غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور ان كی تعليمات

Home – Single Post

The Greatest Helper (Al-Ghawth al-A'zam) and His Teachings

برادرانِ اسلام! اولیائے کرام رحمہم اللہ کا وُجود پوری کائنات کے لیے خیر وبرکت کا سبب ہے، ہر دَور میں ان حضرات کی موجودگی کسی نعمت سے کم نہیں، بارگاہِ الٰہی  میں مقبول ان ہستیوں کا مقام ومرتبہ بہت ہی بلند وبالا ہے،   علم وحکمت کے یہ سر چشمے بعطائے الٰہی، متلاشیانِ حق کی تشنگی دور کرتے ہیں، اُن کے قُلوب واَذہان کو محبتِ الٰہی سے لبریز کرتےہیں، اور انہیں جہالت و گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر نورِ ہدایت کی رَوشنی میں لے آتے ہیں، یہ حضرات پیار، محبت اور اُلفت کا درس دیتے ہیں، امن وامان اور اُخوت ورَواداری ان کی بنیادی تعلیمات ہیں، یہ حضراتِ مقدّسہ دنیا کی رنگینیوں اور مفادات کی جنگ سے کوسوں دور ہیں، ربِ کائنات پر ان کے توکّل اور بارگاہِ الٰہی  میں ان کے مقام ومرتبہ کا یہ عالَم ہے، کہ خود خالقِ کائنات ان کی شان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ﴾([1]) “سن لو! یقیناً اللہ کے ولیوں پرنہ کچھ خَوف ہے، نہ کچھ غم!”۔

میرے محترم بھائیو! یہ وہ مقبولانِ بارگاہ ہیں، جن کا دل ہر وقت ذکرِ الٰہی میں مستغرق رہتا ہے، ان کے شب وروز تسبیح وتہلیل میں گزرتے ہیں، ان کے قلوب میں اللہ ورسول کی محبت وعقیدت درجۂ کمال کو پہنچی ہوتی ہے، اور ان کا مقصدِ حیات صرف اللہ رب العالمین کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔

ایسی ہی  برگزیدہ ہستیوں میں سے ایک کامل اورنمایاں ہستی حضور غوثِ اعظم “حضرت سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانیرحمۃ اللہ علیہ” کی ہے، اللہ  تعالیٰ نے آپ کو بہت اعلیٰ مقام ومرتبہ اور شان و عظمت سے نواز ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ 470 يا 471ھ میں، رمضان شریف کے مبارک مہینے میں، بغداد شریف کے قریب دریائے دجلہ کے کنارے ایک قصبے، “جیلان” میں پیدا ہوئے([2])۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے والدِ ماجدکا نام “حضرت ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ” تھا، آپ والد  کی جانب سے حسنی([3])، جبکہ والدہ محترمہ کی طرف سے حسینی سیِّد ہیں۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :صوفیائے کرام اور اُن کی تعلیمات

عزیزانِ محترم! بعض شیعہ لوگ آپ رحمۃ اللہ علیہ کو سیِّد نہیں مانتے، انہیں یہ بات خوب معلوم ہونی چاہیے کہ “سیِّدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ یقیناً قطعاً اجلّ ساداتِ کرام سے ہیں، حضور کی سیادت متواتره ہے، حضرت سیِّدی امامِ اوحد ابو الحسن لخمی کی “بہجۃ الاسرار شریف”، امامِ جلیل عبد اﷲ بن اسعد یافعی شافعی کی “اَسنَی المَفاخر”، علّامہ علی قاری کی “نزہۃ النواظر”، مولانا نور الدین جامی کی “نفحات الاُنس” اور شیخِ محقق عبد الحق محدث دہلوی کی “زبدۃ الآثار” وغیرہم اجلّۂ اکابر کی معتمَدات اَسفار ملاحظہ ہوں!… رافضیوں کے یہاں تو معیارِ سیادت رفض ہے، سُنّی کیسا ہی جلیل القدر سیِّد ہو، اسے ہرگز سیِّد نہ مانیں گے، اور کوئی کیساہی رذیل ذلیل قوم کا آج رافضی ہوجائے، (ان کے لیے) کل سے میر صاحب ہے”([4])۔

حضراتِ محترم! ایک بار کسی نے حضرت محبوبِ سبحانی شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے یہ پوچھا، کہ آپ کو اپنے ولی ہونے کا علم کب ہوا؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ “میری عمر دس10 برس تھی، تب میں مکتب میں پڑھنے جاتا، تو دیکھتا كہ میرے آنے پر فرشتے بچوں سے فرماتے کہ “ولی اللہ کے بیٹھنے کے لیے جگہ كشاده کر دو!”([5])۔

حضراتِ گرامی! پیرانِ پیر حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی عبادت وریاضت اور معمولات کا یہ  عالم تھا، کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ ساری ساری رات عبادتِ الٰہی میں مصروف رہ کر، قرآنِ پاک کی تلاوت اور نوافل ادا  کرتے تھے، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے پندرہ15 سال تک ہر رات میں  ایک قرآنِ پاک ختم کیا”([6])۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کی عبادت و ریاضت اور معمولات سے متعلق شیخ ابو عبد اللہ محمد بن ابو الفتح  ہَروی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ “میں نے چالیس40 سال تک حضرت شیخ محی الدین سیِّد عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں وقت گزارا، اس مدّت میں آپ رحمۃ اللہ علیہ عشاء کے وضو سے صبح کی نماز ادا کرتے، اور آپ رحمۃ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ جب بھی بے وضو ہوتے، تو فوراً وضو فرما کر دو2 رکعت نمازِ نفل پڑھ لیتے”([7])۔

میرے محترم بھائیو! ایک طرف اللہ تعالیٰ کے سچے برگزیدہ بندوں کا تو یہ عالَم ہے،مگر دوسری طرف آجکل کےنہاد پیر وں فقیر وں کا حال یہ ہے، کہ اکثر اَحکامِ شرعیہ کی پابندی نہیں کرتے، ظاہری حلیہ بھی شریعت کے مطابق نہیں ہوتا، فرائض وواجبات کی ادائیگی کا بھی صحیح طور پر اہتمام نہیں کرتے، اکثر جاہل اور فاسقِ مُعلِن ہوا کرتے ہیں، اعلانیہ گناہوں کا ارتکاب بھی کرتے ہیں، مریدین کی شرعی رَہنمائی  کرنے کے بجائے اُن کے گھر وں میں جا کر دعوتیں اڑانا، اور نذرانے وصول کرکے اپنی جائیدادیں بنانا ان نالائقوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے، ایسوں کو چاہیے کہ اپنے شب وروز پر خوب غور وفکر کریں! اور حضور غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت وتعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے، اپنے ظاہر وباطن کی اصلاح کریں!! ؏

کرو گے کب تک اچھا مجھ برے کو

 مرے حق میں ہے کیا ارشاد یا غوث!

حضراتِ ذی وقار! آج مادّہ پرستی کا دَور ہے، ہر شخص انسانیت اور اَخلاقی اَقدار کے ساتھ نبرد آزما ہے، ایسے دگرگوں اور نامُساعد  حالات میں نفرت وعداوت، لالچ وخود غرضی، اور مال ودَولت  کی ہوَس نکال کر، محبت و اِیثار اور جذبۂ اِخلاص سے  وہی لوگ ہمکنارکر سکتے ہیں، جن کے دل و دماغ قرآن و سنّت کی رُوح سے آشنا ہوں۔ قُطبِ ربّانی حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ذاتِ مبارکہ ایک ایسی ہی عہد ساز اور حیات آفرین شخصیت ہے، آپ کی سیرتِ طیِّبہ اور کتابِ زیست کا ہر ورق اُمّتِ مسلمہ کے لیے  لائقِ تقلید  اور مُعاشرے کی اصلاح کا باعث ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات ایک خزاں رسیدہ چمن کے لیے بادِ بہاری کے کسی خوشگوار جھونکے کی مثل ہیں، یقین جانیے! اگر ہم ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائیں، تو دنیا وآخرت میں کامیابی وکامرانی ہمارے قدم چومے لے۔

حضراتِ گرامی قدر! مسلکِ حق اہلسنّت وجماعت اور حضور غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی کبھی بھی یہ تعلیمات یا  عقائد ونظر یات نہیں رہے، کہ فرائض کو ترک کرکے سنّتوں کی طرف توجہ کی جائے، یا سُنن کو چھوڑ کر نوافل کی ادائیگی میں مشغول ہوا جائے، ہمارے نزدیک  ایسا  کرنے والے  احمق اور گمراہ ہیں، لیکن بدقسمتی سے آج اَحکامِ شريعت سے ناواقف بعض بہروپیے “پیری فقیری” کے نام پر، عوام الناس میں شُکوک وشُبُہات پیدا کر رہے ہیں، حضور غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا نام لے کر، اور خود کو ان کا پیروکار بتا کرکے، بعض ایسے غیر شرعی عقائد ونظریات کا پرچار کر رہے ہیں، جن کا شریعتِ مطہَّرہ اور اولیائے کرام ﷭  کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں، حضور غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ زندگی بھر  شریعتِ مطہَّرہ پر عمل پیرا رہے، اور   فرائض وواجبات پر عمل کی تاکید بھی کرتے رہے۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مریدوں، عقیدت مندوں اور ہر محبت کرنے والے مؤمن سے ارشاد فرمایا کہ “مؤمن کو چاہیے کہ سب سے پہلے فرائض ادا کرے، اور ان سے فراغت کے بعد سنّتوں پر توجہ دے، پھر نوافل اور فضائل میں مصروف ہو، فرائض کی تکمیل کے بغیر سنّتوں میں مشغول ہونا حَماقت ونادانی ہے، اگر کوئی شخص ادائے فرض کےبجائے سُنن و نوافل میں مشغول ہوا، تو وہ ہرگز قبول نہ کی جائیں گی، بلکہ اس کے منہ پر مار دی جائیں گی! اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جسے بادشاہ اپنی خدمت کے لیے بلائے ، یہ وہاں تو حاضر نہ ہُو، اور بادشاه کے غلام کی خدمتگاری میں موجود رہے”([8])۔

میرے عزیزو! حضور غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے فرمان  کا حاصل یہ ہے، کہ اَحکامِ شريعت کی پابندی کی جائے، اور  نوافل ومستحبات میں پڑنے سے قبل فرائض وواجبات پر عمل کو یقینی بنايا جائے، نفسانی خواہشات سے بچتا رہے، اور انہیں شریعتِ مطہَّرہ کے تابع کرے۔

عزیزانِ گرامی قدر! حضور غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ شریعت کے انتہائی پابند تھے، ان کے نزدیک محبت ودشمنی اور پسند ناپسند کا معیار صرف شریعت تھی، وہ ہر چیز کو شریعت کے ترازو میں تولا کرتے، جو چیز معیارِ شریعت پر پورا اترتی اسے اپنا لیتے، اور جو پورا نہ اترتی اسے ترک کر دیتے تھے۔ اِتّباعِ شریعت  کی  تاکید کرتے ہوئے آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ”جب تُو اپنے دل میں کسی کی دشمنی یا محبت پائے، تو اس کے کاموں کو قرآن وسنت پر پیش کر، اگر ان میں پسندیدہ ہوں تو اس سے محبت رکھ، اور اگر ناپسند ہوں تو کراہت كر؛ تاکہ اپنی خواہش سے نہ کوئی دوست رکھے نہ دشمن، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ﴾([9]) “خواہش کے پیچھے نہ جانا؛ کہ تجھے اللہ تعالی  کی راہ سے بہکا دے گی!”([10])۔

شریعتِ مطہَّرہ کے اَحکام اور اس کی حُدود کی پاسداری سے متعلق تنبیہ کرتے ہوئے، حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے مزید ارشاد فرمایا کہ “شریعتِ پاکیزہ محمدی ﷺ درختِ دینِ اسلام کا پھل ہے، شریعت وہ آفتاب ہے جس کی چمک سے تمام جہاں کی اندھیریاں جگمگا اٹھیں، شريعت کی پَیروی دونوں جہان کی سعادت بخشی ہے، خبردار! اس کے دائرہ سے باہرنہ جانا، خبردار! اہلِ شریعت کی جماعت سے جدا نہ ہونا”([11])۔

میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! اللہ رب العالمین نے ہر چیز کا ایک وقت مقرّر فرمایا ہے، دنیا کا کوئی بھی کام اپنے مقرّرہ وقت سے پہلے ہرگز نہیں ہوسكتا! لہذا انسان کو ہمیشہ اپنے رب تعالی کی رضا پر راضی رہنا چاہیے،  اور کبھی ناشکری یا بے صبری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے، رب تعالی کی رضا پر راضی رہنےکی تعلیم دیتے ہوئے، امام العارفین شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشادفرمایا کہ “جب اللہ تعالی اپنے بندے کی کوئی دعا قبول فرماتا ہے، اور جو چیز بندے نے اللہ تعالی سے طلب کی وہ اسے عطا کرتا ہے، تو اس سے الله کے اراده میں کوئی فرق نہیں آتا، اور نہ نوشتۂ تقدیر نے جو لکھ دیا ہے اس کی مخالفت لازم آتی ہے؛ کیونکہ بندے کا سوال اپنے وقت پر رب تعالیٰ کے ارادہ کے مُوافق ہوتا ہے، اس لیے قبول ہوجاتا ہے، اور روزِ اَزَل سے جو چیز اس کے مقدَّر میں ہے، وقت آنے پر اسے مل کر رہتی ہے”([12])۔

شریعت وطریقت میں باہمی تعلق

حضراتِ محترم! بعض لوگ “شریعت” کو ” راہِ سُلوک” سے جدا سمجھتے ہیں، اور یہ خیال کرتے ہیں کہ احکامِ شریعت پر عمل کیے بغیر وہ “چلّہ کشی اور خَلوَت نشینی” کے ذریعے “حقیقت ومعرفت” کی منزل کو پا لیں گے، وہ لوگ سخت غلطی پر ہیں، ایسوں کو  تنبیہ کرتے ہوئے  حضور غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ نے ارشادفرمایا کہ “فقہ سیکھو! اس کے بعد خَلوَت نشیں ہو! جو بغیر علم کے الله کی عبادت کرتا ہے، وہ جتنا سنوارے گا اس سے زیادہ بگاڑے گا، لہذا اپنے ساتھ شریعت کی شمع لے لو!”([13])۔

حضراتِ محترم! بعض لوگ عقیدت میں محبوبِ سبحانی شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو مالکِ نفع وضرر مانتے ہیں، اور بعض اس عقیدہ کو شرک قرار دیتے ہیں، امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان کی بارگاہ میں اس بارے میں ایک استفتاء پیش ہوا، تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً “عقیدۂ اہلسنّت” واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ “حضور سيِّدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو بعطائے الٰہی مالکِ نفع وضرر کہنے میں حرج نہیں، مسلمان جب ایسا لفظ کہتاہے، تو اس کی مراد یہی ہوتی ہے، نہ یہ کہ (معاذ اللہ) بذاتِ خود بے عطائے الٰہی مالکِ نفع وضرر جانے؛ کہ یہ کفرِ خالص ہے، اور کوئی مسلمان اس قصد سے نہیں کہتا”([14]) ؏

مُحیِ دیں غوث ہیں، اور خواجہ معین الدین ہے

اے حسن کیوں نہ ہو محفوظ عقیدہ تیرا!

حضراتِ ذی وقار!  آج ہم خود کو  حضور غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے ماننے والوں میں شمار کرتے ہیں، انہیں پیرانِ پیر روشن ضمیر قرار دیتے ہیں، اگر کوئی ان کی شان میں نازیبا کلمات کہے، تو اس کے ساتھ الجھنے سے بھی گریز نہیں کرتے، لیکن بدقسمتی سے  عملی طور پر  ہمارا حال یہ ہے، کہ  ہم آج تک اُن کی تعلیمات سے بھی کماحقہ واقف نہیں، بطورِ تعارف ” بڑے پیر صاحب” کہنے کے سوا ہم ان کی شخصیت سے واقف نہیں، حالانکہ آپ رحمۃ اللہ علیہ زندگی بھر تبلیغِ دین میں مصروفِ عمل رہے، اور مخلوقِ خدا کو وعظ و نصیحت فرماتے رہے([15])۔ لیکن آج ہم  انہیں ایک “پیر صاحب” سے زیادہ حیثیت دینے کو تیار نہیں، ہر ماہ ان کے “ایصالِ ثواب” کے لیے “گیارہویں شریف” کا ختم دلا کر، بریانی وغیرہ نیاز کھا کر  سمجھتے ہیں کہ محبت وعقیدت کا پورا حق ادا کر دیا۔

میرے بھائیو! ایسا ہرگز نہیں، صحیح معنى میں حقِ عقیدت صرف اسی صورت میں ادا ہو سکتا ہے، کہ ہم حضرت  کی سیرتِ مبارکہ اور آپ کی کتب کا مطالعہ کریں، ان کی تعلیمات سے آگاہی حاصل کریں، اور ان پر عمل پیرا ہونے کی بھر پور کوشش کریں۔

میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! وقت کے اس عظیم امام، عالم، غوث اور روحانی بزرگ حضرت سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ  کا وصال شریف ۹ ربیع الآخر ۵۶۱ ہجری میں ہوا، بوقتِ انتقال آپ رحمۃ اللہ علیہ کی عمر شریف تقریباً نوّے۹۰ برس تھی”([16])۔

اے اللہ! ہمیں حضرت سیِّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی سیرتِ طیّبہ پر عمل کی توفیق عطا فرما، ان کے فیضِ روحانی سے ہمیں کامل حصّہ عطا فرما، اور اپنی محبت واطاعت کے ساتھ اپنی ولایت عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا۔ ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، اس میں سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اخلاص کی دولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔

ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت والفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!۔

اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔


([1]) پ11، يونس: 62.

([2]) “بهجة الأسرار” ذکر نسبه وصفته h، صـ171.

([3]) “بهجة الأسرار” ذکر نسبه وصفته h، صـ171.

([4]) “فتاوی رضویہ”  کتاب الرد والمناظرة، 20/555 ملتقطاً۔

([5]) “بهجة الأسرار” ذکر کلمات أخبر بها عن نفسه محدثاً بنعمة ربّه، صـ48.

([6]) “بهجة الأسرار” ذکر فصول من کلامه مرصّعاً بشيء …إلخ، صـ118.

([7]) “بهجة الأسرار” ذکر طریقه h، صـ164.

([8]) “فتوح الغيب” المقالة 48 فيما ينبغي للمؤمن أن يشتغل به، صـ113.

([9]) پ23، صٓ: 25.

([10]) “الطبقات الكبرى” للشعراني، ومنهم أبو …إلخ، الجزء 1، صـ131.

([11]) “بهجة الأسرار” ذکر فصول من کلامه مرصّعاً بشيء …إلخ، صـ99.

([12]) “فتوح الغيب” المقالة 68 في قوله تعالى: ﴿كُلَّ …الآية، صـ152، 153.

([13]) “بهجة الأسرار” ذکر فصول من کلامه مرصّعاً بشيء …إلخ، صـ106.

([14]) “فتاوی رضویہ”  کتاب العقائد والكلام، 18/103 ملتقطاً۔

([15]) “بهجة الأسرار” ذکر وعظه h، صـ183، 184.

([16]) “ذیل طبقات الحنابلة” إسماعيل بن أبي طاهر بن الزبير الجيلي، 2/206.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *