
Table of contents
- ہیومن رائٹس کا تاریخی پس منظر
- ہیومن اِزم کسے کہتے ہیں؟
- ہیومن اِزم کا بنیادی عقیدہ
- لفظ ” ہیومن ” کی تاریخ اور استعمال
- مغربی اصطلاح میں لفظ ” ہیومن ” کا معنی ومفہوم
- ہیومن رائٹس کی اَقسام
- انسان کی آزادی کا مفہوم اور ہیومن رائٹس کا بنیادی مقصد
- حقوق العباد اور ہیومن رائٹس میں چند بنیادی فرق
- دینِ اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت
- حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی برتنے کے نقصانات
- کیا حقوق العباد اور ہیومن رائٹس ہم پلّہ ہیں؟
- عالَمی منشور برائے ہیومن رائٹس میں پائی جانے والی چند خامیاں
- مرد وعورت کے مابین نعرۂ مُساوات کی حقیقت
- مغربی ممالک کا خاندانی نظام تباہی کے دہانے پر
- مزدوروں کی حق تلفی اور لیبر ڈے
- آزادئ فکر، آزادئ ضمیر اور آزادئ مذہب سے متعلق مغربی طرزِ عمل
- آزادئ اظہارِ رائے کی آڑ میں توہینِ مذہب کا مذموم سلسلہ
- خلاصۂ کلام
- دعا
آج کل ایک لفظ “ہیومن رائٹس” (Human Rights) بہت زیادہ استعمال کیا جارہا ہے، زیادہ تر مسلمان اس کا ترجمہ “انسانی حقوق” بلکہ “حقوق العباد” کر دیتے ہیں، یہ ایک بہت بڑی غلطی اور کنفیوژن (Confusion) ہے، اس کنفیوژن (Confusion) کی وجہ سے مسلم مُعاشرے کو شدید ایمانی اور تہذیبی خطرات درپیش ہیں، لہذا بحیثیت مسلمان ہمارے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ کیا واقعی “ہیومن رائٹس” (Human Rights) اور “حقوق العباد” سے ایک ہی چیز مراد ہے، یا دونوں میں باہم فرق ہے؟!
ہیومن رائٹس کا تاریخی پس منظر
ہیومن رائٹس (Human Rights) ایک مغربی اصطلاح (Western Term) ہے، جو اپنا ایک خاص عقیدہ، تاریخ، اَقدار (Values) اور مُطالبات رکھتی ہے، اس کے تاریخی پَس منظر پر نگاہ ڈالنے سے پتہ چلتا ہے، کہ یورپ (Europe) میں عیسائی پاپائیت (Christian Papacy) نے اپنی بالادستی اور مَفادات کی غرض سے باقاعدہ ایک نظام بنایا ہوا تھا، پاپائیت (Papacy) نے بادشاہت اور جاگیردارانہ نظام (Feudal System) کو اپنے مَفادات کے لیے استعمال کیا۔
مزید یہ کہ مغرب (West) نے صدیوں تک اس صورتحال میں وقت گزارا کہ عام آبادی، بادشاہت اور جاگیردارانہ نظام کے مَظالم کی چکی میں پستی رہی، معصوم سمجھے جانے والے پوپ (Pope)، بشپ (Bishop) اور دیگر مذہبی قائدین کے قول و فعل کے تضادات، اور سیاسی اور مالی کرپشن (Political And Financial Corruption) نے لوگوں میں ایک نفرت اور بغاوت کو جنم دیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پندرہویں صدی میں لوگوں نے مذہب (عیسائیت) سے بغاوَت کردی، اور فلسفے کو مذہب کے متبادِل کے طَور دیکھنے لگے، لہذا ایسی صورتحال میں ایسے فلسفیوں کو خوب پذیرائی ملی جو مذہب کے غلبے کو ختم کرنا چاہتے تھے، اور مذہب کو ذاتی زندگی تک محدود کرکے مُعاشرے اور اجتماعی زندگی کے تمام شُعبوں، سیاست، معیشت (Economy) اور تعلیم وغیرہ سے باہر نکالنے کا مُطالبہ کر رہے تھے۔ ہیومن رائٹس (Human Rights) کا تعلق بھی اسی قسم کے ایک فلسفہ “ہیومن اِزم” (Humanism) سے ہے([1])۔

یہ بھی ضرور پڑھی: حقوق العبادں
ہیومن اِزم کسے کہتے ہیں؟
مذہب میں کائنات کا مرکز، اللہ تعالی کی ذات کو تسلیم کیا جاتا ہے، اور ہر چیز کو خالقِ کائنات کے اَحکام کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے، لیکن ہیومن اِزم (Humanism) نے کائنات کا مرکز، محوَر اور میزان “انسان” کو قرار دے دیا، اور خدا کا مقام ومرتبہ بھی انسان کو دے دیا، لہذا آسان اور مختصر لفظوں میں آپ یوںسمجھ سکتے ہیں، کہ انسان کو کائنات کا محوَر ومرکز قرار دینا، یا انسان وانسانیت پر ایمان لانا ہیومن اِزم (Humanism) ہے۔
“انسائیکلو پیڈیا آف فلاسفی” (Encyclopedia of Philosophy) کے مطابق “ہیومن اِزم (Humanism) وہ فلسفہ اور ادبی تحریک ہے، جو چودہویں صدی کے نصف میں اٹلی (Italy) سے شروع ہوئی، اور وہاں سے یورپ (Europe) کے دیگر ممالک میں پھیل گئی “([2])۔
علاوہ ازیں ہیومن اِزم (Humanism)ہر اُس فلسفہ کو بھی کہتے ہیں “جو انسانی قدر یا عزت کو تسلیم کرے، اور اسے تمام چیزوں کا میزان قرار دے، یا جو صرف انسانی طبیعت کو اپنی فکر کی حد یا دائرۂ کار کی حیثیت سے لے”([3])۔
ہیومن اِزم کا بنیادی عقیدہ
ہیومن اِزم (Humanism) کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ “انسان کے سِوا کوئی معبود نہیں” اور اس کا معنی ومفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی ذات اور اس کائنات کا خالق ہے، نیز خیر وشَر کا تعیّن ارادۂ انسانی کے اظہار کے علاوہ کچھ نہیں، لیکن انسان اُصولاً آزاد ہونے کے باوُجود عملاً آزاد نہیں ہے؛ کیونکہ اس کی آزادی کو مادّی ومُعاشرتی قوتیں محدود کرتی ہیں، لہذا انسان (معاذاللہ) اپنی اُلُوہیت (خُدائی) منوانے، اور آزادی حاصل کرنے کے لیے مستقل جدوجہد کرنے پر مجبور ہے([4])۔
حالانکہ ہیومن اِزم (Humanism) کے ماننے والوں کا یہ عقیدہ سراسر کفر پر مبنی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ يَّهْدِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ﴾([5]) “بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرا لیا (یعنی اپنی خواہش کا تابع ہوگیا، اور جسے نفس نے چاہا پوجنے لگا) اور اللہ نے اُسے باوصف علم (یعنی حق کی پہچان کے باوجود) گمراہ کیا، اور اُس کے کان اور دل پر مُہر لگا دی، اور اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا، تو اللہ کے بعد اُسے کون راہ دکھائے؟! تو کیا تم دھیان (غور وفکر) نہیں کرتے؟!”۔

یہ بھی ضرور پڑھی: مزدوروں کے حقوق
لفظ “ہیومن“ کی تاریخ اور استعمال
انگریزی میں انسانیت کو پہلے “مین کائینڈ” (Mankind) کہا جاتا تھا، انسان کے لیے “ہیومن بینگ” (Human Being) کا لفظ پہلی بار کب استعمال ہوا؟ یہ بات یقینی طَور پر بیان کرنا مشکل ہے، البتہ یہ بات واضح ہے کہ انگریزی میں لفظ “ہیومن” (Human) کا استعمال سترہویں صدی سے ہو رہا ہے([6])۔
مغربی اصطلاح میں لفظ “ہیومن“ کا معنی ومفہوم
ہیومن رائٹس(Human Rights)کا ترجمہ “انسانی حقوق” درست نہیں؛کیونکہ لفظ “ہیومن” (Human) مغربی فلسفہ وفکر میں ایک خاص مقام رکھتا ہے، لہذا ظاہر ہے کہ اس کا ترجمہ “انسان” کرکے اسے نہیں سمجھا جا سکتا۔ مغربی مفکرین نے اوّلاً مذہب کو زندگی کے ہر شعبے اور سطح سے خارج کیا، اس کے بعدانسان کو ہر چیز اور عمل کا میزان ٹھہرایا، نیز انسان کو اللہ کا بندہ ہونے کے بجائے ایک ایسے آزاد فرد کے طَور پر متعارف کرایا، جو خیر وشَر کے تعیّن اور تحدید (حدبندی) میں بذاتِ خود، نہ صرف ایک پیمانہ اور اتھارٹی (Authority) ہے، بلکہ مغربی مفکروں اور فلسفیوں کے نزدیک ہر شک وشبہ سے بالاتر ہے([7])۔
ہیومن رائٹس کی اَقسام
سرمایہ داری نظام (Capitalism) کے تحت چلنے والی ریاست، اُصولی آزادی کے فروغ کے لیے جو ذرائع فراہم کرتی ہے، انہیں ہیومن رائٹس (Human Rights) کہتے ہیں۔ یہ رائٹس (Rights) تمام شہریوں کو یکساں فراہم کیے جاتے ہیں، اور اس کی تین3 بنیادی قسمیں ہیں:
(١) آزادئ حیات
آزادئ حیات (Freedom of Life) سے مراد یہ ہے کہ ہر شہری کا یہ حق اور فرض (مجبور) ہے، کہ اپنی زندگی آزادی اور سرمایہ میں اِضافہ کرنے میں صرف کر ے، جو شخص اپنی زندگی کو سرمایہ کی بڑھوتری (اِضافہ) کے عمل میں نہیں گزارتا، ہیومن اِزم (Humanism) پر یقین رکھنے والوں کے نزدیک، وہ انسان (Human) نہیں؛ کیونکہ وہ ہیومن اِزم کے نظریہ “اُلُوہیتِ انسانی” (انسان کی خُدائی) پر ایمان نہیں لایا۔
اسی بنیاد پر امریکیوں نے دو2 کروڑ ریڈ انڈینز (Red Indians) کو سولہویں سے اُنیسویں صدی (تین سو300 سال) تک قتل کیا، اور اس قتلِ عام کا جواز یہ پیش کیا، کہ ریڈ انڈینز (Red Indians) اور بھینسوں کا قتلِ عام جائز ہے؛ کیونکہ نہ بھینسیں ہیومن (Human) ہیں اور نہ ریڈ انڈینز (Red Indians)؛ کیونکہ دونوں نے امریکہ (United States) کی زرخیز زمینوں پر قبضہ کرکےسرمایہ میں اِضافے (Capital growth) کے عمل کو نا ممکن بنا دیا ہے۔ اسی طرح مشہور امریکی فلسفی والزر (Walzer) نے افغان مجاہدین کے قتلِ عام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ “مجاہدینِ اسلام ہیومن (Human) نہیں بلکہ وحشی درندے ہیں، اور ترقی کے عمل میں رکاوَٹ ہیں”([8])۔
(٢) آزادئ اظہارِ رائے
دوسرا ہیومن رائٹ آزادئ اظہارِ رائے (Freedom of Expression) ہے، لہذا ہر شہری کا یہ حق اور فرض ہے کہ سرمایہ کی بڑھوتری (اِضافہ) کو فروغ دینے کے لیے جو تجویز دینا چاہے دے، اور اگر وہ آزادی کو خیرِ مطلق تسلیم نہیں کرتا، اور اپنی رائے کا اِظہار کسی اَور مقصد کے لیے کرتا ہے تو اُسے یہ حق میسّر نہیں؛ کیونکہ وہ ہیومن (Human) نہیں، اور اسی بنیاد پر یہ کہا گیا کہ “مسلمانوں کو آزادانہ اظہارِ رائے کا حق نہیں دینا چاہیے؛ کیونکہ وہ عیسائیوں کی طرح حضرت سیِّدنا عیسیٰ D کو اللہ کا بیٹا نہیں مانتے، لہذا “اُلوہیتِ انسانی” (انسان کی خُدائی) کے منکِر ہیں([9])۔
(٣) آزادئ ملکیت
تیسرا ہیومن رائٹ آزادئ ملکیت (Right to Property) ہے، ہر شہری کا یہ حق اور فرض ہے کہ وہ اپنی اَملاک سرمایہ داری نظام (Capitalism System) کے سپرد کر دے، اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اُس پر رزق کے دروازے بند کر دیے جائیں گے، اور حُصولِ دَولت ناممکن بنا دیا جائے گا([10])۔
انسان کی آزادی کا مفہوم اور ہیومن رائٹس کا بنیادی مقصد
ہیومن رائٹس کا بنیادی مقصد خالقِ کائنات سے بغاوَت ہے، یہی وجہ ہے کہ مغربی فلسفیوں کا سارا زور آزادئ فکر اور آزادئ مذہب پر ہے، ان کے نزدیک انسان کی آزادی کا مفہوم یہ ہے، کہ وہ کسی اَن دیکھی ہستی (یعنی اللہ تعالی) کا عبد (بندہ) نہیں، اس کی عقل ہی اس کے لیے واحد اتھارٹی (Authority) ہے، لہذا انسانی عقل ہی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ خیر کیا ہے اور شَر کیا ہے! (معاذاللہ) کسی خارجی ذریعے یا خارج اَز عقل ہستی (یعنی اللہ تعالیٰ) کو خیر وشَر کے تعیین کا حق حاصل نہیں، اور اس معنی میں تمام انسان برابر ہیں کہ ہر فرد اپنی عقل کی بنیاد پر اپنی زندگی گزار سکتا ہے، اور جو مذہب چاہے اپنا سکتا ہے، آج مسلمان ہے تو کَل عیسائی ہو سکتا ہے، اور اگر مذہب خواہشاتِ نفس کی تکمیل میں رکاوَٹ ہو، تو ہر مذہب سے لاتعلق بھی ہو سکتا ہے([11])۔ یعنی اپنے نفس اور شیطان کا پجاری بن جائے!۔
حقوق العباد اور ہیومن رائٹس میں چند بنیادی فرق
حقوق العباد اور ہیومن رائٹس (Human Rights) میں متعدد بنیادی فرق ہیں، جن میں سے چند حسبِ ذیل ہیں:
(١) ہیومن اِزم (Humanism) کسی کو خالق کو نہیں مانتا، نہ انسان کو اللہ تعالی کی مخلوق تسلیم کرتا ہے۔ جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالی اس کائنات کا واحد خالق ومالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور تمام انسان اللہ کے بندے اور مخلوق ہیں۔
(٢) ہیومن رائٹس (Human Rights) کے مطابق انسان آزاد ہے، وہ کسی خدا کا محتاج اور پابند نہیں۔ جبکہ اسلامی تعلیمات اور حقوق العباد کے مطابق انسان اللہ کا بندہ، محتاج اور پابند ہے۔
(٣) ہیومن رائٹس (Human Rights) کے مطابق انسان کو یہ حقوق خودبخود حاصل ہیں، اُسے کسی نے نہیں دیے، اور نہ انہیں اس سے کوئی چھین سکتا ہے۔ جبکہ دینِ اسلام میں فرائض اور ذمّہ داری کی بڑی اہمیت ہے، اور ہر ذمّہ داری کسی دوسرے کا حق ہے، لہذا حقوق العباد اَحکام ِ شریعت کا اہم حصّہ ہیں، اور ان کی ادائیگی ہر مسلمان پر فرض ولازم ہے۔
(٤) ہیومن رائٹس (Human Rights) کی اصطلاح سب سے پہلے 1629ء میں استعمال کی گئی۔ جبکہ دینِ اسلام تقریباً ساڑھے چودہ سو سال پہلے،حقوق العباد کو بڑی تفصیل اور گہرائی سے بیان کر چکا۔
(٥) ہیومن رائٹس (Human Rights) لادِین نظام کو مُعاشرے پر نافذ کرتا ہے۔ جبکہ حقوق العباد اسلامی تعلیمات کو مُعاشرے پر نافذ کرتے ہیں۔
(٦) ہیومن رائٹس (Human Rights) سے متعلق مغربی ممالک (Western Countries) کا پیش کردہ تصوُر اور قوانین انتہائی ناقص، فرسُودہ، غیرمَربوط، خودساختہ اور خواہشاتِ نفس کی ترجمانی پر مبنی ہیں۔ جبکہ دينِِ اسلام میں بیان کیے گئے حقوق العباد، تمام تر شعبہ ہائے زندگی کا اِحاطہ کرتے ہیں، نیز اُن کا منبع ومصدر (Source) قرآن وسنّت اور ارادۂ خداوندی ہے([12])۔
حقوق العباد اور ہیومن رائٹس (Human Rights) میں پائے جانے والے اس بنیادی فرق کو سمجھنے کے لیے بطَور مثال کچھ دیر کے لیے فرض کیجیے، کہ اگر ایک دُستوری جُمہوری ریاست (Constitutional Democratic State) کے دو2 مرد آپس میں میاں بیوی بن کر رہنا چاہیں، تو کیا انہیں ایسا کرنے کا “حق” ہے یا نہیں؟ اگر اس سوال کا جواب کسی مسلمان عالمِ دین سے پوچھا جائے تو اُس کا جواب یہ ہوگا کہ “قرآن وسنّت میں اس کی ممانعت ہے، لہٰذا کسی بھی فرد کو ایسا کرنے کا “حق” حاصل نہیں ہے”۔
جبکہ اس کے بَرعکس وہ شخص جو ہیومن اِزم (Humanism) پر یقین رکھتا ہے، اور ہیومن رائٹس (Human Rights) کو اعلیٰ ترین قانون مانتا ہے، اس کا جواب اور مَوقِف یہ ہوگا کہ “ہر شخص کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی خوشی کا سامان اپنی مرضی کے مطابق جیسے چاہے مہیا کرلے، لہٰذا اگر دو2 مرد آپس میں شادی کرکے اپنی خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں ایسا کرنے کا پورا حق حاصل ہے”۔
یہی وہ دلیل ہے جس کی بنیاد پر مغربی دنیا (Western world) میں ہم جنس پرستی (Homosexuality)، باہم رضا مندی سے زِنا اور لڑکوں کے ساتھ بدفعلی وغیرہ کو قانونی جواز فراہم کیا گیا ہے، جبکہ قانونِ فطرت اور اَحکامِ خداوندی کو یکسر فراموش ونظر انداز کر دیا گیا ہے([13])۔
اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ (United Nations) سب سے زیادہ متحرک ہے، اُس نے اپنی ایل جی بی ٹی (LGBT) کی ویب سائٹ (website) پر ہم جنس پرستی (Homosexuality)، اور ٹرانس جینڈرز (Transgenders)کو قانونی تحفظ فراہم کرنے، اور ہوَس کے مارے نفسیاتی بیماروں کو دنیا بھر میں جنسی آزادی (بدکاری کی اجازت) دینے کے لیے، ہیومن رائٹس (Human Rights) کے پہلے سیکشن (Section) کو استعمال کیا ہے، اور بذاتِ خود اس شِق کی تشریح کی ہے جو انتہائی مذموم اَمر اور جانبدارانہ عمل ہے۔
لہذا بحیثیت مسلمان ہم ایسے ہیومن رائٹس (Human Rights) کو کسی طَور پر تسلیم نہیں کرتے، جو ہماری شریعت اور مذہبی تعلیمات سے متصادِم ہوں، نیز اَقوامِ متحدہ کے اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں، اور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی ویب سائٹ (website) سے فوری طَور پر ہیومن رائٹس کی اس شِق کو ہٹائے!!۔
دینِ اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت
دینِ اسلام میں حقوق العباد (بندوں کے حقوق) کو بڑی اہمیت حاصل ہے، آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال قبل، جس وقت یورپ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، اور ہیومن رائٹس (Human Rights) کی نام نہاد این جی اوز (NGOs) یا اقوامِ متحدہ (United Nations) نامی کسی بینَ الاَقوامی ادارے کا کوئی وُجود بھی نہیں تھا، دينِ اسلام اُس وقت بھی دنیا کو انسانیت کا درس دے رہا تھا، اور ماں باپ، زَوجہ، اولاد، بہن بھائیوں، رشتہ داروں، ہمسایوں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، حاجت مندوں، قَیدیوں اور ذِمّیوں (غیرمسلم رِعایا) وغیرہ سمیت مُعاشرے میں بسنے والے ہر ہر فرد کےحقوق بیان کرتا آرہا تھا!۔
آج مغربی ممالک (Western Countries) ہیومن رائٹس (Human Rights) کا راگ اَلاپتے نہیں تھکتے، اگر تاریخی حقائق پر نظر دَوڑائی جائے تو آپ کو یہ جان کر شدید حیرت ہوگی، کہ 1629 عیسوی سے قبل، ہیومن رائٹس (Western Countries) کے تحفُظ کے نام، پر اُن کے ہاں کوئی قانون سِرے سے تھا ہی نہیں! جبکہ اُس وقت مُعاشرتی، مذہبی اور سیاسی حقوق بیان کرتے، اور عملی طَور پر ان کا نفاذ کرتے ہوئے، دينِ اسلام کو صدیاں بیت چکی تھیں!!۔
حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی برتنے کے نقصانات
“کسی بھی صالح مُعاشرے کی بقا، اور اَخلاقی اَقدار کے ساتھ اسے قائم دائم رکھنے کے لیے، حقوق العباد (بندوں کے حقوق) کا تحفُظ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے؛ کیونکہ اگر مُعاشرے میں بسنے والے افراد کے حقوق کا، اسلامی تعلیمات کے مطابق خیال نہ رکھا جائے، تو سارا مُعاشرہ ظلم، تشدُد، جرائم، لاقانونیت اور بےراہ رَوی کا شکار ہو جاتا ہے، اور نتیجۃً قتل وغارتگری، ڈاکہ زَنی،سُودخوری، جُوابازی، چوری چکاری، بداَخلاقی اور ناانصافی جیسے جرائم کی شرح انتہاء درجے تک بڑھ جاتی ہے، گرد وپیش کا ماحول خراب ہو جاتا ہے، لڑائی جھگڑوں کے واقعات عام ہو جاتے ہیں، اور مُعاشرے کا امن وسکون تباہ وبرباد ہو کر رہ جاتا ہے، لہذا ہر شخص پر لازم ہے کہ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے، ان کی مکمل پاسداری کرے، اور ان کی ادائیگی میں کوتاہی ہرگز نہ برتے!”([14])۔
کیا حقوق العباد اور ہیومن رائٹس ہم پلّہ ہیں؟
ہیومن رائٹس (Human Rights) کا موجودہ تصوُر، مغربی ممالک (Western Countries) کی سیکولر طاقتوں (Secular Powers) کے لیے ایک نظریے کا درجہ رکھتا ہے، مگر وہ لوگ انتہائی چالاکی کا مُظاہرہ کرتے ہوئے اسے اپنا غیرجانبدارانہ طرزِ عمل (Neutral Position) قرار دیتے ہیں۔ ہیومن رائٹس سے متعلق اس نظریے کی تمام تر تفصیلات، اور کسی بھی فرد کے لیے خیر وشَر کا معیار انسانوں کا اپنا بنایا ہوا ہے، اور اس سلسلے میں ان کے بعض قوانین یا ہیومن رائٹس، اگر مذہبی تعلیمات سے متصادِم ہوں، تو یہ اس کی بھی مطلقاً پرواہ نہیں کرتے؛ کیونکہ ان کے نزدیک مذہب کی حیثیت ثانوی (دوسرے درجہ کی) ہے، جبکہ ہیومن اِزم (Humanism) کو مذہب سمیت ہر چیز پر فَوقیت دیتے ہیں۔
لہذا مسلم مفکرین میں سے جو لوگ ہیومن رائٹس (Human Rights) اور “حقوق العباد” کو ہم معنی سمجھتے ہیں، وہ سخت غلطی پر ہیں، اور اس غلطی کی فوری اصلاح انتہائی ضروری اور وقت کا بڑا تقاضا ہے! نیز آپ خود ہی غَور کر سکتے ہیں کہ کہاں انسانی خواہشات پر مبنی، اور اس کی ترجمانی کرتے مَن گھڑت ہیومن رائٹس (Human Rights)، اور کہاں خالقِ کائنات اور اس کے رسول ﷺ کے بیان کردہ حقوق العباد!! لہذا حقوق العباد اور ہیومن رائٹس کو ہم پلّہ سمجھنا کسی طَور پر دُرست نہیں!!۔
عالَمی منشور برائے ہیومن رائٹس میں پائی جانے والی چند خامیاں
اقوامِ متحدہ کے عالَمی منشور برائے ہیومن رائٹس میں متعدد خلافِ شریعت اور غیر اَخلاقی شِقیں پائی جاتی ہیں، جن کے باعث مُعاشرے کی ایک اچھی خاصی تعداد متاثِر ہو رہی ہے، اُن کی حق تلفی ہو رہی ہے، ا س سلسلے میں چند مثالیں حسبِ ذیل ہیں:
مرد وعورت کے مابین نعرۂ مُساوات کی حقیقت
اَقوامِ متحدہ کا عالَمی منشور برائے ہیومن رائٹس، مجموعی طَور پر تیس30 دفعات (Sections) پر مشتمل ہے، جس کے سیکشن سولہ (Section 16) میں مرد وعورت کے لیے اِزدواجی زندگی کے مُساوی حقوق کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ “بالغ مَردوں اور عورتوں کو بغیر کسی ایسی پابندی کے، جو نسل، قَومیت یا مذہب کی بناء پر لگائی جائے، شادی بیاہ کرنے اور گھر بسانے کا حق ہے، مَردوں اور عورتوں کو نکاح، اِزدواجی زندگی اور نکاح کو فسخ کرنے کے مُعاملہ میں برابر کے حقوق حاصل ہیں”([15])۔
عالَمی منشور برائے ہیومن رائٹس کی مذکورہ بالا دفعہ (Section) قرآن وسنّت سے واضح طَور پر متصادِم، اور اِلحاد وگمراہی پر مشتمل ہے، اس سیکشن (Section) میں پوشیدہ اور خلافِ شریعت اَمر یہ ہے، کہ کسی بھی مرد یا عورت کو اپنے ہم جنس (یعنی مَرد کو مَرد، اور عورت کو عورت) سے نکاح کرنے کے لیے ہر طرح کی آزادی حاصل ہے، نیز نکاح کے لیے زَوجَین (میاں بیوی) کا ہم مذہب ہونا ضروری نہیں، اگر کوئی مسلمان، عیسائی، یہودی، سکھ، ہندو یا قادیانییت سے تعلق رکھنے والی عورت یا مرد سے شادی کرنا چاہے، تو خود ساختہ ہیومن رائٹس (Human Rights) کی رُو سے، اُسے اس بات کی مکمل آزادی اور قانونی تحفظ حاصل ہے!۔
مغربی ممالک کا خاندانی نظام تباہی کے دہانے پر
اَقوامِ متحدہ کے نام نہاد عالَمی منشور برائے ہیومن رائٹس (Human Rights) میں عورت کو مرد کے مُساوی حقوق دینے کی بات ضرور کی گئی ہے، لیکن اس کے باوُجود ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی خواتین (Western women) کس قدر مظلوم ہیں، مُساوی حقوق کا دِلرُبا جھانسہ دے کر، اُن پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں! ان سے دن رات کام اور محنت ومشقّت کرائی جارہی ہے! انہیں نہ کھانے پینے کا ہوش ہے، نہ پہننے اُوڑھنے کا! ان مظلوم یورپی خواتین کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ بےچاریاں سُکون سے بیٹھ کر، کچھ وقت اپنے بال بچوں کے ساتھ گزار سکیں! یا اپنے گھربار پر توجہ دے سکیں! جبکہ حقوقِ نِسواں (Women’s Rights) کی اس غیرفطری وغیرمُساویانہ تقسیم کا ایک بہت بڑا نقصان یہ بھی ہوا، کہ مغرب (West) کا خاندانی نظام (Family System) تباہ وبرباد ہو کر رہ گیا! اور اب مغرب (West) ہمارے خاندانی نظام کا بھی یہی حال کرنا چاہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج ہماری مسلمان خواتین کو بھی حقوقِ نِسواں (Women’s Rights) کا بدبودار چُورن بیچ کر، بےوقوف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے!!([16])۔
مزدوروں کی حق تلفی اور لیبر ڈے
عالَمی منشور برائے ہیومن رائٹس کا سیکشن تیئس (Section 23) مزدوروں کے حقوق سے متعلق ہے، اس سیکشن (Section) کی تیسری شِق (Third Clause) میں واضح طَور پر مذکور ہے کہ “ہر شخص جو کام کاج کرتا ہے، وہ مناسب ومعقول مُشاہرے (Salary) کا حق رکھتا ہے، جو خود اس کے اور اس کے اہل وعِیال کے لیے با عزّت زندگی کا ضامِن ہو ، اور جس میں اگر ضروری ہو تو مُعاشرتی تحفظ کے دوسرے ذریعوں سے اِضافہ بھی کیا جا سکے”([17])۔
پڑھنے سننے کی حد تک تو یہ شِق بڑی بھلی معلوم ہوتی ہے، لیکن پاکستان سمیت ہیومن رائٹس (Human Rights) کے دیگر علمبردار ممالک میں، عملی طَور پر صورتحال بڑی خستہ ہے، دنیا بھر میں مزدوروں، محنت کشوں اور مُلازموں کی کھلے عام حق تلفی کی جا رہی ہے، انہیں اپنے قابو میں رکھنے کے لیے ان کے ماہانہ مُشاہرے (Monthly Salary) اور روزانہ کی بنیاد پر ملنے والی اُجرت کنٹرول کی جا تی ہے، اور مُنافقت کی انتہاء یہ کہ “اقوامِ متحدہ کے تحت تمام ممالک ہر سال یکم مئی کو “لیبر ڈے” (Labor Day) کے طور پر مناتے ہیں، فائیو اسٹار (Five Star) ہوٹلوں میں، مزدور طبقہ کے حق میں بڑی بڑی کانفرنسز (Conferences) کا انعقاد کرتے ہیں، لیکن مزدوروں کو اُن کا حق دلانے کے لیے عملی طَور پر کچھ نہیں کرتے۔
طُرفہ تماشہ یہ کہ ان کانفرنسز میں کسی غریب مزدور کا داخلہ تک ممنوع ہوتا ہے، اور ستم بالائے ستم یہ کہ دنیا بھر میں نِت نئے انداز، اور مختلف طریقوں سے مزدوروں کی حق تلفی کی جا رہی ہے، ان سے دن رات کام لیا جاتا ہے، اُجرت کم دی جاتی ہے، وقتاً فوقتاً ان کے ساتھ مارپیٹ کی خبریں بھی سنائی دیتی ہیں، اس کے باوُجود ہیومن اِزم (Humanism) پر یقین رکھنے والوں نے اپنے منشور کے مطابق، مزدوروں کو اُن کا حق دلانے کےلیے، عملی طور پر نہ کچھ کیا نہ وہ اس قابل ہیں!۔
جبکہ اس کے برعکس دینِ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو مزدوروں کے
حقوق سے، نہ صرف آگاہ فرمایا بلکہ ان کے حقوق ادا کرنے کی بھی سختی سے تاکید فرمائی، نیز ان اَحکام کی نافرمانی کرنے والوں کے لیے سخت ترین سزائیں بھی مقرّر کیں!۔
حضرت سیِّدنا ابوہریرہ سے روایت ہے، تاجدارِ ختمِ نبوّت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «قَالَ اللهُ تَعَالَى: ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: (١) رَجُلٌ أَعْطٰى بِيْ ثُمَّ غَدَرَ، (٢) وَرَجُلٌ بَاعَ حُرّاً فَأَكَلَ ثَمَنَه، (٣) وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيْراً فَاسْتَوْفى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِه أَجْرَه»([18]) “اللہ تعالی نے ارشاد فرمايا کہ قیامت کے دن میں تین3 قسم كے لوگوں کا مخالف ہوں گا: (١) ایک وہ جس نے میرا نام لے كر كسى سے عہد کیا، پھر اسے توڑ دیا، (٢) دوسرا وہ جس نے كسى آزاد کو غلام بنا كر بیچا، اور اس کی قیمت کھا لی، (٣) اور تیسرا وہ جس نے کسی كو اپنے ہاں مزدورى پر رکھا، اس سے پورا کام لیا مگر اُجرت نہیں دی”([19])۔
آزادئ فکر، آزادئ ضمیر اور آزادئ مذہب سے متعلق مغربی طرزِ عمل
عالَمی منشور برائے ہیومن رائٹس (Human Rights) کا سیکشن اٹھارہ (Section 18) انسان کی شخصی،فکری اور مذہبی آزادی سے متعلق ہے، اس سیکشن (Section) میں مذکور ہے کہ “ہر انسان کو آزادئ فکر، آزادئ ضمیر اور آزادئ مذہب کا پورا حق حاصل ہے”([20])۔
اس سیکشن (Section) کا ظاہری مفہوم تو یہ ہے، کہ ہر انسان اپنی مرضی سے مذہب اختیار کرنے، عقائد ونظریات اپنانے، اور اُن کا اظہار کرنے میں آزاد ہے، وہ اپنے مذہب کے مطابق مندر، چرچ، گُردوارہ اور مسجدمیں سے جہاں جانا چاہے جا سکتا ہے، اسے کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی، لیکن مسلمانوں کے بارے میں مغربی ممالک کا طرزِ عمل اس سیکشن (Section) کے برعکس ہے، بعض ممالک میں مسلمانوں کو مکمل آزادانہ مذہبی ماحول میسر نہیں، دَورانِ عبادت ان پر حملے کیے جاتے ہیں، ان کی عبادت گاہوں اور مدارس کی توہین کی جاتی ہیں، انہیں دہشتگردی اور انتہاء پسندی کے اڈّے قرار دیا جاتا ہے۔
اسی طرح سیکولر طاقتیں (Secular Forces) مسلمانوں میں مذہبی انتشار پیدا کر رہی ہیں، اِلحاد وگمراہی پر مشتمل لٹریچر (Literature) عام کر رہی ہیں، انہیں اسلام سے بد ظن کرنے کے لیے اسلامی تعلیمات کو فرسودہ قرار دے رہی ہیں، سوشل میڈیا (Social Media) پر ان کے نبی ﷺ کے توہین آمیز خاکے بنواتی ہیں، اور مسلمانوں کی مقدّس ترین مذہبی کتاب “قرآنِ حکیم” کو حکومتی اجازت نامہ کے ساتھ، پولیس کی نگرانی میں نذرِ آتش کرواتی ہیں([21])، جو بحیثیت مسلمان ہمارے لیے کسی طَور پر قابلِ برداشت نہیں، اور نہ ہی نام نہاد مہذّب دنیا ہم سے اس بات کی توقُع رکھے، کہ ہماری نظروں کے سامنے ہماری مقدّس کتاب “قرآنِ حکیم” کی توہین کی جائے، اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں!! لہذا اقوامِ عالَم کو مسلمانوں کے دینی مقدّسات کی اہمیت اور حسّاسیت کا اِدراک کرنا ہوگا، اور اس سلسلے میں مؤثِر قانون سازی کرنا ہوگی!!۔
آزادئ اظہارِ رائے کی آڑ میں توہینِ مذہب کا مذموم سلسلہ
اقوامِ متحدہ کے عالَمی منشور برائے ہیومن رائٹس (Human Rights) کا سیکشن اُنیس (Section 19) آزادئ اظہار رائے سے متعلق ہے، اس سیکشن میں مذکور ہے کہ “ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے، اور اظہارِ رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے”([22])۔
آزادئ اظہارِ رائے کا یہ سیکشن (Section) واضح طَور پر اسلامی تعلیمات سے متصادِم ہے؛ کیونکہ دینِ اسلام میں خلافِ شریعت آزادئ اظہار کی مُمانعت ہے، اور یہ ممانعت صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے تمام انسانوں کے لیے ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ﴾([23]) “انسان منہ سے جو بھی بات نکالتا ہے، اس کے پاس ایک مُحافظ (فرشتہ لكھنے کو) تیار بیٹھا ہوتا ہے”۔
ایک اَور مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى﴾([24]) “کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ آزاد چھوڑ دیا جائے گا” یعنی اگر انسان کا خیال یہ ہے کہ مرنے کے بعد اُسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اس کے عقائد،نظریات اور اعمال کا حساب نہیں لیا جائے گا، اور اُسے سزا نہیں دی جائے گی، تو یہ اس کی خام خیالی ہے، روزِ حشر اُسے دوبارہ زندہ بھی کیا جائے گا، اچھے بُرے اقوال وافعال کا حساب بھی ہوگا، اور اُن پر جزا وسزا کا سلسلہ بھی ہوگا۔
جبکہ اس کے برعکس مغربی ممالک (Western Countries) سے تعلق رکھنے والے بعض انتہاء پسند عیسائی “آزادئ اظہارِ رائے” کی آڑ میں مسلسل، مسلمانوں کے دینی مقدّسات کی بےادبی اور توہین کی ناپاک جسارت کرتے ہیں، اور ستم بالائے ستم یہ کہ عالمِ اسلام کے شدید احتجاج کے باوُجود، یہ مذموم سلسلہ گذشتہ دو2 دہائیوں سے جاری ہے، اور اقوامِ عالَم خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں!!۔
اس سلسلے میں تازہ ترین واقعہ 28 جون 2023ء کو سویڈن (Sweden) کے دار الحکومت اسٹاک ہوم (Stockholm) میں پیش آیا، جب ایک شر پسند نے “عید الاضحیٰ” کے دن، شہر کی مرکزی مسجد کے باہر مقامی عدالت کی اجازت اور پولیس کی نگرانی میں قرآنِ پاک کو نذرِ آتش کیا، اور اس دلخراش واقعہ کو پیش آئے ابھی ایک ماہ بھی نہیں گزرا تھا، کہ 24 جولائی 2023ء کو ڈنمارک (Denmark) کے ایک اسلام مخالف گروپ نے دارالحکومت کوپن ہیگن (Copenhagen) میں عراقی سفارتخانے کے سامنے، قرآن پاک کا نسخہ نذر آتش کر کے ایک بار پھر بےحرمتی کی، اور عالمِ اسلام کے جذبات کو مَجروح کیا!([25])۔
” ظلم وزیادتی، نا انصافی، اِہانتِ مذہب، یا دینی مقدّسات کی توہین پر کسی بھی نَوعیت کا ردِعمل، انسانی فطرت کا تقاضا ہے، لہذا مشرق ومغرب میں بسنے والی اَقوامِ عالم، اگر یہ چاہتیں ہیں کہ دنیا امن وامان اور سكون کا گہوارہ بنی رہے، مُعاشرتی ہم آہنگی برقرار رہے، اور دنیا کا اطمنان وسکون غارت نہ ہو، تو اس عظيم مقصد كے لیے ہمیں مذہبی رَواداری کو فروغ دینا ہوگا! ایک دوسرے کے مذہبی جذبات اور دینی مقدّسات کا لحاظ رکھنا ہوگا! رسولِ کریم ﷺ سمیت تمام انبیائے کرام کی عزّت وناموس کی پاسداری کرنی ہوگی! اور آزادئ اظہار رائے جیسے خودساختہ ہیومن رائٹس (Self-Proclaimed Human Rights) کی آڑ میں، توہینِ مذہب اور توہینِ رسالت کا ارتکاب کرنے والے ہر شخص کو، چاہے اس کا تعلق مشرق سے ہو یا مغرب سے، یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی ہوگی کہ ایک مسلمان کے لیے مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی ذاتِ اقدس اور قرآنِ کریم کس قدر اہمیت کے حامل ہیں! ایک مسلمان کٹ مر تو سکتا ہے، لیکن قرآنِ حکیم اور اپنی جان سے پیارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی تو بڑی بات ہے، گستاخی کا ادنیٰ شائبہ تک برداشت نہیں کر سکتا!!([26])۔
خلاصۂ کلام
عالَمی منشور برائے ہیومن رائٹس مکمل طَور پر مغربی فکر وفلسفہ کی ترجمانی کرتے ہیں،مسلمانوں کے لیے ان میں کسی طَور پر خیر کا پہلو نظر نہیں آتا، یہ سراسر شر وفساد کا محوَر ومنبع ہیں؛ کیونکہ اس کی دفعات (Sections) ذاتِ باری تعالیٰ اور قرآنِ حکیم کے انکار پر مشتمل ہیں، اور انسان کو (معاذاللہ) خودساختہ خدا بنانے کا ذریعہ ہیں، لہذا انسانی حقوق کے نام پر مغربی مفکرین کے دامِ فریب میں مت آئیے، ہیومن رائٹس (Human Rights) کو اسلامی حقوق العباد کے مُساوی نہ سمجھیں، اور صرف اسلامی تعلیمات پر عمل کیجیے!۔
نیز ہمارے جو مسلم مفکرین دُور کی کَڑیاں ملاتے ہوئے، اسلامی حقوق العباد اور مغربی ہیومن رائٹس میں باہم مُطابقت دِکھانے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ حقوق العباد اور ہیومن رائٹس میں موجود بنیادی فرق کو سمجھیں، اور خواہشاتِ نفس کی ترجمانی کرتے، خودساختہ اور خلافِ شریعت نام نہاد ہیومن رائٹس کو، اللہ ورسول کے بیان کردہ حقوق العباد کے برابر قرار دینے کی سنگین غلطی نہ کریں!۔
دعا
اےاللہ! ہمیں فرائض وواجبات کا پابند بنا، حقوق العباد ادا کرنے کی توفیق عطا فرما، دوسروں کی حق تلفی سے بچا، حقوق العباد اور خودساختہ ہیومن رائٹس میں بنیادی فرق کو سمجھنے اور امتیاز کرنے کی توفیق عطا فرما، اپنے والدین، اہل وعِیال، بہن بھائیوں، رشتہ داروں، ہمسایوں، ملازموں اور دیگر لوگوں سے محبت وشفقت سے پیش آنے، اور بحکمِ شریعت اُن کے حقوق ادا کرنے کا جذبہ وسوچ عطا فرما!۔
اے اللہ! اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے وسیلۂ جلیلہ سے ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت سے محبت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سُستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی اور چھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!۔
اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی اور کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان، مال، عزّت، آبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “فریڈم ایکویلٹی اینڈ ہیومن رائٹس” ہیومن اِزم کیا ہے؟ 67۔
([4]) ایضاً، ایکویلٹی، 62، ملخصاً۔
([6]) “ہیومن کون ہے؟ ہیومن اِزم کی بنیادیں کیا ہیں؟” آن لائن آرٹیکل، ملخصاً۔
([7]) “فریڈم ایکویلٹی اینڈ ہیومن رائٹس” انسانی حقوق کا تاریخی پس منظر، 67، ملخصاً۔
([8]) ایضاً، ہیومن رائٹس، 63۔
([9])ایضاً، آزادئ اظہارِ رائے، 63۔
([10]) ایضاً، آزادئ ملکیت، 63۔
([11]) ایضاً، انسانی حقوق کا مقصد خدا سے بغاوت ہے، 72، ملخصاً۔
([12]) “بنیادی حقوق کا منشور بطَور سِول ریلجن” 124- 126، ملخصاً۔
([13]) “اسلام اور ہیومن رائٹس” آن لائن آرٹیکل 26 فروری 2015ء، ملخصاً۔
([14]) “تحسینِ خطابت 2021ء” دسمبر، عالمی منشور برائے انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات، 2/341۔
([15]) “انسانی حقوق كا عالمی منشور (اردو ترجمہ)” دفعہ 16، 7۔
([16]) “تحسینِ خطابت 2021ء” دسمبر، عالمی منشور برائے انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات، 2/347۔
([17]) ” انسانی حقوق كا عالمی منشور (اردو ترجمہ)” دفعہ 23، 9۔
([18]) “صحيح البخاري” باب إثم من منع أجر الأجير، ر: 2270، صـ361، 362.
([19]) “تحسینِ خطابت 2021ء” دسمبر، عالمی منشور برائے انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات، 2/349، 350۔
([20]) ” انسانی حقوق كا عالمی منشور (اردو ترجمہ)” دفعہ 18، 7، 8۔
([21]) “روز نامہ ایکسپریس” قرآنِ پاک کی بےحرمتی کے واقعات، ڈیجیٹل ایڈیشن 6 اگست 2023ء۔ و”دنیا نیوز” ڈنمارک: عراقی سفارت خانے کے باہر قرآن کی بےحرمتی کا ایک اَور واقعہ، ڈیجیٹل ایڈیشن 25 جولائی 2023ء۔
([22]) ” انسانی حقوق كا عالمی منشور (اردو ترجمہ)” دفعہ 19، 8۔