افضلُ البشر بعد الانبیاء صدیقِ اکبر رضي الله عنه

Home – Single Post

افضلُ البشر بعد الانبیاء صدیقِ اکبر رضي الله عنه

عزیزانِ محترم! حضرت سیِّدنا صدیقِ اكبر رضي الله عنه کا نام عبد اللہ، لقب صدیق اور عتیق ہے۔ آپ کے والد کا نام ابو قُحافہ عثمان، اور والدہ اُم الخیر سلمٰی ہیں۔ آپ رضي الله عنه کا سلسلۂ نسَب ساتویں پُشت میں رسول اللہ ﷺ کے نسَب شریف سے مل جاتا ہے۔ آپ رضي الله عنه نبئ کریم ﷺ سے تقریباً 2 سال چھوٹے ہیں۔ آپ نے مَردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا، آپرضي الله عنه زمانۂ جاہلیت میں بھی قوم کے معزَّز مکرّم تھے، آپ نے قبلِ اسلام بھی کبھی شراب نہیں پی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ تمام غزوات میں شریک رہے، آپ رضي الله عنه ہجرت کے موقع پر حضورِ اکرم ﷺ کے رفیقِ سفر اور یارِ غار بھی رہے([1])۔

میرے محترم بهائيو! حضرت سيِّدنا ابو بکر صدیق رضي الله عنه کی شانِ اقدس میں، قرآنی آیات بھی نازل ہوئیں، مکّۂ مکرّمہ سے ہجرت كے وقت رحمتِ عالمیان ﷺ، اور حضرت سيِّدنا ابو بکر صدیق رضي الله عنه دَورانِ سفر غارِ ثَور میں بھی رہے۔ اللہ تعالی نے اس واقعہ کے بارے میں ارشاد فرمایا: ﴿ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا﴾([2]) “صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے، جب اپنے دوست سے فرماتے تھے کہ غم نہ کرو، یقیناً اللہ تعالى ہمارے ساتھ ہے!”۔ یعنی مصطفی جانِ رحمت ﷺ حضرت سيِّدنا ابوبکر رضي الله عنه كو تسلّی دے رہے تھے۔ علمائے کرام فرماتے ہیں، کہ حضرت سيِّدنا ابو بکر صدیق رضي الله عنه کی صحابیت اس آیت سے ثابت ہے([3])۔ لہذا جو شخص حضرت سيِّدنا صدیق اکبر رضي الله عنه کی صحابیت کا انکار کرے، وہ اس آيتِ قرآنیہ کا منکِر ہو کر کافِر ہوا([4])۔

برادرانِ اسلام! اسی طرح حضرت سيِّدنا صدیق اکبر رضي الله عنه نے، جب حضرت سيِّدنا بلال حبشى رضي الله عنه کو بہت بھاری قیمت پر خرید کر آزاد کیا، تب  کفّار کو حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا، کہ ابوبكر نے ایسا کیوں کیا؟ شاید بلال کا ان پر کوئی احسان ہوگا، جو انہوں نے اتنی گراں قیمت دے کر خریدا اور آزاد کیا! اس پر آیتِ مباركہ نازل ہوئی: ﴿وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤى﴾([5]) “کسی کا اس پر كچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے” یعنی حضرت سيِّدنا صدیق اكبر رضي الله عنه کا یہ كام محض اللہ تعالی کی رضا کے ليے ہے، کسی کے احسان کا بدلہ نہیں، اور نہ ان پر حضرت سيِّدنا بلال رضي الله عنه کا کوئی احسان ہے۔ لہذا ہمیں بھی کسی پر احسان کے بدلے میں نہیں، بلکہ ہر نیک کام صرف اللہ تعالی کی رضا وخوشنودی کے لیے انجام دینا چاہیے۔

رفيقانِ ملّتِ اسلاميہ! سيِّدنا ابوبکر رضي الله عنه کے لقب “صدیق” کا سبب بیان کرتے ہوئے، امّ المؤمنین حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیِّبہ طاہرہ رضي الله عنه نے فرمايا: «لمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ g إِلَى الـْمَسْجِدِ الْأَقْصَى، أَصْبَحَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ بِذَلِكَ فَارْتَدَّ نَاسٌ، فَمَنْ كَانَ آمَنُوا بِهِ وَصَدَّقُوهُ، وَسَمِعُوا بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ h، فَقَالُوا: هَلْ لَكَ إِلَى صَاحِبِكَ يَزْعُمُ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ اللَّيْلَةَ إِلَى بَيْتِ الْمقْدِسِ؟ قَالَ: أَوَ قَالَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: لَئِنْ كَانَ قَالَ ذَلِكَ لَقَدْ صَدَقَ، قَالُوا: أَوَ تُصَدِّقُهُ أَنَّهُ ذَهَبَ اللَّيْلَةَ إِلَى بَيْتِ المَقْدِسِ وَجَاءَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنِّي لَأُصُدِّقُهُ فِيمَا هُوَ أَبْعَدُ مِنْ ذَلِكَ! أُصَدِّقُهُ بِخَبَرِ السَّمَاءِ فِي غَدْوَةٍ أَوْ رَوْحَةٍ!»([6]).

“جب نبئ رَحمت ﷺ کو مسجد حرام سے مسجد اقصی کی سیر کرائی گئی، تو آپ

ﷺ نے صبح لوگوں کے سامنے اس واقعہ کو بیان فرمایا، لوگوں نے اس بارے میں طرح طرح کی باتیں کیں، کچھ لوگ اس سے انکاری ہوکر مرتَد ہوئے، اور ایمان والوں نے اس کی تصدیق کی۔ پھر دَوڑتے ہوئے حضرت سیِّدنا ابوبکر صدیق رضي الله عنه کے پاس پہنچے اور کہنے لگے: آپ اپنے دوست (محمد ﷺ) کے بارےمیں کيا کہتے ہیں؟ جو وہ  کہتے ہيں کہ انہوں نے راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصی کی سیر کی! آپ رضي الله عنه نے كہا: کیا حضور ﷺ نے واقعی ایسا فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ رضي الله عنه نے فرمايا كہ اگر حضور ﷺ نے ایسا فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا! لوگوں نے کہا کہ کیا آپ اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں، کہ وہ رات بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے؟ آپ نے فرمايا کہ ہاں، میں تو اُن کی آسمانی خبروں کی بھی صبح وشام تصدیق کرتا ہوں، جو اس بات سے بھی زیادہ حیران کُن اور تعجب والی ہے!”۔

الحمد للہ! ہم اہلِ ایمان کا بھی یہی عقیدہ ہے، کہ اللہ تعالی نے رات کے ایک قلیل حصہ میں، اپنے حبيبِ كريم ﷺ کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصی تک کی سیر کرائی([7])، پھر وہاں سے آپ ﷺ کو آسمانوں کی سیر کو لے گیا، آپ ﷺ کو عرش وکرسی دکھائی، اور پھر خود اپنی ملاقات کا شرفِ عظیم بھی بخشا!([8])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : شانِ مولائے کائنات رضي الله عنه

حضراتِ گرامى قدر! سيِّدنا صدیق اکبر رضي الله عنه وہ شخصیت ہیں، جنہیں سرکارِ اَبَد قرار ﷺ نے فرضیتِ حج کے بعد، پہلے ہی سال میں امیر الحجاج مقرّر فرمایا، انہیں اپنے سامنے مرضِ وفات میں اپنی جگہ نماز کے لیے امام مقرّر فرمایا۔ حضرت سيِّدنا مولا علی -كرّم الله تعالى وجہہ الکریم- کا ارشاد ہے: «لمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ g نَظَرْنَا فِي أَمْرِنَا، فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ g قَدْ قَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ فِي الصَّلاَةِ، فَرَضِينَا لِدُنْيَانَا مَنْ رَضِيَ رَسُولُ اللهِ g لِدِينِنَا، فَقَدَّمْنَا أَبَا بَكْرٍ»([9]) “نبئ رَحمت ﷺ کے وِصال كے بعد، جب ہم نے غور کیا (تو اس نتیجہ پر پہنچے)، کہ جب نماز کے مُعاملہ میں نبئ کریم ﷺ نے سیِّدنا ابوبکر رضي الله عنه کو مقدَّم فرمایا، اور ہمارے دین کے لیے انہیں امام بنانا پسند فرمایا، تو ہم دنیاوی مُعاملات میں بھی ان پر راضی ہوگئے، یعنی ہم نے حضرت ابوبکر رضي الله عنه  کی بیعت کر کے، انہیں خلیفہ مقرّر كر دیا”۔ اس سے پتا چلا کہ سب سے پہلے خلیفہ سیِّدنا ابوبکر صدیق رضي الله عنه ہیں، اور یہی ہم اہلِ اسلام کا نظریہ ہے۔

حضرت سیِّدنا ابوبکر رضي الله عنه خلیفہ مقرّر ہونے کے بعد، منبر پر جلوه فرما ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد، پہلا خطبۂ خلافت ارشاد فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ! فَإِنِّي قَدْ وُلِّيتُ عَلَيْكُمْ، وَلَسْتُ بِخَيْرِكُمْ، فَإِنْ أَحْسَنْتُ فَأَعِينُونِي، وَإِنْ أَسَأْتُ فَقَوِّمُونِي. الصِّدْقُ أَمَانَةٌ، والكذبُ خيانةٌ، والضعيفُ منكم قويٌّ عندي حتّى أزيحَ علّتَه إِنْ شَاءَ اللهُ، وَالْقَوِيُّ فِيكُمْ ضَعِيفٌ حَتَّى آخُذَ منه الحقَّ إِنْ شَاءَ اللهُ، لَا يَدعُ قَوْمٌ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللهِ إِلَّا ضَرَبَهُمُ اللهُ بِالذُّلِّ، ولا يشيعُ قومٌ قطُّ الفاحشةَ إِلَّا عَمَّهُمُ اللهُ بِالْبَلَاءِ، أَطِيعُونِي مَا أَطَعْتُ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَإِذَا عَصَيْتُ اللهَ وَرَسُولَهُ فَلَا طَاعَةَ لِي عَلَيْكُمْ! قُومُوا إِلَى صَلَاتِكُمْ يَرْحَمْكُمُ اللهُ!»([10]).

“لوگو! میں تمہارا امیر بنا دیا گیا ہوں! حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں، اگر میں اچھا کام کروں تو میری مدد کرنا، اور اگر بُرا کروں تو مجھے درست راه بتا دینا۔ سچائی ایک امانت ہے، اور جھوٹ خیانت ہے۔ جو تم میں کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے، الله تعالى نے چاہا تو میں اس کا شکوہ دُور کر دوں گا، اور جو تم میں طاقتور ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے، تو -ان شاء الله تعالى- میں اس سے كمزور كا حق لے کر رہوں گا۔ جو قوم جہاد چھوڑ دیتی ہے، اللہ B اس پر ذلت مسلَّط کر دیتا ہے، اور جس قوم میں بےحیائى عام ہو جائے، اللہ تعالى ان پر مصیبت عام کر دیتا ہے۔ جب تک میں اللہ ورسول کی اِطاعت کروں، تو تم بھی میری فرمانبرداری کرنا، اور جب میں اللہ ورسول کی نافرمانی  کروں، تو تم پر میری

اِطاعت لازم نہیں! اچھا اب نماز کو اٹھو اللہ تعالى تم پر رحم فرمائے!”۔

یہ خطبہ اپنے اختصار کے باوُجود اہم ترین اسلامی خطبات میں سے ايك ہے۔ اس خطبہ میں حضرت نے حاکم اور رِعایا کے در میان مُعاملات کے سلسلہ میں، عدل ورحمت کے قواعد بيان فرمائے، اس بات پر ياد دہانی  کرائی، کہ حكّام کی اِطاعت، اللہ ورسول کی اطاعت پر منحصر ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ کی طرف توجہ دلائی؛ کیونکہ جہاد اس امّت کى عزّت وشان کے لیے انتہائی اَہمیت کا حامل ہے۔ نیز بےحیائی اور فحاشى كےكاموں سے اجتناب پر زور دیا؛ کیونکہ مُعاشرے کو فتنہ وفساد سے بچانے کے لیے یہ چیز انتہائی ضروری ہے۔

محترم بھائیو! حضرت سیِّدنا ابوبکر صدیق رضي الله عنه بیعتِ خلافت کے دوسرے روز، کچھ چادریں لے کر بازار جارہے تھے، حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضي الله عنه نے دریافت کیا: «أين تريدُ؟» “آپ کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟” فرمایا: «إلى السُّوقِ» “(بغرضِ تجارت) بازار جا رہا ہوں”، حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضي الله عنه نے عرض کی: «تصنعُ ماذا؟ وقد وُلّيتَ أمرَ المسلمينَ!» “آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ اب آپ مسلمانوں کے امیر ہیں!” یہ سن کر آپ رضي الله عنه نے فرمایا: «فمِن أين أُطعِم عِيالي؟» “(اگر میں یہ کام نہ کروں) تو پھر اپنے اہل وعِیال کو کہاں سے کھلاؤں گا؟” حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضي الله عنه نے عرض کی: «انطلِقْ، يَفرض لك أبو عبَيدةَ!» “آپ واپس چليے، آپ کے اِخراجات حضرت ابو عبَیدہ طَے کریں گے!” پھر یہ دونوں حضرات سیِّدنا ابو عبیدہ بن جرّاح رضي الله عنه کے پاس تشریف لائے، انہوں نے فرمایا: «أَفرَضُ لك قُوتَ رجلٍ من المهاجرينَ، ليس بأفضلِهم ولا أوكَسِهم، وكِسوةَ الشِّتاءِ والصَّيفِ، إذا أخلقتَ شيئاً رددتَه وأخذتَ غيرَه!» “ميں آپ (حضرت سیِّدنا ابوبکر صدیق رضي الله عنه اور آپ کے اَہل و عِیال کے لیے) ایک اَوسط درجے کے مہاجر کی خوراک کا اندازہ کرکے روزينہ، اور موسمِ سرما وگرما کا لباس مقرّر کرتا ہوں، اس طور پر کہ جب وہ لباس قابلِ استعمال نہ رہے، تو واپس دے کر اُس کے عِوض دوسرا لے لیا كریں!”۔ چنانچہ حضرت ابوعبیدہ بن جرّاح رضي الله عنه نے حضرت سیِّدنا صدیقِ اکبر رضي الله عنه کے ليے آدھی بکری کا گوشت، لباس اور روٹی مقرّر کر دی([11])۔

اس واقعہ میں ہر جگہ اور ہر دَور کے حکمرانوں کے لیے واضح پیغام ہے، کہ بیت المال میں سے اتنی تنخواہ لیں، جتنی ایک اَوسط درجہ کے ملازِم کی اُجرت ہوا کرتی ہے، یعنی شاہ خرچی سے بچ کر، ملک وقوم کی حقیقی خدمت انجام دیں، تب ان کی رِعایا انہیں خیر وبرکت کی دعاؤوں سے نوازے گی، جس سے ان کی دنیا اور آخرت سنور جائے گی۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : مسلمان كا اپنے نبی ﷺ سے تعلق

عزيزانِ محترم! عموماً انسان جس سے محبت کرتا ہے، اس سے نسبت رکھنے والی ہر چیز سے محبت کرنے لگتا ہے۔ حضرت سيِّده فاطمۃ الزہرا، اور حضرت عباس بن عبد المطلب رضي الله عنه نے، جب حضرت سیِّدنا ابو بکر صدیق سے مطالبہ کیا، کہ خیبر اور فدک کی جائيداد (رسولِ اکرم ﷺ) کی میراث کے طور پر ان میں تقسیم کردی  جائے! اس مطالبہ کے جواب میں حضرت سیِّدنا ابو بکر صدیق رضي الله عنه نے فرمایا، کہ میں نے نبئ كريم ﷺ کو فرماتے سنا ہے: «لَا نُورثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا المَالِ» “ہم (نبیوں کے) مال میں وراثت نہیں ہوا کرتی، ہم جو کچھ چھوڑیں وہ صدقہ ہے، البتہ آل محمد اس میں سے نفَقہ لے سکتے ہیں”۔ اُس پروَردگار کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! رسول اﷲ ﷺ کی قرابتداری مجھے اپنے اَقرِباء سے زیادہ محبوب ہے!”([12])۔

چنانچہ حضرت سيِّدنا ابو بکر صدیق رضي الله عنه نے اس جائيداد کا وہی انتظام کیا جو رسولِ اکرم ﷺ کے عہدِ مبارک میں ہوا کرتا تھا۔ آپ اس میں سے سال بھر کے لیے اہلِ بیت کا نفَقہ نکالتے، اس کے بعد جو باقی بچتا اسے الله کا مال قرار دیتے، یعنی مسافروں، غریبوں، مسکینوں اور حاجتمندوں پر صرف کیا کرتے۔ اور جس طرح تاجدارِ رسالت ﷺ سے محبت، ایمان کا حصہ اور اس کا کمال، بلکہ حقیقتِ ایمان ہے،  اسی طرح سروَرِ کائنات ﷺ سے تعلق رکھنے والی ہر چیز، بالخصوص اہلِ بیتِ اَطہار رضي الله عنه سے محبت بھی ایمان کا تقاضا ہے!۔

جانِ برادر! تمام اَدیان کے مسخ ہو جانے کی اصل وجہ وہ بدعات ہیں، جو رفتہ رفتہ جزوِ مذہب ہوکر، دِين کی اصل صورت اس طرح بدل دیتے ہیں، کہ اصل دین کی صحیح تعلیم ومتبعین کی اِیجادات میں امتیاز وفرق دُشوار ہو جاتا ہے۔ حضرت سیِّدنا ابوبکر رضي الله عنه کے دَور میں بدعات بہت کم پیدا ہوئیں، تاہم جب کبھی کسی بدعت کا ظہور ہوا تو آپ رضي الله عنه نے اسے مٹانے میں پورا زور لگا دیا۔

ایک بار حج کے موقع پر قبیلہ احمس کی عورت کے بارے میں معلوم ہوا، کہ وہ گفتگو نہیں کرتی، آپ رضي الله عنه نے وجہ پوچھی: «مَا لَهَا لَا تكَلّم؟» “وہ کلام کیوں نہیں کرتی؟” لوگوں نے کہا کہ اس نے خاموش حج کا ارادہ کیا ہے، یہ سن کر آپ رضي الله عنه نے اس عورت سے فرمایا: «تَكَلَّمِي! فَإِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ، هَذَا مِنْ عَمَلِ الجَاهِلِيَّةِ!» “یہ زمانۂ جاہلیت کا طریقہ ہے، جائز نہیں، تم بات چیت کر لو!” اس عورت نے بات کی، اور کہا کہ آپ کون ہیں؟ فرمایا: «أَنَا أَبُو بَكْرٍ»([13]) “ميں ابوبکر ہوں”۔

حضرت سیِّدنا امام حسن مجتبیٰ ﷛ نے فرمایا: «لمَّا احْتُضِرَ أَبُو بَكْرٍ h، قَالَ: يَا عَائِشَةُ! انْظُرِي اللِّقْحَةَ الَّتِي كُنَّا نَشْرَبُ مِنْ لَبَنِهَا، وَالْجَفْنَةَ الَّتِي كُنَّا نَصْطَبِحُ فِيهَا، وَالْقَطِيفَةَ الَّتِي كُنَّا نَلْبَسُهَا، فَإِنَّا كُنَّا نَنْتَفِعُ بِذَلِكَ حِينَ كُنَّا فِي أَمْرِ المُسْلِمِينَ، فَإِذَا مِتُّ فَارْدُدِيهِ إِلَى عُمَرَ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ h أَرْسَلْتُ بِهِ إِلَى عُمَرَ h، فَقَالَ عُمَرُ h: رَضِيَ اللهُ عَنْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ! لَقَدْ أَتْعَبْتَ مَنْ جَاءَ بَعْدَكَ!»([14]).

“حضرت ابو بكر رضي الله عنه نے اپنی وفات کے وقت فرمایا، کہ اے عائشہ دیکھو! یہ اونٹنی جس کا ہم دودھ پیتے ہیں، اور یہ بڑا پیالہ جس میں ہم پیتے ہیں، اور یہ چادر جو ہم اوڑھتے ہیں، ان سے اسی وقت تک نفع اٹھا سکتے ہیں جب تک ہم مسلمانوں کے امرِ خلافت انجام دیتے رہیں گے، جس وقت میں وفات پاجاؤں تو یہ سارا سامان حضرت عمر رضي الله عنه کو دے دینا۔ چنانچہ جب حضرت ابو بكر رضي الله عنه کا انتقال ہوا، تو میں (عائشہ)نے یہ تمام چیزیں حسبِ وصیت حضرت سیِّدنا عمر رضي الله عنه کو بھیجوا دیں، اس پر حضرت عمر رضي الله عنه نے فرمایا: اے ابو بکر اللہ آپ پر رحم فرمائے! کہ آپ نے تو اپنے بعد آنے والوں کو تھکا دیا ہے!” یعنی آپ نے اپنے بعد والوں کو بھی انتہائی احتیاط کی تاکید ورَہنمائی فرما دی۔

میرے دوستو اور بزرگو! سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضي الله عنه سے روایت ہے، کہ سیِّدنا ابو بکر رضي الله عنه كے (آخری ایّام میں) جب مرض میں اضافہ ہوا، تو انہوں نے پوچھا: «أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» “آج کونسا دن ہے؟” ہم نے عرض کی: پیر کا دن ہے، فرمایا: «فَأَيُّ يَوْمٍ قُبِضَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ g؟» “رسول اللہ ﷺ نے کس دن وصال فرمایا؟” سیِّدہ عائشہ رضي الله عنه نے عرض کی: پیر کے دن رحلت فرمائی، اس پر فرمایا: «فَإِنِّي أَرْجُو مَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ»([15]) “مجھے امید ہے کہ میں آج دن یا رات میں کسی وقت فَوت ہو جاؤں گا!”۔

محترم حضرات! حضرت سیِّدنا ابو بکر صدیق رضي الله عنه نے اپنے مرضِ وفات میں وصیت کرتے ہوئے فرمایا: «إِذَا مِتُّ وَفَرَغْتُمْ مِنْ جَهَازِي، فَاحْمِلُونِي حَتَّى تَقِفُوا بِبَابِ الْبَيْتِ، الَّذِي فِيهِ قَبْرُ النَّبِيِّ g، فَقِفُوا بِالْبَابِ وَقُولُوا: “السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ! هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ!” فَإِنْ أُذِنَ لَكُمْ وَفُتِحَ الْبَابُ-وَكَانَ الْبَابُ مُغْلَقاً- فَأَدْخِلُونِي فَادْفِنُونِي، وَإِنْ لَمْ يُؤْذَنْ لَكُمْ فَأَخْرِجُونِي إِلَى الْبَقِيعِ وَادْفِنُونِي».

“جب میں انتقال کر جاؤں، اور تم لوگ میرے غسل وکفن سے فارغ ہو چکو، تو میرا جنازہ اُٹھا کر نبئ کریم ﷺ کے روضۂ مبارکہ کے دروازہ کے سامنے رکھ دینا، اور عرض کرنا: “اے اللہ کے رسول آپ پر سلامتی ہو! یہ ابوبکر اجازت چاہتا ہے!” اگر اجازت مل جائے اور دروازہ کھل جائے (کیونکہ وہ دروازہ بند رہتا تھا) تو مجھے اندر لے جا کر دفن کر دینا، اور اگر اجازت نہ ملے تو اُٹھا کر بقیع میں دفن کردینا”۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، اور درِ نبی پر پہنچ  کر یہ گزارش کی، تو دروازے کا تالا گرا اور دروازہ کھل گیا، اور روضۂ پاک کے اندر سے آواز آئی کہ “محبوب کو محبوب سے ملادو؛ کہ حبیب اپنے حبیب کی ملاقات کا مشتاق ہے”([16])۔

13 سنِ ہجری 22 جُمادَی الآخره کو آپ رضي الله عنه کا وصال ہوا، لہذا اس دن آپ رضي الله عنه کا دن خوب عقیدت  واحترام سے منایا جاتا ہے۔

عزیزانِ گرامی! حضرت سیِّدنا ابو بکر صدیق رضي الله عنه انتہائی جلیل القدر اور متّقی وپرہیز گار صحابی رضي الله عنه ہیں، آپ کی شان وعظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے، کہ اللہ رب العالمین نے آپ رضي الله عنه کی شان میں متعدد آیات نازل فرمائیں، بےشمار احادیثِ طیّبہ میں بھی سیِّدنا ابو بکر صدیق کے فضائل ومناقب بیان ہوئے، اَور اسی چیز کے پیشِ نظر ہم اہلِ سنّت وجماعت کا یہ عقیدہ ونظریہ ہے، کہ  تمام انبیاء ومرسَلین کے بعد، لوگوں میں سب سے افضل حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضي الله عنه   ہیں۔

سیِّدُنا ابو بکر صدیق کی اَفضلیت پر صراحۃً دلالت کرتی ہوئی ایک حدیث پاک میں، ام المؤمنین سیِّدہ عائشہ صدیقہ  طیّبہ طاہرہ رضي الله عنه فرماتی ہیں، کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرضِ وفات میں فرمایا: «ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ، أَبَاكِ وَأَخَاكِ، حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ وَيَقُولُ قَائِلٌ: أنَا أَوْلَى، وَيَأْبَى اللهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ!»([17]) “میرے پاس اپنے والد ابوبکرکو اور اپنے بھائی کوبلا لاؤ؛ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں؛ کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کوئی تمنّا کرنے والا تمنّا کرے گا، اور کوئی کہنے والا کہے گا،  کہ میں سب سے اَولیٰ (زیادہ حقدار) ہوں، مگر اللہ تعالی اور اہلِ ایمان، ابوبکر کے سوا کسی اَور پر راضی نہیں ہوں گے!”۔

حضور نبئ کریم ﷺ کا اپنے بعد، صدَقات کی وصولی کے لیے سیِّدُنا ابو بکر صدیق کو مقرّر فرمانا بھی، آپ رضي الله عنه کی اَفضیلت پر دَلالت کرتا ہے، حضرت سیِّدُنا اَنَس رضي الله عنه  فرماتے ہیں، کہ مجھے بنومُصطلق نے رسول کریم ﷺ کے پاس یہ بات دریافت کرنے کے لیے بھیجا، کہ آپ ﷺ کے بعد ہم صدَقات (زکاۃ وغیرہ) کسے پیش کیا کریں؟ میں نے آکر حضور سے پوچھا تو فرمایا: «إلى أبِي بَكْرٍ»([18]) “ابوبکر کو”۔

 نبئ کریم ﷺ کی طرف سے سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضي الله عنه کے لیے خصوصی استثناء بھی، آپ رضي الله عنه کی اَفضیلت کی طرف اشارہ کرتا ہے، حضرت سیِّدنا ابوسعید خُدری رضي الله عنه سے روایت ہے، رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لا يَبْقَيَنَّ فِي المَسْجِدِ بَابٌ إِلَّا سُدَّ، إلَّا بَابُ أَبِي بَكْرٍ!»([19]) “مسجدِ نبوی کے اندر ابوبکر کے دروازے کے سوا، کوئی دروازہ باقی نہ رہے!”۔

عزیزانِ مَن! ایّامِ علالت میں سروَرِ کونین ﷺ کا  حضرت ابوبکر صدیق رضي الله عنه کو نماز کے لیے مقدَّم ومقرَّر فرمانا، انہیں حضرت سیِّدُنا عمر رضي الله عنه جیسے جلیل القدر صحابی  پر ترجیح دینا، اور سیِّدُنا ابو بکر صدیق کی عدم موجودگی کے سبب سیِّدُنا عمر کو اِمامت کے لیے آگے بڑھائے جانے پر، اظہارِ ناراضگی فرمانا بھی، آپ رضي الله عنه کی اَفضلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

سیِّدنا عبد اللہ بن زمعہ رضي الله عنه اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے  فرماتے ہیں، کہ جب رسول اللہ ﷺ کی علالت نے شدّت اختیار کی، تو چند مسلمانوں کے ساتھ میں بھی حضور کی بارگاہ میں حاضر تھا، نماز کے لیے حضرت بلال رضي الله عنه نے آپ ﷺ کو بلایا، تو آپ نے فرمایا: «مُرُوا مَنْ يُصَلِّي لِلنَّاسِ!» “کسی سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے!” حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن زمعہ رضي الله عنه باہر نکلے تو حضرت عمر رضي الله عنه لوگوں میں موجود تھے، جبکہ سیِّدنا ابوبکر رضي الله عنه وہاں موجود نہیں تھے، اس پر میں نے کہا کہ اے عمر کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز پڑھائیے! وہ آگے بڑھے اور تکبیر کہی گئی، جب رسول اللہ ﷺ نےاُن کی آواز سنی (کیونکہ حضرت عمر بلند آواز رکھتے تھے) فرمایا: «فأينَ أبو بَكْرٍ؟ يأبى اللهُ ذَلِكَ وَالْمسْلِمُونَ! يَأْبَى اللهُ ذَلِكَ وَالمُسْلِمُونَ!» “ابوبکر کہاں ہے؟ اللہ تعالی اور مسلمان ابوبکر کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے! اللہ تعالی اور مسلمان ابوبکر کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے!” (دو بار)، لہذا حضرت ابوبکر رضي الله عنه کو بلایا گیا، وہ تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، جبکہ حضرت عمر رضي الله عنه نماز پڑھا چکے تھے([20])۔

سیِّدنا عبد اللہ بن زمعہ رضي الله عنه مزید فرماتے ہیں، کہ جب نبئ کریم ﷺ نے حضرت عمر رضي الله عنه کی آواز سنی، تو سروَر کونین ﷺ باہر تشریف لانے لگے، یہاں تک کہ سرِ اقدس حجرہ شریف سے باہر نکال کر فرمایا: «لَا لَا لَا! لِيُصَلِّ لِلنَّاسِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ!» “نہیں نہیں نہیں! لوگوں کو ابن ابی قُحافہ (یعنی ابوبکر صدیق) نماز پڑھائیں!” (راوی کاکہنا ہے کہ) حضور اکرم ﷺ یہ بات حالتِ جلال میں فرما رہے تھے([21])۔

ایک اَور حدیث پاک میں حضرت سيِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضي الله عنه سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لا ينبغي لقومٍ فِيهمْ أَبُو بَكْرٍ، أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ!»([22]) “جس قوم میں ابوبکر ہوں، انہیں لائق نہیں کہ ان کی امامت ابوبکر کے سوا کوئی اَور کرے!”۔

حضراتِ گرامی قدر! ہجرت کے وقت صحابۂ کرام رضي الله عنه کی ایک کثیر جماعت ہونے کے باوُجود، اللہ تعالی نے مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی صحبت کا شرف، حضرت سیِّدنا ابوبکر صدیق رضي الله عنه کے سوا کسی اَور کو نہیں بخشا۔ آپ رضي الله عنه کی یہ خصوصیت بھی سیِّدنا ابوبکر صدیق کے عظیم مرتبے، اور دیگر صحابۂ کرام رضي الله عنه پر آپ کی اَفضلیت پر دلالت کرتی ہے، ؏

سایۂ مصطفی مایۂ اِصطفی

 عزّ ونازِ خلافت پہ لاکھوں سلام

یعنی اُس افضلُ الخَلق بعدَ الرُسُل

 ثانی اثنَینِ ہجرت پہ لاکھوں سلام([23])

میرے محترم بھائیو! ہمارے اَسلاف بھی تمام صحابۂ کرام رضي الله عنه اور جمیع اُمّتِ مسلمہ پر، حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضي الله عنه کی اَفضلیت کے قائل تھے، جیسا کہ حضرت سالم بن ابی الجعد تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، کہ میں نے امام محمد بن حنفیہ سے عرض کی کہ “کیا حضرت ابوبکر سب سے پہلے اسلام لائےتھے؟  فرمایا: نہیں، میں نے کہا کہ پھر کیا بات ہے کہ ابو بکر سب سے بالا رہے ا ور پیشی لے گئے؟ یہاں تک کہ لوگ ان کے سوا کسی کا ذکر ہی نہیں کرتے! فرمایا: یہ اس لیے  کہ وہ اسلام میں سب سے افضل ہیں”([24])۔

امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہُ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ “انبیائے کرام رضي الله عنه کے بعد، سیِّدنا صدیقِ اکبر، اور اُن کے بعد سیِّدنا عمر فاروقِ رضي الله عنه، تمام لوگوں سے افضل  ہیں!”([25])۔

حضرت سفیان ثَوری رحمہُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “جس نے یہ کہا کہ حضرت علی رضي الله عنه ولایت (خلافت) کے زیادہ حقدار تھے، اس نے حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور مہاجرین وانصار، سارے صحابۂ کرام رضي الله عنه کو غلطی پر ٹھہرایا، اور میرے خیال میں اس خطا کے ہوتے ہوئے، اس شخص کا کوئی عمل قبول نہیں ہو سکتا!”([26])۔

اسی طرح حضرت امام شافعی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “لوگوں نے حضرت ابوبکر رضي الله عنه کی خلافت پر اِجماع واتفاق کرلیا؛ اس لیے کہ نبئ کریم ﷺ کی وفات کے بعد لوگوں میں سخت اضطراب پیدا ہوا، جب لوگوں نے زیرِ آسمان سیِّدنا ابوبکر صدیق رضي الله عنه سے بہتر کسی کو نہ پایا،تو اپنی گردنیں حضرت ابوبکر کے سامنے جھکا دیں”([27])۔

امام بغوی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، اورحضرت  علی شیر خدا رضي الله عنه، انبیاء ومرسَلین کے بعد تمام لوگوں سے افضل ہیں، اور پھر ان چاروں میں اَفضلیت کی ترتیب خلافت کے اعتبار سے ہے، حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضي الله عنه سب سے پہلے خلیفہ ہیں، لہذا وہ سب سے افضل ہیں، ان کے بعد سیِّدُنا عمر فاروق، پھر سیِّدُنا عثمان غنی اور  اُن کے بعد سیِّدُنا علی مرتضی رضي الله عنه افضل ہیں”([28])۔

خلفائے راشدین  کی اَفضلیت کے بارے میں اہلِ سنّت وجماعت  کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے، شیخ نجم الدین رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “نبئ کریم ﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے افضل سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضي الله عنه ہیں، اور اُن کے بعد سیِّدُنا عمر فاروق، پھر سیِّدُنا عثمانِ غنی، اور پھر سیِّدُنا علی مرتضی رضي الله عنه افضل ہیں”([29])۔

امامِ علّام ابو زکریا نوَوی رحمہ اللہ علیہ “شرح صحیح مسلم” میں فرماتے ہیں کہ “اہلِ سنّت  کا اس بات پر اتفاق ہے، کہ افضلِ صحابہ حضرت ابوبکر  رضي الله عنه ہیں”([30])۔

علّامہ قاضی عضد الدین رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “ہمارے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے بعد، حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضي الله عنه تمام لوگوں سے افضل ہیں”([31])۔

امام ابن حجر عَسقلانی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “اہلِ سنّت وجماعت کے درمیان اس بات پر اِجماع واتفاق ہے، کہ خُلفائے رَاشدین میں اَفضلیت اُسی ترتیب سے ہے، جس ترتیب سے خلافت ہے”([32])، یعنی سیِّدُنا صدیق اکبر رضي الله عنه سب سے افضل ہیں، اُن کے بعد سیِّدُنا عمر فاروق، پھر سیِّدُنا عثمان غنی اور پھر سیِّدُنا مولا علی رضي الله عنه افضل ہیں۔

امام ابن ہُمام حنفی رحمہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ “سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضي الله عنه (انبیائے کرام رضي الله عنه کے بعد) سب لوگوں سے افضل ہیں”([33])۔

میرے دوستو، بھائیو اور بزرگو!سیّدُنا ابو بکر صدیق رضي الله عنه کے مُقابلے میں  حضرت سیِّدُنا علی مرتضی رضي الله عنه یا کسی اَور صحابی کو افضل قرار دینا، یا خلیفہ بلا فصل ماننا، رافضی شیعوں اور تفضلیوں کا طریقہ ہے، ایسی بدمذہبی، بدعقیدگی اور بدفکری کے اَمراض وفِتن سے کوسوں دُور رہیے، حکمِ شریعت کے مطابق صحابہ واہلِ بیت کرام کا حسبِ مَراتب اَدب واحترام کیجیے، اَور اہلِ سنّت وجماعت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھیے!۔

اےاللہ! ہمیں سیِّدنا صدیق اکبر رضي الله عنه کی سچی محبت، ان کی شکرگزاری، اور ان کی سیرتِ طیّبہ پر عمل کی توفیق عطا فرما، ہمیں پابندِ شریعت حکمران عطا فرما، وطن عزیز میں نظامِ مصطفیٰ ﷺ رائج فرما ،  آمین یا رب العالمین!

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) “تاريخ الخلفاء” الخليفة الأوّل: أبو بكر الصدّيق h، صـ41، ملتقطاً.

([2]) پ10، التوبة: 40.

([3]) “تاريخ الخلفاء” الخلفاء الراشدون، صـ26-30، ملتقطاً.

([4]) “الدرّ المختار” كتاب الصلاة، باب الإمامة، 3/534، ملتقطاً.

([5]) پ30، الليل: 19.

([6]) “مستدرَك الحاكم” أبو بكر بن أبي قحافة k، ر: 4407، 5/1665. [قال الحاكم:] “هذا حديثٌ صحيحُ الإسناد ولم يخرجاه”.]وقال الذهبي:[ “صحيحٌ”.

([7]) پ 15، بني إسرائيل: 1.

([8]) انظر: “تفسير روح البيان” پ 27، النجم، تحت الآية: 8، 9/217.

([9]) “الطبقات الكبرى” الطبقة الأولى على السابقة في الإسلام ممن شهد بدراً من المهاجرين الأوّلين، ذكر بيعة أبي بكر h، 3/183.

([10]) “البداية والنهایة” ذكر اعتراف سعد بن عبادة بصحّة …إلخ، ٥/٢٤٨.

([11]) “تاريخ الخلفاء” الخلفاء الراشدون، صـ63، ملتقطاً.

([12]) “صحيح البخاري” كتاب المغازي، ر: 4035، 4036، صـ682.

([13]) المرجع نفسه، كتاب مناقب الأنصار، ر: 3834، صـ643، ملتقطاً.

([14]) “المعجم الكبير” سِنُّ أَبِي بَكْرٍ وَخُطْبَتُهُ وَوَفَاتُهُ h، ر: 38، ١/6٠.

([15]) “مسند الإمام أحمد” مسند السيِّدة عائشة i، ر: 24241، ٩/297.

([16]) “الشريعة” للآجرّي، باب ذكر دفن …إلخ، تحت ر: 1861، ٥/2382.

([17]) “صحيح البخاري” كتاب الأحكام، باب الاستخلاف، ر: 7217، صـ1243. و”صحيح مسلم” كتاب فضائل الصحابة j، باب من فضائل أبي بكر الصديق  h، ر: 6181، صـ1051.

([18]) “مستدرَك الحاكم” كتاب معرفة الصحابة، أمّا حديث ضمرة وأبو طلحة، ر: 4460، 3/82. ]قال الحاكم:[ هذا حديثٌ صحيحُ الإسناد ولم يخرجاه. [وقال الذهبي:[ “صحيحٌ”.

([19]) “مسند الإمام أحمد” مسند أبي سعيد الخدري h، ر: 11334، 17/215. و”صحيح البخاري” كتاب الصلاة، باب الخوخة والممر في المسجد، ر: 466، صـ81. و”سنن الترمذي” أبواب المناقب، باب، ر: 3678، صـ837. ]قال أبو عيسى:[ “هذا حديثٌ غريبٌ من هذا الوجه، وفي الباب عن سعيد”.

([20]) “سنن أبي داود” كتاب السنّة، باب استخلاف أبي بكر h، ر: 4660، صـ659. و”مستدرَك الحاكم” كتاب معرفة الصحابة j، ذكر عبد الله بن زمعة بن الأسود، ر: 6703، 3/743. ]قال الحاكم:[ “هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط مسلم ولم يخرجاه”. وسكت عنه الذهبي في “التلخيص”.

([21]) “سنن أبي داود” كتاب السنّة، باب استخلاف أبي بكر h، ر: 4661، صـ659.

([22]) “سنن الترمذي” أبواب المناقب، باب ]«لا ينبغي لقوم فيهم أبو بكر …إلخ[، ر: 3673، صـ836. ]قال أبو عيسى:[ “هذا حديثٌ حسن غريب”.

([23]) “حدائق بخشش” حصہ دُوم،؃ 226۔

([24]) “مصنَّف ابن أبي شَيبة” كتاب المَغازي، إسلام علي بن أبي طالب، ر: 36595، 7/338.

([25]) “الفقه الأكبر” المفاضلة بين الصحابة، 1/41. و”فواتح الرَّحموت” مسألة: الصحابي، 2/197، نقلاً عن الإمام r.

([26]) انظر: “الصواعق المحرقة” الفصل 2 في بيان انعقاد الإجماع على ولايته h، 1/44.

([27]) “معرفة السنن والآثار” باب ما يستدلّ به على صحة اعتقاد الشّافعي، ر: 353، 354، 1/153.

([28]) “شرح السنّة” كتاب الإيمان، باب الاعتصام بالكتاب والسنّة، ر: 102، 1/208.

([29]) “العقائد النَّسَفیة” صـ172.

([30]) “شرح صحیح مسلم” للنوَوي، کتاب فضائل الصحابة j، الجزء 15، صـ148.

([31]) “المواقف مع شرحه” الأصل8: المقصد 5: الأفضل بعد رسول الله g، الجزء 8، صـ397.

([32]) “فتح الباري” كتاب فضائل أصحاب النبي، باب قول النبيّ g: «لو كنت متخذاً خليلاً» ر: 3673، 7/34.

([33]) “المسايَرة” الأصل8: فضل الصحابة الأربعة، الجزء 2، صـ157.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *