مزدوروں کے حقوق

Home – Single Post

مزدوروں کے حقوق

برادرانِ اسلام! یکم مئی مزدُوروں کے عالَمی دن کے طَور پر منایا جاتا ہے، اس دن پوری قوم چھٹی مناتی ہے، لیکن مزدُور اُس دن بھی دو2 وقت کی روٹی کے لیے محنت ومشقّت کرتا ہے، مزدُوروں کے عالَمی دن پر کچھ سیاسی سماجی تنظیمیں ریلیاں نکال کر، اور تقاریب کر کے خانہ پُری تو کر لیتی ہیں، لیکن اس دن سے وابستہ اَفراد اپنے عالَمی دن کی اَہمیت اور اپنے حقوق سے بھی با خبر نہیں، نیز مُلازموں، مزدُوروں اور دیہاڑی دار طبقے کے لیے ایک دن کی چھٹی کا مطلب ایک دن کا فاقہ تو ہو سکتا ہے، تفریح نہیں، ؏

لوگوں نے آرام کیا اور چھٹی پوری کی

یکم مئی کو بھی مزدُوروں نے مزدُوری کی!([1])

یہ بھی ضرور پڑھیں :حقوق العباد

حضراتِ محترم! مزدُوری کرنا، اور مزدُور کی مقرّرہ اُجرت وحقوق کو وقت پر ادا کرنا، انبیائے کرام کی سنّت ہے، حضرت سیِّدنا موسیٰ  نے حضرت سیِّدنا شعیب کی بکریاں چَرائیں، حضرت سیِّدنا شعیب نے ان کی قوّت، طاقت اور شرافت دیکھ کر ان سے اپنی ایک بیٹی كا نكاح كر دیا، اور فرمایا کہ ميں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میرے پاس کچھ عرصہ کام کريں، اس واقعہ کو اللہ تعالی نے قرآنِ حکیم میں بیان فرمایا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿قَالَ اِنِّيْۤ اُرِيْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَيَّ هٰتَيْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِيْ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ﴾([2]) “(حضرت شعيب نے) کہا، کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک كا نکاح آپ سے کر دُوں، اس شرط پر کہ آپ آٹھ8 برس میری مُلازمت کريں، پھر اگر پورے دس10 برس کرليں تو یہ آپ کی طرف سے اِضافہ ہو گا”۔

عزیزانِ محترم! مزدُور ومُلازمین سے دھوکا فراڈ، ان کی حق تلفی اور مُعاشرے ميں فساد كا باعث ہے، ہر وہ شخص جس کے ہاں لوگ اُجرت وتنخواہ پر کام کرتے ہیں، اُسے چاہیے کہ اُن کے حقوق کا خاص خیال رکھے؛ تاکہ قیامت کے دن نَدامت وپشیمانی اور ذِلّت ورُسوائی سے محفوظ رہے، جو جیسا عمل کرے گا اُس کا اَنجام بھی ویسا ہی ہو گا، ارشادِ خداوندی ہے: ﴿فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗؕ۰۰۷ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾([3]) “جو ایک ذرّہ بَھر بھلائی کرے تو اُسے بهى دیکھے گا، اور جو ایک ذرّہ بَھر بُرائی کرے تو اُسے بهى دیکھ لے گا”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :رشتہ داروں کے حقوق

حضراتِ گرامی قدر! مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے اپنے ماتحتوں کا ہر طرح سے خیال ركهنے کی خاص فرمائی ہے،جیسا کہ ایک بار ایسا ہوا کہ حضرت سیِّدنا ابوذَر غِفاری ﷛ اور ان کے ایک غلام نے، ایک ہی قسم کا جوڑا پہن رکھا تھا، حضرت سیِّدنا معرور بن سوَید نے  آپ سے اس کا سبب پوچھا؟ تو حضرت سیِّدنا ابوذَر نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «يَا أَبَا ذَرٍّ! …مَنْ كَانَ أَخُوْهُ تَحْتَ يَدِه فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا تُكَلِّفُوْهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِيْنُوْهُمْ»([4]) “اے ابو ذَر! جس کے ماتحت اس کا کوئی مسلمان بھائی كام كرتا ہو، اسے چاہیے کہ جو خود کھائے ویسا اسے بهى کھلائے، جیسا خود پہنے ویسا اسے بھی پہنائے، ان سے ایسا کام نہ لو جو اُن کی طاقت سے زیادہ ہو، اور اگر ایسا کوئی کام ان کے ذمّہ لگاؤ، تو خود بھی ان کی مدد كيا کرو”۔

اس سے معلوم ہوا کہ مزدوروں اور مُلازموں کی اُجرت اس قدر ہونی چاہیے، کہ کم اَز کم خوراک اور پوشاک کے مُعاملے میں ان کا معیارِ زندگی مالکوں کے قریب قریب ہو۔ دوسرا یہ کہ اُجرت کی مقدار اتنی ہونی چاہیے کہ مزدور ومُلازم اہل وعِیال کی اچھی طرح پروَرش کرسکے، اور اُن کی ضروریاتِ زندگی پوری کرسکے۔ جبکہ اس کے برعکس آج کَل مزدُوروں کے ساتھ کیسا سُلوک ہو رہا ہے یہ ہمارے سامنے ہے! گویا اس کی زندگی اس شعر کی عکّاسی کررہی ہوتی ہے، ؏

تو قادِر وعادِل ہے مگر تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدُور کے اَوقات([5])

یعنی اے میرے خالق ومالک! بے شک تجھے کائنات کی ہر شَے پر قدرت ہے، اور تُو عادِل ومُنصِف بھی ہے، لیکن تیری دنیا میں مزدور اور محنت کش طبقہ بڑی تلخیوں سے دوچار ہے!۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :زکات ایک بنیادی فریضہ ہے

عزیزانِ مَن! مزدُور کے حقوق کی ادائیگی میں سُستی اور تاخیر ناجائز وگناہ ہے، نیز مزدُور کا حق پورا اور وقت پر ادا کرنے کے بارے  میں مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے بڑی تاکید فرمائی ہے، حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «قَالَ اللهُ تَعَالَى: ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: (1) رَجُلٌ أَعْطى([6]) بِيْ ثُمَّ غَدَرَ، (2) وَرَجُلٌ بَاعَ حُرّاً فَأَكَلَ ثَمَنَه، (3) وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيْراً فَاسْتَوْفى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِه أَجْرَه»([7]) “اللہ تعالی نے ارشاد فرمايا کہ قیامت کے دن میں تین3 قسم كے لوگوں کا مخالف ہوں گا: (1) ایک وہ جس نے میرے نام پر عہد کیا پھر اسے توڑ دیا، (2) دوسرا وہ جس نے كسى آزاد کو غلام بنا كر بیچا اور اس کی قیمت کھائی، (3) اور تیسرا وہ جس نے کسی كو اپنے ہاں مزدورى پر رکھا، اس سے پورا کام لیا، اور مزدوری نہیں دی”۔

میرے محترم بھائیو! مقرّر وقت سے زیادہ کام لینے پر اُس زائد وقت (Overtime) کی بھی اُجرت دینا لازم ہے، نیز کام کرنے والے  کی اُجرت کا کچھ فیصد اپنے قبضے میں رکھنا یا دَبا  لینا، یا جان بُوجھ کر ادائیگی میں ٹال مٹول یا تاخیر سے کام لينا،  سراسر ظلم، گناہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے! حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے، رحمتِ عالمیان ﷺ نے فرمایا: «أَعْطُوا الْأَجِيْرَ أَجْرَه، قَبْلَ أَنْ يَّجِفَّ عَرَقُه»([8]) “مزدُور کی اُجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا كر دیا کرو”۔ مقصد یہ ہے كہ جب کام کرنے والے نے اپنا کام پورا کر لیا ہے، تو اَب اس کی تنخواہ واُجرت وغیرہ بھی اسے وقتِ مقرّر پر ضرور دے دی جائے!۔

اسی طرح مُلازم اور مزدور پر بهى لازم ہے کہ جس کے ہاں کام کر رہا ہے، اس سے وفادارى كا ثبوت دے، کام میں کمی، کوتاہی اور غفلت نہ برتے، جو اوقاتِ کار مقرّر ہیں انہیں ہر حال میں پورا کرے، الغرض کام  کرنے والا اور کام لینے والا، ہر ایک اپنا اپنا فرض پورا کرے۔

عزيزانِ مَن! دنیوی لالچ وحرص میں اندھا ہو کر، مُلازمین کو کم تنخواہیں دینا، بےجا سختی، اور ڈانٹ ڈپَٹ  کرنا، اور مزدور ومُلازم کی طاقت سے زیادہ کام لینا ہرگز جائز نہیں؛ کیونکہ ایسا کرنا ظلم ہے، جس سے بچنا ہر ایک پر لازم ہے، حضرت سیّدنا ابوہریرہ سے روایت ہے، سروَرِ دوجہاں ﷺ نے فرمایا: «وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا يُطِيقُ»([9]) “(مُلازم کو) ایسے کام پر مجبور نہ کیا جائے، جس کی وہ طاقت نہیں ركھتا”۔ لہٰذا جس کی جتنی طاقت ہو اُس سے اُتنا ہی کام لینا چاہیے۔

حضراتِ محترم! کسی سے کام پورا لے کر مُعاوَضہ  کم دینا، یا کام کروانے کے بعد کم اُجرت بتانا، دھوکااور  ناجائز وممنوع ہے، حضرت سیّدنا ابو سعید خُدری نے فرمایا: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ نَهى عَنِ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيْر، حَتَّى يُبَيَّنَ لَه أَجْرُه»([10]) “رسول اللہ ﷺ نے مزدُور سے ایسا اِجارہ کرنے سے منع فرمایا ہے، جس کی اُجرت واضح نہ كى گئى ہو”۔

حضراتِ گرامی قدر! جہاں مزدُور ومُلازمین کے دیگر حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے، وہیں ان کے ساتھ اچھا مُعاملہ بھی ضروری ہے، امام مسجد ہوں، یا مُعلمِ دِینی ودُنیوی، کارخانے کے مُلازِم ہوں، یا ٹھیکداری نظام میں کام کرنے والے، ڈرائیور ہوں یا گھر کے کام کاج کرنے والے، الغرض کسی بھی کام کےلیے جب کسی مُلازم کا تقرُر کیا جائے، تو اُس کی تنخواہ اور اَوقاتِ کار طَے کر لیے جائیں، اور اپنے زمانے اور احوال کے حساب سے اِنہیں تنخواہ وسُہولیات فراہم کی جائیں، مہنگائی میں اِضافے کے تناسُب سے ہی مزدور ومُلازمین کے مُعاوَضوں میں اِضافہ اور تحفُظِ حقوق کےلیے عملی اِقدام ہونا چاہیے، لیکن اکثر مُعاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے، اور یہ چیز مزدُور ومُلازمین کی حق تلفی،  ظلم اور اللہ ورسول کی ناراضی کا سبب ہے، حضرت سیّدنا ابو اُمامہ باہلی سے روایت ہے، سركارِ دو جہاں ﷺ نے فرمایا: «مَنْ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُّسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» “جو قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مار لے، اللہ تعالی اس پر جہنّم واجب اور جنّت حرام کر دیتا ہے” کسی نے عرض کی: یارسولَ اللہ! اگرچہ وہ كوئى معمولی چیز ہو؟ سروَرِ كونين ﷺ نے فرمایا: «وَإِنْ كَانَ قَضِيباً مِن أَرَاكٍ»([11]) “اگرچہ وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہی کیوں نہ ہو!”۔

تو معلوم ہوا کہ * مزدُور ومُلازمین کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کوتاہی برتنا * تنخواہ  وقت پر نہ دینا * کام زیادہ اور تنخواہ وسُہولیات کم دینا * ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا، گناہ اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے، جس سے بچنا ہر ایک پر لازم وضروری ہے۔

حضراتِ ذی وقار! “گھر ہو یا دفتر، اسکول ہو یا دکان، کارخانہ ہو یا فیکٹری (Factory)، ہر انسان کا اپنی اپنی فیلڈ (Field) کے حساب سے خادموں، نوکروں، مُلازموں اور مزدُوروں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے، ان کے ساتھ نرمی وشفقت سے پیش آنا چاہیے، لیکن عموماً دیکھا گیا ہے کہ لوگ ان کی معمولی سی کوتاہی، لغزش یا بھول چُوک پر ان کی بڑی تذلیل کرتے ہیں، انہیں ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ تک کرتے ہیں، بلکہ گھروں میں کام کاج  کرنے والی خواتین اور بچیوں کے جسم کو اِستری (Clothes Iron) یا لوہے کے راڈ (Iron rod) وغیرہ کے ساتھ داغنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا! یہ انتہائی غیرانسانی سُلوک ہے، مذہبِ اسلام اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دیتا!”([12])۔ لہذا اگر ہمارے مُلازمین یا مزدُوروں سے کوئی غلطی سرزَد ہو جائے، تو انہیں مُعاف کر دینا چاہیے، اور مار پیٹ سے گریز کرنا چاہیے۔

حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں، کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی باگارہ میں حاضر ہوكر عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم خادِم کو کتنی بار مُعاف کریں؟ آپ ﷺ سن کر چُپ رہے، پھر اس نے اپنی بات دُہرائی، حضور نبئ کریم ﷺ پھر خاموش رہے، تیسری بار جب اس نے اپنی بات دُہرائی، تو رحمتِ عالمیان ﷺ نے فرمایا: «اعْفُوا عَنْهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً»([13]) “ہر دن ستّر70 بار اسے مُعاف کرو”۔

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! سروَرِ کونین ﷺ اپنے خادِمین کے ساتھ بڑے حُسنِ سُلوک سے پیش آتے تھے، اور اگر اُن سے کوئی غلطی سر زد ہو جاتی تو مُعاف فرما دیا کرتے، حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالک ﷛ فرماتے ہیں: «خَدَمْتُ النَّبِيَّ عَشَرَ سِنِیْنَ بِالْمدِیْنَةِ وَأَنَا غُلَامٌ، لَیْسَ کُلُّ أَمْرِيْ کَمَا یَشْتَهِيْ صَاحِبِيْ أَنْ یَکُوْنَ عَلَیْهِ، مَا قَالَ لِيْ فِيْهَا: “أُفٍّ” قَطُّ، وَمَا قَالَ لِيْ: “لِمَ فَعَلْتَ هٰذَا؟” أَمْ “أَلَّا فَعَلْتَ هٰذَا”»([14]) “میں نے مدینہ منوّرہ میں نبئ کریم ﷺ کی دس10 سال خدمت کی، اور میرى كم عمری کے باعث ہر کام نبئ رحمت ﷺ کی مرضی کے مطابق نہیں ہو پاتا تھا، ليكن میرے کسی کام پر مصطفى جان رحمت ﷺ نے، کبھی مجھے “اُف” تک نہیں کہا، اور نہ یہ فرمایاکہ  “تم نے یہ کیوں کیا؟” یا “ایسے کیوں نہیں کیا؟”۔

حضراتِ محترم! مُلازموں اور مزدُوروں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر گالی دینا، اب ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے، یہ انتہائی معیوب اَمر ہے، اس بارے میں نبئ کریم ﷺ کا طرزِ عمل بتاتے ہوئے حضرت سیِّدنا اَنَس فرماتے ہیں: «لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ فَاحِشاً، وَلَا لَعَّاناً، وَلَا سَبَّاباً»([15]) “رسول اللہ ﷺ نہ فحش گوئی کرتے، نہ لعن طعن کرتے، اور نہ  کبھی گالی دیتے”۔

عزیزانِ مَن! ہمیں چاہیے کہ اپنے مُلازمین کے ساتھ عزّت وتکریم کے ساتھ پیش آئیں،  غلطی سرزد ہونے پر  انہیں بےعزّت نہ کریں،  عفو درگزر سے کام لیں، اور اُن کی عزّتِ نفس کو مجروح نہ کریں؛ کہ انسان ایک قابلِ احترام ذات ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْۤ اٰدَمَ﴾([16]) “اور یقینا ً ہم نے اولادِ آدم کو عزّت دی” لہذا بحیثیت مسلمان ہمیں اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کی عزّت کرنی چاہیے، چاہے وہ ہمارا مُلازم ہی کیوں نہ ہو!۔

حضراتِ گرامی قدر! مُلازمین ومزدُور اگر کسی کام کو عمدہ اور  احسن انداز سے انجام دیں، تو اُن کی بھرپور دِل جُوئی کریں؛ تاکہ حَوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ اُن کے کام میں مزید نکھار، اور  ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا جذبہ پیدا ہو۔

حضراتِ گرامی قدر! کام آسان ہو یا مشکل،  دکان  چھوٹی ہو یا بڑی، اس میں کام کرنے والے مُلازموں کا حق ہے، کہ ان کی تنخواہیں قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر مقرّر کی جائیں، اور ہر سال اس میں اضافہ کیا جائے؛ تاکہ وہ مُعاشی اُلجھنوں کا شکار نہ ہوں، اور پوری دِل جمعی اور  لگن کے ساتھ اپنا  کام کرتے رہیں۔

میرے محترم بھائیو! مزدُوروں سے متعلق متعدد  فقہی مسائل ہیں، جن میں سے چند  حسبِ ذیل ہیں:

(1) مزدُور ومُلازم کو چاہیے کہ ایمانداری کے ساتھ کام انجام دے؛ تاکہ اسے حلال وجائز اُجرت حاصل ہو۔ امام اہلِ سنّت امام احمد رضا فرماتے ہیں کہ “کام کی تین3 حالتیں ہیں: (1) سُست (2) معتدِل (یعنی درمیانہ) (3) اور  نہایت تیز۔ اگر مزدُوری  میں سستی کے ساتھ کام کرتا ہے گنہگار ہے، اور اس  پر پوری مزدوری لینی حرام ہے۔ اُتنے کام  کے لائق جتنی اُجرت ہے لے، اس سےجو كچھ زیادہ ملا مُستاجر (یعنی جس کے ساتھ ملازَمت کا معاہدہ کیا ہے اُس) کو واپس دے”([17])۔

(2) جائز کام کی مزدوری جائز شرائط پر کریں، اور جو وقت طَے ہوجائے اس میں اپنا ذاتی کام ہرگز نہ کریں، امامِ اہل ِسنّت امام احمدرضا فرماتے ہیں کہ “جو جائز پابندیاں مشروط (یعنی طے کی گئی) تھیں، ان کا خلاف حرام ہے، اور بِکے ہوئے وقت میں اپنا کام کرنا حرام ہے، اور ناقص کام کرکے پوری تنخواہ لینا بھی حرام ہے”([18])۔

(3) کوئی ایسی ناجائز شرط طے نہ کی جائے، جس کے باعث باہمی اختلاف اور شرعاً قَباحت لازم آئے، علمائے کرام فرماتے ہیں کہ “(مالک) نَوکر ومزدور کو جمعہ پڑھنے سے نہیں روک سکتا، البتہ اگر جامع مسجد دُور ہے تو جتنا حَرج ہوا ہے، اس کی اُجرت  میں سے کم کر سکتا ہے، اور مزدور اس کا مُطالبہ بھی نہیں کرسکتا”([19])۔

(4) بعض مزدُور کام کا بہانہ بنا کر رمضان المبارک میں روزے چھوڑ دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ روزے میں کام نہیں ہوتا، یا کہتے ہیں کہ روزی کمانا بھی ضروری اور عبادت ہے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں کہ “رمضان کے دنوں میں ایسا کام کرنا جائز نہیں، جس سے ایسا ضعف آجائے کہ روزہ توڑنے کا ظنِ غالب ہو۔ لہٰذا معمار ومزدور اور مشقّت کے کام کرنے والوں کو حكم ہے، کہ زیادہ ضعف کا اندیشہ ہو تو کام میں کمی کر دیں؛ تاکہ روزے ادا کرسکیں”([20])۔

(5) جبکہ نفلی روزہ کے بارے میں حکم یہ ہے کہ “مزدُور یا نوکر اگر نفلى روزہ رکھے، اور کام پورا ادا نہ کر سکے گا، تو مُستاجِر یعنی جس کا نَوکر ہے، یا جس نے مزدوری پر اُسے رکھا ہے، اُس کی اجازت کی ضرورت ہے”([21])۔

میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! قَوم وملک کی ترقی، وَسائل کے ساتھ ساتھ اُس کے باشندوں کی محنت میں پوشیدہ ہوتى ہے، جو ملک واِدارہ اپنے مزدورں کی اُجرت وحقوق کی ادائیگی کا خیال رکھتے ہیں، ترقی اُن کا مقدَّر ہوتی ہے، نیز ہر ہُنرمند، محنتی اور قابل شخص وہاں کام کرنے کی خواہش رکهتا ہے، جہاں اُس کے ہُنر کا صحیح استعمال ہوسکے، اور اُس کی محنت وکاوِش کا پورا مُعاوَضہ (اُجرت) مل سکے، لیکن جہاں مُعاملہ اس کے برعکس ہو، وہاں لوگ نوکری یا مزدوری کرنے سے گریز کرتےہیں، اور  یُوں وہ ملک، اِدارہ یا مُعاشرہ  ترقی کے بجائے تنزُلی کا شکار ہوتا رہتا ہے۔

لہذا ہمیں چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیّبہ کی رَوشنی میں اپنے ملک کے مزدور طبقہ لوگوں کو، اُن کی محنت کا بھرپور صِلہ دیں * اُن کے کاموں کی قدر کریں * اُن کے اَحوال سے باخبر رہیں * اُن سے اچھی گفتگو کریں * اُن سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں * جو کام وہ محنت ومشقّت سے انجام دیں * اس پر اُن کی بھرپور حَوصلہ اَفزائی کریں * بیمار ہوجائیں تو اُن کی بیمار پرسی کریں * انتقال کر جائیں تو اُن کی محنتوں کے صِلہ میں بعدِ موت بھی اُن کے لیے دعا واستغفار کریں * اور اِیصالِ ثواب کی صورت میں انہیں فائدہ پہنچاتے رہیں * اور اگر استطاعت ہو تو اُن کے اہل وعِیال کی کَفالت اور مالی تعاوُن بھی کرتے رہیں!۔


([1]) افضل خان کی شاعری۔

([2]) پ20، القصص: 27.

([3]) پ: 30، الزلزلة: 7، 8.

([4]) “صحيح البخاري” كتاب العتق، باب قول النبيّ g: «العبيد إخوانكم فأطعموهم مما تأكلون» …إلخ، ر: 2545، صـ695، 696.

([5]) “کلیاتِ اقبال” بالِ جبریل، لینن (خدا کے حضور میں)، ؃ 436۔

([6]) بحذف المفعول، أي: أعطى يمينه بي، أي: عاهَد عهداً وحلفَ عليه ثمّ نقضه (“فيض القدير” حرف القاف، تحت ر: 6013، ٤/471).

([7]) “صحيح البخاري” کتاب البیوع، باب إثم من منع أجر الأجير، ر: 2270، صـ638.

([8]) “سنن ابن ماجه” كتاب الرهون، باب أجر الأجراء، ر: 2558، الجزء 2، صـ648.

([9]) “صحيح مسلم” كتاب الأيمان، باب اطعام المملوك مما يأكل …إلخ، ر: 1662، الجزء 5، صـ94.

([10]) “مسند الإمام أحمد” مسند أبي سعيد الخدري h، ر: 11565، 4/119.

([11]) “صحيح مسلم” كتاب الإِيْمان، بابُ وعيد من اقْتَطع حق مسلم …إلخ، ر: 137، الجزء 1، صـ85.

([12]) “تحسینِ خطابت 2021ء”  اکتوبر، آقا کریم ﷺ کی گھریلو زندگی، 2/257، 258۔

([13]) “سنن أبي داود” كتاب الأدب، باب في حقّ المملوك، ر: 5121، 5/543.

([14]) المرجع نفسه، باب في الحلم وأخلاق النبيّ g، ر: 4741، 5/340.

([15]) “صحیح البخاري” کتاب الأدب، باب ما ينهى من السباب واللعن، ر: 6046، صـ1449.

([16]) پ: 15، بني إسرائيل: 70.

([17]) “فتاوی رضویہ” كتاب الاجارة، مزدور اگر مزدوری میں سستی سے کام کرے…الخ، 14/162۔

([18]) ایضا ً، ملازمت کے لیے جو جائز پابندیاں مشروط تھیں …الخ، 14/232۔

([19]) “الفتاوی الهندیة” كتاب الصلاة، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة، 1/144.

([20]) “بہارِ شریعت” روزه كا بيان، روزہ کے مکروہات کا بیان، حصہ پنجم، 1/998۔

([21]) “ردّ المحتار” كتاب الصوم، فصل في العوارض، ٦/380.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *