
Table of contents
- آپ رضی اللہ عنہا كا شجرۂ نسَب
- اللہ تعالی کا سلام
- افضل ترین جنّتی خواتين میں شمار
- سیِّدہ خدیجۃ الکبری کی تجارت میں دوگنا نفع
- حضورِ اكرم کے ساتھ سیِّدہ خدیجۃ کا نکاح
- غم گسار بیوی
- سابق الایمان
- سیِّدہ خدیجۃ الکبری کی فراخ دلی
- اَولادِ ام ّالمؤمنین حضرت خدیجۃ الكبرى
- سيِّده خدیجۃ الکبری کا وصالِ مبارك
- حضور ﷺ کی زبانی سیّدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکرِ خیر
- دعا
برادرانِ اسلام! تاریخ کا رخ بدلنے میں جہاں مسلمان مَردوں نے جدوجہد کی، وہیں بعض خواتین نے بھی اہم کردار ادا كیا، ان میں سرفہرست اور سنہری حُروف سے لکھا گیا، ايك مقدّس اسمِ گرامی امّ المؤمنین سیِّدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کا بھی ہے۔ امّ المؤمنین سیِّدہ خدیجۃ عرب کی ايك معزّز ترین اور دَولتمند خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ، علم وفضل اور ایمان واِیقان میں بھی نمایاں مقام رکھتی ہیں!۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ عنہا
آپ رضی اللہ عنہا كا شجرۂ نسَب
عزیزانِ محترم! آپ رضی اللہ عنہا كا شجرۂ نسَب کچھ اس طرح ہے: خدیجہ بنتِ خوَیلد بن اسد بن عبد العزّی بن قصَی بن کلاب بن مُرّہ بن کعب بن لُوی۔
آپ رضی اللہ عنہا کا نسَب نبئ پاک ﷺ کے نسَب شريف سے قصَی میں مل جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا کی کنیت امِّ ہند ہے، آپ کی والدہ فاطمہ بنت زائدہ بن عصم، قبیلہ
بنی عامر بن لُوی سے تھیں([1])۔
اللہ تعالی کا سلام
حضراتِ محترم! “صحیح مسلم” میں حضرت سيِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارگاہِ رسالت ﷺ میں حضرت سيِّدنا جبرائیل علیہمُ السَّلام نے حاضرہوکر عرض کی: «يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْكَ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ، فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ، فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا b»([2]) “اے اللہ کے رسول! آپ کے پاس حضرت خدیجہ دستر خوان لارہی ہیں، جس میں کھانے پینے کی چیزیں ہيں، جب وہ آئیں تو اُن سے ان کے رب تعالى کا سلام فرمائیے گا” ؏
| عرش سے جس پہ تسلیم نازِل ہوئی | اُس سرائے سلامت پہ لاکھوں سلام!([3]) |
افضل ترین جنّتی خواتين میں شمار
عزیزانِ محترم! “مسندِ امام احمد” میں سیِّدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ: خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَمَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ»([4]) “جنّتی خواتين میں سب سے افضل خدیجہ بنت خوَیلد، فاطمہ بنت محمد، آسیہ بنت مُزاحم زوجۂ فرعون اور مریم بنت عمران ہیں”۔
سیِّدہ خدیجۃ الکبری کی تجارت میں دوگنا نفع
حضرات گرامی قدر! نبئ پاک ﷺکے اَخلاقِ حسَنہ کا ہر جگہ چرچا تھا، حتی کہ مشرکینِ مکّہ بھی حضور كو صادق و امین كے لقب سے یاد كيا کرتے۔ سیِّده خدیجہ نے پیغامِ نکاح سے پہلے سرکارِ دوعالمﷺ کی بارگاہ میں پیغام بھیجا کہ “اگر آپ ملكِ شام جائیں تو ميرا مال ِ تجارت بھی ساتھ ليتے جائیں (اور الله تعالى نفع دے گا جو آپ مناسب خیال فرمائیں گے) اس نفع سے لے لیں!” حضور اقدس ﷺ نے اس پیشکش کو بمشورہ ابوطالب قبول فرمالیا، سیِّدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے غلام مَیسرہ کو بغرض خدمتِ حضور اقدسﷺ کے ساتھ کر دیا، حضورِ اكرم ﷺ نے اپنا مال شام كے شہر بُصرى میں فروخت کرکے دوگنا نفع حاصل کیا، نیز قافلے والوں کو آپ ﷺکی صحبتِ بابرکت سے بہت نفع ہوا، جب قافلہ واپس ہوا تو سیِّدہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ دو فرشتے رحمتِ عالَم ﷺپر سایہ کُنا ں ہیں، نیز دَورانِ سفر کے خَوارِق (اِرہاصات) نے بھی سیِّدہ رضی اللہ عنہا کو آپ ﷺ کا گرویدہ کر دیا تھا([5])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حضورِ اکرم ﷺ کا حُسن وجمال
حضورِ اكرم کے ساتھ سیِّدہ خدیجۃ کا نکاح
امّ المؤمنین سیِّدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا مالدار ہونے کے ساتھ ساتھ فَراخ دل، اور قریش کی خواتین میں اَشرف واَنسب تھیں، بکثرت قریشی سردار آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے خواہشمندتھے، لیکن آپ رضی اللہ عنہا نے کسی کے پیغام کو قبول نہ فرمایا، بلکہ سیِّدہ رضی اللہ عنہا نے سرکارِ دو عالم ﷺ کی بارگاہ میں نکاح کا پیغام بھیجا۔
نکاح كى تقریب ميں سيِّده نے اپنے چچا عَمرو بن اَسد کو بلایا، مصطفى جان رحمت ﷺ بھی اپنے چچا ابو طالب، حضرت سيِّدنا اميرِ حمزہ، حضرت سيِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دیگر رُؤسا کے ساتھ سیِّدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کے مکان پر تشریف لائے۔ اس تقریب ميں خطبہ حضور کے چچا ابو طالب نے پڑھا، ایک روایت کے مطابق سیِّدہ رضی اللہ عنہا کا مہر ساڑھے بارہ اَوقیہ (تقریباً 131.25 گرام یعنی 11.25 تولہ) سونا تھا”([6])۔
بوقتِ نکاح سیِّدہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس40 برس، اور آقائے دو جہاں ﷺ کی عمر شریف پچیس برس تھی([7])۔
حضرت سيِّده عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: «لَمْ يَتَزَوَّجِ النَّبِيُّ g عَلَى خَدِيجَةَ حَتَّى مَاتَتْ»([8]) “جب تک سيّده خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا حیات رہیں، نبئ كريم ﷺ نے کسی اَور سے نکاح نہ فرمایا”۔
غم گسار بیوی
حضراتِ ذی وقار! غارِ حرا میں حضرت سيِّدنا جبریل علیہمُ السَّلام بارگاہِ رحمتِ عالميان ﷺ میں وحی لے کر حاضر ہوئے اور عرض کی: پڑھيے! حضورِ اكرم ﷺ نے فرمایا: «مَا أَنَا بِقَارِئٍ» “میں پڑھنےوالا نہیں” اس کے بعد حضرت سيِّدنا جبریل علیہمُ السَّلام نے اپنی آغوش میں لے کر گلے لگایاپھرچھوڑ کر دوبارہ کہا: پڑھيے! حضور نبئ كريم ﷺ نے فرمایا: «مَا أَنَا بِقَارِئٍ» “میں پڑھنےوالا نہیں” حضرت سيِّدنا جبریل علیہمُ السَّلام نے آغوش میں لے کر گلے لگایا پھر چھوڑ کر کہا: ﴿اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ * خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ * اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ * الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ * عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ﴾([9]) “اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کيا، آدمی کو خون کے لوتھڑے سے، پڑھیے اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم، جس نے قلم سے لکھنا سکھایا، آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا”۔
اس واقعہ سے مصطفى جانِ رحمت ﷺ کی طبیعت بےحد متاثِر ہوئی، واپسی پر سیِّدہ خدیجۃ الكبرى رضی اللہ عنہا سے فرمایا: «زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي!»([10]) “مجھے کمبل اڑھائیے، مجھے کمبل اڑھائیے!” سیِّدہ خدیجۃ الكبرى رضی اللہ عنہا نے نبئ رحمت ﷺ کے جسمِ انور پر کمبل ڈالا، تاکہ خشیت کی کیفیت دُور ہو! پھر حضورِ اكرم ﷺنے سیِّدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا سے سارا حال بیان فرمایا، سیِّدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے پیارے آقا ﷺ کو تسلّی دیتے ہوئے كہا کہ اللہ تعالی آپ کے ساتھ اچھا ہی کرے گا؛ کیونکہ آپﷺ صلہ رحمی فرماتے ہیں، عِیال کا بوجھ اٹھاتے ہیں، ریاضت ومجاہدہ کرتے ہیں، مہمان نوازی فرماتے ہیں، بےکسوں اور مجبوروں کی دستگیری کرتے ہیں، محتاجوں اور غریبوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں، لوگوں کے ساتھ حُسنِ اَخلاق سے پیش آتے ہیں، لوگوں کی سچائی میں ان کی مدد فرماتے ہیں، اور ان کی برائی سے متنبّہ فرماتے ہیں، یتیموں کو پناہ دیتے ہیں، سچ بولتے ہیں، اور امانتیں ادا فرماتے ہیں! سیّدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا نے ان باتوں سے حضور نبئ كريم ﷺ کو تسلی واطمینان دلایا، کفّارِ قریش کی تکذیب سے رحمتِ عالم ﷺکو جو غم اور پریشانی لاحق ہوتی، وہ سب سیِّدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو دیکھتے ہی زائل ہو جاتی اور آپ ﷺخوش ہوجاتے تھے! اور جب سرکارِ دو عالمﷺتشریف لاتے تو وہ آپکی خاطر مدارت فرماتیں، جس سے ہر مشکل آسان ہوجاتی!([11])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :مسلمان كا اپنے نبی ﷺ سے تعلق
سابق الایمان
جانِ برادر! مذہبِ جُمہور پر سب سے پہلے علی الاعلان ایمان لانے والی حضرت سیِّدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں؛ کیونکہ جب سروَرِ دو عالم ﷺ غارِ حرا سے تشریف لائے، اور ان کو نُزولِ وحی کی خبر دی، تو وہ فوراً حضور ﷺ پر ایمان لے آئیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کے بعد سب سے پہلے سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایمان لائے، بعض کہتے ہیں کہ سب سے پہلے سیِّدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ ایمان لائے، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر شریف دس سال تھی۔ شیخ ابن الصلاح فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ محتاط اور مَوزُوں تر یہ ہے کہ آزاد مَردوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، بچوں اور نَو عمروں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، عورتوں میں سیِّده خدیجہ رضی اللہ عنہا، آزاد كرده غلاموں میں زَید بن حارِثہ رضی اللہ عنہ اور غلاموں میں سے حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ ایمان لائے([12])۔
سیِّدہ خدیجۃ الکبری کی فراخ دلی
عزیزانِ محترم! حضور ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: «لَا واللهِ مَا رَزَقنيَ اللهُ خيراً منها، آمنتْ بي حين كفر بيَ الناسُ، وصدّقتْني حين كذّبني الناسُ، وأعطتْني مالَها حين حرَمنيَ الناسُ، ورزقنيَ اللهُ أولادَها»([13]) “اللہ کی قسم خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی زَوجہ نہیں ملی! جب سب لوگوں نے مجھے نہ مانا اُس وقت وہ مجھ پر ایمان لائیں! جب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اُس وقت انہوں نے میری تصدیق کی! جس وقت لوگ مجھے محروم کرنا چاہتے تھے اُس وقت خدیجہ نے مجھے اپنا مال دیا! اور انہى سے اللہ تعالی نے مجھے اَولادعطافرمائی!”۔
اَولادِ ام ّالمؤمنین حضرت خدیجۃ الكبرى
حضراتِ ذی وقار! حضور سروَرِ كائنات ﷺ کی تمام اَولاد حضرت خدیجۃ الكبرى ام ّالمؤمنین رضی اللہ عنہا کے بطن سے ہے، بجز حضرت سیِّدنا ابراہیم کے، جو سیِّدہ ماریہ قِبطیہ رضی اللہ عنہا سے پیدا ہوئے۔ فرزندوں میں حضرت قاسم، حضرت طيّب اور حضرت طاہر رضی اللہ عنہا کے اسمائے گرامی مروی ہیں، جب کہ صاحبزادیوں میں سیِّدہ زینب، سیِّدہ رقیہ، سیِّدہ امِّ کلثوم اور سیِّدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہنّ ہیں([14])۔
شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رحمہُ اللہ فرماتے ہیں کہ ” اس بات پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ حضورِ اقدس ﷺ کی اولاد کرام کی تعداد چھ ہے۔ دو فرزند حضرت قاسم و حضرت ابراہیم، اور چار صاحبزادیاں حضرت زینب و حضرت رقیہ وحضرت ام کلثوم و حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، لیکن بعض مؤرخین نے یہ بیان فرمایا ہے کہ آپ ﷺ کے ایک صاحبزادے عبداﷲ بھی ہیں، جن کا لقب طیّب و طاہر ہے۔ اس قول کی بنا پر حضور D کی مقدس اولاد کی تعداد سات ہے: تین صاحبزادگان اورچار صاحبزادیاں۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہُ اللہ نے اسی قول کو زیادہ صحیح بتایا ہے۔ اس کے علاوہ حضور ﷺ کی مقدس اولاد کے بارے میں دوسرے اقوال بھی ہیں جن کا تذکرہ طوالت سے خالی نہیں۔
حضور ﷺ کی ان ساتوں مقدس اولاد میں سے حضرت ابراہیم حضرت ماریہ قبطیہ کے شکم سے تولد ہوئے تھے، باقی تمام اولاد کرام حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک سے پیداہوئیں”([15])۔
سيِّده خدیجۃ الکبری کا وصالِ مبارك
حضراتِ محترم! آپ رضی اللہ عنہا تقریباً پچیس سال مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی شریکِ حیات رہیں، آپ کا وصال بعثت (اعلانِ نبوّت) کے دسویں سال ماہ ِ رمضان میں ہوا، آپ كی قبر مبارك حجون (جنّۃ المعلی مکّۃ المکرّمہ) میں ہے، حضور رحمتِ عالميان ﷺ آپ رضی اللہ عنہا کی قبر میں داخل ہوئے اور دعائے خیر فرمائی، نمازِ جنازہ اُس وقت تک مشروع نہیں ہوئی تھی۔ آپ کی وفات پر رحمتِ عالم ﷺ بہت ملول وحزين ہوئے!([16])۔
حضور ﷺ کی زبانی سیّدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکرِ خیر
میرے محترم بھائیو! اُمّ المؤمنین حضرت سيِّده عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اکثر ذکر خیر فرمایا کرتے، جب حضورِ اكرم ﷺ بکری ذبح كرتے تو فرماتے: «أَرْسِلُوا بِهَا إِلَى أَصْدِقَاءِ خديجَةَ»([17]) “خدیجہ کی سہیلیوں کے گھر پہنچا دو!”۔
رفیقانِ گرامی قدر! امّ المؤمنين رضی اللہ عنہا کی بارگاہِ اقدس میں نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہوئے، امامِ اہلِ سنّت احمد رضا خان رحمہُ اللہ نے لکھا: ؏
| سیّما پہلی ماں کہفِ اَمن واَماں | حق گزارِ رَفاقت پہ لاکھوں سلام([18]) |
اور حفیظ جالندھری نے اپنے اَشعار میں اس طرح خراجِ تحسین پیش کیا: ؏
| وہ اُمّ المسلمیں جو مادَرِ گیتی کی عزّت ہے | ||
| وہ اُمّ المسلمیں قدموں کے نیچے جس کے جنّت ہے | ||
| خدیجہ طاہِرہ یعنی نبی کی باوفا بی بی | ||
| شریکِ راحت واَندوہ پابندِ رِضا بی بی | ||
| دِیارِ جاودانی کی طرف راہی ہوئیں وہ بھی | ||
| گئیں دنیا سے آخر سُوئے فردَوسِ بریں وہ بھی([19]) | ||
دعا
اے اللہ! ہمیں اور ہماری خواتین کو اُمّ المؤمنین خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کی سیرتِ طیبّہ پر عمل کی توفیق مرحمت فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو اَور زیادہ فرما، آمین یا ربّ العالمین!
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “مدارج النبوّت” قسم پنجم، باب دُوم در ذکرِ اَزواج مطہَّرات، جزء2، 464۔
([2]) “صحیح مسلم” کتاب فضائل الصحابة، ر: 6273، صـ1069.
([3]) “حدائق بخشش” مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام، حصّہ دُوم2، 310۔
([4]) “مُسند الإمام أحمد” مسند عبد الله بن العبّاس، ر: 2668، 1/628.
([5]) “مدارج النبوّت” قسم دُوم، باب دُوم در کفالتِ عبد المطلب …الخ، جزء2، 27۔
([6]) “مدارج النبوّت” قسم دُوم، باب دُوم در کفالتِ عبد المطلب …الخ، جزء2، 27، 28۔
([7]) انظر: “الطبَقات الکبری” ذکر خديجة بن خوَيلد، 6/11.
([8]) “صحیح مسلم” کتاب فضائل الصحابة، ر: 6281، صـ1070.
([10]) “صحیح البخاري” كتاب بدء الوحي، ر: 3، صـ1.
([11]) “مدارج النبوّت” قسم دُوم، باب سوم در بدء الوحی وثبوت نبوّت، جزء2، 31، 32 ، ملتقطاً۔
([12]) دیکھیے: “مدارج النبوّت” قسم دُوم، باب سوم در بدء الوحی وثبوت نبوّت، جزء2، 37۔
([13]) “شرح الزرقاني” المقصد 2، الفصل 3، خدیجة أمّ المؤمنین، 4/372.
([14]) “السیرة النبویة” الجزء١، صـ99.
([15]) “سیرتِ مصطفیٰ” اَولاد کرام، 687۔
([16]) “مدارج النبوّت” قسم پنجم، باب دُوم در ذکرِ اَزواج مطہَّرات، جزء2، 465۔
([17]) “صحیح مسلم” کتاب فضائل الصحابة، ر: ٦٢٧٨، صـ١٠٧٠.
([18]) “حدائق بخشش” مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام، حصّہ دُوم2، 310۔
([19]) “شاہنامۂ اسلام” عام الحزن، ابو طالب اور حضرت خدیجۃ الکبری کی وفات، 1/135۔