اسلامی تاریخ میں خواتین کا کردار

Home – Single Post

اسلامی تاریخ میں خواتین کا کردار

برادرانِ اسلام! بحیثیتِ ماں، بہن، بیوی اور بیٹی، عورت  کا دینِ اسلام میں کردار بہت مثالی ہے، ہر رُوپ میں اُس کی زندگی پیار، محبت، شفقت، مہربانی اور اپنے پیاروں کے لیے قربانیوں سے عبارت ہے، اللہ رب العالمین نے اسے پہاڑوں سے بھی بلند صبر وہمت اور حَوصلہ وثابت قدمی سے نوازا ہے، اچھے حالات میں وہ اگر صنفِ نازُک ہے، تو بُرے وقت میں صنفِ آہن  سے کم بھی  نہیں، وہ بوقتِ ضرورت زمانے کی سرد وگرم ہواؤں اور حالات کا ڈَٹ کر دلیری سے مقابلہ کرتی ہے، اپنے باپ، بھائی، شَوہر اور بیٹے کا ساتھ دیتی ہے، ان کا دُکھ دَرد بانٹتی ہے، ان کی ہمت وحَوصلہ اَفزائی  کرتی ہے، اور امن ہو یا جنگ، ہر میدان میں ان کے ہمقَدم رہتی ہے۔

ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے رُوپ میں، کائنات کا یہ تمام تر حُسن ورَعنائی اور نسلِ انسانی کا وُجود، عورت کے دم قدم سے ہے، ماں اگر جنّت کا سر چشمہ ہے، تو بہن محبت واِیثار کا پیکر ہے، بیوی اگر راحت وسکون کا ذریعہ ہے، تو بیٹی اللہ  کی رَحمت ہے، لہٰذا خالقِ کائنات کے اس احسانِ عظیم، نعمت اور رحمت کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے!۔

عزیزانِ محترم! اسلامی تاریخ میں مسلم خواتین کے کردار وخدمات پر نگاہ دَوڑائی جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ عالَمِ اسلام کو جب بھی یہود ونصاریٰ کی طرف سے  کسی مہم جُوئی  کا سامنا کرنا پڑا، تو ضرورت پڑنے پر   مسلم خواتین نے بھی عملی طَور پر جہاد میں حصہ لیا، اور اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے، جو آج اسلامی تاریخ میں سنہری حُروف سے لکھے ہوئے ہیں۔

عزیزانِ مَن! حضرت سیِّدہ اُمِّ عَمارہ رضی اللہ عنہا ایک مشہور صحابیہ خاتون ہیں، آپ نے غزوۂ اُحُد، بیعتِ رضوان، غزوۂ خَیبر، اور غزوۂ فتحِ  مکّہ  میں  شرکت فرمائی، غزوۂ اُحُد میں اپنے شَوہر اور بیٹوں کے ہمراہ شرکت فرمائی، جب تک مسلمانوں کا پلّہ بھاری رہا اور وہ فتح یاب رہے، آپ مشکیزہ میں پانی بھر بھر کر مجاہدینِ اسلام کو پلاتی رہیں، لیکن جب مسلمان مغلوب ہوتے دکھائی دیے، تو آپ رضی اللہ عنہا نے تلوار سَونت لی، اور جرأت وبہادری کا مُظاہرہ کرتے ہوئے، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کے پاس پہنچ کر سینہ سِپر ہو گئیں، کفّار ومشرکین کے ساتھ خوب قِتال کیا، اور شدید زخمی ہونے کے باوُجود، رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا۔

اسی طرح نبوّت کے جھوٹے دعویدار مُسَیْلمہ کذّاب  کے خلاف لڑی جانے والی عظیم “جنگِ یمامہ” میں بھی آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے کے ساتھ شرکت کی، اور نہایت جرأت وبہادری سے لڑیں، ان غزوات اور جنگوں میں حضرت سیِّدہ اُمِّ عَمارہ رضی اللہ عنہا کے درجن بھر زخم آئے، اور ایک ہاتھ بھی شہید ہو ا، اس کے باوُجود آپ کے عزم، استقلال اور جانبازی میں کمی واقع نہیں ہوئی([1])۔

حضراتِ گرامی قدر! غزوۂ خندق میں نبئ کریم ﷺ کی پھوپھی حضرت سیِّدہ صفیّہ رضی اللہ عنہا، اُمّہات المؤمنین اور دیگر خواتین کے ساتھ،  ایک قلعے میں موجود تھیں، لیکن اُن کی حفاظت کے لیے وہاں کوئی دستہ تعینات نہیں تھا، چند یہودیوں نے اس قلعے میں داخل ہونے کی کوشش کی، جب ایک یہودی نے قلعہ کی دیوار پر چڑھ کر اندر جھانکنے کی کوشش کی، تو حضرت سیِّدہ صفیّہ رضی اللہ عنہا نے نہایت جرأت وبہادری کا مُظاہره  کیا، اور اس یہودی کا سر قلم کر کے قلعے سے باہر پھینک دیا، اپنے ساتھی کا یہ حشر دیکھ کر یہودی خوفزدہ ہو کر وہاں سے بھاگ اٹھے، اور یہ سمجھے کہ  رسولِ اکرم ﷺ نے عورتوں کی حفاظت کے لیے  قلعے کے اندر بھی مجاہدین   کو  تعینات کر رکھا ہے([2])۔

شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ عنہا

یہ بھی ضرور پڑھیں : شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ عنہا

میرے محترم بھائیو! میدانِ جنگ میں مسلم خواتین کی جرأت وبہادری کی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں، امّہات المؤمنین سمیت متعدد خواتینِ اسلام کا ذِکر کتبِ احادیث وتواریخ میں ملتا ہے، کہ وہ باقاعدہ میدانِ جنگ کے اندر جا کر زخمیوں کو اٹھا کر لاتیں، ان کی مرہم پٹی کرتیں، پیاسوں کو  پانی پلاتیں، مجاہدین کے کھانے پینے کا اہتمام کرتیں، میدانِ جنگ سے تیر وغیرہ جمع کر کے مجاہدین کو دیا کرتیں([3])،اور اپنےبچوں کا جوش وجذبہ بڑھایا کرتی تھیں۔

جنگِ قادسیہ میں حضرت سیِّدہ خَنْساء رضی اللہ عنہا اپنے چار4 بیٹوں کے ساتھ شریک ہوئیں، اور لڑائی سے ایک رات قبل انہیں جوش، وَلوَلہ اور شَوقِ شہادت دلاتے ہوئے فرمایا: «يَا بَنيَّ! إنّكم أسلمتم طائعِين، وهاجرتم مختارِين، وواللهِ الّذي لا إلهَ إلّا هو! إنّكم لَبَنُو رجلٍ واحد! كما أنّكم بنُو امرأةٍ واحدةٍ مَا خَنَتْ أباكم، ولا فضحتْ خالَكم!… وقد تعلمون مَا أعدَّ اللهُ للمسلمين من الثواب الجزيل في حَربِ الكافرين! واعلموا أنّ الدارَ الباقيةَ خيرٌ من الدار الفانية!… فإذا أصبحتم غداً إن شاء الله سالمين، فاغدوا إلى قتالِ عدوِّكم مستبصرين! وباللهِ على أعدائه مستنصرين!»([4]) “پیارے بیٹو!تم اپنی مرضی اور خوشی سے مسلمان ہوئے اور ہجرت کی، اللہ  وَحدَه لا شریک کی قسم!  جس طرح  تم سب ایک باپ کی اولاد ہو، اسی طرح ایک ایسی ماں کے بیٹے ہو، جس نے تمہارے باپ کے ساتھ وفا شعاری میں کوئی کسر باقی نہ رکھی! نہ تمہارے ماموؤں کے لیے کبھی رُسوائی کا باعث بنی!اور جو ثواب الله تعالی نے کافروں سے لڑنے میں تیار کر رکها ہے تم اسے خوب جانتے ہو! اِس  دنیائے فانی سے ہمیشہ باقی رہنے والی آخرت بہت بہتر ہے! لہذا کل صبح اپنے دشمن سے بصیرت کے ساتھ مقابلہ کرو، اور اللہ کی مدد سے فتح حاصل کرو!”۔   صبح جنگ شروع ہوتے ہی حضرت سیِّدہ خَنْساء کے چاروں بیٹے دشمن پر جهپٹ پڑے، اور بڑی دلیری وجانبازی سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے([5])۔

حضراتِ گرامی قدر! ایک طرف وہ عظیم مسلم خواتین جنہوں نے جنگ وجِدال جیسے سخت ترین اور جان لیوا کارنامے انجام دیے، اور دوسری طرف ہماری آج کی مائیں بہنیں، جنہیں نِت نئے فیشن (Fashion) اور شاپنگ (shopping) ہی سے فرصت نہیں، متعدد سہولیات حاصل ہونے کے باوُجود، گھریلو کام کاج کرنے کی بھی ہمّت وطاقت نہیں، اُن عظیم ماؤوں بہنوں کی طرح بننا تو دَرکِنار، اُن کے حالاتِ زندگی اور سیرتِ طیّبہ سے آگاہی حاصل کرنے کی بھی توفیق نہیں، انہوں نے پردہ، حجاب اور مذہبی تعلیمات پر عمل پیرَا رہتے ہوئے، ہر میدان میں اپنا کردار ادا کیا، اور ساری دنیا سے اپنی خوبیوں کا لوہا منوایا، جبکہ آج کل کی خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو، پردہ، حجاب  اور مکمل لباس اپنی ترقی میں حائل، سب سے بڑی رکاوٹ محسوس ہوتا ہے، انہیں اَخلاقیات، ماں باپ کی روک ٹوک، اور لباس کے حوالے سے لگائی جانے والی پابندیوں سے آزادی چاہیے، کتنےافسوس اور بد قسمتی کی بات ہے، کہ یہ اجنبی لوگوں کے سامنے اپنے جسم کی نمائش میں، اپنی آزادی کا راز پنہاں سمجھتی ہیں، کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ ایسا کرنے کی صورت میں انہیں مُعاشرے میں بسنے والے بد عناصر کی ہوَس ناک نگاہوں کا نشانہ بننا پڑے گا! ان کی عزّت وناموس کو ہر وقت خطرہ لاحق رہے گا! لہذا خدارا! یہود ونصاریٰ کے دلفریب نعرۂ آزاد خیالی سے باہر تشریف لائیے، اور اسلامی تعلیمات کی پاسداری کرتے ہوئے،  دِین، ملّت اور  مُعاشرتی ترقی میں اپنا حقیقی کردار ادا کیجیے!۔  

حضراتِ ذی وقار! مصطفی جانِ عالَم ﷺ کے اعلانِ نبوّت سے قبل، زمانۂ دَورِ جاہلیت میں بحیثیت عورت، خواتین کو کوئی خاص مقام حاصل نہیں تھا، انہیں کسی قسم کے کوئی انسانی حقوق  میسّر نہ تھے، گھر کی چار دیواری کے اندر یا باہر انہیں عزّت کی نگاہ سے دیکھنے والا کوئی نہیں تھا، پاؤں کی جُوتی سے زیادہ انہیں کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں تھا، یہ وہ وقت تھا جب بیٹیوں کو زندہ دَرگور کر دیا جاتا تھا، ایسے میں فارَان کی چوٹیوں سے دینِ اسلام کا سورج  پوری آب وتاب کے ساتھ چمکا، اور سارے عالَم کو رَوشن ومنوّر کر گیا، رسولِ اکرم ﷺ مظلوموں کے مسیحا بن کر تشریف لائے، آپ نے عورتوں کو ایسا مقام ومرتبہ عطا فرمایا، کہ بعثتِ نبَوی ﷺ سے قبل شاید  کسی عورت نے اس کا تصوُّر بھی نہ کیا ہو!۔

میرے محترم بھائیو! دینِ اسلام مذہبی حُدود وقُیود کی رِعایت وپاسداری کے ساتھ، مرد وخواتین کو ہر میدان میں ترقی کے یکساں مَواقع فراہم کرتا ہے، انہیں مُعاشرے کا ایک کارآمد فرد بننے میں ان کی مدد کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ خواتین کی قربانیوں، خدمات اور مثالی کردار  سے مزیَّن ہے۔

The Concept of Jihad in Islam

یہ بھی ضرور پڑھیں : اسلام کا تصوّرِ جہاد

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! حضور اکرم ﷺ کے اعلانِ نبوّت کے بعد، مَصائب وآلام اور تکالیف کا سلسلہ بہت بڑھ چکا تھا،  لیکن آپ کی زوجۂ محترمہ اُم المؤمنین حضرت سیِّدہ خدیجہ کُبریٰ، اور حضرت بتول جگر گوشۂ رسول، سیِّدہ فاطمہ زَہراء رضی اللہ عنہا نے یہ کٹھن اور مشکل  وقت بھی آپ ﷺ کے ساتھ گزارا، اور صبر وہمّت سے کام لیا۔

ایک بار عُقْبہ بن ابی مُعَیْط بد بخت نے، دَورانِ سجدہ سروَرِ کونین ﷺ کی پیٹھ مبارک پر اوجھڑی رکھ دی، جس کی غلاظت اور بوجھ سے آپ کو اَذیّت وتکلیف پہنچی، حضرت سیِّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جب اس بات کی خبر ملی، تو بہت رنجیدہ ہوئیں، کم عمری کے باوُجود دَوڑتی ہوئی آئیں اور جرأت وبہادری کا مُظاہرہ کرتے ہوئے، کفّار کے سامنے ہی فوراً اُسےنبئ کریم ﷺ کی پیٹھ مبارک سے ہٹایا([6])۔

عزیزانِ محترم! حضرت سیِّدہ اَسماء رضی اللہ عنہا بنت سیِّدنا ابو بکر صدّیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے، کہ جب نبئ کریم ﷺ نے ہجرت فرمائی، تو آپ ﷺ نے انہیں اپنا ہم راز بنایا، دَورانِ سفر جب حضور اکرم ﷺ نے غارِ ثور میں قیام فرمایا، تو آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی کم سِنی میں سخت نگرانی، خطرات اور رکاوَٹوں کو عُبور کرتے ہوئے،  تاجدارِ رسالت ﷺ کو کھانا پہنچانے کا فریضہ بخوبی انجام دیا، اور تفتیش کے باوُجود ہجرتِ نبوی ﷺ سے متعلّق اس اہم راز کو کسی پر ظاہر نہ ہونے دیا([7])۔

میرے محترم بھائیو! رحمتِ عالمیان ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کے مبارک اَدوار میں، ایک بھی خاتون ایسی نہیں تھی جس کا قرآن وسنّت اور دینی مَشاغل سے لگاؤ نہ ہو، اگراسلامی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا، کہ قُرونِ ثلاثہ  (حضور ﷺ سے لے کر زمانۂ تابعین تک) سے تعلق رکھنے والی خواتین کی مصروفیات، قرآن وحدیث کو زبانی یاد کرنا، مختلف علوم وفنون کی اِشاعت، گھر گھر جا کر دینِ اسلام کی دعوت دینا، اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لینا ہوا کرتا تھا۔

حضرت سیِّدہ عائشہ صدّیقہ طیِّبہ طاہرہ اور حضرت سیِّدہ امِ سلَمہ رضی اللہ عنہا نے علوم وفنون کی اِشاعت وفروغ  میں بڑا اہم کردار ادا کیا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے فرامین، اِرشادات اور مُشاہَدات کو اپنے حافظے میں، نہ صرف اچھی طرح محفوظ  کیا، بلکہ  اسے اُمّتِ مسلمہ تک بھی پہنچایا، حضرت سیِّدہ عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا سے تقریباً 2 ہزار 2 سو 10 اَحادیث مَروی ہیں، آپ رضی اللہ عنہا سے دو سو ننانوے299 صحابہ وتابعین رضی اللہ عنہ نے روایت کرنے کی سعادت پائی، جن میں سڑسٹھ67 راوی صرف خواتین ہیں([8])۔

حضرت سیِّدہ اُمِّ سلَمہ رضی اللہ عنہا کا شمار فقہاء صحابیات میں ہوتا ہے، اگر آپ رضی اللہ عنہا کے فتاویٰ جمع کیے جائیں تو ایک جُزء (رسالہ) تیار ہوسکتا ہے([9])، آپ رضی اللہ عنہا سے 101 صحابہ وتابعین رضی اللہ عنہا نے روایات کیں، جن میں سے 23 صرف خواتین ہیں([10])۔

حضرت سیِّدنا امام مالک بن انَس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو پوری کتاب “مُوَطّأ” یاد تھی، وہ اپنے والد کے حلقۂ درس میں دروازے کی اوٹ سے شریک رہا کرتیں، اگر کوئی شخص  حدیث شریف پڑھنے میں غلطی کرتا، تو وہ دروازہ کھٹکھٹا کر توجُّہ دلایا کرتیں، حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ سمجھ جاتے اور پڑھنے والے کی اصلاح کر دیتے تھے”([11])۔

عباسی خلیفہ ہارون رشید کی زوجہ، ملکہ زُبیدہ بنتِ جعفر کو تلاوت وحفظِ قرآن سے بڑی دلچسپی تھی، “وَفِیات الاَعیان” میں ہے کہ زُبیدہ خاتون کی سو100 باندیاں  تھیں، جن کا زیادہ تر وقت تلاوت و حفظِ قرآن میں گزرتا تھا، ان میں سے ہر ایک قرآن کے دسویں حصے کی تلاوت کرتی تھی، اور  محل میں ان کی آواز شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہَٹ کی طرح سُنائی دیتی تھی”([12])۔

حضراتِ ذی وقار! اسلامی تاریخ میں رَفاہی اور تعمیراتی کاموں میں خواتین کے کردار کی بات کی جائے، تو ملکہ زُبیدہ بنتِ جعفر کو اس سلسلے میں بھی بڑی شہرت حاصل تھی، مکّہ مکرّمہ میں حاجیوں کے لیے پانی کی فراہمی کے لیے “نہرِ زُبیدہ” جیسا عظیم منصوبہ، اس کی ایک شاندار مثال ہے([13])۔

میرے محترم بھائیو! اگر مدارس کے قیام کی بات کی جائے، تو دِمشْق کے حکمراں ملک دَقّاق کی بہن زُمُرُّد خاتون کا نام بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے، انہوں نے  “خاتونیہ برانیہ” کے نام سے ایک عظیم الشان مدرسہ قائم کیا([14])، اسی طرح یمن کے سلطان مظفّر کی بیوی مریم نے “مدرسہ سابقیہ” قائم کیا، اور یتیم وغریب بچوں کی تعلیم اور دیگر ضروری مَصارف (اِخراجات) کا بھی اہتمام کیا([15])، عائشہ ہانم نامی خاتون نے بارہویں صدی ہجری میں ایک مسافر خانہ تعمیر کروایا، جو کہ “سبیلِ عائشہ ہانم” کے نام

سے معروف تھا([16])۔

میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! اسلامی تاریخ کے سنہرے اَوراق سے  چُنیدہ یہ سب مثالیں ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے، کہ آپ اَحباب اس اَمر پر غور وفکر کریں، کہ سائنس اور ٹیکنالوجی (Science and Technology) سے دُور اور محدود وسائل ومواقع کے باوُجود ہماری ماؤوں بہنوں نے کیسے کیسے شاندار کارنامے انجام دیے! اور بحیثیت عورت مُعاشرے میں اپنا کس قدر بہترین کردار ادا کیا! تو پھر آخر کیا وجہ ہے کہ آج اس قدر وافر سہولیات اور ٹیکنالوجی (Technology) کے دَور میں بھی، ہماری مائیں بہنیں دین وملّت کے لیے کچھ بہتر کرنے سے قاصر ہیں؟! لوگ “عورتوں کے حقوق” اور “عورت آزادی مارچ” کے نام پر آخر کسے بےوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں؟! ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اُن کے دل ودماغ میں یہ زہر کون اور کیوں اُنڈیل رہا ہے؟! اُس کے پسِ پردہ کون سے عوامل کارفرما ہیں؟! ہمیں اپنی بہو بیٹیوں کو اُن درندوں کے چُنگل سے بچانا ہوگا! انہیں اسلامی تاریخ سے آگاہ کر کے یہ بات سمجھانا ہوگی، کہ پردہ اور حجاب ان کی ترقی میں رکاوَٹ ہر گز نہیں، بلکہ یہ تو اُن کی حفاظت کے لیے ہے، اُنہیں اسلامی تاریخ میں مسلم خواتین کے کردار، خدمات اور درخشاں کارہائے نمایاں سے آگاہی دینا ہوگی؛ تاکہ وہ اپنی اصل کی طرف واپس لَوٹ آئیں، اور ایک حقیقی اور باعمل مسلمان بیٹی بن کر مُعاشرے کی ترقی اور انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے کام کریں!۔

اے اللہ! ہمیں اسلامی تاریخ کا مُطالعہ کرنے کی توفیق مَرحمت فرما، ہماری ماؤوں بہنوں کو امّہات المؤمنین اور صحابیات وتابعیات کے نقشِ قدم کی پَیروی کرنے کا جذبہ عنایت فرما، انہیں سیکولر اور لبرل لابی (Liberal Lobby) کے چُنگل سے نجات عطا فرما، اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے اور پردہ وحجاب کا اہتمام کرنے کی سوچ عطا فرما۔

اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہ کی سچی محبت، اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!۔

اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی وکشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) انظر: “الطبقات الكبرى” أمّ عمارة وهي نُسَيْبَة …إلخ، ٨/٤١٢-٤١٦.

([2]) “مستدرَك الحاكم” كتاب معرفة الصحابة، ر: ٦٨٦٦، 4/٥٦، مُلخّصاً.

([3]) “أُسد الغابة” ر: ٧٤٥٣- أم زياد الأشجعية، ٧/ ٣٢٣، مُلخّصاً.

([4]) “الاستيعاب” كتاب النساء، ر: ٣٣١٧- خَنساء …إلخ، ٤/١٨٢٨.

([5]) المرجع نفسه، صـ1829، ملخّصاً.

([6]) “صحيح البخاري” كتاب مناقب الأنصار، ر: ٣٨٥٤، صـ٦٤٦، مُلخّصاً.

([7]) “الطبقات الكبرى” ذكر الغار والهجرة إلى المدينة، ٣/١٢٩، مُلخّصاً.

([8])  دیکھیے! “علومِ اسلامیہ میں خواتین کی خدمات” آن لائن آرٹیکل، فرورى 2018۔

([9]) “إعلام الموقعين عن ربّ العالمين” فصل أوّل من وقَّع عنِ الله، ١/١٠.

([10])  دیکھیے! “علومِ اسلامیہ میں خواتین کی خدمات” آن لائن آرٹیکل، فرورى 2018۔

([11]) “الدیباج المذهب في أعیان علماء المذهب” باب ذكر آله وبنيه، ١/٨٦.

([12]) “وَفِيات الأعيان” لابن خَلّكان، ر: ٢٤٢- زبيدة أمّ الأمين، ٢/٣١٤.

([13]) المرجع نفسه.

([14]) “الأعلام” للزركلي، زُمُرُّد خاتُون، ٣/٤٩.

([15]) “أعلام النساء في عالمي العرب والإسلام” ٥/39، ٤٠.

([16]) المرجع نفسه، ٣/١٩٤.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *