
Table of contents
الحمد لله ربّ العالمين، والصّلاةُ والسّلامُ على خاتمِ الأنبياءِ والمرسَلين، وعلى آلهِ وصحبهِ أجمعين، أمّا بعد: فأعوذُ باللهِ مِن الشّيطانِ الرّجيم، بسمِ الله الرّحمنِ الرّحيم.
حضور پُرنور، شافعِ یومِ نُشور ﷺ کی بارگاہ میں ادب واحترام سے دُرود وسلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اللّهمّ صلِّ وسلِّم وبارِك على سيِّدِنا ومولانا وحبيبِنا محمّدٍ وعلى آلهِ وصَحبهِ أجمعين.

یہ بھی ضرور پڑھیں : جہاد کی اہمیت اور شہید کا مقام ومرتبہ
اسلام کی سب سے پہلی جنگ
حق وباطل کی جنگ روزِ اوّل سے جاری ہے، جس کی مختلف صورتیں ہر دَور میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں، انہی میں سے ایک اسلام کی سب سے پہلی جنگ غزوۂ بدر بھی ہے، کہ مشرکینِ مکّہ اور مسلمانوں کے درمیان ہجرت کے دوسرے سال ماہِ رمضان المبارک کی 17 تاریخ کو جمعۃ المبارک کے دن جب یہ عظیم معرکہ ہوا، تو صبر واستقلال اورتوکُّل کے اعلیٰ پیکر اہلِ ایمان، تائید الہی کی بدَولت کامیابی وکامرانی سے ہمکنار ہوئے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۰۰۱۲۳ اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۠ اَلَنْ يَّكْفِيَكُمْ اَنْ يُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ مُنْزَلِيْنَؕ۰۰۱۲۴ بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَيَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ مُسَوِّمِيْنَ﴾([1]) “یقیناً اللہ تعالى نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سروسامان تھے، تو اللہ سے ڈرو کہ کہیں تم شکر گزار ہو! جب اے محبوب! تم مسلمانوں سے فرماتے تھےکہ کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین3 ہزار فرشتے اتار کر؟ ہاں کیوں نہیں! اگر تم صبر وتقویٰ اختيار کرو اور کافر اسی دَم تم پر آپڑیں، تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ5 ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا!”۔ “چنانچہ اہلِ ایمان نے روزِ بدر صبر وتقویٰ سے کام لیا، اللہ تعالی نے حسبِ وعدہ پانچ5 ہزار فرشتوں کی مدد بھیجی، اور مسلمانوں کی فتح اور کافروں کی شکست ہوئی”([2])۔
ايك اَور مقام پر اللہ تعالی کا ارشادِ مبارک ہے: ﴿اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ۠ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّيْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ﴾([3]) “جب تم اپنے رب تعالى سے فریاد کرتے تھے، تو اس نے تمہاری سُن لی کہ میں تمہیں ہزاروں فرشتوں کی قطار سے مدد دینے والا ہوں!”۔
اس بے سروسامانی كو دیکھ کر خود نبئ کریم ﷺ نے اللہ تعالی کے حضور دعا کی: «اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُم، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُم، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ» “اے اللہ! یہ لوگ پیاده ہیں انہیں سواری دے، اے اللہ! یہ لوگ بوسیدہ لباس ہیں انہیں لباس دے، اے اللہ! یہ لوگ بھوکے ہیں ا نہیں سیرکر!”۔ اللہ تعالى نے بدر کے دن فتح دی، وہ لوگ جس وقت لَوٹے تو اس حالت میں پلٹے کہ ان میں سے کوئی شخص ایسا نہ تھا جو ایک یا دو2 سواری کے بغیر ہو، انہوں نے کپڑے بھی پائے اور سیر بھی ہوئے([4])۔
ابو الاثر حفیظ جالندھری مرحوم نے کیا خوب لکھا ہے: ؏
| فضائے بدر کو اِک آپ بیتی یاد ہے اب تک | ||
| یہ وادی نعرۂ توحید سے آباد ہے اب تک([5]) | ||
| تھے اُن کے پاس دو گھوڑے چھ زرہیں آٹھ شمشیریں | ||
| پلٹنے آئے تھے یہ لوگ دنیا بھر کی تقدیریں | ||
| نہ تیغ وتیر پہ تکیہ، نہ خنجر پر نہ بھالے پر | ||
| بھروسا تھا تو اِک سادی سی کالی کملی والے پر([6]) | ||

یہ بھی ضرور پڑھیں : اسلام کا تصوّرِ جہاد
بدر میں فریقین کی تعداد اور دعائے مصطفی
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! “صحيح مسلم شریف” ميں ہے کہ روزِ بدر تاجدارِ رسالت ﷺ نے مشرکین کو ملاحَظہ فرمایا کہ تعداد میں ايك ہزار ہیں، اور آپ ﷺ کے اصحاب تین سو انیس319 [اور بعض روایات میں تعداد تین سو تیرہ 313([7]) ہے] تو حضورِ اکرم ﷺ اپنے مبارک ہاتھ پھیلا کر ربّ تعالى سے یہ دعا کرنے لگے: «اللّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي! اللّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي! اللّهُمَّ إنّكَ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ!» “یارب جو تُو نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے اسے پورا کر دے! الہی جو تُو نے مجھ سے وعدہ کیا عنایت فرما! یا الله اگر تو اہلِ اسلام کی اس جماعت کو ہلاک کر دے گا، تو زمین میں تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے ہوگا!” اسی طرح حضور سروَرِ کونین ﷺ دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ دَوشِ مبارک سے چادر شریف اُتر گئی، تب حضرت سيِّدنا ابوبکر حاضر ہوئے اور چادر مبارک دوشِ اقدس پر ڈال كر عرض کی: یا نبیَ اللہ! آپ کی مُناجات اپنے ربّ تعالى کے ساتھ کافی ہوگئیں! وہ بہت جلد اپنا وعدہ پورا فرمائے گا! اس پر یہ آیتِ مباركہ نازِل ہوئی: ﴿اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ۠ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّيْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ﴾([8]) “جب تم اپنے رب تعالى سے فریاد کرتے تھے، تو اس نے تمہاری سُن لی کہ میں تمہیں ہزاروں فرشتوں کی قطار سے مدد دینے والا ہوں!”۔
غزوۂ بدر کو چودہ14 سو سال سے زائد گزر چکے ہیں، لیکن اس کی یاد آج بھی مسلمانوں کے ایمان کو تازہ کرتی ہے! صدیوں بعد آج بھی مقامِ بدر کفّارِ مکہ کی شکستِ فاش اور مسلمانوں کی فتح و کامرانی کی گواہی دیتا ہے، موجودہ دَور میں مسلمانوں کی زوال اور کفّار کے غلبہ کی وجہ بھی یہی ہے، کہ آج مسلمانوں کے پاس تمام وسائل موجود ہونے کے باوُجود ان كے پاس “بدر” کا وہ جذبہ نہیں رہا!
| ہتھیار ہیں اَوزار ہیں اَفواج ہیں لیکن | وہ تین سو تیرہ کا لشكر نہیں ملتا |
“کفّار کے لشکر میں عیش وعشرت کا سامان بھی کافی تعداد میں تھا، یہاں تک کہ کسی پانی کے کنارے پڑ اؤ کرتے تو خیمے نصب کرتے اور ان کے ہمراہ گانے والی طوائف اور آلات طرب بھی تھے، جبکہ مسلمانوں کے پاس ایک خیمہ تک نہیں تھا، صحابۂ کرام نے کھجور کے پتوں اور ٹہنیوں سے ایک عریش (جھونپڑ ی) تیار کر کے حضورِ اقدس ﷺ کو اس میں ٹھہرایا، آج اس عریش کی جگہ ايك مسجد بنی ہوئی ہے”([9])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : خلیفۂ ثانی امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ
کفّارِ بدر کے مقاماتِ قتل کی پیشگی خبر اور علومِ خمسہ
عزیزانِ محترم! اس جنگ کا حال بیان کرتے ہوئے حضرت سيِّدنا اَنس بن مالک فرماتے ہیں، کہ رسول اﷲ ﷺ نے مشورہ اس وقت کیا جب ہمیں ابوسفیان کی آمد کی خبر ملی، اور حضرت سيِّدنا سعد بن عُبادہ کھڑے ہوكر بولے: یارسول اﷲ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ اپنے گھوڑے سمندر میں ڈال دو تو ہم ضرور کر گزریں گے، اور اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ ہم ان کے سینے برک غماد [یمن کا آخری شہر ہے جو مدینۂ منوّرہ سے بہت دُور ہے] تک ماریں، تو ہم ایسا بھی ضرور کریں گے! راوی نے کہا کہ رسول اﷲ ﷺ نے لوگوں کو جہاد کے لیے بلایا تو لوگ آپ کے ساتھ چل پڑے، یہاں تک کہ میدانِ بدر میں جا اُترے، پھر رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: «هٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ» “یہ فُلاں کافر کی قتل گاہ ہے” اور اپنا ہاتھ زمین پر ادھر اُدھر رکھتے تھے، راوی کہتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی رسول اﷲ ﷺ کی بیان کردہ جگہ سے نہ ہٹ پایا”([10]) یعنی جس کی جہاں جگہ بتائی وہ وہیں مرا۔
اس سے معلوم ہوا کہ حضورِ انور ﷺ کو رب تعالی نے ہر ایک کے وقتِ مَوت، موت کی جگہ اور کیفیتِ موت کی خبر دی ہے کہ کون، کہاں، کیسے اور کب مرے گا، کافر ہوکر یا مؤمن ہوکر! یہ علم علومِ خمسہ میں سے ہے جس کا ظُہور جنگِ بدر میں اس طرح ہوا۔
مُردے بھی سنتے ہیں
حضرات گرامی قدر! “صحیح مسلم شریف” میں ہے کہ امیر المؤمنین سيِّدنا عمر فاروق اعظم کہتے ہيں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کفّارِ بدر کی قتل گاہیں دکھاتے ہوئے فرمايا: «هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَداً، إِنْ شَاءَ اللهُ» کہ “اگر اللہ تعالی نے چاہا تو كل فُلاں کافر یہا ں قتل ہوگا” جہاں جہاں حضور نے بتایا تھا وہیں وہیں ان کی لاشیں گریں، پھر بحکمِ حضور وہ كفّار كے لاشے ایک کنویں میں بھر ديئے گئے، حضور سیِّد عالم ﷺ وہاں تشریف لے گئے اور فرمایا: «يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ وَيَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ! هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ حَقّاً؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللهُ حَقّاً» “اے فُلاں بن فُلاں اور اے فُلاں بن فُلاں! کیا تم نے خدا ا ور رسول كا دیا ہوا سچا وعدہ پایا؟ میں نے تو اللہ تعالی كادیا ہوا وعدہ حق پالیا ہے”۔ امیر المؤمنین سيِّدنا عمر نے عرض کی: یا رسول اللہ! حضور اِن جسموں سے کیوں کلام کرتے ہیں جن میں رُوحیں نہیں؟! فرمایا: «مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِـمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَرُدُّوا عَلَيَّ شَيْئاً»([11]) “جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان مُردوں سے زیادہ نہیں سنتے، مگر انہیں یہ طاقت نہیں کہ مجھے جواب دے سکیں”۔
اس سے معلوم ہوا کہ مُردے کافر ہی کیوں نہ ہوں وہ سنتے ہیں، مگر جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے، اور مسلمان تو بدرجۂ اَولی سنتے ہیں، پھر انبیائے کرام اور اولیائے عظام کی سماعتوں کے کیا کہنے!۔
ابو جہل کا قتل
حضراتِ ذی وقار! جنگِ بدر میں جہاں بڑے بڑے صحابۂ کرام نے بہادری وجرأت کے جَوہر دکھائے، وہیں کمسن بچے بھی پیچھے نہ رہے، حضرت سيِّدنا عبد الرحمن بن عَوف فرماتے ہیں کہ میں بدر کے دن صف میں کھڑا تھا، میں نے اپنے دائيں بائیں دیکھا تو خود كو انصار کے دو2 نو عمر بچوں کے ساتھ پايا، میں نے تمنّا کی کہ میں بھی ان جيسے بہادروں کے درمیان ہوتا، ان میں سے ایک نے مجھے اشارہ کیا اور کہا کہ چچا جان! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں اے بھتیجے! تمہیں اس سے کیا کام ہے؟ وہ بولا: مجھے خبر ملی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتا ہے! اُس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میں اس سے جُدا نہ ہوں گا، یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی ایک مر جائے، حضرت سيِّدنا عبد الرحمن بن عَوف فرماتے ہیں کہ مجھے اس کی بہادری پر بڑا تعجب ہوا!۔
پھر دوسرے نے بھی مجھے اشارہ کیا اور مجھ سے اسی طرح کہا، جب میں نے ابوجہل کو لوگوں کے بیچ دیکھا، تو میں نے ان بچوں سے کہا کہ دیکھو! وہ تمہارا مطلوب ہے جس كےبارے میں تم مجھ سے پُوچھ رہے تھے! حضرت سيِّدنا عبد الرحمن بن عَوف فرماتے ہیں کہ وہ دونوں اپنی تلواریں لیے ابو جہل پر جھپٹ پڑے، اسے مارا حتی کہ اسے قتل کر دیا، پھر دونوں بچوں نے نبئ كريم ﷺ كو اس بات کی خبر دی، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «أَيُّكُمَا قَتَلَهُ؟» “تم میں سے کس نے اُسے قتل کیا؟” ان میں سے ہر ایک نے کہا کہ اسے میں نے مارا ہے، فرمایا: «هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا؟» “کیا تم نے اپنی تلواریں پونچھ لی ہیں؟” وہ بولے کہ نہیں، رسول اﷲ ﷺ نے ان کی تلواریں دیکھیں تو فرمایا: «كِلاَكُمَا قَتَلَهُ!» “تم دونوں نے ہی اُسے قتل کیا ہے!”۔ وہ دونوں حضرات سيِّدنا مُعاذ بن عفراء اور سيِّدنا مُعاذ بن جموح تھے([12])۔
خیال رہے کہ ان دونوں مجاہدوں کا نام مُعاذ یا معوذ ہے، یہ دونوں حضرات اَخیافی یعنی ماں شریک بھائی ہیں، ان کی والدہ کا نام عَفراء ہے جن کے ایک خاوَند کا نام عَمرو بن جموح ہے، دوسرے خاوَند کا نام حارِث ہے، لہذا مُعاذ بن عَفراء میں نسبت ماں کی طرف ہے، بعض روایات میں ان دونوں مُعاذوں کو ابن عفراء کہا جاتا ہے، وہ بھی درست ہے كہ دونوں کی نسبت ماں کی طرف ہے([13])۔
شہدائے بدر کے اسمِ گرامی
میرے محترم بھائیو! اس معرکہ میں جو چودہ14 سعادتمند شہید ہوئے، ان صحابۂ کرام کو اعلیٰ مقام ومرتبہ حاصل ہوا، جن میں سے چھ6 مہاجر اور آٹھ8 انصار تھے۔ شہدائے مہاجرین کے نام یہ ہیں:
(١) حضرت سيِّدنا عبیدہ بن حارِث مطلبى (2) حضرت سيِّدنا مہجع (3) حضرت سيِّدنا عمیر بن ابی وقاص (4) حضرت سيِّدنا عاقل بن ابی بکیر (5) حضرت سيِّدنا ذو الشمالَین عمیر (6) حضرت سيِّدنا صفوان بن بیضاء۔
اور انصار صحابہ کے نام یہ ہیں:
(7) حضرت سيِّدنا عَوف بن عفراء (8) حضرت سيِّدنا معوّذ بن عَفراء (9) حضرت سيِّدنا حارِثہ بن سراقہ (10) حضرت سيِّدنا یزید بن حارِث (11) حضرت سيِّدنا رافع بن معلّٰی (12) حضرت سيِّدنا عمیر بن حمام (13) حضرت سيِّدنا سعد بن خیثمہ (14) حضرت سيِّدنا مبشر بن عبد المنذِر رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین([14])۔
ان شہدائے کرام میں سے تیرہ13 حضرات تو میدانِ بدر ہی میں مدفون ہوئے، مگر حضرت سيِّدنا عبیدہ بن حارِث نے چونکہ مقامِ بدر سے واپسی پر منزلِ “صفراء” میں وفات پائی، لہذا ان کی قبر شریف مقامِ صفراء میں ہے([15])۔
بیٹا فردَوسِ اعلیٰ میں
حضرت سيِّدنا اَنس سے روایت ہے کہ حضرت سيِّده ربیع بنت بَراء جو سيِّدنا حارِثہ بن سراقہ کی والده ہیں، انہوں نے نبئ کریم ﷺ کے پاس آکر عرض کی کہ یا نبى اللہ! کیا آپ حارِثہ کے بارے میں مجھے کچھ بتائیں گے؟ -سيِّدنا حارِثہ جنگِ بدر کے دن شہید ہوئے تھے، ان کو ایک نامعلوم تیر لگا تھا- اگر وہ جنّت میں ہوں جب تو میں صبر کروں گی، اور اگر اس کے سوا کوئی بات ہو تو میں ان پر خُوب روؤں گی! مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «يَا أُمَّ حَارِثَةَ! إِنَّهَا جِنَانٌ فِي الجَنَّةِ، وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الفِرْدَوْسَ الأَعْلَى»([16]) “اے حارِثہ کی ماں! جنّت ميں بہت سی جنتیں ہیں، اور اطمينان رکھو کہ تمہارا بیٹا فردَوسِ اعلیٰ میں ہے”۔
غزوۂ بدر میں حصہ لینے والوں کو جنّت کی بشارت
رفيقانِ ملّتِ اسلاميہ! صحابۂ کرام نے اس غزوہ میں اِطاعت وفرمانبرداری کاایسا مظاہر ہ کیا، کہ دنیا ایسے جاں نثاروں کی تاریخ پیش کرنے سے عاجز ہے، اسلام کے ليے ایسی قربانی دینے والوں كى جھلک پیش کرنے سے قا صر ہے، ان کی انہی قربانیوں کے نتیجہ میں نبئ کریم ﷺ نے ان حضرات کے بڑے فضا ئل بیان فرمائے، ایک حدیث میں مصطفى جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «لَعَلَّ اللهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الجَنَّةُ، أَوْ: فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ»([17]) “اللہ تعالى نے اہلِ بدر کی طرف نظر كی اور فرمایا کہ تم جو چاہے کرو، جنّت تمہارے ليے واجب ہے! يا میں نے تمہیں بخش دیا ہے!”۔
معرکۂ حق وباطل سے حاصل ہونے والا سبق
میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! یہ ایمان افروز معرکۂ حق وباطل ایمان والوں کو کئی پیغامات اور سبق آموز ہدایات دیتا ہے، اور موجودہ حالات میں اس کی خاص معنویت اور اہمیت بڑھ جاتی ہے؛ کیونکہ آج ہر طرف سے اسلام اور مسلمانوں پر باطل کی يلغار ہے، عالمى سطح پر مسلمانوں کو کمزور کرنے اور ان کے حقو ق کى پامالى كے لیے ہرممکن کوششیں جارہی ہیں! عالَمِ كفر طاقت وقوّت اور سائنس وٹيکنالوجی (Science and Technology) کے نشے اور نت نئی اِیجادات کی مستی میں مسلمانوں کو تختۂ مشق بنائے ہوئے ہے، گويا بزبانِ حال پورى دنیا کے حالات اس بات کا شدّت سے تقاضا کر رہے ہیں کہ اب اللہ کی مدد آئے! اب اللہ کی مدد آئے! چنانچہ اس کے ليے قرآنِ کریم کی وہی ہدایت ہمیں بھی پیشِ نظر رکھنی ہیں جو اُس نے اہلِ بدر کو دی تھی، کہ تقویٰ وپرہیزگاری کو مضبوطی سے تھامے رکھو، ہمت اور جذبۂ جاں نثاری سے سرشار رہو؛ تو یہ چیز خدائی مدد کے اُترنے کا اہم ترین سبب ہے! ۔
مسلمان جب تك تقویٰ، صبر اور جذبۂ صادقہ سے آراستہ نہیں ہوں گے، باطل طاقتوں کے سامنے ہرگز نہیں ٹھہر سکتے، ليكن یہی مسلمان جب تقویٰ، صبر اور جذبۂ صادِقہ کی صفا ت سے متصف ہوجائیں، تو پھر دنیا کى کوئی باطل طاقت وقوّت ان کے مقابل کامیاب نہیں ہو سکتی! یہی تعلیم اللہ تعا لی نے اُن پاکیزہ نُفوس صحابۂ کرام کو دی، جو ہر وقت تقویٰ کی تعلیم وتربیت حاصل كرنے کے ليے دربارِ رسالت مآب ﷺ میں حاضر رہتے، اور اس عظیم مربّیﷺ کی زیرِ نگرانی یہ عظیم نعمت حاصل كيا كرتے! یہی چیز پھر تعلق مع اللہ کا بھی ذریعہ بنتی ہے، نیز ایمان ویقین کو مضبوط کر نے کا سبب بھی بنتی ہے!
| فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نُصرت کو |
| اُتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی([18]) |
دعا
اے اللہ! ہمیں صحابۂ کرام کی سیرتِ طیّبہ پر عمل کی توفیق مرحمت فرما، دینِ متین کے لیے ہر قسم کی قربانی کا جذبہ عطا فرمااور ، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو اَور زیادہ فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([2]) “تفسیر خزائن العرفان”پ4، آل عمران، زيرِ آيت: 125، 129۔
([4]) “الطبَقات الكُبرى” ذكر عدد مَغازي رسول الله g، 1/359.
([5]) “شاہنامۂ اسلام” باب اوّل، معرکۂ بدر، حصّہ دُوم2، 209۔
([6]) ایضاً، معرکۂ نور وظلمت، صف اسلام، حصّہ دُوم2، 229۔
([7]) “صحيح البخاري” كتاب المَغازي، ر: 3957، صـ669.
([8]) “صحيح مسلم” كتاب الجهاد والسِير، ر: 4588، صـ781، 782.
([9]) “مدارج النبوّت” قسم سوم3 در ذكر وقائع سنوات، ذكر غزوه بدر كبرى، جزء۲، 82، 86، ملتقطاً۔
([10]) “صحيح مسلم” كتاب الجهاد، ر: 4621، صـ792، ملتقطاً.
([11]) المرجع نفسه، كتاب الجنّةِ وصفة نعِيمها وأهلها، ر: 7222، صـ1244، 1245.
([12]) “صحيح البخاري” كتاب فرض الخمس، ر: 3141، صـ521، 522.
([13]) “اَشعۃ اللمعات” كتاب الجہاد، باب قسمۃ الغنائم والغُلول فیہا، فصل ٣، 3/451 ملخصاً۔
([14]) “شرح الزرقاني على المواهب” كتاب المَغازي، ٢/325-327، ملتقطاً.
([16]) “صحيح البخاري” باب مَن أتاه سهم غرب فقتله، ر: 2809، صـ465.
([17]) المرجع نفسه، باب فضل من شهد بدراً، ر: 3983، صـ672.
([18]) کلام ظفر علی خان (مدیر روزنامہ زمیندار، لاہور)، دیکھیے: https://dailychattan.com/columns/friday/2023/04/07/12669/