
Table of contents
- مذہبی سیاست کا بنیادی مقصد
- مذہب اور سیاست میں باہم تفریق کی وجہ
- زمین کے حقیقی وارِث
- حکومت وسیاست کا بنیادی مقصد
- دینی سیاست کے لیے مذہبی مقامات کا انتخاب
- مذہبی سیاست سے متعلق انبیائے کرام علیہ السلام کا طرزِ عمل
- اِمامت وسیاست کی اہلیت
- حکمرانوں کے انتخاب میں ہماری نااہلی
- موجودہ سیاست سے دیندار طبقے کی کِنارہ کَشی کا نقصان
- مذہبی سیاست … وقت کا اہم تقاضا
- دعا
مذہبی سیاست کا بنیادی مقصد
برادرانِ اسلام! مذہبی سیاست کا بنیادی مقصد، اسلامی تعلیمات کی رَوشنی میں ایک ایسے صالح مُعاشرے کی تشکیل ہے، جہاں قرآن وسنّت کے اَحکام کی روشنی میں اسلامی نظام کا نفاذ کیا جا ئے، لوگوں کو بلاامتیاز عدل وانصاف فراہم کیا جائے، ظلم وستم کا خاتمہ کر کے امن وآشتی کی فضا قائم کی جائے، عوام النّاس کے جان ومال، عزّت وآبرو اور حقوق کے تحفُظ کو یقینی بنایا جائے، ان کے لیے رزقِ حلال اور مناسب روزگار کا انتظام کیا جائے، انہیں اشیاء میں ملاوَٹ، ناپ تول میں کمی، سُودخوری، رشوَت ستانی اور دیگر حرام ذرائع آمدَن سے روکا جا ئے، ان کی طبعی ضرورتیں پوری کرنے کا انتظام کیا جائے، لوگوں کو بہتر علاج مُعالجہ، اور مفت تعلیمی سہولیات دی جاسکیں، غریبوں، یتیموں، مسکینوں، بےروزگاروں، ناداروں، بیواؤں، اور ضعیف وناتواں اَفراد کی عزّتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے، مدد وکفالت کا انتظام کیا جا سکے۔

حقوق العباد
: یہ بھی ضرور پڑھی
مذہب اور سیاست میں باہم تفریق کی وجہ
عزیزانِ محترم! ماضی میں انسانی فلاح وبہبود کی خاطر، خیر وبھلائی کے جذبے سے یہ سب کام، تمام انبیائے کرام علیہ السلام، مصطفی جانِ رحمت ﷺ اور ان کے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہ بھی انجام دیتے رہے۔ حضراتِ انبیائے کرام علیہ السلام نے دنیا میں اللہ تعالی کا پیغام بھی پہنچایا، اور دُکھی انسانیت کی خدمت بھی کی، وہ مذہبی مُعاملات بھی انجام دیتے رہے اور اُمورِ سیاست بھی، انہوں نے بیَک وقت منصبِ رسالت بھی سنبھالا، اور مَسندِ اِقتدار بھی۔ ہزاروں سال تک مذہبی اور سیاسی اُمور ایک ساتھ انجام دیے جاتے رہے، پھر ایک وقت وہ آیا کہ جب یہود ونصاریٰ نے سوچی سمجھی سازش کے تحت، مذہب اور سیاست میں باہم تفریق کر دی، انہوں نے اپنے ناجائز وحرام معاملات، اور کالے کرتوتوں کو چھپانے کے لیے، مذہب کو کلیسا (Church) تک محدود کر دیا؛ تاکہ ان کے حکمران سیاہ کریں یا سفید، مذہب ان کے پاؤں کی زنجیر نہ بن سکے! اس طرزِ حکومت اور مذہبی بندش کو، سیکولراِزم (Secularism) کا نام دیا گیا۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں آج سیکولر طرزِ حکومت ہی رائج ہے، یا کم ازکم اس سے متاثر ضرور ہے۔ وطنِ عزیز پاکستان کا حال بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں، ہمارے حکمران، سیاستدان، جج صاحبان، صحافی برادری اور تجزیہ نگاروں کی اکثریت، سیکولر خیالات کی حامل ہے، یہی وجہ ہے کہ آج انہیں علمائے دین، اور دیگر مذہبی رَہنماؤں کی عملی سیاست، ایک آنکھ نہیں بھاتی! لہذا وہ اپنے دل کا غُبار یہ کہہ کر نکالتے ہیں کہ “مذہبی سیاسی جماعتیں حُصول ِ اقتدار اور ذاتی مقاصد کے لیے، دِین کا استعمال کرتی ہیں، دینِ اسلام کے نام پر لوگوں کے جذبات سے کھیلتی ہیں، انہیں نظامِ مصطفیٰ کے نعرہ پر گھروں سے باہر نکال کر احتجاج کرتی ہیں، اور پھر اپنے ذاتی مطالبات منوا کر خاموش ہو جاتی ہیں، ان کا مقصد دِین کی بالا دستی ہر گز نہیں، بلکہ سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے، دین ِ اسلام کا نام استعمال کرنا تو انتہائی مذموم اَمر ہے” وغیرہ وغیرہ۔
میرے محترم بھائیو! اَیسے لوگوں کو خوب معلوم ہونا چاہیے، کہ مذہب اور سیاست کا باہم بڑا گہرا اور پرانا تعلق ہے! سیاست مذہب کے بغیر آمریت وچنگیزی ہے! دینِ اسلام کی بالادستی اور اَحکامِ الٰہیہ کے نفاذ کی خاطر، حضراتِ انبیائے کرام علیہ السلام سیاست میں حصہ لیتے رہے، اور مَسندِ اِقتدار پر جلوہ افروز ہوتے رہے۔؏
| جلال پادشاہی ہو کہ جُمہوری تماشا ہو |
| جدا ہو دیں سیاست سے، تو رہ جاتی ہے چنگیزی !([1]) |
اللہ ربّ العالمین نے دینِ اسلام کی سر بلندی کے لیے، اپنے انبیاء علیہ السلام کو منصبِ رسالت کے ساتھ ساتھ، دنیاوی حکمرانی بھی عطا فرمائی، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ﴾([2]) “اےداؤد! یقیناً ہم نے تمہیں زمین میں نائب بنایا (اور آپ کا حکم ان میں نافذ کیا) تو لوگوں میں سچّاحکم کرو، اور خواہش کے پیچھے نہ جانا؛ کہ تمہیں اللہ کی راہ سے بہکا دے گی!”۔
ایک اَور مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِيْنَ﴾([3]) “یقیناً ہم نے داود اور سلیمان کو (قضا اور سیاست کا) بڑا علم عطا فرمایا، اور دونوں نے کہا کہ سب خوبیاں اللہ کو، جس نے ہمیں (نبوّت ومُلک عطا فرما کر، اور جن واِنس اور شیاطین کو مسخَّر کر کے) بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت بخشی!”۔

اسلام کا تصوّرِ جہاد
:یہ بھی ضرور پڑھی
زمین کے حقیقی وارِث
حضراتِ گرامی قدر! سیکولر سوچ کے حامل آج کے سیاستدان، کس طرح مذہبی طبقے کو سیاست واُمورِ حکومت سے دُور کر سکتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے حقیقی وارِث اور حکمران، اپنے نیک بندوں کو ہی ٹھہرایا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ﴾([4]) “یقیناً ہم نے زَبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا، کہ اس زمین کے وارِث میرے نیک بندے ہوں گے!”۔
حکومت وسیاست کا بنیادی مقصد
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! دینِ اسلام میں حکومت وسیاست کا بنیادی مقصد، قرآن وسنّت کے اَحکام کا نفاذ ہے، اور یہ کام علماء اور دیندار طبقے سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا، خالقِ کائنات کا فرمانِ مبارک ہے: ﴿اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ﴾([5]) “وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں قابو دیں، تو نماز برپا رکھیں، اور زکاۃ دیں، اور بھلائی کاحکم کریں، اور برائی سے روکیں!”۔
دینی سیاست کے لیے مذہبی مقامات کا انتخاب
عزیزانِ مَن! رسولِ اکرم ﷺ نے بنفس ِ نفیس مذہبی وسیاسی فیصلے اور اُمور ساتھ ساتھ انجام دیے، حضرت سیِّدنا ابوسعید خُدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «كَانَ النبيُّ g يَخْرُجُ يَوْمَ الفِطْرِ وَالأَضْحَى إِلَى المُصَلَّى، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلاَةُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ، فَيَعِظُهُمْ وَيُوصِيهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ، فَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثاً قَطَعَهُ، أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْءٍ أَمَرَ بِهِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ»([6]).
“نبئ کریم ﷺ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن، عیدگاہ تشریف لے جاتے، تو پہلی چیز جس سے ابتداء فرماتے وہ نماز ہوتی، پھر فارغ ہوتے تو لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے، اور لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے، انہیں نصیحت کرتے، وصیت فرماتے اور اَحکام بتاتے، اور اگر لشکر (کے لیے سپاہیوں کا) انتخاب کرنا منظور ہوتا، تو یہ کام بھی وہیں کرلیتے، یا کچھ حکم فرمانا چاہتے تو فرماتے، پھر وہاں سے واپس لوٹتے”۔
مذہبی سیاست سے متعلق انبیائے کرام علیہ السلام کا طرزِ عمل
حضراتِ ذی وقار! سابقہ قوموں میں بھی سیاسی قیادت اور مذہبی رَہنمائی کا فریضہ، حضراتِ انبیائے کرام علیہ السلام کے ہی سپرد تھا، منصبِ نبوّت ورسالت کی ذِمّہ داریوں کے ساتھ ساتھ وہ حضرات قومی، ملّی اور سیاسی اُمور بھی انجام دیا کرتے، حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ»([7]) “بنی اسرائیل کا سیاسی انتظام انبیائے کرام کے پاس ہوا کرتا”۔ انبیائے کرام علیہ السلام کے بعد چونکہ علمائے دین اُن کے علمی وارِث وجانشین ہیں، لہٰذا تبلیغِ دین کے ساتھ ساتھ سیاسی خلاء پُر کرنا، اور امّت کی قیادت ورَہنمائی کرنا بھی، انہی کی ذِمّہ داریوں میں سے ہے۔
اِمامت وسیاست کی اہلیت
جانِ برادر! اِمامت وسیاست کی اہلیت پرکھنے کا معیار علمِ دین ہے، جو شخص جتنا بڑا عالمِ دین ہے، اِمامت وسیاست کا فریضہ انجام دینے کا بھی وہ اُتنا ہی زیادہ اہل ہے، حضور نبئ کریم ﷺ کے بعد حضرت سیِّدنا ابوبکر صدّیق رضی اللہ عنہ کو، متفقہ طَور پر پہلا خلیفۂ راشد بھی اسی بنیاد پر منتخب کیا گیا، حضرت سيِّدنا مولا علی (كرّم الله تعالى وجہہ الکریم) کا ارشاد ہے: «لمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ ﷺ نَظَرْنَا فِي أَمْرِنَا، فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ ﷺ قَدْ قَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ فِي الصَّلاَةِ، فَرَضِينَا لِدُنْيَانَا مَنْ رَضِيَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لِدِينِنَا، فَقَدَّمْنَا أَبَا بَكْرٍ»([8]) “نبئ رَحمت ﷺ کے وِصال كے بعد، جب ہم نے غور کیا (تو اس نتیجہ پر پہنچے) کہ جب نماز کے مُعاملہ میں، نبئ کریم ﷺ نے سیِّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مقدَّم فرمایا، اور ہمارے دِین کے لیے انہیں امام بنانا پسند فرمایا، تو ہم دنیاوی مُعاملات میں بھی ان پر راضی ہوگئے”، یعنی ہم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر کے، انہیں خلیفہ مقرّر كر دیا۔
حکیم الامّت مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ ایک حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ “حضرت سیِّدنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نبیوں کے بعد تمام مخلوق سے بڑے عالم اور بڑے سیاست دان تھے، انہی کے علم پر حضور اَنور ﷺ کا دفن اپنے حجرے میں ہوا، انہی کے علم پر سروَرِ کونین ﷺ کا چھوڑا ہوا مال وقف بنا، انہی کے علم پر منکِرینِ زکاۃ کے خلاف جہاد کی تیاری ہوئی، اگر آپ تھوڑی نرمی کرتے تو فرائضِ اسلامی کے انکار کا دروازہ کھل جاتا، اسی لیے رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی وفات کے وقت آپ ہی کو جانشین امامِ نماز بنایا، انہی کی سیاست سے حجاز بلکہ عرب میں امن وامان بحال ہوا، اور فارُوقی فتوحات کے لیے راستہ صاف ہوا”([9])۔
حکمرانوں کے انتخاب میں ہماری نااہلی
حضراتِ محترم! پنجوقتہ نماز، جنازہ وعیدَین، محراب ومنبر، وعظ ونصیحت، حج وعمرہ، نکاح وطلاق، اور دیگر شرعی مُعاملات میں عوام وحکمرانوں کی رہنمائی سمیت، آج بھی ہمارے متعدِد دینی اُمور کی قیادت علمائے دین کے پاس ہے، پھر آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے دنیاوی (سیاسی) مُعاملات کی قیادت بھی ان حضرات کو نہیں سونپ دیتے؟ جب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ قرآن وسنّت کا زیادہ علم رکھنے، اور اپنی نمازوں کا اِمام ہونے کے سبب، حضرت سیِّدنا ابوبکر صدّیق رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ وحکمران منتخب کر سکتے ہیں، تو پھر آج الیکشن (Election) کے وقت ہم، ہر ایرے غیرے کو بلاسوچے سمجھے، اس کی دینی اہلیت جانے بغیر، کیسے ووٹ (Vote) دے سکتےہیں؟
نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے، کہ ہمارے ملک پاکستان میں چوکیدار (Watchman) اور مالی (Gardener) رکھنے کے لیےتو اہلیت وتجربہ پوچھا جاتا ہے، لیکن ایم پی اے (MPA)، ایم این اے (MNA)، وزیر، مشیر، وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، وزارتِ دِفاع، وزارتِ قانون اور پرائم منسٹر (Prime Minister) جیسے اہم مَناصب پر تعیناتی کے لیے، کوئی اہلیت ومعیار مقرّر نہیں، کوئی بدمُعاش ہو یا چور اُچکا، بس ووٹ (Vote) زیادہ ملنے چاہئیں، جس سیاسی جماعت نےبھی سب سے زیادہ ووٹ اور سیٹیں اُچک لیں، خواہ وہ دھونس دھمکی، رشوَت اور دھاندلی کےہی ذریعے کیوں نہ ہوں، وہی حکومت بنانے کی اہل اور حقدار ہے، کسی حکمران کے انتخاب کی یہ اہلیت ومعیار، شرعی تقاضوں کے مُطابق نہیں ہے! ہمیں چاہیے کہ بطور حکمران متّقی وپرہیزگار، نیک صالح اور اہلِ علم حضرات کو ترجیح دیں! دینی مُعاملات کی طرح اپنے دنیاوی مُعاملات کی قیادت بھی انہی کو سونپیں!۔
موجودہ سیاست سے دیندار طبقے کی کِنارہ کَشی کا نقصان
جانِ عزیز! موجودہ سیاست مکر وفریب، جھوٹ، دغابازی اور مُنافقت کی سیاست ہے، دنیاوی مفادات اور چند ٹکوں کے عوض اپنی جماعت چھوڑ کر، سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنا، ایک عام سے بات سمجھی جاتی ہے! الیکشن (Election) کے دنوں میں عوام سے کیے گئے وعدوں سے مکر جانا، اور یوٹرن (U-turn) لے کر عوام کو دھوکہ دینا، سیاسی مہارت اور حکمتِ عملی خیال کیا جاتا ہے! موجودہ سیاست کے اس مکروہ چہرے کو دیکھتے ہوئے، ہمارے بعض مذہبی رَہنما، علمائے دین اور مشایخِ طریقت، سیاست سے کِنارہ کَش رہتے ہیں، اور اپنے مریدوں، عقیدتمندوں اور شاگردوں کو بھی اس سے دُور رہنے کا مشورہ اور حکم دیتے ہیں، نیز اپنے کارکنان پر اس سلسلے میں پابندیاں بھی عائد کرتے ہیں، کہ نہ کسی سیاسی جماعت سے روابط رکھے جائیں، اور نہ ہی ووٹنگ (Voting) کے عمل میں حصہ لیا جائے۔
میرے محترم بھائیو! ایک مسلمان کا اپنے وطن میں ووٹ نہ ڈالنا، دینی، ملّی، اور سیاسی اعتبار سے متعدِد نقصانات کا باعث ہے،اگر ہم ووٹنگ (Voting) کے عمل میں حصہ نہیں لیں گے، تو اس بات کا قوی اِمکان ہے کہ فاسق وفاجر، اور دِین بیزار لوگ منتخب ہو کر ایوانِ اقتدار میں پہنچیں گے، وہ اپنے اقتدار، اور پاور (Power) کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ملک وقوم، اور دِین مخالف قانون سازی کریں گے، گستاخانِ رسول کو تحفُظ دیں گے، عقیدۂ ختمِ نبوّت کے منکِروں کو اعلیٰ عہدوں پر بٹھائیں گے، ہماری نسلِ نَو کو اسلام سے دُور کرنے کے لیے یورپی کلچر (European Culture) کو پروان چڑھائیں گے، مذہبی جذبہ کم کرنے کے لیے بچوں کے تعلیمی نصاب سے آیاتِ جہاد کو نکالیں گے، الیکٹرانک میڈیا (Electronic Media) کے ذریعے انہیں یورپی تہذیب کا دلدادہ بنائیں گے، ہمارے نوجوانوں کو اپنے علماء سے متنفّر کریں گے، والدین کا ادب واحترام، چھوٹے بڑے کا دید لحاظ اور شرم وحیاء کو ختم کریں گے، یہ لوگ امیر اور غریب میں مَوجود خلیج کو مزید وسیع کریں گے،اسلامی طرزِ حکومت اپنانے کے بجائے، نام نہاد جُمہوریت (Democracy) کوفروغ دیں گے!۔
آج اسلامی تعلیمات کے ساتھ کس طرح کھلواڑ کیا جا رہا ہے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، ہمارے علمائے دین اور مذہبی طبقے کے ساتھ کیسا سُلوک رَوا رکھا جارہا ہے، وہ بھی سب پہ عیاں ہے! “زندگی تماشہ” جیسی اسلام مخالف، اور توہین آمیز فلموں کا بننا، اور انہیں نمائش کی اجازت ملنا بھی، ہمارے انہی دِین بیزار سیاستدانوں کا کیا دھرا ہے! لہذا عالمی حالات وواقعات کی نزاکت کو سمجھیں، میدانِ عمل میں آئیں، اپنی قوّتِ بازُو پر بھروسہ رکھیں، اور قوم کی رَہنمائی کا فریضہ انجام دیں، امیدِ واثق ہے کہ اللہ ربّ العالمین آپ کے جذبہ واِخلاص کی برکت سے ہوا کا رُخ پھیر دے گا، اور سیاسی فضا آپ کے لیے سازگار بنا دے گا! ؏
| دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر |
| نیا زمانہ نئے صبح وشام پیدا کر! |
| خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو |
| سُکوتِ لالہ وگُل سے کلام پیدا کر! |
| اُٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کا اِحساں |
| سفالِ ہند سے مینا وجام پیدا کر!([10]) |
مذہبی سیاست …وقت کا اہم تقاضا
میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! یاد رکھیے کہ موجودہ طرزِ سیاست ہماری طبیعت ومزاج کے لیے کتنا ہی مکروہ وناپسندیدہ کیوں نہ ہو، علماء ومشایخ کی اس سے لاتعلقی کسی طور پر بھی عوامی مفاد میں نہیں! مذہبی طبقے کا اس سے دُور بھاگنا، گویا عوام کو ذِلّت، پستی اور گمراہی وضلالت کے گہرے دَلدل میں پھینکنے کے مترادِف ہے! اگر ہمارے علماء ومشایخ سیاست سے کِنارہ کَش ہو کر، اپنے اپنے مدرسوں اور آستانوں میں بیٹھ جائیں گے، تو قومِ مسلم کی رَہنمائی کون کرے گا؟! انہیں صحیح اور غلط کی پہچان کیسے ہوگی؟! دینِ اسلام کو فُروغ کیسے ملے گا؟! نظامِ مصطفیٰ کا عملی طور پر نفاذ کیسے ممکن ہوگا؟!
کیا قوم کو دین کا پابند کرنے اور مُعاشرے کی اصلاح کی ذِمّہ داری علماء کا کام نہیں؟! کیا انبیائے کرام علیہ السلام، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ اور علمائے امّت نے سیاسی اعتبار سے مشکلات کا سامنا نہیں کیا؟! کیا انہیں تکالیف نہیں پہنچائی گئیں؟! کیا ہمارے اکابر نے اس سلسلے میں قید وبند کی صُعوبتوں کا سامنا نہیں کیا؟! کیا انہوں نے جیلیں نہیں کاٹیں؟! کیا ان کے بال بچوں اور گھر والوں کو اَذیت وتکالیف کا سامنا نہیں کرنا پڑا؟! جو مذہبی جماعتیں اور علماء ومشایخ موجودہ طرزِ سیاست، اور نظامِ حکومت کو بدلنے پر قدرت رکھتے ہیں، کیا بروزِ قیامت اس سلسلے میں اُن سے پوچھ گچھ نہیں ہوگی؟ سیاست سے ہماری یہ لاتعلقی وطنِ عزیز میں ظلم وجبر، لُوٹ کھسوٹ، بےاِعتدالی، بدعنوانی اور نااِنصافی میں مزید اضافے کا باعث بنے گی! ۔
فرض کیجیے کہ اگر پاکستانی عوام نے کل میدانِ محشر میں یہ کہتے ہوئے، تمام ذِمّہ داری علماء ومشایخ کے کندھوں پر ڈال دی کہ “ہمارے علماء اور مذہبی رہنماؤں نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، اُن لوگوں نے ہماری رہنمائی نہیں کی” تو ہم کیا جواب دیں گے؟! لہٰذا تمام نام نہاد مصلحتوں کو چھوڑیے اور میدانِ عمل میں آکر، قوم کی رَہبری ورَہنمائی کا فریضہ انجام دیجیے! اور پاکستان میں حضورِ اکرم ﷺ کے دین کو تخت پر لانے کے لیے عملی طَور پر کوشش کیجیے! ہمارا کام کوشش کرنا ہے، کامیابی ملے یا نہ ملے، یہ ہمارے ذمّے نہیں، یہ مشیتِ الٰہی پر منحصر ہے!۔
دعا
اے اللہ! ہمیں مذہبی سیاست کی اہمیت وضرورت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرما، اس میں حصہ لے کر قوم کی رَہبری ورَہنمائی کرنے کی سوچ عطا فرما، موجودہ سیاست کی مُنافقت کا شکار ہونے سے بچا، علماء ومشایخ کی صورت میں نیک صالح اور شریعت کے پابند عادِل حکمران عطا فرما، ہمیں مذہب اور سیاست کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی توفیق عطا فرما، دجّالی میڈیا کے پروپیگنڈہ کا شکار ہو کر اپنے علماء پر تنقید کرنے سے بچا، اور جو لوگ سیاست سے کِنارہ کَش ہو کر بیٹھے ہیں، انہیں اس کے باعث ہونے والے نقصان سے آگاہی عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہ کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!۔
اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی وکشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “کلیاتِ اقبال” بال جبریلِ، حصّہ دُوم2، زِمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی، 371۔
([6]) “صحيح البخاري” كتاب العيدَين، ر: ٩٥٦، صـ١٥٤.
([7]) المرجع نفسه، كتاب أحاديث الأنبياء، ر: ٣٤٥٥، صـ٥٨٢.
([8]) “الطبقات الكبرى” الطبقة 1 …إلخ، ذكر بيعة أبي بكر h، ٣/١٨٣.
([9]) “مرآۃ المناجیح” زکاۃ کا بیان، تیسری فصل، 3/ 21، ملخصاً۔