جہاد کی اہمیت اور شہید کا مقام ومرتبہ

Home – Single Post

Concept of jihad

برادرانِ اسلام! مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی سیرتِ طیّبہ کا ہر پہلو اگرچہ انتہائی اہم اور ہدایت بخش ہے، لیکن کلمۂ حق بلند کرنے کے لیے سروَرِ عالَم ﷺ کی جدوجہد جسے جہاد یا غزوات سے تعبیر کیا جاتا ہے، اُمّتِ مسلمہ کے سیاسی استحکام اور ترقی کے لحاظ سے اَزحد اَہمیت کا حامل ہے، یہی وجہ ہے کہ خیرُ القرون کے اکابرِ اُمّت نے  اس (جہاد) پر بڑی توجہ دی، وہ حضرات اپنی اولاد کو سرفروشی اور قربانی کے محیّر العقول واقعات سنا کر اَزبر کرایا کرتے؛ تاکہ اللہ تعالی کے نام کو بلند کرنے کے لیے، اگر اپنے زمانہ کی طاغوتی قوتوں سے انہیں ٹکرانا پڑے،  تو انہیں ذرّہ برابر جھجک محسوس نہ ہو، اور جب اس راہ میں سَروں کا نذرانہ پیش کرنے کی ضرورت پڑے، تو اپنے اَسلاف کی طرح وہ بصد ذَوق وشَوق اس سعادت کو حاصل کرنے کے لیے تڑپ اٹھیں؛ کیونکہ اسی میں ان کی

دنیاوی زندگی کی کامرانی، اور اُخروی حیات کی سُرخروئی  کا راز پنہاں ہے([1]) ؏

مٹایا قیصر وکِسْری کے اِستبداد کو جس نے

وہ کیا تھا، زورِ حیدر، فقرِ بو ذَر، صِدقِ سلمانی!([2])

یہ بھی ضرور پڑھیں : حقوق العباد

عزیزانِ محترم! اسلام نے قیامِ امن، نفاذِ عدل، حقوقِ انسانی  کی بحالی، اور ظلم وستم کے خاتمے  کے لیے جہاد کا حکم دیا، اور مجاہدینِ اسلام کو سچے لوگوں میں شمار کیا، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ﴾([3]) “یقیناً جو اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان لائے وہی مؤمن ہیں، پھر اس میں کوئی شک نہیں کیا، اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ  اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہی لوگ سچے ہیں”۔

حضرت سیِّدنا ابو موسیٰ اَشعریرَحْمَتُ اللہ عَلَیہ سے روایت ہے کہ کسی دیہاتی نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی: یارسولَ اللہ! آدمی مالِ غنیمت، شہرت، اور اپنا مرتبہ دِکھانے  کو لڑتا ہے، تو اللہ تعالی کی راہ میں لڑنا کونسا لڑنا ہے؟  مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے ارشا د فرمایا: «مَنْ قَاتَلَ لِتكُونَ كَلِمَةُ اللهِ أَعْلَى، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ»([4]) “جو اللہ تعالی کا کلمہ (حکم) بلند کرنے کے لیے لڑے، تو وہ اللہ کی راہ میں لڑتا (جہاد کرتا) ہے”۔

اسلام میں جہاد کی اہمیت کس قدر زیادہ ہے اس کا اندازہ حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی اس روایت سے خوب لگایا جا سکتاہے، کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ، مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ»([5]) “جو شخص بغیر جہاد کیے مر گیا، اور اس کے دل میں جہاد کی خواہش بھی نہ ہو، وہ منافَقت کے ایک درجہ پر مرا”۔

حضراتِ گرامی قدر! دوجہاں کے سردار، سروَرِ کائنات ﷺ نے جنگ وجہاد کو اس مقصد کے لیے جائز رکھا، کہ کوئی کسی پر ظلم وجبر نہ کرسکے! تشدّد سے کسی کو اپنا عقیدہ  یا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہ کیا جائے! اگر کوئی بلاجبر واِکراہ دائرۂ اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہے، تو کوئی اسے اسلام قبول کرنے سے جبراً  نہ روکے! جبکہ حضور نبئ کریم ﷺ نے اپنے ماننے والوں کو بےدریغ قتل وغارتگری، اور بےفائدہ لشکر کشی سے منع فرمایا! بحالتِ جنگ بھی شرفِ انسانیت کا خیال رکھنے کا حکم دیا! کسی مقتول کا مُثلہ کرنے یعنی ناک یا ہونٹ کاٹنے، آنکھیں نکالنے، پیٹ چیرنے سے سخت ممانعت فرمائی! دَورانِ جنگ بچوں، بوڑھوں، عورتوں، معذروں، ان کے پُر امن (مقابلے میں نہ آنے والے) مذہبی رہنماؤں پر تلوار اٹھانے سے منع فرمایا، کھیتوں درختوں  وغیرہ، اور دشمن کے دینی مراکز پر حملہ کرنے کی بھی اجازت نہیں دی! بلکہ مجاہدینِ اسلام کو جنگ سے متعلق قرآنِ پاک میں واضح ہدایات دیں، ارشاد فرمایا: ﴿وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ط اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ﴾([6]) “اللہ کی راہ میں اُن سے لڑو جو

تم سے لڑتے ہیں  اور حد سے نہ بڑھو! اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں رکھتا!”۔

انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار، اور  ترقی یافتہ وشائستہ کہلوانے والے، آج بھی  اپنے دشمن کے ساتھ ایسا رحیمانہ و کریمانہ سُلوک کرنے کے رَوا دار نہیں! یہ مصطفی جانِ رحمت ﷺ ہی کی شان ہے کہ آپ نے جنگ جیسی الَم ناک چیز کو بھی رحم وکرم کا آئینہ دار بنا دیا!!([7])۔

rights of children

یہ بھی ضرور پڑھیں : اولاد کے حقوق

حضراتِ گرامی قدر!  اللہ کی راہ میں جہاد کرکے میدانِ جنگ سے زندہ واپس لَوٹنے والے کو غازی، اور اپنی جان قربان کرکے مرتبۂ شہادت پانے والے، یا ناحق قتل ہونے والے  عاقل وبالغ مسلمان  کو شہید کہتے ہیں([8])۔

اسلام میں شہید کا مقام ومرتبہ بڑا عظیم اور بلند ہے، اللہ ربّ العالمین نے شہیدوں کا شمار انبیاء وصدّیقین کے ساتھ فرمایا، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيْنَ١ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيْقًا﴾([9]) “جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے اُن کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا، (یعنی) انبیاء اور صدّیق اور شہید اور نیک لوگ، اور یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں!”۔

راہِ خدا میں شہید ہونا ایک عملِ صالح، قبر میں رزق کی فراہمی، دائمی حیات،  اور بخشش ومغفرت کا سبب ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْيَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ﴾([10]) “جو اللہ  کی راہ میں مارے جائیں انہیں مُردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں خبر نہیں”۔

شہداءکو مُردہ گمان نہیں کرنا چاہیے، وہ زندہ ہیں اور انہیں رزق پیش کیا جاتا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَۙ۰۰۱۶۹ فَرِحِيْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ﴾([11]) “اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہر گز انہیں مُردہ خیال نہ کرنا! بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، روزی پاتے ہیں، شاد ہیں اس پر جو اللہ تعالی نے انہیں اپنے فضل سے دیا”۔

صدر الاَفاضل علّامہ سیِّد نعیم الدین مُرادآبادیرَحْمَتُ اللہ عَلَیہ اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں کہ “علماء نے فرمایا کہ شہداء کے جسم قبروں میں محفوظ رہتے ہیں، مٹی ان کو نقصان نہیں پہنچاتی، اور زمانۂ صحابہ میں اور اس کے بعد بکثرت معائنہ ہوا ہے، کہ اگر کبھی شُہداء کی قبریں کُھل گئیں تو ان کے جسم تروتازہ پائے گئے”([12])۔

حکیم الاُمّت مفتی احمد یا ر خاں نعیمی رَحْمَتُ اللہ عَلَیہاس آیتِ مبارکہ کے تحت “تفسیرِ نعیمی” میں فرماتے ہیں کہ “شہید کے بہت بڑے درجات ہیں، شہید کو نبی سے بہت قُرب حاصل ہے؛ کہ پیغمبر کی نیند وضو نہیں توڑتی، اور شہید کی موت غُسل نہیں توڑتی، شہید بعد وفات زندہ ہوتا ہے، شہید سوالاتِ قبر سے محفوظ رہتا ہے، شہید کا گوشت وخون زمین نہیں کھا سکتی، شہید گناہوں سے ایسے پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو، شہید موت سے پہلے جنّت دیکھ لیتا ہے، شہید 70 لوگوں کی شَفاعت کرے گا، شہید کا عمل اور رزق قیامت تک جاری رہے گا، اور شہید قیامت کے دن گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا”([13])۔

حضرت سیِّدنا مَسروق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن مسعود رَرضی اللہ تعالی عنہ سےآیتِ مبارکہ: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَ﴾کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسولِ اکرم ﷺ سے اس بارے میں پوچھا، حضور نبئ کریم نے ارشاد فرمایا: «أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ، لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ»([14]) “شُہدا کی رُوحیں سبز پرندوں کے قالب میں ہوتی ہیں، ان کے لیے عرش میں قندیلیں لٹک رہی ہیں، جنّت میں جہاں چاہیں جاتی ہیں، پھر ان قندیلوں کی طرف لَوٹ آتی ہیں”۔

حضراتِ ذی وقار! شہادت کی اہمیت، اُخروی سعادت اور شرف کی بلندی کا اندازہ اس بات سے خوب لگایا جا سکتا ہے، کہ رحمتِ عالمیان ﷺ نے بنفسِ نفیس جہاد میں شہادت کی خواہش کا اظہار فرمایا، حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، سروَرِ دو جہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَأُقْتَلَ، ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ، ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ»([15]) “اُس ذات پاک کی قسم  جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! مجھے یہ پسند ہے کہ میں اللہ کے راه میں جہاد کروں پھر شہید کیا جاؤں، پھر جہاد کروں پھر شہید کیا جاؤں، پھر جہاد کروں پھر شہید کیا جاؤں”؏

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبّیری

کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ ودلگیری!

تِرے دِین واَدب سے آرہی ہے بُوئے رُہبانی

یہی ہے مرنے والی اُمّتوں کا عالَمِ پیری!([16])

عزیزانِ مَن! مسلمان کا مقصدِ حقیقی اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے، اور رضائے الہی کے حُصول کا ایک بہترین ذریعہ شہادت بھی ہے، اور شہید جنّت میں داخل ہونے کے بعد جب اس کا اجر وثواب دیکھے گا، تو تمنّا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں بار بار لَوٹایا جائے اور باربار شہید کیا جائے۔ حضرت سیِّدنا انَس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہرَ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، وَلَهُ مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ، إِلَّا الشَّهِيدُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ؛ لِمَا يَرَى مِنَ الكَرَامَةِ»([17]) “جنّت میں داخل ہونے کے بعد  شہید کے سوا کوئی اس بات کو پسند نہیں کرے گا کہ اُسے دنیا میں لَوٹایا جائے، اور اُس کے ساتھ پھر وہی سلوک کیاجائے جو دنیا میں کیا جاتا تھا، لیکن شہید شہادت کی فضیلت وکرامت دیکھتے ہوئے تمنّاکرے گا، کہ اسے دنیا میں لَوٹایا جائے اور دس 10 بارشہید کیا جائے!” ؏

قضا حق ہے مگر اس شَوق کا اللہ والی ہے

جو اُن کی راہ میں جائے وہ جان اللہ والی ہے!([18])

جانِ برادر! شہید سوالاتِ قبر اور اس کے امتحان سے نَجات پاتا ہے، حضرت سیِّدنا راشد بن سعد ﷛ ایک صحابی ﷛سے روایت کرتے ہیں، کہ  کسی نے عرض کی: یا رسولَ اللہ ﷺ! کیا وجہ ہے کہ قبر میں سب مسلمانوں کا امتحان ہوتا ہے لیکن شہید کا نہیں ہوتا؟ سروَرِ کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا: «كَفَى بِبَارِقَةِ السُّيُوفِ عَلَى رَأْسِهِ فِتْنَةً»([19]) “اس کے سر پر تلواروں کی بجلی گرناہی اس کے امتحان کے لیے کافی ہے!”۔

میرے محترم بھائیو! مرتبۂ شہادت پر فائز ہونے والا شخص موت کی سختی اور تکلیف سے محفوظ رہتا ہے، حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنْ مَسِّ القَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مِنْ مَسِّ القَرْصَةِ»([20]) “شہید کو قتل ہوتے وقت اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چُٹکی بَھرے  جانے پر ہوتی ہے”۔

برادرانِ اسلام! شہادت قرض کے سوا تمام گناہوں کی بخشش ومغفرت کا ذریعہ ہے، حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عَمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، رحمتِ عالمیان ﷺ نے ارشاد فرمایا: «يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّيْنَ»([21]) “قرض کے سوا شہید کے تمام گناہ مُعاف کردیے جاتے ہیں”۔ علّامہ عبد الرؤف مُناوی رَحْمَتُ اللہ عَلَیہ اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ “اس میں گناہوں سے مُعافی سے مراد جمیع حقوق العباد کی  مُعافی ہے، اور یہ فضیلت خشکی پر شہید ہونے والے کے لیے ہے، جبکہ سمندر میں شہادت پانے والے کے لیے قرض سمیت تمام واجبُ الاداء حقوق اور گناہ مُعاف کر دیے جاتے ہیں”([22])۔

عزیزانِ محترم! راہِ خدا میں شہادت، کم عمل میں زیادہ اجر وثواب کے حُصول کا ذریعہ ہے، حضرت سیِّدنا براء بن عازِبرضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ  ایک شخص لوہے  کی زِرَہْ (Armour) پہن کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یارسول اللہ ﷺ! میں پہلے جہاد کروں یا اسلام قبول کروں؟ نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَسْلِمْ ثُمَّ قَاتِلْ» ” پہلے اسلام قبول کرو پھر جہاد کرو” (حکمِ نبوی کے مُطابق) اس نے پہلے اسلام قبول کیا پھر (راہِ خدا میں) جہاد کرتے ہوئے شہید ہو گیا، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيراً»([23]) “اس نے عمل کم کیا اور ثواب زیادہ پا لیا”۔

حضراتِ گرامی قدر! شہید کا مقام ومرتبہ بڑا بلند وبالا ہے، بروزِ قیامت اللہ تعالی شہید کو اپنے اہلِ خانہ اور عزیز واقارب میں سے ستّر 70 اَفراد کی شَفاعت کا اختیار عطا فرمائے گا، حضرتِ سیِّدنا ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «يُشَفَّعُ الشَّهِيدُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ»([24]) “شہید  کی اپنے گھر والوں میں سے ستّر70 اَفراد کے حق میں شَفاعت قبول کی جائے گی”۔

رفیقانِ ملّت اسلامیہ! دنیا وآخرت میں اللہ تعالی کی طرف سے شہید کے لیے سات 7 مختلف قسم کے اِنعامات ہیں، حضرتِ سیِّدنا عُبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، سروَرِ دو جہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنّ للشهيدِ عِنْد الله سبعَ خِصَالٍ: (١) أَن يُغْفَر لَهُ فِي أوّل دُفْعَةٍ من دَمِه، وَيَرى مَقْعَدَه من الْجنَّة، (٢) ويُحلّى حُلَّةَ الْإِيمَان، (٣) ويُجَارُ من عَذَابِ الْقَبْر، (٤) ويأمَنَ منْ الْفَزع الْأَكْبَر، (٥) وَيُوضَع على رَأسه تَاجُ الْوَقار، الياقُوتَة مِنْهُ خيرٌ من الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، (٦) ويُزَوَّجَ ثِنْتَيْنِ وَسبعين زَوْجَةً من الْحُور الْعِين، (٧) ويُشَفَّعُ في سبعين إنْسَاناً من أَقَارِبِه»([25]) “یقیناً شہید کے لیے اللہ A کے پاس سات 7 انعامات ہیں: (۱) اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی بخشش ہو جاتی ہے، اور اُسے جنّت میں اس کا ٹھکانا دکھا دیاجاتا ہے، (۲) اسے ایمان کاجوڑا پہنایا جاتاہے، (۳) عذاب قبر سے نَجات دی جاتی ہے، (۴) اُسے قیامت کے دن کی بڑی گھبراہٹ سے امن میں رکھا جائے گا، (۵) شہید کے سرپر وقار کا تاج سجایا جائے گا، جس کا یا قوت دنیا اور اس کی ہرچیز سے بہتر ہو گا، (۶) بہتّر 72حورِ عِین سے اس کا نکاح کرا یا جائے گا، (۷)  ستّر 70 رشتہ داروں کے حق میں اس کی شَفاعت قبول کی جائے گی” ۔

جانِ برادر! میدانِ جہاد میں اپنا رُخ نہ موڑنے والوں، اور دیوانہ وار لڑتے ہوئے شہید ہونے والوں سے اللہ تعالی بہت خوش ہوتا ہے، اور انہیں بےحساب بخشش ومغفرت کا پروانہ عطا فرماتا ہے، حضرتِ سیِّدنا نعَیم بن ہمّار رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں عرض کی: یا رسولَ اللہ ﷺ کون سے شہید افضل ہیں؟ ارشاد فرمایا: «الَّذِينَ إِنْ يُلْقَوْا فِي الصَّفِّ لَا يَلْفِتُونَ وُجُوهَهُمْ حَتَّى يُقْتَلُوا، أُولَئِكَ يَتَلَبَّطُونَ فِي الْغُرَفِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ، وَيَضْحَكُ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ، وَإِذَا ضَحِكَ رَبُّكَ إِلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا فَلَا حِسَابَ عَلَيْهِ»([26]) “وہ جوکسی صف میں اگر داخل ہو جائیں تو قتل (شہید) ہو جانے تک اپنا رُخ نہ موڑیں، یہ وہی لوگ ہیں جو جنّت کی اعلیٰ مَنازل میں ہوں گے، اور ان کا رَب تعالی ان کی طرف دیکھ کر مُسکراتا ہے، اور جب تمہارا رب دنیا میں کسی بندے کی طرف دیکھ کر مُسکرایا، تو اس بندے سے کوئی حساب نہیں لیا جاتا”۔

حضراتِ ذی وقار! راہِ خدا میں جہاد کرنا جنّت واجب ہونے کے لیے بہترین ذریعہ ہے، چاہے وہ تھوڑی دیر کے لیے ہی کیوں نہ ہو، حضرتِ سیِّدنا مُعاذبن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، رحمتِ عالمیان ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ، فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ»([27]) “جس نے اونٹنی کے (دوبار  بار) دودھ دوہنے (کے درمیانی) وقفہ برابر  (تقریباً دوپہر سے عشاء تک)، اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کیا، اُس کے لیے بھی جنّت واجب ہوجاتی ہے”۔

جانِ برادر! اللہ ربّ العالمین شہیدوں کو جنّت میں بڑا عالی شان اور فضیلت والا گھر عطا فرمائے گا، حضرت سیِّدنا سمُرہ بن جُندَب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَصَعِدَا بِي الشَّجَرَةَ، فَأَدْخَلَانِي دَاراً هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ، لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا، قَالَا: أَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَاءِ»([28]) “آج رات میں نے دیکھا کہ دو2 شخص میرے پاس آئے، اور مجھے ساتھ لے کر ایک درخت کے اُوپر چڑھ گئے، اور مجھے ایک بہت خوبصورت عالی شان گھر میں داخل کیا، میں نے اُس جیسا گھر کبھی نہیں دیکھا تھا، پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ “یہ گھر شہداء کا ہے”۔

میرے محترم بھائیو! راہِ خدا میں شہید ہونے والاجب میدانِ محشر میں آئے گا، تو اس کا جسم خون سے لت پَت ہوگا، جس سے مُشک کی خوشبو آرہی ہوگی، حضرتِ سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللهِ -وَاللهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ- إِلَّا جَاءَ يَوْمَ القِيَامَةِ وَاللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ، وَالرِّيحُ رِيحُ المِسْكِ»([29]) “اُس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! جو  کوئی اللہ تعالی کی راہ میں زخمی ہوتا ہے، بروزِ قیامت وہ شخص اس طرح آئے گا کہ (اُ س کا) رنگ خون کی طرح (یعنی زخم تر وتازہ)، اور (اُس کی) خوشبو مُشک  جیسی ہو گی، اور اللہ تعالی خوب جانتا ہے کہ  کون اُس کی راہ میں زخمی ہوا ہے! “۔

عزیزانِ مَن! سچے دل سے شہادت کی تمنّا اور دعا کرنا بھی بڑے اجر وثواب اور فضیلت کا سبب ہے، حضرتِ سیِّدنا مُعاذبن جبل  رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «وَمَنْ سَأَلَ اللهَ الْقَتْلَ مِنْ نَفْسِهِ صَادِقًا، ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ، فَإِنَّ لَهُ أَجْرَ شَهِيدٍ»([30]) ” جس نے  صدقِ دل سے اللہ تعالی سے شہادت مانگی، پھر وہ مرگیایا قتل کردیا گیا، اُس کے لیے شہید کا ثواب ہے”۔

ایک اَور مقام پر  حضرت سیِّدنا سہل بن حنَیفرَرضی اللہ تعالی عنہاپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ سَأَلَ اللهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ، بَلَّغَهُ اللهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ»([31]) ” جس نے اللہ تعالی سے سچے دل سے شہادت مانگی، اللہ تعالی اُسے شہداء کےرُتبے  پر پہنچا دیتا ہے، چاہے اس کا انتقال اپنے بستر پر ہوا ہو” ؏

مِرا یہ خواب ہو جائے شہا شرمندۂ تعبیر

مدینے میں پیوں جامِ شہادت یا رسولَ اللہ!([32])

رفیقانِ ملّت اسلامیہ! شہادت صرف اسی کا نام نہیں کہ جہاد میں قتل کیا جائے، بلکہ بعض شہداء وہ ہیں جنہیں دنیا میں شہید تو نہیں کہا جاتا، لیکن آخرت میں ان کے لیے بھی شہادت کا رُتبہ ہے، مثال کے طَور پر اپنے مال، جان، دِین اور گھر  کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جانے والوں کے بارے میں، حضرت سیِّدنا سعید بن زید رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبئ کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ»([33]) “جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے، اورجو اپنے دِین کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ بهى شہید ہے، اور جو اپنی جان کی حفا ظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ بھی شہید ہے،  اور جو اپنے گھروالوں کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ بهى شہید ہے”۔

اسی طرح طاعون اور پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہو کر، سمندر میں ڈُوب کر، اور بچے کو جنم دیتے وقت مرنے والی عورت کو بھی، بروزِ حشر شہید کا درجہ  اور اجر وثواب عطا کیا جائے گا، حضرت سیِّدنا سعد بن عُبادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، سروَرِ کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ؟» “تم شہید کسے شمار کرتے ہو؟” عرض کی گئی:یارسولَ اللہ ﷺ ! جو اللہ Aپر ایمان لائے، اور راہِ خدا میں جہاد وقتال کرے،  یہاں تک کہ قتل کر دیا جائے وہ شہید ہے، نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذَنْ لَقَلِيلٌ! الْقَتْيلُ فِي سَبِيلِ الله شَهِيدٌ، وَالمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ، وَالنُّفَسَاءُ شَهِيدَةٌ»([34]) “اس طرح تو میری اُمت میں شہید بہت کم ہوں گے! (پھر فرمایا:) جو اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے، اورجو پیٹ کی بیماری کی میں مر جائے وہ بھی شہید ہے، اور جو طاعون میں مبتلا ہو کر مرے وہ بھی شہید ہے، اور جو ڈُوب کر مر گیا وہ بھی شہید ہے، اور حالتِ نفاس (بچے کو جنم دیتے وقت) میں مرنے والی عورت بھی شہید ہے”۔

میرے محترم بھائیو! شہادت سمیت ہر وہ نیک عمل جو اِخلاص سے خالی ہو، اور اس سے مقصود صرف دُنیوی شہرت، ناموَری، یا حُصولِ دنیا ہو، آخرت میں اس پر کوئی اجر وثواب نہیں، حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: “قیامت کے دن سب سے پہلے (1) ایک شہید کا فیصلہ ہوگا، جب اسے لایا جائے گا تو اللہ ﷻ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھر اللہ تعالی ارشاد فرمائے گا کہ تُو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کیا؟ وہ عرض کرے گا کہ میں نے تیری راہ میں جہاد کیا، یہاں تک کہ شہید ہو گیا، اللہ تعالی ارشاد فرمائے گا کہ تُو جھوٹا ہے! تُو نے جہاد اس لیے کیاتھا کہ تجھے بہادُر کہا جائے، اور وہ تجھےکہہ لیا گیا! پھر اسے جہنم میں لے جانے کا حکم دیا جائے گا، تب اسے منہ کے بَل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

(2) پھر ایک شخص کو لایا جائےگا جس نے علم سیکھا سکھایا اور قرآن کریم پڑھا، وہ آئے گا تو اللہ تعالی اسے بھی اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ بھی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھر اللہ ﷯ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کیا؟ وہ عرض کرے گا کہ میں نے علم سیکھا سکھایا اور تیرے لیے قرآنِ کریم پڑھا، اللہ ﷻ ارشاد فرمائے گا کہ تُو جھوٹا ہے! تو نے علم اس لیے سیکھا کہ تجھے عالم کہا جائے، اور قرآنِ کریم اس  لیے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے، اور وہ تجھےکہہ لیا گیا! پھر اسے جہنم میں ڈالنے کا حکم ہو گا، تو اسے منہ کے بَل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا!۔

(3) پھر ایک مالدار شخص کو لایا جائے گا جسے اللہ تعالی نے کثیر مال عطا فرمایا، اسے لا کر نعمتیں یاد دلائی جائیں گی، وہ بھی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، اللہ تعالی ارشاد فرمائے گا کہ تو نے ان نعمتوں کے بدلے کیا کیا؟ وہ عرض کرےگا کہ میں نے ہر اُس راستہ میں خرچ کیا جس میں خرچ کرنا تجھے پسند ہے، اللہﷻ ارشاد فرمائے گا کہ تو جھوٹا ہے! تو نے ایسا اس لیے کیا تھا کہ تجھے سخی کہا جائے، اور وہ کہہ لیا گیا! پھر اس کے بارے میں جہنم کا حکم ہوگا، لہذا اُسے بھی منہ کے بَل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا”([35])۔

لہذا میرے بھائیو! فرائض وواجبات سمیت اپنے تمام اعمال میں اِخلاص پیدا کیجیے،  اپنے دلوں کو جذبۂ جہاد اور شہادت سے سرشار ومامور کیجیے، دینِ اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے سے کسی صورت گریز نہ کریں، کشمیر وفلسطین سمیت اقوامِ عالَم میں بسنے والے اپنے تمام مسلمان بھائیوں کی مدد کرتے رہیے، جس طرح ممکن ہو اُن کا ساتھ دیں، اُن کے مَوقِف اور اُن پر ہونے والے ظلم وستم سے پوری دنیا کو آگاہ کریں، اور اپنی نسلوں کو اسلام کے تصوّرِ جہاد اور شہید کے اُخروی مقام ومرتبہ اور اُسے ملنے والے اجر وثواب سے آگاہ کریں؛ تاکہ وہ بهى اپنے دِلوں میں جہاد وشہادت کا جذبہ وشَوق لے کر جوان ہوں! ؏

دو عالَم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو

 عجب چیز ہے لذّتِ آشنائی

شہادت ہے مطلوب ومقصودِ مؤمن

 نہ مالِ غنیمت نہ کشوَر کشائی!([36])

میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! اگر ہم نے اپنی نسلوں کو جہاد اور شہادت کے جذبے کے ساتھ پروان نہ چڑھایا، انہیں حُبِّ دنیا کا شکار ہونے سے نہ بچایا، تو یہود ونصاریٰ اور مغربی ممالک (Western countries) کی اتحادی فوجیں یکجا ہو کر ہم پر حملہ آوَر ہوتی رہیں گی، اور ہمارے باہمی اختلافات وانتشار کا فائدہ اٹھا کر ہم پر غالب آتی  رہیں گی! حضرت سیِّدنا ثَوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، رسولِ اكرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا» “عنقریب ایک ایسا وقت آئے گا جب دوسری اَقوام تمہارے خلاف ایک دوسرے کو ایسے بلائیں گى جیسے کھانے والے ایک دوسرے کو  اپنے پیالے (دَستر خوان) پر بلاتے ہیں” كسی نے عرض کی کہ کیا ایسا ہماری قلّت کے باعث ہوگا؟ فرمایا: «بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِنَّكُمْ، وَلَيَنْزِعَنَّ اللهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ المَهَابَةَ مِنْكُمْ، وَلَيَقْذِفَنَّ اللهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ» “بلکہ اُن دنوں تم اکثریت میں ہوگے، لیکن ایسے بےکار ہوگے جیسے سیلاب کا اپنے ساتھ لایا ہوا  میل کچیل (کچرا)، اللہ تعالی تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رُعب نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں بزدلی ڈال دے گا!” سائل عرض گزار ہوا کہ یا رسولَ اللہ! بزدلی کیا ہے؟ فرمایا: «حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ المَوتِ»([37]) “دنیا کی محبت اور موت كو ناپسند كرنا!” ؏

تیغ وتفنگ دستِ مسلماں میں ہے کہاں؟

ہو بھی تو دل ہیں موت کی لذّت سے بے خبر!([38])

اے اللہ! ہمیں جہاد کی سعادت سے بہرہ مند فرما، جہادِ اصغر کے ساتھ ساتھ جہادِ اکبر کی بھی توفیق عطا فرما، شہادت کا رُتبہ وشرف عطا فرما، اور دینِ اسلام کے لیے اپنی جان، مال، عزّت، آبرو سمیت  سب کچھ قربان کرنے کا بھر پور جذبہ عطا فرما۔

اےاللہ! اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے وسیلۂ جلیلہ سے ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت سے محبت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سُستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی اور چھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!۔

اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی اور کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان، مال، عزّت، آبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه “واپس بلاگ پر جائیں أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) “ضیاء النبی” غزواتِ رسالت مآب ﷺ، 3/259، ملتقطاً۔ و”اسلام کا تصوّرِ جہاد” واعظ الجمعہ 6 ستمبر 2019″

([2]) “کُلیاتِ اقبال”بانگِ درا، طلوعِ اسلام  ،؃ 298۔

([3]) پ٢٦، الحجرات: ١٥.

([4]) “صحیح مسلم” کتاب الإمارة، ر: ٤٩١٩، صـ٨٥٢.

([5]) المرجع نفسه، باب ذمّ من مات ولم یغز، ر: ٤٩٣١، صـ٨٥٤.

([6]) پ٢، البقرة: ١٩٠.

([7]) دیکھیے: “اسلام کا تصوّرِ جہاد” واعظ الجمعہ 6 ستمبر 2019ء۔

([8]) “بہارِ شریعت” شہید کا بیان، حصہ چہارم 4،  1/860 ، ملخصاً۔

([9]) پ5، النساء: 69.

([10]) پ2، البقرة: 154.

([11]) پ4، آل عمران: 169، 170.

([12]) “تفسیر خزائن العرفان” پ 4، آلِ عمران، زیر ِ آیت: 169،؃ 143۔

([13]) “تفسیر ِ نعیمی” پ 4، آلِ عمران، زیر ِ آیت: 169، 2/ 88، ملتقطاً۔

([14]) “صحیح مسلم” كتاب الإمارة، ر: ٤٨٨٥، صـ٨٤٥.

([15]) “سنن ابن ماجه” كتاب الجهاد، باب فضل الجهاد في سبيل الله، ر: 2753، صـ469.

([16]) “کُلیاتِ اقبال”اَرمُغانِ حجاز، مُلّا زاد ضیغم لولابی کشمیری کا بیاض، ؃ 738۔

([17]) “صحیح البخاري” كتاب الجهاد والسير، ر: 2817، صـ467.

([18]) “حدائقِ بخشش” حصہ اوّل، گنہگاروں کو ہاتِف سے نویدِ خوش مآلی ہے ،؃ 183۔

([19]) “سنن النَّسائي” كتاب الجنائز، باب الشهيد، ر: 2049، الجزء 4، صـ102.

([20]) “سنن الترمذي” أبواب فضائل الجهاد، باب ما جاء في فضل المُرابط، ر: 1668، صـ401.

([21]) “صحيح مسلم” كتاب الأمارة، ر: 4883، صـ845.

([22]) “التيسير” للمُناوي، حرف الياء، تحت ر: 10016، 6/553، ملخصاً.

([23]) “صحيح البخاري” كتاب الجهاد والسير، ر: 2808، صـ465.

([24]) “سنن أبي داود” كتاب الجهاد، باب في الشهيد يشفع، ر: 2522، صـ366.

([25]) “سنن الترمذي” أبواب فضائل الجهاد، باب في ثواب الشهيد، ر: 1663، صـ400. و”الترغيب والترهيب” للمُنذري، كتاب الجهاد، الترغيب في الشهادة، ر: 27، 2/210.

([26]) “مُسند الإمام أحمد” مسند الانصار، حديث نعَيم بن همّار الغَطَفاني، ر: 22539، 8/343.

([27]) “سنن أبي داود” كتاب الجهاد، باب فيمن سأل الله الشهادة، ر: 2541، صـ369.

([28]) “صحيح البخاري” كتاب الجهاد والسِير، ر: 2791، صـ462.

([29]) المرجع نفسه، ر: 2803، صـ464.

([30]) “سنن أبي داود” كتاب الجهاد، ، ر: 2541، صـ369.

([31]) “صحيح مسلم” كتاب الأمارة، باب استحباب طلب الشهادة في سبيل الله، ر: 4930، صـ854.

([32]) “وسائلِ بخشش” گناہوں کی نہیں جاتی ہے عادت یا رسول اللہ  ،؃ 329۔

([33]) “سنن الترمذي” كتاب الديات، ر: 1421، صـ343، 344.

([34]) “مجمع الزوائد” كتاب الجهاد، باب فيما تحصل به الشهادة، ر: 9553، 5/389.

([35]) “صحيح مسلم” كتاب الإمارة، ر: ٤٩٢٣، صـ٨٥٢، ٨٥٣.

([36]) “کُلیاتِ اقبال” بالِ جبریل، منظومات، طارق کی دعا،؃ 432۔

([37]) “سنن أبي داود” باب في تداعي الأمم على الإسلام، ر: 4297، صـ603 .

([38]) “کُلیاتِ اقبال”ضربِ کلیم، جہاد  ،؃ 537۔

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *