شب بیداری اور ہمارا طرزِ عمل

Home – Single Post

شب بیداری اور ہمارا طرزِ عمل

برادرانِ اسلام! مخلوقِ الٰہی رات کی آغوش میں  جب گہری نیند سو رہی ہو، اس وقت نیند قربان کرکےاللہ  تعالی کی عبادت کرنا، نفل نماز ادا کرنا، ذکر واَذکار کرنا، تلاوتِ قرآن مجید کرنا، نعت شریف پڑھنا، اللہ ورسول کی یاد سے اپنا دل ودماغ معمور کرنا، خالقِ کائنات  A کے حضور گڑ گڑانا، آنسو بہانا ، اور اپنے گناہوں کی مُعافی چاہنا، ہمیشہ سےاولیائے کرام اور دیگر نیک بندوں کا طریقہ  رہا ہے، اس عمل کو  آسان اور مختصر لفظوں میں “شب بیداری” کہا جاتا ہے۔

Virtues and Rulings of the 15th Night of Sha‘ban (Shab-e-Barat): Forgiveness, Worship, and Divine Mercy

یہ بھی ضرور پڑھیں : پندرہویں شعبان کے فضائل واَحکام

عزیزانِ محترم! اللہ تعالی کو شب بیداری کرنے والے، یا رات کے کسی پہر اُٹھ کر نمازِ تہجد اور نفلی عبادات بجا لانے والے لوگ بہت پسند ہیں، ان کے لیے ایسا اجر وثواب اور جزا مقرّر ہے، جس کے بارے میں اللہ رب العالمین کے علاوہ کوئی آگاہ نہیں، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ ۰۰۱۶ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ﴾([1]) “خوابگاہوں سے اُن کی کروَٹیں جدا ہوتی ہیں، اور ڈرتے اور امید کرتے اپنے رب تعالی کو پکارتے ہیں، اور ہمارے دیے ہوئے میں سے کچھ خیرات کرتے ہیں، تو کسی کو نہیں معلوم  جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے، صِلہ ان کے کاموں کا ہے!”۔

ایک اَور مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿وَالَّذِيْنَ يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا﴾([2]) “وہ جو اپنے رب تعالی کے لیے سجدے اور قیام میں رات کاٹتے ہیں!”۔

صدر الاَفاضل مفتی سیِّد نعیم الدین مرادآبادی رحمہُ اللہ علیہ اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ “(رب تعالی کے لیے رات کاٹنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو) نماز اور عبادت میں شب بیداری کرتے ہیں، اور رات اپنے رب کی عبادت میں گزارتے ہیں، اور اللہ f اپنے کرم سے تھوڑی عبادت والوں کو بھی  شب بیداری کا ثواب عطا فرماتا ہے، حضرت سیِّدنا ابنِ عبّاس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ، فَقَدْ بَاتَ لِلهِ سَاجِداً وَقَائِماً»([3]) “جس کسی نے بعد نماز عشاء دو2 رکعت یا کچھ زائد نفل پڑھے، وہ شب بیداری کرنے والوں میں داخل ہے”([4])۔

فرض نمازوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ، نمازِ تہجد، دیگر نوافل اور ذکر واَذکار کا اہتمام کرنے کے بارے میں باری تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًاۖۚ۰۰۲۵ وَمِنَ الَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًا﴾([5]) “اپنے رب کا نام صبح وشام یاد کرو، اور کچھ رات میں اسے سجدہ کرو، اور بڑی رات تک اس کی پاکی بولو!”۔ مفسّرینِ کرام فرماتے ہیں کہ “پاکی بولنے سے مراد یہ ہے کہ فرائض کے بعد نوافل پڑھتے رہو، اور روز وشب کے تمام اوقات میں دل اور زبان سے ذکرِ الٰہی میں مشغول رہو”([6])۔

میرے محترم بھائیو! شب بیداری کی اَہمیت وفضیلت کا اندازہ اس بات سے لگائیے، کہ اللہ رب العالمین نے  عبادت کی غرض سے رات کو کم سونے، اور شب بیداری کر کے نوافل واستغفار کرنے والوں کا  شمار، اپنے  متّقی وپرہیز گار بندوں میں فرمایا ہے، ارشاد فرماتا ہے:  ﴿اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍۙ۰۰۱۵اٰخِذِيْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِيْنَؕ۰۰۱۶ كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ۰۰۱۷ وَبِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ﴾([7]) “یقیناً پرہیز گار باغوں اور چشموں میں ہیں، اپنے رب کی عطائیں لیتے ہوئے، یقیناً وہ اس سے پہلے نیکوکار تھے، وہ رات میں کم سویا کرتے، اور رات کے آخری حصے میں استغفار کرتے تھے”۔ یعنی رات تہجد اور شب بیداری میں گزارتے ہیں، اور بہت تھوڑی دیر سوتے ہیں، اور رات کا آخری حصّہ استغفار میں گزارتے ہیں، اور اتنے سو جانے کو بھی تقصیر (کوتاہی) سمجھتے ہیں([8])۔

عزیزانِ محترم! حضور نبئ کریم ﷺ کو رات میں جاگ کر عبادت کرنا، اور نوافل ادا کرنا بےحد محبوب تھا، شب بیداری سے متعلق مصطفی جانِ رحمت ﷺ  کے معمولات بیان کرتے ہوئے، امّ المؤمنین حضرت سیِّدہ عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں: «أَنَّ نَبِيَّ اللهِ g كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ»([9]) “نبئ کریم ﷺ رات کی نماز میں  اتنا طویل قیام فرماتے، کہ آپ ﷺ کے قدمین شریفین پر وَرَم آ جاتا (یعنی سُوج جاتے)”۔

اسی طرح حضرت سیِّدنا مُغیرہ بن شُعبہ رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں: «قَامَ النَّبِيُّ g حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ»([10]) “نبئ کریم ﷺ رات بھر نماز میں کھڑے رہے، یہاں تک کہ آپ کے دونوں پاؤں مبارک پر وَرَم آگیا”، جب حضور سروَرِ کونین ﷺ سے، اتنی زیادہ مشقّت اٹھانے کا سبب  دریافت کیا گیا، تو سروَرِ کشورِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَفَلَاأَكُونَ عَبْداً شَكُوراً»([11]) “کیا  میں (اپنے رب کا)  شکر گزار بندہ نہ  بنوں!”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : وسیلہ ( توسل کا بیان)

یہ بھی ضرور پڑھیں : وسیلہ ( توسل کا بیان)

حضراتِ گرامی قدر! رات کو جاگ کرعبادت   کرنا اور نماز پڑھنا، اطمینان وسکون اور راحت ودل جمعی جیسی نعمت کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، انسان رِیاکاری (دکھلاوے)، اور شور شرابے  کے باعث، عبادت میں خلل اندازی جیسی اَذیت کا شکار ہونے سے محفوظ رہتا ہے، خالقِ کائنات A شب بیداری کے سبب حاصل ہونے والے، ان دینی فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:   ﴿اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ اَشَدُّ وَطْاً وَّاَقْوَمُ قِيْلًاؕ۰۰۶ اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا﴾([12]) “یقیناً رات کا اٹھنا زیادہ دباؤ ڈالتا ہے، اور بات خوب سیدھی نکلتی ہے، یقیناً دن میں تو تم کو بہت سے کام ہیں”۔

ایک اَور مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَّقَآىِٕمًا يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ﴾([13]) “کیا وہ جسے سجود اور قیام میں فرمانبرداری کرتے رات کی گھڑیاں گزریں، آخرت سے ڈرتا، اور اپنے رب کی رحمت کی آس لگائے ہوئے، کیا وہ نافرمانوں جیسا ہو جائے گا؟!”۔

صدر الاَفاضل مفتی سیِّد نعیم الدین مرادآبادی رحمہُ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ “اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ رات کے نوافل وعبادت دن کے نوافل سے افضل ہیں، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ رات کا عمل پوشیدہ ہوتا ہے، لہذا وہ رِیاكارى سے بہت دُور ہوتا ہے۔ دوسری یہ کہ دنیا کے کاروبار بند ہوتے ہیں، اس لیے قلب بہ نسبت دن کے بہت فارغ ہوتا ہے،  توجّہ اِلی اللہ اور خشوع دن سے زیادہ رات میں میسّر آتا ہے۔ تیسری وجہ   یہ کہ رات چونکہ راحت وخواب کا وقت ہوتا ہے، لہذا اس میں بیدار رہنا نفس کو بہت مشقّت میں ڈالتا ہے، تو (یقیناً) ثواب بھی زیادہ ہوگا”([14])۔

عزیزانِ محترم! رمضان المبارک کا آخری عشرہ رواں دواں ہے، یوں تو یہ سارا مہینہ ہی رَحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کا مہینہ ہے، مگر اس كے آخری دس10 دن، پہلے بیس20 دنوں سے زیادہ اہمیت اور انفرادی شان رکھتے ہیں، اس عشرے میں ایک مبارک رات ایسی ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، رمضان کریم کا یہ آخری عشره (آخری دس10 دن) جہنم سے آزادی کا ہے، حضرت سیِّدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سركارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: «وَهُوَ شَهرٌ أوّلُه رَحْمةٌ، وَأَوْسَطُه مَغْفِرةٌ، وَآخِرُه عِتقٌ مِّنَ النَّار»([15]) “یہ رمضان وه مہینہ ہے جس کى ابتداء رَحمت، درمیان مغفرت اور انتہاء جہنّم سے آزادی ہے”۔

ماہِ رمضان المبارک تراویح وقیامُ اللیل کا مہینہ ہے، یہ راتوں میں اُٹھ کر رب تعالی کی بارگاہ میں سر بسجود ہونے کا مہینہ ہے، حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سروَرِ کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَاناً وَاحْتِسَاباً، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»([16]) “جس نے ماہِ رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیّت سے قیام کیا، اُس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں”۔ لہذا ہمیں رمضان المبارک کے اس  آخری عشرہ کو غنیمت جانتے ہوئے، خاص طور پر اس کی طاق راتوں  میں شب بیداری کا خاص اہتمام کرنا ہے، اور زیادہ سے زیادہ عبادت کر کے اپنی بخشش کا سامان کرنا  ہے!۔

عزیز دوستو! شبِ قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں (یعنی 21، 23، 25، 27، اور 29 ویں  رات) میں تلاش کرنے کا حکم ہے، اگر ہم شب بیداری کر کے ان پانچ5 راتوں کو خشوع وخضوع کے ساتھ عبادت میں گزارنے میں کامیاب ہو گئے، تو ان شاء اللہ تعالی شبِ قدر کو پانے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے، حضور سروَرِ دوعالم ﷺ ہزار مہینوں سے بہتر اس رات کی تلاش میں، باقاعدہ آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے،اور دوسروں کو بھی اس رات کی تلاش کا حکم دیا كرتے۔

حضرت سیِّدہ عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا ارشاد  فرماتی ہیں،  کہ مصطفی جانِ رحمت ﷺ رمضان شریف کے  آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے، اور حکم فرماتے: «تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ!»([17]) “رمضان کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو!”۔

حضراتِ ذی وقار! جو شخص شب ِقدر میں عبادت کرنے میں کامیاب ہوگیا، اللہ تعالی اس کے گزشتہ  گناہوں کو مُعاف فرما دے گا، حضور نبئ کریم رؤف ورحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَاناً وَاحْتِسَاباً، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»([18]) “جو ایمان اور نيّتِ ثواب کےساتھ شبِ قدر میں عبادت کرے، اس کے پچھلے گناہ مُعاف كر دیے جاتے ہیں”۔ لہذا آخری عشرے کی طاق راتوں میں خاص طور پر شب بیداری کا اہتمام کریں، اپنے رب کے حضور نَدامت کے آنسو بہائیں، اور اپنے گناہوں سے سچی توبہ کر کے آئندہ کوئی گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کریں!۔

واقعۂ معراج اور دیدارِ الٰہی

یہ بھی ضرور پڑھیں :واقعۂ معراج اور دیدارِ الٰہی

عزیزانِ مَن!  رمضان المبارک  کی طاق راتیں ہوں، یا دیگر مقدّس ومبارک راتیں، ان راتوں میں شب بیداری کا اصل مقصد تلاوتِ قرآن مجید، ذکر واَذکار، محافلِ نعت، صلاۃ التسبیح، قضا نمازوں اور نوافل وغیرہ  کی ادائیگی  کے ذریعے، قُربِ الٰہی کا حصول ہے، لیکن اس چیز کا حقیقی فائدہ تبھی ہوگا، جب ہم شب بیداری  کے تقاضوں پر بھی پورا اُتریں، اگر ہم رات بھر جاگ کر عبادت کریں، اور صبح نمازِ فجر ادا کیے بغیر سو جائیں، تو ہمارا رات بھر جاگنا کس کام کا؟! لہذا جو شخص رات بھر جاگ کر عبادت کرنا چاہے، تو وہ پہلے  اس بات کا اطمینان حاصل کر لے، کہ اس شب بیداری کے سبب اس کے فرائض وواجبات کی ادائیگی میں کوتاہی واقع نہیں ہوگی! اگر کوئی خدشہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ رات بھر جاگنے کی بجائے، نمازِ عشاء کی باجماعت ادائیگی کے بعد جلد سو جائے، تاکہ نمازِ فجر باجماعت ادا کر سکے، ایسا کرنے سے وه ساری رات عبادت کا ثواب پائے گا۔

حضرت سیِّدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا صَلَّى اللَّيْلَ كُلَّهُ»([19]) “جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی اُس نے آدھی رات کے قیام کا ثواب پایا، اور جس نے نمازِ فجر بھی باجماعت ادا کی وہ ساری رات عبادت کرنے والے کی مثل ہے”۔

اسی طرح بعض نوجوان عبادت کرنے کے بجائے، گلی بازاروں اور چوراہوں پر بیٹھ کر ساری ساری رات گپیں ہانکتے، اور شور شرابہ کر کے  ہمسایوں کو تنگ کرتےہیں، یہ انتہائی مذموم، حرام اور اَخلاقی اعتبار سے بھی  ناپسندیدہ فعل ہے؛ کہ اس میں بندوں  کی حق تلفی ہے، جو آخرت میں سخت پکڑ کا باعث ہوگی۔ بعض لوگ مساجد میں ذکر واَذکار کرنے کے بجائے کسی کونے میں بیٹھ کر، گروپ کی شکل میں دنیاوی باتیں کرتے رہتے ہیں، ایسا کرنا نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے، اللہ تعالی کو ایسے لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے، حضرت سیِّدنا حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ ختم نبوّت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ حَدِيثُهُمْ فِي مَسَاجِدِهِمْ فِي أَمْرِ دُنْيَاهُمْ، فَلَا تُجالِسُوهُمْ فَلَيْسَ لِلهِ فِيهِمْ حَاجَةٌ»([20]) “لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا، کہ ان کی دنیاوی باتیں مسجدوں میں ہوا کریں گی، تو تم ان میں مت بیٹھنا، اﷲ تعالی کو ایسوں کی کوئی ضرورت نہیں”۔

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہُ اللہ علیہ مسجد میں دنیاوی باتوں سے متعلّق، حکم ِ شرعی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “مسجد میں دنیا کی باتیں کرنی مکروہ ہیں، مسجد میں کلام کرنا نیکیوں کو اس طرح کھاتا ہے، جس طرح آگ لکڑی کو کھاتی ہے، یہ (حکم) جائز کلام کے متعلّق ہے، ناجائز کلام کے گناہ کا تو کیا پوچھنا؟!”([21])۔

لہذا ہمیں چاہیے کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں، شب بیداری  کا خاص اہتمام کر کے، اپنا زیادہ سے زیادہ وقت عبادت اور ذکر ودُرود میں گزاریں، نوافل ادا کریں، زندگی میں جو نمازیں قضا ہو گئی ہوں انہیں ادا کرنے کی کوشش کریں، اللہ تعالی کے حضور سچی توبہ کریں، نَدامت کے آنسو بہائیں، اپنے صغیرہ کبیرہ گناہوں پر اللہ رب العالمین سے مُعافی طلب کریں۔

اے اللہ! رمضان المبارک  کے صدقےہمارے تمام  چھوٹے بڑے گناہ مُعاف فرما، ہمیں سچی توبہ کرنے، اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما،  رمضان شریف کی خوب خوب برکتیں نصیب فرما، ہمیں اس ماہِ مبارک کے تمام روزے رکھنے، نمازِ تراویح ادا کرنے، اور ذَوق وشَوق سےدیگر عبادات ونیک اعمال بجالانے کی توفیق وہمت عطا فرما، اس آخری عشرے کے طفیل ہمیں بھی جہنم سے آزادی کا پروانہ عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا۔ ہماری صفوں میں اتّحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، اس میں سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اخلاص کی دولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔

ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتّحاد واتفاق اور محبت والفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!

اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہٰی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے فلسطینی اور کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) پ٢١، السجدة: ١٧.

([2]) پ١٩، الفرقان: ٦٤.

([3]) انظر: “تفسير البَغَوي” پ١٩، الفرقان، تحت الآية: ٦٤، ٣/٣٧٥.

([4]) “تفسیر خزائن العرفان”؃ 678۔

([5]) پ٢٩، الدهر: ٢٥، ٢٦.

([6])    دیکھیے: “تفسیر خزائن العرفان”؃ 1075 ملتقطاً۔

([7]) پ٢٦، الذاريات: ١٥-١٨.

([8]) دیکھیے:   “تفسیر خزائن العرفان”؃ 960۔

([9]) “صحيح البخاري”، كتاب التفسير، ر: ٤٨٣٧، صـ٨٥٦ ملتقطاً.

([10]) المرجع نفسه، ر: ٤٨٣٦.

([11])المرجع السابق.

([12]) پ٢٩، المزّمِّل: ٦، ٧.

([13]) پ٢٣، الزُمر: ٩.

([14]) “تفسیر خزائن العرفان”؃ 850۔

([15]) “شعب الإيمان” باب في الصيام، ر: ٣٦١١، ٣/١٣٣٢.

([16]) “صحيح البخاري” باب: تطوّع قيام رمضان من الإيمان، ر: ٣٧، صـ٩.

([17]) “سنن الترمذي” باب ما جاء في ليلة القدر، ر: ٧٩٢، صـ١٩٨.

([18]) “صحيح البخاري” كتاب فضل ليلة القدر، ر: ٢٠١٤، صـ٣٢٣.

([19]) “صحيح مسلم” كتاب المساجد، ر: ١٤٩١، صـ٢٦٤.

([20]) “شعب الإيمان” فضل المشي إلى المساجد، ر: ٢٩٦٢، ٣/١١٢٢.

([21]) “بہارِ شریعت” حظر واِباحت کا بیان، آدابِ مسجد وقبلہ، حصّہ 16، 3/499۔

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *