بابا فرید گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ 

Home – Single Post

Baba Farid Ganj-e-Shakar (May Allah have mercy on him)

فأعوذُ باللهِ مِن الشّيطانِ الرّجيم، بسمِ الله الرّحمنِ الرّحيم.

حضور پُرنور، شافعِ یومِ نشور ﷺ کی بارگاہ میں ادب واحترام سے دُرود وسلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اللّهمّ صلِّ وسلِّم وبارِك على سيِّدِنا ومولانا وحبيبِنا محمّدٍ وعلى آلهِ وصَحبهِ أجمعين.

   برادرانِ اسلام! اللہ ربّ العالمین کی بارگاہ میں حضراتِ اولیائے کرام کا مقام ومرتبہ بہت بلند وبالا ہے، ان کی عبادتوں، رِیاضتوں اور تقویٰ وپرہیز گاری سے خوش ہو کر، اللہ تعالی انہیں اپنا قُربِ خاص عطا فرماتا ہے، ان کا دل اللہ ورسول کی محبت سے لبریز ہوتا ہے،  ان کا رب تعالی پر توکُل اور مخلوق سے بےنیازی کا یہ عالَم ہوتا ہے، کہ خالقِ کائنات نے ان کی شان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ﴾([1]) “سُن لو! یقیناً اللہ تعالى کے ولیوں پر نہ کچھ خَوف ہے، نہ کچھ غم”۔

ان مقرَّبینِ بارگاہ کی نشانی وپہچان یہ ہے، کہ انہیں دیکھ کر اللہ ربّ العالمین

کی یاد آجائے۔ حضرت سيِّدنا عبد الرحمن بن غنم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  سے روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «خِيَارُ عِبَادِ اللهِ الَّذِينَ إِذَا رُءُوا، ذُكِرَ اللهُ»([2]) “اللہ تعالى کے بہترین بندے وہ ہیں، جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آجائے”۔

حکیم الاُمّت مفتى احمد يار خان نعيمى رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اس حدیث پاک کی شرح میں لكھتے ہیں کہ “ان کے چہروں پر اَنوار وآثارِ عبادت ایسے ہوں، کہ انہیں دیکھتے ہی رب تعالی یاد آجائے”([3])۔ ان کے چہرے آئینۂ خدانما ہیں، یہ حضرات اِطاعتِ الٰہی پر ہمیشگی اختيار کرتے ہیں، اور دنیاوی لذّتوں میں مشغولیت سے دُور رہتے ہیں، انہیں مخلوق كى تربیت ورَہنمائی کا ذریعہ بنایا گیا ہے، اللہ تعالی کے ان بندوں کی صحبت سےانسان کے ظاہر وباطن کی اِصلاح ہوتی ہے، اپنے علم وعمل کے ذریعے مخلوق تک دینِ اسلام کا  پیغام پہنچانے میں ان حضرات کا بڑا اہم کردار ہے، جسے اسلامی تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

انہی پاکیزہ نُفوس میں سے ایک برگزیدہ ہستی شمس العارفین، برہان العاشقین، شیخ الاسلام حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کی ہے، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  نے برصغیر پاک وہند کی سرزمین کو رشکِ گلزارِ جنّت بنایا، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  آسمانِ ولایت کے وہ چمکتے روشن آفتاب ہیں، جن کے وُجودِ مسعود کی برکتوں  سے،اس سرزمین پر دینِ اسلام کی قندیلیں رَوشن ومنوَّر ہوئیں، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  نے اپنے علم وعمل اور پاکیزہ کردار کے ذریعے، اس خطّے میں اسلام کی آبیاری کا فریضہ انجام دیا۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :وسیلہ ( توسل کا بیان)

سلسلہ عالیہ چشتیہ کے عظیم رُوحانی پیشوا، حضرت بابا فرید الدین مسعود چشتی فاروقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  تقریباً  571 ہجری، مُطابق  1175 عیسوی میں، شہرِ اولیاء ملتان شریف کے ایک قصبہ “کھتوال” میں پیدا ہوئے([4])، آج اس جگہ کا نام “کوٹھے والا” ہے، جو بُدھلہ سَنت روڈ پر واقع ہے، اور ملتان سے تقریباً پندرہ15 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

حضور بابا فرید گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کا اسم ِ گرامی شیخ فرید الدین مسعود ابن شیخ جمال الدین سلیمان ابن شیخ قاضی شعیب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  ہے۔ آپ کا سلسلۂ نسَب 8 واسطوں سے کابُل (افغانستان) کے بادشاہ فرخ شاہ کابُلی سے، سترہ17 واسطوں سے سلطان ابراہیم اَدہمسلطان ابراہیم اَدہم، اور 23 واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جا کر ملتا ہے([5])، اور اسی نسَبی تعلق کی بنا پر آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کو “فاروقی” بھی کہا جاتا ہے([6])۔

عزیزانِ محترم! شیخ الاسلام حضور بابا فرید رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے والدین  بڑے متقی پرہیزگار اور صاحبِ علم شخصیات میں سے تھے، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے والدِ گرامی شیخ جمال الدین سلیمان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  زبر دست اور مستند عالِم دین تھے، جبکہ والدہ ماجدہ  بی بی قُرسم بڑی نیک، پارسا، عابدہ، زاہدہ اور تہجد گزار خاتون تھیں، کیونکہ ان کے والد ِگرامی حضرت مولانا شیخ وجیہ الدین خُجندی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  ایک بزرگ عالمِ دین  تھے، آپ نے اپنی بیٹی کی تعلیم وتربیت انتہائی مؤمنانہ فراست سے فرمائی تھی۔ بی بی قُرسم خاتون کثرت سے نفلی عبادت، رِیاضت اور روزوں کا اہتمام کرنے والی، اور اپنی عزّت وعصمت اور عِفّت کا لحاظ وپاس رکھنے والی خاتون تھیں([7])۔

حضراتِ گرامی قدر! قطب الکاملین حضور بابا فرید مسعود رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  نے ابتدائی تعلیم اپنے قصبہ کھتوال ہی میں پائی، ابتدائی درسی کتب اور قرآنِ پاک حفظ کرنے کا شرف پایا، پھر مزید حُصولِ علم اور عُلوم وفُنون میں تکمیل کی غرض سے ملتان شہر  تشریف لائے، جہاں حضرت مولانا منہاج الدین ترمذی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے مدرسہ میں داخل ہو کر قرآن وحدیث، فقہ وکلام، اور دیگر عُلومِ مُروّجہ کے ساتھ ساتھ عربی وفارسی پر بھی عبور حاصل کیا([8])۔

حضراتِ ذی وقار! حضور بابا فرید گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  نے چار4 شادیاں فرمائی تھیں، ان سے اللہ ربّ العزّت نے آپ کو پانچ5 بیٹے اور تین3 بیٹیاں عطا فرمائیں، بیٹے بیٹیوں کے اسمائے گرامی حسبِ ذیل ہیں: (1) شیخ نصیر الدین نصر اللہ، (2) شیخ شہاب الدین، (3) شیخ بدر الدین سلیمان، (4) خواجہ نظام الدین، (5) شیخ یعقوب، (6)بی بی مستورہ، (7) بی بی شریفہ، (8) بی بی فاطمہ”([9])۔

شمس العارفین حضور بابا فرید رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ساری اولاد متقی پرہیز گار اور  پارسا تھی، سب سے بڑے صاحبزادے شیخ نصیر الدین نصر اللہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  بڑے عابد، زاہداور متقی بزرگ تھے۔ اسی طرح دوسرے صاحبزادے شیخ شہاب الدین بھی علم وفضل میں یکتائے زمانہ تھے، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کی دلنشین گفتگو کا اعتراف خود حضور بابا فرید رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  بھی فرمایا کرتے۔ بابا فرید رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے تیسرے صاحبزادے شیخ بدر الدین سلیمان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  سجادہ نشینی کی مسند پر فائز ہوئے، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کو خواجگانِ چشت سے براہِ راست کلاہِ خلافت عطا ہوئی تھی۔

بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے چوتھے صاحبزادے خواجہ نظام الدین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ   تھے، یہ صاحبزادے والا شان اپنی دلیری اور دانشمندی کے سبب مشہور تھے، بابا فرید رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کی خواہش تھی کہ انہیں اپنا جانشین مقرّر فرمائیں، مگر آپ غیاث الدین بلبن کی فوج کی طرف سے منگولوں کے ساتھ  لڑتے ہوئے شہادت کے رتبہ پر فائز ہوئے۔

حضور بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے سب سے چھوٹے صاحبزادے شیخ یعقوب  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  اِیثار پیشہ  اور زاہد وعابد بزرگ تھے، گروہِ ملامتیہ کی طرف رجحان ہونے کے باعث  آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ   نے اپنی زندگی کا اکثر حصہ گمنامی میں بسر كیا۔

حضور بابا فرید گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کی تینوں بیٹیاں بھی بڑی عابد ہ وزاہدہ خواتین تھیں، انہوں نے دین کی اِشاعت کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔ “بابا فرید رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی بیٹی بی بی مستورہ بڑی زاہدہ عابدہ خاتون تھیں،  آپ کے دو2 صاحبزادے خواجہ عزیز الدین صُوفی اور خواجہ کبیر الدین ہوئے، آپ کے دونوں صاحبزادگان کی تربیت حضرت سلطان المشایخ (شیخ نظام الدین اولیاء) رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے آستانے پر ہوئی،حضرت سلطان المشایخ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  آپ کی بڑی عزّت وتکریم کیا کرتے تھے”([10])۔

حضور بابا فرید گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  اپنی دوسری بیٹی بی بی شریفہ کے بارے میں ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ “اگر عورتوں کو خلافت نامہ دینا جائز ہوتا، تو میں بی بی صاحبہ کو دیتا” اور آپ کی تیسری بیٹی بی بی فاطمہ کے دونوں بیٹے بابا گنجِ شکر کے خلیفہ ہوئے([11])۔

عزیزانِ مَن! شیخ شیوخ العالم بابا فرید الدین مسعود چشتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے لقب “گنج شکر” کی مختلف توجیہات بیان کی جاتی ہیں، جن میں سے ایک توجیہ یہ ہے کہ “حضرت شیخ فرید الحق والدّین گنج شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کو ایک بار اَسی80 فاقے ہو چکے تھے، نفس بھوکا تھا، “الجُوع الجُوع” (ہائے بھوک! ہائے بھوک!) پکار رہا تھا، اپنے نفس کو بہلانے کےلیے کچھ سنگ ریزے (کنکر) اُٹھا کر منہ میں ڈال لیے، ڈالتے ہی وہ کنکر شکر ہو گئے، جو کنکر منہ میں ڈالتے شکر ہو جاتا، تب سے آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ گنجِ شکر کے لقب سے مشہور ہوگئے”([12])۔

اسی طرح دوسری توجیہ سے متعلق “تذکرۃ العاشقین” میں مذکور ہے، کہ “ایک سوداگر  اونٹوں پر شکر لاد کر ملتان سے دہلی کی طرف روانہ ہوا، جب پاکپتن شریف  پہنچا تو اس کا سامنا حضور  بابا فرید رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے ہوا، آپ نے سامانِ تجارت سے متعلق پوچھا، تو سوداگر نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ حضرت نمک لے کر جا رہا ہوں،  بابا فرید رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  نے فرمایا کہ “اگر نمک ہے تو پھر نمک ہی ہوگا”، جب وہ سوداگر دہلی پہنچا، اور اونٹوں سے اپنا سامان اُتار کر دیکھا، تو  ساری شکر نمک بن چکی تھی، وہ فوراً سمجھ گیا کہ یہ اس کے جھوٹ کی شامت ہے، فوراً پاکپتن شریف حاضر ہوا، حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  سے معذرت چاہی اور نیازمندی کا اظہار کیا، حضرت فرید الدین گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  نے  شفقت کا مُظاہرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: “اگر شکر تھی تو شکر بن جائے گی” جب اس سوداگر نے واپس دہلی پہنچ کراپنا سامانِ تجارت کھول کر  دیکھا، تو سارا نمک شکر میں تبدیل ہو  چکا تھا”([13])۔

جانِ برادر! بابا فرید گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ   کو حضور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رضی اللہ عنہ سے  بیعت واجازت کا شرف   حاصل ہے۔ سیِّد محمد بن مبارک کرمانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  تحریر فرماتے ہیں کہ”جس مجلس میں شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدّین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے جناب شیخ الاسلام قطب الدین بختیار رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے بیعت کی، اس میں قاضی حمید الدین ناگوری، مولانا علاؤ الدین کرمانی، سیِّد نور الدین مبارک غزنوی، شیخ نظام الدین ابو المؤیّد، مولانا شمس الدین تُرک، خواجہ محمود موئنہ دوز اور ان کے علاوہ دیگر بہت سے حضرات (جن کی نظرِ مبارک میں عرش سے لے کر تحتَ الثَری تک تمام چیزیں موجود تھیں) اُس مجلس میں حاضر تھے”([14])۔

محترم بھائیو! قطب الزاہدین بابا فرید الدین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  بڑے عابد وزاہد  تھے، حضرت شیخ عبد الحق محدِّث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی عبادت ورِیاضت اور مُجاہدوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “رِیاضت، مُجاہدہ، فقر اور تَرکِ دنیا آپ کے محبوب ترین مشغلے تھے”([15])۔

رِیاضتوں اور مُجاہدوں کے بعد حضور بابا فرید  گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ آسمان ِولایت کے آفتاب بن کر چمکے، اور اس بلند مقام پر فائز ہوئے جس کے بارے میں حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ عَادَى لِي وَلِيّاً فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ»([16]).

“جس نےميرے کسی ولی سے دشمنی کی، میں اس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں! اور بندہ میرا قُرب سب سے زیادہ فرائض کے ذریعے حاصل کرتا ہے، اور پھر نوافل کے ذریعے بھی مسلسل میرا قُرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، اور جب میں اس بندے کو محبوب بنا لیتا ہوں، تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتاہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتاہے، اور اس کے پاؤں ہو جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے ضرور ضرور عطا کرتا ہوں!”۔

اسی فرمانِ نبوی کے پیشِ نظر حضرت مخدوم نصیر الدین چراغ دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  فرماتے ہیں کہ “چالیس40 سال تک بندہ مسعود(بابا فرید)  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  نے وہ کیا جو حضرت حق رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  نے فرمایا ، اب چند سال سے جو کچھ بندہ مسعود رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے دل میں گزرتا ہے، وہ ہو جاتا ہے”([17])۔

محترم حضرات! حضور بابا فرید الدین مسعود چشتی فاروقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ شہرت اور ناموَری سے کوسوں دُور رہا کرتے، جب  آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کی شہرت اور ولایت کا چرچا ہونے  لگا، تو آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  نے اپنے قصبہ کو خیرباد کہہ کر اَجودھن (پاکپتن) تشریف لے آئے، اس وقت یہ علاقہ جادوگروں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا، اور لوگ ان کے بڑے معتقد   دکھائی دیتے تھے، یہ صورتحال دیکھ کر آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  نے مستقل طَور پر یہیں سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ فرمایا، یہ وہ وقت تھا جب پاکپتن کے باشندے درویشوں سے کوسوں دُور بھاگتے تھے، لیکن یہ کیسے ممکن تھا کہ  کسی مقام پر خاندانِ چشت کا آفتابِ معرفت چمکے،  اور لوگ اس کی نورانی کرنوں سے فیضیاب نہ ہوں! کچھ ہی عرصہ گزرنے کے بعد یہاں بھی بابا فرید گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی شہرت چہار سُو پھیل گئی، کہ پاکپتن شریف میں ایک ایسا آفتاب طُلوع ہوا ہے، جو اپنی نورانی کرنوں سے ظاہر وباطن کو منوّر کر دیتا ہے، شہرت سے گھبرا کر آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  نے یہاں سے بھی کوچ کا ارادہ فرمایا، تو پیرومرشِد حضرت خواجہ قطب الدین

بختیار کاکی اوشی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کی طرف سے پاکپتن ہی میں مستقل قیام کا حکم ملا([18])۔

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! شیخ شیوخ العالَم  بابا فرید گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے چند مشہور اور خاص طور پر قابلِ ذکر خلفاء میں سے چند ایک کے نام حسبِ ذیل ہیں:

(1) شیخ خواجہ جمال الدین ہانسوی، (2)شیخ نجیب الدین متوکّل، (3) شیخ بدر الدین اسحاق، (4) سلطان المشایخ شیخ نظام الدین اولیاء، (5) حضرت مخدوم علاؤ الدین شیخ علی احمد صابر کلیری، (6) حضرت شیخ نصیر الدین متبنیٰ، (7) حضرت شیخ بدرالدین سلیمان (فرزندِ اکبر)، (8) حضرت شیخ عارف ﷭([19])۔

حضراتِ محترم! حضرت بابا فرید رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  نے متعدد دینی خدمات انجام دیں، اور لوگوں کے عقائد ونظریات کی اصلاح فرمائی۔ چنانچہ “حضرت بابا فرید گنج شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  نے دینِ اسلام کی ترویج واِشاعت کےلیے جو کارنامے انجام دیے، ان میں ایک نمایاں کارنامہ، عبد اللہ میمون ایرانی کے شاگرد احمد قرامِطہ کا ردِّ بلیغ ہے، جو اسلامی ممالک میں اپنے باطل عقائد ونظریات کا پرچار زوروشور سے کر رہا تھا کہ “جو کچھ کرنا ہے یہاں کر لو، جنّت دوزخ کا کوئی وُجود نہیں، آخرت میں نہ تو نیکیوں کی جزا ملے گی، نہ برائیوں کی سزا ہوگی”۔ آپ (بابا فرید) رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  نے اسلامی ممالک کا دَورہ کرتے ہوئے، ایک عالِم باعمل اور صوفی باصَفا ہونے کی حیثیت سے، ان گمراہ کُن افکار وعقائد کی شدّت سے مخالفت کی، اور اس کے پرخچے اڑا کر رکھ دیے”([20])۔  

حضراتِ گرامی قدر! بزرگانِ دین کے ملفوظات ان کی زندگی کا نچوڑ اور ماحصل ہوا کرتے ہیں، اگر ان فرامینِ مبارکہ کو ہم مشعلِ راہ بنا کر چلیں، تو یقین جانیے کہ زندگی میں پیش آنے والی بہت سی پریشانیوں، مصیبتوں اور آزمائشوں سے بچ کر، دنیا وآخرت میں سُرخروئی حاصل کی جا سکتی ہے، ان پاکیزہ نُفوس کے یہ فرامین واَقوالِ مبارکہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے، کہ اگر انہیں  آبِ زَر سے لکھا جائے تب بھی کم ہے، ظاہری وباطنی اِصلاح اور رُوحانی تعلیم وتربیت کے اعتبار سے، حضور بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے چند ملفوظات پیشِ خدمت ہیں، ملاحظہ فرمائیں:

(1) درویشی پردہ پوشی کا نام ہے، اور خرقہ پہننا اس شخص کا کام ہے جو مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے عیب چھپائے، اور انہیں کسی پر ظاہر نہ کرے([21])۔

(2)بےسوچے سمجھے اور خلافِ رِضائے خدا جو کچھ خرچ ہو وہ سب اِسراف ہے، اور جو رِضائے الہی کے مُوافق ہو وہ اِسراف نہیں([22])۔

(3)انسان جب دنیا کی لذّتوں، خواہشوں  اور کھانے پینے میں مشغول ہو جاتا ہے، تب غفلت اور خرابی اس پر اثر انداز ہوتی ہے، نیز ہَوا وحرص اس پر غالب آجاتی ہے([23])۔

(4) اہلِ سُلوک کا قول ہے، کہ جو شخص مریدوں کو قانونِ مذہب ِ سنّت وجماعت پر نہیں چلاتا، اور اپنی حالت کتاب اللہ اور سنّت رسول اللہ کے مُوافق نہیں رکھتا، وہ (پیر نہیں بلکہ) رَہزن ہے، دھوئیں سے آگ کا پتا چلتا ہے، اور مرید (کی کیفیت) سے پیر کا پتا چلتا ہے([24])۔

(5) اگر لوگوں کو علم کا درجہ معلوم ہوتا، تو سب کاموں سے دستبردار ہو کر اس کی تحصیل میں لگ جاتے۔ علم ایک اَبر (بادل) ہے جو رحمت کے سوا کچھ نہیں برساتا، جو اس اَبر سے حصہ لیتا ہے وہ گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے([25])۔

(6) ہنر حاصل کرو اگرچہ ذِلّت اٹھانی پڑے([26])۔

(7) جو شخص نادان ہو کر اپنے آپ کو دانا (عقلمند) ظاہر کرے، اس سے ہمیشہ بچ کر رہو۔

(8) (اپنا) باطن، ظاہر سے عمدہ اور بہتر رکھو۔

(9) نعمت کی شکر گزاری کرو۔

(10) نفس کو جاہ ودَولت کے لیے ذلیل وبےقدر نہ کرو([27])۔

اتّباعِ شریعت کی تلقین اور بابا  فرید  گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ 

میرے محترم بھائیو! امام العارفین حضور بابا فرید الدین گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  شریعتِ مطہَّرہ کے انتہائی پابند تھے، اپنے مریدوں اور عقیدتمندوں کو بھی اس بات کی سختی سے تلقین کرتے ہوئے فرمایا کرتے کہ “اپنی زبان اور ہاتھ سے کسی کو مَت ستانا، نہ کسی کو بُرا بھلا کہنا، اپنے ظاہر کو محفوظ رکھنا، آنکھ اور زبان کی (بدنگاہی وبد کلامی سے) حفاظت کرنا، اور انہیں رِضائے الہی میں مصروف رکھنا، یادِ الہی کو دل میں بسائے رکھنا، ذکر وتلاوت سے ہمیشہ اپنی زبان تر رکھنا، اور شیطانی وسوسوں سے دل کو بچائے رکھنا”([28])۔

شیخ الاسلام حضرت بابا فرید الحق والدّین گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مالداروں اور دنیا کی محبت میں مگن رہنے والوں سے ہمیشہ دُور رہا کرتے، اور  اپنے مریدوں اور راہِ سُلوک کی مَنازل طے کرنے والوں کو بھی اس بات کی خاص تاکید کرتے ہوئے فرماتے کہ “امیروں کی ہمنشینی فقیروں کے لیے زہرِ قاتل ہے، جس قدر مالدار لوگوں سے بچو گے، اسی قدر اللہ تعالی کا قُرب حاصل ہوتا جائے گا، چونکہ دنیا کی محبت مالداروں کے دل میں استوار ہوتی ہے، اس لیے ان کی صحبت سے نقصان پہنچتا ہے”([29]) لہذا اُن سے دُور رہنے میں ہی عافیت ہے!۔

جانِ عزیز! حضور بابا فرید رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  عموماً اپنے وعظ ونصیحت اور گفتگو کے دَوران دل سے نفسانی خواہشات کو نکالنے پر زور دیا کرتے، آپ فرماتے ہیں کہ “درگاہِ خداوندی میں مؤمن کے دل کی بڑی قدر ومنزلت ہے، لیکن لوگ اس کی اصلاح نہیں کرتے، یقینا ً وہ ضلالت وگمراہی میں ہیں!”([30])۔

محترم بھائیو! حضور بابا فرید الدین گنجِ شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے مزار  شریف کے دو2 دروازے ہیں: (1) نوری دروازہ، (2) بہشتی دروازہ۔

نوری دروازہ مشرِق کی جانب ، اور  بہشتی دروازہ جنوب کی جانب کھلتا ہے،   البتہ بہشتی دروازے  سے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ “جو اس دروازے سے داخل ہوا اُس نے امان پائی”، شاید یہی وجہ ہے کہ بابا فرید رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے سالانہ عرس شریف کے موقع پر ہزاروں زائرین اس دروازے سے گزرنا، اپنےلیے بخشش کا ذریعہ تصوُر کرتے ہیں، اور اس سعادت کو پانے کےلیے رات بھر جاگتے اور طویل قطار میں گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں۔

میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! بزرگانِ دین کے نقشِ قدم پر چلنا، اور ان کی صحبت وہمنشینی اختیار کرنا، یقیناً خیر وبھلائی اور رحمت وبخشش کا ذریعہ ہے، لیکن زندگی بھر گناہوں میں مبتلا  رہنے والے بعض جاہل لوگوں کا  یہ سمجھ لینا کہ “اس دروازہ سے ایک بار گزر جانے کے بعد وہ پکّے جنّتی ہو چکے، اب انہیں کسی نیک عمل کی ضرورت نہیں، وہ جو چاہیں کریں، روزِ حشر ان کی  کوئی پکڑ نہیں ہوگی” یہ  سراسر جہالت اور خام خیالی ہے۔

یاد رکھیے! کوئی بھی انسان اپنے اعمال کی وجہ سے جنّت میں نہیں جائے گا، اللہ تعالی اپنے فضل وکرم سے جسے چاہے گا بخشے گا، اور جسے چاہے گا عذابِ جہنّم میں مبتلا فرمائے گا، ہاں نیک اعمال اللہ تعالی کی نظرِ رحمت اور جنّت میں بلندئ درَجات کا  ذریعہ اور وسیلہ ضرور ہیں، لہذا  فرائض وواجبات کی پابندی کریں، شریعتِ مطہَّرہ کے اَحکام پر عمل کریں، بزرگانِ دین کی پَیروی  کریں، اور ان کے وسیلے سے اپنی بخشش ومغفرت کی دعا بھی کریں، اور باطل عقائد ونظریات کو اپنے دل میں جگہ ہر گز نہ دیں!۔

حکیم الاُمت مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  فرماتے ہیں کہ “عوام میں مشہور ہے کہ جو پاکپتن شریف میں حضرت بابا گنج شکر فرید الدین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے مقبرہ کے بہشتی دروازے میں داخل ہو جائے وہ جنّتی ہے،  وہاں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی اسے جنّتی اعمال کی توفیق دے گا، اور اس دروازے میں داخلہ کی برکت سے گزشتہ گناہِ صغیرہ مُعاف فرما دے گا، گناہِ کبیرہ سے بچنے کی توفیق دے گا، رب تعالی فرماتا ہے: ﴿اُدْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰيٰكُمْ﴾([31]) “دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو اور کہو کہ ہمارے گناہ مُعاف ہوں! ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے” یہ مطلب نہیں کہ ان لوگوں کے لیے گناہ حلال ہوگئے”([32])۔

حضور بابا فرید الدین مسعود چشتی فاروقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کا وصال شریف 5 محرّم الحرام 664 ہجری،  مُطابق 17 اکتوبر 1265ء کو ہوا، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کی نمازِ جنازہ آپ کے خلیفہ حضرت شیخ بدر الدین اسحاق رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے پڑھائی، نمازِ جنازہ میں عوام کا اس قدر جمِ غفیر تھا، کہ جسدِ خاکی کو پاکپتن شہر سے باہر لا کر نمازِ جنازہ ادا کی گئی([33])، اور بعد ازاں اسی شہر میں تدفین عمل میں آئی۔

سلطان المشایخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ “جس رات حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کا انتقال شریف ہوا، ایک بزرگ نے خواب دیکھا کہ آسمان کے دروازے کھلے ہیں، اور یہ آواز آ رہی ہے کہ خواجہ فرید الحق، حق سے جا ملے، اور اللہ تعالیٰ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  سے خوش ہے!”([34])۔

حضور شیخ المشایخ بابا فرید گنج شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کا مزار شریف پاکپتن شریف (پنجاب، پاکستان) میں واقع ہے، جہاں سارا سال مریدوں اور عقیدتمندوں کا تانتا بندھا رہتا ہے، لوگ مزار شریف پر حاضر ہوتے، دعائیں مانگتے اور آپ کے وسیلے سے اپنے مَن کی مُرادیں پاتے ہیں۔

اےاللہ! ہمیں بزرگوں کا ادب واحترام کرنے کی توفیق مَرحمت فرما، ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے شریعتِ مطہَّرہ کے اَحکام پر عمل کا جذبہ وسوچ عنایت فرما، بزرگانِ دین کے مقام ومرتبہ کا لحاظ وپاسداری کی توفیق عطا فرما، ان پاکیزہ نفوس کے صدقے ہمیں صراطِ مستقیم پر چلا، گمراہی، بےادبی اور باطل عقائد ونظریات سے بچا، حضور بابا فرید گنج شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے مزارِ پُرا نوار پر اپنی کروڑہا کروڑ رحمتوں کا نزول فرما، اور ہمیں ان کے رُوحانی تصرُفات سے فیضیاب فرما۔

اےاللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہ کی سچی محبت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔

اےاللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!۔

اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی وکشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([2]) “مسند الإمام أحمد” مسند الشاميّين، ر: 18020، 6/291.

([3]) “مرآۃ المناجیح”زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان، تیسری فصل، 6/ 382۔

([4]) دیکھیے حالاتِ بابا فرید الدین: “اَسرار الاولیاء (مترجم)” شیخ الاسلام ﷫کا خاندان،؃ 10۔

([5]) “خزینۃ الاَصفیاء” شیخ فرید الحق والدین گنج شکر اجودھنی، 2/ 108، 109۔

([6]) دیکھیے: “سِیر الاَقطاب” دَر ذکر قطب الکاملین حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر …الخ، ؃ 163۔

([7]) دیکھیے: “حیاتِ گنجِ شکر”حضرت بابا فرید مسعود ﷫کے آباء واَجداد،؃ 253۔

([8]) دیکھیے: “فیضانِ بابا فرید  گنجِ شکر” تعلیم وتربیت،؃ 10۔

([9]) اَیضاً، آپ کی اولاد، ؃ 98۔

([10]) “اَسرار الاَولیاء  (مترجم)” شیخ الاسلام ﷫ کا خاندان،  اولادِ گرامی،؃ 38، 39۔

([11]) اَیضاً،؃ 36-39، ملخّصاً۔

([12]) “الملفوظ” گنجِ شکر کہے جانے کی وجہ، حصہ چہارُم 4،؃ 39۔

([13]) ديكھیے: “خزینۃ الاَصفیاء”  شیخ فرید الدین گنج شکر، 2/ 116، 117، بحوالہ “تذکرۃ العاشقین”۔

([14]) “سِیر الاَولیاء”؃ 68۔

([15]) “اَخبار الاَخیار” شیخ فرید الحق والملّۃ والدین گنجِ شکر،؃ 52۔

([16]) “صحيح البخاري” كتاب الرقاق، ر: ٦٥٠٢، صـ١١٢٧.

([17]) “حیاتِ گنج شکر” جہادِ نفس،؃ 309، ملخصاً۔

([18]) “حیاتِ گنج شکر” مدّتِ قیام پاکپتن، ؃ 343، 344، ملتقطاً۔ و”فیضانِ بابا فرید گنج شکر” پاکپتن میں جلوہ گری،؃ 28، 29، ملخّصا ً۔

([19]) “تاریخِ مشایخِ چشت” بابا فرید گنجِ شکر ﷫ کے خلفاء اور ان کی اولاد،؃ 183، 184۔ و”راحت القلوب” حالاتِ زندگی حضرت شیخ العالم ﷫، بابا صاحب کے خلفاء،؃ 35۔

([20]) دیکھیے: “فیضانِ بابا فرید  گنجِ شکر” دینی خدمات،؃ 88۔

([21]) “راحت القلوب” ق۸۔

([22])  اَیضا ً ،  ق11، 12۔

([23])  اَیضا ً، ق17۔

([24])  اَیضا ً، ق29۔

([25])    اَیضا ً ، ق72۔

([26]) “فیضانِ بابا فرید  گنجِ شکر” بابا فرید کے مہکتے مدنی پھول،؃ 91۔

([27]) اَیضا ً، ملفوظات،؃ 99۔

([28]) “سیرتِ بابا فرید ﷫” اتّباعِ شریعت کی تلقین،؃ 14۔

([29]) “راحت القلوب” ق18۔

([30]) اَیضاً، ق29۔

([31]) پ١، البقرة: ٥٨.

([32]) “مرآۃ المناجیح” حضرات صحابہ کے فضائل، دوسری فصل، 8/313۔ 

([33]) “فوائد الفُواد” مجلس پنجاہ وسوم53،؃ 342۔ و”فیضانِ بابا فرید گنجِ شکر” وصالِ باکمال،؃ 96۔

([34]) “سیرتِ بابا فرید” فرید الحق

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *