأدب، بَابُ في الرَّحمة، ر: 4943، صـ696.
([6]) “صحيح البخاري” كتابُ بَدْءُ الْوَحْيِ، ر: 3، صـ1.
([7]) “مستدرك الحاكم” كتابُ البِرِّ والصِّلة، ر: ٧٢٥٩، ٧/٢٥٩٢.
([8]) “صحيح مسلم” باب برّ الوالدين وأيّهما أحقّ به، ر: ٦٥٠٤، صـ١١١٧.
([9]) “صحيح مسلم” كتاب البرّ والصلة والأدب، ر: ٦٥١١، صـ١١١٩.
([10]) “شعب الإیمان” ٧٥- باب في رحمة …إلخ، ر: ١٠٩٨١، ٧/٣٥١١.
([11]) “سنن الترمذي” أبواب البرّ والصلة، ر: 1979، صـ458.
([12]) “صحيح البخاري” باب الْجُمُعَةِ في القرى والمدن، ر: ٨٩٣، صـ١٤٤.
([13]) “شعب الإيمان” باب في حقوق الأولاد والأهلين، ر: 8704، 6/2911.
([14]) “سنن الترمذي” باب ما جاء في أدب الولد، ر: ١٩٥٢، صـ٤٥٣.
([15]) “سنن أبي داود” باب فِي فَضْلِ مَنْ عَالَ يَتَامَى، ر: ٥١٤٧، صـ٧٢٣.
([16]) “صحيح البخاري” باب الإِشْهَادِ فِي الْهِبَة، ر: ٢٥٨٧، صـ٤١٨.
([17]) “شعب الإيمان” باب في حقوق الأولاد والأهلين، ر: ٨٧٠٠، 6/٢٩1٠.
([18]) “سنن أبي داود” باب متى يؤمر الغلام بالصلاة، ر: 495، صـ٨٢.
([19]) “صحيح مسلم” كتاب الفضائل، ر: ٦٠٢٦، صـ١٠٢٣.