توہینِ رسالت ﷺ  اور آزادئ اظہارِ رائے

Home – Single Post

توہینِ رسالت ﷺ  اور آزادئ اظہارِ رائے

برادرانِ اسلام! حضور خاتم النبیین ﷺ اللہ کے حبیب اور اس کے خلیفۂ اعظم ہیں، ان سے محبت وعقیدت مدارِ ایمان ہے، اُن کی تعظیم وتوقیر رکنِ ایمان، اور ایمان کی جان ہے۔ جب تک کسی مسلمان کے دل میں نبئ کریم ﷺ کی محبت اور تعظیم وتوقیر، اس کےاپنے ماں باپ، اولاد، جان ومال اور تمام جہان سے زیادہ نہ ہو جائے، وہ  کامل مؤمن نہیں ہوسکتا۔ اللہ ربّ العالمین حرمتِ رسول ﷺ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ﴿لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَتُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا﴾([1]) “اے لوگو! اللہ تعالىٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ! رسول الله کی تعظیم وتوقیرکرو! اور صبح و شام اللہ تعالى کی پاکی بولو!”۔

جو شخص اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتا ہے، اور اُن سے  محبّت کا دعویدار ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ  نبئ کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو تمام دنیاوی مفادات، اور ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھے، اور حضور کی خاطر بڑے سے بڑا جانی، مالی اور مُعاشرتی خطرہ مول لینے سے بھی گریز نہ کرے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَاَبْنَآؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُ ا۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ﴾([2]) “اے حبیب آپ فرما دیجیے! کہ اگر تمہارے باپ، اور تمہارے بیٹے، اور تمہارے بھائی، اور تمہاری عورتیں، اور تمہارا خاندان، اور تمہاری کمائی کے مال، اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے، اور تمہارى پسند کا مکان، یہ چیزیں الله اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیاد ہ پیاری ہوں، تو راستہ دیکھو (یعنی انتظار کرو) یہاں تک کہ الله تعالى  اپنا حکم لائے، اور الله فاسقوں کو راہ نہیں دیتا!”۔

سب مسلمانوں کے لیے نبئ کریم ﷺ سے محبت وعقیدت نہ صرف  فرضِ عین ہے، بلکہ ان کے تمام مال ومتاع اور عزیز ترین خونی رشتوں سے بھی مقدّم ہے، سرکارِ دو عالم ﷺ کو ہر ایک سے زیادہ محبوب رکھنا کمالِ ایمان، اور سچے مؤمن کی علامت ہے، حدیثِ پاک میں ہے، رَحمتِ کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»([3]) “تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اسے اس کے والدین، اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں!”۔

عزیزانِ محترم! رسول اللہ ﷺ کی عزّت وتکریم اور عظمت وناموس پر  متعدد آیات واحادیث کو بطورِ دلیل پیش کیا جا سکتا ہے، لیکن ہمارا مقصد یہاں دلائل کے انبار لگانا نہیں، بلکہ يورپ میں “توہینِ رسالت ﷺ” کے بڑھتے ہوئے واقعات کی طرف توجّہ دلانا ہے، کوئی  بھی شخص چاہے وہ کسی بھی مذہب کا پَیروکار ہو، اس کے لیے اپنے مذہب سے عقیدت و احترام اور جذباتی لگاؤ ایک فطری اَمر ہے، وہ عملی طور پر اپنی مذہبی تعلیمات سے کتنا ہی دور کیوں نہ ہو، لیکن اپنے مذہب اور دینی مقدّسات کی توہین کسی طور پر برداشت نہیں کرسكتا۔

1989ء میں “شمالی کیرولینا” میں منعقد ہونے والی نمائش میں ایک آرٹسٹ “آندرے سیرانو” نے حضرت سيِّدنا عیسیٰ علیہِ السَّلام کی، اور 1996ء میں “کرس اوفیلی” نے حضرت سيِّده بى بى مریم ضی اللہ عنہا کی چند قابلِ اعتراض پینٹنگز (Paintings) بنائیں، تو پوری عیسائی دنیا کی طرف سے اسے “توہینِ مذہب” قرار دے کر شدید احتجاج کیا گیا، اور “آزادئ اظہار” کے تمام اصول وقوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے آرٹسٹوں کی جانب سے، اس کی تمام توجیہات وتشریحات کو ماننے سے یکسر انکار کیا گیا([4])۔

حضراتِ گرامی قدر! مذہبِ عیسائیت کے ماننے والے، اپنے دینی مقدّسات کی توہین پر احتجاج کرنے، اور ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں، حضرت سیِّدنا عیسیٰ روح اللہ اور ان کی والدہ ماجدہ   حضرت سیِّدہ مریم ضی اللہ عنہا کی ذاتِ والا صفات ہم مسلمانوں کے لیے بھی قابلِ صد احترام بلکہ ایمان کا حصہ ہیں، ان کا ادب، احترام اور تعظیم ہر مسلمان پر فرض ہے، اور تمام علمائے امّت کے نزدیک کسی بھی نبی کی توہین وتنقیص کفر ہے، اس کا مرتکب واجب القتل ہے۔

جبکہ یورپی مُعاشرہ کا دوہرا معیار یہ ہے، کہ جب کوئی سیاہ فام لوگوں کا مذاق اڑاتا ہیں، تو ویسٹرن ورلڈ اسے نسل پرستی (Racism) کہتے ہیں۔

اور جب کوئی یہودیوں کا  تمسخر اڑاتا ہے، تو اس کو یہودیوں کے خلاف تعصّب (Anti Semitism) کہتے ہیں۔

اور جب کوئی خواتین کا مذاق اڑائے، تو اسے جنس پرستی (Sexism) اور عورت دشمنی سے تعبیر کرتے ہیں۔

لیکن جب یہ لوگ مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہیں، تو اسے آزادئ اظہار (Freedom of Speech) کہتے ہیں۔ اور اس کے ردِ عمل میں کوئی مسلمان جوابی کاروائی کرے، تو اسے دہشت گرد کہہ کر فوراًسزا دے دی جاتی ہے۔

عزیزانِ گرامی! دوسری صدی ہجری کے ناموَر مجتہد اور چیف جسٹس امام ابو یوسف رحمۃُ اللہ علیہ “توہینِ رسالت” سے متعلق، حکمِ شرعی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ “کوئی بھی مسلمان جو نبئ کریم ﷺ کو گالی دے، یا رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرے، یا عیب جُوئی کرے، یا سروَرِ عالم ﷺ کی شان میں کمی کرے، اس نے کفر کا ارتکاب کیا”([5])۔

حضراتِ ذی وقار! گستاخِ رسول کی سزا قتل ہے، اس سلسلے میں علمائے اُمّت کا ہمیشہ سے اجماع واتفاق رہا ہے، نویں9 صدی ہجری  كے ناموَر فقیہ “علّامہ ابنِ بزّاز رحمۃُ اللہ علیہ” تحریر فرماتے ہیں  کہ “جو رسول اﷲ ﷺ یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے، دنیا میں بعدِ توبہ بھی اسے سزائے موت دی جائے گی، یہاں تک کہ اگر نشہ کی بے ہوشی میں کلمۂ گستاخی بکا، جب بھی مُعافی نہیں ہوگی، اور تمام علمائے امّت کا اجماع و اتّفاق ہے کہ نبی ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر ہے، اور کافر بھی ایسا کہ جو اس کے کافر ومستحقِ عذاب ہونے میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے”([6])۔

عزیزانِ محترم! گستاخِ رسول کی توبہ قبول نہیں! اس لیے اگر کوئی شخص گستاخی کا ارتکاب کرنے کے بعد توبہ کر لے، تو کسی  بھی حکمران يا صدر یا وزیر اعظم كو یہ اختیار نہیں، کہ وہ اسے اپنے صوابدیدی اختیارات کے تحت مُعاف کرسكے، يا اس کی توبہ قبول کرسكے، گیارہویں11 صدی ہجری کے معروف عالمِ دین “علّامہ خیر الدین رملی رحمۃُ اللہ علیہ” ارشاد فرماتے ہیں کہ “جو کافر توبہ کرے، اس کی توبہ دُنیا و آخرت میں قبول ہے، مگر کچھ کافر ایسے ہیں جن کی توبہ قبول نہیں، (ان میں سے) ایک وہ (ہے) جو ہمارے نبیﷺ يا کسی اَور نبی کی شان میں گستاخی کے سبب کافر ہوا ہو”([7])۔

میرے بھائیو!  ظلم وزیادتی، نا انصافی، اِہانتِ مذہب یا دینی مقدّسات کی توہین پر کسی بھی نَوعیت کا ردِعمل، انسانی فطرت کا تقاضا  ہے، اور اگر اہانت کا یہ عمل (معاذ اللہ) نبئ کریم ﷺ کی ذات سے متعلق ہو،  تو پھر  اس  ردِ عمل میں شدّت کا آجانا ایک لازمی اَمر اور تقاضۂ ایمان ہے، جسے قانون کی بندش میں باندھنا تقریباً ناممکن ہے۔

لہذا مشرق ومغرب میں بسنے والی تمام اقوامِ عالم، اگر یہ چاہتیں ہیں کہ دنیا امن وامان اور سكون کا گہوارہ بنی رہے، مُعاشرتی ہم آہنگی برقرار رہے، اور دنیا  کا سکون غارت نہ ہو، تو اس عظيم مقصد كے لیے ہمیں مذہبی رواداری کو فروغ دینا ہوگا، ایک دوسرے کے مذہبی جذبات اور دینی مقدّسات کا خیال رکھنا ہوگا، رسولِ کریم ﷺ سمیت تمام انبیائے کرام علیہِ السَّلام کی عزّت وناموس کی پاسداری کرنی ہوگی، اور ہر شخص کو  یہ بات اچھی طرح سمجھنی ہوگی، کہ ایک مسلمان کے لیے مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی ذاتِ اقدس کس قدر اَہمیت کی حامل ہے، ایک مسلمان کٹ مر تو سکتا ہے، لیکن اپنی جان سے پیارے نبی ﷺ کی شان میں کوئی گستاخی تو بہت دور کی بات ہے، گستاخی کا ادنیٰ شائبہ تک  برداشت نہیں کر سکتا۔

اقوامِ متحدہ بالخصوص یورپی یونین کو اس حوالے سے، خاص طور پر انتہائی مؤثّر قانون سازی کرکے اسے سختی کے ساتھ عملی جامہ پہنانا ہوگا! اور “ناموسِ رسالت ﷺ” کے حوالے سے “آزادئ اظہار رائے” کی حدود وقیود کو واضح طور پر متعین کرنا  ہوگا! تاکہ اس کی آڑ میں روز بروز بڑھتی ہوئی انتہاء پسندانہ سوچ اور عزائم پر قابو پایا جا سکے، بصورتِ دیگر جو کچھ انجام ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

مسلمان كا اپنے نبی ﷺ سے تعلق

یہ بھی ضرور پڑھیں : مسلمان كا اپنے نبی ﷺ سے تعلق

حضراتِ گرامی قدر! اکثر وبیشتر يورپی ممالک کا یہ دعوی ہے، کہ ان کے ملک میں ہر شہری کو بلا امتیازِ مذہب اور رنگ ونسل، یکساں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی حاصل ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں، اگر غیر جانبدارانہ طور پر بنظرِ غائر   اس چیز کا تجزیہ و مُشاہدہ کیا جائے، تو ہر ذی شُعور پر یہ بات روز ِروشن کی طرح آشکار ہو جائے گی، کہ جس قدر مذہبی مُنافرت، انتہاء پسندی اور توہینِ مذہب کا مُظاہرہ  يورپی ممالک میں ہو رہا ہے، دنیا کے کسی اَور خطے  میں  اس کی مثال نہیں ملتی۔

حضراتِ ذی وقار! الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا نیز تاریخ بھی گواہ ہے، کہ گزشتہ دو2 دہائیوں سے يورپ میں ” آزادئ اظہارِ رائے” کے نام پر “ناموسِ رسالت ﷺ”، “توہینِ مذہب” اور “دینی مقدّسات” پر حملوں میں بہت تیزی واقع ہوئی ہے، اس میں شک نہیں کہ توہینِ رسالت و  اِہانتِ مذہب کے واقعات  ماضی میں بھی پیش آتے رہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ گزشتہ  بیس20 سالوں میں نام نہاد “آزادئ  اظہار” کی ساری قوّت اسلام اور اس کے شعائر کی توہین کے لیے استعمال ہوتی رہی۔

اٹھارہ18 ستمبر 2002ء کو  ایک جنونی مذہبی عیسائی رَہنما “جیری فال” نے امریکی چینل “فاکس نیوز” (Fox news) پر اسلام کے بارے میں انتہائی نازیبا  کلمات کہے، اور(معاذ اللہ) نبئ اکرم ﷺ کو دہشت گرد كہا۔ اسی دوران امریکی ریاست ہوسٹن کے ایک سینما گھر میں نبئ کریم  ﷺ کی اَزدواجی زندگی كے بارے میں، ایک توہین آمیز فلم کی نمائش کی گئی۔

4 دسمبر 2002ء کو “روزنامہ اُمّت” نے  ایک پاکستانی تاجر کے حوالے سے یہ خبر شائع کی، کہ ٹوکیو (جاپان) میں آیاتِ قرآنیہ،  سروَرِ کونین ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کے ناموں  پر مشتمل پرنٹڈ شرٹس (Shirts) اور کپڑے فروخت کیے جارہے ہیں۔

2004ء میں ہالینڈ کے فلمساز ” تھیون وان گو” نے دس10 منٹ پر مشتمل ایک دستاویزی فلم “سب مشن” (Submission) تیار کی، جس میں مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی ذاتِ مقدّسہ، اور اسلامی نظامِ عفت و عصمت کو تضحیک و توہین کا نشانہ بنایا گیا۔

2005ء میں سویڈن کے ایک شہر گوتھن برگ (Gothenburg) کے “میوزیم آف ورلڈ کلچر” میں ایڈز کے حوالے سے ایک  نمائش کا انعقاد ہوا، جس میں قرآنی آیات پر مشتمل برہنہ پینٹنگز پیش کی گئیں۔

2005ء ہی میں ایک امریکی ریالٹی  شو ” تھرٹی ڈیز” (30 days)  میں (معاذ اللہ) دو2 بار رسولِ اکرم ﷺ کے توہین آمیز خاکے دکھانے کی ناپاک جسارت کی گئی۔

10 ستمبر 2005ء میں ڈنمارک کے اخبار “جیلنڈز پوسٹن” (Jyllands Posten) نے نبئ اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کے بارے میں، بارہ12 کارٹونز شائع کر کے، امّتِ مسلمہ کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا۔ اس کے بعد  فروری 2006ء اور اگست 2007ء میں یہ توہین آمیز خاکے دوبارہ  شائع کیے گئے۔

“آزادئ اظہارِ رائے” کا غلط اور ناجائز استعمال کرتے ہوئے اس گھناؤنی اور سوچی سمجھی  سازش میں، ڈنمارک کے ساتھ ساتھ  فرانس، جرمنی، ناروے، ہالینڈ اور اٹلی سمیت تمام امریکی ریاستوں کے ذرائع اِبلاغ نے بھی بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ اور اس بار  گستاخانہ خاکوں کے علاوہ خانۂ کعبہ اور دیگر اسلامی اَحکام وشعائر کی توہین کی بھی ناپاک جسارت  کی گئی۔

عزیزان محترم! 11 فروری 2006ء میں جرمنی  سے تعلق رکھنے والے ایک جنونی انتہاء پسند نے (معاذ اللہ) ٹوائلٹ پیپرز پر “قرآنِ پاک” پرنٹ کر کے اُنہیں مساجد اور میڈیا کی طرف بھیجا۔

12 جولائی2007 ء میں سویڈن کے ایک شخص “لارز ویلکس” نے نبئ اکرم ﷺ کی توہین آمیز پینٹنگ بنائی۔ 15 فروری 2008 ءمیں معروف ویب سائٹ “وکی پیڈیا” (Wikipedia) پر نبئ کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کیے گئے، دنیا بھر میں مسلمانوں کے احتجاج  کے باوجود، ویب سائٹ اِنتظامیہ نے مذہبی مُنافرت پر مبنی ان خاکوں کو ہٹانے سے اِنکار کیا، یہ خاکے ابھی تک “وکی پیڈیا” پر موجود ہیں، اور شب وروز  امتِ مسلمہ کی دل آزاری کا سبب بن رہے ہیں۔

2008ء میں ہالینڈ کے فلم ساز “گریٹ ویلڈرز” کی بنائی گئی متنازع اور توہین آمیز فلم “فتنہ” سامنے آئی، اس فلم میں اِسلامی قوانین اور مصطفى جانِ رحمت ﷺ کی تضحیک کی گئی، اور قرآنی آیات کو برہنہ ادا کارہ کے جسم پر لکھ کر “توہینِ مذہب وتوہینِ قرآن” کا ارتکاب کیا گیا۔

17 مئی 2008ء میں ہالینڈ کے ایک کارٹونسٹ (Cartoonist)نے نبئ رحمت ﷺ کے خاکے بنا کر اپنی ویب سائٹ پر لگا دیے۔ بعد میں عدالتی حکم پر ان خاکوں کو ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔ 2010ء میں نیو یارک کے “میٹرو پولیٹن میوزیم آف آرٹ” میں تاجدارِ رسالت ﷺ کے خاکوں پر مشتمل پینٹنگز رکھی گئیں، تاہم مسلمانوں کے احتجاج اور شدید ردِ عمل کے خوف سے ان کو نمائش کے بغیر ہی ہٹا دیا گیا۔

مئی 2010ء  میں يورپی شرپسند عناصر کی جانب سے، فیس بک اور سوشل میڈیا کی دیگر ویب سائٹس پر، نبئ اکرم ﷺ کے خاکے بنانے کی عام دعوت دی گئی۔

11 ستمبر 2010ء کو فلوریڈا (امریکہ) کے ایک چرچ میں “ٹیری جونز” (Terry Jones) نامی ایک انتہاء پسند عیسائی پادری نے، قرآنِ پاک کو جلانے کا اعلان کیا، لیکن مسلمانوں کے شدید رد عمل کے سبب اپنے مذموم مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا، اس بدبخت عیسائی دہشتگرد نے اپنا منصوبہ ترک نہ کیا، اور اگلے ہی سال 20 مارچ 2011ء میں اپنے دیگر  انتہاء پسند ساتھیوں کے ہمراہ قرآنِ پاک کو نذرِ آتش کر  دیا۔

20 نومبر 2010ء میں فرانس کے ایک ہفت روزہ میگزین “چارلی ہیبڈو” (Charlie Hebdo) نے نبئ اکرم ﷺ کے گستاخانہ خاکوں پرمشتمل خصوصی ایڈیشن شائع کرنے کا اعلان کیا، اور  باقاعدہ اس کا  ٹائیٹل بھی انٹرنیٹ پر شیئر کیا۔ اس کے ردِ عمل میں  مسلم ہیکرز  (Muslim Hackers) نے اس میگزین کی ویب سائٹ (Website) ہیک (Hack) کر لی، اور بعض مسلمان نوجوانوں نے اپنے مذہبی جذبات مجروح ہونے کے سبب، اس میگزین کے دفتر پر  فائر بم کے ذریعے حملہ بھی کیا۔

اسی طرح 21 ستمبر2012ء میں ایک اسرائیلی نژاد یہودی  ڈائریکٹر “نکولا بیسلی نیکولا” نے ہالی وڈ  (Holly Wood) میں پیغمبرِ اسلامﷺ کی ذاتِ اقدس کے بارے میں توہین آمیز فلم بھی  ریلیز کی([8])۔

2011ء اور 2014ء میں فرانسیسی میگزین “چارلی ہیبڈو” کی جانب سے  توہین آمیز خاکوں کو دوبارہ شائع کیا گیا، جس پر مسلم ممالک میں شدید غم وغصے کا مظاہرہ اور احتجاج کیا گیا، ان خاکوں کے شائع کرنے کی وجہ سے 2015ء میں اس میگزین کے دفتر پر دوبارہ  حملہ ہوا، اور پندرہ15 افراد کی ہلاکت ہوئی۔

2018ء میں ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے بد نصیب دہشتگرد “گیرٹ ویلڈرز” نے توہینِ رسالت پر مبنی “گستاخانہ خاکے” شائع کرنے کا اعلان کیا، لیکن پاکستانی مسلمانوں کے شدید ردِ عمل اور حکومت کی سفارتی کوششوں کے سبب، ہالینڈ کی حکومت نے مداخلت کرتے ہوئے ان کی اِشاعت کو رکوا دیا۔

ستمبر 2020ء میں “چارلی ہیبڈو” نے ایک بار پھر توہینِ رسالت کا  ارتکاب کرتے ہوئے، گستاخانہ خاکوں کو نہ صرف  شائع کیا، بلکہ انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی كے ساتھ مسلمانوں کی مزید دل آزاری کرتے ہوئے، میگزین کے اداریے میں یہ بھی لکھا کہ “یہ تصویریں (توہین آمیز خاکے) تاریخ سے متعلق ہیں، اور تاریخ کو نہ ہی دوبارہ لکھا جا سکتا ہے، اور نہ ہی مٹایا جا سکتا ہے”۔ جبکہ یہ بات سراسر جھوٹ پر مبنی اور تاریخی حقائق کے خلاف ہے۔

گزشتہ ماہ 6 اکتوبر 2020ء کو فرانس کے ایک بد بخت دہشتگرد اسکول ٹیچر “سیموئل پیٹی” نے رسولِ اکرم ﷺ کے بنائے ہوئےتوہین آمیز خاکے، اپنے طلباء کو دکھانے کی ناپاک جسارت کی، اور کلاس میں موجود مسلمان طلباء کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا، رسول اکرم ﷺ سے اپنی لا زوال محبت وعقیدت کے سبب، ایک چیچن نوجوان سے یہ بات برداشت نہ ہوئی، اور اس نے اس گستاخی کی ناپاک جسارت کرنے والے ملعون کا سر قلم کر دیا۔

حضراتِ گرامی قدر! فرانسیسی صدر “ایمانویل میکرون” (Emmanuel Macron) نے مذہبی مُنافرت پھیلانے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے، اس  بدبخت دہشتگرد اسکول ٹیچر کے اس فعل کی مذمّت کرنے کے بجائے، ایسے نازک موقع پر انتہائی جانبدارانہ رویہ اختیار کیا، اور فرانس میں بسنے والےپچاس50 لاکھ سے زائد مسلمانوں کے جذبات کی پرواہ کیے بغیر، اسے فرانس کا قومی ہیرو قرار دیتے ہوئے “لیجن آف آنر” (Legion of Honor) کے اعلیٰ ترین سِول (Civil) اِعزاز سے نوازا۔

یاد رہے کہ  فرانس میں یہ اِعزاز اس شخص کو  دیا جاتا ہے، جس نے آرمی یا شہری سطح پر غیر معمولی خدمات انجام دی ہوں۔ فرانس کے صدر نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس کے حکم پر اس کا سوگ سرکاری سطح پر منایا گیا، اور اس کی یاد میں تمام سرکاری عمارتوں پر توہینِ رسالت ﷺ پر مبنی “گستاخانہ خاکے” آویزاں کیے گئے، اور ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  فرانسیسی صدر نے یہ بھی  کہا کہ “متنازع کارٹونز یا خاکوں  کی اِشاعت سے کسی طور پر دستبردار نہیں ہوا جائے گا”۔

فرانسیسی صدر کے اس  غیر ذمہ دارانہ بیان اور طرزِ عمل کے خلاف، دنیا بھر میں پر امن احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، فرانسیسی مصنوعات کا مُعاشی بائیکاٹ کیا جا رہا ہے، مختلف ممالک میں موجود  فرانسیسی سفیروں کو احتجاجی مراسلے بھی تھمائے جا رہے ہیں، بعض مسلم ممالک فرانس میں موجود اپنے سفیروں کو واپس بلانے کے حوالے سے بھی باہم مشورہ کر رہے ہیں، لیکن امتِ مسلمہ کے ليے سوچنے کی بات یہ ہے، کہ “آزادئ اظہارِ رائے” کا غلط اور ناجائز استعمال صرف اسلام ہی  کے خلاف کیوں ہو رہا ہے! گزشتہ بیس20 سالوں میں توہینِ مذہب سے متعلق یورپی ممالک میں جتنے بھی واقعات پیش آئے، تقریباً سب کے سب اسلام کے خلاف تھے، آج تک ہمارے  سننے میں نہیں آیا کہ “آزادئ صحافت” یا “آزادئ اظہارِ رائے” کا سہارا لیتے ہوئے، کسی یورپی باشندے، چینل یا اخبار نے اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب، یا ان کے شعائر کی توہین کی ہو، کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یا کوئی سوچی سمجھى سازش! مسلمان مفکرین، علمائے کرام، وکلا صاحبان، تاجر حضرات، کاروباری طبقہ، صحافی برادری، تمام سیاستدان اور ہمارے حکمران، عالمی حالات وواقعات  کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ، اس حوالے سے خوب سوچ  بچار کریں، اور اپنے اپنے دائرۂ کار کے مطابق “توہینِ رسالت ﷺ” کے اس طوفانِ بدتمیزی کو  روکنے میں اپنا اپنا بھرپور کردار ادا کریں، ورنہ یاد رکھیے ؏

تمہاری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

حضراتِ گرامى قدر! غور وفکر کا مقام ہے، کہ توہینِ رسالت اور توہینِ مذہب کے سب سے زیادہ واقعات، يورپ میں ہی  کیوں ہو رہے ہیں؟! اور فرانس کی صورتحال تو اس قدر ابتر ہو چکی ہے کہ “اِہانتِ مذہب” کی نجاست سے، اب وہاں  کی درس گاہیں اور تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں رہے، اسکولز اور کالجز میں علمی تشنگی دور کرنے کے بجائے، انہیں رحمتِ عالم ﷺ کی شان میں گستاخی پر مجبور کیا جارہا ہے، ان سے “گستاخانہ خاکے” بنوائے جا رہے ہیں، اور انہیں اسلام کے خلاف ورغلا کر اسلامی تعلیمات سے انکارى بنایا جا رہا ہے، بلکہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق تو، فرانس میں مسلمان بچوں کو خنزیر کا گوشت کھانے پر بھی مجبور کیا جاتا ہے؛ تاکہ وہ خود کو “سچے فرنچ شہری” ثابت کر سکیں۔ اسی طرح “گستاخانہ خاکوں” کے خلاف پُر امن احتجاج کرنے والے مسلمانوں کو قتل کی دھمکیوں سے بھرے خطوط بھیجے جا رہے ہیں، حجاب اوڑھنے والی مسلمان خواتین کے خلاف اِنتہائی نازیبا زبان استعمال کی جا رہی ہے، قانون پسند مسلم شہریوں کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے، بے گناہ لوگوں کو گرفتار کر کے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، حکومتِ فرانس سے باقاعدہ رجسٹرڈ مسلم تنظیموں کو غیر قانونی طور پر کالعدم قرار دیا جا رہا ہے، مساجد کی بندش کے ذریعے مذہبی آزادی پر پابندی عائد کی جا رہی ہے، ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں تاحال تقریباً  ستّر70 سے زائد مساجد کو نماز کے لیے بند کیا جاچکا ہے۔

لیکن یہ سب کرتے وقت فرانسیسی حکومت  شاید اس حقیقت  کو فراموش کر بیٹھی ہے، کہ مسلمان فرانس کی کل آبادی کا آٹھ8 فیصد ہیں، یورپ میں آبادی کے اعتبار سے عیسائیت کے بعد، دوسرا بڑا مذہب اسلام ہے، صرف فرانس میں ان کی تعداد پچاس لاکھ سے زائد ہے، لہذا یاد رکھنا چاہیے کہ مسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی کے بھی کچھ حقوق ہیں، جنہیں ہر گز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

فرانسیسی صدر یقیناً اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے، کہ شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بینَ الاقوامی قانون آئی، سی، سی، پی، آر (International Covenant On Civil And Political Rights) کے آرٹیکل (27) کے مطابق “ایسی ریاست جہاں مذہبی یا لسانی اقلیت موجود ہو، وہاں اقلیت کو اپنی تہذیب اور مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی حاصل  ہے”([9])۔ اسی طرح  آرٹیکل (2) کی سیکشن 1 کے مطابق “کوئی بھی ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ  ان کے مذہب کى بنیاد پر امتیازی سُلوک (Discriminate) نہیں برت سکتی”([10])۔

لہٰذا فرانس سمیت تمام يورپی ممالک کو یہ بات خوب سمجھ لینی چاہیے، کہ  ہمارے پیارے نبئ کریم ﷺ ہم مسلمانوں کے دلوں میں بستے ہیں، جب کوئی ان  کی توہین کرتا ہے تو ہمیں اس سے دلی تکلیف پہنچتی ہے، اور دل کو پہنچنے والا دکھ جسم کو پہنچنے والے دکھ سے بہت زیادہ درد دیتا ہے، لہذا حضور کی شان میں بار بار  گستاخی سے امتِ مسلمہ کے، نہ صرف جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے، بلکہ یورپی ممالک میں بسنے والےمسلمان شہریوں کے حقوق بھی پامال ہو رہے ہیں، لہذا ہم تمام اقوامِ عالم کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں، کہ “جیو اور جینے دو!”۔

اگر یورپ نے اپنی رَوش نہ بدلی، تو مُعاملہ صرف پر امن احتجاج یا سوشل بائیکاٹ (Social Boycott) تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ “عالمی عدالتِ انصاف” (International Court Of Justice)  کا دروزاہ بھی ضرور کھٹکھٹایا جائے گا، اور یورپ کو اسی زبان میں جواب دیا جائے، جسے وہ سمجھتا ہے۔

حضراتِ محترم! جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، کہ یورپ میں رائج “آزادئ اظہارِ رائے” کے قانون کا غلط ترین استعمال اسلام کے خلاف ہو رہا ہے، یہ سیکولر ازم کے حامیوں کا وہ ہتھیار ہے، جسے جب چاہیں اور جہاں چاہیں استعمال کیا جا سکتا ہے، لہذا یہ جاننا ہمارے لیے اشد ضروری ہے کہ  “آزادئ اظہارِ رائے” سے مراد کیا ہے؟ اور اس کی حدود وقیود کیا ہیں؟۔

میرے عزیزو! “آزادی اظہارِ رائے” ایک وسیع المعنی اصطلاح ہے، اِس کی متعدد تعریفیں بیان کی گئیں ہیں، البتہ مخصوص تعریف کوئی  نہیں ہے۔ “لیگل ڈکشنری” (Legal Dictionary) کے مطابق “آزادئ اظہارِ رائے سے مراد خیالات کا بلا روک ٹوک اظہار ہے، چاہے وہ زبانی طور پر ہو یا چھاپ کر، یا پھر کسی بھی دوسرے ذریعے سے، سب اس میں داخل ہیں”([11])۔

جبکہ “نیو ورلڈ انسائیکلوپیڈیا” (New World Encyclopedia) کے مطابق اپنے خیالات، معلومات، اور آراء کے آزادانہ اظہار کو بھی “آزادئ اظہارِ رائے” کہا جاتا ہے([12])۔

اسی طرح اقوامِ متحدہ نے “منشور برائے انسانی حقوق” (Charter Of Human Rights) کے آرٹیکل (19) میں “آزادئ اظہارِ رائے” کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ “ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے، اور اظہارِ رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے، اس حق میں یہ امر بھی داخل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی رائے قائم کرے، اور جس ذریعے سے چاہے، بغیر ملکی سرحدوں کا خیال کیے، علم اور خیالات کی تلاش کرے، انہیں حاصل کرے اور ان کی تبلیغ کرے”([13])۔

برادرانِ اسلام! ایسا لگتا ہے کہ بنیادی طور پر یہی وہ شق ہے، جس سے جیری فال، ٹیری جونز، گیرٹ ویلڈر، اور سیموئل پیٹی جیسے بدنصیبوں کو توہین آمیز کارٹونز، فلمیں اور گستاخانہ خاکے بنا نے کی شہ مل رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ بلا کسی خوف وخطر  کے، اپنے تمام ذرائعِ ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے، آئے روز “ناموسِ رسالت” پر حملہ آور ہو رہے ہیں، یورپی  ممالک اس شق کی آڑ میں عدم روا داری اور مذہبی مُنافرت کو پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں، نیز انتہاء پسندی کو فروغ دے رہے ہیں۔

یقیناً انسانی حقوق کا منشور تشکیل دینے والوں کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہوگا، کہ اس شق کی آڑ میں کسی بھی مذہب  کی اِہانت کی جائے، یا انبیائے کرام علیہِ السَّلام کے گستاخانہ خاکے بنائے جائیں! کیونکہ اگر ان کا مقصد یہ ہوتا تو وہ اسی منشور کے آرٹیکل (29) کی شق 2 میں ہر طرح کی آزادی  کو محدود کرتے ہوئے، اور انہیں اس بات کا پابند کرتے ہوئے یہ ہرگز  نہ لکھتے کہ “اپنی آزادیوں اور حقوق سے فائدہ اٹھانے میں ہر شخص صرف ایسی حدود کا پابند ہوگا، جو دوسروں کی آزادیوں اور حقوق کو تسلیم  کرانے اور ان کااحترام کرانے کی غرض سے ہوں، یا جُمہوری نظام میں اخلاق، امنِ عامہ، اور عام فلاح وبہبود کے مناسب لوازمات کو پورا کرنے کے لیے، قانون کی طرف سے عائد کیے گئے ہوں”([14])۔

حضراتِ گرامی قدر! اقوامِ متحدہ کے  اس “چارٹر آف ہیومن رائٹس” (Charter Of Human Rights) کے مذکور ہ آرٹیکل میں اس امر کی طرف واضح اشارہ موجود ہے، کہ مشرق ہو یا یورپ، دوسروں کے حقوق اور احترام کے بارے میں، ملکی قوانین کی پابندی کرنا ہوگی، ان  کےتمام دینی ودنیاوی حقوق میں رواداری اورباہمی ہم آہنگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، اور ان کے مذہبی جذبات کا خیال اور احترام   کرتے ہوئے، انہیں مجروح ہونے سے بچانا ہوگا، لیکن اگر کوئی ملک “فرانس” کی طرح  اپنے شہریوں کے ساتھ رنگ ونسل اور زبان یا مذہب کی بنیاد پر، طبقاتی تفریق کا مُظاہرہ کرے، تو اسی آرٹیکل (29) کی  شق 3 انہیں اس بات کا بھی پابند  کرتی ہے کہ “یہ حقوق اور آزادیاں کسی حالت میں بھی، اقوامِ متحدہ کے مقاصد اور اصول کے خلاف عمل میں نہیں لائی جا سکتیں”([15])۔

جبکہ  آرٹیکل (30) میں “آزادئ اظہارِ رائے” یا کسی بھی نَوعیت کی آزادی کے غلط اور ناجائز استعمال سے بچنے کی تنبیہ کرتے ہوئے، مزید یہ بھی لکھا کہ “اس اعلان کی کسی چیز سے کوئی ایسی بات مراد نہیں لی جا سکتی، جس سے کسی ملک، گروہ، یا شخص کو کسی ایسی سرگرمی میں مصروف ہونے، یا کسی ایسے کام کو انجام دینے کا حق پیدا ہو، جس کا منشاء ان حقوق اور آزادیوں کی تخریب ہو، جو یہاں (اس منشور میں) پیش کی گئی ہیں”([16])۔

عزیزانِ مَن! بعض لوگ “آزادئ اظہارِ رائے” پر یورپ کا عمل ویقین دیکھتے ہوئے، اسے یورپی ممالک کے عقائد میں شمار کرتے ہیں، اور اسے کفریہ قرار دیتے ہیں، جبکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ مروّجہ “آزادئ اظہارِ رائے” بنیادی طور پر  اقوامِ متحدہ کے منشور برائے انسانی حقوق کا صرف ایک قانون ہے، عقیدہ ہرگز نہیں ہے۔ یہ قانون اس منشور کے آرٹیکل (19) کے تحت مذکور ہے([17])، اسے مطلقاً کفر قرار نہیں دیا جا سکتا، ہاں البتہ جہاں اظہارِ رائے کی یہ آزادی قرآن و حدیث کے صریح اَحکام  سے متصادِم ہو، وہاں اس کے کفر ہونے میں شبہ نہیں، اور اگر اظہارِ رائے کی آزادی اہلِ یورپ کا عقیدہ ہوتی، تو “توہینِ مسیح ” یا “ہولوکاسٹ” (Holocaust) کے خلاف بات کرنے پر قید وبند کی سزاؤں کا کوئی تصوّر نہ ہوتا۔

بعض امریکی ریاستوں کے آئین میں “اِہانتِ مذہب” کے بارے میں ایسے قوانین بھی موجود ہیں، جو “آزادئ اظہارِ رائے” کی حد متعین کرتے ہیں، اور اس کے بطورِ عقیدہ ہونے کی نفی کرتے ہیں، جیسا کہ “میسا چوسٹس” (Massachusetts) کے آئینی باب (272) کی سیکشن 36 میں مذکور ہے کہ “جو کوئی ارادةً خداوند کے پاک نام کی گستاخی، یا اس کی خلّاقی، حکومت، آخرت کے انکار، اِہانت، ملامت کی صورت میں کرے، یا حضرت عیسیٰ علیہِ السَّلام کی مقدّس روح کی قابلِ نفرت انداز میں ملامت کرے، یا مذاق اُڑانے کی صورت میں اِہانت کرے، یا خدا کے پاک نام (جو عہد نامہ قدیم و جدید میں درج ہے) کا مذاق اُڑائے، اس کی سزا جیل کی سلاخیں ہیں”([18])۔

میرے عزیز دوستو! اقوامِ متحدہ (United Nations) کے پلیٹ فارم سے دنیا میں بسنےوالے ہر انسان کے لیے، چار4 بنیادی حقوق مقرّر کیے گئے ہیں:

(1) حقِ آزادی (Right to Freedom)

(2) حقِ تنقید (Right to Criticism)

(3) حقِ خود ارادیت (Right to Self Determination)

(4) آزادئ اظہارِ رائے (Right to Freedom of Speech)

ان قوانین کی حیثیت ایک محوَر کی سی ہے، البتہ ہر ملک میں ان کی تعبیر وتشریح جدا جدا ہے، اکثر وبیشتر ممالک نے اپنی داخلی وخارجی صورتحال کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے ، انہیں بعض حدود وقیود اور استثنائی صورتوں کے ساتھ رائج کر رکھا ہے۔

“یورپی کنونشن” کے آرٹیکل (10) میں آزادئ اظہارِ رائے  کی حدود اور احترامِ مذہب کے حوالے  سے مذکور ہے کہ “ہر شخص اظہارِ رائے کی آزادی رکھتا ہے، اور یہ حق اسے کسی انتظامی رکاوٹ کے بغیر حاصل رہے گا …لیکن یہ حق کچھ پابندیوں کے ساتھ حاصل ہوگا، ان کی خلاف ورزی پر سزا اور جرمانہ دونوں ہی دیے جاسکتے ہیں، یہ آزادی قومی سلامتی اور سوسائٹی کے امن وامان میں خلل انداز نہ ہونے سے مشروط ہے، ریاست کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی سلامتی، علاقائی خود مختاری، پبلک سیفٹی کے تمام تقاضوں کے پیشِ نظر، لوگوں کی صحت، اَخلاقیات، اور دوسرے تمام بنیادی حقوق کو مذہب کی توہین کے جرم سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے”([19])۔ اسی طرح 25 اکتوبر 2018ء میں یورپی یونین کی عدالت برائے انسانی حقوق (European Court of Human Rights) بھی “توہینِ رسالت” سے متعلق ایک مقدّمے کا تاریخ ساز  فیصلہ سناتے ہوئے، واضح طور پر  یہ قرار دے چکی ہے  کہ “پیغمبرِ اسلام کی توہین، آزادئ اظہارِ رائے کے زمرے میں نہیں آتی؛ کیونکہ اس سے مذہبی امن خطرے میں پڑتا ہے”([20])۔

فرانسیسی آئین کے آرٹیکل (11) میں ہے کہ “اظہارِ رائے کی آزادی ہر انسان کا حق ہے، اور وہ اس حق کی بنیاد پر اپنی مرضی سے بول، لکھ اور اشاعت کر سکتا ہے، لیکن یہ حق قانون کے اندر دی جانے والی پابندیوں سے مشروط ہے”۔

اسی طرح ناروے کے دستور میں آرٹیکل (100) کے تحت مذکور ہے کہ “ملک میں پریس کی آزادی ہوگی، اور کسی شخص کو تحریر پر سزا نہیں دی جاسکے گی، لیکن اگر کوئی ایسا عمل جان بوجھ کر، یا کسی کے اکسانے پر کرے گا، جس سے مذہب کی توہین کاپہلو نکلتا ہو، تو یہ عمل قابلِ سزا ہوگا”۔

جرمنی کے آئین کے آرٹیکل (11)  سیکشن 167 میں ہے کہ “مذہب اور مذہبی عبادات کی توہین قابلِ سزا جرم ہے، اس کی سزا زیادہ سے زیادہ تین3 سال تک ہوسکتی ہے”۔

نیوزی لینڈ کے کرائم ایکٹ 1967ء کے پارٹ 7 میں تحریر ہے کہ “مذہب اور اَخلاقیات اور پبلک ویلفیئر کے خلاف کہی ہوئی بات، لکھی ہوئی تحریر اور توہین آمیز مواد کی اِشاعت پر ایک سال قید یا جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے”۔

اسی طرح ہالینڈ کریمنل کوڈ  میں آرٹیکل (147) اور اسپین میں آرٹیکل (525) کے تحت یہ قانون موجود ہے کہ “مذہب کے بارے میں منفی اور توہین آمیز بات برداشت نہیں کی جاسکتی”۔

اسی طرح “نیدر لینڈ ” کے آرٹیکل (7) میں ہے کہ “نفرت آمیز مواد کی اِشاعت کی اجازت نہیں ہے”([21])۔

حضراتِ گرامى قدر! مختلف يورپی ممالک کے دستور میں موجود ان قوانین وضوابط سے پتہ چلتا ہے کہ “احترامِ  مذہب” کے حوالے سے يورپ کے دل میں کچھ نہ کچھ جذبات اب بھی باقی ہیں، یورپی یونین اگر مخلصانہ طریقے سے اس سلسلے میں چند سنجیدہ اِقدامات کرے، اور عملی طور پر ان قوانین کے نفاذ کو یقینی بنائے، تو “توہینِ مذہب” کے حوالے سے کسی نئی قانون سازی کی شایدضرورت نہ رہے، لیکن المیہ اور دکھ کی بات یہ ہے، کہ اس مُعاملے میں یورپ کا رویہ انتہائی تعصبانہ ہے، اور وہ يورپ میں اسلام کے بڑھتے ہوئے اثر اور رجحان سے خائف ہے، یورپ اور امریکہ میں اسلام جس قدر تیزی سے پھیل رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے وہ لوگ خوف زدہ ہیں، کہ اگر یہ رفتار یونہی برقرار رہی، تو آئندہ نصف صدی میں مسلمان یورپ اور امریکہ کی سب سے بڑی طاقت ور آبادی کی شکل اختیار کرلیں گے، اور مذہبِ عیسائیت کے پیروکار اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے، اپنے اسی خوف کے پیشِ نظر، وہ لوگ “اسلامو  فوبیا” (Islamo Phobia) کا شکار ہو چکے ہیں، ناموسِ رسالت ﷺ پر بار بار حملے کرکے مسلمانوں کی کردار کشی کی جا رہی ہے، مسلمانوں پر انتہاء پسندی اور دہشتگردی کا لیبل لگا کر، اہلیانِ یورپ کو اسلام سے بدظن کر نے کی ناكام کوشش کی جا رہی ہے! تاکہ کوئی عیسائی، یہودی یا سیکولر شخص اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر دائرۂ اسلام میں داخل نہ ہو جائے!۔

حضراتِ ذی وقار! یورپی ممالک کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کی بار بار  اِشاعت، دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے ایمان اور نظریاتی اساس پر حملہ ہے، ایسی ناپاک جسارت اگر کوئی عام شخص کرے، تو یہ اس کا انفرادی وذاتی فعل قرار پاتا ہے، لیکن اگر اس کی پشت پناہی سرکاری سطح پر ہو، اور حاکمِ وقت خود اس میں ملوّث پایا جائے، تو اسے عالمِ اسلام کے خلاف “اعلانِ جنگ” تصوّر کیا جائے گا!!۔

گزشتہ دنوں فرانسیسی صدر کی جانب سے، توہینِ رسالت ﷺ پر مبنی “گستاخانہ خاکوں” کی نشرواِشاعت کا سلسلہ سرکاری سطح پر علی الاعلان واقع ہوا، اس پر دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات شدید مجروح ہوئے، اگر غور کیا جائے تو یہ عالمی امن وامان کو تباہ کرنے کی ایک بہت بڑی سازش اور انٹرنیشنل دہشتگردی ہے، جسے  دنیا میں انتہاء پسندی کے بڑھاوے کے مذموم مقاصد کی تکمیل، اور اس کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے انجام دیا جارہا ہے۔

حکومتی سطح پر مذہبی مُنافرت سے بھرپور مواد کی اشاعت، تاریخ میں اپنی نوعیت کا غالباً پہلا واقعہ ہے، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، لیکن فی الوقت ضرورت اس امر کی ہے، کہ مذمتی بیانات کے ساتھ ساتھ “گستاخانہ خاکوں” کے خلاف کچھ عملی اقدام کرکے یورپی ممالک کو یہ مؤثر پیغام دیا جائے، کہ اس قسم کی ناپاک جسارت کو آئندہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں چاہے جو بھی قیمت چکانا پڑی، ہم چکائیں گے، لیکن اپنےپیارے  نبی ﷺ کی عزّت وناموس پر کسی قسم کی آنچ ہرگز نہیں  آنے دیں گے!!۔

میرے محترم بھائیو! ہم امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ “تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ” کے لیے پوری قوّتِ ایمانی کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوں، اور بار بار ہونے والے اس شیطانی عمل کو روکنے کے لیے عملی طور پر اِقدامات کا آغاز کریں۔ ہم بحیثیت قومِ مسلم سب سے پہلے اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سے یہ مطالبہ کرتے ہیں، کہ اس واقعہ کا فوری نوٹس لیں، اور فرانس کے خلاف تادیبی کاروائی کا آغاز کریں، اسی طرح  فرانسیسی صدر کو بھی اس بات کا پابند کیا جائے، کہ وہ دنیا بھر کے میڈیا کے سامنے بیٹھ کر مسلمانوں سے مُعافی مانگے۔ نیز اقوامِ متحدہ  کے منشور برائے انسانی حقوق، اور یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے قوانین، ضوابط اور فیصلوں کی روشنی میں فرانس کے خلاف “عالمی عدالتِ انصاف” میں مقدّمہ دائر کیا جائے، اور مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم “او، آئی، سی” (Organisation of Islamic Cooperation) کو بطورِ فریق شامل کیا جائے۔  

علاوہ ازیں اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے “احترامِ مذہب” اور “ناموسِ رسالت” کے حوالے سے ایک واضح لائحہ عمل دیا جائے، جو آزادئ اظہارِ رائے اور مختلف انسانی طبقات کے ایمان ومذہب اور ان کے دینی مقدّسات کی حفاظت کے مابین توازُن پیدا کرے۔ اسی طرح اس قانون میں آفاقی مذاہب کے ہر بانی کی توہین پر مبنی مواد کی کسی بھی صورت میں اشاعت کو عالمی جرم قرار دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ  مشرق ويورپ كےتمام ممالک باقاعدہ قانونی طریقۂ کار كو اختیار کرتے ہوئے قانون کے عملى نفاذ کو یقینی بنائیں، اور توہین آمیزمواد کی اشاعت کو ناقابلِ مُعافی  جرم قرار دیں۔

اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی کے تمام رکن ممالک، فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں، اور “اسلامو فوبیا ” کے سبب مسلمانوں سے نفرت کے بڑھتے  ہوئے واقعات، اور گستاخانہ خاکوں جیسی کارروائیوں پر گہری نظر رکھیں، اور خاکم بدہن ایسی صورتحال دوبارہ پیش آنے کی صورت میں، متفقہ لائحہ عمل اپنائیں، صرف مذمتی قرار دادیں پاس كرنے کرانے پر اکتفا کے بجائے عملی اقدامات كریں، جو ملک “توہینِ رسالت” کا مرتکب ہو، اسے مشترکہ طور پر ناپسندیدہ ریاست قرار دیں، ان کے سفیروں کو ملک بدر کیا جائے، اپنے سفیر واپس بلائے جائیں، ہر سطح کی تجارت کا بائیکاٹ کیا جائے،  اور  دفاعی مُعاہدوں کو بھی ختم کیا جائے۔

توہینِ رسالت  ﷺکے حالیہ واقعات کے باعث ترک صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے، امتِ مسلمہ کو فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل، اور وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے  فرانس کے ساتھ کیے گئے ڈھائی سو ارب ڈالر کے مُعاہدے کی تنسیخ کا اعلان، انتہائی خوش آئند اور جرأتمندانہ اِقدام ہے۔ دیگر اسلامی ممالک کو بھی پاکستان اور ترکی کی طرح اس مسئلے پر فرنٹ لائن میں آنا چاہیے! کیونکہ یقینی طور پر  وہ سیاسی اور مُعاشی طور پر اتنے کمزور ہر گز نہیں، کہ حکومتِ فرانس پر دباؤ نہ  ڈال سکیں، یا اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر نہ کر سکیں!۔

میرے دوستو، بھائیو اور بزرگو! حضورِ اكرم ﷺ کی ناموس کی حفاظت ایمان کی ضمانت ہے، اگر کوئی مسلمان حضور نبئ كريم ﷺ  کی گستاخی برداشت کر سکتا ہے، تو اسے مسلمان کہلانے کاکوئی حق نہیں پہنچتا۔ دوسری صدی ہجری کے عظیم بزرگ عالمِ دین اور محدّث حضرت سیِّدنا امام مالک رحمۃُ اللہ علیہ نے ایک موقع پر خلیفہ ہارون الرشید سے فرمایا کہ “اس امت کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں، جس کے نبی ﷺ کو گالیاں دی جائیں”([22])۔

پیارے بھائیو! آج ہمارے ایمانی جذبات سے کھیلا جارہا ہے، اور بار بار توہین آمیز کارٹونز، فلمیں، پینٹنگز، اور مذہبی مُنافرت سے بھرپور تحریر وتقریر کے ذریعے  ہمارى غیرتِ ایمانی کوللكارا جارہا ہے، لہذا ہمیں اپنی تمام مصلحتوں اور مادّی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خوابِ غفلت سے جاگنا ہو گا، اورمصطفی جانِ رحمت ﷺ کی اس بکھری امت کو متحد کرنے کا فریضہ انجام دینا ہی ہو گا۔ کتنے افسوس  کی بات ہے کہ دنیا میں پچاس50 سے زائد طاقتور اور مضبوط اسلامی ممالک ہونے کے باوجود، دنیا کے ہر خطے میں صرف  مسلمان قوم ہی مظلوم ومعتوب ہے، نہ ہمارى جان  محفوظ ہے، اور نہ ہمارا دین،  کہیں “ٹیری جونز” جیسے جنونی پادری کلامِ الٰہی کو شہید کر ر ہے ہیں، تو کہیں ہمارے نبئ کریم ﷺ کی ذات ہی طعن وتشنیع کا نشانہ بنائی جارہی ہے،  کہیں گستاخانہ خاکے بنائے جا رہے ہیں، تو کہیں توہین آمیز فلمیں بنا کر ان کی کردار کشی کی جا رہی ہے، اور ان کی عفت وعصمت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے، کہ ہم اپنی ترجیحات کا رخ متعین کریں، اور نظامِ مصطفی ﷺ کے نفاذ کے لیے کوششیں تیز تر کردیں۔

اللہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہو، اور اپنے رحمت والے پیارے نبی ﷺ کی برکت سے تمام دنیا سے دہشت گردی، بدامنی، بے سکونی، فتنہ وفساد، اور شیطانی اور طاغوتی قوتوں  کو نیست ونابود فرمائے، اور پوری دنیا میں امن وامان اور صحت وسلامتی کی فضا قائم فرمائے!۔

اے اللہ! ہمیں اور ہماری آنے والی تمام نسلوں کو، ناموسِ رسالت ﷺ پر پہرہ دینے کی توفیق عطا فرما، اور آزادئ اظہار رائے کے نام پر ہمارے نبئ کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے، بدبختوں کو نیست ونابود فرما، یہود ونصاریٰ کی طرف سے، اسلام مخالف ہر سازش کو ناکام بنا۔

اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا۔ ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، اس میں سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اخلاص کی دولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔

ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت والفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!۔

اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) پ26، الفتح: 9.

([2]) پ10، التوبة: 24.

([3]) “صحيح البخاري” باب حبُّ الرّسول ﷺ من الإيمانِ، ر: 15، صـ6.

([4]) “مکالمہ” 23 اگست 2018ء، توہین آمیز خاکوں کا مقابلہ اور ہماری اخلاقی ودینی ذمہ داری۔

([5]) “الخراج” لأبي يوسف، فصل في الحكم في المرتدّ عن الإسلام، صـ182.

([6]) “الفتاوى البزازية” كتاب ألفاظ …، الفصل 2، النوع 1، 6/321، 322.

([7]) “الفتاوى الخيرية” كتاب السير، باب المرتدّين، 1/171.

([8])  دیکھیے: “دليل” 25 اكتوبر2020، فرانسیسی صدر کا پاگل پن ، توہین رسالت …الخ۔
 ([9])International Covenant on Civil and Political Rights, P.No: 14.

([10]) International Covenant on Civil and Political Rights, P.No: 2.

([11]) http://legaldictionary/F/FreedomofExpression.aspx

([12]) newworldencyclopedia.org/entry/Freedom_of_Speech

([13]) “انسانی حقوق کا عالمى منشور”؃ 8۔

([14]) “انسانی حقوق کا عالمى منشور”؃ 12۔

([15]) “انسانی حقوق کا عالمى منشور”؃ 12۔

([16]) “انسانی حقوق کا عالمى منشور” ؃ 12۔

([17]) “انسانی حقوق کا عالمى منشور”؃ 8۔

([18]) “امن عالم كو درپيش خطرات اور آزادئ اظہارِ رائےکی درست تعبیر وتشریح”؃ 7۔

([19])  دیکھیے: “جسارت بلاگ” آن لائن، توہینِ مذہب اور یورپی ممالک کے قوانین۔

([20]) دیکھیے: “پیغمبرِ اسلام کی توہین آزادئ اظہارِ رائے نہیں ہے” بی بی سی اردو، 26 اکتوبر 2018ء۔

([21])  دیکھیے: “جسارت بلاگ” آن لائن، توہین مذہب اور یورپی ممالک کے قوانین۔

([22]) “الشفا” فصل في الحجّة في إيجاب قتل من سبّه أو عابه، الجزء2، صـ138.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *