وسیلہ ( توسل کا بیان)

Home – Single Post

Asking From Waseela

وسیلہ کے معنی: ذریعہ، واسطہ، سبب، حمایت اور مدد کے ہیں۔ قرآن، حدیث اور اقوال علمائے کرام سے، توسّل ایک ثابت شدہ امر ہے، جس کے انکار کاتصوّر کوئی صحیح العقیدہ مسلمان نہیں کرسکتا۔ وسیلہ درحقیقت بندے کا اللہ تعالی کی بارگاہ میں، اپنی دعا کی قبولیت اور طلب حاجت کی خاطر، کسی مقبول عمل یا مقرّب بندے کا واسطہ پیش کرنا ہے؛ تاکہ بندۂ گنہگار کی دعا جلد قبول ہو، اور اللہ رب العزّت اپنے اس مقرّب بندے کی برکت سے،اس کی حاجت پوری فرما دے۔

(1) اللہ کا ارشاد ہے: ﴿وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ۠ عَلَى الَّذِيْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١ٞ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ﴾([1]) “اس سے پہلے اسی نبی کے وسیلہ سے، کافروں پر فتح مانگتے تھے، تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا، تو اس سے انکاری ہو بیٹھے،تو اللہ کی لعنت ہے انکار کرنے والوں پر!”۔

(2) ربّ کریم کا ارشاد ہے: ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ يَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ  ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا﴾([2]) “وہ مقبول بندے جنہیں یہ کافر پوجتے ہیں، وہ آپ ہی اپنے رب تعالی کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں، کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے!  اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں، اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں،  بےشک تمہارے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے!”۔

(3) ارشاد باری تعالی ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ﴾([3]) “اے ایمان والو! اللہ تعالى سے ڈرتے رہو، اور اس  کی طرف وسیلہ ڈھونڈو!”۔

(4) ارشاد فرمایا: ﴿وَلَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا﴾([4]) “جب وہ اپنی جانوں پر ظلم (گناہ) کریں، تو اے حبیب تمہارے بارگاہ میں حاضر ہوں! اور پھر اللہ تعالی سے معافی چاہیں، اور رسول ان کی شفاعت فرمائے، تو ضرور اللہ تعالى کو خوب توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں گے!”۔

(1) امام حاکم “مستدرک” میں، اور امام بیہقی “دلائل النبوّۃ” میں، حضرت سیّدنا عمر فاروق رضي الله عنه سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لما اقترف آدمُ الخطيئةَ، قال: يا ربِّ أسألكَ بحقِّ محمدٍ لما غفرتَ لي! فقال اللهُ e: يا آدمُ! وكيف عرفتَ محمداً ولم أخْلُقْه؟ قال: لأنّك يا ربِّ! لمّا خلقتَني بيدكَ ونفختَ فيَّ من روحِك، رفعتُ رأسي فرأيتُ علَى قوائمِ العرشِ مكتوباً: “لا إله إلّا اللهُ محمدٌ رسولُ الله” فعلمتُ أنّك لم تُضِف إلى اسمِك إلّا أحبَّ الخَلقِ إليك، فقال الله e: صدقتَ يا آدمُ! إنّه لأحبُّ الخَلقِ إليَّ، وإذْ سألتَني بحقِّه فقد غفرتُ لك، ولولا محمدٌ ما خلقتُكَ!»([5]).

“جب حضرت آدم  نے شجر ممنوع کا پھل کھا لیا (اور دنیا میں اُتار دیے گئے)، پھر  انہوں نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کی: اے پروردگار! میں تجھ سے حضرت محمد کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں، میری مغفرت فرما! اللہ تعالى نے فرمایا: اے آدم ! تم نے محمد کو کیسے پہچانا، حالانکہ ابھی تک میں نے انہیں تخلیق نہیں کیا؟! حضرت آدم نے عرض کی: یا رب! جب تُو نے اپنے دست قدرت سے مجھے تخلیق کیا، اور اپنی طرف سے مجھ میں روح پُھونکی، تو میں نے اپنا سَر اُٹھا کر دیکھا تو عرش کے ستونوں پر  “لَا إلهَ إلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ” لکھا دیکھا، تو میں نے جان لیا کہ تیرے نام سے ملا ہوا نام اسی کا ہوسکتا ہے، جو تمام مخلوق میں تجھے سب سے زیادہ پیارا ہے، اللہ تعالى نے فرمایا: اے آدم تُو نے سچ کہا! مجھے ساری مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب وہی ہے، اور جب تم نے اُس کے وسیلے سے مجھ سے مانگا ہے، تو میں نے تمہیں بخش دیا! اور اگر محمد نہ ہوتے تو میں تجھے بھی تخلیق نہ کرتا!”۔

بہت سے علمائے ذی وقار، مفسّرین اور محدثینِ کرام نے اپنی اپنی کتب میں، اس واقعہ کو اور ان کلماتِ توسّل کو بیان کیا ہے۔ امام احمد بن محمد قسطلانی  نے “مواہب لدنیہ” میں اسے ذکر کیا، اور امام زرقانی ﷓ نے اس کی شرح([6]) میں اس کی تصدیق کی۔

امام ابن جوزی نے اپنی کتاب “الوفا بأحوال المصطفی”([7]) میں اسے بیان کیا۔ بیہقی نے بھی “دلائل النبوّۃ” میں اسے ذکر کیا۔ اشرف علی تھانوی (دیوبندی وہابی) نے “نشر الطیب”([8])  کی دوسری فصل کا آغاز ہی اس روایت سے کیا ہے۔

(2) “مستدرک حاکم” میں حضرت سیّدنا ابن عباس رضي الله عنه سے روایت ہے کہ “خیبر کے یہود غطفان قبیلے سے برسر پیکار رہا کرتے تھے، جب دونوں کا آمنا سامنا ہوا، تو یہودی شکست کھا گئے، پھر انہوں نے یہ دعا پڑھتے ہوئے دوبارہ حملہ کیا: “الہی! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں، کہ اُس نبئ امّی ﷺ کے وسیلہ سے ہماری مدد فرما! جنہیں تو نے آخری زمانہ میں ہمارے لیے بھیجنے کا وعدہ فرمایا ہے”۔ حضرت سیّدنا ابن عباس رضي الله عنه کہتے ہیں کہ “جب بھی وہ دشمن کے سامنے آئے، تو انہوں نے یہی دعا پڑھی، اور غطفان قبیلہ کو شکست دی، لیکن جب نبئ اکرم ﷺ مبعوث ہوئے، تو انہوں نے آپ ﷺ کا انکار کر دیا، اس پر اللہ تعالى نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ۠﴾([9]) “اس سے پہلے اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے”، یعنی اے حبیب! آپ کے وسیلہ سے یہ لوگ فتح  کی دعا کیا کرتے تھے”([10])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :گیارہویں شریف

(3) امام طَبرانی حضرت سیّدنا عثمان بن حنیف رضي الله عنه کی روایت نقل کرتے ہیں کہ “ایک شخص اپنی کسی غرض وحاجت سے، بار بار حضرت امیر المؤمنین سیّدنا عثمان بن عفّان  رضي الله عنه کے پاس آتا جاتا، حضرت عثمان غنی رضي الله عنه اس کی طرف نہ توجہ کرتے، نہ اس کی حاجت پر غور فرماتے، اس کی ملاقات حضرت عثمان بن حنیف  رضي الله عنه سے ہوئی، تو ان سے اس بات کی شکایت کی، حضرت سیّدنا عثمان بن حنیف  نے فرمایا: “ائْتِ الميضأَةَ فتوضّأْ، ثمّ ائتِ المسجدَ فصلِّ فيه ركعتَين، ثمّ قُل: “اللّهمَّ إنّي أسألكَ وأتوجَّهُ إليكَ بنبيِّنا محمّدٍ g نبِيِّ الرَّحمةِ، يا محمّدُ! إنّي أتوجَّه بك إلى ربّي فتَقْضِي ليْ حاجتي” وتذكُر حاجتَك”.

“وضو کی جگہ جاکر وضوکرو، اور مسجد جا کر دو2  رکعت نماز (نفل) پڑھ کر، یہ کلمات کہو: “اے اللہ! میں تجھ سے دعا کرتا ہوں، اور تیری طرف تیرے پیارے نبی محمد نبیٔ رحمت  ﷺ کے وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں، یارسول اللہ! میں آپ کے وسیلے سے، اپنے رب تعالى کی بارگاہ میں متوجہ ہوں؛ کہ میری یہ حاجت پوری فرما دے”، پھر اپنی حاجت ذکر کرو!”۔

وہ شخص چلا گیا، اور جو کچھ اس سے کہا گیا تھا اس نے ویسے ہی کیا، اس کے بعد جب وہ حضرت سیّدنا عثمان بن عفّان رضي الله عنه کے دربار میں آیا،  تو دربان نے آکر ہاتھ پکڑا، اور حضرت سیّدنا عثمان رضي الله عنه کے پاس پہنچا دیا، حضرت سیّدنا عثمان غنی رضي الله عنه نے اسے اپنی مسند پر بٹھایا اور فرمایا: “حاجتكَ؟”، “تمہاری کیا حاجت ہے؟” اس نے اپنی حاجت بیان کی، تو امیر المؤمنین ﷛ نے اس کی حاجت پوری کر دی، پھر آپ رضي الله عنه نے اس سے یہ بھی فرمایا، کہ آئندہ جو بھی ضرورت ہو ہمارے پاس آجانا، وہ شخص جب دربار سے رخصت ہوا، تو حضرت عثمان بن حنیف رضي الله عنه سے ملاقات کی، اور ان سے عرض کی، کہ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے! امیر المؤمنین میری حاجت کے بارے میں نہ غور کرتے، نہ میری طرف توجہ فرماتے تھے، مگر آپ کی سفارش سے میرا کام بن گیا، اس پر عثمان بن حنیف رضي الله عنه نے فرمایا: “وَاللهِ مَا كَلَّمتُه!” بخدا! میں نے ان سے کوئی سفارش نہیں کی، بلکہ ایک بار میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھا، کہ آپ کے پاس ایک نابینا صحابی آئے، اور اپنی نابینائی کی شکایت کی، سرکار دو عالم ﷺ نے اس پر فرمایا: «فتصبَّرْ!» “تم صبر کرو!” انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ! میرا ہاتھ پکڑ کر چلانے والا کوئی نہیں، اور (بینائی نہ ہونے کے باعث) مجھے بہت پریشانی ہوتی ہے، نبئ كريم ﷺ نے فرمایا: «ائْتِ الميضَأةَ فتوضّأْ، ثمّ صلِّ ركعتَين، ثمّ ادْعُ بهذه الدّعواتِ» “وضو کی جگہ جا کر وضو کرو، اور دو2 رکعت نماز ادا کرکے، ان الفاظ سے دعا کرو …الخ”، عثمان بن حنیف رضي الله عنه نے کہا، کہ خدا کی قسم! ہم لوگ ابھی مجلس  سے اٹھے بھی نہ تھے، نہ ہمارے درمیان كوئى لمبی گفتگو ہوئی تھی،  کہ وہ نابینا صحابی ہمارے پاس اس حالت میں آئے، کہ گویا وہ کبھی نابینا تھے ہی نہیں”([11])۔

(4) حضرت سیّدنا انس رضي الله عنه سے روایت ہے، کہ حضرت عمر رضي الله عنه کا طریقہ یہ تھا، کہ جب قحط پڑتا، تو حضرت  عباس (حضور کے چچا) بن عبد المطّلب رضي الله عنه کے وسیلہ سے بارش کی دعا یوں کرتے: «اللّهمّ إنّا كنّا نتوسّلُ إليكَ بنبيِّنا فتسقينا، وإنّا نتوسّل إليكَ بعمِّ نبيِّنا فاسقِنا!»([12]) “اے اللہ! ہم  تیری بارگاہ میں اپنے نبئ كريم ﷺ کا   وسیلہ پیش کرکے، بارش طلب  کیا کرتے،  تب تو ہمیں بارش عطا فرماتا، اب ہم اپنے نبئ كريم ﷺ کے  چچا کو وسیلہ  بنا کر بارش کی دعا کرتے ہیں،  لہذا اب بھی ہم پر  بارش نازل فرما!” حضرت سیّدنا انس کہتے ہیں، کہ اس طرح  انہیں بارش عطا کر دی جاتی تھی۔

(5) حضرت سیّدنا انس رضي الله عنه سے روایت ہے، کہ جب حضرت فاطمہ بنت اسد بن ہاشم (حضور کی چچی) کی وفات ہوئی، اور ان کی قبر کھودی گئی، تو رسول اللہ ﷺ وہاں تشریف لے گئے، اپنے ہاتھوں سے قبر کی مٹی نکالی، اور وہاں حضور اقدس ﷺ نے ان الفاظ سے دعا کی: «اللهُ الّذي يُحْيِي ويُميت، وهو حيٌّ لَا يموت، اغفرْ لأمّي فاطمةَ بِنْتِ أسدٍ، ولَقِّنها حجّتَها، ووسِّعْ عليها مَدخلَها، بِحَقّ نبِيّكَ والأنبياءِ الّذين مِنْ قَبلي؛ فإنّك أرحَم الرّاحمينَ!»([13]).

اللہ کی ذات وہ ہے جو زندہ بھی کرتی ہے، اور موت بھی دیتی ہے! وہ زندہ ہے اسے موت نہیں! اے اللہ میری ماں (جیسی چچی) فاطمہ بنت اسد کی مغفرت فرما! اسے اس کی حجّت (دلیل) سکھا دے (تاکہ وہ فرشتوں کے جواب دے سکے!) اور اس پر قبر کو کشادہ کر دے! اپنے نبی (محمد) اور ان انبیاء کےوسیلے سے، جو مجھ سے پہلے ہوئے؛ کہ تو ہی سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے!۔

(6) امام دارمی حضرت سیّدنا ابو الحوزاء بن اَوس بن عبد اللہ رضي الله عنه سے، صحیح اسناد کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ “جب مدینہ منوّرہ کےلوگ شدید قحط میں مبتلا ہوئے، تو حضرت سيّده  عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضي الله عنه سے شکایت  کی، آپ نے فرمایا: «انْظرُوا قبرَ النبِيّ g، فاجْعَلُوا منه كُوًى إِلَى السّماء، حتّى لَا يكونَ بينَه وبينَ السّماءِ سَقْفٌ»([14]) “حضورِ اکرم ﷺ  کی قبر مبارک کی زیارت کرو، اور اس سے ایک کھڑکی آسمان کی طرف اس طرح کھول دو، کہ قبر انور اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ رہے”۔

راوی کہتے ہیں، کہ لوگوں نے ایسا ہی کیا، لہذا بہت بارش ہوئی، حتی  کہ خوب سبزہ اگ آیا، اسے کھاکھا کر اُونٹ اتنے فربہ ہوگئے ( کہ محسوس ہوتا تھا) جیسے اپنے موٹاپے کی چربی سے پھَٹ پڑیں گے، لہذا اس سال کا نام ہی عام الفتق (یعنی سبزہ وکشادگی کا سال) رکھ دیا گیا”۔

امام الائمہ حضرت سیّدنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رضي الله عنه اپنے شہرۂ آفاق نعتیہ منظوم کلام “قصیدۂ نعمانیہ” میں، حضور تاجدارِ کائنات ﷺ سے توسّل واستمداد کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں: ؏

يَا مَالِكِي كُن شَافِعِي فِي فَاقَتِي

 إِنِّي فَقِيرٌ فِي الوَرى لِغِنَاكَا

يَا أَكرَمَ الثَّقَلَينِ يَا كَنزَ الغِنى

 جُد لي بجودك وارضِني برِضاكا

أنا طامعٌ بالجُود مِنكَ ولم يكُن

 لأبي حنيفةَ في الأنام سِواكا([15])

“(1) اے میرے مالک! آپ میری حاجت میں میری شفاعت فرمائیے! میں فقیر ہوں ساری مخلوق میں، اور آپ کے غنا کا منتظر ہوں!۔

(2) جن وانس میں سب سے زیادہ  کرم کرنے والے اے کریم! اے مخزن سخاوت! مجھے اپنی سخاوت کا وافر حصہ عطا کیجیے! اور اپنی رضا سے مجھے بھی خوش کر دیجیے!۔

(3) یا رسول اللہ! میں آپ کے جود وعطا کا امیدوار ہوں، اور مخلوق میں آپ کے سوا ابوحنیفہ کا کوئی نہیں!”۔

حضرت سیّدنا امام مالک فقہائے اربعہ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں، حضرت قاضی عیاض مالکی ﷓ بیان کرتے ہیں، کہ ایک بار خلیفہ ابو جعفر منصور مدینہ منوّرہ حاضر ہوا، اور حضرت سیّدنا امام مالک  سے دریافت کیا کہ “اے ابو عبد اللہ! زیارتِ نَبَوی کے وقت دعا میں قبلہ رخ رہوں؟ یا حضور اکرم ﷺ کی طرف رخ رکھوں؟ امام مالک  نے جواب ارشاد فرمایا: ولِمَ تصرف وجهَك عنه؟ وهو وسِيلتُكَ ووسِيلَةُ أبِيكَ آدمَ n إِلَى اللهِ تعالى يومَ الْقيامةِ! بلِ اسْتقبِلْه! واسْتَشفِعْ بِه فيُشَفِّعُه اللهُ! قال اللهُ تعالى: ﴿وَلَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ﴾([16]) …الآية.  “(اے ابو جعفر) آپ اپنا رخ حضور اکرم ﷺ سے کیسے پھیر سکتےہیں! جبکہ حضور ﷺ  بروزِ قیامت، آپ کا اور آپ کے باپ آدم   کا وسیلہ ہیں، اﷲ تعالی کی بارگاہ میں! بلکہ انہیں کی طرف رخ رکھو اور شَفاعت مانگو؛ تاکہ اﷲ تعالی حضور ﷺ کی سفارش آپ کے حق میں قبول فرمائے! کیونکہ اللہ تعالی نے فرمان ہے: “اے حبیب! جب وہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم (گناہ) کریں” …آیۃ([17])۔

امام ابن حجر مکی بیان کرتے ہیں، کہ علمائے کرام  کا ہمیشہ سے معمول رہا، کہ وہ امامِ اعظم ابوحنیفہ کے مزار کی زیارت کرتے، اور ان کے وسیلے سے دعا کیا کرتے ہیں، اسی ضمن میں بیان کرتے ہیں، کہ حضرت سیّدنا امام شافعی جب بغداد میں ہوتے، تو حضرت سیّدنا امام اعظم ابو حنیفہ  کی قبر کی زیارت کرتے، اور انہیں اپنی دعا میں وسیلہ بنایا کرتے۔

اس مزار مبارک کی برکتوں کے بارے میں، خود اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں کہ “یہ بات جان لو کہ علمائے کرام، اور حاجتمندوں کا اس مُعاملہ میں ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے، کہ وہ امام ابو حنیفہ کی قبر کی زیارت کرتے، اور ان کے وسیلہ سے اپنی حاجات کی برآری کے لیے دعا کرتے ہیں، اور اس میں کامیابی پاتے ہیں، انہی میں سے ایک امام شافعی بھی ہیں، کہ جب آپ بغداد میں تھے، تو حضرت امام ابو حنیفہ کی قبر کی زیارت کو آئے، اور فرمایا: “إنّي لَأَتبَرّكُ بأبي حنِيفةَ وأجيءُ إلى قبره، فإِذا عرِضَتْ لِي حاجةٌ صلّيتُ ركعتَينِ، وجِئتُ إلى قبره، وسألتُ اللهَ عندهُ، فَتُقضَى سريعاً”([18]). “میں امام ابو حنیفہ سے برکت حاصل کرتا ہوں، اور ان کی قبر کی زیارت کے لیے آتا ہوں، جب مجھے کوئی ضرورت اور مشکل پیش آتی ہے، تو دو2 رکعت نماز پڑھ کر ان کی قبر پر آتا ہوں، اور اپنی حاجت برآری کے لیے، اللہ تعالى سے دعا کرتا ہوں، تو میری حاجت فوراً پوری ہو جاتی ہے”۔

قرآن، حدیث اور اقوالِ علمائے کرام سے ثابت ہوا، کہ اللہ تعالى کی بارگاہ میں، نیک اعمال اور انبیاء وصالحین کا وسیلہ پیش کر کے دعا کرنا جائز ہے اچھا ہے، اس عمل خیر اور اعتقاد ونظریہ کو، کفر وشرک وبدعت سمجھنا، سراسر ظلم، زیادتی اور اپنے آپ کو کفر میں مبتلاء کرنے کے مترادِف ہے۔

فائدہ: اس موضوع پر مزید تفصیل کے لیے، مفتئ مدینہ منوّرہ علّامہ محمد عابد سندھی انصاری حنفی ﷓ کا رسالہ (1) “التوسُّل والاستعانة”([19])، شیخ محمد زاہد کوثری کا رسالہ “محقّ التقوُّل في مسألة التوسُّل”([20])، رئیس المتکلمین حضرت علّامہ نقی علی خان کی کتاب (2) “أحسنُ الوِعاء لأداب الدعاء”، مع حاشیہ  امام احمد رضا خان (3) “ذيل المُدَّعا لأحسن الوعا”([21])، شیخ عیسی بن مانع  کا رسالہ (4) “التأمّل في حقيقة التوسّل”([22])، استاذ من، مفتئ اعظم پاکستان، علّامہ مفتی عبد القیوم ہزاروی کا رسالہ (5) “التوسّل”([23])، حضرت علّامہ فیض احمد اویسی صاحب کا رسالہ (6) “تحقیق الوسیلہ”([24])، استاذ من حضرت علّامہ عبد الحکیم شرف قادری کا رسالہ (7) “وسیلے کی شرعی حیثیت”([25]) اور حضرت علّامہ سیّد ارشد سعید کاظمی صاحب کا رسالہ (8) “کتاب الوسیلہ”([26]) کا مطالعہ قارئین کے لیے بہت مفید ہے۔


([1]) پ1، البقرة: 89.

([2]) پ15، الإسراء: 57.

([3]) پ6، المائدة: 35.

([4]) پ5، النساء: 64.

([5]) “دلائل النبوّة” جُماع أبواب وفود العرب إلى رسول الله g، باب ما جاء في تحدث رسول الله g بنعمة …إلخ، 5/488، 489. “مستدرك الحاكم” كتاب تواريخ المتقدمين، ر: 4228، ٤/1583. قال الحاكم: “هذا حديثٌ صحيحُ الإسناد”.

([6]) “شرح الزرقاني على المواهب” المقصد الأوّل: في تشريف الله تعالى له عليه الصلاة والسّلام، 1/119، 120.

([7]) “الوفاء بأحوال المصطفى” الباب الأوّل في ذكر التنويه بذكر نبيِّنا محمد g مِن زمنِ آدم n، 1/67، 68.

([8]) “نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب”دوسری فصل، ص10، 11۔

([9]) پ1، البقرة: 89.

([10]) “مستدرَك الحاكم” كتاب التفسير، ر: 3042، 3/1142.

([11]) “المعجم الكبير” من اسمه عثمان، ما أسند عثمان بن حنَيف، ر: 8311، 9/31.

([12]) “صحيح البخاري” أبواب الاستسقاء، باب سؤال النّاس الإمام الاستسقاء إذا قحطوا، ر: 1010، صـ162.

([13]) “المعجم الكبير” باب الفاء، فاطمة بنت أسد بن هاشم أمّ علي بن أبي طالب، ر: 871، 24/352.

([14]) “سنن الدارمي” المقدمة، باب ما أكرم الله تعالى نبيه g بعد موته، ر: 92، 1/56.

([15]) “المستطرف في كلّ فنّ مستظرف” الباب 42 في المدح والثناء وشكر النعمة والمكافأة، الفصل 1 في المدح والثناء، صـ242، 243.

([16]) پ5، النساء: 64.

([17]) “الشفا بتعريف حقوق المصطفى” القسم 2، الباب 3، فصل، الجزء 2، صـ26، 27.

([18]) “الخيرات الحِسان” الفصل 35 في تأدب الأئمّة معه في مماته كما …إلخ، صـ72.

([19]) مطبوعة من دار البشائر، دِمشق. اس کا اردو ترجمہ “جمعیت اشاعت اہل سنّت” کراچی سے شائع ہو چکا ہے۔

([20]) اس رسالے کا اردو ترجمہ “وسیلہ دلائل کی روشنی میں” مترجم : مولانا افتخار احمد مصباحی صاحب نے کیا ہے۔ مطبوعہ “المجمع الاسلامی” مبارکپوراعظم گڑھ۔

([21]) مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی۔

([22]) مطبوعة من دار قرطبة، بيروت.

([23]) مطبوعہ مکتبہ قادریہ، لاہور۔

([24]) مطبوعہ سنی پبلی کیشنز، دہلی۔

([25]) مطبوعہ رضوی کتاب گھر، بھیونڈی ممبئ۔

([26]) مطبوعہ کاظمی پبلی کیشنز، ملتان۔

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *