
Table of contents
- صحابۂ کرام رضي الله عنه
- ولادت با سعادت اور اسمِ گرامی
- بچوں میں سب سے پہلے قبولِ اسلام
- حضرت سیِّدُنا علی رضي الله عنه کی شان وعظمت
- سیِّدُنا علی مرتضیٰ علی رضي الله عنه کی محبت … ایک ایمانی تقاضا
- ایمان کی کسوٹی
- مولا علی علی رضي الله عنه کی برائی کرنے سے ممانعت
- نیابتِ رسول ﷺ
- حدیث پاک سے روافض کا ایک غلط استدلال
- خلافت بلا فصل اور سیِّدُنا علی صحابۂ کرام رضي الله عنه کا فرمان
- خلفائے راشدین میں باہمی اَفضلیت کی ترتیب
- صحا بۂ کرام رضي الله عنه کی توہین وتنقیص سے ممانعت
- مُشاجراتِ صحابہ سے متعلق اہلِ سنّت کا عقیدہ
- یوم سیِّدُنا علی مرتضیٰ رضي الله عنه اور حالات کا تقاضا
- دعا
الحمد لله ربّ العالمين، والصّلاةُ والسّلامُ على خاتمِ الأنبياءِ والمرسَلين، وعلى آلهِ وصحبهِ أجمعين، أمّا بعد: فأعوذُ باللهِ مِن الشّيطانِ الرّجيم، بسمِ الله الرّحمنِ الرّحيم.
حضور پُرنور، شافعِ یومِ نُشور ﷺ کی بارگاہ میں ادب واحترام سے دُرود وسلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اللّهمّ صلِّ وسلِّم وبارِك على سيِّدِنا ومولانا وحبيبِنا محمّدٍ وعلى آلهِ وصَحبهِ أجمعين.

یہ بھی ضرور پڑھیں :خلیفۂ ثانی امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ
صحابۂ کرام رضي الله عنه
برادرانِ اسلام! صحابۂ کرام رضي الله عنه کا وُجودِمسعود ہمارے لیے رحمتوں، برکتوں اور آسانیوں کا سبب ہے، وہ ان چمکتے ستاروں کی مانند ہیں جو کفر، شرک اور اِلحادکی تاریکیوں میں، بھٹکتے مسافروں کو صراطِ مستقیم پر لانے کا ذریعہ ہیں، اسلام کے جس تَن آوَر، مضبوط اور وسیع وعریض درخت کے سائے میں، ہم آج پناہ لیے ہوئے ہیں، ان مقدّس ہستیوں نے اس کی آبیاری اپنے خونِ جگر سے کی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ اس دینِ متین کو زمانے کی تند وتیز ہواؤں طوفانوں سے بچانے کے لیے، اپنا گھربار، جان ومال ، عزّت وآبرُو، دنیاوی مَناصب، حتّی کہ عزیز واَقارِب کو بھی، راہِ خدا میں قربان کرنے سے گریز نہیں کیا۔
سیِّدُنا ابو بکر وعمر ہوں، یا سیِّدُنا عثمان وعلی، نیز دیگر صحابۂ کرام رضي الله عنه نے بھی اپنا مال ودولت راہِ خدا میں خرچ کر دیا، غربت واِفلاس کی زندگی بسر کی، کفّار ومشرکین کے ظلم وستم کا سامنا کیا، ان میں سے بعض صحابہ کو تپتی ریت اور دہکتے گرم انگاروں پر لِٹایا گیا، انہوں نے میدانِ جنگ میں تیروں، تلواروں اور نیزوں کے زخم برداشت کیے، لیکن قربان جائیے کہ ان حضرات کے پایۂ استقلال میں، رَتی برابر بھی لرزش نہ آئی، اور سب کچھ لُٹانے کے باوُجود، ان حضرات نے اسلام کا دامنِ کرم ہاتھ سے نہیں جانے دیا، یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العالمین کی طرف سے انہیں دنیا ہی میں ﴿رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ﴾([1]) “اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی” کی سندِ لازَوال عطا فرما کر، فلاح وکامرانی کی نوید دے دی گئی، دُخولِ جنّت کا مژدۂ جانفزا اِن حضرات کو سنا دیا گیا۔
ان حضراتِ مقدّسہ کی خوش بختی کی معراج یہ، کہ وہ شب وروز مصطفی جانِ رحمت ﷺ کے شربتِ دیدار سے فیضیاب ہوتے رہے، حضور کی صحبتِ بابرکت میں اٹھتے بیٹھتے رہے، یہ وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں سے قرآن کریم نازل ہوتے دیکھا، اور رسول اللہ ﷺ کے فرامین کو اپنے کانوں سے براہِ راست سنا، اور پھر ان کے توسُّط سے ہم تک پہنچا، انہی نُفوس ِمقدّسہ میں سے ایک عظیم نام، خلیفۂ چہارُم امیر المؤمنین سیِّدُنا علی مرتضیٰ شیر خدا رضي الله عنه کا بھی ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حضورِ اکرم ﷺ کا حُسن وجمال
ولادت با سعادت اور اسمِ گرامی
عزيزانِ محترم! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی رضي الله عنه کی ولادتِ باسعادت، اعلانِ نبوّت سے دس 10 سال قبل ہوئی۔ آپ رضي الله عنه کی والدۂ ماجدہ حضرت سیِّدہ فاطمہ بنت اسد رضي الله عنه نے، اپنے والد کے نام پر آپ رضي الله عنه کا نام “حَیدر” رکھا، اپنے اس نام کے بارے میں سیِّدُنا علی المرتضی رضي الله عنه اپنے ایک رَجز میں خود فرماتے ہیں: «أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ»([2]) “میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا”۔ جبکہ آپ کے والد ابوطالب نے آپ رضي الله عنه کا نام “علی” رکھا، آپ رضي الله عنهنے سرور کونین ﷺ کی گود میں پروَرش پائی، آپ رسول اللہﷺ کے داماد، چچازاد بھائی اور مسلمانوں کے چوتھے خلیفۂ راشد ہیں۔
مزید یہ کہ دیگر صحابۂ کرام رضي الله عنه کی طرح آپ نے بھی، مکۂ مکرّمہ سے مدینہ طیّبہ کی طرف ہجرت کی، اور بدر، اُحُد،خندق، بیعتِ رضوان اور تمام غزوات میں (ماسوائے غزوۂ تبوک کے) رسولِ اکرم ﷺ کے ہمراہ رہے([3]) ؏
| اس نے لقب خاک شہنشاہ سے پایا | جو حیدرِ کرّار کہ مَولی ہے ہمارا([4]) |
بچوں میں سب سے پہلے قبولِ اسلام
عزیزانِ محترم! حضرت سیِّدُنا علی رضي الله عنه کو بچوں میں سب سے پہلے قبولِ اسلام کی سعادت حاصل ہوئی، جیسا کہ حضرت سيِّدُنا زَید بن اَرقم رضي الله عنه نے فرمایا: «أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ»([5]) “سب سے پہلے حضرت علی رضي الله عنه ایمان لائے”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :صوفیائے کرام اور اُن کی تعلیمات
حضرت سیِّدُنا علی رضي الله عنه کی شان وعظمت
حضرت سيِّدُنا علی رضي الله عنه کو یہ شرف بھی حاصل ہے، کہ آپ وہ خوش نصیب ہستی ہیں، جنہیں عرش پر قدم رکھنے والے، آقائے کائنات ﷺ نے حکم فرمایا: «اصْعَدْ عَلَى مَنْكِبَيَّ!» “میرے کندھوں پر چڑھ جاؤ (اور کعبۃ اللہ کی اندرونی چھت سے بُتوں کو گرا دو!)”۔ جب وہ بلند اختر چڑھا، تو خود کو ایسے مقامِ رفیع پر پایا، کہ فرماتے ہیں: “مجھے خیال آتا تھا کہ اگر چاہوں تو آسمان کا کنارہ چُھو لُوں([6])۔
آپ کے مقام ومرتبہ پر دلالت کرتی ایک اَور روایت میں ہے، کہ تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ فَعَلَيٌّ مَوْلَاهُ!»([7]) “اے اللہ جس کا میں مددگار ہوں، علی بھی اُس کا مددگار ہے!”۔
حضرت سیِّدُنا ابن عمر علی رضي الله عنه سے روایت ہے، کہ نبئ اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ مہاجرین وانصار کے مابین بھائی چارہ قائم فرمایا، تب سیِّدنا علی المرتضی علی رضي الله عنه اس حال میں حاضر خدمت ہوئے، کہ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، بارگاہِ رسالت میں عرض کی کہ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ میں بھائی چارہ کرایا، اور مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا! اس پررسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ!»([8]) “تم تو دنیا وآخرت میں میرے بھائی ہو!”۔
حضرت سیِّدُنا علی علی رضي الله عنه کی شان وعظمت کا اندازہ اس بات سے بھی خوب لگایا جا سکتا ہے، کہ خالقِ کائنات علی رضي الله عنه نے مصطفی جان رَحمت ﷺ کی ذُرِیت (اولاد) سیِّدُنا علی مرتضیٰ علی رضي الله عنه کی پُشت میں رکھی، جیسا کہ نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ اللهَ b جَعَلَ ذُرِّيَّةَ كُلِّ نَبِيٍّ فِي صُلْبِهِ، وَإِنَّ اللهَ تَعَالَى جَعَلَ ذُرِّيَّتِي فِي صُلْبِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ»([9]) “یقیناً اللہ نے ہر نبی کی ذُرِّیت اُس کى صُلب (پیٹھ) میں رکھی، اور میری ذُرِّیت علی علی رضي الله عنه بن ابى طالب کی پشت میں رکھی ہے”۔
حضرات گرامی قدر! حضرت سیِّدُنا علی شیرِ خدا علی رضي الله عنه ان خوش نصیب اور پاک ہَستیوں میں سے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے سروَرِ کونین ﷺ کے اہلِ بیت کی حیثیت سے خطاب فرمایا، حضرت سيِّده عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ علی رضي الله عنه اس خطاب کا پسِ منظر بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں، کہ حضور نبئ اکرم ﷺ ايك صبح اس حال میں اپنے کاشانۂ اقدس سے باہر تشریف لائے، کہ آپ نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی، جس پر سیاہ اُون سے کجاووں کے نقش بنے ہوئے تھے، حضرت سيِّدُنا حسن بن علی علی رضي الله عنه آئے، تو نبئ رحمت ﷺ نے انہیں اُس چادر میں داخل فرما لیا، پھر حضرت سيّدُنا حسین علی رضي الله عنه آئے اور اُس چادر میں داخل ہو گئے، پھر سیِّدَہ فاطمہ زَہراء علی رضي الله عنه تشریف لائیں، تو آپ ﷺ نے انہیں بھی چادر میں لے لیا، پھر حضرت سيِّدُنا علی -کرّم اﷲ تعالی وجہہ الكريم- تشریف لائے، تو سرکارِ دو عالم ﷺ نے انہیں بھی اس چادر میں داخل كر کے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا([10])﴾([11]) “اے نبی کے گھر والو! اللہ تعالی تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر ناپاکی دُور فرما دے، اور تمہیں پاک کر کے خُوب ستھرا کر دے!”۔
صدر الاَفاضل حضرت علّامہ سیِّد نعیم الدین مُرادآبادی علی رضي الله عنه اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ “اس آیت مبارکہ سے اہلِ بیت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اور اہلِ بیت میں نبئ کریم ﷺکے اَزواجِ مُطہَّرات، حضرت خاتونِ جنّت فاطمہ زہراء، حضرت علی مرتضیٰ، اور حسنینِ کریمین سب داخل ہیں، آیات واحادیث جمع کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے، اور یہی (امامِ اہلِ سنّت) حضرت امام ابو منصور ماتُریدی علی رضي الله عنه سے منقول ہے۔ ان آیات میں اہلِ بیتِ رسولِ کریم ﷺ کو نصیحت فرمائی گئی ہے؛ تاکہ وہ گناہوں سے بچیں، اور تقوی وپرہیزگاری کے پابند رہیں، گناہوں کو ناپاکی سے، اور پرہیز گاری کو پاکی سے اِستِعارہ فرمایا گیا ہے؛ کیونکہ گناہوں کا مرتکِب ان سے ایسا ہی ملوّث ہوتا ہے جیسا جسم نَجاستوں سے، اس طرزِ کلام سے مقصود یہ ہے، کہ اَربابِ عقول کو گناہوں سے نفرت دلائی جائے، اور تقوی وپرہیزگاری کی ترغیب دی جائے”([12])۔
سیِّدُنا علی مرتضیٰ علی رضي الله عنه کی محبت …ایک ایمانی تقاضا
عزیزانِ مَن! حضرت سیِّدُنا علی مرتضیٰ علی رضي الله عنه اور دیگر تمام اہلِ بیت کرام سے محبت، ہم اہلِ سنّت وجماعت کے عقائد وایمان کا حصہ ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى﴾([13]) “اےحبیب آپ فرما دیجیے، کہ میں اس (خدمتِ دین اور احسان) پر تم سے کچھ اُجرت نہیں مانگتا، سوائے قَرابت کی محبت کے!” یعنی میرے قریبی لوگوں سے محبت کرو!۔
حضرت سیِّدُنا علی علی رضي الله عنه سے روایت ہے، رسول الله ﷺ نے فرمایا: «أَنَا دَارُ الحِكْمَةِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا»([14]) “میں علم کا گھر ہوں، اور علی اُس کا دروازہ ہیں” یعنی حضور سيِّدِ عالَم ﷺ کے علم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ، حضرت سيِّدُنا علی علی رضي الله عنه بھی ہیں([15])۔ لہذا ان سے کامل محبت کے بغیر، کوئی مصطفی جانِ رحمت ﷺ کے ورثۂ علم سے حصہ نہیں پاسکتا۔
ایمان کی کسوٹی
حضرات محترم! سیِّدُنا علی مرتضیٰ علی رضي الله عنه سے محبت ایمان کی ایک کسوٹی ہے، آپ علی رضي الله عنه سے حقیقی محبت ایمان والوں کی نشانی، اور آپ علی رضي الله عنه سے بُغض وعداوَت نفاق کی علامت ہے، ایمان کی اس کسوٹی کو بیان کرتے ہوئے حضرت سيِّدُنا علی علی رضي الله عنه نے فرمایا: قسم ہے اُس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا (اور اس سے اناج اور نباتات اُگائے!) اور جس نے ہر جاندار کو پیدا کیا! حضور نبئ اُمّی ﷺ کا مجھ سے عہد ہے: «أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ»([16]) “کہ مجھ (علی) سے صرف ایمان والا ہی محبت کرے گا، اور مُنافق ہی مجھ سے عداوَت رکھے گا”۔
میرے محترم بھائیو! سیِّدُنا علی مرتضی علی رضي الله عنه سے محبت کا یہ مطلب ہر گز نہیں، کہ ان کی شان بیان کرنے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جائے، یا خلفائے ثلاثہ حضرات ابوبکر وعمر وعثمان غنی علی رضي الله عنه پر اُن کوکُلّی طَور پر فَوقیت دی جائے، یا مولا علی علی رضي الله عنه کی محبت میں رسول اللہ ﷺ کے کسی پیارے صحابی کی شان میں توہین وتنقیص سے کام لیا جائے!۔
مولا علی علی رضي الله عنه کی برائی کرنے سے ممانعت
حضراتِ ذی وقار! موجودہ دَور میں کفر واِلحاد اور بددینی وگمراہی کے جس سونامی کا رُخ، مخصوص سازش کے تحت اسلامی ممالک کی طرف کیا جا رہا ہے، اس کی لپیٹ سے حضرات انبیاء علی رضي الله عنه اور صحابۂ کرام علی رضي الله عنه جیسی مقدّس ہستیوں کی عزّت وناموس بھی محفوظ نہیں رہی، یورپی ممالک میں سرکاری سطح پر گستاخانہ خاکوں کی نمائش کی جا رہی ہے، دَجّالی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سر گرم، بعض پاکستانی ٹی وی چینلز (TV Channels) کے لائیو شوز (Live Shows) میں، صحابۂ کرام علی رضي الله عنه کی شان میں گستاخیوں کو نشر کیا جا رہا ہے ، اُمتِ مسلمہ کو باہم دست وگریبان کرنے کے لیے ففتھ جنریشن وار (Fifth Generation War) کا آغاز کیا جا چکا ہے، مسلمانوں کے عقائد ونظریات کو کمزور کرنے کے لیے دشمن کے تھنک ٹینک (Think Tank) شب وروز سازشوں میں مصروف ہیں، یہود ونصاریٰ کی طرف سے باقاعدہ فنڈنگ (Funding) کے ذریعے مسلمانوں میں خارجی وہابیوں، تفضیلی شیعوں اور ختمِ نبوّت کے منکِر قادیانیوں کو پروموٹ (Promote) کیا جا رہا ہے!۔
یہی وجہ ہے کہ آج کوئی تفضیلی شیعہ اہلِ بیت سے محبت کے نام پر مبالغہ آرائی سے کام لے رہا ہے، تو کوئی خارجی وہابی سیِّدُنا مولا علی کی شان میں ہرزہ سرائی کر کے اپنے بُغض وعداوت کا اظہار کر رہا ہے، ایسا کرنے والوں کے بارے میں خود حضرت سيِّدُنا مولا علی علی رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے میرے بارے میں ارشاد فرمایا: «فِيكَ مَثَلٌ مِنْ عِيسَى، أَبْغَضَتْهُ الْيَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ، وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالـْمَنْزِلَةِ الَّتِي لَيْسَ بِهِ» “تم میں حضرت عیسیٰ کی ایک مثال پائی جاتی ہے، جن سے یہود نے بُغض رکھا حتی کہ ان کی ماں پر تہمت تک لگا ڈالی، جبکہ نصاریٰ نے اُن سے محبت کی یہاں تک کہ انہیں اُس درجہ میں پہنچا دیا جو اُن کا تھا ہی نہیں” یعنی انہیں خدا اور خدا کا بیٹا کہہ ڈالا!۔
پھر سیِّدُنا علی علی رضي الله عنه نے فرمایا: “میرے بارے میں دو2 قسم کے لوگ ہلاکت میں پڑیں گے: (1) محبت میں حد سے آگے نکلنے والے، مجھے ان اوصاف سے بڑھائیں گے جو مجھ میں نہیں (جیسے رافضی شیعہ)، (2) اور بُغض وعداوت رکھنے والے، جن کا بُغض انہیں اس بات پر اُبھارے گا کہ مجھ پر تہمت لگائیں”([17]) (جیسے خوارج وہابیہ)۔
ایک اَور حدیث پاک میں سیِّدُنا مولا علی علی رضي الله عنه کی برائی سے ممانعت کرتے ہوئے تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ سَبَّ عَلِيّاً، فَقَدْ سَبَّنِي»([18]) “جس نے علی کو بُرا کہا، اس نے مجھے بُرا کہا”۔
اسی طرح حضرت سیِّدُنا عُرْوَہ بن زبیر علی رضي الله عنه سے روایت ہے، کہ کسی نے امیرالمؤمنین حضرت سيِّدُنا عمر فاروق علی رضي الله عنه کے سامنے، حضرت سيِّدنا علی المرتضی علی رضي الله عنه کی بُرائی کی، اس پر حضرت سیِّدُنا عمر نے حضور رحمتِ عالمیان ﷺ کی قبر انوَر کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «أَتَعْرِفُ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ؟! هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الـْمُطَّلِبِ، لَا تَذْكُرْ عَلِيّاً إِلَّا بِخَيْرٍ؛ فَإِنَّكَ إِنْ تَنْقُصْهُ، آذَيْتَ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِg»([19]) “کیا تم اس قبر کے مکین کو جانتے ہو؟ یہ (ہمارے پیارے نبی) محمد بن عبد الله بن عبد المطلب ہیں! جب بھی علی کاذکر کرو تو خیر کے ساتھ کرو؛ کیونکہ اگر تم حضرت علی کی اِہانت کروگے، تو اس سے حضور اکرم ﷺ کو اَذیت ہوتی ہے!”۔
نیابتِ رسول ﷺ
حضراتِ گرامی قدر! حضور نبئ کریم ﷺ حضرت مولا مشکل کشا علی مرتضی علی رضي الله عنه سے کس قدر محبت فرمایا کرتے، اس کا اندازه اس بات سے خوب لگایا جاسکتا ہے، کہ متعدد مواقع پر مصطفی جانِ عالَم ﷺ نے سیِّدُنا علی مرتضیٰ علی رضي الله عنه کو اپنا نائب بنایا۔ ایک بار جب رسولِ كريم ﷺ سیِّدُنا علی علی رضي الله عنه کو غزوۂ تبوک کے موقع پر، مدینۂ منوّرہ میں اپنا نائب بناكر رخصت ہونے لگے، تو سیِّدُنا علی علی رضي الله عنه نے عرض کی کہ مجھے آپ كے ساتھ جانا زیادہ پسند ہے، ارشاد ہوا: «أَوَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي»([20]) “کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میرے ساتھ تمہاری نسبت وہی ہو، جوموسیٰ کے ساتھ ہارون علی رضي الله عنه کی تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد كوئى نبی نہیں”۔
یعنی جس طرح حضرت مو سی عَلَيْهِ ٱلسَّلَامُ تیس30 را توں کے وعدے پر حق c سے کلا م کرنے کے لیے گئے، تب حضرت ہارون علیہ السلام سے فرما گئے تھے کہ ﴿اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ﴾([21]) “میری قوم میں میرے بعد نَیا بت کر نا!” یو نہی ہم بھی جہا د کو تشریف لے جا تے ہیں، اور تمہیں پسماندوں پر اپنا خلیفہ اور نا ئب چھو ڑتے ہیں،تو تمہا ری ہما ری نسبت اِس وقت با لکل ایسی ہو ئی، جیسی اُس وقت مو سیٰ وہارون کی، فرق اس قدر ہے کہ ہا رون صرف نا ئب ہی نہیں تھے، بلکہ امامِ مستقل بھی تھے کہ خود بھی نبوّت رکھتے تھے، تم صرف نائب ہو ، امامت با لاستقلال نہیں رکھتے؛ کہ ہمارے بعد کوئی نبی ہے ہی نہیں، جو بذا ت خود والی ہو۔ یہ ہیں معنئ حدیث، اور اس کے سوا جو معنی اوہا م ترا شیں، وہ ان پر مردود ہیں([22])۔
حدیث پاک سے روافض کا ایک غلط استدلال
عزیزانِ گرامی قدر! مذکورہ بالا روایت: «أَوَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى»([23]) “سے رافضی شیعہ لوگ، سیِّدُنا علی رضي الله عنه کے خلیفہ بلافصل ہونے پر دلیل پکڑتے ہیں، حضرت امام نوَوی شافعی ، حضرت امام قاضی عیاض مالکی کے حوالے سے، اس حدیث پاک کی شرح میں تحریر کرتے ہیں کہ “اس حدیث سے روافض، اِمامیہ اور شیعہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ، یہ دلیل پکڑتے ہیں کہ خلافت مولا علی رضي الله عنه کا حق ہے، اور نبئ کریم ﷺ نے حضرت علی رضي الله عنه کے لیے اس کی وصیت فرمائی تھی۔
قاضی عیاض مزید فرماتے ہیں، کہ ان (شیعوں) کے مابین اس بات پر بھی
اختلاف ہے، کہ (معاذاللہ) تمام صحابۂ کرام رضي الله عنه کافر ہیں؛ کیونکہ ان حضرات نے حضرت علی رضي الله عنه کے ہوتے ہوئےکسی دوسرے کو خلیفہ مان لیا، اور بعض روافض نے تو ( تمام تر حدود پار کرتے ہوئے) اسی سبب سے مولا علی رضي الله عنه کی بھی تکفیر کی؛ کہ انہوں نے اپنی خلافت کے لیے، دیگر صحابۂ کرام رضي الله عنه سے جنگ کیوں نہیں کی؟!”([24]) ؏
| لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ تھا وعدۂ اَزَلی | نہ منکِروں کا عَبَث بدعقیدہ ہونا تھا([25]) |
اور یہ عقیدہ تو سارے روافض شیعہ کاہے، کہ حضرت سیِّدُنا علی رضي الله عنه تقیّہ (بہانہ بازی اور بزدلی) کرکے دَب گئے،اور دیگر خلفاء کے ہاتھوں پر بیعت کی تھی (نعوذباللہ!) حالانکہ شیر نہ تقیّہ کرتا ہے، نہ ہی مظلوم ہوتاہے!۔ جبکہ روافض کایہ استدلال بالکل غلط اور باطل ہے؛ کیونکہ اس حدیث شریف میں وقتی اور عارضی خلافت کا ذکر ہے، جو حضور اکرم ﷺ نے سفر پر روانگی کے وقت، اپنی حیاتِ طیّبہ میں آپ رضي الله عنه کو عطا فرمائی تھی، جو سفر سے واپسی پر ختم ہوگئی، لہذا اسے دلیل نہیں بنایا جاسکتا!۔
خلافت بلا فصل اور سیِّدُنا علی صحابۂ کرام رضي الله عنه کا فرمان
رفیقانِ ملّت اسلامیہ! رافضی شیعہ لوگ، سیّدُنا مولا علی رضي الله عنه کے لیے خلافت بلا فصل ثابت کرنے کے لیے، زمین وآسمان کے قلابے ملاتے ہیں، اور تمام علمی قواعد، ضوابط اور اُصول کو پیروں تلے روندتے ہوئے، موضوع مَن گھڑت اور ضعیف روایات، بطور دلیل وحجت پیش کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے، حالانکہ خود مولا
علی مرتضیٰ رضي الله عنه اس اَمر سے متعلق صراحۃً نفی فرما چکے ہیں۔
حضرت عَمرو بن سفیان رضي الله عنه سے بسند حَسن روایت ہے، کہ جب امیرالمؤمنین سیِّدُنا علی رضي الله عنه جنگِ جمل میں فتح یاب ہوئے، تو آپ نے فرمایا: «أَيُّهَا النَّاسُ! أَنَّ رَسُولَ الله gلَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا فِي هَذِهِ الْإِمَارَةِ شَيْئًا، حَتَّى رَأَيْنَا مِنَ الرَّأْيِ أَنْ نَسْتَخْلِفَ أَبَا بَكْرٍ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ»([26]) “اے لوگو! نبئ اکرم ﷺ نے اس اِمارت (خلافت) کے مُعاملے میں ہمیں کوئی وصیت نہیں فرمائی، ہم لوگوں نے اپنی رائے سے حضرت ابوبکر صدیق صحابۂ کرام رضي الله عنه کو خلیفہ بنایا، اور انہوں نے دین کی اِقامت واستقامت فرمائی، حتی کہ آپ وصال فرما گئے”۔
اس حدیث پاک میں ان رافضیوں کا رَد ہے، جو کہتے ہیں کہ نبئ کریم ﷺ نے اپنے وصال شریف سے قبل، سیِّدُنا علی المرتضی رضي الله عنه کے لیے خلافت کی وصیت فرمائی تھی۔ مذکورہ بالا روایت میں امیر المؤمنین سیِّدُنا علی رضي الله عنه بنفس نفیس خود اپنے لیے خلافت بلافصل کی، نہ صرف نفی فرما رہے ہیں، بلکہ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضي الله عنه کے بطور خلیفہ انتخاب میں، اپنی رِضاوخوشی کا اظہار بھی فرما رہے ہیں!۔
علاوہ ازیں حضرت صدیق اکبر رضي الله عنه سے یہ بات ممکن ہی نہیں تھی، کہ حضرت علی رضي الله عنه کے لیے وصیتِ خلافت ہوتے ہوئے وہ خود خلیفہ بن جاتے! بلکہ وہ تو یقیناً یہی پسند کرتے، کہ اگر اَمرِخلافت میں رسول اللہ ﷺ سے حضرت علی رضي الله عنه کے لیے کوئی وصیت ہوتی، تو حضرت علی رضي الله عنه کے مطیع وفرمانبردار ہو جائیں!۔
خلفائے راشدین میں باہمی اَفضلیت کی ترتیب
حضراتِ ذی وقار! رافضی تفضیلی شیعہ لوگ، مولائے کائنات سیِّدُنا علی مرتضیٰ رضي الله عنه کو خلفائے ثلاثہ (یعنی حضرات ابو بکر وعمر وعثمان غنی رضي الله عنه) سےافضل جانتے مانتے ہی۔ ایسا عقیدہ رکھنے والے کے بارے میں خود مولا علی رضي الله عنه نے اِرشاد فرمایا: «لَا يُفَضِّلُنِي أَحَدٌ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ إِلَّا جَلَدْتُهُ حَدَّ المُفْتَرِي!»([27]) “جو مجھے ابو بکر وعمر رضي الله عنه پر فضیلت دے گا، اسے مُفتری (جھوٹے) کی حد اسّی 80 کوڑے لگاؤں گا!”۔
حضرت سیِّدُنا علی رضي الله عنه نے ایک اَور مقام پر ارشاد فرمایا: «لَا يُفَضِّلُنِي أَحَدٌ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ إِلَّا جَلَدْتُهُ جَلْدًا وَجِيْعاً!»([28]) “جو مجھے ابوبکر وعمر رضي الله عنه پر فضیلت دے گا، اسے درد ناک کوڑے لگاؤں گا!”۔
میرے محترم بھائیو! ہمارے اَسلاف بھی تمام صحابۂ کرام رضي الله عنه اور جمیع اُمّتِ مسلمہ پر، حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضي الله عنه کی اَفضلیت کے قائل ہیں، جیسا کہ حضرت سالم بن ابی الجَعد تابعی فرماتے ہیں، کہ میں نے امام محمد بن حنفیہ سے عرض کی کہ “کیا حضرت ابوبکر رضي الله عنه سب سے پہلے اسلام لائے؟ فرمایا: نہیں، میں نے کہا کہ پھر کیا بات ہے کہ ابو بکر سب سے بالا رہے ا ور سبقت لے گئے؟ یہاں تک کہ لوگ ان کے سوا کسی کا ذکر ہی نہیں کرتے! فرمایا: یہ اس لیے کہ وہ اسلام میں سب سے افضل ہیں”([29])۔
خلفائے راشدین میں باہمی اَفضلیت کے بارے میں، اہلِ سنّت وجماعت کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے، شیخ نجم الدین فرماتے ہیں کہ “ہمارے نبئ کریم ﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے افضل سیِّدُنا ابو بکر صدیق ہیں، اور اُن کے بعد سیِّدُنا عمر فاروق، پھر سیِّدُنا عثمانِ غنی اور پھر سیِّدُنا علی مرتضی افضل ہیں”([30])۔
امام ابن حجر عَسقلانی فرماتے ہیں کہ “اہلِ سنّت وجماعت کا اس بات پر اِجماع واتفاق ہے، کہ خُلفائے رَاشدین میں افضلیت اُسی ترتیب سے ہے، جس ترتیب سے خلافت ہے”([31]) یعنی سیِّدُنا صدیق اکبر رضي الله عنه سب سے افضل ہیں، اُن کے بعد سیِّدُنا عمر فاروق، پھر سیِّدُنا عثمان غنی اور پھر سیِّدُنا مولا علی رضي الله عنه افضل ہیں۔
صحابۂ کرام رضي الله عنه کی توہین وتنقیص سے ممانعت
عزیزانِ مَن! حضرت سیّدُنا مولا علی مرتضیٰ رضي الله عنه سمیت سروَر کائنات ﷺ کے تمام صحابۂ کرام رضي الله عنه ، صدق ووفا کے پیکر اور سرچشمۂ ہدایت ہیں، ان کا مقدّس وُجود، ظلمت کےاندھیروں میں ایک مینارۂ نور کی حیثیت رکھتا ہے، حضور اکرم ﷺ صحبتِ رسول کی برکت سے، اللہ رب العزّت کی بارگاہ میں، ان حضرات کو ایک خاص مقام حاصل ہے، یہ وہ خوش بخت نُفوس مقدّسہ ہیں، جنہیں دنیا ہی میں ان کے رب تعالی کی رضا، خوشنودی اور کامیابی کا پروانہ عطا ہو چکا۔
ارشاد باری تعالی ہے: ﴿وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ
وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًاذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ﴾([32]) “اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار، اور جو بھلائی کے ساتھ پَیروکار ہوئے، اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں، اور اُن کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغات ، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ہمیشہ اُن میں رہیں گے، یہی بڑی کامیابی ہے”۔ لہذا جو بد نصیب ان حضرات کی توہین کرے، وہ بدبخت اور مذکورہ بالا حکمِ الٰہی کا مخالف ہے!۔
احادیث نبویہ میں صحابۂ کرام کے مُعاملے میں، اللہ سے ڈرنے، اور انہیں ہدَفِ تنقید بنانے کی خاص طَور پر، ممانعت فرمائی گئی ہے۔ امام ترمذی نے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مغفّل رضي الله عنه سے روایت کی، حضور نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «الله الله فِي أَصْحَابِي! لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضاً بَعْدِي! فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللهَ، وَمَنْ آذَى اللهَ فَيُوشكُ أَنْ يَأْخُذَه!»([33]) “اللہ سے ڈرو! میرے صحابہ کے مُعاملہ میں اللہ سے ڈرو! انہیں میرے بعد ہدَفِ تنقید نہ بنانا؛ کیونکہ جس نے اِن سے محبت کی، تو میری محبت کی بنا پر کی، اور جس نے اِن سے عداوت رکھی، تو مجھ سے عداوَت کی بنا پر اِن سے عداوت رکھی! جس نے ان کو اِیذاء دی اس نے مجھے اِیذاء دی، اور جس نے مجھے اِیذاء دی اُس نے اللہ تعالى کو اِیذاء دی، اور جس نے اللہ تعالى کو اِیذاء دی، عنقریب اللہ تعالى اس كى سخت پکڑ فرمائے گا!”۔
صحابۂ کرام رضي الله عنه پر سبّ وشتم (بُرا کہنے) سے ممانعت کرتے ہوئے، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي! فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَباً، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلاَ نَصِيفَهُ!»([34]) “میرے کسی صحابی کو گالی مت دو (بُرا مت کہو) ؛ کیونکہ کہ اگر تم اُحُد پہاڑ برابر بھی سونا خيرات کر ڈالو، تب بھی تمہارا ثواب، میرے کسی صحابی کے، ایک مُد([35]) یا اس کے آدھے تک بھی نہیں پہنچ سکتا!”۔
حضرت سيِّدُنا عبد اللہ بن عمر رضي الله عنه فرماتے ہیں: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ! فَلَمَقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً، خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمْرَه!»([36]) “محمد مصطفی ﷺ کے صحابہ کو بُرا مت کہو؛ کیونکہ ان کے عمل کا ایک لمحہ، تمہارے عمر بھر کے اعمال سے بہتر ہے!”۔
ایک اَور روایت میں ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «إنّ اللهَ اختارَنِي واختارَ لي أصْحابِي، فَجَعَلَ لي منهمْ وُزَراءَ وأصهاراً وأنصاراً، فَمَن سَبَّهُمْ فَعَلَيه لَعْنَةُ اللهِ والمَلائِكَةِ والنّاسِ أجْمَعِين! لَا يَقْبَلُ اللهُ منهُ صَرفاً وَلَا عَدلاً!»([37]) “اﷲ تعالى نے مجھے منتخب فرمایا، اور میرے لیے میرے اصحاب کا انتخاب فرمایا، اور ان میں میرے لیے وزراء، سُسرالی رشتہ دار اور مددگار بنائے، تو جو انہیں گالی دے (بُرا کہے)، اُس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے! اللہ تعالی اس سے نہ کوئی فرض قبول فرمائے گا، نہ کوئی نفل!” ؏
| جن کے دشمن پہ لعنت ہے اللہ کی | اُن سب اہلِ محبّت پہ لاکھوں سلام([38]) |
برادرانِ اسلام! حضراتِ شیخین کریمین، یعنی سیِّدُنا ابو بکر وعمر اور سیِّدُنا امیر مُعاویہ رضي الله عنه ، یہ سب نبئ کریم ﷺ کے سُسرالی رشتہ دار ہیں، انہیں برا کہنے یا گالی دینے والے پر، اللہ ورسول سمیت کُل کائنات کی لعنت ہے، رافضی، تفضیلی شیعہ حضرات، مذکورہ بالا فرمانِ رسول کی روشنی میں، اپنے طرزِ عمل اور عقائد ونظریات پر خوب غَور وفکر کرکے اپنی اصلاح کی کوشش کریں، اور ان حضراتِ مقدّسہ پر سبّ وشتم (گالی گلوچ) سے باز آئیں!۔
میرے محترم بھائیو! نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے، کہ آجکل صحابۂ کرام کی شان میں گستاخیوں کا سلسلہ بڑی تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے! رَافضی وناصبی سوچ کے حامل بعض افراد، حضرات صحابۂ کرام رضي الله عنه کےمابین اجتہادی نَوعیت کے حامل چند ایشوز (Issues) کو بنیاد بنا کر، ان مقدّس ہستیوں کی توہین وتنقیص کے مرتکِب ہو رہے ہیں، اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں، حالانکہ نبئ کریم ﷺ نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی ان حضرات صحابہ کو مؤمن قرار دیا، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «تَكُونُ فِي أُمَّتِي فِرْقَتَانِ، فَتَخْرُجُ مِنْ بَيْنِهِمَا مَارِقَةٌ، يَلي قَتْلَهُمْ أَوْلَاهُمْ بِالْحَقِّ!»([39]) “میری اُمّت دو2 جماعتوں میں تقسیم ہو جائی گی، اور ان میں ایک گروہ نکلے گا، جو جماعت اس گروہ کو قتل کرے گی، وہ حق کے زیادہ قریب ہوگی!” (اور فریقِ ثانی بھی باطل نہیں، بلکہ مغفور ہے)۔
اس حدیث پاک کی شرح میں امام نوَوی فرماتے ہیں کہ “حضرت سیِّدُنا علی رضي الله عنه حق پر تھے، اور حضرت مُعاویہ رضي الله عنه کے گروہ نے اجتہادی تاویل کے ساتھ اُن پر بغاوت کی تھی۔ اسی حدیث پاک میں یہ صراحت بھی ہے، کہ دونوں گروہ مؤمن ہیں، اور اس جِدال وقِتال کے سبب، وہ لوگ ایمان سے خارج نہیں ہوئے، نہ فاسق ہوئے، یہی ہمارا اور ہمارے مُوافقین کا مذہب ہے”([40])۔
مُشاجراتِ صحابہ سے متعلق اہلِ سنّت کا عقیدہ
عزیزانِ محترم! اہلِ سنّت وجماعت کے نزدیک تمام صحابہ عادِل، جنّتی اور واجب الاحترام ہیں، اجتہادی اختلافِ رائے کی بنیاد پر ان کے باہمی مُشاجَرات واختلافات پر، کسی کو لَب کشائی کرکے، ان کی شان میں ہرزہ سرائی یا بے اَدبی کی ہرگز اجازت نہیں! صحابۂ کرام شانِ مولائے کائنات رضي الله عنه کی عدالت وباہمی اختلافات کے بارے میں، مسلک حق اہلِ سنّت وجماعت کے چند اکابر کے اَقوال ملاحظہ فرمائیں:
(1) امام ابو الحسن اَشعری ارشاد فرماتے ہیں کہ “ہم رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابۂ کرام رضي الله عنه سے محبت رکھتے ہیں! اور ان کے درمیان ہونے والے اختلافات کے بارے میں، اپنی زبان بند رکھتے ہیں!”([41])۔
(2) علّامہ شہاب الدین خفاجی، عدالتِ صحابہ سے متعلق تحریر کرتے ہیں کہ “تمام صحابہ عادِل ہیں، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ «خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ»([42]) “تمام زمانوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر ا ن کا زمانہ جنہوں نے مجھے دیکھا، پھر ان کا زمانہ جنہوں نے مجھے دیکھنے والوں کو دیکھا”۔ اسی سبب سے امام الحرمین (ابو المعالی عبد الملک بن امام ابومحمد عبد اللہ بن یوسف جُوینی شافعی) نے چھوٹے بڑے تمام صحابۂ کرام رضي الله عنه کی عدالت پر اِجماع واتفاق نقل فرمایا”([43])۔
(3) امام عبد الوہّاب شَعرانی صحابہ سے متعلق، عقیدۂ اہلِ سنّت بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں کہ “اس بات کا اعتقاد رکھنا واجب ہے، کہ صحابۂ کرام عند اللہ ماجور (اجر وثواب کے مستحق) ہیں، اور باتفاقِ اہلِ سنّت تمام صحابہ عادِل واہلِ انصاف ہیں، چاہےوہ ان فتنوں میں مبتلا ہوئے، یا ان سےکنارہ کشی اختیار فرمائی!”([44])۔
(4) امام ابن حجر ہیتمی رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ “جان لو! کہ اہلِ سنّت وجماعت کا اس بات پر اِجماع واتفاق ہے کہ “تمام مسلمانوں پر واجب ہے، کہ سارے صحابۂ کرام کو عادل جانتے ہوئے، انہیں پاک صاف جانیں! اور ان حضرات مقدّسہ پر طعنہ زَنی سے باز رہیں!”([45])۔
(5) علّامہ عبد العزیز پُرہاروی رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ “اہلِ سنّت اس بات کے قائل ہیں، کہ حق حضرت علی رضي الله عنه کے ساتھ ہے، اور جن لوگوں نے ان سے لڑائی کی، وہ ان کی اپنی اجتہادی خطا (اور حضرت علی رضي الله عنه کے مقابلے میں اُن کی چُوک) تھی، اور وہ بھی شرعاً معذور تھے، اور یقیناً دونوں فریق عادِل و صالح ہیں، اور احادیثِ مشہورہ میں صحابۂ کرام رضي الله عنه کی تعریف وتوصیف، اور انہیں بُرا کہنے سے ممانعت والی مشہور احادیث کی بناء پر، ان میں سے کسی ایک پر بھی طعن وتشنیع جائز نہیں”([46])۔
میرے دوستو بھائیو اور بزرگو! سیِّدُنا علی مرتضیٰ ہوں یا سیِّدُنا امیر مُعاویہ، یا پھر دیگر صحابۂ کرام ، سب قابلِ عزّت واحترام ہیں، ان حضرات کے پاکیزہ دل دنیاوی مال ومتاع اور حرص ِاِقتدار سے پاک ہیں، بعض مُعاملات میں ان سے غیر اِرادی طور پر، کچھ اجتہادی لغزشیں ضرور سرزد ہوئیں، لیکن ان لغزشو ں اور بھول چُوک کو بنیاد بنا کر، ہمیں اس بات کی قطعاً اجازت نہیں، کہ ان حضراتِ مقدّسہ سے متعلق کسی بھی طرح کے نازیبا کلمات زبان پر لائیں؛ کیونکہ ایسا کرنا ہماری اپنی عاقبت برباد کرنے کے مترادِف ہے!۔
یوم سیِّدُنا علی مرتضیٰ رضي الله عنه اور حالات کا تقاضا
حضراتِ ذی وقار!مسلمانانِ عالَم ہر سال تیرہ13 رجب المرجب کو، امیرالمؤمنین سیِّدُنا علی مرتضیٰ رضي الله عنه کے یومِ ولادت کے طَور پر بڑی عقیدت واحترام سے مناتے ہیں، اس موقع پر محافلِ ذکر ونعت کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے، اس سلسلے میں بڑے بڑے شعلہ بیاں مقرّرین اور پروفیشنل (Professional) نعت خوانوں کو چند گھنٹوں کے لیے باقاعدہ لاکھوں روپے کی ادائیگی کا بھی انتظام کیا جاتا ہے، مختلف مقامات پر نذر ونیاز کا بھی اہتمام ہوتا ہے، لیکن اس کے باوُجود ہمارے مُعاشرے میں رافضیت، تفضیلیت اَور ناصبیت کی جڑیں مزید گہری اور مضبوط ہوتی جا رہی ہیں، بدمذہبی بڑھتی جا رہی ہے، لوگ گمراہ ہو رہے ہیں، اَور اب تو نَوبت یہاں تک آپہنچى، کہ بڑے بڑے ناموَر علماء ومشایخ اور سادات بھی گمراہی کے اس سیلاب میں بہتے چلے جا رہے ہیں!۔
لہذا ضرورت اس اَمر کی ہے کہ “یومِ سیِّدنا علی رضي الله عنه ” یا دیگر بزرگانِ دین کے ایّام پر، لاکھوں روپے پیشہ وَر مقرّرین، گلوکاروں، گویّوں اور میراثی نما نوٹ خوانوں پر لُٹانے کے بجائے، اہلِ سنّت وجماعت کےدینی وتعلیمی اداروں پر صَرف کریں، ان پر اِنویسٹ (Invest) کریں، اپنا سرمایہ اپنی قوم کو ایجوکیٹ (Educate) کرنے میں صَرف کریں؛ کہ اس میں صدقۂ جاریہ بھی ہے، اور قوم کی ترقی بھی!۔
عزیزانِ مَن! یہی تعلیمی ادارے صحابہ واہلِ بیتِ کرام، خصوصاً مولائے کائنات حضرت سیِّدُنا علی رضي الله عنه کی تعلیمات کو فروغ دے رہے ہیں، جب یہ ادارے زیادہ مضبوط ہوں گے، تو زیادہ مؤثِر انداز سے بزرگوں کی تعلیمات کو عام کریں گے، نیز اس کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ رافضیوں، خارجیوں اور ناصبیوں کو پسِ پردہ فنڈنگ (Funding) کرکے، مسلمانوں میں تفرِقہ بازی کو عام کرنے والے، یہود ونصاریٰ کی سازشوں کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد ملے گی!۔
اس کے علاوہ اپنی محافل میں خطاب کے لیے صرف مُستند علمائے دین کو دعوت دیں؛ تاکہ وہ قصّے کہانیاں سنا کر آپ کا وقت ضائع کرنے کے بجائے، آپ کو صحابۂ کرام واہلِ بیت کرام رضي الله عنه سے متعلق، اہلِ سنّت وجماعت کے مُسلَّمہ عقائد ونظریات سے آگاہی دیں، اور تیزی سے بڑھتی ہوئی رافضیت، تفضیلیت، ناصبیت، اور خارجیت کا سدِّ باب کیا جا سکے!۔
دعا
اے اللہ! ہمیں تمام صحابۂ کرام، بالخصوص سیِّدُنا علی شانِ مولائے کائنات رضي الله عنه کی سیرتِ پاک پر عمل پیرا ہوتے ہوئے، دینِ متین کے لیے ہر قسم کی قربانی کا جذبہ عطا فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت میں مزید اضافہ فرما، صحابۂ کرام رضي الله عنه کے باہمی اجتہادی اختلافات پر ہمیں خاموشی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرما، تمام رافضیوں، خارجیوں اور ناصبیوں کو ہدایت عطا فرما، آمین یا رب العالمین!۔
([2]) “صحيح مسلم” باب غزوة ذي قرد وغيرها، ر: 4678، صـ810.
([3]) “أُسد الغابة” على بن أبي طالب h، ر: 3783، 3/588.
([4]) “حدائق بخشش” حصہ اوّل، 30۔
([5]) “سنن الترمذي” أبواب المناقب، ر: 3735، صـ849. ]قال أبو عيسى:[ “هذا حديثٌ حسنٌ صحيح”.
([6]) “مسند الإمام أحمد” مسند علي بن أبي طالب h، ر: 644، 2/73. و”مستدرَك الحاكم” كتاب الهجرة …إلخ، ر: 4265، 3/6. ]قال الحاكم:[ “هذا حديثٌ صحيحُ الإسناد، ولم يخرجاه”.
([7]) “مسند الإمام أحمد” تتمة مسند الأنصار، حديث بريدة الأسلمي، ر: 22945، 38/32. و”سنن الترمذي” أبواب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب h، 3713، صـ845. ]قال أبو عيسى:[ “هذا حديثٌ حسنٌ غريب.
([8]) “سنن الترمذي” أبواب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب h، ر: 3720، صـ847. ]قال أبو عيسى:[ “هذا حديثٌ حسنٌ غريب”.
([9])”المعجم الکبیر” بقية أخبار الحسن بن علي k، ر: 2630، 3/44.
([11]) “صحيح مسلم” باب فضائل أهل بيت النّبي g، ر: 6261، صـ1067.
([12]) “تفسیر خزائن العرفان” 780۔
([14]) “سنن الترمذي” أبْواب الْمنَاقِب، ر: 3723، صـ847.
([15]) “المرقاة” كتاب المناقب والفضائل، تحت ر: 6096، 10/469.
([16]) “صحيح مسلم” كتاب الإيمان، ر: 240، صـ50.
([17]) “مسند الإمام أحمد” ر: 1376، 1/336، 337.
([18]) المرجع نفسه، ر: 26810، 10/228.
([19]) “المرقاة” تحت ر: 6101، 10/474.
([20]) “مسند الإمام أحمد” مسند أبي إسحاق …إلخ، ر: 1532، 1/375.
([22]) دیکھیے: “فتاوی رضویہ” کتاب الرد والمناظرۃ، رسالہ “مَطلع القمرَین” 21/103۔
([23]) “مسند الإمام أحمد” مسند أبي إسحاق …إلخ، ر: 1532، 1/375.
([24]) “شرح صحيح مسلم” للنَّوَوي، كتاب فضائل الصّحابة، باب من فضائل علي بن أبي طالب h، ر: 6217، 15/174.
([25]) “حدائق بخشش” حصہ اوّل، 38۔
([26]) “الاعتقاد” للبَيهقي، باب اجتماع المسلمين على بيعة أبي بكر الصديق h صـ357. و”تاريخ الإسلام” للذّهبي، باب أنّ النبيَّ g لم يستخلف ولم يوصِ إلى أحدٍ بعينه …إلخ، 1/584، 585. ]قال الذهبي:[ “إسنادُه حسنٌ”.
([27]) “فضائل الصحابة” للإمام أحمد، سُئل عن قول علي بن أبي طالب وغيره h، ر: 49، 1/83.
([28]) “كنز العمّال” كتاب الفضائل، فضل الشيخَين k، حرف الفاء، ر: 36103، 13/9.
([29]) “مصنَّف ابن أبي شَيبة” كتاب المَغازي، إسلام علي بن أبي طالب، ر: 36595، 7/338.
([30]) “العقائد النَسَفیّة” صـ172.
([31]) “فتح الباري” كتاب فضائل أصحاب النبي، باب قول النبي g: «لو كنتُ متخذاً خليلا» ر: 3673، 7/34.
([33])”سنن الترمذي” أبواب المناقب، باب في من سبّ أصحاب النّبي g، ر: 3862، صـ872. [قال أبو عيسى:] “هذا حديثٌ حسنٌ غريب”.
([34]) “مسند الإمام أحمد” مسند أبي سعيد الخدري، ر: 11608، 18/152. و”صحيح البخاري” كتاب أصحاب النّبي g، باب، ر: 3673، صـ617. و”صحيح مسلم” كتاب فضائل الصحابة، باب تحريم سبّ الصحابة j، ر: 6487، صـ1113.
([35]) “مُد”: پُرانے زمانےکا ایک پیمانہ۔ موجودہ زمانے کے رائج پیمانوں کے مطابق، ایک محتاط اندازے کے حساب سے، اس کا وزن تقریباً 839.808 گرام کے برابر ہے۔ [حضرت علّامہ مفتی محمد صالح صاحب، شیخ الحدیث مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف]
([36]) “مصنَّف ابن أبي شَيبة” كتاب الفضائل، ما ذكر في الكف عن أصحاب النبي g، ر: 32415، 6/405. و”فضائل الصّحابة” للإمام أحمد، ر: 15، 1/57. و”سنن ابن ماجه” افتتاح الكتاب في الإيمان وفضائل الصحابة والعلم، فضل أهل بدر، ر: 162، 1/57. هذا إسنادٌ صحيح، رجالُه ثِقات.
([37]) “السُنّة” باب في ذكر الرافضة أذلّهم الله، ر: 1000، الجزء 2، صـ483. و”مُستدرَك الحاكم” كتاب معرفة الصحابة، ذكر عويم بن ساعدة، ر: 6656، 3/732. ]قال الحاكم:[ “هذا حديثٌ صحيحُ الإسناد ولم يخرجاه”. ]وقال الذهبي:[ “صحيح”.
([38]) “حدائق بخشش” حصہ اوّل، 227۔
([39]) “صحيح مسلم” كتاب الزكاة، باب ذكر الخوارج وصفاتهم، ر: 2459، صـ432.
([40]) “شرح صحيح مسلم” كتاب الزكاة، باب ذكر الخوارج وصفاتهم، ر: 2459، 7/168.
([41]) “الإبانة عن أصول الدِّيانة” مقدّمة المصنّف، فصل في إبانة …إلخ، صـ10.
([42]) “صحيح البخاري” كتاب الشهادات، باب لا يشهد على شهادة جور إذا أشهد، ر: 2652، صـ 429. و”صحيح مسلم” كتاب فضائل الصحابة، باب فضل الصحابة ثمّ الذين يلونهم، ثمّ الذين يلونهم، ر: 6469، صـ1110.
([43]) “نسيم الرياض” القسم 2، الباب 3، تحت قوله: في أصحابي كلّهم خير، 4/519.
([44]) “اليواقيت والجواهر” المبحث 44 في بيان وجوب الكفّ …إلخ، 2/444.
([45]) “الصواعق المحرقة” الخاتمة في بيان اعتقاد أهل السُنّة …إلخ، 2/603.
([46])”النبراس شرح شرح العقائد النَسَفيّة” توجيه محاربات الصحابة، صـ307.