زوجین  کے باہمی حقوق

Home – Single Post

زوجین  کے باہمی حقوق

Table of contents

عزیزانِ محترم! اسلام دینِ فطرت اور ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات واَحکام میں زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق واضح رَہنمائی ملتی ہے، مرد وعورت کی اَزدواجی زندگی (Married Life) بھی انہی شعبوں میں سے ایک ہے، قرآن وحدیث میں زَوجین (میاں بیوی) کے حقوق کو بڑے واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے؛ تاکہ میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق کا  خاص خیال رکھیں، اور باہم محبت، احترام، اِحسان، وفا شِعاری اور خوش اُسلوبی کے ساتھ زندگی گزاریں،کہ زَوجین کے مابین باہم محبت واُلفت اور حُسنِ سُلوک قدرت كا ایک انمول تحفہ ہے!۔

برادرانِ اسلام! زَوجَین کو ایک دوسرے کے حقوق کا خاص خیال رکھنا چاہیے؛ کیونکہ میاں بیوی کا رشتہ اسلام میں بڑی اہمیت کا حامل ہے، اللہ رب العالمین نے اس رشتہ کو اپنی نشانیوں میں شمار فرمایا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَمِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠﴾([1]) “اور اُس کی نشانیوں ميں سے ہے، کہ تمہارے ليے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے؛ تاکہ اُن سے آرام پاؤ، اور تمہارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی، یقیناً اس میں نشانیاں ہیں دھیا ن کرنے والوں کےليے!”۔

Spouse right in islam

یہ بھی ضرور پڑھیں :حقوقِ زوجین ووفاداری

حضراتِ گرامی قدر! اپنے شَوہر کے ساتھ وفا شِعار رہنا، اس کے مال، گھر بار اور بال بچوں کی حفاظت کرنا، شوہر کا حق اور عورت کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ﴾([2]) “تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں، خاوَند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں”۔

حضرت سیِّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رحمتِ عالمیان ﷺ نے فرمایا: «ألَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ المَرْءُ! المَرْأَةُ الصَّالِحَةُ، إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْه، وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْه، وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْه»([3]) “کیا میں تمہیں آدمی کا بہترین خزانہ نہ بتاؤں! وہ نیک عورت ہے کہ جب آدمی اس کی طرف دیکھے تو اسے خوش کر دے، اور جب اسے كوئى حکم دے تو تعمیل کرے، اور جب وہ غائب ہو تو پیچھے سے مُحافِظ رہے!”۔

عزیزانِ مَن! بیوی کی طرف سے شوہر کی رضا وخوشنودی کا خیال رکھنا، شوہر کے بنیادی حقوق میں سے ہے، اور اس کا بدلہ واِنعام عورت کے لیے جنّت ہے، حضرت سیِّدہ اُم سلَمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «أيُّما امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ، دَخَلَت الجَنَّةَ»([4]) “جو عورت اس حال میں مَرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو، وہ جنّت میں داخل ہوگی!”۔

لہذا شادی شدہ عورت پر لازم ہے کہ  ہرحال میں شریعت کے مُوافق اُمور میں، اپنے شوہر کی رضا وخوشنودی کا خیال رکھے، اس کی پسند کو ترجیح دے، اور اُس کا دل جیتنے کی بھرپور کوشش کرے، اور اگر کسی بات پر شوہر ناراض ہو جائے، تو اُسے جلد سے جلد راضی کرنے کی کوشش کرے، اور اپنی غلطی کی اُس سے معافی چاہے، کہ ایسا کرنا ناراضگیوں اور رنجشوں کو جلد  ختم کرتا ہے!۔

 رشتہ داروں کے حقوق

یہ بھی ضرور پڑھیں :رشتہ داروں کے حقوق

جانِ برادر! عورت پر مرد كى اِطاعت وفرمانبردارى شوہر کے حقوق میں سے ہے، حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے فرمایا: «لَوْ كُنْتُ آمِراً أَحَداً أَنْ يَسْجُدَ لأَحَدٍ، لأَمَرْتُ الْمرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا»([5]) “اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ اللہ کے سِوا کسی کو سجدہ کرے، تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے!”۔ لہذا عورت کو چاہیے کہ اپنے شوہر کے حقوق میں کوئی کمی نہ آنے دے، اور کسی قسم کی کوتاہی نہ بَرتے، یہاں تک کہ دیگر کام کاج میں کتنی ہی مصروف کیوں نہ ہو، اپنے شوہر کا حکم پہلے بجا لائے، اور  دیگر کام بعد میں کرے، حضرت سیِّدنا قَیْس بن طَلْق بن علی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «إِذَا الرَجُلُ دَعَا زَوجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَنُّورِ»([6]) “جب شوہر بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے، تو فوراً اُس کے پاس آجائے چاہے تنّور پر ہو” یعنی کتنے ہی ضروری کام میں مصروف ہو، سب کچھ ترک کرکے پہلے اپنے شوہر کی حاجت پوری کرے، اور اس کے بعد دیگر کام کاج دیکھے۔

حضراتِ ذی وقار! شوہر کی موجودگی میں عورت کو چاہیے، کہ اُس   کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے؛ کہ نفلی روزہ کے باعث شوہر کی خدمت میں خلل واقع ہو سکتا ہے، اس کی حق تلفی ہو سکتی ہے، حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے فرمایا: «لاَ تَصُومُ المَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ»([7]) “شوہر کی موجودگی میں عورت اُس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے”۔ البتہ رمضان المبارک کے فرض روزے رکھنے کی لیے شوہر کی اجازت ضروری نہیں، بلکہ اگر شوہر فرض روزے سے روکے، تو اس مُعاملے میں شوہر کی اِطاعت نہ کرے؛ کیونکہ اللہ تعالی کی معصیت ونافرمانی پر مشتمل کاموں میں، شوہر سمیت کسی کی اِطاعت وفرمانبرداری جائز نہیں!۔

اسی طرح نفلی روزوں کے علاوہ دیگر نفلی عبادات میں شوہر کی اجازت لینا ضروری نہیں، لیکن اگر شوہر وقتی طَور پر منع کرے، اور عورت کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہے، تو عورت کو چاہیے کہ اپنی بات پر اِصرار نہ کرتے ہوئے شوہر کی بات مان لے، اور  نفلی عبادت کو کسی دوسرے وقت کے لیے مؤخَّر کر دے!۔

اسلام میں بچوں کے حقوق

یہ بھی ضرور پڑھیں :اسلام میں بچوں کے حقوق

حضراتِ گرامی قدر! عورت کا اپنے شوہر کے لیے بننا سنورنا، اور اس کا مال سلیقے سے خرچ کرنا بھی شوہر کا حق ہے، حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ سے عرض کی گئی کہ عورتوں میں کونسی بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِيمَا يَكْرَهُ في نَفْسِهَا وَمَالِهِ»([8]) “جسے دیکھ کر شَوہر خوش ہو جائے، اور کوئی  حکم  دے تو اِطاعت کرے، اور اپنے (بناؤ سنگھار کے) بارے میں شوہر کی مخالفت نہ کرے، اور خاوند کا مال سلیقہ سے خرچ کرے”۔

اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگار کرنا، عورت کے حق میں نفل نماز سے افضل ہے، امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “عورت کا اپنے شوہر کے لیے گہنا پہننا، بناؤ سنگار کرنا، باعث اجر عظیم اور اس کے حق میں نمازِ نفل سے افضل ہے۔ بعض صالحات کہ خود اور اُن کے شوہر دونوں صاحب اولیائے کرام سے تھے، ہر شب بعد نماز عشاء پورا سنگار کرکے دلہن بن کر اپنے شوہر کے پاس آتیں، اگر ان کی اپنی طرف حاجت پاتیں حاضر رہتیں، ورنہ زیور ولباس اُتار کر مصلّی بچھاتیں اور نماز میں مشغول ہو جاتیں”([9])۔

میرے محترم بھائیو! عورت کا اپنی عزّت، عصمت اور پاکدامنی کی حفاظت کرنا بھی شوہر کے حقوق میں سے ہے، سرکارِ دو جہاں ﷺ نے فرمایا: «إِذَا صَلَّتِ المَرْأَةُ خَمْسَهَا، وَصَامَتْ شَهْرَهَا، وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا، وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا، قِيلَ لَهَا: ادْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ!»([10]) “جو عورت پنچ وقتہ فرض نماز قائم کرے، ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اپنی عزت وعصمت کی حفاظت کرے، اور اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرے، تو اس سے کہا جائے گا کہ جنّت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہو جاؤ!”۔

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! عورت کا شوہر کے آگے احسان مند اور شُکر گزار رہنا بھی شوہر  کے حقوق میں سے ہے، اور جو عورت اس حق میں کوتاہی بَرتے، اور شوہر کا شُکر ادا نہ کرے، اللہ تعالی اُس عورت کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا، حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عَمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَا يَنْظُرُ اللهُ إِلىٰ امْرَأَةٍ لَا تَشْكُرُ لِزَوْجِهَا، وَهِيَ لَا تَسْتَغْنِي عَنْهُ»([11]) “اللہ تعالی اُس عورت کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا، جو اپنے شَوہر کی ناشکری ہے، حالانکہ اسے اپنے شَوہر کی ضرورت بھی ہے!”۔

نیز شوہر کی ناشکری جہنم میں لے جانے کا باعث ہے، حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «وَرَأَيْتُ النَّارَ، فَلَمْ أَرَ كَاليَوْمِ مَنْظَراً قَطُّ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ» “میں نے جہنم کو دیکھا، اور آج جیسا منظر  پہلے کبھی نہیں دیکھا، میں نے دیکھا کہ  جہنّم میں زیادہ تعداد عورتوں کی ہے” صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اس کی کیا وجہ ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «بِكُفْرِهِنَّ» “اپنی نا شُکری کے سبب” صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کیا وہ اللہ تعالی کی نا شُکری کرتی تھیں؟ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «يَكْفُرْنَ العَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ»([12]) “وہ اپنے شوہر کی نا شکری کرتی تھیں، اور اس کی بھلائی کا انکار کرتی تھیں”۔ لہذا شوہر امیر ہو یا غریب، ہرحال میں اُس کے احسان مند اور شُکر گزار رہیں، کہ جو بندوں کا شُکر گزار نہیں ہوتا، وہ اللہ تعالی کا بھی شُکر ادا نہیں کرتا!۔

عزیزانِ محترم! مشکل وقت میں شوہر کی ڈھارس بندھانا، اور اُسے حوصلہ دینا بھی عورت کی اَخلاقی ذمہ داری ہے، امّ المؤمنین حضرت سیِّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے پہلی وحی کے بعد نبئ کریم ﷺ سے عرض کی: «وَاللهِ مَا يحْزنكَ اللهُ أَبداً! إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلى نَوَائِبِ الْحقِّ!»([13]) “بخدا اللہ تعالی آپ کو ہرگز غمزدہ نہ کرے گا!؛ کیونکہ آپ تو صلہ رحمی فرماتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں، لوگوں کو (مال اور اَخلاق وغیرہ) عطا فرماتے ہیں جو اُن کے پاس نہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، اور راہِ حق میں پیش آنے والے مَصائب میں مدد فرماتے ہیں!”۔

حضراتِ گرامی قدر! شوہر کے حقوق میں سے یہ بات بھی ہے، کہ عورت بلاوجہ اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ نہ کرے، اور جو عورت ایسا کرے گی اُس پر جنّت کی خوشبو بھی حرام ہے، حضرت سیِّدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أيُّما امْرَأَةٍ سَألَتْ زَوْجَهَا طَلاَقاً فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ»([14]) “جو عورت بلاوجہ اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے، اُس پر جنّت کی خوشبو بھی  حرام ہے!”۔ اور جنّت کی خوشبو پانچ سو500 برس کی مسافت سےآتی ہے([15])۔

حضراتِ ذی وقار! اگر شوہر وفات پا جائے تو عورت پر لازم ہے، کہ   چار 4 ماہ دس 10 دن اپنے شوہر کی موت کا سوگ منائے؛ کہ یہ بھی شوہر کے حقوق میں سے ہے، اور دیگر حقوق کی طرح اس حق (سوگ) کی پاسداری بھی عورت پر لازم ہے، حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے فرمایا: «لَا يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ عَلى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلى زَوْجٍ؛ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْراً»([16]) “جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، اُس کے لیے جائز نہیں کہ کسی میّت پر تین3 دن سے زیادہ سوگ کرے، سوائے اپنے شوہر کے، کہ اُس پر چار4 مہینے دس10 دن سوگ کرے”۔

برادرانِ اسلام! جس طرح قرآن وحدیث میں شوہر کے حقوق بیان کیے گئے، اور عورت (بیوی) کو حکم دیا گیا کہ شوہر کے حقوق کی پاسداری کرے، اُس کی اِطاعت وفرمانبرداری کرے، اپنی عزّت وعصمت کی حفاظت کرے، شوہر کے گھر بار، مال ودَولت اور بال بچوں کا خیال رکھے، اسی طرح اسلامی تعلیمات میں شوہر کو بھی اس بات کا پابند کیا گیا ہے، کہ اپنی عورتوں (بیویوں) کے ساتھ حُسنِ سُلوک سے پیش آئے، اور اُن کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ﴾([17]) “اور ان سے اچھا برتاؤ کرو”۔

حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سروَرِ کونین ﷺ نے مَردوں سے فرمایا: «اسْتَوْصُوْا بِالنِّسَاءِ [خَيْراً]»([18]) “عورتوں (بیویوں) سے خیر خواہی کرو!”۔

ایک اَور مقام پر رحمتِ عالمیان ﷺ نے عورتوں سے اچھے برتاؤ کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: «لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقاً، رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ»([19]) “کوئی مسلمان مرد (شوہر) کسی مسلمان عورت (بیوی) سے  متنفّر نہ ہو، اگر کسی ایک عادت سے وہ ناخوش ہے، تو اس کی کسی دوسری خصلت سے خوش بھی تو ہوگا!”۔

عزیزانِ محترم! فرائض وواجبات کی ادائیگی اور نیک کاموں میں مدد کرنا، شوہر پر بیوی کے حقوق میں سے ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ﴾([20]) “اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ، جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں!” لہٰذا مرد پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اچھے انداز سے اپنے گھر والوں کو نماز روزے اور ہر نیک کام کی تلقین کرتا رہے!۔

جانِ برادر! عورت کے حق مہر کی بخوشی ادائیگی عورت کا حق اور مرد پر لازم ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَاٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً﴾([21]) “عورتوں کو اُن کے مہر خوشی سے دو!”۔ عموماً لوگ حق مہر کو بہت معمولی سمجھتے ہیں اور اس کی ادائیگی نہیں کرتے، ایسا کرنا حکمِ الہی کی صریح خلاف ورزی ہے، اور ایسا کرنے والا سخت گنہگار ہے!۔

عزیزانِ مَن! اپنے گھر والوں کے ساتھ محبت، شفَقت اور حُسنِ سُلوک سے پیش آنا بھی عورتوں (بیویوں) کے بنیادی حقوق میں سے ہے، اُم المؤمنین حضرت سیِّدہ عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:  «خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لأهْلِه، وَأنا خَيْرُكُمْ لأهْلِي»([22]) “تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہے، اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ تم میں سب سے بہتر ہوں!”۔

حضرت سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أَكْمَلُ المْؤْمِنِينَ إِيماناً أَحْسَنُهُمْ خُلُقَاً، وَخِيارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسائهِم»([23]) “تمام مسلمانوں میں ایمان کے اعتبار سے کامل وہ ہے جو اَخلاق میں سب سے اچھا ہے، اور تم میں سے بہترين شخص وہ ہے جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا ہے!”۔

مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے اپنی اَزواج ِ مطہَّرات سے کمال درجے کی شفَقت، مہربانی اور حُسنِ سُلوک فرمایا، حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «يَجْلِسُ عِندَ بَعيرِه فَيَضَعُ رُكْبتَهٗ وَتَضعُ صَفِيّةُ رِجْلَها عَلىٰ رُكْبَتِه حَتّٰى تَرْكَبَ»([24]) “رسول اللہ ﷺ اپنے اونٹ کے پاس  تشریف فرما ہوکر اپنا گُھٹنا رکھتے، اور حضرت سیِّدہ صفیّہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے گھٹنے پر اپنا پاؤں رکھ کر اُونٹ پرسوار ہوتیں”۔

محبت، شفَقت اور حُسنِ سُلوک سے پیش آتے ہوئے مصطفی جانِ رحمت ﷺ حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کو یوں مخاطَب فرماتے: «يا عَائِش!»([25]) “اے عائش!” اور کبھی فرماتے: «یَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ!»([26]) “اے صدیق كى بيٹى!” یہ سب اُن کی اور اُن کے گھر والوں کی عزّت وتکریم، اُن سے انتہائی محبت اور قُربت کے اظہار کا بہترین نمونہ ہے!۔

جانِ برادر! میاں بیوی کے اَزدِواجی مُعاملات کی پردہ پوشی میاں بیوی کے مشترکہ حقوق میں سے ہے، حضرت سیِّدنا ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ الله مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الرَّجُلَ يُفْضِي إِلىٰ امْرَأَتِهِ وَتُفْضِيْ إِلَيْهِ، ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا»([27]) “اللہ تعالی کے نزدیک قیامت کے دن بد ترین شخص وہ ہوگا، جو اپنی عورت کے قریب جائے اور عورت اُس کے قریب جائے، پھر وہ اس کا راز اِفشاء کر دے”۔

حضراتِ گرامی قدر! اگر کسی شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہوں، تو سب میں عدل وانصاف کرنا بھی اُن کا حق اور شوہر کی ایک بڑی ذمہ داری ہے، سرکارِ دوجہاں ﷺ نے فرمایا: «إنَّ المُقسِطِينَ عِندَ اللهِ عَلى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، عَن يَمِينِ الرَّحمن b، وَكِلتَا يَدَيهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعدِلُونَ فِي حُكمِهم وَأَهلِيهم وَمَا وَلُوا»([28]) “عدل وانصاف کرنے والے اللہ تعالی کے نزدیک، اللہ کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے -اور اللہ تعالی کے ہاں دونوں طرف دائیں ہیں- یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اہل وعِیال اور اپنے ماتحتوں میں عدل وانصاف کرتے ہیں”۔

نبئ کریم ﷺ نے اپنی متعدد اَزواج ہوتے ہوئے سب کے درمیان عدل ومُساوات قائم رکھا، سب کی باریاں مقرّر فرما کر ان کے ساتھ برابر وقت گزارا، اور سب کی دِلجوئی  فرمائی۔ ام المؤمنین حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتی ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ انصاف سے باریاں تقسیم  کرتے، اور بارگاہِ الٰہی A میں عرض کرتے: «اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ!»([29]) “اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے جس کا مجھے اختیار ہے، اور مجھے اُس پر ملامت نہ کرنا جو تیرے اختیار میں ہے، اور میں اس پر اختیار نہیں رکھتا!”۔

حضراتِ ذی وقار! آج کَل لوگ دو2 بیویوں میں انصاف نہیں کر پاتے، کسی کے پاس زیادہ وقت گزارتے ہیں، کسی کے پاس کم، اور بعض  تو ایسے ہیں کہ دوسری شادی کرتے ہی پہلی بیوی کے حقوق کو یکسر نظر انداز کرنا شروع کر دیتے ہیں، اُس کے گھریلو اِخراجات میں کمی کر دیتے ہیں، اُس کی ضروریات کا خیال نہیں رکھتے، اس کے پاس وقت نہیں گزارتے، حتی کہ ہفتوں تک شکل ہی نہیں دکھاتے، ایسے لوگوں کا یہ روِیہ کسی طور پر قابلِ قبول نہیں، نہ شریعتِ مُطہَّرہ ہمیں اس بات کی اجازت دیتی ہے!۔

اس مُعاملے میں ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیّبہ کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے، کہ تعدُّدِ اَزواج کے باوُجود آپ ﷺ نے کس طرح اپنی تمام اَزواجِ مُطہَّرات کے ساتھ، یکساں سُلوک اور عدل وانصاف سے کام لیا! نبئ کریم ﷺ اپنی اَزواجِ مُطہَّرات کے ساتھ، کسی بھی نَوعیت کی حق تلفی کے ہرگز قائل ورَوا دار نہیں تھے، آپ ﷺ نے اس سلسلے میں زندگی بھر، نہ خود کبھی حق تلفی کا مُظاہرہ فرمایا، نہ کسی زَوجۂ محترمہ کو اس بات کی اجازت دی۔

میرےمحترم بھائیو! جس طرح شوہر کا حق ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ اُس کی بیوی  اس کے لیے مزیّن وآراستہ ہو، اسی طرح عورت کا بھی حق ہے کہ اُس کا شوہر اس کے لیے اپنی صفائی ستھرائی کا اہتمام  کرے، صحابئ جلیل حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «إنّي لأَتَزَيَّن لامْرَأَتِي كما تَتَزَيَّن لي؛ لقوله تعالى: ﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الذي عَلَيْهِنَّ بِالمعْرُوْفِ﴾»([30]) “میں بھی اپنی بیوی کے لیے بنتا سنوَرتا ہوں، جیسے وہ میرے لیے بناؤ سنگھار کرتی ہے؛ اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمانِ عالی شان ہے کہ “شریعت کے مطابق عورتوں کا بھی حق اَیسا ہی ہے جیسا اُن پر شوہروں کا حق ہے”۔

لہذا  ہم سب پر لازم ہے کہ نبئ کریم ﷺ کے فرمان مبارک کو مشعلِ راہ  بنائیں،

رسولِ کریم ﷺ نے حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عَمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو حقِ زوجہ سے متعلق ارشاد فرمایا: «وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقّاً!»([31]) “یقیناً تمہاری زوجہ کا بھی تم پر حق ہے!”۔

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! گھریلو کام کاج میں اہلِ خانہ کی مددکرنا سنّت اور اَخلاقی ذمہ داری  ہے، حضرت اسوَد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، کہ نبئ اکرم ﷺ اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ فرمایا: «كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ -تَعْنِي في خِدمَة أَهلِهِ- فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ»([32]) “اپنے اہل خانہ کے کام میں رہتے، اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے”۔

اس حدیثِ پاک سے وہ لوگ سبق حاصل کریں، جو گھریلو کام کاج میں اپنے اہلِ خانہ کا ہاتھ بٹانے میں، اپنی توہین سمجھتے ہیں، اور اسے اپنی مردانگی کے مُنافی تصوُر کرتے ہیں، بلکہ جو لوگ گھریلو کام کاج میں اپنے اہلِ خانہ کی مدد کرتے ہیں، انہیں طعنے دیتے اور عار (شرم) دلاتے ہیں، ایسوں کو چاہیے کہ اپنے طرزِ عمل پر غَور کریں، اور اپنی اصلاح کریں!۔

حضراتِ گرامی قدر! عورتوں کا نان ونفَقہ (یعنی ضروریات واِخراجات کا) پورا کرنا بھی شوہر پر لازم ہے؛ کیونکہ حقِ نفَقہ بھی عورتوں کے حقوق میں سے ہے، اور حدیثِ پاک میں اس کی خاص تاکید فرمائی گئی ہے، حضرت سیِّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سروَرِ دوجہاں ﷺ نے فرمایا: «اتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ؛ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ الله…، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ»([33]) “خواتين کےبارے میں اللہ تعالی سے ڈرو!؛ کہ تم نے انہیں اللہ تعالی کی امان میں لیا، اُن کی شرمگاہوں کو اللہ کے حكم سے اپنے ليے حلال كيا…،  تم پر ان کا کھانا، پينا اور کپڑے مہیا کرنا لازم ہے”۔

میرے محترم بھائیو! اہل وعِیال کے کھانے پینے، اور اُن کی دیگر  ضروریات کو  بوجھ ہرگز نہ جانیں؛ کیونکہ اہل وعِیال پر خرچ کیا گیا مال، راہِ خدا میں مال خرچ کرنے کی بنسبت زیادہ اجر وثواب کا ذریعہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «دِينَارٌ أَنْفَقْتَهٗ فِي سَبِيلِ الله، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهٗ فِيْ رَقَبَةٍ، وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِه عَلى مِسْكِينٍ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهٗ عَلى أَهْلِكَ، أَعْظَمُهَا أَجْراً الَّذِي أَنْفَقْتَهٗ عَلى أَهْلِكَ»([34]) “اللہ کی راہ میں، يا غلام آزاد کرنے میں، يا کسی مسکین پر خرچ کر نے، يا اپنے اہل وعِیال پر خرچ کرنے والے مال ومتاع ميں، سب سے زیادہ اجر وثواب اُس کا ہے جو تم اپنے اہل وعِیال پر خرچ کرتے ہو!”۔

عزیزانِ محترم! بیٹیوں کی شادی بیاہ کے سلسلے میں اُن کی ماں سے مُشاوَرت بھی عورت کے حقوق میں سے ہے، حضرت سیِّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «آمِرُوا النِّسَاءَ فِي بَنَاتِهِنَّ»([35]) “عورتوں سے اُن کی بیٹیوں کے بارے میں اجازت لیا کرو” یعنی بیٹیوں کی شادی کے بارے میں عورتوں سے رائے لو، لہذا شوہر کو چاہیے کہ بیٹیوں کی شادی بیاہ کے سلسلے میں اپنی زوجہ پر اعتماد کرے، اور اس سے مشورہ بھی لیتا رہے!۔

جانِ برادر! شوہر پر لازم ہے کہ اپنی زَوجہ پر ظلم وزیادتی نہ کرے؛ کہ ایسا کرنا منع ہے، اور یہ (ممانعت)  بھی زَوجہ کے بنیادی حقوق میں سے ہے، حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن زَمْعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رحمتِ عالمیان ﷺ نے فرمایا: «لا يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأتَهُ جَلْدَ العَبْدِ»([36]) “تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح نہ پیٹے!”۔

ہاں اگر عورت نافرمان وسرکش ہو جائے، تو فوراً مارنے پیٹنے کے بجائے پہلے اُسے نصیحت کریں، اگر پھر بھی نہ مانے تو اپنا بستر اس سے جدا کر لیں، اور اگر پھر بھی نافرمانی وسرکشی سے باز نہ آئے، تو بغرضِ اصلاح ہلکی ضرب سے مارنے کی اجازت ہے، لیکن اس مارنے میں بھی اس بات کا لحاظ رکھنا انتہائی ضروری ہے، کہ اتنی زور سے نہ مارے کہ عورت کی کوئی ہڈی پسلی ہی ٹوٹ جائے، یا اُسے شدید چوٹ پہنچ جائے؛ کہ ایسا کرنا ظلم، جبر اور زیادتی ہے۔

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! نافرمان اور سرکش عورتوں کی اصلاح کے لیے اللہ رب العالمین نے قرآنِ حکیم میں مختلف طریقے اور مراحل بیان فرمائے ہیں، اور یہ طریقے یقیناً مفید اور حکمت پرمبنی ہیں، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَالّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَاهْجُرُوْهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْرًا﴾([37]) “اور جن عورتوں کی نافرمانی وسرکشی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ، اور ان سے الگ سوؤ، اور (پھر بھی سرکشی سے باز نہ آئیں تو) انہیں (ہلکی ضرب سے) مارو، پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں، تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو، یقیناً اللہ بلند ہے بڑا ہے”۔

اگر ان تمام تدابیر (یعنی سمجھانے، علیحدہ سونے، اور مارنے) کے باوُجودبھی مسئلہ حل نہ ہو، اور عورت نافرمانی وسرکشی سے باز نہ آئے، اور زَوجین (میاں بیوی) کے مابین جھگڑا مزید بڑھنے کا اندیشہ رہے، تو فریقین کے گھر والےمثلاً ماں باپ، بہن بھائی یا خاندان کے دیگر بڑے لوگ، دونوں کے درمیان مُصالحت کے لیے اپنا کردار ادا کریں؛ تاکہ نَوبت طلاق تک نہ پہنچ جائے، اور خاندان اُجڑنے سے بچ جائے!!

میرے محترم بھائیو! ربّ تعالی زَوجین کے مابین مُصالحت کرانے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ يُّرِيْدَاۤ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا خَبِيْرًا([38])اگر تم کو میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو، تو ایک فیصلہ کرنے والا، مرد والوں کی طرف سے، اور ایک عورت والوں کی طرف سے بھیجو، یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو الله ان میں ملاپ کر دے گا، یقیناً الله جاننے والا خبردار ہے!”۔

میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! گھریلو زندگی کا دارومدار اور امن وسکون، رشتوں کے لحاظ اور باہم حقوق کی پاسداری میں منحصر ہے، یہی وجہ ہے کہ انسان اُس وقت تک کامیاب گھریلو زندگی (Family Life) نہیں گزار سکتا، جب تک وہ رشتوں کا لحاظ اور ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری نہ کرے، اللہ رب العالمین نے ہمیں قرآنِ حکیم میں رشتوں کا لحاظ رکھنے کا حکم دیا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَالْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيْبًا﴾([39]) “الله سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو! اور رشتوں کا لحاظ رکھو، یقیناً الله ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے!”۔

میاں بیوی کا ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنا، باہم حُسنِ سُلوک سے پیش آنا، ایک دوسرے کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرنا، مشکل وقت میں ڈھارس بندھانا، فرائض وواجبات کی ادائیگی میں ایک دوسرے کی مدد کرنا، اور باہم خیرخواہی کرنا بھی، رشتوں کے لحاظ وپاسداری کی مختلف صورتیں ہیں، لہذا زَوجین کو چاہیے کہ ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری کریں، ان میں کوتاہی ہرگز نہ برتیں، آپس میں محبت ورَواداری سے پیش آئیں، اور  حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا خاص اہتمام کریں!!

اے اللہ! ہمیں فرائض وواجبات کی ادائیگی کا پابند بنا، اپنے اہل وعِیال کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرما، باہم محبت واُلفت میں اِضافہ فرما، ہمارے گھروں کو محبت ورَحمت کا گہوارہ بنا، خوش اُسلوبی کے ساتھ ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کی توفیق عطا فرما، ان میں سُستی، کاہلی اور کوتاہی سے بچا، اپنے اہل وعِیال کے ساتھ حُسنِ سُلوک سے پیش آنے کی سوچ عطا فرما، ان پر بےجا سختی سے محفوظ فرما، اور حقوقِ زَوجین کی اہمیت کو سمجھنے کی سعادت عنایت فرما!۔

اے اللہ! اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے وسیلۂ جلیلہ سے ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت سے محبت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سُستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں مُلک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر  عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی اور چھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!۔

اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی اور کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان، مال، عزّت، آبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


(١) پ٢١، الروم: ٢١.

(٢) پ٥، النسآء: ٣٤.

([3]) “سنن أبي داود” كتاب الزكاة، باب في حقوق المال، ر: ١٦٦٤، صـ٢٤٧.

(١) “سنن الترمذي” أبواب الرضاع، باب ما جاء في حق الزوج …إلخ، ر: 1161، صـ282.

([5]) المرجع نفسه، ر: 1159، صـ281.

([6]) المرجع السابق، ر: 1160، صـ282.

([7]) “صحيح البخاري” كتابُ النكاح، باب صوم المرأة بإذن …إلخ، ر: 5192، صـ929.

([8]) “مُسنَد الإمام أحمد” مسند أبي هريرة h، ر: ٩٦٦٤، ٣/٤٣٩.

([9]) “فتاوی رضویہ” کتاب الحظر والاِباحۃ، عورتوں کو سونے چاندی کا زیور پہننا …الخ، 15/174۔

([10]) “مُسنَد الإمام أحمد” حديث عبد الرحمن بن عوف الزُهري، ر: ١٦٦١، ١/٤٠٦.

([11]) “السنن الكبرى” للبَيهقي، كتاب القسم والنشوز، باب کراهية كفر …إلخ، ٧/٢٩٤.

([12]) “صحيح البخاري” كتاب النكاح، باب كفران العشير …إلخ، ر: 5197، صـ930.

(٢) المرجع نفسه، كتاب بدء الوحي، ر: 3، صـ1.

([14]) “سُننُ أبي داود” كتابُ الطلاق، بابُ في الخُلع، ر: ٢٢٢٦، صـ٣٢٢.

([15]) انظر: “الترغيب والترهيب” للمُنذري، الترغيب في الجنّة، ر: 5619، 4/270.

([16]) “صحيح البخاري”، كتاب الجنائز، ر: ١٢٨٠، صـ٢٠٥.

(١) پ٤، النسآء: ١٩.

(٢) “صحيح مسلم” باب الوصية بالنِّساء، ر: ٣٦٤٤، صـ٦٢٦.

(٣) المرجع نفسه، ر: ٣٦٤٥، صـ٦٢٦.

([20]) پ٢٨، التحريم: ٦.

([21]) پ٤، النسآء: ٤.

([22]) “سنن الترمذي” أبواب المناقب، ر: ٣٨٩٥، صـ٨٧٨.

([23]) المرجع نفسه، أبواب الرضاع، ر: ١١٦٢، صـ٢٨٢.

([24]) “صحيح البخاري” كتاب المَغازي، باب غزوة خيبر، ر: ٤٢١١، صـ٧١٥.

([25]) المرجع نفسه، كتاب الأدب، ر: ٦٢٠١، صـ١٠٧٩.

([26]) “جامع الترمذي” أبواب تفسير القرآن، ر: ٣١٧٥، صـ٧١٩.

([27]) “صحيح مسلم” كتاب النكاح، ر: ٣٥٤٢، صـ٦٠٩.

([28]) المرجع نفسه، كتاب الإمارة، ر: ٤٧٢١، صـ٨١٩.

([29]) “سنن أبي داود” کتاب النکاح، ر: 2134، صـ308.

(١) “تفسير القُرطُبي” تفسير سورة البقرة، تحت الآية: ٢٢٨، الجزء ٣، صـ١١٨.

([31]) “صحيح البخاري” كتاب النكاح، ر: ٥١٩٩، صـ٩٣٠.

([32]) المرجع نفسه، كتاب الأذان، ر: ٦٧٦، صـ١١٠.

([33]) “صحيح مسلم” كتاب الحجّ، باب حَجَّةِ النّبي g، ر: 2950، صـ515.

([34]) المرجع نفسه، كتاب الزكاة، باب فضل النفَقة …إلخ، ر: ٢٣١١، صـ٤٠٣.

([35]) “سُننُ أبي داود” كتابُ النكاح، بابُ في الاستيمار، ر: 209٥، صـ٣٠٣.

([36]) “صحيح البخاري” كتابُ النكاح، بابُ ما يكره من ضرب …إلخ، ر: 5204، صـ931.

([37]) پ5، النسآء: 34.

([38]) پ5، النسآء:35.

([39]) پ4، النّسآء: 1.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *