کرپشن کی روک تھام اور اسلامی تعلیمات

Home – Single Post

Prevention of Corruption in Islam: Quranic Teachings, Prophetic Guidance, and Moral Accountability

برادرانِ اسلام! بدعنوانی (Corruption) ایک ایسا عالَمی مسئلہ ہے جس سے دنیا کا تقریباً ہر ملک شدید متاثِر اور پریشان ہے، کرپشن کے باعث ملکی معیشت تباہ ہو کر رہ جاتی ہے، حکومتیں عدم استحکام کا شکار ہوتی ہیں، اور مضبوط ترین قومیں بھی  زوال واِنحطاط پذیر ہو کر رہ جاتی ہیں، یہ ایک ایسی برائی ہے جو ایک صالح مُعاشرہ کو دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کر دیتی ہے، اس کے باعث مُعاشرے کی ترقی وکامیابی کا پہیہ رُک جاتا ہے، اور نتیجۃً  ملک وقوم  تباہی وبربادی کی عبرتناک داستان بن جاتی ہیں!۔

بدعنوانی خِیانت ہے، جو لوگ عام طَور پر دوسروں کی بےخبر ی اور لاعلمی سے فائدہ اٹھا کر، پوشیدہ طَور پر اس فعلِ حرام کا ارتکاب کرتے ہیں، اللہ ربّ العالمین انہیں سخت ناپسند فرماتا ہے، انہیں گنہگار ودغا باز قرار دیتا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِيْنَ يَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِيْمًاۚۙ۰۰۱۰۷ يَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ﴾([1]) “ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خِیانت میں ڈالتے ہیں، یقیناً اللہ کسی بڑ ے دغاباز گنہگار کو نہیں چاہتا، آدمیوں سے ڈرتے ہیں اور اللہ سے نہیں ڈرتے!”۔

ایک اَور مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ﴾([2]) “یقیناً اللہ ہر بڑے دغاباز ناشکرے کو دوست نہیں رکھتا!”۔

عزیزانِ محترم! بدعنوانی کے باعث عام لوگوں کے حقوق تلف ہوتے ہیں، لوگ معصیت ونافرمانی میں آج اس قدر بےباک ہو گئے ہیں، کہ اب سرِ عام ایک دوسرے کا مال ناحق کھاتے نہیں شرماتے، ہمارے ہاں چپڑاسی (Peon)، پولیس (Police) اور جج صاحب (Judge) سے لے کر وزیرِ اعظم تک، عموماً سب لوگ بدعنوانی کے اس مکروہ کھیل کا حصہ ہوتے ہیں، اور اس کی پشت پناہی کرتےہیں، اللہ تعالی ٰاس اَمر کو سخت ناپسند فرماتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾([3]) “آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ، اور نہ حاکموں کے پاس ان کے مقدّمہ اس لیے پہنچاؤ، کہ لوگوں کا کچھ مال جان بُوجھ کر ناجائز طَور پر کھا لو!”۔

کوئی کام نکلوانے کےلیے رشوَت دینا، یا نوکری کا جھانسہ دے کر رشوَت لینا بھی بدعنوانی ہے، اور ایسا کرنے والے پر اللہ تعالی کی لعنت ہے، حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الرَّاشِي وَالمُرْتَشِي»([4]) “رشوَت لینے اور دینے والے پر اللہ تعالی کی لعنت ہے”۔

رشوَت لینا دینا یا اس میں سہولت کار بننا، اللہ تعالی کی طرف سے لعنت کا سبب ہے، حضرت سیّدنا ثوبان فرماتے ہیں: «لَعَنَ رَسولُ الله g الرَّاشِيَ وَالمُرْتَشِيَ وَالرَّائِشَ»([5]) “رسول اللہ ﷺ نے رشوَت لینے دینے والے اور رشوَت کی دَلّالی کرنے والے پر بهى لعنت فرمائی”۔

حضراتِ گرامی قدر! رشوَت کی صورت میں بدعنوانی کرنے والے اور اس کا حصّہ بننے والے دونوں جہنمی ہیں، حضرت سیّدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مصطفى جانِ رَحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «الرَّاشي وَالمُرتَشي فِي النَّار»([6]) “رشوَت لینے اور دینے والا دونوں جہنمى ہیں”۔

حضراتِ ذی وقار! ترقیاتی فنڈز (Development Funds) کے نام پر ملنے والے پیسوں، یا سرکاری بیت المال میں جمع ہونے والے مالِ زکاۃ میں مالی خُرد بُرد کرنا بھی بدترین خِیانت وبدعنوانی (Corruption) ہے، ایسا کرنے والا اللہ کے غضب وجلال کا حقدار ہے، اور اس کا ٹھکانہ جہنّم ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَمَنْ يَّغْلُلْ يَاْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَايُظْلَمُوْنَ۰۰۱۶۱ اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ﴾([7]) “جو چُھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چُھپائی چیز لے کر آئے گا، پھر ہر جان کو اُن کی کمائی (اچھے بُرے اعمال کا بدلہ) بھرپور دی جائے گی، اور ان پر ظلم نہ ہوگا!۔ تو کیا جو اللہ کی مرضی پر چلا وہ اس جگہ ہوگاجس نے اللہ کا غضب اوڑھا (حقدار بنا)؟ اور اس کا ٹھکانہ جہنّم ہے، اور کیا ہی پلٹنے کی بُری جگہ!”۔

The Protection of the Environment

یہ بھی ضرور پڑھیں :ماحولیات کی حفاظت

عزیزانِ مَن! کرپشن ایک کروڑ روپے کی ہو یا ایک روپے کی، بہرصورت روزِ قیامت اس کی جوابدہی ہوگی، حضرت سیّدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ، فَكَتَمَنَا مِخْيَطاً فَمَا فَوْقَهُ، كَانَ غلُولاً يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»([8]) “ہم تم میں سے جس شخص کو کسی کام پر عامل بنائیں اور وہ ایک سُوئی یا اس سے بھی کم تر چیز  چُھپا لے، تو یہ خِیانت ہے اور وہ قیامت کے دن اس چیز کو لے کر حاضر ہوگا”۔

حکیم الاُمت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہُ اللہ علیہ مذکورہ بالا حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں کہ “خِیانت چھوٹی ہو یا بڑی قیامت میں سزا اور رُسوائی کا باعث ہے، خصوصاً جو خِیانت زکاۃ وغیرہ میں کی جائے؛ کیونکہ یہ عبادت میں خِیانت ہے، اور اس میں اللہ کا حق مارنا ہے، اور فقیر وں کو ان کے حق سے محروم کرنا ہے”([9])۔

بدعنوانی کے متعدِد اَسباب اور وُجوہ ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! عام طَور پر بدعنوانی (Corruption) میں وہ لوگ ملوّث ہوتے ہیں، جنہیں آخرت کا خوف نہیں ہوتا، کہ مرنے کے بعد روزِ قیامت اللہ کی بارگاہ میں پیشی ہوگی، اور ہمارے دنیاوی اعمال کے بارے میں باز پُرس کی جائے گی، اور پھر اچھے بُرے اعمال کے مُطابق جزا وسزا کا سلسلہ ہوگا، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى﴾([10]) “کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ آزاد چھوڑ دیا جائے گا؟” کہ نہ اس پر اَمر ونہی (کسی کام کے کرنے اور کسی سے رُکنے) وغیرہ کے اَحکام ہوں، نہ وہ مرنے کے بعد اٹھایا جائے، نہ اس سے اعمال کا حساب لیا جائے، نہ اُسے آخرت میں جزا دی جائے، ایسا (ہرگز) نہیں!”([11])۔

میرے محترم بھائیو! ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ قیامت کے روز ہونے والے حساب وکتاب کےلیے تیار، اور اپنی آخرت کی بہتری کے لیے کوشاں رہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَاتُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا١ؕ وَاِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا١ؕ وَكَفٰى بِنَا حٰسِبِيْنَ﴾([12]) “قیامت کے دن ہم انصاف کی ترازُو قائم کریں گے، تو کسی پر کوئى ظلم نہیں کیا جائے گا، اور اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی كوئى عمل ہو تو اسے بھی ہم لے آئیں گے، اور ہم ہی حساب لینے کے لیے کافی ہیں!”۔

حضراتِ محترم! بدعنوانی (Corruption) میں ملوّث ہونے کی ایک وجہ مال ودَولت جمع کرنے کی حرص بھی ہے، بعض لوگ مال ودَولت جمع کرنے کے اس قدر حریص ہوتے ہیں، کہ انہیں حلال وحرام کی تمیز تک نہیں رہتی، ان کے دل ودماغ پر صرف ایک ہی دھن سوار رہتی ہے، کہ دن رات زیادہ سے زیادہ مال جمع کر کے اپنا بینک بیلنس (Bank Balance) بڑھایا جائے!۔

علاوہ ازیں پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ میں جو رُکاوٹیں حائل ہیں، ان میں سے ایک بڑی رُکاوٹ کرپشن اور مال ودَولت کی حرص ہے، وطنِ عزیز کی بعض سیاسی جماعتیں بڑے پیمانے پر کرپشن اور بھتہ خوری کے جُرم میں ملوّث ہیں، ان کے پاس بےتحاشہ دَولت، طاقت اور اختیار ہے، صالح مذہبی سیاسی جماعتیں ان کا مقابلہ نہیں کر پاتیں، لہذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ ہو، اور پاکستان میں ایک صالح اسلامی مُعاشرہ  تشکیل پائے، تو ہم سب کو  کرپشن کے خلاف بلاتفریق بھرپور آواز بلند کرنی ہوگی۔ 

مزدوروں کے حقوق

یہ بھی ضرور پڑھیں :مزدوروں کے حقوق

برادرانِ اسلام! بدعنوانی (Corruption) اور رشوَت ستانی کی ایک بڑی وجہ حقوقُ العباد سے لاعلمی ہے، کرپٹ لوگ (Corrupt People) اس بات سے بالکل بےخبر ہوتے ہیں کہ حقوقُ العباد کا مُعاملہ کتنا سخت ہے؟ روزِ قیامت ایسا شخص مفلسی کا شکار ہوگا، حضرت سيّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،  مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے استفسار فرمایا: «أَتَدْرُونَ مَا المُفْلِسُ؟» “کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟” صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی، کہ جس کے پاس دراہم وسامان نہ ہو وہ مفلس ہے، ارشاد فرمایا: «إِنَّ المُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي: يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ، أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ»([13]) “میری امّت میں مفلِس وہ ہے جو بروزِ قیامت، نماز، روزے، زکاۃ لے کر آئے گا، اور یوں آئے گا کہ کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو مارا ہوگا، لہذا اُس کی نیکیوں میں سے کچھ کسی ایک مظلوم کو دے دی جائیں گی، اور کچھ دوسرے مظلوم کو، پھر اس کے ذمّہ جو حقوق تھے اگر اُن کی ادائیگی سے پہلے اس کی نیکیاں ختم  ہو گئیں، تو اُن مظلوموں کی خطائیں لے کر اِس ظالم پر ڈال دی جائیں  گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائےگا”۔ یہ ہے اس امّتِ مسلمہ کا مفلِس، جو بہت

 ساری نیکیوں کے باوُجود حقوق العباد میں کوتاہی کے باعث جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

حضراتِ گرامی قدر! بدعنوانی (Corruption) کی ایک بڑی وجہ شراب نوشی، فحاشی اور جُوئے (Gambling) کی لَت ہے، کرپٹ لوگوں (Corrupt Person) کی خواہشات جب حد سے بڑھ جاتی ہیں، اور محدود ذرائع آمدَن میں انہیں پورا کرنا مشکل ہو جاتا ہے، تو ایسے لوگ کرپشن کا راستہ اپناتے ہیں، وہ اگر کوئی سیاستدان ہے تو ترقیاتی فنڈز (Development Funds) کے نام پر ملنے والے پیسوں میں گھپلا کرتا ہے، کوئی سرکاری ملازِم (Government Employee)، جج (Judge)، یا پولیس (Police) والا ہے، تو رشوَت لے کر کام چلاتا ہے، حتی کہ کوئی چھوٹا ملازِم یا مزدور ہے تو وہ بھی چائے پانی کے نام پر سو پچاس کی ڈنڈی مارنے سے باز نہیں آتا، یہ سب کرپشن ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔

عزیزانِ مَن! کرپشن کا دوسرا نام حق تلفی  ہے، لہذا اسے صرف رشوَت ستانی تک محدود کرنا درست نہیں، اسلام میں اس کا مفہوم بہت وسیع ہے، دینِ اسلام میں بدعنوانی (Corruption) کی روک تھام کےلیے متعدِد تعلیمات ہیں، جن میں سے چند حسبِ ذیل ہیں:

حضراتِ ذی وقار! دینِ اسلام اپنے ماننے والوں کے دلوں میں یہ یقین پیدا کرتا ہے، کہ اللہ ربّ العالمین انسان کے تمام اعمال دیکھ رہا ہے، نیکی ہو یا گناہ اس سے کچھ پوشیدہ نہیں، اس کے مقرّر کردہ فرشتے ہمارے ہر عمل کو لکھ رہے ہیں، روزِ حشر ہر شخص سے اس کے اعمال کے بارے میں  پوچھا جائے گا، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِۙ۰۰۹ وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَۙ۰۰۱۰ كِرَامًا كَاتِبِيْنَۙ۰۰۱۱ يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ۰۰۱۲ اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍۚ۰۰۱۳ وَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِيْ جَحِيْمٍۚۖ۰۰۱۴ يَّصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدِّيْنِ۰۰۱۵ وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَآىِٕبِيْنَ﴾([14]) “کوئی نہیں بلکہ تم انصاف ہونے کو جھٹلاتے ہو! اور یقیناً تم پر کچھ نگہبان ہیں معزّز لکھنے والے جو جانتے ہیں جو کچھ تم کرو، یقیناً نیکو کار ضرور چَین میں ہیں، اور یقیناً بدکار ضرور دوزخ میں ہیں، انصاف

کے دن اس میں جائیں گے اور اس سے کہیں چُھپ نہیں سکیں گے”۔

جانِ برادر! دینِ اسلام نے بدعنوانی (Corruption) کی روک تھام کے لیے دوسروں کا مال حرام اور ناجائز طریقے سے لینے کی سخت مُمانعت فرمائی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾([15]) “اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ”۔

دینِ اسلام اپنے ماننے والوں کے دِل ودماغ میں اس اَمر کو راسخ کرتا ہے، کہ دنیا کی یہ زندگی اچھے برے اعمال کی جانچ کے لیے ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ﴾([16]) “وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی؛ تاکہ تمہاری جانچ ہو کہ تم میں سے کس کا کام زیادہ اچھا ہے! اور وہی عزّت والا بخشش والا ہے”۔

رفیقانِ ملّت ِاسلامیہ! بدعنوانی (Corruption) کی سب سے بڑی وجہ مال ودَولت کی حرص ہے، دینِ اسلام نے کثرتِ مال کی حرص اور اس پر فخر کی مذمّت بیان فرمائی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ۰۰۱ حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ﴾([17])

“تمہیں غافل رکھا مال کی زیادہ طلبی نے، یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا!”۔

ایک اَور مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ۰۰۲ يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗۚ۰۰۳ كَلَّا لَيُنْۢبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِٞۖ۰۰۴ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ۰۰۵ نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ۰۰۶ الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِؕ۰۰۷اِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ۰۰۸ فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ﴾([18]) “جس نے مال جوڑا اور گن گن کر رکھا، کیا (وہ) یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ رکھے گا، ہرگز نہیں ضرور وہ روندے والی میں پھینکا جائے گا، اور تونے کیا جانا کیا روندنے والی؟، اللہ کی آگ کہ بھڑک رہی ہے،وہ جو دِلوں پر چڑھ جائے گی، بے شک ان پر بند کر دی جائے گی لمبے لمبے ستونوں میں”، یعنی آگ میں ڈال کر دروازے بند کر دیے جائیں گے۔

میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! دنیاوی مال ودَولت کی حرص اور لالچ ختم کرنے کےلیے، اسلامی تعلیمات میں جنّت کی اَبَدی نعمتوں کا وعدہ فرمایا گیا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِيْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ١ۚ۬ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَلَهُمْ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوْا مَآءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ﴾([19]) “اَحوال اس جنّت کا جس کا وعدہ پرہیز گاروں سے ہے، اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگڑے، اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا، اور ایسی (پاکیزہ) شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کےلیے لذیذ ہے، اور صاف ستھرے شہد کی نہریں ہیں، اور ان کےلیے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں، اور ان کے رب کی مغفرت! (کیا ایسے چَین والے) اُن کے برابر ہو جائیں گے جنہیں ہمیشہ آگ میں رہنا؟! اور انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے، جو آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے!”۔

آپ خود ہی سوچیں کہ ایک انسان جب جنّت کی اَبَدی نعمتوں پر یقین کر لیتا ہے، اور ان کو پانے کےلیے تگ ودَو شروع کر دیتا ہے، تو دنیاوی مال ودَولت کا حرص ولالچ خودبخود اس کے دل سے ختم ہو جاتا ہے، دنیا کی ساری چکا چَوند اس کے سامنے بےوُقعت ہو کر ماند پڑ جاتی ہے، اور وہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا حق تلفی سے محفوظ رہتا ہے۔

اےاللہ! ہمیں تقویٰ وپرہیزگاری نصیب فرما، ہمیں رشوَت اور حرام خوری سے بچا، بدعنوانی کے ذریعے لوگوں کی حق تلفی سے محفوظ فرما، شُبہات اور تمام اَسبابِ گناہ سے اجتناب کی توفیق عطا فرما، خِیانت سے بچنے کی توفیق مَرحمت

 فرما، اور دنیاوی مال ودَولت کی حرص ولالچ سے بچا!۔

اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہ کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!۔

اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی وکشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) پ ٥، النساء: ١٠٧، ١٠٨.

([2]) پ١٧، الحج: ٣٨.

([3]) پ2، البقرة: 188.

([4]) “سنن ابن ماجه” كتابُ الأحكام، ر: 2313، صـ388.

([5]) “مُسند الإمام أحمد” مسند الأنصار، حديث ثوبان، ر: 22462، 8/328.

([6]) “المعجم الصغير” بَابُالميمِ، من اسمه أحمد، 1/28.

([7]) پ٤، آل عمران: ١٦١، ١٦٢.

([8]) “صحيح مسلم” كتاب الإمارة، ر: ٤٧٤٣، صـ٨٢٤.

([9]) “مرآۃ المناجیح”زکاة کا بیان، پہلی فصل، زيرِ حديث: 1780، 3/14۔

([10]) پ٢٩، القيامة: ٣٦.

([11]) “تفسیر خزائن العرفان” پ 29، القیامۃ، زیرِ آیت: 36،؃ 1071۔

([12]) پ١٧، الأنبياء: ٤٧.

([13]) “صحیح مسلم” باب تحریم الظلم، ر: ٦٥٧٩، صـ١١٢٩، ١١٣٠.

([14]) پ٣٠، الانفطار: ٩-١٦.

([15]) پ5، النساء: 29.

([16]) پ٢٩، الملك: ٢.

([17]) پ٣٠، التكاثر: ١، ٢.

([18]) پ٣٠، الهمزة: ١، ٩.

([19]) پ٢٦، محمّد: ١٥.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *