عقیدۂ آخرت

Home – Single Post

The Hereafter

الحمد لله ربّ العالمين، والصّلاةُ والسّلامُ على خاتمِ الأنبياءِ والمرسَلين، وعلى آلهِ وصحبهِ أجمعين، أمّا بعد: فأعوذُ باللهِ مِن الشّيطانِ الرّجيم، بسمِ الله الرّحمنِ الرّحيم.

حضور پُرنور، شافعِ یومِ نُشور ﷺ کی بارگاہ میں ادب واحترام سے دُرود وسلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اللّهمّ صلِّ وسلِّم وبارِك على سيِّدِنا ومولانا وحبيبِنا محمّدٍ وعلى آلهِ وصَحبهِ أجمعين.

یہ بھی ضرور پڑھیں :حقوق العباد

برادرانِ اسلام! عقیدۂ آخرت سے مراد: مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا  جانے، نیک اور بَد اعمال کا حساب، اور جنّت یا دوزخ کی صورت میں ملنے والی اچھی یا بُری جَزا پر پختہ یقین وایمان ہے([1])۔ یہ عقیدہ  اسلام کے بنیادی عقائد کا حصہ اور رُکنِ ایمان ہے([2])۔

بحیثیت مسلمان آخرت پر ایمان ویقین رکھنا، تقاضۂ ایمان اور حکمِ الٰہی کے عین مُطابق ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ﴾([3]) “آخرت پر یقین رکھیں”۔

آخرت پر ایمان رکھنا ضروری اور ایک اچھے مسلمان کی نشانی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓىِٕكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ﴾([4]) “ہاں اصل نیکی یہ کہ اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتابوں اور پیغمبروں پر ایمان لائے!”۔

صدر الاَفاضل سیِّد نعیم الدین مرادآبادی ﷫ اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ “ایمان کی تفصیل یہ ہے کہ ایک تو اللہ تعالی پر ایمان لائے، کہ وہ حی وقیُّوم، علیم، حکیم، سمیع، بصیر، غنی، قدیر، اَزَلی، اَبَدی، واحد، لاشریکَ لَہٗ ہے۔ دوسرے قیامت پر ایمان لائے کہ وہ حق ہے، اس میں بندوں کا حِساب ہوگا، اَعمال کی جَزا دی جائے گی، مقبولانِ حق شفاعت کریں گے، سیِّدِ عالَم ﷺ سعادت مندوں کو حوضِ کوثر پر سیراب فرمائیں گے، پُلِ صراط پر گزر ہوگا، اور اس روز کے تمام اَحوال جو قرآن میں آئے،یا سیِّدِ انبیاء D نے بیان فرمائے، سب حق ہیں۔ تیسرے فرشتوں پر ایمان لائے، کہ وہ اللہ A کی مخلوق اور فرمانبردار بندے  ہیں۔ چوتھے کتبِ الٰہیہ پر ایمان لانا، کہ جو کتاب اللہ تعالی نے نازل فرمائی حق ہے۔ اور پانچویں بات یہ کہ تمام انبیاء ﷐ پر ایمان لانا، کہ وہ سب اللہ B کے بھیجے ہوئے ہیں”([5])۔

عزیزانِ محترم! یومِ آخرت پر پختہ ایمان ویقین ركھنے والا، حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی بھرپور کوشش کرتا ہے، نبئ کریم ﷺ نے اس بارے میں خصوصی تلقین كرتے ہو ئے ارشاد فرمایا: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْراً أَوْ لِيَصْمُتْ»([6]) “جو اللہ تعالی اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی تكريم کرے، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے قریبی رشتہ داروں سےصلہ رحمی کرے، اور جو اللہ اور روزِ قيامت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے!”۔

حضراتِ گرامی قدر! جو شخص یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اللہ تعالی اُسے تقویٰ وپرہیز گاری جیسی مؤمنانہ صِفات سے متصف فرماتا ہے، اُسے اَعمالِ صالحہ کی توفیق بخشتا اور شہرت، دِکھلاوا اور رِیاکاری جیسی مذموم صِفات سے بچاتا ہے، ایسے لوگوں کا بارگاہِ الٰہی ﷯ میں کیا مقام ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے، کہ اللہ ربّ العالمین نے قرآنِ پاک میں اُن کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ﴿اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ﴾([7]) “اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں، جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں، اور زکات دیتے ہیں، اور اللہ کے سِوا کسی سے نہیں ڈرتے، تو عنقریب یہ لوگ ہدایت والوں میں ہوں گے!”۔

ایک اَور مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَهُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ﴾([8]) “وہ جو آخرت پر ایمان لاتے ہیں، اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں، اور اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں” یعنی جو لوگ قیامت وآخرت اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا یقین رکھتے ہیں، اور اپنے انجام سے غافل وبے خبر نہیں، ان کا یہ عقیدہ وایمان قرآنِ کریم کی تعلیمات واَحکام کے عین مُطابق ہے۔

عزیزانِ مَن! بروزِ قيامت ہم سب كا دوبارہ اٹھایا جانا بر حق ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَؕ۰۰۱۵ ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ﴾([9]) “پھر تم اس کے بعد ضرور مرنے والے ہو، پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے” یعنی ہر شخص کی  زندگی پوری ہونے پر اسے موت ضرور آئے گی، اور قیامت کے دن اپنی قبر سے میدانِ محشر کی طرف، ثواب وعذاب کے ليے اسے دوبارہ اُٹھایا جائے گا۔

جو لوگ یومِ آخر ت اور دوبارہ  زندگی ملنے کا انکار کرتے ہیں، اَیسوں کے بارے میں ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ﴾([10]) “تم فرماؤ! اللہ تمہیں زندگی بخشتا ہے، پھر تم کو مارے گا، پھر تم سب کو (دوبارہ زندہ کر کے) قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس میں کوئی شک نہیں، لیکن بہت لوگ (اس بات کو)  نہیں جانتے” کہ اللہ تعالی مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے، اور ان کا نہ جاننا دلائل کی طرف مُلتفت (متوجہ) نہ ہونے، اور غَور نہ کرنے کے باعث ہے([11])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :اسلام کا تصوّرِ جہاد

حضراتِ ذی وقار! کفّار ومشرکین کا کہنا یہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد مَنوں مٹی تلے دَفن کر دیا جاتا ہے، اس کا بدن گل سڑ کر کیڑے مکوڑوں کی خوراک بن جاتا ہے، سوائے چند ہڈیوں کے کچھ باقی نہیں رہتا، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اسی انسان کو پہلے کی طرح  جسم اور گوشت پوست دے کر، ہوبہو دوبارہ زندہ کر دیا جائے؟! خالقِ کائنات A نے انہیں جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ﴿كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَيْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيْنَ﴾([12]) “جیسے پہلى بار اُسے بنایا تھا، ویسے ہی دوباره کر دیں گے، یہ ہمارے ذِمّہ وعدہ ہے، ہم اسے ضرور انجام ديں گے!”۔ یعنی ہم نے جیسے پہلے عَدم سے بنایا تھا، ویسے ہی پھر مَعدوم کرنے کے بعد پیدا کر دیں گے، یا یہ معنی ہیں کہ جیسا ماں کے پیٹ سے برہنہ غیر مختون (بغیرختنہ کے) پیدا کیا تھا، ایسا ہی مرنے کے بعد اٹھائیں گے”([13])۔

کفّار ہزاروں سال سے موت کے بعد دوبارہ زندگی ملنے کا انکار کرتے چلے آرہے ہیں، حضور نبئ کریم ﷺ کے زمانے میں اُبَی بن خَلف اور ولید بن مُغیرہ جیسے کافر بھی اس اَمر کے مُنکر ہوئے، تب اللہ ربّ العالمین ﷯ نے اُن لوگوں کے بارے میں یہ آیتِ مبارکہ نازِل فرمائی: ﴿وَيَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَيًّا۰۰۶۶ اَوَ لَا يَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ يَكُ شَيْـًٔا﴾([14]) “آدمی (حیرت سے) کہتا ہے کہ کیا جب میں مر جاؤں گا تو ضرور عنقریب زندہ کر کے نکالا جاؤں گا؟ اور کیا آدمی  کو یاد نہیں کہ ہم نے اس سے پہلے اُسے بنایا اور وہ کچھ نہ تھا!”۔

ایک اَور مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْهَا نُعِيْدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى﴾([15]) “ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا، اور (موت کے بعد دفن کے وقت) اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے، اور (روزِ قیامت) اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے”۔

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! آج ان کافروں اور عقیدۂ آخرت کے منکِروں کو اس بات پر حیرت ہو رہی ہے، کہ خالقِ کائنات ﷯ مَرے ہوئے انسانوں کو دوبارہ زندہ کیسے کر سکتا ہے؟ تو وہ اس اَمر پر غَور وفکر کیوں نہیں کرتے، کہ جب انسان کا سِرے سے وُجود ہی نہیں تھا، اگر وہ انہیں اس وقت وُجود وحیات دینے پر قادِر تھا، تو اب دوبارہ زندہ کرنا اور نیا وُجود عطا کرنا، اذس خالقِ کائنات ﷯ کے لیے کیسے مُشکِل وناممکِن ہو سکتا ہے؟! ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ۰۰۳ بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ﴾([16]) “کیا آدمی (کافر ) یہ سمجھتا ہے کہ ہم ہر گز اس کی ہڈیاں جمع نہ فرمائیں گے؟ کیوں نہیں! ہم قادِر ہیں کہ اس کے پور ٹھیک ٹھیک بنا دیں”۔ یعنی اس کی انگلیاں جیسی تھیں، بغیر فرق کے ویسی ہی کر دیں، اور اُن کی ہڈیاں اُن کے موقع پر پہنچا دیں، جب چھوٹی چھوٹی ہڈیاں اس طرح ترتیب دے دی جائیں، تو بڑی (ہڈیوں) کا کیا کہنا!”([17]) وہ تو اس سے بھی آسان کام ہے!۔

حضراتِ گرامی قدر! دنیا میں ہمیں بطور آزمائش بھیجا گیا ہے، موت کے بعد روزِ حشر ہم سے جواب طلبی ہوگی، اور ہر اچھے بُرے عمل کا حساب دینا ہوگا، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى﴾([18]) “کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ آزاد چھوڑ دیا جائے گا؟”۔ کہ نہ اس پر اَمر ونَہی (نیکی کرنے اور برائی سے رُکنے) کے اَحکام ہوں، نہ وہ مرنے کے بعد اٹھایا جائے، نہ اس سے اعمال کا حساب لیا جائے، نہ اُسے آخرت میں سزا دی جائے، ایسا (ہرگز) نہیں!”([19])۔

میرے محترم بھائیو! ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ قیامت کے روز ہونے والے حساب کے لیے تیار، اور اپنی آخرت کی بہتری کے لیے کوشاں رہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا١ؕ وَاِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا١ؕ وَكَفٰى بِنَا حٰسِبِيْنَ﴾([20]) “قیامت کے دن ہم انصاف کی ترازُو قائم کریں گے، تو کسی جان پر کوئى ظلم نہیں کیا جائے گا، اور اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی كوئى عمل ہو، تو اسے بھی ہم لے آئیں گے، اور ہم ہی حساب لینے کے لیے کافی ہیں!”۔

جانِ برادر! قیامت کے بعد تمام انسانوں اور جِنّات کو دوبارہ زندہ کر کے میدانِ حشر میں جمع کیا جائے گا، حضرت سیِّدہ عائشہ صدّیقہ طیبّہ طاہرہ ﷝ سے روایت ہے، نبئ  کریم رؤف ورحیم ﷺ کا ارشاد ہے: «يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً»([21]) “قیامت کے دن لوگوں کو ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے ختنہ جمع کیا جائے گا”۔

ایک اَور مقام پر ارشاد فرمایا: «يُجْمَعُ النَّاسُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِيْنَ فِيْ صَعِيْدٍ وَاحِدٍ، يُسْمِعُهُمُ الدَّاعِيْ، وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ، مَا لَا يُطِيْقُونَ وَلَا يَحْتَمِلُوْنَ»([22]) “اگلے پچھلے سارے لوگوں کو ایک جگہ (ميدانِ حشر ميں) جمع کیا جائے گا، وہ پکارنے والے کی آواز سنیں گے، اور لوگوں کو دیکھیں گے، سورج کے قریب آجانے کے سبب لوگ غم وکَرب میں مبتلا ہوں گے، جس کی انہیں طاقت نہیں ہوگی، اور نہ وہ اسے برداشت کرسکیں گے!”۔

عزیز دوستو! یومِ آخرت میں حساب برحق ہے، اس بارے میں اللہ ربّ العالمین ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ۰۰۶۸ وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْٓءَ بِالنَّبِيّٖنَ وَالشُّهَدَآءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۰۰۶۹ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُوْنَ﴾([23]) “جب صُور پھونکا جائے گا، تو جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں سب بے ہوش ہوجائیں گے، مگر وه جسے الله چاہے، پھر دوبارہ صُور پھونکا جائے گا، تب سب لوگ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے، اور زمین اپنے رب کے نُور سے جگمگا اٹھے گی، اور کتاب رکھی جائے گی، انبیاء اور گواہ لائے جائیں گے، لوگوں میں سچا فیصلہ فرما دیا جائے گا، ان پر ظلم نہ ہوگا، ہر ايك کو اس كے عمل کا بھرپور صلہ دیا جائے گا، اور اسے خوب معلوم ہے جو وہ کرتے تھے!”۔

خالقِ کائنات Y کا ارشادِ پاک ہے: ﴿اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ﴾([24]) “کیا تم اس خیال ميں ہو کہ ہم نے تمہیں بےکار پیدا کیا ہے؟ اور تمہیں  ہمارے پاس لوٹ کر نہیں آنا!”۔

حضراتِ گرامی قدر! تمام اِنسانوں اور جِنّات چاہے وہ مسلمان ہوں یا کافر، سب سے حساب لیا جائےگا، سوائے اُن کے جنہیں بلاحساب جنّت میں داخلے کی بِشارت دی گئی۔ حساب کا منکِر کافر اور دائرۂ اِسلام سے خارج ہے([25])۔

 بعض لوگ حساب وکتاب اور حشر ونشر کو تو مانتے ہیں، لیکن اس کی تشریح کرتے وقت اس کے دیگر معنی مراد لیتے ہیں، ایسا کرنا بالاِجماع کفر، اور اس کا قائل کافر ہے۔ امامِ اہلِ سُنّت امام احمد رضا ﷫ ارشاد فرماتے ہیں کہ “قیامت وبعث، حشر ونشر، حساب وکتاب، ثواب وعذاب اور جنّت ودوزخ کے وہی معنی ہیں، جو مسلمانوں میں مشہور ہیں، اور جن پر صدرِ اسلام سے اب تک چودہ سو سال کے کافّۂ مسلمین ومؤمنین، دوسرے ضروریاتِ دِین کی طرح ایمان رکھتے چلے آرہے ہیں، اور مسلمانوں میں مشہور ہیں۔ جو شخص ان چیزوں کو تو حق کہے، اور ان لفظوں کا تو اِقرار کرے، مگر ان کے نئے معنی گھڑے، مثلاً یوں کہے کہ “جنّت ودوزخ وحشر ونشر وثواب وعذاب سے ایسے معنی مراد ہیں، جو اِن کے ظاہر الفاظ سے سمجھ میں نہیں آتے، یعنی ثواب کے معنی اپنے حسَنات (نیک اعمال) کو دیکھ کر خوش ہونا، اور عذاب اپنے بُرے اعمال کو دیکھ کر غمگین ہونا ہیں، یا یہ کہ وہ رُوحانی لذّتیں اور باطنی معنی ہیں” وہ کافر ہے؛ کیونکہ اِن اُمور پر قرآنِ پاک اور حدیث شریف میں کھلے ہوئے رَوشن اِرشادات موجود ہیں”([26])۔

حضراتِ محترم! جس وقت ساری اُمّتیں اپنے اپنے حساب اور گناہوں کے باعث، غم اور پریشانی میں مبتلا ہوں گی، لوگ اپنے ہی پسینے میں غَوطے کھا رہے ہوں گے، ایسے میں سروَرِ کونین ﷺ کی امّت میں سے ستّر ہزار خوش بختوں کو، بلاحساب جنّت میں داخل کیا جائے گا، حضرت سیِّدنا ابوہریرہ ﷛ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نےفرمایا: «يَدْخُلُ الجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هِيَ سَبْعُونَ أَلْفاً، تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ القَمَرِ»([27]) “میری اُمت کے ستّر ہزار اَفراد (بغیرحساب کے) جنّت میں داخل ہوں گے، جن کے چہرے چودہویں کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے”۔

رسولِ اکرم ﷺ کا اپنی امّت کے ستّر ہزار اَفراد کو، بلاحساب جنّت میں داخلے کی بِشارت دینا، اور اللہ تعالی کا انہیں بخشش ومغفرت کے پروانے عطا کرنا بھی، اس اَمر پر واضح دلیل ہے کہ دیگر لوگوں سے ان کے اچھے بُرے اعمال کا حساب لیا جائے گا، اُن سے جواب طلبی کی جائے گی؛ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو بلاحساب بخشنے، اور جنّت میں داخلے کی بِشارت کا کوئی معنی نہیں تھا!۔

میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! ایک مسلمان ہونے کے ناطے، کبھی اپنی آخرت کو فراموش مت کیجیے، اس کی تیاری کے لیے ہمیشہ کوشاں رہیے، شراب نوشی، بد کاری، سُودخوری، جُوا، ناپ تول میں کمی، اشیاء میں ملاوَٹ، اور فحاشی وبےحیائی جیسے تمام صغیرہ وکبیرہ گناہوں سے بچتے رہیے، اپنی آخرت پر کبھی دُنیاوی مال ومتاع کو ترجیح مت دیجیے؛ کہ دنیا کی یہ زندگی فانی ہے، اس کا مال ومتاع حقیر ومعمولی اور وقتی ہے، سب کچھ یہیں رہ جائے گا، جبکہ آخرت  کی تمام نعمتیں اَن گنت اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں، لہٰذا ہمیشہ اچھے اور نیک اعمال میں لگے رہیے!۔ ؏


سلسلہ آہ گناہوں کا بڑھا جاتا ہے

نت نیا جرم ہر اک آن ہوا جاتا ہے!

نفس وشیطان کی ہر آن اِطاعت پر دل

آہ! مائل مِرے اللہ ہوا جاتا ہے!


امتحاں کے کہاں قابل ہوں میں پیارے اللہ

بے سبب بخشش دے مَولا تِرا کیا جاتا ہے!


میرے آقا سرِ محشر مِرا پردہ رکھنا

راز عیبوں کا مِرے فاش ہو جاتا ہے!([28])

عقیدۂ آخرت اور روزِ جزا پر پختہ یقین رکھیں، کفّار، مشرکین اورمُلحدین (Atheists) کی باتوں میں نہ آئیں، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا (Electronic and Print Media) اور سوشل میڈیا (Social Media) کے ذریعے ان کے اِسلام مخالف پروپیگنڈہ پر توجُّہ نہ دیں، عقیدۂ آخرت سے متعلق ان کے پیدا کیے ہوئے شکوک وشُبہات کو قابلِ اِعتِناء نہ سمجھیں، اور اپنی آخرت سنوارنے کی بھرپور تیاری میں لگے رہیے، کسی بھی قسم کی کوتاہی اور تساہُل نہ برتیں، اپنی آخرت میں غفلت برتنے والوں اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے، اللہ ربّ العالمین نے ارشاد فرمایا: ﴿اَرَضِيْتُمْ بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِيْلٌ﴾([29]) “کیا تم نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے پسند کر لی، اور دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے سامنے نہیں مگر تھوڑا!”۔

حضورِ اكرم ﷺ نے فرمایا: «اَللّٰهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ!»([30]) “یقیناً بہترین زندگی تو آخرت کی زندگی ہے!”۔

اے اللہ! ہمیں عقیدۂ آخرت پر پختہ یقین رکھنے کی توفیق عطا فرما، بعث وحشر، حساب وکتاب، جنّت ودوزخ  اور ثواب وعذاب کے حقیقی اور معروف معنی پر قائم رہنے کی توفیق مرحمت فرما، ہمیں کفّار ومشرکین اور بےدینوں کی سازشوں اور پروپیگنڈوں کا شکار ہونے سے بچا، اپنی آخرت کی بہتری کے لیے کوشش کرنے کا جذبہ عنایت فرما، نیک اعمال بجالانے کی توفیق وجذبہ عطا فرما، اور بُری صحبت اور گناہوں سے محفوظ فرما۔

اےاللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام ﷡ کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔

اےاللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔

اےاللہ! ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!۔

اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی وکشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1])  دیکھیے:”بہارِ شریعت” مَعاد وحشر کا بیان، حصّہ اوّل، 1/ 151 ،مُلخّصاً۔

([2])  “فتاوی رضویہ” کتاب الرّد والمناظرۃ، رسالہ “سلّ السُّیوف الهنديّة على كُفريات بَابَا النّجدية”  20/ 78، ملخصاً۔

([3]) پ١، البقرة: ٤.

([4]) پ٢، البقرة: ١٧٧.

([5]) “تفسیر خزائن العرفان” پ 2، البقرۃ، زیرِ آیت: 177،؃ 57، 58، ملتقطاً۔

([6]) “صحيح البخاري” كتاب الأدب، ر: ٦١٣٨، صـ١٠٦٩.

([7]) پ١٠، التوبة: ١٨.

([8]) پ٧، الأنعام: ٩٢.

([9]) پ١٨، المؤمنون: ١٥، ١٦.

([10]) پ٢٥، الجاثية: ٢٦.

([11]) “تفسیر خزائن العرفان” پ 25، الجاثیۃ، زیرِ آیت: 26،؃ 921۔

([12]) پ١٧، الأنبياء: ١٠٤.

([13]) “تفسیر خزائن العرفان” پ 17، الانبیاء، زیرِ آیت: 104،؃ 616۔

([14]) پ١٦، مريم: ٦٦، ٦٧.

([15]) پ١٦، طه: ٥٥.

([16]) پ٢٩، القيامة: ٣، ٤.

([17]) “تفسیر خزائن العرفان” پ 29، القیامۃ، زیرِ آیت: 4،؃ 1069۔

([18]) پ٢٩، القيامة: ٣٦.

([19]) “تفسیر خزائن العرفان” پ 29، القیامۃ، زیرِ آیت: 36،؃ 1071۔

([20]) پ١٧، الأنبياء: ٤٧.

([21]) “صحيح مسلم” كتاب الجنّة وصفة …إلخ، ر: ٧١٩٨، صـ١٢٣٩.

([22]) “صحيح البخاري” كتاب التفسير، ر: ٤٧١٢، صـ٨١٥.

([23]) پ٢٤، الزمر: ٦٨-٧٠.

([24]) پ١٨، المؤمنون: ١١٥.

([25]) “بہارِ شریعت” مَعاد وحشر کا بیان، حصّہ اوّل، 1/141۔

([26]) “فتاوی رضویہ” کتاب العقائد والکلام، رسالہ “اعتقاد الاَحباب” ۱۸/257۔

([27]) “صحيح البخاري” كتاب اللباس، ر: ٥٨١١، صـ١٠٢٥.

([28]) “وسائلِ بخشش” سلسلہ آہ! گناہوں کا بڑھا جاتا ہے،؃ 432۔

([29]) پ١٠، التوبة: ٣٨.

([30]) “صحيح البخاري” كتاب الجهاد، ر: ٢٨٣٤، صـ٤٦٩.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *