
Table of contents
الحمد لله ربّ العالمين، والصّلاةُ والسّلامُ على خاتمِ الأنبياءِ والمرسَلين، وعلى آلهِ وصحبهِ أجمعين، أمّا بعد: فأعوذُ باللهِ مِن الشّيطانِ الرّجيم، بسمِ الله الرّحمنِ الرّحيم.
حضور پُرنور، شافعِ یومِ نُشور ﷺ کی بارگاہ میں ادب واحترام سے دُرود وسلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اللّهمّ صلِّ وسلِّم وبارِك على سيِّدِنا ومولانا وحبيبِنا محمّدٍ وعلى آلهِ وصَحبهِ أجمعين.
قربانی کی تعریف
برادرانِ اسلام! ایامِ نحر (قربانی کے دنوں) میں قُربِ الٰہی کے حصول کی نیّت سے، جو جانور ذبح کیا جاتا ہے، اصطلاحِ شریعت میں اُسے قربانی کہتے ہیں([1])۔ صدر الشریعہ علّامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ “مخصوص جانور کو، مخصوص دن میں، بہ نیّتِ تقرُب ذَبح کرنا قربانی ہے۔ کبھی اس جانور کو بھی اُضحِیہ اور قربانی کہتے ہیں جو ذَبح کیا جاتا ہے۔ قربانی حضرت سیِّدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنّت ہے، جو اس اُمّتِ (محمدیّہ) کے لیے باقی رکھی گئی”([2])۔

یہ بھی ضرور پڑھی:ماحولیات کی حفاظت
قربانی کی مشروعیت
عزیزانِ محترم! ہر صاحبِ نصاب پر قربانی واجب ہے، اللہ تعالیٰ نے مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کو قربانی کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾([3]) “تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو!”۔
قربانی ایک ایسی عبادت ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت سیِّدنا اسماعیل علیہ السلام کی جان کے فدیہ میں ذَبیحہ دے کر، لوگوں کے لیے اسے مقرّر فرمایا، ارشادِ ربّانی ہے: ﴿وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ﴾([4]) “ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اُس (اسماعیل علیہ السلام) کے فِدیہ میں دے کر اُسے بچا لیا”۔
قربانی کرنے کا اجر وثواب
حضراتِ گرامی قدر! قربانی اسلامی شِعار اور نعمتِ الٰہی ہے، تقویٰ وپرہیزگاری اور رِضائے الٰہی کی خاطر، دی جانے والی قربانی کو اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ﴾([5]) “اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، ہاں تمہاری پرہیز گاری اس تك باریاب ہوتی ہے”۔ “یعنی قربانی کرنے والے صرف نیّت کے اِخلاص اور شُروطِ تقویٰ کی رعایت سے، اللہ تعالىٰ کو راضی کر سکتے ہیں”([6])۔
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنا نہایت ہی پسندیدہ اَمر ہے، عید الاضحیٰ کے ایّام میں خالقِ کائنات A کو قربانی سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں۔ اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدہ عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے، کہ رحمتِ عالمیان ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ، أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ، إِنَّه لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلافِهَا، وَإنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنْ اللهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الأَرْضِ، فَطِيْبُوْا بِهَا نَفْساً»([7]) “قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں، مسلمان کا کوئی عمل خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ پسندیدہ نہیں! قربانی کا جانور قیامت کےدن اپنے سینگوں، بالوں اور کُھروں سمیت آئے گا، اور یقیناً اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے،اللہ تعالیٰ کے ہاں مقام ِقبولیّت حاصل کر لیتا ہے، لہٰذا خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو!”۔
قربانی كا دن اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت عظیم دن ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ أَعْظَمَ الأَيَّامِ عِنْدَ اللهِ، يَوْمُ النَّحْرِ»([8]) “یقیناً اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے عظیم دن، قربانی (10 ذی الحجہ) کا دن ہے”۔
میرے محترم بھائیو! اَجر وثواب کی نیّت سے قربانی کرنا، آتشِ جہنم سے حجاب (رکاوَٹ) کا باعث ہے، حضرت سیِّدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ ضَحَّى طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ، مُحْتَسِباً لِأُضْحِيَّتِهِ، كَانَتْ لَهُ حِجَاباً مِنَ النَّارِ»([9]) “جس نے خوش دلی کے ساتھ، طالب ِثواب ہو کر قربانی کی، اس کے لیے وہ قربانی آتشِ جہنم سے حجاب (رکاوَٹ) ہو جائے گی”۔
حضرت سیِّدنا ابنِ عبّاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَا أُنْفِقَت الْوَرِقُ فِي شَيْءٍ أَحَبَّ إِلَى اللهِ، مِنْ نَحيرٍ يُنْحَرُ فِي يَوْمِ عِيدٍ»([10]) “جو مال عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا، اس سے زیادہ کوئی مال پیارا نہیں!”۔

یہ بھی ضرور پڑھی:رشتہ داروں کے حقوق
قربانی واجب ہونے کی شرائط
حضراتِ محترم! قربانی واجب ہونے کی کیا شرائط ہیں؟ اس بارے میں حضور صدر الشریعہ علّامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ “(١) اسلام، یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں۔ (٢) اِقامت یعنی مقیم ہونا، مسافر پر واجب نہیں۔ (٣) تونگری یعنی مالکِ نصاب ہونا۔ یہاں مالداری سے مراد وہی (نصاب) ہے جس سے صدقۂ فطر([11]) واجب ہوتا ہے، وہ مراد نہیں جس سے زکاۃ واجب ہوتی ہے۔ (٤) حُرّ یت یعنی آزاد ہونا، جو آزاد نہ ہو اُس پر قربانی واجب نہیں؛ کہ غلام کے پاس مال ہی نہیں، لہٰذا عبادتِ مالیہ اُس پر واجب نہیں۔ مرد ہونا اس (قربانی) کے لیے شرط نہیں، عورتوں پر (بھی) واجب ہوتی ہے جس طرح مَردوں پر واجب ہوتی ہے”([12])۔
قربانی کا وقت
حضراتِ گرامی قدر! قربانی کا وقت تین3 دن، یعنی 10 ذی الحجہ کی صبح سے لے کر بارہ12 ذی الحجہ کا سورج ڈوبنے تک ہے۔ قربانی کے وقت کے بارے میں حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ حضرت سيِّدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: «الأَضْحَى يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ الأَضْحَى»([13]) “قربانی بقر عید کے بعد دو2 دن تک ہے”۔ حضرت سیِّدنا امام مالک نے فرمایا، کہ مجھے حضرت سیِّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہا سے اس کے مثل روایت پہنچی ہے([14])۔ “یہ حدیث حضرت امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام احمد کی قوی دلیل ہے، کہ قربانی (دس 10 ذی الحجّہ کی صبح سے) 12 ویں کے سورج ڈوبنے تک ہے”([15])۔([11]) صدقۂ فطر یا قربانی واجب ہونے کے لیے، مسلمان آزاد مرد وعورت کا عید الفطر یا قربانی کے ایّام میں، ساڑھے سات تولے سونا، یا ساڑھے باوَن تولہ چاندی، یا چاندی کی مالیت کے برابر رقم (حالیہ حساب سے تقریبا ً 80, 900 روپے پاکستانی) کا مالک ہونا ضروری ہے۔ جس کے پاس ان ایّام میں (ضروریاتِ زندگی سے) زائد اتنی رقم ہو اس پر قربانی واجب ہے، اس میں سال گزرنا شرط نہیں
قربانی کے جانور سے متعلّق حکمِ شرعی
عزیزانِ مَن! جس شخص پر قربانی واجب ہو، اسے چاہیے کہ جانور اچھا اور بےعیب خریدے، حضور نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَرْبَعَةٌ لَا يَجْزِيْنَ فِي الْأَضَاحِي: (1) الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، (2) وَالْمرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، (3) وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا، (4) وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لَا تُنْقِي»([16]) “چار4 قسم کے جانوروں کی قربانی درست نہیں: (۱) وہ کانا جانور جس کا کانا پَن صاف معلوم ہو، (۲) ایسا بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو، (3) ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پَن صاف معلوم ہو، (4) ایسا کمزور وناتواں جانور جس کی ہڈیوں میں گُودا نہ رہا ہو”۔
قربانی سے متعلّق چند شرعی مسائل
برادرانِ اسلام! حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ قربانی کے چند اہم مسائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
“(١) قربانی واجب ہونے کا سبب وقت ہے، جب وہ وقت آیا اور شرائطِ وُجوب پائے گئے، قربانی واجب ہوگئی۔
(٢) مالکِ نصاب نے قربانی کے لیے بکری خریدی تھی وہ گم ہوگئی، اور اس شخص کا مال نصاب سے کم ہوگیا، اب قربانی کا دن آیا تو اس پر یہ ضرور (لازم) نہیں کہ دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے۔ اور اگر وہ بکری قربانی ہی کے دنوں میں مل گئی، اور یہ شخص اب بھی مالکِ نصاب نہیں ہے، تو اُس پر اس بکری کی قربانی واجب نہیں۔
(٣) عورت کا مَہر شوہر کے ذمّہ باقی ہے، اور شوہر مالدار ہے، تو اس مَہر کی وجہ سے عورت کو مالکِ نصاب نہیں مانا جائے گا، اگرچہ مَہر معجّل ہو، اور اگر عورت کے پاس اس کے سوا بقدرِ نصاب مال نہیں ہے، تو عورت پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔
(٤) بالغ لڑکوں یا بی بی (زَوجہ) کی طرف سے قربانی کرنا چاہتا ہے، تو اُن سے اجازت حاصل کرے، بغیر اُن کے کہے اگر کر دی تو اُن کی طرف سے واجب ادا نہ ہوا۔ اور نابالغ کی طرف سے اگرچہ واجب نہیں ہے مگر کر دینا بہتر ہے۔
(٥) یہ ضرور (لازم) نہیں کہ دسویں10 ہی کو قربانی کر ڈالے، اس کے لیے گنجائش ہے کہ پورے وقت (10 ذی الحجہ کی صبح سے لے کر بارہ12 ذی الحجہ کے سورج ڈوبنے تک) میں جب چاہے کرے، لہٰذا اگر ابتدائے وقت میں اس کا اہل نہ تھا، وُجوب کے شرائط نہیں پائے جاتے تھے، اور آخر وقت میں اہل ہوگیا، یعنی وُجوب کے شرائط پائے گئے تو اس پر واجب ہوگئی، اور اگر ابتدائے وقت میں واجب تھی اور ابھی کی نہیں، اور آخر وقت میں شرائط جاتے رہے، تو واجب نہ رہی۔
(٦) ایک شخص فقیر تھا مگر اس نے قربانی کر ڈالی، اس کے بعد ابھی وقت قربانی کا باقی تھا کہ غنی ہوگیا، تو اُس کو پھر قربانی کرنی چاہیے؛ کہ پہلے جو کی تھی وہ واجب نہ تھی، اور اب واجب ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ وہ پہلی قربانی کافی ہے۔
(7) اگر باوُجود مالکِ نصاب ہونے کے اُس نے قربانی نہ کی، اور وقت ختم ہونے کے بعد فقیر ہوگیا، تو اس پر بکری کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے، یعنی وقت گزرنے کے بعد قربانی ساقط نہیں ہوگی۔
(8) اور اگر مالکِ نصاب بغیر قربانی کیے ہوئے انہیں دنوں میں مرگیا، تو اس کی قربانی ساقط ہوگئی۔
(9) قربانی کے وقت میں قربانی کرنا ہی لازم ہے، کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتی، مثلاً بجائے قربانی اُس نے بکری یا اس کی قیمت صدقہ کر دی، یہ ناکافی ہے۔
(10) دسویں10 کے بعد کی دونوں راتیں ایّامِ نحر میں داخل ہیں، ان میں بھی قربانی ہوسکتی ہے، مگر رات میں ذبح کرنا مکروہ ہے۔
(11) اگر شہر میں متعدد جگہ عید کی نماز ہوتی ہو، تو پہلی جگہ نماز ہوچکنے کے بعد قربانی جائز ہے، یعنی یہ ضرور نہیں کہ عیدگاہ میں نماز ہو جائے جبھی قربانی کی جائے، بلکہ کسی (بھی) مسجد میں ہوگئی اور عیدگاہ میں نہ ہوئی، جب بھی ہوسکتی ہے۔
(12) مِنیٰ میں چونکہ عید کی نماز نہیں ہوتی لہٰذا وہاں جو قربانی کرنا چاہے، طلوعِ فجر کے بعد سے کرسکتا ہے۔
(13) قربانی کے دن گزر گئے اور اُس نے قربانی نہیں کی، اور جانور یا اس کی قیمت کو صدقہ بھی نہیں کیا، یہاں تک کہ دوسری بقر عید آگئی، اب یہ چاہتا ہے کہ سالِ گزشتہ کی قربانی کی قضا اس سال کر لے، یہ نہیں ہوسکتا، بلکہ اب بھی وہی حکم ہے کہ جانور یا اس کی قیمت صدقہ کرے”([17])۔
قربانی کا بنیادی فلسفہ اور مُعاشرتی طرزِ عمل
عزیزانِ محترم! عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی پیش کرنے میں بنیادی فلسفہ یہ ہے، کہ اگر راہِ خدا میں اپنی عزیز ترین چیز بھی نچھاور کرنی پڑے، تو اس سے دریغ نہ کیا جائے! اگر قربانی کے فریضہ سے اس فلسفے کو نکال دیا جائے، تو پھر اس کا مفہوم بےمعنیٰ سا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا قربانی کرتے وقت یہ بات ہمارے پیشِ نظر رہنی چاہیے، کہ حضرت سیِّدنا ابراہیم، جس وقت اپنے بیٹے حضرت سیِّدنا اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کے لیے پیش کر رہے تھے، اس وقت ان کا مقصود ومطلوب شہرت یا نمود ونمائش ہرگز نہیں تھا، بلکہ انہوں نے خالصۃً رِضائے الٰہی کے لیے اپنے جگر گوشہ کو راہِ خدا میں قربان کرنے کے لیے پیش کیا، حضرت سیِّدنا ابراہیم علیہ السلام کی یہ قربانی، رہتی دنیا تک کے لیے ایک رَوشن مثال، اور مسلمانوں کے لیے اِطاعت واِیثار کا ایک حسین نمونہ ہے!۔
میرے محترم بھائیو! ہونا تو یہ چاہیے کہ سُنّتِ ابراہیمی کو پورا کرنے کی غرض سے، ذبح کیے جانے والے جانور کے ساتھ ساتھ، شہرت ورِیاکاری جیسی دنیاوی خواہشات، اور اَنا کو بھی قربان کر دیا جائے، اور خالصۃً رِضائے الٰہی اور تقوی وپرہیزگاری کے حصول کے لیے قربانی پیش کی جائے؛ کیونکہ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہے، کہ رب تعالیٰ کو ہمارے جانوروں کے گوشت اور خون کی حاجت نہیں، بلکہ وہ ہمارا جذبۂ قربانی، اِیثار اور تقویٰ کو ملاحظہ فرماتا ہے۔
جانور کی قربانی تو محض ایک علامت ہے، اصل قربانی تو یہ ہے، کہ اَحکامِ شریعت کی تعمیل میں اپنی نفسانی خواہشات کو قربان کیا جائے، اپنی سہولت وضروریات کو نظر انداز کرکے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کی جائے، اپنی ذات کو تقویٰ، خُلوص اور اِیثار کا پیکر بنایا جائے!۔
عزیزانِ محترم! ہمارے مُعاشرے میں عموماً دیکھا گیا ہے، کہ صاحبِ حیثیت لوگ قربانی کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں، اعلیٰ سے اعلیٰ نسل کا جانور خرید کر، اس نیک کام میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی، ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ یہ عمل اگر رِضائے الٰہی کے پیشِ نظر ہے تو بہت اچھی بات ہے، لیکن اگر اس سے مقصود شہرت یا دِکھلاوا ہے، تو سب دَھن دَولت اور تگ ودَو رائیگاں ہے!!۔
اسی طرح بعض لوگ راہِ خدا میں لاکھوں روپے خرچ کرنے کے لیے تو ہردَم تیار ہوتے ہیں، لیکن اپنی اَنا کو قربان کر کے اپنے ناراض بھائی بہنوں کو راضی کرنے، اور اُن سے صلح کے لیے آمادہ نہیں ہوتے! ایسے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ اگر ہم اپنے اندر کے حیوان (یعنی نفس) کو قربان نہ کر سکے، تو پھر بظاہر یہ ایک جانور کی قربانی کس کام کی؟! لہٰذا سب سے پہلے ہمیں اپنے نفس کو مارنا ہوگا، اپنی نفسانی خواہشات کو قربان کرنا ہوگا، یقین کیجیے کہ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے، تو پھر عید الاضحیٰ کے موقع پر پیش کی جانے والی یہ قربانیاں سونے پہ سہاگہ کی مثل ہوں گی! لہٰذا جس جس کی اپنے بھائی بہنوں سے باہم ناراضگی ہے، وہ عیدِ قرباں کے مبارک ایّام میں آپس کی تمام رنجشیں، ناراضگیاں دُور کریں، اپنے دل کو کینہ، بُغض، عداوَت، چغلخوری اور حسد جیسے ایمان سوز اور مہلِک گناہ سے پاک وصاف کر کے، ہمیشہ کے لیے باہم شِیر وشکر ہو جائیں، ایک دوسرے سے مصافحہ ومُعانقہ کریں، عید کی مبارک باد دے کر اللہ ورسول ﷺ کی رضا، اور اپنے گناہوں کی مُعافی حاصل کریں، حضور نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ الْمسْلِمَ إِذَا لَقِيَ أَخَاهُ الْمسْلِمَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ، تَحَاتَّتْ عَنْهُمَا ذُنُوبُهُمَا، كَمَا تَتَحَاتُّ الْوَرَقُ مِنَ الشَّجَرَةِ الْيَابِسَةِ فِي يَوْمِ رِيحٍ عَاصِفٍ، وَإِلَّا غُفِرَ لَهُمَا، وَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُهُمَا مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ»([18]) “جب ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملتا ہے، اس سے مصافحہ کرتاہے، تو ان دونوں کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں، جس طرح موسمِ خزاں میں درخت کے پتے جھڑتے ہیں، اور ان دونوں کی بخشش کر دی جاتی ہے، اگرچہ ان کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں”۔
عیدِ قرباں کا مقصد وپیغام
میرے محترم دوستو، بھائیو اور بزرگو! اپنے گرد وپیش رہنے والے مسلمان بھائی بہنوں کا بھی خیال رکھیے! اپنے اندر خُلوص، اِیثار اور قربانی کا جذبہ پیدا کریں؛ کہ عید ِ قرباں کا یہی مقصد وپیغام ہے۔ جس طرح حضرت سیِّدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قیمتی چیز اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کی، اور آزمائش میں پورے اُترے، اسی طرح ہم بھی اللہ تعالیٰ کے اَحکام پر عمل کر کے، اپنے رب کی رِضا وقُرب حاصل کر سکتے ہیں!۔
جس طرح حضرت سیِّدنا اسماعیل علیہ السلام نے حکمِ الٰہی کے سامنے اپنا سرِ تسلیم خم کیا، اسی طرح ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو بھی اَحکامِ الٰہی کی پابندی کرنے کی تلقین کرتے رہیں، انہیں مُعاشرے میں بسنے والے دیگر اَفراد کے ساتھ حُسنِ سُلوک اور ہمدردی سے پیش آنے، ان کی ضروریات کا خیال رکھنے، ان کی خوشی غمی میں شریک ہونے، اور ان کی خاطر اپنی خواہشات کو قربان کرنے کا جذبہ بیدار کریں؛ کہ فلسفۂ قربانی میں یہ ایک اہم درس پنہاں ہے، اور یہی اس کا تقاضا بھی ہے!۔
دعا
اے اللہ! ہماری قربانیوں اور دیگر اَعمالِ صالحہ کو قبول فرما، ہمیں فلسفۂ قربانی کو سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرما، ہمیں شہرت ودِکھلاوے جیسی اَخلاقی برائیوں سے نَجات عطا فرما، تقویٰ، پرہیزگاری اور اِخلاص کی دَولت سے مالا مال فرما۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام رضی اللہ تعالی عنہا کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتّحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، اس میں سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اخلاص کی دولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتّحاد واتّفاق اور محبت والفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!
اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی وکشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما!، آمین یا رب العالمین!
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) انظر: “التعريفات” باب الألف، ر: 160- الأُضحِية، صـ31 ملخّصاً.
([2]) “بہارِ شریعت” قربانی کا بیان، حصّہ پانز دہم 15، 3/327۔
([6]) دیکھیے: “تفسیر خزائن العرفان” پ 17، الحج، زیر ِ آیت: 37، 625۔
([7]) “سنن الترمذي” باب ما جاء في فضل الأُضحِية، ر: 1493، صـ363.
([8]) “سنن أبي داود” كتاب المناسك [باب] ر: 1765، صـ259.
([9]) “المعجم الكبير” باب الحاء، ر: 2736، 3/84.
([10]) “المعجم الكبير” طاوس عن ابن عبّاس، ر: 10894، 11/15.
([12]) “بہارِ شریعت” قربانی کا بیان، حصّہ پانز دہم15، 3/332۔
([13]) “موطّأ الإمام مالك” كتاب الضحايا، ر: 1052، صـ276.
([14]) المرجع نفسه، تحت ر: 1052.
([15]) “مرآة المناجيح” قربانی کا باب، تیسری فصل، زیرِ حدیث: 1473، 2/376۔
([16]) “سنن النَّسائي” كتاب الضحايا، ر: 4377، الجزء 7، صـ228.
([17]) “بہارِ شریعت” قربانی کا بیان، حصّہ پانز دہم15، 3/333-339، ملتقطاً۔